باب ۱۵ از ۵۴صفحات ۱۸۹–۱۹۹
۶۔شیطان کے بڑے بڑے دروازے
حضرت امام قدس سرہ فرماتے ہیں: دل ایک قلعے کی طرح ہے اور شیطان دشمن ہے جو اس قلعے میں داخل ہونا چاہتا ہے تاکہ وہ اس پر قبضہ کر لے اور غلبہ حاصل کرے اور قلعے کی حفاظت پر اس وقت قدرت حاصل ہوتی ہے جب قلعے کے دروازے، راستوں اور سوراخوں کی حفاظت کی جائے اور جو اس کے دروازوں سے واقف نہیں وہ اس کے دروازوں کی حفاظت نہیں کر سکتا تو دل کو شیطان کے وسوسوں سے بچانا واجب ہے۔ اور یہ عمل ہر مکلف بندے پر فرض عین ہے اور جس عمل کے ذریعہ واجب و فرض تک رسائی ہو وہ بھی واجب اور شیطان کو جب ہی دور کر سکتے ہیں جب اس کے داخل ہونے کے راستوں سے واقفیت ہو۔ لہٰذا اس کے داخل ہونے کے راستوں کی پہچان واجب ہے اور دروازے اور راستے انسانی صفات ہیں جو بہت ہیں ہم بڑے بڑے کی طرف اشارہ کریں گے جو کشادہ دروازوں کی طرح ہیں اور وہ شیطانی لشکروں کی وجہ سے تنگ نہیں ہوتے وہ دروازے یہ ہیں:
۱۔ایک غصہ دوم شہوت۔ غصے سے عقل جاتی رہتی ہے اور جب عقل کے لشکر کمزور ہو جاتے ہیں تو شیطان کے لشکروں کا ہجوم ہوتا ہے اور جب انسان کو غصہ آتا ہے تو شیطان اس کے ساتھ کھیلتا ہے جیسے بچہ گیند کے ساتھ کھیلتا ہے۔
۲۔حسد اور حرص۔ جب انسان ہر چیز کا حریص ہوتا ہے تو اس کو حرص اندھا اور بہرا کر دیتی ہے اور نور بصیرت سے ہی شیطان کے راستوں کی پہچان حاصل ہوتی
ہے اورجب حسد و حرص اسے ڈھانپ لیں تو وہ انسان دیکھ نہیں سکتا ہے اور اس وقت شیطان کو گنجائش مل جاتی ہے تو حریص آدمی کو ہر وہ چیز اچھی لگتی ہے جو اسے اس کی شہوت تک پہنچائے گرچہ وہ بری اور بے حیائی پر مبنی ہو۔
۳۔سیر ہو کر کھانا۔ اگرچہ وہ حلال و پاک ہو کیوں کہ سیر ہو کر کھانے سے شہوتیں مضبوط ہوتی ہیں اور شہوات شیطان کا اسلحہ ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ زیادہ کھانے میں چھ بری باتیں ہیں: (۱)اس کے دل سے خوف چلا جاتا ہے۔ (۲)اس کے دل سے مخلوق خدا پر رحمت کا جذبہ نکل جاتا ہے کیوں کہ اس کا خیال یہ ہوتا ہے کہ سب لوگوں نے سیر ہوکر کھایا ہے۔ (۳)عبادت خداوندی بھاری پڑ جاتی ہے۔ (۴)جب وہ حکمت بھرا کلام سنتا ہے تو اس سے دل میں نرمی پیدا نہیں ہوتی ہے۔ (۵)جب وہ وعظ کہتا ہے اور حکمت کی بات کرتا ہے تو وہ لوگوں کے دلوں میں اثر نہیں کرتی۔ (۶)اس میں کئی بیماریاں پیدا ہوتی ہیں۔
