مواد پر جائیں

باب ۳۷ از ۵۴صفحات ۴۳۳–۴۴۵

امر چہارم

ضرر دور کرنے کی کوشش کرنا، جس طرح بیماری وغیرہ کو دور کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ بیماری کو زائل کرنے والے اسباب بھی تین قسم کےہیں یعنی وہ تو قطعی ہوتے ہیں جس طرح پیاس کے ضرر کو دور کرنے کے لیے پانی، بھوک کے ازالے کے لیے روٹی ہے یا وہ اسباب ظنی ہوتے ہیں جس طرح پچھنے کے ذریعہ خون نکلوانا اور اسی طرح دیگر دوائیاں بھی یعنی ٹھنڈک کا علاج حرارت سے اور حرارت کا ٹھنڈک سے کرنا طب کے ظاہری اسباب ہیں اور تیسری قسم موہوم اسباب کی ہے جیسے دغوانااور دم وغیرہ کروانا۔ پہلی قسم کے اسباب کو ترک کرنا توکل کی شرط نہیں، لیکن خوف موت کے وقت ان کو چھوڑنا حرام ہے۔ دوسری قسم

اسباب ظنیہ جیسے اطبا اور ڈاکٹروں کا اسباب ظاہری سے علاج کرنا بھی توکل کے خلاف نہیں، ہاں موہوم اسباب کو اختیار کرنا توکل کے خلاف ہے، لیکن ظنی اسباب کو چھوڑنا بھی ممنوع نہیں ہے جب کہ قطعی اسباب کا ترک ممنوع ہے، بلکہ بعض اوقات اسباب موہومہ کو اپنانے کی بجائے ترک کرنا افضل ہے۔ اسی طرح بعض اشخاص کے لیے بھی یہی حکم ہے تو یہ ایک درمیانی درجہ ہے اور اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ دوا استعمال کرنا توکل کے خلاف نہیں۔ نبی اکرمﷺ کے فعل، قول اور حکم سے یہ ثابت ہے۔

یہ بھی خیال رہے کہ بعض اوقات علاج کو ترک کرنا قابل تعریف اور قوت توکل کی دلیل ہوتا ہے۔ یہ چیز نبی کونینﷺ کے فعل کے خلاف نہیں، بزرگوں کے معاملات اس معاملے میں مختلف رہے۔ بے شمار اسلاف نے دوا استعمال کی اور بہت سے اکابر نے ترک علاج کا بھی راستہ اپنایا۔

حضرت ابو بکر صدیق‌رضی اللہ عنہ سے عرض کیا گیا: آپ کےلیے طبیب بلائیں؟ فرمایا: طبیب نے مجھے دیکھا اور فرمایا کہ میں جو چاہوں کرتا ہوں۔’’ اس طرح کے متعدد واقعات حضرت امام غزالی قدس سرہ نے بیان فرمائے۔ ترک علاج کے سلسلے میں حضرت امام قدس سرہ نے چھ اسباب بیان کیے جن کے ذریعہ حضورﷺ کے فعل کے ساتھ ان بزرگوں کے فعل کی مطابقت ہو جاتی ہے۔ تفصیل کے لیے دیکھیے احیاء العلوم۔

حُبّ (نواں مقام)

قرآنی آیات:

۱۔یُّحِبُّہُمْ وَیُحِبُّوۡنَہٗۤ (سورۃ المائدۃ: ۵؍۵۴)

ترجمہ: وہ اللہ کے پیارے اور اللہ ان کا پیارا۔’’

۲۔ وَالَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اَشَدُّ حُبًّا لِّلہِ (سورۃ البقرۃ: ۲؍۱۶۵)

ترجمہ: اور ایمان والوں کو اللہ کے برابر کسی کی محبت نہیں۔’’

یہ آیات محبت کے ثبوت اور اس میں تفاوت پر دلالت کرتی ہیں۔ سورۂ توبہ میں فرماتا ہے:

