باب ۴۳ از ۵۴صفحات ۵۲۰–۵۳۲
کم سونےوالےقرآن کی نظرمیں
کَانُوۡا قَلِیۡلًا مِّنَ الَّیۡلِ مَا یَہۡجَعُوۡنَ وَ بِالْاَسْحَارِ ہُمْ یَسْتَغْفِرُوۡنَ (سورۃ الذاریات: ۵۱؍۱۷)
یعنی وہ رات کو کم سویا کرتے ہیں اور رات کے پچھلے حصوں یعنی سحر کے وقت استغفار کرتے ہیں،نیز فرماتا ہے۔
تَتَجَافٰی جُنُوۡبُہُمْ عَنِ الْمَضَاجِعِ یَدْعُوۡنَ رَبَّہُمْ خَوْفًا وَّ طَمَعًا (سورۃ السجدہ: ۳۲؍۱۶)
ان كے پہلو خوابگاہوں سے جدا رہتے ہیں اپنے رب کو خوف اور امید کے ساتھ پکارتے ہیں،نیز فرماتا ہے۔
یَبِیۡتُوۡنَ لِرَبِّہِمْ سُجَّدًا وَّ قِیَامًا (سورۃ الفرقان: ۲۵؍۶۴)
اپنے رب کے لیے راتیں سجدے اور قیام میں گذارتے ہیں۔’’
معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ ان بندو ں کو بہت پسند فرما تا ہے جو راتیں اس کی عبادت ،ذکر ودعا اور استغفار میں گذارتے ہیں۔
فوائد:کم سونے کے دینی فائدے تو بے شمار ہیں مگر اس کے دنیوی فائدے بھی بہت ہیں، کم سونے سے رطوبت فضلیہ کم ہوتی ہے جو صحت کے لیے مفید ہے،چہروں پر نور پیدا ہوتا ہے۔حدیث شریف میں ہے کہ حسین چہرے والوں سے اپنی حاجتیں طلب کرو، یہ حسین چہرے والے کون ہیں؟ یہ تہجد گذار لوگ ہیں تہجد کی وجہ سے ان کا باطن چمکتا ہے تو ظاہر بھی چمکنے لگتا ہے ایک محدث کا قول ہے "من کثرت صلاتہ باللیل حسن وجہہ فی النہار"یعنی جو رات کو نماز زیا دہ پڑھے گا دن میں اس کا چہرہ خوبصورت ہو جائیگا، اعلیٰحضرت امام احمد رضا خان فاضل بریلوی رحمہ اللہ نے اپنے رسالہ"الامن والعلیٰ" میں اس قسم کی متعدد روایتیں نقل کی ہیں، زیادہ سونے سے برودت بڑھتی ہے جس سے قوت فکریہ کمزور پڑتی ہے اور اس کی کمی سے دین دنیا دونوں کے کام خراب ہونے لگتے ہیں،پھر اس کا ظہور ہر موڑ پر ہونے لگتا ہےایسا شخص وقت پر کا م نہیں کر پاتا ہے،پانی پینے سے زیادہ نیند آتی ہے لہٰذا کم پانی پئیں،کالی مرچ کھانے سے بھی نیند میں کمی آتی ہے اور قیلولہ جو کہ سنت ہے قیام لیل اور شب بیداری کے لیے بہت مفید ہے۔ٍ
نیندکب بہتر ہے
جب نیند کا غلبہ ہو تو سو جا نا بہتر ہے،حدیث شریف میں ہے"جب تم میں کوئی رات کو اٹھے پھر(نیند کے غلبہ سے)قرآن اس کی زبان سے صاف نہ نکلے اور اسے کچھ معلوم نہ رہے کہ وہ کیا کہہ رہا ہے تو چاہیے کہ وہ سو جائے"(مسلم شریف)۔
اسی طرح دیگر روایتوں میں ہے جس کا مفہوم یہ ہے کہ نماز اس وقت تک
پڑھو جب تک نشاط رہے جب نیند آنے لگے تو سو رہو کہیں ایسا نہ ہو کہ اپنے لیے دعا کرو تو بددعا ہو جائے۔
اسی طرح سے کوئی ایسا انسان جو جب تک جاگتا ہے گناہ کرتا ہے تو ایسے شخص کے لیے سونا بہتر ہے اس لیے کہ کم از کم گناہوں سے بچا رہے گا، یہ سونا بھی حسن نیت سے حسن اور بری نیت سے برا ہو جاتا ہے،یہ دھیان رہے کہ بعض بزرگوں کا سونا بھی بہتوں کی بیداری سے بہتر ہوتا ہے۔اس تعلق سے رسالہ قشیریہ اور حلیۃ الاولیاء وغیرہ میں متقدمین مشائخ کے واقعات منقول ہیں۔
