مواد پر جائیں

باب ۴۸ از ۵۴صفحات ۵۷۹–۵۹۱

اقسام غیبت

فقہ حنفی کی مشہور ومعروف کتاب ‘بہارشریعت’ میں بھی مذکورہ بالا صورتوں میں اکثر بیان ہوئی ہیں اور ان کی حرمت بھی بیان ہوئی ہے، مذکورہ کتاب سے چندمسائل درج ذیل ہیں (1)فقیہ ابواللیث نے فرمایا کہ غیبت چار قسم کی ہے ایک کفر اس کی صورت یہ ہےکہ ایک شخص غیبت کررہا ہے اس سے کہا گیا غیبت نہ کرو، کہنے لگا کہ یہ غیبت نہیں میں سچا ہوں،اس شخص نے ایک

حرام قطعی کو حلال بتایا،دوسری صورت نفاق ہے کہ ایک شخص کی برائی کرتا ہے اور اس کا نام نہیں لیتا ہے مگر جس کے سامنے برائی کرتا ہے وہ اس کو جانتا پہچانتا ہے لہٰذا یہ غیبت کرتا ہے اور اپنے کو پر ہیزگارظاہر کرتا ہے یہ ایک قسم کا نفاق ہے،تیسری صورت معصیت ہے وہ یہ کہ غیبت کرتا ہے مگر یہ جانتا ہے کہ حرام کام کررہاہے ایسا شخص توبہ کرے،چوتھی صورت مباح ہے وہ یہ کہ فاسق معلن یا بدمذہب کی برائی بیان کرے جب کہ لوگوں کو اس کے شر سے بچانا مقصود ہو تو ثواب کی امید ہے۔

(2)جو شخص علانیہ برا کام کرتا ہے اور اس کو اس کی کوئی پرواہ نہیں کہ لوگ اسے کیا کہیں گے تو اس کی بری حرکت کو بیان کرنا غیبت نہیں مگر اس کی دوسری باتیں جو ظاہر نہیں ہیں ان کو بیان کرنا غیبت ہے،حدیث شریف میں ہے کہ جس نے ریا کا حجاب اپنے چہرے سے ہٹادیا اس کی غیبت نہیں۔

(3)جس سے کسی بات کا مشورہ لیا گیا ہے وہ اگر اس شخص کاعیب وبرائی ظاہر کرے جس کے متعلق مشورہ ہے یہ غیبت نہیں،حدیث شریف میں ہے جس سے مشورہ لیا جائے وہ امین ہے لہذا اس کی برائی ظاہر نہ کرنا خیانت ہے مثلاً کسی کے یہاں اپنا یا اپنی اولاد وغیرہ کا نکاح کرنا چاہتاہے،دوسرے سے اس کے متعلق تذکرہ کیا کہ میرا ارادہ ایساہے تمھاری کیا رائے ہے،اس شخص کو جو کچھ معلومات ہیں بیان کردینا غیبت نہیں،اسی طرح کسی کے ساتھ تجارت وغیرہ میں شرکت کرنا چاہتا ہے یا اس کے پاس کوئی چیز امانت رکھنا چاہتا ہےیا کسی کے پڑوس میں سکونت کرنا چاہتا ہے اس کے متعلق دوسرے سے مشورہ لیتا ہے،یہ شخص اس کی برائی بیان کرے غیبت نہیں۔

(4)ایک صورت جواز کی یہ بھی ہے کہ اس کے ذکر سے مقصود اس کی برائی نہیں بلکہ اس شخص کی معرفت وشناخت مقصود ہے مثلا جو شخص ان عیوب کے ساتھ

ملقب ہے تو مقصود معرفت ہے نہ بیان عیب جیسے اعمیٰ،اعمش،اعرج،احول۔صحابہ کرام میں حضرت عبداللہ ابن ام مکتوم نابینا تھے اور روایتوں میں ان کے نام کے ساتھ اعمیٰ آتا ہے،محدثین میں بڑے زبردست پایہ کے سلیمان اعمش ہیں ‘اعمش’ کے معنیٰ چندھے کے ہیں یہ لفظ ان کے نام کے ساتھ ذکر کیا جاتا ہے،اسی طرح یہاں بھی بعض مرتبہ محض پہچاننے کے لیے کسی کو اندھا یا کانا یا ٹھگنا یا لمبا کہا جاتا ہے یہ غیبت میں داخل نہیں۔

