باب ۵ از ۵۴صفحات ۷۸–۹۱
صلاحیتوں کی بیداری: (دسواں فائدہ)
معلوم رہے کہ تصوف کا کام صرف اتنا نہیں کہ اس سے اخلاق نبوت یا کیفیات مذکورہ کی حفاظت ہوئی اور علم باطن کی بقا و تحفظ وغیرہ کا ذریعہ بنا، بلکہ انسان جن مختلف صلاحیتوں اور قوتوں سے نواز کر اس کے پروردگار جل و علا نے خلافت کے لائق بنایا تھا اس کا صحیح پتا لگایااور ان کا صحیح استعمال کرکے انسانی مزاج کا پتا بتا دیا اور خدا وند قدوس کی عظمتوں اور قدرتوں کا سچا اساس عطا کر دیا۔ ہم قدرے تفصیل سے اس موضوع پر کلام کرتے ہیں تاکہ آپ صحیح انسان سمجھ سکیں اور اس کی صلاحیتوں کا اندازہ لگا سکیں۔ نیز دیکھ کر اگر اس کی فکر درست نہ کی جائے تو وہ کس قدر بارگاہ عظمت جل و علا سے دور ہو کر ملعون و مطرود ہو سکتا ہے اور اس کے بگڑنے کے امکانات کس قدر وافر طور پر موجود ہیں۔
تعریفات تصوف
تصوف کی بہت سی تعریفات صوفیہ کرام رحمہم اللہ سے منقول ہیں۔ آپ پڑھیں اور دیکھیں کہ صوفیہ کرام دراصل کن فضیلتوں اور آداب سے متصف تھے اور تصوف کے ذریعہ انھوں نے انھیں کیفیتوں اور اوصاف کو برقرار رکھا جو قرآن و حدیث طلب کرتے ہیں۔ نیز یہ بھی دیکھیں کہ صوفیہ نے جس بالغ نظری سےان کو محفوظ رکھا ہےوہ انھی کا حصہ ہے، بلکہ اللہ تعالیٰ نے انھیں الہام فرمایا ورنہ آج آپ دیکھیں اہل علم ایک سے ایک قابل، باصلاحیت اور فکر و فن کے
مالک ہیں، مگر مذکورہ اوصاف اور خصلتوں کو آپ ان میں گہرائی سے دیکھیں تو آپ یقین کر لیں گے کہ محض تعلیم و تعلم سے وہ خوبیاں پیدا نہیں ہو سکتی ہیں۔
۱۔ آقاﷺ کا ارشاد ہے: ہر شے کی ایک کنجی ہے اور جنت کی کنجی سالکین اور صبر کرنے والوں سے محبت کرنا ہےکہ یہ لوگ قیامت کےدن اللہ تعالیٰ کے ہم نشین ہیں۔’’
یہی فقر تصوف کی اساس اور بنیاد ہے۔
۲۔ حضرت رویم فرماتے ہیں کہ تصوف تین خصلتوں پر مبنی ہے: اول فقر و محتاجگی کو مضبوط تھامنا۔ دوم بذل و ایثار ہونا۔ سوم تعرض و اختیار کو ترک کرنا یعنی مشغولیت کو چھوڑ دینا۔
۳۔ حضرت جنید قدس سرہ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کے ساتھ بغیر علاقہ کے رہنے کا نام تصوف ہے۔
۴۔ حضرت معروف کرخی قدس سرہ نے فرمایا کہ تصوف نام حقائق کے حصول اور خلائق کے مال و متاع سے ناامیدی کا اور جو شخص صاحبِ فقر نہیں صاحبِ تصوف نہیں۔
۵۔ حضرت شبلی قدس سرہ سے پوچھا گیا کہ فقیر کون ہے؟ فرمایا: جو اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کی پرواہ نہ کرے۔
۶۔ حضرت ابو الحسن نوری قدس سرہ فرماتے ہیں: فقیر کی صفت یہ ہے کہ جب اس کے پاس کچھ نہ ہو تو پرسکون ہو، مضطرب نہ ہو اور جب کچھ موجود ہو تو بذل و ایثار سے کام لے۔
یہ اور اس طرح کی اور تعریفات ہیں جو ہر ایک نے اپنے ذوق کے مطابق سوال کرنے پر جواب دیے۔ حضرت سہروردی فرماتے ہیں:
ان میں کوئی تعریف جامع و مانع نہیں، بلکہ ہر بزرگ نے اپنے مذاق کی بنیاد پر