(3)تقلیل کلام
مجاہدہ کا تیسرا رکن تقلیل کلام ہے یعنی کم بولنا حضرت امام غزالی قدّس سرّہ فرماتے ہیں۔زبان اللہ تعالیٰ کی بڑی نعمتوں میں سے ایک نعمت اور اس کی صنعت کے لطائف سے ایک لطیفہ ہے اس کا جسم چھوٹا لیکن اطاعت و جرم بڑا ہے کیوں کہ کفر اور ایمان میں تفریق زبان کی شہادت کے بغیر نہیں ہوتی اور دونوں اطاعت اور نافرمانی کا انتہا ئی درجہ ہے پھریہ موجود ،معدوم، خالق،مخلوق ،تخیلاتی اور معلوم و مظنون و موہوم کا تعلق زبان سے ہے وہ اسے ثابت کرتی ہے یا اس کی نفی کرتی ہے جو کچھ بھی علم میں ہوتا ہے زبان اس کو بیان کرتی ہے ، وہ حق ہو چاہے باطل اور ہر چیز علم میں شامل ہے یہ خاصیت جسم کے دوسرے اعضاء کو حاصل نہیں ہے ایک حدیث میں ہے ۔ لایکب الناس فی النار علی مناخرھم الا حصائد السنتھملوگوں کو ان کے نتھنوں کے بل دوزخ میں نہیں ڈالے گا مگر ان کی زبانوں کا کاٹا ہوا، دوسری حدیث میں ہے من صمت نجا جو خاموش رہا اس نے نجات پائی۔ (مسنداما م محمد)
تیسری حدیث میں ہے کہ حضرت عبداللہ کے والد سفیان نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺمجھے اسلام سے متعلق ایسی بات بتائیں کہ آپ کے بعد کسی اور سے نہ پوچھوں آپ نے فرمایا: کہو میں ایمان لایا پھر اس پر قائم رہو، فرماتے ہیں میں
نے عرض کیا میں کس چیز سے ڈروں؟ آپ علیہ السلام نے اپنے دست مبارک سے اپنی زبان کی طرف اشارہ فرمایا۔ (صحیح مسلم)
حضرت عقبہ ابن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہےوہ فرماتے ہیں میں نے عرض کیا یا رسول اللہ نجات کیا ہے ؟آپ نے فرمایا ،اپنے اوپر اپنی زبان کو روک دو ، اپنے گھر میں رہواور اپنے گناہوں پر رؤو(جامع ترمذی)
حضرت سہیل ابن سعد ساعدی رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں رسول کریمﷺنے فرمایا جو شخص مجھے دو جبڑوں کے درمیان والی چیز (زبان) اور دو ٹانگوں کے درمیان کی چیز (شرمگاہ) کی ضمانت دے میں اسے جنت کی ضمانت دیتا ہوں۔(جامع ترمذی)
آپ ﷺسے عرض کیا گیا جنت میں داخل کرنے والا سب سے بڑا عمل کونسا ہے آپ نے فرمایا :تقوی اللہ وحسن الخلق’’ اللہ تعالیٰ سے ڈرنا اور اچھے اخلاق، نیز پوچھا گیا کہ دوزخ میں لے جانے والے کاموں میں سب سے بڑا عمل کون سا ہے ؟فرمایا: الا جو فان الفم والفرج’’ دو خالی جگہیں منہ اور پیٹ، ممکن ہے منہ سے زبا ن کی آفات مرا د ہوں کیوں کہ منہ زبان کا مقام ہے اور ہو سکتاہے پیٹ مراد ہو کیوں کہ اس کا راستہ منہ ہے اس سلسلے میں بہت روایات ہیں ۔