(5)حدیث کے راویوں اور مقدمہ کے گواہوں اور مصنفین پر جرح کرنا اور ان کے عیوب بیان کرنا جائز ہے اگر راویوں کی خرابیاں بیان نہ کی جائیں تو حدیث صحیح اور غیر صحیح میں امتیاز نہ ہو سکے گا اسی طرح مصنفین کے حالات نہ بیان کیے جائیں تو کتب معتمدہ اور غیر معتمدہ میں فرق نہ رہے گا،گواہوں پر جرح نہ کی جائے توحقوق مسلمین کی نگاہداشت نہ ہو سکے گی۔

(6)کسی کی برائی اس کے سامنے کرنا اگر غیبت میں داخل نہ ہو جب کہ غیبت میں پیٹھ پیچھے برائی کرنا معتبر ہو مگر یہ اس سے بڑھ کر حرام ہے کیوں کہ غیبت میں جو وجہ ہے وہ یہ ہے کہ ایذائے مسلم ہے وہ یہاں بدرجہ اولیٰ پائی جاتی ہے،غیبت میں تو یہ احتمال ہے کہ اسے اطلاع ملے یا نہ ملے اگر اسے اطلاع نہ ہوئی تو یہ ایذا بھی نہ ہوئی،مگر احتمال ایذا کو یہاں ایذا قرار دے کر شرع مطہر نے حرام کیا اور منہ پر تو اس کی خدمت کرنا حقیقی ایذا ہے پھر کیوں نہ یہ حرام ہو۔

(7)جس کی غیبت کی اگر اس کو خبر ہوگئی تو اس سے معافی مانگنی ضروری ہے اور یہ بھی ضروری ہے کہ اس کے سامنے کہے کہ میں نے تمھاری اس طرح غیبت یا برائی کی ہے تم معاف کردو ،اس سے معاف کرائے اور توبہ کرے تب اس سے بری الذمہ ہوگا،اور اگر اسے خبر نہ ہوئی تو توبہ وندامت کافی ہے۔مزید تفصیل کے لیے کتاب مذکور دیکھیں۔

اسباب غیبت

حضرت امام غزالی قدس سرہ نے سمیٹ کر گیارہ اسبا ب غیبت بیان فرمائے ہیں،جن میں آٹھ عام لوگوں میں اور تین اہل دین اور خواص کے ساتھ مخصوص ہیں۔

(1)غصہ نکالنا کیوں کہ غصہ آنے پر اس کی برائیوں کا ذکر کرکے انسان اپنے غصہ کو ٹھنڈا کرتا ہے(2)دوست احباب کی موافقت ہوتی ہے کہ ان کی ہاں میں ہاںملائی جائے(3)غیبت کرنے والا سمجھتا ہے کہ وہ آدمی عنقریب اس کے پیچھے پڑے گا اور کسی بڑے عزت دار ادمی کے سامنے اس کی برائی بیان کرکے اسے ذلیل کرےگا یا اس کے خلاف گواہی دے گا تو یہ اس سے پہلے ہی اس کی برائی شروع کردیتا ہے تاکہ اس کی گواہی بے اثر ہو جائےیا شروع میں اس کے بارے میں سچی بات کہتا ہے اور پھر جھوٹ بولنا شروع کردیتا ہے تو اس طرح ابتداء سچ بول کر جھوٹ کے لیے راستہ ہموار کرتا ہے اور کہتا ہے کہ جھوٹ بولنا میری عادت نہیں ہے میں تو فلاں شخص کے حالات سے تم لوگوں کو آگاہ کر رہا ہوں،وہ اسی طرح ہے جس طرح میں کہتا ہوں۔

