باب ۲۴ از ۵۴صفحات ۲۹۵–۳۰۴
وسائل
(۱)جو سب سے زیادہ خاص اور قریب ہوں جیسے فضائل نفس۔
(۲)جو ان سے قریب ہیں جیسے فضائل بدن۔
(۳)وہ جو ان کے قریب ہیں اور غیر بدن کی طرف تجاوز کرتے ہیں جیسے مال، اہل و عیال اور خاندان۔
(۴)وہ اسباب جو نفس میں داخل اور خارج ہیں۔ دونوں تقسیم کے اسباب جمع ہوتے ہیں جیسے توفیق و ہدایت۔
پہلی تقسیم یعنی فضائل نفس کے فروع بہت ہیں، لیکن ان کا ماحصل دو باتوں کی طرف لوٹتا ہے ایک ایمان اور دوسرا خلق حسن۔ ایمان کی دو قسمیں ہیں، ایک کا تعلق علم مکاشفہ سے ہے اور اللہ تعالیٰ اور اس کی صفات، اس کے فرشتوں اور اس کے رسولوں کا علم ہے اور دوسرا علم معاملہ ہے۔
خلق حسن کی بھی دو قسمیں ہیں۔ شہوات اور غضب کے تقاضوں کو ترک کرنا اسے عفت کہا جاتا ہے اور خواہشات کو چھوڑنے یا ان پر عمل پیرا ہونے کے سلسلے میں عدل کا لحاظ رکھنا یعنی نہ تو بالکل ہی رک جائے اور نہ ایسا ہو کہ جس طرح چاہے اقدام کرے، بلکہ اس کی خواہش کی تکمیل اور اس سے باز رہنا اس میزان عدل کے مطابق ہو جو اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوبﷺ پر اتارا، ارشاد خداوندی
اَلَّا تَطْغَوْا فِی الْمِیۡزَانِ وَ اَقِیۡمُوا الْوَزْنَ بِالْقِسْطِ وَ لَا تُخْسِرُوا الْمِیۡزَانَ (سورۃ الرحمٰن: ۵۵؍۸)
ترجمہ: کہ ترازو میں بے اعتدالی نہ کرو اور انصاف کے ساتھ تول قائم کرو اور وزن نہ گھٹاؤ۔’’
تو جو شخص شہوت جماع کو زائل کرنے کے لیے خود کو خصی بناتا ہے یا نکاح نہیں کرتا حالاں کہ وہ آفات سے محفوظ بھی ہے اور طاقت بھی رکھتا ہے یا کھانا چھوڑ دیتا ہے حتیّٰ کہ عبادت، ذکر و فکر سے کمزور ہو جاتا ہے تو ایسا شخص میزان عدل میں کوتاہی کر رہا ہے اور جو شخص پیٹ اور شرم گاہ کی شہوت میں ہی مصروف ہو جاتا ہے وہ میزان میں حد سے بڑھتا ہے۔ عدل تو یہ ہے کہ وزن اور اندازہ کرنے میں زیادتی اور نقصان دونوں سے خالی ہو اور ترازو کے دونوں پلڑے برابر برابر ہوں۔
خلاصہ یہ کہ وہ فضائل جو نفس کے ساتھ خاص اور اللہ تعالیٰ کے قریب کرنے والے ہیں وہ چار ہیں: (۱)علم مکاشفہ (۲)علم معاملہ (۳)عفت اور (۴)عدالت۔ اور ان کی تکمیل دوسری قسم سے ہوتی ہے جن کو بدنی فضائل کہتے ہیں، وہ بھی چار ہیں یعنی مال، اولاد، جاہ و مرتبہ اور خاندانی شرافت۔ ان بدنی اور خارجہ اسباب سے نفع اسی وقت ہوتا ہے جب چوتھی قسم پائی جائے اور وہ فضائل جو بدن کے داخلی و خارجی اسباب کو جمع کوتی ہیں یہ بھی چار ہیں: اللہ تعالیٰ کی ہدایت، رشد، تسدید (سیدھا اور قائم رکھنا) اور اس کی مدد تو ان نعمتوں کی مجموعی تعداد سولہ ہوئی کیوں کہ چار قسموں کی چار میں ضرب دینے سے سولہ حاصل ہوتی ہیں اور یہ سب ایک دوسرے کے محتاج ہیں خواہ حاجت ضروریہ کے ساتھ یا حاجت نافعہ کے ساتھ۔
