مواد پر جائیں

Allama Afaque Ahmad Mujaddidiتصوف اور اس کے فوائدصوفیہ نے پورے دین کی حفاظت کی

باب ۳۲ از ۵۴صفحات ۳۸۱–۳۹۰

صوفیہ نے پورے دین کی حفاظت کی

خیال رہے کہ رب کائنات جل و علا نے چوں کہ دین کی حفاظت کا وعدہ فرمایا، دین اپنی خاصیت کے لحاظ سے مختلف شعبے اور حصے رکھتا تھا؛ اسلام، ایمان اور احسان تو حدیث جبریل میں آقاﷺ سے مروی ہیں قرآن کی حفاظت اس کے الفاظ اور تفسیرات اور اس کے متعلقہ امور کے ساتھ اسی طرح احادیث کی حفاظت قرآن و حدیث میں بیان شدہ عقائد حقہ کی حفاظت اور پھر اعمال صالحہ کی حفاظت اور ہر دور میں اس کی تفصیل و توضیح اور مبطلین کی غلط تاویلات اور ان کی تحریفات کے جوابات اور ان کے ابطال اور ہر دور میں بقا و تحفظ اور دین کی نشر و اشاعت کے اللہ تعالیٰ نے جہاں انتظامات فرمائے ہیں، مختلف جماعتوں اور انسانوں کے دلوں میں چاہت اور توجہ پیدا کر دی اور ہر ایک کے دل میں کسی خاص شعبے سے خاص دلچسپی اور خدمت کا احساس پیدا کر دیا۔

اسی طرح ایک جماعت کو باطن دین کی حفاظت اور اعمال صالحہ میں استقامت، ذکر و فکر وغیرہ کی کثرت، عبادت و ریاضت، عشق و محبت، توکل و قناعت، توبہ و انابت، تصفیہ قلب و تزکیہ نفس وغیرہ کی ضرورت کا احساس پیدا کر

دیا اور اسی طرح ہر جماعت کے سپرد جو کام کیا تھا اسے نہایت انہماک اور تدبر اور جفا کشی و محنت سے کیا۔اسی طرح اس مبارک جماعت نے بھی اس ذمہ داری کو پورے طور پر نبھایا اور جس طرح دیگر حضرات نے اپنی خاص خدمتوں کے لیے راہیں متعین کیں اسی طرح اس جماعت نے بھی کیں اور جماعتیں مختلف ناموں مثلاً فقہا، مفسرین، محدثین اور متکلمین وغیرہ سے پہچانی گئیں۔ اسی طرح یہ جماعت صوفیہ کے نام سے مشہور و معروف ہوئی۔ انھوں نے پوری توجہ دی کہ اعمال صالحہ میں استقامت اور کثرت کیسے پیدا کی جائے، ایمان میں استحکام اور جلا کس طرح ہو اور قلب و قالب سے متعلقہ مامورات شرع پر عمل، منہیات و ممنوعات سے کراہت و نفرت کس طرح پیدا ہو اور وہ خصلتیں کیسے پیدا ہوں جو صاحب خلق عظیمﷺ نے اپنے اصحاب کرام‌رضی اللہ عنہم میں پیدا کیں۔

جس طرح اور جماعتوں نے جب اپنے اپنے شعبوں میں گہرائی، گیرائی، فکر و تدبر اور محنت و جاں فشانی سے کام لیا تو ان پر اس سے متعلق نئے نئے علوم اور حقائق و دقائق وغیرہ ان پر منکشف ہوئے، اسی طرح اس جماعت صوفیہ پر بھی مجاہدات و ریاضات اور کثرت عبادات اور صفاے قلب و نفس وغیرہ نئے نئے ایسے علوم اور معارف و حقائق ذات و صفات وغیرہ منکشف ہوئےجن کو کسی بھی طرح سے نظر و استدلال وغیرہ جانا نہیں جا سکتا ہے۔ ان بزرگوں نے جو ریاضت کی اس پر انھیں کوئی نہ کوئی نئی چیز ہاتھ آئی اور پھر ان کا ایسا نظام بنتا چلا گیا کہ ان کا طریقہ ایک مدون علم بن گیا، ہم اس کو ایک الگ تحریر میں قدرے تفصیل سے بیان کر چکے ہیں۔