۴۔گھریلو سامان۔ کپڑوں اور مکان کے ذریعہ زینت حاصل کرنا ہے۔ شیطان جب اسے انسان کے دل پر غالب دیکھتا ہے تو اس میں انڈے اور بچے دیتا ہے اور وہ ہمیشہ اسے مکان کی تعمیر اور اس کی چھتوں اور دیواروں کی زینت نیز عمارت کو وسیع کرنے کی طرف بلاتا ہے اور اسے لباس اور سواریوں کے ذریعہ مزین ہونے کی دعوت دیتا ہے اور اسے زندگی بھر اسی کام میں لگائے رکھتا ہے اور جب وہ اسے اس کام میں لگا دیتا ہے تو دوبارہ اس کے پاس جانے سے بے نیاز ہو جاتا ہے کیوں کہ یہ امور ایک دوسرے کو کھینچتے ہیں اور وہ ہمیشہ ایک سے دوسرے کی طرف جاتا ہے حتیٰ کہ اسے موت آجاتی ہے۔
۵۔لوگوں سے طمع رکھنا بھی ایک بڑا شیطانی دروازہ ہے کیوں کہ جب طمع دل پر غالب آتی ہے تو شیطان ان چیزوں میں جن کی اسے طمع ہوتی ہے بناوٹ اور زینت کو اس کے لیے پسندیدہ قرار دیتا ہے اور وہ ریاکاری اور دھوکہ دہی میں مصروف ہو جاتا
ہے حتیٰ کہ جس کی وہ طمع رکھتا ہے وہ گویا اس کا معبود ہوتا ہے اور وہ ہمیشہ اس کے لیے حیلے بہانے تلاش کرتا رہتا ہے اور اس تک پہنچنے کے لیے ہر سوراخ میں داخل ہو جاتا ہے، اس کی سب سے کم حالت یہ ہوتی ہے کہ جو بات اس میں نہ ہو اس پر تعریف چاہتا ہے اور امر معروف و نہی منکر کو ترک کرتے ہوئے منافقت کا ثبوت دیتا ہے۔
۶۔ایک بڑا دروازہ درہم و دینار روپے پیسے اور ہر قسم کا سامان، جانور اور زمین ہیں کیوں کہ ضرورت سے زائد چیزیں شیطان کا ٹھکانہ ہیں؛ اس لیے کہ جس کے پاس خوراک کے برابر ہو اس کا دل فارغ ہوتا ہے اور اگر وہ مثلاً راستے میں ایک سو دینار پائے تو اس کے دل میں دس خواہشات پیدا ہوتی ہیں اور ہر خواہش مزید سو دینار کی محتاج ہوتی ہے۔ لہٰذا جو کچھ اس نے پایا وہ اس کے لیے کافی نہیں ہوتا، بلکہ اسے مزید نو سو دینار کی ضرورت ہوتی ہے حالاں کہ سو دینار ملنے سے پہلے وہ بے نیاز تھا۔ اب جب سو دینار مل گئے تو اس نے سوچا کہ وہ مال دار ہو گیاہے حالاں کہ وہ مزید نو سو دیناروں کا محتاج ہو گیا تاکہ وہ ایک گھر خرید لے اور لونڈی خرید لے، گھر کا سامان خرید لے، عمدہ لباس خرید لے اور ان میں ہر ایک چیز ایسی ہے جو دوسری کو لازم ہے جس کی کوئی انتہا نہیں۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ جہنم کے گڑھے میں گر جاتا ہے اور یہی خاتمہ ہے۔
۷۔بخل اور محتاجی کا ڈر بھی ایک بڑا شیطانی دروازہ ہے۔ یہی چیز راہ خدا میں خرچ کرنے اور صدقہ دینے سے رکاوٹ ہوتی ہے اور مال کو جمع کرنے، خزانہ بنانے اور دردناک عذاب کی طرف بلاتی ہے۔ جو لوگ زیادہ مال جمع کرتے ہیں ان کو اسی بات سے ڈرایا گیا ہے۔