حضرت سید نا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اپنے منہ میں کنکریاں رکھتے تھے تا کہ گفتگو کم ہو ایک بار تنہائی میں لوگوں نے دیکھا کہ اپنی زبان کو پکڑے فرما رہے ہیں اس نے مجھے ناکوں چنے چبوائے ہیں حضرت عبد اللہ ابن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں: اس رب کی قسم، زبان سے زیادہ چیز لمبی قید کی محتاج نہیں ۔ حضرت انس ابن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں حضور اکرم روؤف رحیمﷺنے فرمایا: بندے کا ایمان اس وقت تک درست نہیں ہوتا جب تک اس کی زبان درست نہ ہو اور وہ شخص جنت میں داخل نہ ہوگا جس کا پڑوسی اس کی شرارتوں سے
نیز آپ ﷺفرماتے ہیں جس شخص کو پسند ہو کہ وہ سلامت رہے اسے خاموشی اختیار کرنا چاہیے نیز فرماتے ہیں: انسان کی اکثر خطائیں اس کی زبان سے ہوتی ہیں۔(شعب الایمان)
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ راوی حضور فخر انس و جاںﷺفرماتے ہیں: جو اللہ اور یوم آخر پر ایمان رکھتا ہے اسے چاہیے کہ اچھی بات کہے یا خاموشی اختیار کرے (بخاری)نیز حضرت حسن بصری رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ نبی کونین ﷺنے ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالی اس بندے پر رحم فرمائے جو گفتگو کر تا ہے تو نفع حاصل کر تاہے یا خاموش رہ کر سلامتی حاصل کرتا ہے۔
زبان کی آفتیں
حضرت امام قدس سرہ فرماتے ہیں زبان کی آفات بہت زیادہ ہیں مثلاً خطا ،جھوٹ ،غیبت ،چغلی ،ریاکاری،منافقت، فحش کلامی،جھگڑا،اپنی خوبیاں بیان کرنا، باطل میں پڑنا،فضول کام، کلام میں تبدیلی،مخلوق کو ایذا پہنچانااور لوگوں کی پردہ دری کرنا،یہ بہت آفتیں ہیں اور زبان پر بھاری نہیں ان کا باعث طبعی بھی ہے اور شیطانی بھی۔
معلوم ہو کہ یہ مجاہدہ تقلیل کلام پہلے والے دونوں مجاہدوں سے زیادہ سخت ہے کھانے میں کچھ اہتمام کرنا پڑتا ہے ایک دو دفعہ میں کھانے کی خواہش ختم ہو جائے گی جب ہضم نہ ہوگا خو د ہی تقلیل ہوجائے گی اسی طرح سونے کی بھی ایک حد ہے اس کے بر خلاف بولنا کہ اس میں کچھ اہتمام نہ حد نہ زیادہ بولنے سے بدہضمی نہ زبان چلانے میں کچھ پریشانی نیز انسان جس قدرحظوظ و نفعات حاصل کر تا ہے لذت کے لیے کر تا ہے ان میں جب کثرت پائی جائے گی لذت کم ہو جائے گی پیٹ بھرنے کے بعد پھر کھانا کیسا ہی لذیذ ہو لذت نہیں ملتی بلکہ طبیعت بھاگتی ہے۔نیند پوری ہونے کے بعد جی گھبراتا ہے۔مگر کلام اور بولنا ایسا ہے کہ اس کی