قُلْ اِنۡ کَانَ اٰبَآؤُکُمْ وَاَبْنَآؤُکُمْ وَ اِخْوَانُکُمْ وَاَزْوَاجُکُمْ وَعَشِیۡرَتُکُمْ وَ اَمْوَالُۨ اقْتَرَفْتُمُوۡہَا وَتِجَارَۃٌ تَخْشَوْنَ کَسَادَہَا وَمَسٰکِنُ تَرْضَوْنَہَاۤ اَحَبَّ اِلَیۡکُمۡ مِّنَ اللہِ وَرَسُوۡلِہٖ وَجِہَادٍ فِیۡ سَبِیۡلِہٖ فَتَرَبَّصُوۡا حَتّٰی یَاۡتِیَ اللہُ بِاَمْرِہٖ ؕ وَاللہُ لَا یَہۡدِی الْقَوْمَ الْفٰسِقِیۡنَ (سورۃ التوبۃ: ۹؍۲۴)

ترجمہ: تم فرماؤ اگر تمہارے باپ اور تمہارے بیٹے اور تمہارے بھائی اور تمہاری عورتیں اور تمہارا کنبہ اور تمہاری کمائی کے مال اور وہ سودا جس کے نقصان کا تمہیں ڈر ہے اور تمہارے پسند کے مکان یہ چیزیں اللہ اور اس کے رسول اور اس کی راہ میں لڑنے سے زیادہ پیاری ہوں تو راستہ دیکھو یہاں تک کہ اللّٰہ اپنا حکم لائے اور اللہ فاسقوں کو راہ نہیں دیتا۔’’

چند احادیث بھی محبت کےثبوت اور اس کی فرضیت و اہمیت کے تعلق سے سماعت کریں:

۱۔ حضرت ابو رزین عقیلی‌رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: یا رسول اللہﷺ، ایمان کیا ہے؟ آپ نے فرمایا: أن یکون اللہ و رسولہ أحبَّ إلیک مما سواھما

ایمان یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولﷺ تمھیں ان کے ما سوا سے زیادہ محبوب ہو جائیں یعنی ہر چیز سے زیادہ محبت اللہ و رسولﷺ سے ہو۔(مسند امام احمد)

۲۔ لا یؤمن أحدکم حتیّٰ یکون اللہ و رسولہ أحبَّ إلیہ مما سواھما

تم میں کوئی شخص مومن نہیں ہو سکتا حتیّٰ کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے

رسولﷺ اس کے نزدیک ان کے غیر سے زیادہ محبوب ہو جائیں۔(مسند امام احمد)

۳۔ لا یؤمن العبد حتیّٰ أکون أحبَّ إلیہ من أھلہ و مالہ والناس أجمعین

کوئی بندہ اس وقت تک مومن نہیں ہو سکتا جب تک میں اس کے نزدیک اس کے اہل و مال اور سب لوگوں سے زیادہ محبوب نہ ہو جاؤں۔(صحیح مسلم)

۴۔ اسی سے ملتی جلتی وہ روایت ہے کہ آپﷺ فرماتے ہیں: تم میں کوئی مومن نہیں ہوگایہاں تک میں اسے اس کے والد، اولاد اور تمام لوگوں سے زیادہ محبوب نہ ہو جاؤں۔(بخاری و مسلم)

۵۔ أحبّوا اللہ لما یغذوکم بہ من نعمۃ و أحبّونی لحب اللہ إیّای

اللہ تعالیٰ سے محبت کرو کہ وہ تمھیں ہر صبح نعمت عطا کرتا ہے اور مجھ سے محبت کرو کیوں کہ اللہ تعالیٰ مجھ سے محبت کرتا ہے۔(المستدرک للحاکم)

۶۔ ایک شخص نے عرض کیا: یا رسول اللہﷺ، میں آپ سے محبت کرتا ہوں، فرمایا: استعِدْ للفقر (فقر کے لیے تیار ہو جاؤ) اس نے عرض کیا: میں اللہ تعالیٰ سے محبت کرتا ہوں تو آپ نے فرمایا: استعِد للبلاء ( آزمائشوں کے لیے تیار ہو جاؤ۔(کنز العمال، ج:۶)

۷۔ ایک اعرابی نے نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر عر ض کیا: قیامت کب آئےگی؟ آپ نے فرمایا: تم نے اس کے لیے کیا تیاری کی ہے؟ کہا: میرے پاس کوئی زیادہ نماز اور روزہ نہیں، البتہ میں اللہ تعالیٰ سے اور اس کے رسولﷺ سے محبت کرتا ہوں، نبی اکرمﷺ نے فرمایا: المرء مع من أحبَّ (آدمی اس کے ساتھ ہوگا جس سے وہ محبت کرتا ہے) حضرت انس‌رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نے مسلمانوں کو اسلام کے بعد اس بات سے زیادہ کسی بات پر خوش ہوتے نہیں دیکھا۔