تصوف کے مقامات میں سے کسی خاص مقام کی تعریف بیان کی ہے اور بعض حضرات نے زہد، فقر، تصوف تینوں کو خلط ملط کر دیا ہے، حالاں کہ یہ تینوں تین مختلف چیزیں ہیں۔ تصوف در حقیقت زہد، فقر اور بعض اور اوصاف کے مجموعہ کا نام ہے۔
حضرت امام غزالی قدس سرہ کے قول کا خلاصہ یہ ہے کہ تصوف شریعت کی طرح دو چیزوں سے مرکب ہے: علم اور عمل، لیکن یہ فرق ہے کہ شریعت میں علم کے بعد عمل پیدا ہوتا ہے ۔ اس کے برخلاف تصوف میں عمل کے بعد علم پیدا ہوتا ہے۔
اس اجمال کی تفصیل یہ ہے کہ انسان کو ایثار کا جو ادراک ہوتا ہے اس کا عام طریقہ یہ ہے کہ استنباط، استدلال، تعلیم و تعلم سے حاصل ہوتا ہے، لیکن کبھی ایسا ہوتا ہے کہ غور و فکر کے بغیر دفعتاً اس شے کا ادراک ہو جاتا ہے اور کچھ معلوم نہیں ہوتا کہ کہاں سے ہوا اور کیوں کر ہوا اصطلاح تصوف میں اس کا نام ادراک ہے۔
اس قسم کا ادراک صرف ریاضت و مجاہدہ اور تزکیۂ نفس سے ہوتا ہے (پھر طریقۂ مجاہدہ لکھنے کے بعد الغزالی میں ہے) مکاشفہ سے ان تمام اشیا کی حقیقت کھل جاتی ہے جن کا تصور محض تقلیدی اور اجمالی طور پر تھا۔ مثلاً نبوت، وحی، ملائکہ، شیطان، جنت، دوزخ، قبر کا عذاب و ثواب، پل صراط، میزان، حساب۔ ان اشیا کے متعلق مختلف آرا ہیں۔
بعض ان چیزوں کو تمثلات خیالی قرار دیتے ہیں، بعض ا ن کو بالکل ظاہری معنوں پر محمول کرتے ہیں، لیکن جب مکاشفہ حاصل ہوتا ہے تو ان اشیا کی جو کچھ حقیقت ہے وہ گویا آنکھوں کے سامنے آجاتی ہے۔
ظاہر بینوں کو یہاں شبہہ پیدا ہوگا کہ انسان کو جو ادراک ہوتا ہے وہ صرف حواس کے ذریعہ ہوتا ہے۔ یہ ناممکن محض ہےکہ حواس معطل ہو جائیں اور دل
کے ذریعہ ادراک ہو ۔ دل اول تو محلِ ادراک نہیں اور اگر ہو بھی تو اس کا ادراک انھی چیزوں پر متفرع ہوگا جو حواس خمسہ نے ان کے سامنے پیش کیں۔
امام صاحب اس شبہہ سے بے خبر نہ تھے ، انھوں نے احیاء العلوم، جلد دوم، دیباچہ، بیان الفرق بین المقامین میں خود اس شبہہ کو ذکر کیا، لیکن اس شبہہ کا جواب قال نہیں، بلکہ حال ہے۔
اسرار القلب لا یسمح بل کرہ فی علم المعاملۃ
امام صاحب نے اس کو مثال سے یوں سمجھایا ہے کہ ایک دفعہ روم اور چین کے نقاشوں میں مقابلہ ہوا، دونوں اپنی اپنی فضیلت کے مدعی تھے، بادشاہ وقت نے آمنے سامنے کی دو دیواریں دونوں گروہ کے لیے مقرر کر دیں کہ ہرایک اپنے حصے کی دیوار پر اپنی صفت کا نمونہ دکھائے۔ بیچ میں پردہ ڈال دیا گیا تاکہ ایک دوسرے کی نقل نہ اتار پائیں۔ چند دنوں بعد رومی مصوروں نے بادشاہ سے عرض کی کہ ہم اپنے کام سے فارغ ہو چکے۔ چینیوں نے کہا کہ ہم بھی فارغ ہو چکے۔ پردہ اٹھایا گیا تو دونوں میں سر مو فرق نہ تھا۔ معلوم ہوا کہ رومیوں نے بجاے نقاشی کے صرف یہ کیا تھا کہ دیوار کو صیقل (مانجھ) کر آئینہ بنا دیا تھا، پردہ اٹھا تو سامنے کی دیوار کے تمام نقوش اس میں اتر آئے۔ صوفیہ کے علوم کی یہی مثال ہے، وہ قلب کو اس قدر صاف اور مجلیّٰ کر دیتے ہیں کہ تمام معلومات خود اس میں منقش ہو جاتے ہیں۔