۸۔ایک بہت بڑا دروازہ مذاہب اور نفسانی خواہشات پر تعصب، مخالفین سے کینہ پروری اور انھیں حقارت کی نظر سے دیکھنا ہے اور یہ وہ عمل ہے جو عبادت گزار
اور فاسق سب کو ہلاک کر تا ہے۔ لوگوں پر طعن کرنا اور ان کی خرابیوں کے ذکر میں مصروف رہنا انسان کی فطرت میں داخل ہے اور یہ درندگی کی صفات سے ہے اور جب شیطان اس صفت کو ان کی نظر میں حق قرار دیتا ہے اور یہ طبیعت کے موافق بھی ہے تو اس کی شیرینی اس کے دل پر غالب آجاتی ہے اور وہ اپنی پوری ہمت کے ساتھ اس میں مشغول ہو جاتا ہے اور بہت خوش ہوتا ہے۔ اس کا خیال ہوتا ہے کہ وہ دین کے لیے کوشش کر رہا ہے حالاں کہ وہ شیطان کی پیروی میں کوشاں ہے۔’’
معلوم ہو کہ جب مذاہب و مسالک حق جیسے حنفی شافعی وغیرہ میں باہم تعصب و عناد ہو تو یہ حال ہے اسی پر اس تعصب کو قیاس کر لو جو آج طریقت کے ذمہ داروں کے یہاں سے مل رہا ہے۔ کوئی پیر کسی دوسرے سلسلے کے پیر کو برداشت کرنے کے لیے تیار نہیں، بلکہ ایک ہی سلسلے کے مختلف پیر باہم دست و گریباں ہیں اور اسے مذہبی خدمت سمجھ کر کر رہے ہیں۔ ایک دوسرے کی عزت و آبرو کے پیچھے پڑے ہیں۔ بعض فروعی مسائل کو لے کر اس قدر اختلاف کا شکار ہوئے کہ مستقل پارٹیاں بن گئیں۔ ایک دوسرے کے رد میں کتابیں لکھ دیں۔ ایک دو مسائل پر یہ حال ہے۔ اگر متقدمین و متاخرین فقہاے کرامرضی اللہ عنہم نے یہی کیا ہوتا تو نا معلوم امت کا کیا حشر ہوتا۔ استاذ کے خلاف شاگرد فتویٰ دے رہا ہے، مگر کوئی ناراضگی نہیں، ہر چاروں مذاہب مشہورہ کے ائمہ اور ان کے تلامذہ کے اختلافات ہمارے سامنے ہیں، کس قدر ہیں، شمار سے باہر، مگر کہیں سننے کو نہیں ملا کہ ایک نے دوسرے کی مخالفت کی ہو، برائی یا غیبت و چغلی کی ہو یا ایک نے دوسرے کے خلاف تقریریں کی ہوں یا کتابیں اور پوسٹر چھاپے ہوں۔ حد تو یہ ہے کہ ایک دوسرے سے زیادہ ملال تک دیکھنے میں نہیں آیا۔ اگر عدم تعصب کی سچی مثالیں دیکھنا ہو تو سچے صوفیہ کرام کی حیات طیبہ میں دیکھیے یا نہایت دین دار فقہا کے یہاں۔
حضرت امام غزالی قدس سرہ فرماتے ہیں: شیطان کا ایک بہت بڑا حیلہ یہ ہوتا ہے کہ وہ انسانوں کو اس کے نفس غافل کر دیتا ہے یعنی لوگوں کے درمیان مذاہب اور مقدمات کے سلسلے میں اختلاف ڈال دیتا ہے۔