اعلیٰ کمالات اور تقرب وغیرہ کے لیے جن اخلاق و اعمال سے آراستہ ہونے کی ضرورت تھی اور جن کو حضورﷺ نے اپنی امت کو دیے تھے ان سے آراستہ کرنا کوئی معمولی توجہ کا طالب نہ تھا، ہم سمجھتے ہیں علم پر عمل کس قدر کٹھن ہے اتنی تحصیل کٹھن نہیں۔ آج مشاہدہ ہے علم والے بہت ہیں، لیکن عمل سے اکثر کورے

ہیں اور جن میں ہے بھی تو ناقص ہے۔ صوفیہ کرام کا کمال رہا کہ انھوں نے اپنی حکمت بالغہ سے عمل کے ایسے پیکر پیدا کر دیے جو پورے دین (ظاہر و باطن کے ساتھ) کی چلتی پھرتی تصویر تھے۔ جو اعلیٰ مقصد ان کے سامنے تھا خاص بنیاد اس بات پر تھی کہ دل سے ہر خواہش، ہر محبت، ہر چاہت کو دور کرکے اللہ جل و علا اور اس کے رسولﷺ کی چاہت و محبت اور ان کی طرف توجہ پیدا کر دی جائے۔ لہٰذا یہی سب کا علاج تھا۔ یہ اتنا بڑا کام تھا کہ اس کی گہرائی پر جن کی نظر ہے وہ اس کی کٹھنائی سے بھی واقف ہیں ۔ یہی ایک راستہ تھا جس سے مکمل دین پر عمل، استقامت اور قرب خداوندی کی نعمت کا حصول ہو سکتا تھا۔ لہٰذا فقر وغیرہ بھی تصوف کا ایک جز بن گیا اور انھوں نے حاجت پر اکتفا کرکے پوری توجہ اپنے رب جل و علا کی طرف کر دی اور اس کے بندوں کی اصلاح و ارشاد اور ان کے رب سے قریب کرنا اپنا شعار بنا لیا۔

ان مجاہدات و ریاضات کی بدولت ان کے خدا نے جو ان پر انوار و تجلیات اور گوناگوں معارف و حقائق اور علوم و احوال عطا کیے تو اس سے ان کی دلچسپی بڑھتی چلی گئی اورفقر وغیرہ کہیں سے کہیں پہنچ گیا۔ صوفیہ کرام کے احوال پڑھیے اور ان کے حالات دیکھیے تو پتا چلتا ہے کہ انھوں نے ان کمالات اور مقامات اور اخلاق حسنہ کی تحصیل کے لیےکس قدر محنتیں کیں اور جو کچھ کیا وہ اپنے مولیٰ جل و علا کی رضا و خوشنودی کے لیے کیا اور دین کامل کی کامل حفاظت اور نشر و اشاعت کے لیے کیا۔ امت کو چاہیے تھا کہ ان کی تحسین کرتی، ان کی مدح کرتی، ان کے کارناموں کی ستائش کرتی، لیکن جو شقاوت ازلی کے شکار تھے وہ کیسے اسے اچھائی کی نظر سے دیکھتے۔

آج صوفیہ کے فقرو زہد پر زبان طعن دراز کرنے والےاپنے گریبان میں منہ ڈال کر دیکھیں کہ وہ کتنے دین پر عامل ہیں اور غنا و مالداری کی تحصیل اور اس کی

دعوت سے وہ خدا سے کتنے قریب ہوئے کہ دور آج کا مشاہدہ ثابت ہے کہ جب تک صوفیہ کرام اور ان کا تصوف غالب رہا یا رائج رہا تب تک دین اپنی اصلی حقیقت و حالت کے ساتھ زندہ رہا اور قائم رہا، اب صرف ڈھانچہ ہی ڈھانچہ ہے وہ بھی ادھورا، وہ بھی بہت کم لوگوں میں باقی، وہ کہاں ہے، روح تو بالکل ختم سی ہو گئی ہے۔