۷۔ التصوف ھو علم تعرف أحوال تزکیۃ النفوس و تصفیۃ الاخلاق و تعمیر الظاھر بالباطن
یعنی تصوف وہ علم ہے جس کے ذریعہ تزکیۂ نفوس اور تصفیۂ اخلاق اور ظاہر و باطن کی تعمیر کے احوال پہچانے جائیں۔ اس کا موضوع تزکیہ و تصفیہ اور تعمیر مذکور ہے اور اس کی غایت ابدی سعادت پانا اور اس کے مسائل وہ مقاصد ہیں جو
کتب تصوف میں مذکور ہیں۔ (رسالہ قشیریہ)
سیر وسلوک اور تصوف میں فرق
علامہ محمد زاہد حنفیرحمۃ اللہ علیہ ادغام المرید میں فرماتے ہیں: اول یہ جان لو کہ جو اپنی ذات اور احوال نفس پر گہری نظر اور تامل کرتاہے وہ اپنے نفس کو ذات نفس کے اعتبار سےناقص تحصیل کمال میں (خود کو) غیر کا محتاج پاتا ہے۔ جب مرد اس پر واقف ہوتا ہے تو لامحالہ اس کے باطن سے کمال کا شوق ابھرتا ہے۔ اب وہ اس کے ذرائع و اسباب کو تلاش کرتا ہے۔ اس وقت وہ مرد طلب کمال میں ایک حرکت کا محتاج ہوتا ہے۔ اہل طریقت اسی حرکت کو سیر و سلوک کہتے ہیں۔
اقسام کمالات
کمالات یا تو علمی ہوں گے یا عملی اور سلوک دونوں کا متکفل ہے؛ اس لیے کہ قدر و منزلت کے لحاظ سے علوم میں اشرف اورمنفعت کے اعتبار سےعظیم تر وہ معارف ربّانی ہیں جن کی تعبیر علم ولایت سے کی جاتی ہے جو تقویٰ کا نتیجہ ہوتے ہیں اور جن کے اظہار و عدم اظہار میں نبیﷺ کو شب معراج اختیار دیا گیا تھا جیسا کہ حدیث میں وارد ہوا ہے۔
علوم انبیاے کرامعلیہم السلام کے علاوہ علوم کا منتہیٰ یہی علم ولایت ہے، اس کا حصول صحیح سلوک اور صحیح مجاہدہ سے ہوتا ہے، نہ کہ محض اعمال فکریہ اور طبیعت سے اور وہ کمالات عملیہ جن سے نفوس تزکیہ سے آراستہ ہوتے ہیں ان کی غایت اخلاق کی ایسی تہذیب ہے جو اس بارگاہ قدس کے لائق ہو اور یہی وہ فائدہ ہے جو سیر و سلوک پر مرتب ہوتا ہے۔
غایت: سلوک کی غایت یہ ہے کہ نفس انسانی کو ایسا ملکہ حاصل ہو جائے جس کی وجہ سے افعال ارادیہ تمام کے تمام عمدہ صادر ہوں ۔ اب جو علم احوال سلوک سے بحث کرتا ہے اس کا نام علم تصوف ہے۔ تصوف پر مرتب ہونے والا فائدہ وہی ہےجو سلوک پر مرتب ہوتا ہے۔ پھر ماہیت تصوف ان الفاظ میں بیان
فھی العلم بأحوال النفس الإنسانیۃمن جھۃ صدور الافعال الإرادیۃ عنھا جمیلۃأو غیر جمیلۃ
یعنی نفس انسانی کے احوال کا علم افعال ارادیہ کے صدور کی جہت سے کہ وہ عمدہ ہیں یا غیر عمدہ۔ اس علم کا موضوع یہی نفس انسانی ہے۔ اسی مذکورہ حقیقت کے اعتبار سے۔
اس سب سے معلوم ہوا کہ تزکیۂ نفس و تصفیۂ اخلاق کے احوال جس سے جانے جائیں وہ تصوف ہے۔ یہ کمالات علمیہ و عملیہ دونوں کے حصول کا ذریعہ ہے اور شریعت میں سب کا حکم ہے۔ پس تصوف و سلوک ان کے حصول کا ذریعہ ہیں۔ نیز معلوم ہوا کہ عملی کمالات جو اعلیٰ لوگوں کو حاصل ہوتے ہیں ان کا مقصد یہ ہے کہ ایسے عمدہ اخلاق حاصل ہو جائیں جو اس بارگاہ قدس کے لائق ہوں ۔ اس تعریف کے تناظر میں احوالِ صوفیہ دیکھیں اور ان کے بلند و بالا اخلاق و اعمال ملاحظہ کریں تو تصوف سمجھ میں آجائےگا۔