حضرت عبد اللہ ابن مسعودرضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ایک جماعت اللہ تعالیٰ کا ذکر کرنے کے لیے بیٹھی تو شیطان اس کے پاس آیا تاکہ ان کو اس مجلس سے اٹھا دے اور ان کے درمیان تفریق پیدا کر دے، لیکن وہ اس پر قادر نہ ہوا۔ پھر وہ ایک اور جماعت کے پاس آیا جو دنیوی گفتگو کر رہے تھے اس نے ان کے درمیان فساد پیدا کر دیا۔ چناں چہ وہ اٹھ کھڑے ہوئے اور ایک دوسرے کو قتل کرنے لگے۔ وہ لوگ جو اللہ تعالیٰ کا ذکر کر رہے تھے وہ اٹھ کھڑے ہوئے اور ان کے معاملے میں مشغول ہو گئے اور ان کو چھونے لگے۔ یوں وہ ذکر خداوندی کو چھوڑ بیٹھے۔ شیطان کا مقصد بھی یہی تھا کہ وہ ان کو لڑانا نہیں چاہتا تھا، بلکہ اہل ذکر کو منتشر کرنا چاہتا تھا۔
مخلوق کی دو قسمیں
اول وہ کہ عظمت دینی رکھتے ہیں جن کے سرور مطلق حضور سید المرسلینﷺ ہیں۔ پھر باقی حضرات انبیا و ملائکہ و اولیا و اہل بیت و صحابہ۔ پھر دیگر علما و صلحا و اتقیا۔ پھر سلاطین اسلام، پھر عام مومنین۔ نیز صحائف دینیہ مثل مصحف شریف و کتب فقہ و حدیث۔ صفات جمیل مثل ایمان و عمل، اعمال صالحہ مثل نماز و حج، اخلاق فاضلہ مثل زہد و تواضع، اماکن مقدسہ مثل کعبہ مکرمہ و روضہ منورہ۔ غرض جملہ اشخاص و اشیا جن کو مولیٰ عز و جل سے علاقہ قرب ہے۔
فائدہ: اس علاقہ کے سبب ان کی تعظیم اللہ عز وجل ہی کی تعظیم ہے اور ان کی عزت اس کی عزت ہے۔
دوسری قسم وہ کہ عظمت دینی سے اصلاً بہرہ نہیں رکھتے کہ اللہ عز و جل سے انھیں کوئی علاقہ قرب نہیں ہے تو بعد ہی ہے۔ ان کے بدتر و ذلیل تر کفار و مشرکین و مرتدین مثل وہابیہ دیوبندیہ و غیر مقلدین ہیں، پھر باقی ضالین۔ نیز
صفات ذلیلہ مثل کفر و ضلال، اعمال خبیثہ مثل زنا و شرب خمر، اخلاق رذیلہ مثل تکبر و عجب، اماکن نجسہ مثل معابد کفار۔ غرض دنیا و مافیھا جس کو اللہ عز و جل سے علاقہ قرب نہیں۔’’ (فتاویٰ رضویہ، جلد:۲، ص: ۳۱۱)
تداول : کے یہ معنیٰ ہیں کہ جب سے اب تک علما کے درس و تدریس یا نقل و تمسک یا ان کی مطمح نظر رہی ہو،جس سے روشن ہو کہ اس کے مقامات و مقالات علما کے زیر نظر آچکے اور وہ بحالت موجودہ اسے مصنف کا کلام مانا کیے۔ زبان میں صرف وجود کتاب کافی نہیں کہ وجود و تداول میں زمین و آسمان کا فرق ہے۔