آج کے زمانے میں علاج

ہماری نظر میں دنیا و ما فیھا کی محبت سےآزادی اور اخلاق حسنہ سے آراستگی عبادت و ریاضت اور ذکر و فکر وغیرہ کی کثرت کا صرف ایک ہی راستہ ہے وہ ہےطریق تصوف۔ خیال رہے کہ اس کا صحیح طریقہ یہ ہے کہ علوم شرعیہ اور احکام شرعیہ خواہ عقائد ہوں یا اعمال سب کی باضابطہ تعلیم ہو اور بقدر ضررورت ہر مکلف علم ظاہری حاصل کرے اور ایسے افراد جو انوار و تجلیات اور قرب و عرفان کے حامل ہوں پیدا ہوں جو علم تصوف سے کما حقہ واقف اور طرق تربیت سے آگاہ اور اپنی توجہات سے قلوب کا تصفیہ اور نفوس کا تزکیہ کر سکتے ہوں وہ ایک طرف تصوف بحیثیت علم بھی سکھائیں اور دوسری طرف عملی تصوف سے توجہات کے ذریعہ آراستہ کریں ۔ اگر ایسا ہو جائے تو نہ غنا اور مالداری نقصان دےگی اور نہ فقر کی وجہ سے جو برائیاں پیدا ہوتی ہیں وہ مضر ہوں گی، مگر یہ عظیم کام کرنے کے لیے عظیم کثیر افراد کی ضرورت ہے جو اس زمانے میں بہت نادر ہیں، لہٰذا بہت مشکل ہے۔

دنیا وما فیھا کی حرص و ہوس اور محبت نے آج لوگوں کو جس دلدل میں ڈھکیل دیا ہے اس سے نکالنا ہر کس و ناکس کا کام نہیں۔ تصفیہ قلب و تزکیہ نفس کے بغیر یہ کام ناممکن ہے۔ وہ حب دنیا اور حرص و ہوس کی وجہ سے جس قدر دین سے دور اور اخلاق رذیلہ کے گھناونے افعال و کردار کا شکار ہو گئے ہیں اس کا علاج صرف وہی ہے جو ہمارے آقا و مولیٰﷺ نے جسے صلاح قلب سے اور قرآن نے جسے تزکیہ نفس سے تعبیر کیا ہے۔

اس حرص و ہوس اور حب دنیا و ما فیھا وغیرہ سے آزاد اور پاک کرنے کا دوسرا ناقص ایک راستہ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ انھیں وہ آیات و احادیث سنائی جائیں جس کا تعلق عبادت و طاعت اور ذکر و فکر کی کثرت اور اخلاق حسنہ کی ترغیب اور اخلاق رذیلہ سے نجات وغیرہ سے ہے۔ آخرت کی اہمیت و افادیت اور اس کی ابدیت اور دنیا کی مذمت و فنائیت اور اس کے نقصانات وغیرہ کا باضابطہ درس و تعلیم ہو، اخلاق رذیلہ اور امراض قلبیہ کا علاج، نفس کی شرارتیں اور ان سے اجتناب کے طریقے بتائے جائیں نیز زور دیا جائے کہ دنیا کی حاجت کی وجہ سے وہ شرعی طریقے پر حاصل کریں، قلب کو اس کی محبت سے آزاد کریں، اس کے مقابل اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولﷺ کی محبت اور اس کی تحصیل کی راہوں کی نشان دہی کی جائے نیز مال وغیرہ کے خرچ کے صحیح اور جائز طریقے بتائے جائیں اور ہر خرچ میں اعتدال، اسراف سے دوری بتائی جائے اور اسراف و محرمات سے بچایا جائے۔اگر یہی ہو جائے تو تھوڑا مال بھی کافی کفایت کر سکتا ہے۔

شادی بیاہ کی رسومات اور پھر جہیز کی کثرت نیز عقیقوں ختنوں وغیرہ میں مال کے بےجا خرچ اور پھر مکانات وغیرہ کی تزئین و توسیع وغیرہ میں جو اسراف ہوتا ہے، اگر قوم اس سے بچ جائے تو غریبوں کی بہت کچھ مدد بھی ہو سکتی ہے اور وہ خود بھی بہت سی چیزوں کی حرص اور بےجا فکر سے بچ سکتے ہیں ۔ اسی طرح وہ قوم و ملت کی امداد و اعانت بھی کر سکتے ہیں اور آخرت سنوار سکتے ہیں ۔ یہ سب کچھ جس کی طرف اشارے کیے ہیں انھیں کرنے کے لیے بہت سے افراد انھی اوصاف کے حامل اہل علم و عمل تیار کرنا ہوں گے جن کا شعار ہی دعوت حق اور اصلاح و ارشاد ہو۔

اگر مشائخ اور پیران طریقت اپنے اسلاف اور بزرگوں کے اصولوں اور طریقوں پر قائم ہو جائیں اور مشیخت کی ذمہ داری سنبھال لیں اور شریعت و طریقت کی باضابطہ تعلیم اور اس پر عمل اور اشغال و اذکار سکھائیں اور عامل بنائیں ، اسی طرح علماے