ہماری اس تقریر سے تصوف اور سیر و سلوک کا فرق و تعلق بھی آپ سمجھ گئے ہوں گے۔ نفس کا تزکیہ اور قلب کا تصفیہ ہم آگے چل کر بیان کریں گے۔ سردست سیر و سلوک کے اقسام اور اس سے متعلق چند امورملاحظہ فرمائیں:
سیر و سلوک کی قسمیں
سیر و سلوک کی متعدد اقسام ہیں، حضرت امام ربّانی مجددو منور الف ثانی قدس سرہ مکتوب: ۱۴۴، جلد اول میں فرماتے ہیں:
سیر الی اللہ
علم میں حرکت (انتقال علمی) کا نام سیر و سلوک ہے جو کہ مقولہ کیف سے ہے۔ حرکت اپنی (انتقال مکانی) اس جگہ گنجائش نہیں رکھتا ہے۔ پس سیر إلی اللہ اس علمی حرکت کا نام ہےجو علم اسفل سے علم اعلیٰ تک جاتی ہے اور اس اعلیٰ سے دوسرے اعلیٰ تک یہاں تک کہ تمام ممکنات کے علوم طے کرنے اور ان
سب کے زوال کے بعد علم واجب تک منتہی ہوتی ہے اور یہی وہ حالت ہے جس کی تعبیر فنا سے کی جاتی ہے۔
سیر فی اللہ
اسما و صفات، شیون و اعتبارات اور تقدیسات و تنزیہات کے مراتب وجود میں علمی حرکت کا نام ہے یہاں تک کہ یہ اس مرتبہ تک منتہی ہوتی ہے جس کی تعبیر نہ کسی عبارت سے کی جا سکتی ہے اور نہ اس کی جانب کوئی اشارہ کیا جا سکتا ہے، نہ اس کا کوئی نام رکھا جا سکتا ہے اور نہ ہو سکتا ہے، نہ اسے کوئی عالم جان سکتا ہے اور نہ ادراک کرنے والا ادراک کر سکتا ہے۔ اس سیر کا نام بقا ہے۔
سیر عن اللہ باللہ
یہ تیسری سیر ہے۔ نیز علمی حرکت کا نام ہے جو کہ علم اعلیٰ سے علم اسفل کی طرف آتی ہے اور اس اسفل سے دوسرے اسفل تک یہاں تک کہ الٹے پیر لوٹ آتی ہےاور تمام مراتب وجوب کے علوم سے اتر آتی ہے۔ یہ وہی عارف ہے جس پر اللہ تعالیٰ کا فیضان ہوا۔ اللہ تعالیٰ کی وجہ سے اور اللہ تعالیٰ سےلوٹا اللہ تعالیٰ کے ساتھ اور وہ عارف و واجد (پانے والا) فاقد (گم کرنے والا) اور ایسا حاصل ہے جو ہجر و فراق کا شکار اور وہ قریب و بعید ہے۔
سیر در اشیا
اور چوتھی سیر کہ اشیا میں سیر ہےبتدریج علوم اشیا کے حصول کا نام ہے سیر اول میں تمام اشیا کے علوم کے زوال کے بعد۔ پس چوتھی سیر، سیر اول کے مقابل ہے اور تیسری سیر، سیر دوم کے مقابل جیسا کہ تم دیکھ رہے ہو۔ سیر إلی اللہ اور سیر فی اللہ نفس ولایت کی تحصیل کی خاطر ہیں جو کہ فنا و بقا کا نام ہے۔ تیسری اور چوتھی سیر مقام دعوت کے حصول کے واسطے جو کہ انبیا و مرسلین کے ساتھ خاص ہے صلوات اللہ تعالیٰ و تسلیماتہ علیٰ جمیعھم و علیٰ أفضلھم خصوصاً اور کامل تابعین کو بھی ان بزرگوں کے مقام سے حصہ ہے علیھم الصلوات و التسلیمات جیسا کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا:
قُلْ ہٰذِہٖ سَبِیۡلِیۡۤ اَدْعُوۡۤ اِلَی اللہِ عَلٰی بَصِیۡرَۃٍ اَنَا وَمَنِ اتَّبَعَنِیۡ
ترجمہ: تم فرماؤ یہ میری راہ ہے میں اللہ کی طرف بلاتا ہوں میں اور جو میرے قدموں پرچلیں دل کی آنکھیں رکھتے ہیں۔’’