بلا تحقیق کسی مسلمان کی طرف کسی کبیرہ کی نسبت حرام ہے: علما کے نزدیک ادنیٰ درجہ ثبوت یہ تھا کہ ناقل کے لیے مصنف تک سند مسلسل متصل بذریعہ ثقات ہو۔ خیال رہے کہ اولاً کوئی کتاب یا رسالہ کسی بزرگ کے نام منسوب ہونا اس سے ثبوت قطعی کو مستلزم نہیں۔ بہت سے رسالے خصوصاً حضرات اکابر چشت کے نام سے منسوب ہیں جس کا اصلاً ثبوت نہیں۔ ثانیاً کسی کتاب کا ثابت ہونا اس کے ہر فقرے کا ثابت ہونا نہیں۔ اکابر کی بہت سی کتابوں میں الحاقات ہیں۔ معلوم رہے کہ کسی کے پاس نسخہ صحیحہ معتمدہ ہو کہ خود اس نے یا کسی ثقہ معتمد نے خود اصل نسخہ مصنف سے مقابلہ کیا یا اس نسخہ صحیحہ معتمدہ سےجس کا مقابلہ اصل نسخہ مصنف یا اور ثقہ نے کیا وسائط زیادہ تو سب کا اسی طرح کے معتمدات ہونا معلوم ہو تو یہ بھی ایک طریقہ روایت ہے اور نسخہ کی عبارت کو مصنف کا قول بتانا جائز۔ یہ اتصال سند اصل وہ شے ہے جس پر اعتماد کر کے مصنف کی طرف نسبت جائز ہو سکے اور متاخرین نے کتاب کا علما میں ایسا مشہور و متداول ہونا جس سے اطمینان ہو کہ اس میں تفسیر و تحریف نہ ہوئی اسے بھی مثل اتصال سند جانا اور وہ بھی ایسا ہی ہے۔ (فتاویٰ رضویہ، ج: ۶)
ماکان و ما یکون
فتاویٰ رضویہ ج:۶، ص:۱۹۳ میں ایک سوال کے جواب
ماکان و ما یکون جس کے ذرہ ذرہ کا احا طہ کلیہ قرآن عظیم و احادیث صحیحہ و ارشادات ائمہ سے آفتاب روز روشن کی طرح ثابت ہے اس کے معنیٰ ما کان من أول یوم و یکون إلیٰ آخر الأیام ہیں یعنی روز اول آفرینش سے روز قیامت تک جو کچھ ہوا اور ہونے والا ہے ایک ایک ذرے کا علم تفصیلی حضورﷺ کو عطا ہوا۔ مشرق و مغرب میں ، سماوات و ارض میں، عرش و فرش میں کوئی ذرہ حضورﷺ کے علم سے باہر نہیں۔ ذات و صفات حضرت عزت احاطہ و تناہی سے بری ہیں۔ ممکن نہیں کہ جمیع مخلوقات کا علم مل کر اس کی ذات علمیہ یا کسی صفت کریمہ کو محیط ہو سکے۔ کبھی کوئی اسے پورا نہ جان سکےگا۔ مومنین و اولیا و انبیا اور خود حضور سید الانبیا علیہ و علیہم افضل الصلوات و اکمل التسلیمات ابد الآباد تک اس کی معرفت میں ترقی فرمائیں گے۔ ہر روز اس کے وہ محامد معلوم ہوں گے جو کل تک نہ معلوم تھے اور یہ سلسلہ ابد تک رہےگا، کبھی ختم نہ ہوگا، روزانہ بیشمار علوم متعلق ذات و صفات ان پر منکشف ہوں گے اور ہمیشہ ذات و صفات میں نامتناہی غیر معلوم رہےگا کہ وہ محیط کل ہے، کسی کے احاطہ میں نہیں آسکتا، وہ حدیث متعلق بہ محامد علوم ذات و صفات میں ہے اور بیشک حق ہے اور دعواے حق کو کچھ مضر نہیں وللہ الحمد و ھو تعالیٰ اعلم۔