حضرت امام غزالی قدس سرہ فرماتے ہیں: اللہ تعالیٰ کی محبت تمام مقامات میں سے انتہائی بلند مقام اوردرجات کی بلند چوٹی ہے، ادراک محبت کے بعد کوئی مقام نہیں، مگر اس کے پھلوں میں سے ایک پھل اور اس کے تابعوں میں سے ایک تابع ہے جیسے شوق، انس، رخا اور ان جیسے امور۔ اور نہ محبت سے پہلے کوئی مقام ہے، مگر وہ مقدمات محبت میں سے ایک مقدمہ ہے جیسے توبہ، صبر، زہد وغیرہ۔ اور تمام مقامات کا وجود اگرچہ نادر ہے، پھر دل ان کے امکان کے ایمان سے خالی نہیں ہوتے، لیکن اللہ تعالیٰ سے محبت پر ایمان بہت مشکل ہےحتیّٰ کہ بعض علما نے اس کے امکان کا ہی انکار کر دیا اور کہہ دیا کہ محبت کا مفہوم صرف یہ ہے کہ ہمیشہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت کی جائے۔ جہاں تک حقیقت محبت کا تعلق ہے تو وہ محال ہے کیوں کہ وہ تو اپنے ہم جنس و مثل سے ہوتی ہے اور جب انھوں نے محبت کا انکار کر دیا تو انس، شوق اور لذت مناجات اور محبت کے تمام لوازم و توابع کا انکار کر دیا۔

پھر امام قدس سرہ نے چند آیات و احادیث ثبوت میں ذکر فرمائیں جو مذکور ہو چکیں۔ آپ نے یہ بھی فرمایا کہ اس بات پر امت کا اتفاق ہے کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولﷺ سے محبت فرض ہے اور جب محبت کا وجود ہی نہ ہوگا تو وہ فرض کیسے ہوگی، پھر محبت کی تعبیر اطاعت سے کیسے کی جاسکتی ہے جب کہ اطاعت محبت کے تابع اور اس کا نتیجہ ہے۔ لہٰذا ضروری ہے کہ پہلے محبت ہو اس کے بعد اس کی اطاعت ہو جس سے وہ محبت کرتا ہے۔

حقیقت محبت

آپ قدس سرہ فرماتے ہیں کہ محبت کا تصور معرفت و ادراک کے بعد ہی ہو سکتا ہے کیوں کہ انسان اسی چیز سے محبت کرتا ہے جس کی معرفت رکھتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جمادات محبت سے موصوف نہیں، بلکہ محبت حی، مُدرک (زندہ ادراک کرنے والے) کی خاصیت ہے۔

یہاں معلوم رہے کہ بعض محققین نے قرآن و حدیث کی روشنی میں ثابت کیا

ہے کہ جمادات کو بھی محبت و معرفت حاصل ہوتی ہے۔ حضورﷺ نے مدینہ پاک کے مشہور پہاڑ احد شریف کو دیکھا تو فرمایا: ھٰذا أحد یحبنا و نحبّہ (یہ احد پہاڑ ہم سے محبت کرتا ہے اور ہم اس سے محبت کرتے ہیں) ان بزرگوں کا کہنا ہے کہ یہاں کوئی ایسا مانع نہیں جس کی وجہ سے محبت کو اس کے ظاہری اور حقیقی معنی سے پھیر کر کوئی دوسرے معانی مراد لیے جائیں، یہ بات دل کو بہت چھوتی ہوئی ہے۔

بہر حال حضرت امام قدس سرہ فرماتے ہیں: جن چیزوں کا ادراک ہوتا ہے ان کی تین صورتیں ہیں:

۱۔ وہ چیزیں ادراک کرنے والے کی طبیعت کے موافق اور مناسب ہوں گی اور وہ اسے لذیذ لگیں گی۔ ۲۔ وہ اس کی طبیعت کے منافی ہوں گی اور وہ ان سے نفرت اور تکلیف محسوس کرےگا۔ ۳۔ ان میں لذت و الم کسی چیز کا اثر نہ ہو۔