لذت کبھی ختم نہیں ہوتی بلکہ بڑھتی جاتی ہے اس لیے تقلیل کلام کا مجاہدہ بڑا دشوار ہے ، آج حالات ہمارے سامنے ہیں آدمی بولتے بولتے تھکتا نہیں ، جائز ناجائز جو بھی ہو بات کر تا رہتا ہے اکثر سننے والے تھک جاتے ہیں جو بولنے کا عادی ہوتا ہے وہ زبان کو بہت کم روک پاتا ہے اس کے لیے بہت مشکل ہے کہ وہ جان پائے کہ کون سی بات سچ ہے اور کون سی نہیں لہذا بولنے میں خطرہ ہے اور خاموشی میں سلامتی ہے اسی لیے خاموشی کی فضیلت بھی بہت ہے، خاموشی سے خیالات مجتمع رہتے ہیں وقار باقی رہتا ہے اور وہ ذکر فکر اور عبادت کے لیے فارغ رہتا ہے دنیا میں اس کی آفات سے اور آخرت میں اس کے حساب سے نجات حاصل رہتی ہے ارشاد ربّانی ہے:
مَا یَلْفِظُ مِنۡ قَوْلٍ اِلَّا لَدَیۡہِ رَقِیۡبٌ عَتِیۡدٌ (سورۃ ق: ۵۰؍۱۸)
وہ اپنی زبان سے کوئی بات نہیں نکالتا مگر اس کے پاس ایک نگہبان لکھنے کے لیے تیار رہتا ہے۔’’
اقسام کلام
حضرت امام قدّس سرّہ اس کی فضیلت بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ کلام کی چار قسمیں ہیں :
۱۔ جس میں نقصان ہی نقصان ہو
۲۔ نفع ہی نفع ہو
۳۔ جس میں نہ نقصان ہو نہ نفع
۴۔ جس میں نقصان بھی ہے اور نفع بھی
پہلی قسم کے کلام سے خاموشی ضروری ہے اسی طرح وہ کلام جس میں نفع و نقصان دونوں ہیں لیکن نفع کم ہے اس سے بھی اجتناب ضروری اور جس میں نہ نفع ہو اور نہ نقصان وہ فضول میں وار د ہے اس میں مشغول ہونا وقت ضائع کرنا ہے اور یہ بھی ایک قسم کا نقصان ہے اب صرف چوتھی قسم رہ جاتی ہے تو کلام کا تین چوتھائی
ساقط ہوگیا ایک چوتھائی رہ گیا اور اس چوتھائی میں خطرہ ہے کیوں کہ اس میں باریک قسم کی ریا ، بناوٹ، غیبت ، اپنی پاکیزگی بیان کرنے اور فضول کلام کے ذریعے گناہ کا ارتکاب شامل ہے اور یہ شمولیت ایسی ہے جس کا علم نہیں ہو سکتا، لہذا اسکے ذریعہ انسان خطرے میں پڑ سکتا ہے جو شخص زبان کی آفات کی باریکیوں کو جان لیتا ہے اسے بالیقین معلوم ہو جا تا ہے کہ آقا علیہ السلام کا یہ ارشاد: من صمت نجا’’ جو خاموش رہا نجات پا گیا ۔حضرت امام قدّس سرّہ نے بڑا تفصیلی کلام فرمایا اورزبان کی بیس آفتیں ذکر کی ہیں۔جن کا مطالعہ ہر ایک پر خاص کر اہل علم بالخصوص اہل تصوف پر لازم ہے ۔
خیا ل رہے کہ حرام ونا جائز باتوں کو چھوڑنا شرعا بھی ضروری اور مجاہدے میں اس کے علاوہ فضول کلام سے بھی پرہیز لازم ہے حدیث شریف میں یہ آدمی کے حسن اسلام سے ہے کہ وہ لایعنی چیزوں کو چھوڑدے ناجائز باتوں کا ذکر پہلے آ چکا ہے فضول باتیں سمجھنا ہو تو احیاء العلوم شریف دیکھئے ضروری باتیں کر سکتا ہے ضروری کامطلب جس کے ترک کر نے سے دنیا یا دین کا ضرر ہو اس کے علاوہ تمام مباح اور جائز باتیں فضول میں داخل ہیں بہترین باتیں اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا اس کے محبوب ﷺکی مدح و ثنااور اس کی نعتیں ان کے فضائل و مناقب تحریر و تقریر کے ذریعہ بیان کرنا یا ان کے سچے جا نشینوں اور نیکوں کی سیرتیں و صالحین کے تذکرے ، اسلام وسنیت اور تصوف و روحانیت کی باتیں اصلاح و ارشاد اور دعوت و تبلیغ وغیرہ یا