(۹)ایک بڑا شیطانی دروازہ یہ ہے کہ وہ بے علم، لوگوں کو اللہ تعالیٰ کی ذات و صفات اور ان باتوں میں غور و فکر کی ترغیب دیتا ہے جس تک ان کی عقلوں کی رسائی نہیں ہوتی حتّیٰ کہ ان کو دین کی بنیادوں کے بارے میں شک میں ڈال دیتا ہے یا ان کے دلوں میں اللہ تعالیٰ کی ذات کے بارے میں ایسے خیالات ڈالتا ہے جن سے ذات الٰہی پاک ہے اور اس طرح وہ کافر یا بدعتی ہو جاتے ہیں اور اس پر خوش ہوتے ہیں اور اس کو معرفت و بصیرت خیال کرتے ہیں اور اسے اپنی دانائی اور زیادتیِ عقل کا کرشمہ قرار دیتے ہیں۔ لوگوں میں سب سے زیادہ بے وقوف وہ ہے جو اعتقاد کے
حوالے سے اپنی عقل پر اعتماد کرتا ہے اور سب سے مضبوط عقل اسی شخص کی ہے جو اپنے نفس پر زیادہ تہمت لگاتا ہے اور علماے کرام سے بکثرت پوچھتا ہے۔
شیطان کو کیسے دور کیا جائے
اس کا علاج صرف یہ ہے کہ شیطان کے تمام راستے بند کر دیے جائیں یعنی دل کو تمام بری صفات سے پاک کر دیا جائے۔ اس کا بیان طول چاہتا ہے۔ جب دل سے ان صفات کو منقطع کر دیا جائےگا تو شیطان کا دل پر گذر اور وسوسے ہوں گے، لیکن وہ مستقل ڈیرہ نہیں جما سکےگا۔ اب اسے ذکر خداوندی کے ذریعہ منع کیا جا سکتا ہے کیوں کہ حقیقت ذکر دل میں اسی وقت جاگزیں ہوتی ہے جب دل کو تقویٰ کے ذریعہ آباد کیا جائے نیز اسے بری صفات سے پاک کر دیا جائے ورنہ ذکر محض آنے جانے والی بات ہوگی، دل پر اس کی حکومت اور قبضہ نہیں ہو سکتا۔ لہٰذا وہ شیطان کی حکومت کو دور نہیں کر سکتا؛ اسی لیے ارشاد باری تعالیٰ ہے:
اِنَّ الَّذِیۡنَ اتَّقَوۡا اِذَا مَسَّہُمْ طٰٓئِفٌ مِّنَ الشَّیۡطٰنِ تَذَکَّرُوۡا فَاِذَا ہُمۡ مُّبْصِرُوۡنَ (سورۃ الاعراف: ۷؍۲۰۱)
ترجمہ: بے شک وہ جو ڈر والے ہیں جب انہیں کسی شیطانی خیال کی ٹھیس لگتی ہے ہوشیار ہوجاتے ہیں اسی وقت ان کی آنکھیں کھل جاتی ہیں۔’’
شیطان بھوکے کتے کی مثل ہے جو تمھارے قریب آتا ہے۔ اگر تمھارے اور اس کے درمیان روٹی یا گوشت نہ ہو تو صرف دھتکارنے سے ہی چلا جاتا ہے یعنی محض آواز سے اسے بھگا دیا جاتا ہے اور اگر تمھارے سامنے گوشت بھی ہو اور وہ بھوکا بھی ہو تو وہ گوشت پر جھپٹتا ہے اور محض زبانی دھتکار سے دور نہیں ہوتا ہے تو وہ دل شیطان کی طرف سے جب خالی ہو محض ذکر سے شیطان دور ہو جاتا ہے، لیکن جب دل پر شہوت غالب ہو تو وہ حقیقت ذکر کو دل کے ارد گرد پھیلا دیتا ہے اور آدمی دل کے اندر پر قابو نہیں پا سکتا اور شیطان اس پر ڈیرہ ڈال دیتا ہے، لیکن جہاں تک متقی
لوگوں کے دل کا تعلق ہے تو جو خواہش اور بری صفات سے خالی ہوتے ہیں ان پر شیطان شہوتوں کی وجہ سے نہیں آتا، بلکہ غفلت کی وجہ سے ذکر سے خالی ہونے کے باعث آتا ہے۔ جب وہ ذکر کی طرف لوٹتا ہے تو وہ دور ہو جاتا ہے اور اس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد گرامی ہے:
فَاسْتَعِذْ بِاللہِ مِنَ الشَّیۡطٰنِ الرَّجِیۡمِ (سورۃ النحل: ۱۶؍۹۸)
ترجمہ: تو اللہ کی پناہ مانگو شیطان مردود سے۔’’
مزید تفصیل کے لیے دیکھیے احیاء العلوم جلد سوم۔
اسباب قرب
حضرت قاضی ثناء اللہ پانی پتیرحمۃ اللہ علیہ نے قرب الٰہی کے ترقی کے اسباب اور موانع نہایت جامع انداز میں ارشاد الطالبین میں ارشاد فرمائے ہیں جنھیں ہم کتاب نبوت و ولایت میں قدرے تفصیل سے ذکر کر چکے ہیں۔ نیز‘‘ آداب طریقت’’ میں بھی کچھ حصہ نقل ہوا۔ یہاں موقع کی مناسبت کی وجہ سے مختصر ذکر کرتے ہیں، وہ (قاضی ثناءاللہ) فرماتے ہیں:
‘‘قرب الٰہی کی علت موجبہ جذب یعنی اللہ تعالیٰ کا بندے کو اپنی طرف کھینچنا ہے۔ یہ جذب کبھی کسی امر کے توسط کے بغیر ہوتا ہے، اس کو اجتبا کہتے ہیں اور اکثر کسی امر کے توسط سے ہوتا ہے اور اس متوسط میں بحکم استقراء یعنی تتبع و تلاش کے بعد دو چیزیں واسطہ ثابت ہوئیں: ایک عبادت، دوم انسان کامل مکمل کی صحبت۔ جو جذب الٰہی عبادت کے توسط سے ہوتا ہے اس کو ثمرہ عبادت اور جو صحبت کے توسط سے ہوتا ہے اسے تاثیر مشائخ کہتے ہیں۔ یہ کلام علت فاعلی میں ہے اور علت قابلی استعداد ہے کہ حق تعالیٰ نے انسان میں ودیعت کی ہے۔’’
پھر چند سطر بعد فرماتے ہیں: ‘‘موانع قرب رذائل نفس و جنس عناصر اور عالم امر کے لطائف کی غفلت ہے۔ عبادت اور انسان کامل کی صحبت جس طرح یہ دونوں چیزیں حصول قرب کی علت ہیں اسی طرح یہ دفع موانع کے لیے بھی علت
ہیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ ناقصوں کی تحصیل کمال کی خاطر دو چیزیں ضروری ہیں: ایک کسب یعنی شیخ کامل و مکمل کی تجویز کے موافق عبادات و ریاضات کہ موانع کو زائل کریں اور نفس و عناصر کا تزکیہ اور عالم امر کے لطائف کا تصفیہ کریں جو کہ عالم خلق کے لطائف کی مصاحبت کی وجہ سے ظلماتی (تاریک) ہو گئے ہیں جنھوں نے خود کو اور اپنے خالق کو بھلا دیا ہے۔
دوم شیخ کامل و مکمل کا جذب جو کہ نسبت اور قرب الٰہی عطا کرتا ہے اور پستی سے بلندی تک پہنچاتا ہے۔ اکثر سلاسل کے اولیا سلوک کو جذب پر مقدم رکھتے ہیں؛ اس وجہ سے کہ موانع کو زائل کرنا مقاصد کی تحصیل پر مقدم جانتے ہیں۔ پس مرید کو اذکار اور ریاضت نفس کا حکم دیتے ہیں اور اپنے تصرف کو اس کی امداد میں متوجہ رکھتے ہیں تاکہ لطائف عالم امر مزکّی و مصفّی ہو جائیں اور پسندیدہ اخلاق؛ توبہ، انابت، زہد، توکل، صبر، رضا اور باقی مقامات عشرہ سے متصف ہو جائیں۔ اس طرح قرب الٰہی کے لیے تیار ہو جائےگا۔ اس وقت شیخ مرید کو اللہ تعالیٰ کی جانب کھینچتا ہے یعنی جذب کرتا ہے اور قرب الٰہی عطا کرتا ہے اس سالک کو سالک مجذوب کہتے ہیں اور اس سیر کو سیر آفاقی کا نام دیتے ہیں کیوں کہ بزرگان دین اس وقت تک عناصر و نفس اور عالم امر کے لطائف کے تزکیہ کا حکم نہیں کرتے ہیں جب تک کہ عالم مثال میں اپنے نفس سے خارج میں ملاحظہ نہ کرے اور ہر ایک لطیفہ کا ایک نور ہے جب تک وہ نور ظاہر نہیں ہوتا ہے اس لطیفہ کی صفائی کا حکم نہیں کرتے ہیں۔ قلب کا نور زرد، روح کا نور سرخ، سر کا نور سیاہ (بعض کے نزدیک اور اکثر نقش بندیوں کے نزدیک سفید ہے)، خفی کا سیاہ اور بعض کے نزدیک خفی کا سفید ہے اور اخفیٰ کا نور سبز بتاتے ہیں۔
چوں کہ یہ سیر بہت دور دراز ہے اور مشقت بھی بہت رکھتی ہے اور کبھی ایسا ہوتا ہے کہ صوفی اثناے سلوک میں انتقال کر جاتا ہے اور مقصود سے ناکام رہتا ہے۔
لہٰذا حق تعالیٰ نے حضرت خواجہ نقش بند قدس سرہ کو الہام فرمایا کہ جذب کو سلوک پر مقدم کرو۔ مرید کو پہلے توجہ کے ذریعہ لطائف عالم امر میں القاے ذکر کرتے ہیں یہاں تک کہ قلب، روح، سر، خفی، اخفیٰ اپنے اصول میں فانی و مستہلک ہو جائیں اور اس سیر کو سیر انفسی کہتے ہیں اور اس سیر انفسی کے ضمن میں اکثر سیر آفاقی بھی حاصل ہو جاتی ہے کیوں کہ عالم امر کے لطائف کی ظلمتیں اور کدورتیں بھی برطرف ہو جاتی ہیں اور قرب بھی حاصل ہو جاتا ہے اس کے بعد نفس و قالب کے تزکیہ کے واسطے مرید کو ریاضت کا حکم دیتے ہیں۔ پس مرید کو ریاضت اور توجہات شیخ کے ذریعہ نفس و عناصر کا تزکیہ بھی حاصل ہو جاتا ہے، اس سالک کو مجذوب سالک کہتے ہیں اوراس سیر کو ‘‘اندراج النھایہ فی البدایہ’’ کہتے ہیں کہ جذب جو آخر کا کام تھا ابتدا میں مندرج ہو گیا اور چوں کہ عالم امر کے لطائف کی فنا کے بعد ریاضت کا حکم دیا گیا اور لطائف عالم امر کی وجہ سے نفس کی صولت و شدت کم ہو گئی، ریاضت اس پر آسان ہو گئی اور عبادت کا ثواب فناے لطائف کے بعد زیادہ ہو گیا۔ انھی وجوہ سے یہ سیر آسان تر اور سریع تر ہو گئی، مرید اگر اس سیر میں کمال سے پہلے مر جاتا ہے توبھی محروم مطلق نہیں رہتا ہے اس لیے کہ ذکر قلب اول صحبت میں ہاتھ آگیا۔ اس تعلق سے مزید معلومات کے لیے دیکھیں ‘‘ارشاد الطالبین’’ یا فقیر کی کتاب ‘‘نبوت و ولایت’’۔