کرام علم و عمل کو اچھا بنائیں ، اس معاملے میں مدارس عربیہ کے ذمہ داران حضرات توجہ دیں اور مدارس کی چہار دیواری میں طلبہ کی تعلیم و تربیت بہترین ہو اور انھیں صوفیہ کرام کے اخلاق و اوصاف کا حامل بنائیں اور دعوت و تبلیغ اور اصلاح و ارشاد کا جذبہ ان میں کوٹ کوٹ کر بھر دیں اور انھیں اہم موضوعات پر تقریری مشق کرائیں، عقائد حقہ اہل سنت کی اہمیت اور حب دنیا و حب جاہ و منصب وغیرہ کے نقصانات اور ان کا ازالہ اور دنیا اور مالداری و غنا کا صحیح استعمال بتائیں اور ان کی وہ تبلیغ کریں نیز جن مشائخ سے جو علما وابستہ ہیں مشائخ ان کی مذکورہ خطوط پر تربیت کریں تو بھی کام کی امیدیں ہیں۔

اسی طرح ایسی ہی کتابیں بھی پڑھے لکھے لوگوں تک پہنچائی جائیں جو خاص کر بزرگوں کے طریقہ، ان کا تقویٰ و پرہیزگاری، عشق و محبت، خوف و خشیت، امداد و اعانت، تبلیغ و دعوت، طاعت و عبادت، مجاہدہ و ریاضت، دنیا و ما فیھا سے اعراض و نفرت اور ان کی اصلاح تربیت دین کی حفاظت وغیرہ پر مشتمل ہوں۔ یہ سب کام ظاہر ہے مشکل بھی ہیں اور اگر لوگ تیار ہو جائیں تو آسان بھی۔ یہ تو طے ہے کہ آج کے اس طوفان اور سیلاب کا نہ مقابلہ آسان ہے اور نہ سب کو بچایا جا سکتا ہے، مگر پھر بھی کافی حد تک غربا اور اوسط درجے کے لوگوں کو کافی دیندار بنایا جا سکتا ہے اور مالداروں کو بھی بہت کچھ متاثر کیا جا سکتا ہے۔

آج مالداروں نے جو مکانات وغیرہ کی تزئین و توسیع اور رسومات میں اسراف اور دنیاداری اپنا لی ہے، پھر شادی بیاہ کی خاص رسموں میں جو کچھ وہ کر رہے ہیں۔ جہیز سے لے کر ولیموں اور دعوتوں اور اس سے متعلقہ دیگر رسموں میں اس کی وجہ سے غریبوں خاص کر متوسط درجے کے لوگوں کے لیے بڑے مسئلے کھڑے ہو گئے ہیں ۔ مال کو جائز و ناجائز طریقوں سے حاصل کرنا عام لوگوں کی ایک ضرورت بن گیا ہے۔ حد تو یہ ہے کہ اس حرص و ہوس سے بچانے اور اس بلا سے نجات

دلانے کا کام جو طبقہ کر سکتا تھا وہ خود اسی میں مبتلا ہے، اس کے لیے اس کے پاس سو حیلے ہیں ۔ دنیا کی محبت و حرص وغیرہ اب ایسی چیزیں ہو گئی ہیں کہ ان کی برائی تو کجا وہی بھلائی تصور کی جا رہی ہے۔ اب کھلے عام اسی کی تلقین کی جا رہی ہے، اس کو حاصل کرنے کی راہیں بتائی جا رہی ہیں ، اس کی محبت کا درس دیا جا رہا ہے اور اسے مختلف بہانوں سے مانگا جا رہا ہے۔ حضرت حجۃ الاسلام قدس سرہ کے بیان کردہ کچھ آداب وغیرہ ہم آخر میں بیان کرتے ہیں جنھیں اپنا لیا جائے تو بھی آج کے اہل فقر کا کافی حال سدھر سکتا ہے۔

آقاﷺ کی سیرت و فضیلت فقر:

۱۔ دنیا وما فیھا کے سلسلے میں قرآن کے ارشادات اور آقاﷺ کے ارشادات آپ کی سیرت طیبہ اور فقر کے فضائل اور اس کے فائدے کثرت سے بیان کیے جائیں اور مطلق فقر اور خاص فقرا ؛ راضی، قانع اور صادق کی فضیلت جدا جدا بتائی جائے۔