(4)جب کوئی اس کی طرف جھوٹ منسوب کرتا ہے تو وہ اپنی براءت ظاہر کرنے کے لیے کہتا ہے کہ فلاں نے بھی یہ کام کیا حالانکہ اسے تو صرف اپنی براءت بتانا چاہیے دوسرے کا عمل ذکر کرنے کی ضرورت نہ تھی اور نہ ہی اس کی طرف نسبت کرنی چاہیے تھی یا وہ یوں کہتا کہ فلاں شخص بھی اس کام میں میرے شریک تھا تاکہ اپنی طرف سے عذر پیش کرسکتا۔

(5)تصنع اور دوسروں پر فخر کرنا ہے،وہ دوسروں کا عیب بیان کرکے اپنے آپ کو بلندی کی طرف لے جانا چاہتا ہے،وہ کہتا ہے فلاں شخص جاہل ہے اس کی سمجھ ناقص ہے اور کلام کمزور ہے اس کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ وہ اس کے ضمن میں اپنی بڑائی بیان کرے اور دکھائے کہ وہ سب سے زیادہ علم رکھتا ہے یا اس کو ڈر ہوتا

ہے کہ کہیں اس دوسرے شخص کی تعظیم بھی اسی طرح نہ کی جائے جس طرح اس کی ہوتی ہے اس لیے وہ نکتہ چینی کرتا ہے۔(6)چھٹا سبب حسد ہے(7)ساتواں سبب کھیل،مذاق،خوش مزاجی اور ہنسی مذاق میں وقت گذارنا ہوتا ہے پس یہ دوسرے کے عیب ذکر کرتا ہے اور نقل اتارتا ہے تاکہ لوگ ہنسیں اور یہ تکبر اور خود پسندی کے لیے ہوتا ہے۔(8)آٹھواں سبب تمسخر اور مذاق کرنا اور اس کو حقیر جاننا ہے۔

وہ تین اسباب جن کا تعلق اہل دین اور خواص سے ہے وہ یہ ہیں(9)دین کے باعث کسی کی برائی اور خطا پر اس کا رد کرکے خود پسندی کا اظہار کرتے ہوئے کہتا ہے میں نےفلاں آدمی میں بہت عجیب بات دیکھی ہے، بعض اوقات وہ اس بات میں سچ پر ہوتا ہے اور برائی پر اس کا تعجب کرنا صحیح ہے لیکن اسے چاہیے تھا کہ وہ کسی کا نام نہ لیتا تاکہ غیبت کا مرتکب نہ ہوتا۔(10)رحمت ہے یہ یوں کہ کوئی شخس کسی بات میں مبتلا ہو تو یہ اس پر غمگین ہوتا ہے اور کہتا ہے کہ فلاں بے چارے کے معاملے اور آزمائش نے مجھے غمگین کردیاہے وہ اس دعویٰ میں سچا ہوتا ہے لیکن وہ اس کا نام لینے سے پرہیز نہیں کرسکا اس لیےوہ غیبت کا مرتکب ہوا۔(11)یہ کہ اللہ تعالیٰ کے لیے غصہ آئے کیوں کہ بعض اوقات جب کسی کو برائی کرتے دیکھتا ہے یا سنتا ہے تو اسے غصہ آتا ہے اور وہ اظہار غصہ کے وقت اس کا نام لیتا ہے اسے چاہیے تھا کہ وہ اس کا نام نہ لیتا اور برائی کے ساتھ اس کا ذکر نہ کرتا۔

غیبت سے بچنے کا طریقہ

تمام بری عادتوں کا علاج علم وعمل کے معجون سے کیا جاتا ہے اور ہر بیماری کا علاج اس کے سبب کی ضد سے ہوتا ہے لہٰذا سبب تلاش کرنا چاہیے،غیبت سے روکنے کے دوطریقے ہیں ایک اجمالی اور دوسرے تفصیلی اول یہ کہ وہ سوچے کہ کسی شخص کی عزت کے پیچھے پڑنے سے اللہ تعالیٰ ناراض ہو جاتا ہے اور اس سلسلے میں وہ روایات بار بار پڑھے جن کا تعلق غیبت سے