تعلیم و تعلم تدریس، قرآن کی تلاوت اور احادیث وغیرہ کا بیان جو انسان اپنے کلام کو اپنی نیک باتوں پر محصور کردے گا تو اس کا بہت بھلاہوگا زیادہ باتیں قلب میں سختی اور قساوت کا سبب ہیں زیادہ گفتگو سے قلب مرتا ہے ظلمت پیدا ہو تی ہے جب کہ ساری طاعات و عبادات کا مدار حیات قلب پر ہے نیک کا موں کی توفیق نور قلب سے پیدا ہوتی ہے اور تمام گناہوں کامنشاء قساوت و ظلمت ہے۔
کثرت کلام کا سبب اکثر اپنی پڑائی کا بھوت ہوتا ہے اور اپنی بڑائی کا خبط خدا سے غفلت سے پیدا ہوتا ہے اور سب امراض کی۔ ہمیشہ دھیان رکھیں وہی باتیں جڑ ہے ہمیشہ درمیان رہ کر باتی کریں جس کا کچھ نتیجہ ہو اور دنیوی یا دینی نفع ہو اور اتنی ہی بات کریں جوکہ ضرورت ہے آج کل عام طور پر چونکہ مذکورہ بالا نیک باتوں میں اشتغال رہا نہیں ہر آدمی فارغ ہے اسے باتیں چاہیے لہذا وہ ہر وقت ہر قسم کی باتیں کر تا ہے اہل علم و ذکر کو بہت احتیاط چاہیے اپنا وقت ضائع نہ کریں خواہ کوئی کتنا ہی عزیزہو ضرورت پر اکتفا کریں ۔شاہ غلام علی دہلوی قدّس سرّہ آنے والوں سے ضروری باتیں کر کے معذرت کر لیتے کہ ہمارا وقت برباد نہ کریں نہایت محبت اور حسن تدبیر سے فضول باتوں سے خود بچائیں کہ لوگ بھی دور نہ ہوں دیر تک احباب یا مہمانوں سے دیر تک باتیں ہی کرنی ہوں تو مذکورہ بالا دینی اور نیک باتیں شروع کردیں اس سے مہمانوں وغیرہ میں انس بھی رہے گا۔ انھیں بھی دین ملے گا آپ کا وقت بھی ذکر میں شمار ہوگا۔
۴۔ تقلیل اختلاط مع الانام
لوگوں سے ملنا کم رکھنا متعدد محدثین نے روایت کی کہ حضور اکرم ﷺسے عرض کیا گا کہ سب سے افضل کون ہے فرمایا: جو گھاٹیوں میں سے کسی گھاٹی میں ہو اللہ سے ڈرتا ہو اور لوگوں کو ان کی شر کی وجہ سے چھوڑ دے۔
معلوم ہو کہ اختلاط اور عدم اختلاط یعنی لوگوں کے ساتھ مل جل کر رہنے اور نہ رہنے میں بزرگوں کے ما بین کثیر اختلاف ہے اسی طرح ان میں کون افضل ہے حضرت امام غزالی قدّس سرّہ فرماتے ہیں کہ ان دونوں میں سے ہر ایک میں خرابیاں بھی ہیں جو قابل نفرت ہیں اور فوائد بھی ہیں جوان کی طرف بلاتے ہیں ،علما کرام کا اختلاف تابعین کے دور میں ظاہر ہوا ۔حضرت سفیان ثوری ،ابراہیم ابن ادہم ، داؤد طائی،فضیل ابن عیاض ، سلیمان الخواص،یوسف ابن اسباط، حذیفہ مرعشی
اور بشر حافی رحمۃ اللہ علیہم نے گوشہ نشینی کو پسند کیا اور اسے اختلاط سے افضل قرار دیا لیکن اکثر تابعین کے نزدیک اختلاط لوگوں سے جان پہچان،اور اخوت و بھائی چارے کا قیام ، مومنوں سے الفت و محبت پیدا کرنا مستحب ہے ان سے دین میں مدد حاصل کی جائے اور نیکی و تقوی پر معاونت کی جائے حضرت سعید ابن مسیّب شعبی ، ابن ابی لیلی، ہشام بن عروہ ،امام شافعی اور امام احمد وغیرہم رضی اللہ تعالی عنہم اسی اختلاط کے قائل ہیں سب کے اپنے اپنے دلائل ہیں جو احیاء العلوم جلد دوم میں تفصیل سے مذکور ہیں۔حضرت امام قدّس سرّہ کے نزدیک یہ اختلاف احوال و اشخاص کے اختلاف کی بنیاد پر ہے آپ نے دونوں کے فوائد ارشاد فرمائے خلوت کے دینی اور دنیوی دونوں طرح کے فوائد ہیں۔