تو ہر وہ چیز جس کے ادراک میں لذت و راحت ہو وہ ادراک کرنے والے کو محبوب ہوگی اور جس کے ادراک میں الم ہو وہ مبغوض اورجو ان سے خالی ہو وہ نہ محبوب ہوگی نہ مبغوض۔ اسی لیے لذت حاصل کرنے والے کے نزدیک ہر لذیذ چیز محبوب ہوتی ہے۔ محبوب ہونے کا مطلب اس کی طرف طبیعت کا میلان ہوتا ہے اور مبغوض کا مطلب یہ ہے کہ طبیعت اس سے نفرت کرتی ہے۔ پس محبت لذیذ چیز کی طرف میلا ن طبیعت کا نام ہے، یہ میلان اگر زیادہ مضبوط اور قوی ہو جائے تو اس کا نام عشق ہے۔ اور بغض اس چیز سے طبعی نفرت کا نام ہے جو تکلیف دہ، تھکانے والی ہے اور جب یہ تکلیف مضبوط ہو جاتی ہے تو اسے مقت (ناراضگی) کہا جاتا ہے۔ معنی محبت کی حقیقت میں یہ بات اصل ہے جس کی معرفت ضروری ہے۔

دوسری دلیل محبت

حضرت امام غزالی قدس سرہ نے اس بات کے لیے

کہ بندوں کو اللہ تعالیٰ سے محبت ہوتی ہے آیات و احادیث سے استدلال کے بعد دوسرا ضابطہ یہ بیان فرمایا کہ جب محبت ادراک اور معرفت کے تابع ہے تو جس طرح مُدرکات اور حواس تقسیم ہوتے ہیں لامحالہ محبت بھی تقسیم ہوگی۔ یہ حِس مُدرِ کات میں کسی ایک نوع کا ادراک کرتی ہے اور ہر ایک کو بعض مدرکات سے لذت حاصل ہوتی ہے اور اس لذت کے باعث طبیعت کا ان مدرکات کی طرف میلان ہوتا ہے۔ پس یہ مدرکات طبع سلیم کے نزدیک محبوب ہوتےہیں مثلاً آنکھ کی لذت ان چیزوں میں ہے جن کو دیکھا جاتا ہے کہ وہ دکھائی دنیے والی خوب صورت چیزوں اور باعث لذت حسین صورتوں کا ادراک کرتی ہے، اسی طرح کان وغیرہ دیگر حواس۔

پھر حدیث کہ تمھاری دنیا سے مجھےتین چیزیں محبوب ہیں؛ خوشبو، عورتیں اور میری آنکھ کی ٹھنڈک نماز میں ہے۔’’ سے استدلال کرکے فرماتے ہیں: اگر محبت کا تعلق صرف ان چیزوں سے ہوتا جن کا ادراک حواس خمسہ سے ہوتا ہے حتیّٰ کہ یوں کہا جاتا کہ چوں کہ اللہ تعالیٰ کا ادراک حواس سے نہیں ہوتا اور نہ ہی وہ خیال میں آسکتا ہے، لہٰذا اس سے محبت نہیں ہوگی تو اس سے انسان کی خاصیت باطل ہو جائےگی اور وہ چھٹی حس بیکار ہو جائےگی جس کے ذریعہ انسان حیوانات سے ممتاز ہوتا ہے اور اسے عقل یا نور یا قلب یا اس طرح کا کوئی نام دے سکتے ہیں اور یہ بات بعید ہے کیوں کہ باطنی بصیرت ظاہری نگاہ سے زیادہ قوت رکھتی ہے اور آنکھ کے مقابل دل کو زیادہ ادراک ہوتا ہے، اور عقل کے ذریعہ جن معانی کا ادراک ہوتا ہے ان کا جمال ان صورتوں کے جمال سے زیادہ ہوتا ہےجو آنکھ کے سامنے ظاہر ہوتی ہیں۔ پس دل جن امور شریفیہ الٰہیہ کا ادراک کرتا ہے اور حواس نہیں کر سکتے وہ ان سے زیادہ مکمل اور بلیغ تر ہوتےہیں۔ پس طبع سلیم اور عقل صحیح کا اس کی طرف میلان زیادہ قوی ہوتا ہے۔ لہٰذا محبت کا مفہوم یہ ہوا کہ اس چیز کی طرف