ہے نیز یہ بھی یاد رکھے کہ غیبت کی وجہ سے بروز قیامت اس کی نیکیاں ضائع ہوں گی کیوں کہ نیکیاں اس کو دلوا دی جائیں گی جس کی اس نے غیبت کی ہے اور یہ اس بات کا بدلہ ہے جو اس نے اس کی عزت پر حملہ کیا ہے،اگر نیکیاں نہ ہوتیں تو دوسرے کے گناہ اس پر ڈال دئے جائیں گے،اللہ تعالیٰ کی ناراضگی پھر بھی برقرار رہے گی۔

غیبت سے بچنے کا تفصیلی علاج یہ ہے کہ وہ اس سبب کو تلاش کرے جو غیبت کا باعث بنا ہے،کیوں کہ بیماری کے علاج کے لیے ضروری ہے کہ اس کے سبب کو ختم کرنا پڑتا ہے،اسباب کا ذکر یہاں ہو چکا ہے مزید تفصیل کے لیے احیاء العلوم شریف جلد سوم کا مطالعہ کریں۔

حضرت خواجہ باقی باللہ قدس سرہ کا طریقہ حسنہ: حضرت خواجہ باقی باللہ قدس سرہ کا طریقہ حسنہ یہ تھا کہ جب کوئی آپ کے سامنے غیبت کرتا تو آپ اس کی تعریف شروع کردیتے اس طرح غیبت کرنے والا شرمندہ ہو جاتا اور آئندہ اس کی غیبت کی ہمت نہ پڑتی،آپ کا یہ عمل غیبت سے بچنے کے لیے نہایت لائق تقلید ہے، اس سے اپنی بھی حفاظت ہوتی ہے اور اپنے مسلم بھائی کی عزت وآبرو کی حفاظت ہوتی ہے،اور غیبت کرنے والے کی نصیحت بھی ہوجاتی ہے اور اسے فعل حرام سے بچانا بھی ہو جاتا ہے۔

چغل خوری

غیبت کی طرح چغل خوری بھی حرام ہے اور قرآن وسنت میں اس کی مذمت آئی ہے،چند آیات واحادیث ملاحظہ ہوں۔

آیات:

ہَمَّازٍ مَّشَّآءٍۭ بِنَمِیۡمٍ (سورۃ القلم: ۶۸؍۱۱))

بہت نکتہ چین چغلیاں کھانے والا۔’’

اسی مین ہے:

عُتُـلٍّۭ بَعْدَ ذٰلِکَ زَنِیۡـمٍ (سورۃ القلم: ۶۸؍۱۳)

اکڑ مزاج ہے اور اس کے علاوہ بد اصل بھی ہے۔’’

حضرت عبد اللہ بن مبارک رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں زنیم سے مراد وہ شخص ہے جو اپنے باپ کا نہ ہو اور بات کو نہ چھپائے اس میں اس طرف اشارہ ہے کہ جو بات کو نہیں چھپاتا اور چغلی کھاتا ہے تو یہ اس کے ولد الزنا ہونے کی دلیل ہے۔

(2) وَیۡلٌ لِّکُلِّ ہُمَزَۃٍ لُّمَزَۃِ (سورۃ الہمزہ: ۱۰۴؍۱)

ہر اس شخص کے کیے ہلاکت ہے جو طعنے دینے والا اور پیٹھ پیچھے عیب جوئی کرنے والا ہے۔’’

کہا جاتا ہے کہ ھمزہ سے بہت زیادہ چغلی کھانے والا مراد ہے۔

احادیث: حدیث شریف میں ہے:

(1)لا یدخل الجنۃ نمام یعنی چغل خور جنت میں نہیں جائے گا(مسنداحمد)

(2)لا یدخل الجنۃ قتات چغل خور جنت میں نہیں جائے گا۔

(3)حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ راوی حضور سرور کونینﷺ فرماتے ہیں: تم میں اللہ تعالیٰ کے سب سے زیادہ پسندیدہ وہ لوگ ہیں جن کے اخلاق اچھے ہیں،دوسروں کے لیے اپنے بازو بچھانے والے وہ دوسروں سے اور دوسرے ان سے الفت رکھتے ہیں اور بے شک تم میں سب سے زیادہ برے اور مبغوض اللہ تعالیٰ کے نزدیک وہ ہیں جو چغل خوری کرتے ہیں،مسلمان بھائیوں کے درمیان اختلاف ڈالتے ہیں اور بے گناہ لوگوں کے لیے الزامات تلاش کرتے ہیں"۔(کنز العمال)