حاجت ضروریہ کی مثال اخروی سعادت کی ایمان اور اخلاق حسنہ کی طرف حاجت ہے اور حاجت نافعہ جیسے نفس اور بدن کی یہ نعمتیں خارجی نعمتوں مثلاً مال، عزت اور
اہل کی حاجت مند ہوتی ہیں کیوں کہ اگر یہ نہ ہوں تو بعض اوقات داخلی نعمتوں میں خلل واقع ہوتا ہے۔ معلوم رہے کہ حضرت امام قدس سرہ نے مذکورہ بالا سولہ اقسام کا نعمت ہونا بڑی تفصیل سے بیان فرمایا ہے، دیکھیے احیاء العلوم شریف چوتھی جلد۔
نعمتوں کا شکر
حضرت شیخ عبد الحق محدث دہلویرحمۃ اللہ علیہ اخبار الاخیار کے مقدمہ میں فرماتے ہیں: اس خداے بزرگ و برتر اور واھب العطیات کا شکر ہے جس کی عطائیں غیر محدود اور جس کی نعمتوں کا شکر ادا کرنا دائرہ امکان سے خارج ہے۔
نعمت وجود
اللہ تعالیٰ کی تمام نعمتوں میں سب سے مقدم نعمت وجود ہے، اس کے بعد دوسری نعمتوں کا نمبر ہے چوں کہ نعمت وجود دائمی ہے اس لیے دائمی طور پر ہر لمحہ اس نعمت کا شکر ادا کرنا ضروری ہے۔
سانسیں
اللہ تعالیٰ کی ان لا محدود نعمتوں سے جن کا ہر لمحہ انسان پر بے چون و چرا فیضان ہو رہا ہے نعمت نفَس یعنی سانس ہےجس کی آمد و رفت میں اتنی لاکھوں نعمتیں موجود ہیں جن کے شمار و احاطہ کی عقل میں طاقت نہیں۔ اندر داخل ہونے والی سانس سے سینکروں کام نکلتے ہیں، یہ سانس ایسا آب حیات ہے جو رگوں پٹھوں وغیرہ کی نالیوں میں داخل ہو کر اعضا و اطراف کے برگ و بار کو سرسبز رکھتا ہے۔ حلق کی نالی میں سانس داخل ہو کر اس کے میل کچیل اور کثافت و خشکی کو دور کر کے لطیف و نرم بناتی ہے، پھر اس کا جوہر پھیپھڑے کے ذریعہ گلزار دل میں داخل ہو کر بدن کی تمام رگوں پٹھوں اور مسامات میں پہنچتا ہے اور حرارت غزیری کو معتدل بناتا ہے۔ گویا ہر لمحہ نیا لباس زندگی اور ہر لحظہ تازہ شربت زیست بہم پہنچاتا ہے۔ باہر نکلنے والی سانس انھی منزلوں اور راہوں سے جن سے وہ داخل ہوئی تھی باہر آتی ہے اور اندر کے تمام فضلات اور کثافتیں باہر نکال پھینکتی ہے اور طبیعت میں فرحت و نشاط پیدا کر کے حبس و ضیق دم کی تکلیف سے نجات دیتی ہے۔ سانس کا
حساب لگانے والوں سے پوچھو کہ صبح سے شام تک کتنی مرتبہ آمد و رفت ہوا کرتی ہے اور اس کے ضمن میں کیسی کیسی نعمتیں حاصل ہوتی ہیں، ان نعمتوں میں سے کس نعمت کا خاص حق ادا کرنا کس طرح ممکن ہے۔