۲۔ غنا پر فقر کی برتری اور فوقیت کی روش اور اس سلسلے میں ان کے مجاہدات و ریاضات اور انھوں نے دنیا کے جونقصانات بیان کیے ہیں بتائے جائیں اور یہ کہ انھوں نے ترک دنیا کرکے کیا کیا مراتب حاصل کیے سیرت طیبہ اور فضائل فقر قرآن و حدیث سے بآسانی جمع کیے جا سکتے ہیں۔ نیز حیات دنیا کی ناپائداری اور اس سے محبت کے نقصانات، قرآنی آیات کی فہرست نیز مشکات شریف کی کتاب الرقاق اور فضل فقرا وغیرہ اسی طرح احیاء العلوم شریف جلد سوم کا چھٹا اور ساتواں باب جو کہ دنیا کی صفت اور اس کی مذمت اور اس کی حقیقت، بخل اور اس کا علاج اور مال کی مذمت، مال کی آفات، حرص و طمع کی مذمت اور ان کا علاج، قناعت کی تعریف اور اس کے حصول کی دوا اور سخاوت وغیرہ کی فضیلت پر مشتمل ہیں سناے جائیں اور ان کے مطابق ترتیب دی جائے۔

۳۔ حضرت امام حجۃ الاسلام قدس سرہ نے احیاء العلوم جلد چہارم میں فضیلت فقر اور اس کے آداب وغیرہ تفصیل سے بیان فرمائے۔ تعلیم یافتہ لوگوں کی انھی آداب پر ترتیب کی جائے۔ چند آداب یہ ہیں: آپ قدس سرہ فرماتے ہیں: فقیر کے لیے ظاہری اور باطنی کچھ آداب ہیں وہ لوگوں سے اختلاط اور میل جول کے اعتبار سے بھی اور اعمال کے اعتبار سے بھی ، باطنی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جس فقر میں مبتلا کیا ہےاسے ناپسند نہ کرے یعنی اس اعتبار سے کہ وہ اللہ تعالیٰ کا فضل ہےناپسند نہ کرے اگرچہ فقر اسے پسند نہ ہو اور اس سے بلند ادب یہ ہے کہ فقر کو ناپسند نہ کرے،بلکہ اس پر راضی ہو۔ اس سے بھی بلند مرتبہ یہ ہے کہ فقر کا طالب ہو اور اس پر خوش ہو۔ جب غنا کی خرابیوں سے واقف ہوگا اور باطنی طور پر اللہ تعالیٰ پر توکل اور بھروسا ہوگا تو اسے فقر پر خوشی ہوگی۔ وہ اس بات پر پختہ یقین رکھے کہ جو کچھ اس کے مقدر میں ہے اس تک ضرور پہنچےگا اور ضرورت سے زائد کو ناپسند کرے۔

حضرت علی کرّم اللہ وجھہ فرماتے ہیں کہ فقر پر اللہ تعالیٰ کی کچھ سزائیں ہیں اور کچھ انعامات بھی۔ ثواب اور انعامات کی علامت یہ ہے کہ فقر پر آدمی کی عادت کو اچھا کر دے، رب کی اطاعت کرے اور شکر بھی۔ اور سزا کی علامت یہ ہے کہ آدمی بداخلاق ہو جائے، عبادت کو ترک کر دے، نافرمانی پر اتر آئے اور شکوہ و شکایت کرے اور اس کے فیصلے پر ناراض ہو۔

حضرت امام قدس سرہ فرماتے ہیں کہ یہ قول اس بات کی دلیل ہے کہ ہر فقر قابل تعریف نہیں ہوتا، بلکہ قابل تعریف فقر وہ ہے جس پر فقیر ناراض نہ ہو، بلکہ راضی اور فقر پر خوش ہو۔ فقیر کو چاہیے کہ فوائد فقر سے واقف ہو۔ کہا گیا کہ بندے کو جب دنیا دی جاتی ہے تو اس سے کہا جاتا ہے اسے تین حصوں پر لو کیوں کہ یہ تین باتیں پیش آئیں گی؛ مشغولیت، فکر اور طویل حساب۔’’

فقر کے ظاہری آداب یہ ہیں کہ دوسروں کے سامنے دست سوال دراز نہ کرے

اور اچھی حالت ظاہر کرے، شکوہ اور فقر کا اظہار نہ کرے، بلکہ فقر کو چھپائے اور یہ بھی ظاہر نہ ہونے دے کہ وہ فقر کو چھپا رہا ہے۔

اعمال میں فقر کا ادب یہ ہے کہ کسی مالدار کے سامنے اس کی مالداری کی وجہ سے تواضع نہ کرے، بلکہ خود کو بڑا سمجھے۔ اس سلسلے میں کم از کم یہ کرے کہ مالداروں سے میل جول نہ رکھے اور نہ ہی ان کی مجالس میں رغبت رکھے کیوں کہ یہ طمع کی بنیاد ہے۔