(۴)آپ علیہ الصلاۃ والسلام نے فرمایا: اور کیا میں تمہیں تم میں سے برے لوگوں کے بارے میں نہ بتاؤں؟عرض کیا گیا ہاں یا رسول اللہ! (ﷺ) فرمایا وہ لوگ جو چغلی کھاتے ہیں،دوستوں میں فساد ڈالتے ہیں اور بے عیب لوگوں میں عیب تلاش کرتے ہیں۔(مسند امام احمد)

(5)حضور ﷺدوقبروں کے پاس سے گذرے،فرمایا: ان دونوں قبروں

والوں کو عذاب ہو رہا ہے اور کسی مشکل چیز میں عذاب نہیں ہو رہا ہے بلکہ ان میں سے ایک چغلی کھاتا تھا اور دوسرا پیشاب سے نہیں بچتا تھا،پھر آپ نے کھجور کی ٹہنی لی اور اس کے دو حصے کیے ایک کو ایک پر اور دوسرے کو دوسری قبر پر ڈال دیا اورفرمایا جب تک یہ خشک نہیں ہو ں گی عذاب میں تخفیف رہے گی۔(بخاری وغیرہ)

چغلی کی تعریف: جس بات کو ظاہر کرنا ناپسندیدہ ہو اسے ظاہر کرنا چغلی ہےچاہے وہ جس سے منقول ہےیا جس کی طرف نقل کی گئی ہو وہ اسے پسند نہ کرے یا کوئی تیسرا آدمی نا پسند کرے پھر وہ اظہار عیب یا قول وفعل وگفتگو کے ذریعہ ہو یا کتابت کے ذریعہ یا اشارے کے طور پر ہو،جو کچھ نقل کیا گیا ہے وہ عمل ہو یا بات جس سے نقل کی گئی وہ اس میں پایا جانے والا عیب یا نقص ہو یا نہ ہو، خیال رہے اگر واقعتا وہ عیب اس میں ہے تو صرف چغلی کا گناہ ہوگا اور اگر وہ اس میں نہ ہو یا کچھ ہے اور اس نے اپنی طرف سے کچھ ملاوٹ کردی ہے یا غلط انداز اور برے طریقے سے نقل کیا گیا تو یہ افترا وبہتان بھی ہے جو خود کبیرہ گناہ ہے اور جس کی طرف سے نقل کیا ہے اگر اس کا اظہار مقصود ہے تو غیبت بھی ہے۔

چغلی کا باعث

حضرت امام قدس سرہ فرماتے ہیں چغلی کا باعث یا تو اس کے بارے میں برا ارادہ ہوتا ہے جس کی چغلی کرتا ہے یا اس شخص سے اظہار محبت مقصد ہے جس سے چغلی کررہا ہے،یا چغلی کرنے والا فضول اور باطل میں مشغول ہو کر خوش ہوتا ہے،جس کے سامنے چغلی کی جائے اس کے لیے چند باتیں لازم ہیں(1)وہ چغل خور کی تصدیق نہ کرے کیوں کہ چغل خور فاسق ہوتا ہے اور اس کی گواہی مردود ہے،ارشاد باری تعالیٰ ہے:

یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِنۡ جَآءَکُمْ فَاسِقٌۢ بِنَبَاٍ فَتَبَیَّنُوۡۤا اَنۡ تُصِیۡبُوۡا قَوْمًۢا بِجَہَالَۃٍ فَتُصْبِحُوۡا عَلٰی مَا فَعَلْتُمْ نٰدِمِیۡنَ (سورۃ الحجرات: ۴۹؍۶)

اے ايمان والو ! اگر تمہارے پاس فاسق کوئی خبر لائے تو اس کی تصدیق کرلیا کرو کہیں جہالت کی وجہ سے تم کسی قوم کو نقصان نہ پہنچاؤ۔

(2)اسے اس بات سے منع کردے،نصیحت کرے اور اس کے سامنے اس عمل کی برائی بیان کرے۔ ارشاد خداوندی ہے:

وَاۡمُرْ بِالْمَعْرُوۡفِ وَانْہَ عَنِ الْمُنۡکَرِ (سورۃ لقمان: ۳۱؍۱۷)

نیکی کا حکم دو اور برائی سے روکو۔’’

(3) اللہ تعالیٰ کی رضا جوئی کے لیے اس سے بغض رکھے اور اللہ تعالیٰ کے لیے جس سے بغض ہونا چاہیے اس سے بغض کو پسند کرے۔

(4)اپنے غائب بھائی کے بارے میں بد گمانی نہ کرے،ارشاد ربانی ہے:

اجْتَنِبُوۡا کَثِیۡرًا مِّنَ الظَّنِّ ۫ اِنَّ بَعْضَ الظَّنِّ اِثْمٌ (سورۃ الحجرات: ۴۹؍۱۲)

بہت سے گمانوں سے بچو! بےشک بعض گمان گناہ ہیں۔’’

خیال رہے بد گمانی اسی طرح حرام ہے جس طرح زبان سے برائی کرنا حرام ہے،اس کے حرام ہونے کی وجہ یہ ہے کہ دل کے بھیدوں کو صرف اللہ تعالیٰ جانتا ہے اور جب تک کسی شخص کی برائی تم اسی طرح ظاہر نہ دیکھو کہ اس میں تاویل کی گنجائش نہ رہے اس وقت تک اس کے بارے میں برائی کا عقیدہ نہ رکھو،کیونکہ جس بات کو نہ تم نے آنکھوں سے دیکھا ،نہ کانوں سے سنا پھر وہ تمہارے دل میں آگئی تو یہ شیطان نے ڈالی ہےلہٰذا اسے جھٹلانا چاہیے،آج کل یہ مرض بہت عام ہے اور عوام وخواص سبھی اس کا شکار ہیں،بڑی کمی یہ ہے کہ کہنے والا کیسا ہی ہو کتنا ہی بڑا جھوٹا ،افترا باز،نہایت ہی غیر ذمہ دار ہو وہ کیسی ہی بات نقل کردے بلا چون وچرا آدمی قبول کرلیتا ہے،خاص کر جن سے بغض وکینہ ہو۔

آج کل تعویذ گنڈے والے بھی بہت بد گمانیوں کا سبب بنے ہوئے ہیں،تحصیل مال وزر کی خاطر بلا تحقیق بلکہ جان بوجھ کر جھوٹ بولتے رہتے ہیں اور

لوگوں کو یہ بتاتے رہتے ہیں کہ تمہارے اوپر جادو کرایا ہے یا یہ کرایا ہے وہ کرایا ہے اور آدمی اس کو بہت جلد قبول کرلیتا ہے اور ان کو دشمن سمجھنے لگتا ہے جن کے بارے میں یہ تعویذ والے نشاندہی کرتے ہیں کہ فلاں نے کرادیا ہے۔

خیال رہے سوئے ظن یا بد گمانی کی علامت یہ ہے کہ اس کے بارے میں تمھاری قلبی حالت بدل جائے اور تمہیں اس سے کچھ نفرت ہو جائے،اب تم اس کو ایک بوجھ سمجھو،اس کی رعایت اور اکرام وغیرہ میں سستی پیدا ہوجائے،حدیث شریف میں ہے کہ مومن میں تین باتیں ایسی ہیں کہ ان سے نکلنے کا راستہ موجود ہے،بدگمانی سے نکلنے کا راستہ یہ ہے کہ اسے پکا نہ ہونے دے یعنی اپنے دل میں اسے جگہ نہ دے نہ کسی عمل کے ذریعہ اس کا اظہار کرے اور نہ اعضاء کو اس کے ساتھ پکا کرے۔

(5)جو کچھ تمہارے سامنے بیان ہو ا اس کی تحقیق وجستجو میں نہ پڑو ارشاد خداوندی ہے:

وَّ لَا تَجَسَّسُوۡا (سورۃ الحجرات: ۴۹؍۱۲)

اور دوسرے کے حالات کی تلاش نہ کرو۔’’