رزق: اللہ تعالیٰ کی اہم نعمتوں سے ایک نعمت رزق ہے جو شب و روز بلا ناغہ تم کو حاصل ہو رہی ہے۔ ذرا دیکھو اور اس کے اسباب و آلات پر غور و فکر کرو کہ وہ ایک دانہ گندم پیدا کرنے میں کتنے اسباب ایجاد فرماتا ہے۔ اس کی صورت کی ایجاد، کھیتی باڑی کے اسباب، اس کی قوتوں کی فساد سے حفاظت فرماتا ہے اور عجیب ترتیب و تکمیل کے ساتھ ۔ پھر اس کے پیسنے، گوندھنے، پکانے، کھانے، چبانے اور ہضم و جذب میں ایسی عجیب و غریب نعمتیں اور حکمتیں ظاہر فرماتا ہے جن کو وہ حکیم مطلق ہی جانتا ہے۔ پھر اس کو غذاے صالح بناتا ہے۔
دیگر نعمتیں
اس کے علاوہ دیگر نعمتیں مثلاً کھانا، پینا، لباس، مجلس و مکان، آمد و رفت کے مقامات، بستیاں اور تمام ارضی و سماوی، علوی و سفلی، روحانی و جسمانی اور ظاہری و باطنی نعمتوں کو دیکھو اور علیم و قدیر کی تخلیق و تقدیر اور ترتیب و تدبیر پر غور و فکر کرو تو سکوت اور عاجزی و بندگی کے علاوہ کچھ بھی نظر نہ آئےگا۔ آسمان و کواکب کی عجیب و غریب طریقہ پر تخلیق و رفتار، کواکب و سیارات کے تمام احوال و صفات، عناصر و ارکان کی عجیب و غریب ترتیب، وسیع و عریض زمین کا بچھونا، مضبوط و مستحکم پہاڑوں کی ایجاد، چشموں کا پھوٹنا، نہروں کا بہنا، مختلف الانواع جمادات و نباتات و حیوانات کی تکوین، ان اجسام کی تخلیق میں عجیب و غریب حکمتوں کو ملحوظ رکھنا اور تمام کے ظاہر و باطن میں ان بڑی بڑی نعمتوں کا عطیہ جن کا مجمل ذکر بھی نہ کسی کے بس کی بات ہے اور نہ ان کا ذکر بڑی بڑی کتابوں میں سما سکتا ہے اے انسان! سب تیرے لیے ہیں تاکہ تو اس کی یاد سے غافل نہ ہو اور اس کی جستجو میں مشغول رہے۔
مذکورہ بالا نعمتوں میں انسان و حیوان سب مشترک ہیں، لیکن وہ مخصوص نعمتیں جو صرف انسان کو عطا کی گئی ہیں جیسے فہم و فراست، نطق و فکر، علم و زیرکی، شوق و محبت، ذوق و معرفت، قرب و ولایت، نبوت و رسالت اور تعظیم و تکریم ان کا شکر ادا کرنا مشکل ہے اور ان مخصوص نعمتوں کی بدولت اللہ تعالیٰ نے انسان کو وہ بلند رتبہ عطا کیا ہے کہ تمام مخلوقات ارضی کے سر پر اس کے پاوں ہیں اور مخلوقات سماوی سے اس کا سر اونچا ہے۔
حضور محبوب رب العالمینﷺ