یہ آغاز و انجام کی بات ہے کہ جس سے مقصد طالبان خدا کو بلانا اور شوق دلانا ہے۔
چند فوائد:
۱۔ معلوم رہے کہ سیر اول جسے سیر إلی اللہ کہتے ہیں اس سیر کی انتہا اس اسم تک وصول سے ہے کہ سالک جس کا مظہر ہے منتہاے سیر، اس کو کسی اعتبار سے کہا گیا ہے ورنہ اس سیر کے بعد جب ا س اسم سے گذر کر اس کے مسمّی حقیقی تک پہنچ جاتا ہے اور اس میں فنا و بقا پیدا کر لیتا ہے تو اس وقت وہ منتہاے حقیقی ہے اور در حقیقت سیر إلی اللہ کی انتہا اسی صورت میں ہےاور پہلی انتہا کہ اس اسم تک انتہا ہے اس کو بھی صوفیہ نے سیر إلی اللہ اعتبار کیا ہے اور مرتبہ میں جو فنا و بقاحاصل ہو تی ہے اس کے اعتبار سے ولایت کا نام دیا ہے۔
۲۔ کہا جاتا ہے کہ سیر فی اللہ کی انتہا نہیں ہے، یہ غیر متناہی سیر وقت بقا میں اور منازل عروج طے کرنے کے بعد ہے۔ اس سیر کے بے انتہا ہونے کے یہ معنیٰ ہیں کہ سیر اس اسم میں واقع ہو اور اس تفصیل سے متصف ہوجو کہ ان شیونات سے متعلق ہے جو اس اسم میں مندرج ہیں۔ ایسی صورت میں کبھی بھی اس کی انتہا تک نہیں پہنچ سکتا ہے؛ کیوں کہ ہر اسم بے انتہا شیونات مندرجہ پر مشتمل ہے، لیکن وقت عروج میں اگر چاہیں کہ اس سالک کو اس اسم سے گذار دیں تو ہو سکتا ہےکہ ایک قدم اس اسم کو طے کر کے نہایۃ النہایۃ تک پہنچ جائیں۔ اگر اس جگہ مستہلک ہو جائے تو کیا ہی اچھی شرافت ہے اور اگر خلق کی تربیت کے واسطے واپس کریں تو
>>>>>>>>>>>>>>>>>>>
۔ سورۃ یوسف: ۱۲؍۱۰۸
کیا ہی فضیلت ہے۔ یہ نہ سمجھنا کہ اس اسم تک پہنچنا آسان کام ہے، جان کھپانا پڑتی ہےتب اس دولت سے مشرف کرتے ہیں اور دیکھو لوگوں میں کس کو اس نعمت سے سرفراز کرتے ہیں۔ انسان کو پہلے آسمانوں کے تمام کے طبقات حتّی کہ عرش اعظم سے گذرنا چاہیے اور پورے طور سے لوازم امکان سے باہر آنا چاہیے۔ اس کے بعد عالم ارواح کی لامکانیت کے مراتب بھی طے کرنا چاہیے تب اسم تک رسائی ہوتی ہے۔ اس عالم خلق کے ماورا عالم امر اور اس کے ماورا اسما و شیونات کے مراتب ہیں۔ بطور ظلیت و اصالت اور اجمال و تفصیل کی حیثیت سے اور ان مراتب ظلی و اصلی، کونی و الٰہی ، اجمالی و تفصیلی کے ماورا مطلوب حقیقی کو تلاش کرنا چاہیے۔
۳۔ سلوک چند قسم کا ہوتا ہے۔ بعض حضرات کے سلوک پر جذبہ مقدم نہیں ہوتا ہے اور بعض کے سلوک پر جذبہ مقدم ہوتا ہے۔ کسی جماعت کو منازل سلوک طے کرنے کے دوران جذبہ حاصل ہوتا ہے اور کسی جماعت کو منازل سلوک طے کرنا میسر آجاتا ہے، لیکن حد جذبہ تک نہیں پہنچتے ہیں۔ محبوبوں کے سلوک پر جذبہ مقدم ہوتا ہے اور باقی اقسام محبین سے تعلق رکھتی ہیں۔