میلان ہو جس کے ادراک میں لذت ہوتی ہے۔

اسباب محبت

پہلا سبب ذات

ہر زندہ شخص کے لیے سب سے پہلا محبوب اس کا نفس اور ذات ہے اور اپنے نفس سے محبت کے معنی یہ ہیں کہ وہ طبعی طور پر چاہتا ہے کہ اس کا وجود دائمی ہو اور وہ معدوم ہونے اور ہلاکت سے نفرت کرتا ہے۔ اس کی تفصیل کرکے فرماتے ہیں: تو نتیجہ یہ ہوا کہ انسان کے لیے محبوب اول اس کی ذات ہے، پھر اس کے اعضا کی سلامتی، اس کے بعد اس کا مال، اولاد، خاندان اور پھر دوست احباب۔پس اعضا محبوب اور ان کی سلامتی مطلوب ہے کیوں کہ وجود کا کمال و دوام ان اعضا پر موقوف ہے اور مال بھی محبوب ہوتا ہے کیوں کہ یہ وجود کے دوام اور کمال کے لیے ایک آلہ ہے نیز تمام اسباب کا یہی حال ہے۔ غرضیکہ ہر زندہ کے نزدیک سب سے پہلا محبوب اس کی ذات کا کمال اور ان سب چیزوں کا دوام ہے اور اس کے خلاف جو کچھ ہے وہ ناپسند ہوتا ہے، یہ سب سے پہلا سبب ہے۔

دوسرا سبب احسان

محبت کا دوسرا سبب احسان ہے۔ کہا جاتا ہے ‘‘الانسان عبد الاحسان’’ انسان احسان کا بندہ ہے اور محسن سے محبت اور برا سلوک کرنے والے سے بغض پر دل ڈھلا ہوا ہے۔ نبی اکرمﷺ نے یوں دعا مانگی: اے اللہ کسی (بدکار) کو میرا محسن نہ بنا کہ اس طرح میرا دل اس سے محبت کرے۔’’ یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ محسن سے قلبی محبت اضطراری ہے، اسے دور نہیں کیا جاسکتا ہے اور جبلی اور فطری ہے۔

تیسرا سبب حسن و جمال

کسی چیز سے اس کی ذات کی وجہ سے محبت کرے، اس سے کچھ اور فائدہ حاصل کرنا مقصود نہ ہو، بلکہ صرف اس کی ذات ہی مطلوب ہو، یہ حقیقی محبت ہے جس کے دوام کا اعتماد ہوتا ہے جیسے حسن و جمال کی محبت ہے کیوں

کہ جس کو جمال کا ادراک ہوتا ہے اس کے نزدیک ہر جمال محبوب ہوتا ہے اور یہ محبت صرف جمال کی وجہ سے ہوتی ہےکیوں کہ ادراک جمال میں ہی لذت ہے جو ذاتی طور پر محبوب ہوتی ہے، کسی غیر کی وجہ سے نہیں اور یہ خیال نہیں کرنا چاہیے کہ اچھی صورتوں سے محبت صرف قضاے شہوت کے لیے ہوتی ہے کیوں کہ قضاے شہوت دوسری لذت ہے اور بعض اوقات اس مقصد کے لیے اچھی صورتوں سے محبت کی جاتی ہے اور محض جمال کا ادراک بھی لذیذ ہوتا ہے، پس جائز ہے کہ وہ ذاتی طورپر محبوب ہو۔

چوتھا سبب کمال

حسن و جمال کا مفہوم صرف شکل و صورت، اچھا رنگ، سرخی و سفیدی کی آمیزش وغیرہ وغیرہ میں مضمر نہیں، بلکہ ہر چیز کا جمال وہ ہے جو اس کے لائق و ممکن ہو۔ تو جس میں تمام ممکنہ کمالات جمع ہوں وہ انتہائی جمال میں ہوگا اور اگر بعض کمالات ہوں توجس قدر کمالات موجود ہوں گے اسی قدر حسن و جمال ہوگا۔ یہ بات ذہن نشین رہے کہ غیر محسوسات میں بھی حسن و جمال ہوتا ہے، کہا جاتا ہے کہ یہ اچھا خلق ہے، یہ اچھا علم ہے، یہ اچھی سیرت ہے، یہ اخلاق جمیلہ ہیں جن سے مراد علم، عقل، عفت، شجاعت، تقویٰ ، کرم، مروت اور اچھی خصلتیں ہیں اور ان میں کسی کا ادراک حواس خمسہ سے نہیں ہوتا، بلکہ باطنی نور بصیرت سے ہوتا ہے۔