معلوم ہو کہ دنیا و آخرت میں رضاے الٰہی کے بعد سب سے بڑی نعمت حضور سرور کونینﷺ کا وجود مسعود ہے۔ آپ نہ ہوتے تو یہ وجود اور جملہ نعمتیں ہمیں کیسے حاصل ہوتیں ، بلکہ اگر آپ کا دامن رحمت نصیب نہ ہوتا یہ وجود وغیرہ ہی ہمارے اوپر بوجھ ہو جاتا۔ یوں تو جملہ انبیاے کرامعلیہم السلام سب ہی رحمت و نعمت ہیں ، مگر آپﷺ کتنی بڑی نعمت ہیں اس کا ادراک ہمارے عقول و اذہان نہیں کر سکتے۔ ایمان، دین و اسلام، معارف و حقائق، احکام و مسائل، قرب و عرفان اور اس کی بلندیاں، معمولی عبادتوں پر بڑے بڑے ثواب، ہر موڑ پر آپ کی مدد، آپ کا فیضان، آپ کے ذریعہ بخشش و مغفرت اور رفع درجات، علوم و احوال، دین میں آسانیاں، اس امت کی ساری امتوں پر فوقیت وغیرہ سب آپ ہی کی مرہون منت ہے۔
اللہ تعالیٰ نے آپ کو ہمیں عطا فرما کر کس قدر بڑا احسان کیا اس کو کون جان سکتا ہے، وہ خود فرماتا ہے:
لَقَدْ مَنَّ اللہُ عَلَی الْمُؤۡمِنِیۡنَ اِذْ بَعَثَ فِیۡہِمْ رَسُوۡلًا مِّنْ اَنۡفُسِہِمْ (سورۃ آل عمران: ۳؍۱۶۴)
ترجمہ: بے شک اللہ کا بڑا احسان ہوا مسلمانوں پر کہ ان میں انہیں میں سے ایک رسول بھیجا۔’’
اس نے بڑی بڑی نعمتیں بخشیں، مگر احسان جتایا تو حضورﷺ کی عطا پر، دین و دنیا کی ساری نعمتیں آپ کے در سے مل رہی ہیں، آپ ہی قاسمِ جملہ نعَم ہیں، آپ کے حقوق سب سے زیادہ، آپ کے احسانات سب پر، اور آپ کے فیض سے سب مستفیض ہیں۔ علماے اہل سنت نے اپنی کتب مبارکہ میں آپ کے حقوق عالیہ کافی تفصیل سے بیان فرمائے، خاص کر امام قاضی عیاضرحمۃ اللہ علیہ نے ‘الشفا’ میں اور اس کے شارحین نے اپنے شروح میں، جنھیں سب کو پڑھنا چاہیے، سب کو پڑھانا چاہیے، بتانا چاہیے، ان کی عظمتوں اور احسانات سے واقف کرانا چاہیے، ہر وقت ان کی مقدس بارگاہ کے آداب کا خیال رکھنا چاہیے، وہ راضی خدا راضی، وہ ناراض خدا ناراض، انھوں نے وہ دیا جو سب نے مل کر نہ دیا، وہ وہ دیں گے جو مخلوق میں کوئی نہ دے سکےگا، ان کا دامن عروہ وثقیٰ (مضبوط رسی)، وہی حبل اللہ المتین ہیں، ان کے بغیر کہیں چارہ نہیں، وہ مل گئے سب مل گیا، ان کا ادنیٰ اشارہ ہماری دونوں جہان کی فلاح و نجات، سب چھوٹ جائے وہ نہ چھوٹیں، بار بار پڑھو، دھیان رکھو، ان کے گن گاؤ، ان کو اچھی طرح پہچانو، ان سے محبت کرو، ان پر جانیں نثار کرو، سب کچھ مل جائے ان کا دامن اگر صحیح طریقے پر نہ ملا تو سب بیکار۔ وہ اتنی بڑی نعمت ہیں کہ زندگی کے ہر لمحے میں ان کا شکر کروگے، بلکہ ایسی زندگیاں ان گنت مل جائیں اور سب ان کے شکر کے لیے وقف رہیں تو بھی اس نعمت الٰہیہ کا شکر ادا نہیں ہو سکتا ہے۔
علما و مشائخ