محبین کا سلوک مقامات عشرہ مشہورہ (توبہ، زہد، توکل، صبر، شکر، فقر،خوف، رجا،حب، رضا) کو ترتیب و تفصیل سے طے کرنے کا نام ہے اور محبوبوں کے سلوک میں مقامات عشرہ کا خلاصہ حاصل ہوجاتا ہے، ترتیب و تفصیل سے کوئی تعلق نہیں ہوتا ہے، وحدت وجود اور اس جیسے دیگر اموراحاطہ و سریان معیت ذاتیہ کا تعلق جذبہ متقدم یا متوسط سے ہے۔ سلوک ناقص اور منتہی حضرات کے جذبہ کو اس قسم کے علوم سے کوئی مناسبت نہیں ہوتی ہے۔ نیز منتہی حضرات کے حق الیقین کو بھی ان علوم سے مناسبت نہیں جو کہ توحید وجود کے مناسب ہیں۔ ارباب توحید کے مناسب مقام میں جہاں حق الیقین بیان کیا ہےوہ حق الیقین مبتدی یا متوسط مجذوبوں کے لیے ہے۔
۴۔ سیر آفاقی و انفسی
صوفیہ کرامرحمہم اللہ کے نزدیک سیر آفاقی و انفسی کیا ہے؟ اس کو حضرت مجدد قدس سرہ نے نہایت تحقیق سے بیان کیا ہے اور اس کو ہر طرح سے منقح فرمایا ہے۔ ہم انھی کی زبانی مکتوب: ۴۲؍ جلد دوم سے نقل کرتے ہیں، فرماتے ہیں:
گوش ہوش سے سنو کہ جب سالک نیت کو صحیح کر لیتا ہے اور آرزو کو خالص کر لیتا ہے، پھر اللہعزوجل کے ذکر میں مشغول ہوتا ہے اور ریاضات شاقہ و مجاہدات شدیدہ اختیار کرتا ہےاور تزکیہ حاصل کرلیتا ہے، اس کے اخلاق رذیلہ اخلاق حسنہ میں تبدیل ہوجاتے ہیں، اس کو تدبر و انابت میسر آجاتی ہے، دنیا کی محبت اس کے دل سے خارج ہو جاتی ہے، صبرو توکل اور رضا حاصل ہو جاتی ہے اور ان حاصل شدہ معانی کو بتدریج و ترتیب عالم مثال میں مشاہدہ کرتا ہے اور خود کو لاوارث بشریت اور اس کی رذیل صفات سے پاک و مصفّیٰ دیکھتا ہے تو سیر آفاقی تمام کر لیتا ہے۔
ایک گروہ نے اس مقام میں احتیاط سے کام لیا اور انسان کے سات لطائف سے ہر لطیفہ کو عالم مثال میں لطائف کے مناسب انوار سے ایک نور کی صورت میں قرار دیا ہےاور ہر لطیفے کی صفائی کی علامت ان انوار مثالی سے کسی نور کے ظہور کو مقرر کیا ہے اور اس سیر کی ابتدا لطیفہ قلب سے کرکے بتدریج و ترتیب لطیفہ اخفیٰ تک کہ لطائف کا منتہیٰ ہے پہنچایا ہے۔ مثال کے طور پر قلب سالک کی صفائی کی یہ علامت قرار دی ہے کہ عالم مثال میں نور سرخ کی صورت میں قلب کا ظہور ہواور صفاے روح کی علامت نور زرد کی صورت میں ظہور قرار دیا ہے۔ اسی طرح باقی کو قیاس کر لو۔
پس سیر آفاقی کا حاصل یہ ہوا کہ سالک اپنے تبدّل اوصاف اور تغیّر اخلاق کو مثال کے آئینے میں مشاہدہ کرے اور اپنی ظلمتوں اور کدورتوں کے زوال کو اس عالم میں محسوس کرے یہاں تک کہ اسے اپنی صفائی کا یقین حاصل ہواور اس کو اپنے
تزکیہ کے ذریعہ ثابت کرے۔ اور چوں کہ اس سیر میں سالک ساعت فساعت اپنے احوال و اطوار کو عالم مثال میں کہ خود آفاق سے ہے، مشاہدہ کرتا ہےاور اپنے منتقل ہونے کو ایک ہیئت سے دوسری ہیئت کی طرف عالم مثال میں دیکھتا ہے گویا آفاق میں سیرکرتا ہے۔
اگرچہ یہ سیر در حقیقت نفس سالک میں ہےاور اپنے اوصاف و اخلاق میں حرکت کیفی ہے یعنی ایک کیفیت سے دوسری کیفیت کی طرف انتقال ہےاپنی (انتقال مکانی) نہیں ہے کہ ایک جگہ سے دوسری جگہ کی جانب انتقال ہو، لیکن چوں کہ دور بینی کی وجہ سے سالک کا مطمح نظر آفاق ہے، انفس نہیں؛ اس لیے سیر بھی آفاق سے منسوب ہوئی جو سیر کہ آفاق سے منسوب ہے اس کی تمامیت سیر إلی اللہ کا تمام ہونا قرار دیا ہے اور فنا کو اسی سیر سے وابستہ رکھا ہے اور سلوک کی تعبیر اسی سیر سے کی ہے۔