(6)جس چغلی سے تمہیں روکا گیا ہے اسے اپنے لیے پسند نہ کرو اور اس کی چغلی کو آگے نہ بڑھاؤ مثلا یوں نہ کہو کہ فلاں نے مجھ سے یہ بیان کیا ہے،اس صورت میں تم خود چغل خور اور غیبت کرنے والے بن جاؤگے۔

دورخی:ایسا شخص جو ایسے دوآدمیوں کے پاس جاتا ہے جو ایک دوسرے کے دشمن ہیں اورہر ایک سے اس کے موافق بات کرتا ہے،ایسا بہت کم ہوتا ہے کہ کوئی شخص دو عداوت رکھنے والوں سے ملے اور اس قسم کی گفتگو نہ کرے ہر ایک کے موافق بات کرنا ہی دو رخی ہے اور یہ بعینہ منافقت ہے،حضرت عمار بن یاسر راوی نبی اکرم ﷺنے فرمایا:

(1)دنیا میں جو شخص دو چہروں والا ہوتا ہے قیامت کے دن اس کی دوزبانیں آگ کی ہوں گی۔(ابوداؤد)

(2)قیامت کے دن تم اس شخص کو سب سے برا آدمی پاؤگے جس کے دوچہرے ہیں ان لوگوں سے اور بات کرتا ہے اور ان لوگوں سے دوسری بات(بخاری)

مدح سرائی

اپنی تعریف پسند کرنا اور اس کا خواہاں رہنا یہ مرض بھی بہت عام ہے اور بہت فساد کا سبب بنا ہواہے،ذرا بھی علم وعزت حاصل ہے اور کسی بات میں کسی خاص رسائی کا حامل ہے تو وہ ہروقت اپنی مدح کی خواہش کرتا ہے اور اگر حسب خواہش مدح نہ کی جائے تو ناراض اوربغض وکینہ کا شکار ہوتا ہے،مدح نہ کرنے والوں کی برائیاں کرتا ہے۔واعظین ومقررین اور علما ومشائخ میں یہ وبا بہت عام ہے،عام جلسوں میں نظامت کرنے والوں نے ہرایک کی تعریف وتوصیف میں اس قدر مبالغہ شروع کردیا ہے کہ بیان سے باہر ہے،اب ایسے ناظم تو نظر ہی نہیں آتے جو کسی کاصحیح تعارف کراس کیں اور واقعی اوصاف وکمالات اور خوبیوں سے لوگوں کو آگاہ کرسکیں،علما ومقررین اور مشائخ جو منبروں پر ہوتے ہیں ان کا حال یہ ہے کہ اگر القاب میں ذرا کمی ہوگئی یا بہت زیادہ مبالغہ سے کام نہ لیا گیا تو فورا دل میں ناراض ہوجاتے ہیں اور پیچھے شکایتیں کرتے ہیں،یہ عام روش ہو گئی ہے کہ جو علم وعمل سے کورے ہیں انہیں علامہ وغیرہ کہا جاتا ہے اور ہر پیر تاجدار ولایت،صوفی باصفا،قطب زماں،عمدۃ السلف اور حجۃ الخلف وغیرہ ہے، ہر ایک چاہتا ہے کہ ہمارا تعارف بہت ،مبالغے کے ساتھ ہو،ہیں زمین مگر چاہتے ہیں کہ انہیں آسمان اور عرش بتایا جائے،حسب منشا تعریف نہ ہوئی یا استقبال اور نعروں میں کوئی کمی رہ گئی تو پتہ نہیں کس فتنے کا شوشہ چھوڑدیں۔