گوشہ نشینی کے فوائد
(۱) اس کے ذریعہ عبادت اور غور و فکر کےلیے فراغت نصیب اور خلق کے ساتھ گفتگو کے بجائے اللہ تعالیٰ سے مناجات اور اُنس میسر آتا ہے اور امور آخرت کے اسرار اور آسمان و زمین کے اسرار معلوم کرنا میسر ہو تا ہے کیوں کہ یہ چیزیں فراغت چاہتی ہیں۔اور اختلاط میں فراغت نہیں ہو پاتی ہے۔خلوت اور گوشہ نشینی اس کا وسیلہ ہے اسی لیے بعض داناؤں نے کہا ہے کہ گوشہ نشینی پر وہی قادر ہو سکتاہے جو کتاب خداوندی کو مضبوطی سے تھام لے اور یہی لوگ ذکر خداوندی کی بدولت دنیا سے آرام پاتے ہیں، ذکر کرنے والے ذکر کے ساتھ زندہ رہتے ہیں اور اسی پر مرتے ہیں اور اللہ تعالی سے ملاقات ذکر پر کریں گے۔ لوگوں سے اختلاط ذکر و فکرمیں رکاوٹ ہے ایسے لوگوں کے لیے تنہائی بہتر ہے یہی وجہ ہے کہ نبی کونین ﷺنے آغاز میں غار حرا میں خلوت اختیار فرمایاحتی کہ جب آپ میں نور نبوت مضبوط ہوگیا تو مخلوق اللہ تعالیٰ کے ساتھ آپ کے معاملات میں رکاوٹ نہیں بن سکی آپ جسم کے ساتھ مخلوق کے پاس اور دل کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے پاس ہوتے تھے۔یہاں تک کہ جب صحابہ کرام نے گمان
کیا کہ حضرت صدیق اکبر رضی ا للہ تعالیٰ عنہ آپ کے خلیل ہیں تو آپ ﷺنے فرمایا کہ ہماری تمام تر توجہ اللہ تعالیٰ کی طرف ہے فرمایا اگر میں کسی کو خلیل بناتا تو ابوبکر کو بناتا لیکن تمہارا صاحب اللہ تعالیٰ کا خلیل ہے۔
ظاہر ی طور پر لوگوں کے ساتھ میل جول اور باطنی طور پر اللہ تعالیٰ کی طرف توجہ کی طاقت صرف قوت نبوت کو حاصل ہوتی ہے لہذا ہر وہ شخص جو کمزور ہے اسے دھوکہ نہیں کھانا چاہیے اور یہ بات بعید نہیں کہ بعض اولیاء کرام اس درجہ تک پہنچ جائیں۔
فقیر مجددی عرض کر تا ہے کہ حضرت مجدد الف ثانی قدّس سرّہ سے بڑی تفصیل سے عروج و نزول اور اس کے متعلقہ امورکو بیان فرمایا ہے اور بتایا ہے کہ کس منزل پر پہنچ کر انسان کو جمع بین التوجہین حاصل ہوتی ہے کہ وہ بیک وقت خالق جل و علا کے ساتھ بھی ہو تا ہے اور مخلوق کے ساتھ بھی۔
تنہائی کی وجہ سے ان گناہوں سے محفوظ رہتا ہے جو اختلاط کی وجہ سے سرزد ہوتے ہیں یہ چار گناہ یہ ہیں (۱)غیبت(۲)چغلی(۳)ریاکاری(۴)امر معروف وغیرہ سے باز رہنا اور اوپر سے برے اخلاق اور گندے اعمال چوری چوری دل میں داخل ہونا اور اس کی بنیاد دنیا کی حرص ہے۔ حضرت امام قدّس سرّہ نے ہر ایک پر الگ الگ بحث فرمائی ہے آخری حصے سے بحث کرتے ہوئے جو کچھ فرمایا اس کا خلاصہ یہ ہے کہ دوسرے کو دیکھ کر ان کی عادات انسان اپناتا ہے یہ ایک پوشیدہ بیماری ہے اس سے عقلمند بھی کم واقف ہوتے ہیں غافل کا تو کوئی شمار نہیں اگر کوئی شخص کسی فاسق کے پاس ایک عرصہ تک بیٹھے اگرچہ وہ اسے دل سے برا جانتا ہو پھر جب پہلی حالت سے مقابلہ کرے گا تو بہت فرق ملے گا مطلب یہ کہ جس قدرنفرت پہلے تھی اب نہیں پائے گا کیوں کہ اس کا زیادہ مشاہدہ کرنے سے اس کی طبیعت پر فساد آسان اور ہلکا ہو جا تا ہے اور اس کی برائی دل سے جاتی رہتی ہے لہذا جو شخص
صرف صحابہ کرام اور تابعین کے حالات کو دیکھتا ہے کہ انھوں نے کس طرح اللہ تعالیٰ کی عبادت کی اور دنیا سے کنارہ کش رہے تو وہ ہمیشہ اپنے آپ کو حقیر اور اپنی عبادت کو کم سمجھتا ہے اس لیے وہ ہمیشہ جدو جہد میں رہتا اور تکمیل عباد ت میں رغبت رکھتا ہے کامل اقتدا کا خواہش مند رہتا ہے اور جب وہ زمانے کے عام حالات دیکھتا رہتا ہے کہ لوگ اللہ تعالیٰ سے منہ پھیرے ہوئے ہیں دنیا میں رغبت رکھتے ہیں اور گناہوں کے عادی ہیں تو وہ عبادت کے لیے تھوڑی رغبت کو بھی زیادہ سمجھتا ہے اور یہ ہلاکت ہے طبیعت کے تغیر وتبدل خیر و شر کو سننا ہی کافی ہے چہ جائیکہ اس کامشاہدہ کرے ۔
(۳)خلوت سے آدمی فتنوں اور جھگڑوں سے محفوظ رہتاہے اس طرح ذہن او ر نفس دونوں کو محفوظ رکھا جا سکتا ہے کیوں کہ بہت کم شہر تعصبات،فتنوں اور جھگڑوں سے خالی ہوتے ہیں لہذا ان سے الگ رہنے والا ان امور سے محفوظ رہتا ہے حضرت عبد اللہ ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما فرماتے ہیں کہ حضور نبی کریم ﷺنے فرمایا جب تم لوگوں کو دیکھو کہ عہد و پیمان درہم برہم ہوگیا۔اور امانتیں ہلکی پڑگئیں اور وہ گتھم گتھا ہو جائیں، میں نے عرض کیا: اس وقت کے بارسے مجھے کیا حکم دیتے ہیں ؟ فرمایا: اپنے گھر میں رہنا ،زبان کو قابو میں رکھنا ، اچھے کام کرنا اور برے حکم کو چھوڑ دینا اورخاص لوگوں کے معاملات اختیار کرو اوراور عام لوگوں کے کاموں کو چھوڑدو ۔ حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ راوی کہ حضور ﷺنے فرمایا ، قریب ہے کہ مسلمان کا بہترین مال بکریاں ہوں وہ ان کو لے کر پہاڑوں کی چوٹیوں اور پانی کے تالابوں پر چلا جائے اور اپنے دین کو بچاتے ہوئے ایک چوٹی سے دوسری چوٹی پر جائے(بخاری)
۴۔لوگوں کے شر سے محفوظ رہتا ہے کیوں کہ بعض اوقات وہ غیبت کے ذریعہ ایذا پہنچاتے ہیں کہیں بد گمانی اور تہمت کے ذریعہ اور اس قسم کے مطالبات اور
سوال کرتے ہیں اور جھوٹی طمع رکھتے ہیں جسے پورا کرنا مشکل ہو تا ہے۔