جو شخص ان صفات سے موصوف ہوتا ہے وہ ان لوگوں کو طبعی طور پر محبوب ہوتا ہے جو اس کی صفات کو پہچانتے ہیں۔ آپ دیکھیے کہ انبیاے کرام‌علیہم السلام و صحابہ کرام‌رضی اللہ عنہم اور اولیاے عظام وغیرہ کی محبت انسان کی سرشت رکھ دی گئی ہے۔اسی طرح ارباب مذاہب؛ امام اعظم ابو حنیفہ، امام شافعی، امام مالک و امام احمد‌رضی اللہ عنہم سے بھی فطری محبت ہے۔ بعض اوقات انسان اپنے امام کی محبت میں عشق کی حد تک پہنچ جاتا ہے حالاں کہ اس نے ان کو دیکھا نہیں، ان محبتوں میں انسان مال تو

مال جان بھی خرچ کر دیتا ہے۔ تو معلوم ہوا کہ محبت معنوی خوبیوں اور کمالات کی وجہ سے بھی ہوتی ہے۔ یہ بھی دھیان رہے کہ جو محسن ہوتا ہے اگرچہ اس کا احسان محب تک کبھی نہ پہنچے ذاتی طور پر محبوب ہوتا ہے۔

پانچواں سبب باطنی مناسبت

محب اور محبوب کے درمیان باطنی اور پوشیدہ مناسبت بھی محبت کا سبب ہوتی ہے، یہ محبت جمال یا نفع کی وجہ سے نہیں، بلکہ محض ارواح کے درمیان مناسبت کی وجہ سے ہوتی ہے جیسا کہ نبی اکرمﷺ نے فرمایا: فما تعارفَ منھا ائتلفَ و ما تناکرَ منھا اختلف (یعنی عالم ارواح میں جن میں ایک دوسرے سے تعارف ہو گیا ان کے درمیان الفت پیدا ہو گئی اور جو ایک دوسرے سے اجنبی رہے ان کے درمیان اختلاف ہو گیا۔(مسلم)

خلاصہ یہ کہ محبت کے پانچ اسباب ہیں۔

اللہ تعالیٰ ہی محبت کا مستحق ہے

اگر آپ غور کریں تومحبت کے یہ پانچوں اسباب اللہ تعالیٰ کی ذات میں جمع ہیں اور دوسروں میں یہ انفرادی طور پر پائے جاتے ہیں اور اللہ تعالیٰ میں یہ حقیقتاً ہیں اور دوسروں میں مجازاً۔ ہر صاحب بصیرت جانتا ہے کہ جو خودکو اور رب کائنات جل و علا کو جانتا ہے اس کا اپنا وجود کوئی ذاتی طور پر نہیں، اس کا وجود اور اس کا دوام اور کمال وجود سب اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے،اسی کی طرف جانا ہے،اسی کے ساتھ ہے، وہی بنانے والا، وہی عطا کرنے والا ہے، وہی باقی رکھنے والا ہے، اور صفات کمال کی تحقیق کے ذریعہ وہی اس کے وجود کو مکمل کرنے والا ہے، اسی نے وہ اسباب پیدا کیے جو اس تک پہنچاتے ہیں، اسی نےان اسباب کو عمل میں لانے کے لیے ہدایت کی تخلیق کی۔ لہٰذا پہلے سبب کی بنیاد پر محبت کا مستحق صرف اسی کی ذات ہے۔

اور اگر دوسرے سبب کے اعتبار سے دیکھو تو اس کے احسانات ان گنت۔ ہر نعمت کا خالق وہ ہے، معطی وہ ہے، حسن و جمال، خیر و کمال، ثروت و مال، عزت و