اللہ اکبر ایک زمانہ تھا کہ شرح جامی میں حضرت ابن حاجب کو علامہ کہہ دیا تو

ملا عصام رحمۃ اللہ علیہ نے اعتراض کردیا کہ علامہ تو وہ ہے جو علوم منقول اور معقول دونوں کا جامع اور دونوں میں ماہرہو اور ابن حاجب دونوں میں اس طرح کی مہارت اور حذاقت نہیں رکھتے تھے اور اب حال یہ ہے کہ جاہل اور دین سے ناواقف بھی علامہ سے کم پر راضی نہیں، بلکہ اب تو علامہ بھی ان کے لیے کوئی اہم نہیں رہا،حیرت کی بات یہ کہ جو تعریف کرتے ہیں وہ بھی جانتے ہیں کہ ان میں وہ اوصاف نہیں جن کے ساتھ تعریف کی جارہی ہے اور جن کی تعریف کی جارہی ہے وہ بھی جانتے ہیں کہ ہم میں یہ اوصاف نہیں،حضور کونین ﷺ نے تو کبھی یہ پسند نہیں کیا کہ محض گمان کی بنیاد پر کسی وصف کے ساتھ تعریف ہو،بلکہ آپ ﷺ ہمیشہ یہ چاہتے ہیں کہ اس کے انہیں اوصاف کا ذکر ہو جن کو ذکر کرنے والا یقین سے جانتا ہو بلکہ کسی شخص میں واقعۃً وہ خوبیاں ہوتیں جن کو تعریف کرنے والا بیان کر رہا ہے تب بھی اس تعریف کو بھی پسند نہیں فرماتے،کیونکہ منھ پر تعریف اکثر انسان کو خوش فہمیوں اور عجب میں مبتلا کرتی ہے۔بخاری وغیرہ میں ہے کہ ایک بار حضورﷺنے کچھ مال تقسیم کیا اورایک صاحب کو نہیں دیا راوی کہتے ہیں کہ میں جانتا تھا کہ جن کو نہیں دیا وہ مومن ہیں انھیں گمان ہوا کہ شاید نبی اکرم ﷺانہیں مومن نہیں جانتے،انھوں نے قسم کھا کر کہا کہ میں ان کو مومن جانتا ہوں،حضور اکرم ﷺنے فرمایا:بلکہ مسلم کہو،تین بار ایسا ہی ہوا مطلب یہ تھا کہ ایمان کا تعلق قلب سے ہے اور قلب کی کیفیت کو تم یقین سے نہیں جانتے ہو تم نے ظاہری اطاعت دیکھی لہٰذا تم مسلم ہونے کا حکم لگاؤ۔ آپ ﷺکا مقصد ایمان کی نفی نہیں تھی بلکہ بتانا یہ تھا کہ تم جتنا یقین سے جانتے ہو اتنا ہی کہو،خیال رہے کہ پوری حدیث بخاری وغیرہ میں ہے ہم نے صرف اتنا حصہ ذکر کردیا جو اس مقام سے تعلق رکھتا تھا، اس طرح کی اور بہت سی روایات ہیں۔

مذمت: مبالغہ کے ساتھ مدح کے بارے میں نبی اکرمﷺ فرماتے

ہیں(1)اور جب تم مبالغہ کے ساتھ تعریف کرنے والوں کو دیکھو تو ان کے منھ میں خاک ڈال دو۔(طبرانی)

(2)حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ راوی کہ نبی کریم ﷺنے ایک شخص کو سنا کہ دوسرے کی تعریف کرتا ہے اور تعریف میں مبالغہ کرتا ہے،ارشاد فرمایا: تم نے اسے ہلاک کردیا یا اس کی پیٹھ توڑدی۔(بخاری)

(3)حضرت ابو بکرہ رضی اللہ عنہ راوی کہ نبی کریم ﷺکے سامنے ایک شخص نے ایک شخص کی تعریف کی،حضور ﷺنے فرمایا تجھے ہلاکت ہو تو نے اپنے بھائی کی گردن کاٹ دی،اس کو تین مرتبہ فرمایا،جس شخص کو کسی کی تعریف کرنی ضروری ہی ہو تو یہ کہے کہ میرے گمان میں فلاں ایسا ہے اگر اس کے علم میں ہو کہ فلاں ایسا ہے اور اللہ اس کو خوب جانتا ہے اور اللہ پر کسی کا تزکیہ نہ کرے یعنی جزم ویقین کے ساتھ کسی کی تعریف نہ کرے۔(بخاری ومسلم)

(4)حضرت انس رضی اللہ عنہ راوی کہ رسول کریم ﷺ نے فرما یا جیسے فاسق کی مدح کی جاتی ہے،رب تعالیٰ غضب فرماتا ہے اور عرش الٰہی ہلنے لگتا ہے۔(بیہقی)