اس خداے رحمٰن و رحیم، لطیف و کریم کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ ہمیں ان علما و مشائخ کا دامن عطا فرمایا جنھوں نے ان کا صحیح مقام و مرتبہ بتایا، ان کے حقوق بتائے، ان کا احترام سکھایا، ان کے صحابہ، علما، اولیا، محدثین، مفسرین، متکلمین، نائبین، مجددین وغیرہم سب اللہ تعالیٰ کی بڑی بڑی نعمتیں ہیں، سب کے احسانات سے ہماری گردنیں دبی ہوئی ہیں۔ میرے آقا، میرے سرور، میرے دو
جہاں کے وسیلہ، میرے حبیب و محبوبﷺ کے علوم و احوال اور معارف و حقائق کے وسیلہ یہی اساطین امت ہیں، انھی کے ذریعہ ہم مدینہ کی چوکھٹ تک پہنچے، انھی کے طفیل خاک مدینہ ہماری آنکھ کا سرمہ بنی، یہ سب اہل حق ہمارے ہیں کیوں کہ یہ ان کے ہیں، ہم دور افتادوں کو، سیاہ کاروں نااہلوں کو کیا ملتا اگر یہ وسائط ووسائل نہ ہوتے، ہمارے مشائخ، ہمارے مرشدین سب قرب و عرفان، علوم و فنون کا واسطہ ہیں۔ میرے نبیﷺ کے بعد ان کے حقوق ہم پر سب سے زیادہ ہیں، سب کی قدر کریں، ان کی عظمتیں اور حقوق پہچانیں ، سب کا شکر کریں ۔
اس مختصر تحریر میں ہم کیا بیان کر سکتے ہیں، اشارے ہی کر سکتے ہیں، اسی کو بہت سمجھیں، ایک ایک لفظ کو بار بار پڑھیں، دل میں بسائیں، لوگوں کو بتائیں تاکہ تجدید ہوتی رہے، ذہن میں یہ ساری چیزیں حاضر رہیں، دور بڑا خراب ہے، گستاخیوں اور بے ادبیوں کا دور ہے، جو ان کا ہو ان کی صحبت و معیت اختیار کریں، ہر اس شخص سے جن کے قول و فعل سے ذرا بھی دوری کی بو آئے اس سے کوسوں دور رہیں، ان کے پاس بیٹھیں جس کے پاس بیٹھنے سے ان کی محبت بسے، ان کی عظمت دلوں میں پیدا ہو، علماے اہل سنت نے حق و باطل کو، اپنے پرائے کو خوب اچھی طرح بیان کر دیا ہے۔ ہمارے محسن و آقا حضرت امام ربانی مجدد و منور الف ثانی اور ان کے فرزند ارجمند حضرت خواجہ محمد معصوم نے اور ان کے خلفا و نائبین نے اپنے اپنے مکتوبات و رسائل میں روحانی مشاہدات کے ذریعہ ے مثال اور واقعی و حقیقی عظمتیں میرے اور ان کے سچے وفاداروں کی خوب خوب بیان کر دی ہیں۔
اس فقیر مجددی نے بھی اسی گلشن سے خوشہ چینی کرتے ہوئےمتعدد تحریروں میں خاص کر معارف امام ربانی اور انوار حرمین میں کچھ سپرد قلم کر دیا ہے، ان کو پڑھیں، حفظ کریں اور میرے نبیﷺ اور ان کے سچے غلاموں کو جو ایسا ہی مانے جو ان برگوں نے بیان کیا ہے تو اسے اپنا سمجھیں خواہ ان سے کوئی دنیوی
رشتہ نہ ہو اور جو ان سے دور ہو اسے پرایا سمجھیں خواہ وہ دنیوی اعتبار سے کتنا ہی بڑا رشتہ دار کیوں نہ ہو۔ صلوات اللہ تعالیٰ و تسلیماتہ علیٰ سیدھم و أفضلھم و أعظمھم و أنفعھم أولاً و علیھم ثانیاً دائماً سرمداً أبداً