اس سیر کے بعد جو سیر واقع ہوتی ہے اس کو سیر انفسی کہتے ہیں اور اس کو سیر فی اللہ بھی کہتے ہیں اور بقا باللہ کو اسی مقام میں ثابت کرتے ہیں اور اسی مقام میں سلوک کے بعد جذبہ کا حصول جانتے ہیں۔ چوں کہ سالک کے لطائف پہلی سیر میں تزکیہ پا چکے اور بشری کدورتوں سے چھٹکارا حاصل کر چکے اور اس امر کی صلاحیت و قابلیت پیدا کر چکے کہ اسم جامع جو کہ سالک کا رب (پرورش کنندہ) ہے کے ظلال و عکوس ان لطائف کے آئینوں میں ظاہر ہوں اور یہ لطائف اس اسم جامع کے جزئیات کی تجلیات و ظہورات کا محلِ ورود ہوں۔ اس سیر کو سیر انفسی اس لیے کہتے ہیں کہ انفس اسما کے ظلال و عکوس کے آئینے ہو گئے ہیں؛ اس لیے نہیں کہ سالک کی سیر نفس میں ہے جیسا کہ سیر آفاق میں گذرا کہ آئینہ داری کی وجہ سے اس کو سیر آفاقی کہا جاتا ہے، اس لیے نہیں کہ آفاق میں سیر ہے۔ اس سیر میں در حقیقت انفس کے آئینوں میں ظلال اسما کی سیر ہے؛ اسی لیے اس سیر کو ‘‘سیر معشوق در عاشق’’ کہا جاتا
ہے۔ اس سیر کو سیر فی اللہ اس اعتبار سے کہا جا سکتا ہےکہ صوفیہ نے کہا: اس سیر میں سالک اخلاق الٰہی سے آراستہ و متخلّق ہو جاتا ہے اور ایک خُلق سے دوسرے خلق کی طرف منتقل ہوتا ہے؛ کیوں کہ مظہر کو ظاہر کے بعض اوصاف سے نصیب ہے اگرچہ بعض اعتبار سے ہی سہی۔ پس گویا اس تعالیٰ کے اسما میں سیر متحقق ہو گئی ہے (پھر چند سطر بعد فرماتے ہیں:)
سیر آفاقی میں گویا رذائل سے تخلیہ حاصل ہو گیا تھا (یعنی غیر حق سے قطع تعلق ہو گیا) اور سیر انفسی میں اخلاق حمیدہ کے ساتھ تجلیہ ہے۔ حق تعالیٰ کے ساتھ وصل ہونا اور آئینہ سالک میں اسما و صفات کا ظہور ہونا۔
خیال رہے کہ تخلیہ کے لغوی معنیٰ خالی کرنا اور تجلیہ بمعنیٰ روشن کرنا ہے؛ کیوں کہ تخلیہ مقام فنا کے مناسب ہے اور تجلیہ بقا کے مناسب اور اس سیر انفسی کی انتہا نہیں جاتی ہے۔ سالک کو اگرچہ عمر ابدی میسر ہو جائے تب بھی اس سیر کے منقطع نہ ہونے کا حکم لگایا ہے۔ صوفیہ کرام نے کہا ہے کہ محبوب کے شمائل و اوصاف کی انتہا نہیں ہے۔ پس دائمی طور پر اس سالک کے آئینے میں جو اخلاق الٰہی سے آراستہ و متخلق ہےحق تعالیٰ کی صفات سے کسی صفت کی تجلی ہوگی اور اس کے کمالات سے کسی کمال کا ظہور ہوتا رہےگا تو انقطاع کہاں اور انتہا کس طرح میسر آئےگی اور اس فنا و بقا کے توسط سے جو سیر آفاقی و انفسی کے ذریعہ حاصل ہوئی، صوفیہ اسم ولایت کا اطلاق کرتے ہیں اور انتہاے کمال اسی جگہ تک جانتے ہیں، اس کے بعد اگر سیر واقع ہوتی ہے تو وہ ان کے نزدیک سیر رجوعی ہے جس کی تعبیر سیر عن اللہ باللہ سے کی جاتی ہے۔