حضرت سفیان ثوری‌رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: جب فقیر مالداروں سے میل جول رکھتا ہے تو جان لو کہ یہ ریاکار ہے، جب وہ بادشاہ سے تعلق رکھے تو سمجھ لو کہ یہ چور ہے۔ بعض عارفین نے فرمایا: جب فقیر مالداروں سے ملتا ہے تو اس کا اعتماد ڈھیلا ہو جاتا ہے اور جب ان سے طمع رکھتا ہے تو اس کی عظمت ختم ہو جاتی ہے اور جب ان میں سکونت اختیار کرتا ہےتو گمراہ ہو جاتا ہے۔

فقیر مجددی عرض کرتا ہے کہ آج کا دور بڑا عجیب دور ہے، ہر باطل فرقہ اور جماعت مالداروں کو ہتھیانے اور شکار کرنے میں لگی ہوئی ہے اور یہ کام نہایت گہرائی اور اسکیم کے تحت کر رہے ہیں اور وہ مالداروں کو بہت منظم کرکے، زکات و غیرہ پر ابھار کر اپنے باطل عقائد کی ترویج کا سامان فراہم کر رہے ہیں۔ آج ہر مذہب باطل کی اشاعت کا خاص مدار مال ہی ہے۔ مال کا لالچ دے کر حق سے توڑتے ہیں، ادارے قائم کرتے ہیں، ان میں طلبہ کو وظائف دیتے ہیں ، اجتماعات میں لے جاتے ہیں ، تعلیم، کتابیں اور دیگر اخراجات؛ قیام و طعام اور سفر وغیرہ اسی مال سے پورے ہوتے ہیں۔ عوام کو بھی بہکانے کا ذریعہ زیادہ تر مال ہی بنا ہوا ہے اور اس مال سے کافی کچھ حاصل کر رہے ہیں۔

ہم سمجھتے ہیں کہ اپنے افراد اس قدر پختہ کر دیے جائیں کہ وہ کسی بھی مالدار کی کسی بھی چیز سے متاثر نہ ہوں، بلکہ ان پر اپنا اثر ڈالیں اور انھیں نیک راہ پر لائیں تاکہ

ان کے عقائد بھی محفوظ رہیں اور نیکی بھی ملےاور ان کی ثروت و دولت سے اسلام و سنیت کو فائدہ پہنچے۔ نیز اہل غنا سے روابط و تعلقات اور ان سے ملنا جلنا اس طریقے پر ہوکہ عام آدمیوں کی نظر میں مطعون نہ ہو اور نہ غریبوں کا دل دکھے، بلکہ غریبوں کی مدد ہو۔ غرضیکہ حسن نیت سے اگر مالداروں سے ملے یا ان کو منظم طور پر پکڑا جائے تو بزرگوں نے اس کی اجازت دی ہے۔ اس زمانے میں حالات ایسے ہو گئے ہیں کہ مخالفین کا جواب بغیر مال کے بھی نہیں ہو سکتا ہے۔

حضرت امام قدس سرہ فرماتے ہیں کہ فقیر کو چاہیے کہ مالداروں کی خاطر اور ان کے عطیہ کے طمع کی وجہ سےذکر الٰہی سے غفلت نہ برتے۔’’

اس بات پر بھی بہت دھیان دینے کی ضرورت ہے کہ اب مالداروں کی عزت اور ان کی طرف میلان اور ان کی آمد پر قلب کو خوشی اور ان کی خاطر و مدارات وغیرہ پر اس قدر انہماک اور توجہ ہےکہ قلب غافل ہو جاتا ہے اوراکثر لوگ پورے طور پر انھی کی طرف متوجہ ہو جاتے ہیں۔

افعال میں ادب یہ ہے کہ فقر کی وجہ سےعبادت میں سستی نہ کرےاور جو کچھ اس کے اخراجات سے بچے چاہے وہ تھوڑے ہی ہو اسے خرچ کرنے سے دریغ نہ کرے کیوں کہ یہ کم مایہ کی کوشش ہے اور اس کا ثواب ان زیادہ مالوں کے خرچ سے زیادہ ہےجو مالداری کی حاجت میں دیے جائیں اور مناسب یہ ہے کہ مال جمع نہ کرے، بلکہ ضرورت کے مطابق رکھے اور باقی راہ خدا میں خرچ کر دے۔