ماں باپ اور اساتذہ
یہ سب بڑی نعمت ہیں۔ نیک و صالح ماں باپ اور اساتذہ، عقائد حقہ کے پابند بہت عظیم نعمت ہیں، ان کے حقوق علما و ائمہ نے تفصیل سے بیان کر دیےہیں۔ اسی طرح صالح اور باشعور احباب بھی بہت بڑی نعمت ہیں، اچھی اولاد بھی بہت بڑی نعمت ہے۔
استعداد
اللہ تعالیٰ نے ہر بندے میں ایمان اور قرب و عرفان کی صلاحیت رکھی ہے جس کی بدولت وہ خدا کے انوار و تجلیات سے معمور و پرنور ہو سکتا ہےجیسا کہ حضرت قاضی ثناء اللہ پانی پتیرحمۃ اللہ علیہ نے تفسیر مظہری اور ارشاد الطالبین میں تفصیل سے بیان کی ہے۔ علوم ظاہر وباطن کے معارف و حقائق کی یہ استعداد سب میں ہے،یہ بڑی نعمت ہے۔ یہ نہ ہوتی تو بھی محرومی کے سوا کچھ نہ تھا۔ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن نعمتوں کے بارے میں پوچھےگا، ہر نعمت کا شکر ہم پر لازم و ضروری ہے، اس کو ضائع کرنا نعمت کی بہت بڑی ناقدری و ناشکری ہے۔ لہٰذا اپنی صلاحیت و استعداد کی بھی قدر کریں، خوب خوب اسے استعمال کریں، اس کے ذریعہ جو دونوں جہان کی مفید چیزوں کو حاصل کر سکتے ہوں حاصل کریں خاص کر قرب و عرفان اور علوم و معارف الٰہیہ و عقائد و احکام شرعیہ جس قدر استعمال کریں گے اسی قدر نکھار آئےگا، نعمت کا صحیح استعمال سب کو نہیں آتا ہے۔ یہ بہت بڑا ہنر اور اللہ تعالیٰ کی بہت بڑی عطا ہے جو صحیح استعمال جانتا ہے، حاضر دماغی سے کام لیتا ہے، وقت پر بیدار رہتا ہے وہ بہت مبارک ہوتا ہے، دنیا میں بھی آخرت میں بھی۔
آج اس نعمت الٰہی کو لوگ گھٹیا کاموں، بلکہ حرام و ناجائز کاموں میں استعمال کر رہے ہیں، یہ بہت بڑی ناشکری ہے، اکثر غافل ہیں انھیں استعمال کا طریقہ ہی
نہیں معلوم۔ یہ استعداد ایسی بلند و بالا نعمت ہے ، اگر بندے کے دل میں اس کی صحیح قدر بٹھا دی جائے اور وہ اسے اہم کاموں اور صلاح و فلاح کے اعلیٰ کاموں میں استعمال کرے تو نامعلوم کن بلندیوں پر پہنچ سکتا ہے۔ آج یہ نعمت دنیا کی نذر ہو کر رہ گئی ہے۔ بجائے دینی علوم و فنون کے دنیا کمانے کے لیے استعمال ہو رہی ہے۔ ہائے افسوس، صد افسوس! کیسا دور آگیا، کس قدر نعمتوں کی ناقدری اور ناشکری بڑھ گئی ہے۔
احیاء العلوم شریف وغیرہ پڑھیں، نعمتیں جانیں اس لیے کہ ان کی قدر اور ان کی تفصیلی پہچان رب کی معرفت میں اضافہ کرےگی، ان کی عزت و عظمت اور قدرت دل میں جاگزیں ہوگی۔ میں نے نہایت اختصار و اجمال کے ساتھ شکر کے تعلق سے یہ چند باتیں عرض کر دیں۔ صوفیہ و اولیا رحمۃ اللہ علیہم کیسے مبارک تھے، وہ ایسے علوم میں اپنی استعدادوں کو صرف کرتے تھے، اپنے رب کا شکر کرتے تھے، وہ فرماتا ہے:
وَ اِنۡ تَعُدُّوۡا نِعْمَۃَ اللہِ لَا تُحْصُوۡہَا (سورۃ النحل: ۱۶؍۱۸)
ترجمہ: اور اگر اللہ کی نعمتیں گنو تو انھیں شمار نہ کرسکو گے۔’’
اس کی نعمتیں شمار نہیں کر سکتے، بے شمار ہیں، اگر اس کی ہلکی سی جھلک دیکھنا چاہیں تو امام حجۃ الاسلام نائب خیر الانام سیدنا محمد غزالی قدس سرہ کی احیاء العلوم جلد رابع کا یہی مقام مطالعہ کریں، آنکھیں کھل جائیں گی۔
شکر کی ابتدا
حضرت امام ابو طالب مکی قدس سرہ فرماتے ہیں کہ عارفین کے نزدیک شکر کی ابتدا یہ ہے کہ تو اس کی نعمتوں سے کسی نعمت کے ذریعہ اس کی نافرمانی نہ کرے کہ اس نعمت کو نفس کی پیروی میں لگا دے۔ اہل شکر کا شکر یہ ہے کہ ہر نعمت کو اس کی اطاعت میں لگائے اوریہ تمام بندوں کا شکر ہے اور شکر کی حقیقت تقویٰ ہے، یہ لفظ تمام عادتوں کو شامل ہے، ارشاد الٰہی ہے:
فَاتَّقُوا اللہَ لَعَلَّکُمْ تَشْکُرُوۡنَ (سورۃ آل عمران: ۳؍۱۲۳)
ترجمہ: تو اللہ سے ڈرو کہ کہیں تم شکر گزار ہو۔’’
معلوم ہوا کہ تقویٰ کے ذریعہ حقیقت شکر تک پہنچا جا سکتا ہے۔
شکر کے دو مقام
شکر میں دو مشاہدوں کے دو مقام ہیں۔ ان میں اعلیٰ مقام شکور کا ہے یعنی وہ شخص جو ناگوار باتوں، آزمائشوں، شدائد اور تکالیف پر شکر ادا کرے، یہ اسی وقت ممکن ہے جب کہ صدق یقین اور حقیقت زہد سے ان کے نعمت ہونے کا مشاہدہ کرے۔ یہ مقام رضا اور حال محبت ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی حضرت نوحعلیہ السلام کا اسی وصف سے ذکر کیا ہے، فرمایا:
اِنَّہٗ کَانَ عَبْدًا شَکُوۡرًا (سورۃ الإسرا: ۱۷؍۳)
ترجمہ: بیشک وہ بڑا شکر گزار بندہ تھا۔’’
اس کی تفسیر یہ ہے کہ وہ ہر حال میں خیر ہو یا شر، نفع ہو یا ضرر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا کرتے تھے۔ شکر کا دوسرا مقام یہ ہے کہ بندہ اس شخص کو دیکھے جو اس سے کمتر ہے جس پر اسے دنیوی امور اور احوال دین میں فضیلت دی گئی ہے، پھر وہ سلامت قلب و دین اور عافیت کی بنا پر اللہ تعالیٰ کی نعمت کو عظیم سمجھے اس کے مقابلے میں جس میں دوسرا شخص مبتلا ہے اور اپنے اوپر دنیاکی نعمت کو جو اللہ تعالیٰ نے اسے عطا کی ہے اور اس کے لیے کافی ہے اس کے مقابلے میں محتاج و مجبور ہے، عظیم سمجھے، پھر اس پر شکر ادا کرے۔ (ماخوذ از قوت القلوب)