اس طرح چوتھی سیر کہ جس کو سیر فی الدنیا کہا ہے۔ نیز نزول سے تعلق رکھتی ہے اور ان دونوں سیروں کو تکمیل و ارشاد کے واسطے قرار دیا ہے جیسا کہ پہلی دو سیر نفس ولایت و کمال کے لیے ہیں۔
مشائخ کی ایک جماعت کا کہنا ہے کہ ستر ہزار پردے کہ خبر میں آیا ہے ‘‘کہ بیشک اللہ تعالیٰ کے لیے نور و ظلمت کے ستر ہزار پردے ہیں’’ سیر آفاقی میں اٹھنا چاہیے؛ کیوں کہ سات لطائف (عناصرو نفس اور قلب، روح، سیر، خفی، اخفیٰ) سے ہر لطیفے میں دس دس ہزار پردے اٹھتے ہیں اور جب وہ سیر مکمل ہو جاتی ہےتو تمام پردے اٹھ جاتے ہیں اور سالک سیر فی اللہ سے متحقق ہو جاتا ہے اور مقام اصل تک پہنچ جاتا ہے۔
معلوم رہے کہ صوفیہ کرام نے مذکورہ بالا سیروں میں جو کچھ فرمایا ہے اس کی سب سے زیادہ تحقیق و تنقیح یہ ہے جو آپ نے حضرت مجدد قدس سرہ کے قلم سے سماعت فرمائی۔ پھر آپ قدس سرہ نے اس پر مجددانہ و مجتہدانہ کلام فرمایا ہے جو آپ کے علوّ مرتبت، رسائی اور دقت ادراک وغیرہ کی بین و واضح دلیل ہے۔ تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو مکتوب: ۴۲، جلد دوم ۔ پہلی بحث کے چند اہم یہ ہیں:
۱۔ اللہ تعالیٰ جو کہ بے مثل و بے کیف ہے جیسا کہ آفاق سے ورا ہے ایسے ہی انفس سے بھی ورا ہے۔ لہٰذا سیر آفاقی کو سیر إلی اللہ اور سیر انفسی کو سیر فی اللہ کہنا کوئی معنیٰ نہیں رکھتا ہے، بلکہ دونوں سیر، سیر إلی اللہ میں داخل ہیں اور سیر فی اللہ، سیر آفاقی و انفسی سے کوسوں دور ہے اور وراء الوراء ہے۔
۲۔ یہ جو کہا گیا کہ سیر آفاقی میں تمام ظلمانی و نورانی حجابات اٹھ جاتے ہیں۔ حضرت مجدد الف ثانی قدس سرہ کے مشہود کے خلاف ہے۔ آپ کے نزدیک ظلمانی حجابات کا زوال جمیع مراتب امکان کو طے کرنے سے وابستہ ہے اور جملہ مراتب کا طے ہونا سیر آفاقی و انفسی سے میسر آتا ہے اور نورانی حجابات کا ارتفاع و زوال اسما و صفات واجبی کی سیر سے وابستہ حتّیٰ کہ سالک اس منزل پر پہنچ جاتا ہے کہ اس کی نظر میں نہ اسم ہے ، نہ صفت، نہ شان، نہ اعتبار۔ اس وقت تمام نورانی حجابات مرتفع ہوتے ہیں اور وصل ربّانی سے سالک مشرف ہو جاتا ہے۔
۳۔ سیر و سلوک جذبہ اور تصفیہ سے، مقصود اخلاق ردیہ اور اوصاف رذیلہ سے نفس کی تطہیر ہے کہ ان تمام برے اور مذموم اوصاف کا رئیس و سردار نفس کے ساتھ لگاو اور گرفتاری ہے اور نفس کی خواہشات و مرادات کا حصول ہے۔ پس سیر انفسی ہر حال میں ضروری ہے اور صفات ذمیمہ سے صفات حمیدہ تک جانا لابدّی ہے اور سیر آفاقی مقصود سے خارج ہے اور معتد بہ غرض اس سے متعلق نہیں ہے؛ کیوں کہ آفاق کے ساتھ گرفتاری، گرفتاری انفس کی وجہ سے ہے؛ کیوں کہ انسان جس کسی کو بھی دوست رکھتا ہے خود اپنی وجہ سے رکھتا ہے۔ اہل و عیال، فرزند و مال سب کو اس وجہ سے چاہتا ہے کہ ان سے اسے نفع و فائدہ حاصل ہوتا ہے اورجب سیر انفسی میں حق سبحانہ کے غلبۂ محبت کے سبب اپنی محبت ختم ہو گئی تو ان اشیا کی بھی محبت ختم ہو گئی جن کو اپنی وجہ سے چاہتا ہے۔