۵۔خلوت کا یہ بھی فائدہ ہوتا ہے کہ تمہیں لوگوں سے اور لوگوں کو تم سے لالچ چھوٹ جائے گا ۔ اس میں کچھ فائدے ہیں سارے لوگوں کو خوش کرناتو کسی صورت ممکن نہیں لہذا انسان کا اپنی اصلاح میں مشغول رہنا زیادہ بہتر ہے حقوق میں زیادہ آسان جنازوں میں حاضر ہونا،بیمار کی عیادت، ولیموں اور نکاح وغیرہ میں جانا اور ان سب میں اوقات کو ضائع کرنا آفات کانشانہ بننا ہے ۔کسی کے یہاں پاتا ہے کسی کے یہاں نہیں اور جن کے یہاں نہیں جاتا ہے وہ شکایت کرتے ہیں تمھاری طمع لوگوں سے دور ہوتی ہے تو اس میں بھی فائدہ ہے کیوں کہ جو دنیا کی ترو تازگی اور زیب و زینت کو دیکھتا ہے اس کی حرص بڑھتی ہے اور وہ عام طورپر نا مراد ہوتا ہے اور یوں اسے تکلیف پہنچتی ہے اور جب خلوت میں ہوگا تو دیکھے گا نہیں تو خواہش پیدا نہیں ہوگی ارشاد خداوندی ہے:
وَ لَا تَمُدَّنَّ عَیۡنَیۡکَ اِلٰی مَا مَتَّعْنَا بِہٖۤ اَزْوَاجًا مِّنْہُمْ (سورۃ طہٰ: ۲۰؍۱۳۱)
اور اے سننے والے اپنی آنکھوں کو ان کی طرف نہ پھیلا جوہم نے کافروں کے جوڑوں کو دنیوی آسایش کے لیے دی ہے۔
نبی کریم ﷺنے ارشاد فرمایا دنیا کے معاملے میں اپنے سے نیچے والوں کو دیکھو اپنے سے اوپر والوں کو نہ دیکھو یہ زیادہ لائق ہے کہ اللہ تعالیٰ کی نعمت تمھاری نگاہوں میں حقیر نہ ہو(صحیح مسلم)فقیر مجددی عرض کر تا ہے کہ آ ج کے دور میں تو اور بھی زیادہ فساد ہے عریانیت وفحاشی اور دنیا کی زیب و زینت عروج پر ہے جہاں دیکھو وہاں دنیا کا ذکر دنیا کی ترغیب مال و زر جاہ و منصب کے چرچے ہیں و علما ع مشائخ جن کی مجالس میں لوگوں کو دین اور علم ملا کرتا تھا خدا کی یاد آتی تھی دل دنیا سے سر د ہوتا تھا آج اکثر وہاں بھی یہی ہے کہ یہ سب کچھ کیسے حاصل کیا جائے۔فیشن اور عریانیت اس قدر عام ہے کہ نگاہیں بچانا مشکل ہے مجلسوں میں غیبتیں ہیں چغلیاں
ہیں ایک دوسرے کی تذلیل وتحقیر ہے یہ سب آج کے دور کے تماشے ہیں۔
۶۔خلوت سے یہ بھی فائدہ ہوتا ہے کہ بوجھل اور بیوقوف لوگوں کے دیکھنے سے جان چھوٹتی ہے اور لوگوں کی بیوقوفیوں اور بد اخلاقیوں سے محفوظ رہتاہے۔
اختلاط کے فائدے: لوگوں کے ساتھ مل جل کر رہنے اور اختلاط کے فائدے بھی بہت ہیں یہ بھی دھیان رہے کہ اختلاط کے فائدے خلوت کے نقصانات سے زیادہ ہیں،چند فوائد ملاحظہ ہوں:
۱۔ تعلیم و تعلم سیکھنا اور سیکھانا یہ بڑی عبادت ہے اور یہ اختلاط ہی سے ہو سکتا ہے علوم بہت ہیں بعض ضروری اور بعض غیر ضروری جس کو ضروری علم کی حاجت ہو ا سے خلوت اختیار کرنا گناہ ہے اور اگر فرض علم حاصل کر چکا ہے اور باقی علوم میں غور خوض کا اہل نہیں ایسا شخص عباد ت میں اشتغال چاہتا ہے تو خلوت اختیار کرنا صحیح ہے اوراگر وہ علوم نقلیہ اور عقلیہ میں درجۂ تکمیل تک پہنچنے کی اہلیت رکھتا ہے تو تحصیل علوم سے پہلے گوشہ نشینی بہت بڑا نقصان ہے اسی لیے بزرگوں نے فرمایا کہ پہلے علم پھر خلوت فقیر مجددی عرض کرتا ہے کہ علما کرام نے فرمایا ہے کہ