وقار اور علم و عرفان، ہر راحت و چین، ہر مسرت و شادمانی وغیرہ کون سی چیز ہے جو وہ نہیں دیتا ہے، اس کے انعامات و احسانات کو کون شمار کر سکتا ہے۔انسان کی حیات کا کوئی لمحہ اس کے احسانات سے خالی نہیں۔ بعد ممات ابد الآباد تک ساری نعمتیں اسی کی مرہون منت ہیں۔ لہٰذا یہ سبب بھی چاہتا ہے کہ اسی سے محبت ہو۔ تیسرے سبب کے اعتبار سے دیکھیں تو بھی وہی محبت کا مستحق، اللہ تعالیٰ سے بڑھ کر کون حسن و جمال کا مالک ہے، بڑے سے بڑے حسین کو اس نے حسن دیا اور ہر حسین و جمیل میں اسی کے حسن و جمال کا عکس و پرتو ہے، اسی کی تجلی ہے، اسی کا ظہور ہے۔ اسی طرح حسن باطن جس کی تعبیر کمالات سے کی جاتی ہے اس بنیاد پر بھی وہی محبت کا مستحق ہے، وہی جمیل مطلق ہے، اس کا ہر حسن ذاتی، ہر کمال ذاتی ازلی ابدی غیر متناہی ہے۔

پانچویں سبب محبت کی بنیاد پر بھی دیکھا جائے تو بھی وہی محبت کا مستحق ہے۔ حضرت امام قدس سرہ فرماتے ہیں کہ بندے اور اللہ تعالیٰ میں باطنی مناسبت ہوتی ہے، اس کا یہ مطلب نہیں کہ صورت و شکل ایک جیسی ہوتی ہے، بلکہ باطنی معانی کی طرف رجوع ہوتا ہے جن کے بعض کا ذکر جائز اور بعض کا جائز نہیں، بلکہ ان کا پردۂ غیب میں رہنا ہی ٹھیک ہے حتیّٰ کہ اس سے سالکان طریقت ہی آگاہ ہو سکیں جب وہ سلوک کی شرط پوری کر لیں۔ جو لائق ذکر بات ہے وہ یہ ہے کہ بندے ان صفات میں اپنے رب کا قرب حاصل کریں جن میں اقتدا اور اخلاق ربوبیت کا حکم ہے۔ کہا جاتا ہے تخلّقوا باخلاق اللہ (اللہ تعالیٰ کے اخلاق سے آراستہ ہو جاؤ) مطلب یہ کہ ان صفات کے محامد حاصل کرو جو اللہ تعالیٰ کی صفات ہیں جیسے علم، نیکی، احسان، مہربانی، مخلوق سے بھلائی اور رحمت کرنا، حق کی طرف رہنمائی کرنا وغیرہ امور جو شریعت میں اچھے اور خوبی شمار ہوتے ہیں۔ یہ سب قرب الٰہی کا سبب ہیں، لیکن یہ قرب مکانی نہیں ہوتا، بلکہ صفات میں قرب مقصود ہے اور جو

خاص مناسبت کتابوں میں لکھی نہیں جا سکتی اور وہ صرف آدمی میں پائی جاتی ہے، اس کی طرف آیت:

وَ یَسْـَٔلُوۡنَکَ عَنِ الرُّوۡحِ ؕ قُلِ الرُّوۡحُ مِنْ اَمْرِ رَبِّیۡ (سورۃ الإسرا: ۱۷؍۸۵)

ترجمہ: اور تم سے روح کو پوچھتے ہیں تم فرماؤ روح میرے رب کے حکم سے ایک چیز ہے۔’’

معلوم ہوا روح امر ربّانی ہے اور حد عقول سے خارج ہے، اس سے بھی واضح یہ ارشاد خداوندی ہے:

فَاِذَا سَوَّیۡتُہٗ وَنَفَخْتُ فِیۡہِ مِنۡ رُّوۡحِیۡ فَقَعُوۡا لَہٗ سٰجِدِیۡنَ (سورۃ الفجر: ۱۵؍۲۹)

ترجمہ: تو جب میں اسے ٹھیک کرلوں اوراس میں اپنی طرف کی خاص معزّز روح پھونک لوں تو اس کے لیے سجدے میں گر پڑنا۔’’

اسی لیے فرشتوں سے سجدہ کرایا اور آدم کو خلیفہ بنایا، آپ علی نبینا و علیہ الصلوٰۃ و السلام اسی مناسبت کی وجہ سے خلافت الٰہیہ کے مستحق ہوئے، نبی اکرمﷺ فرماتے ہیں:

إن اللہ خلقَ آدمَ علیٰ صورتہ (مسند امام احمد)

بیشک اللہ تعالیٰ نے آدم کو اپنی صورت پر پیدا کیا۔’’

جن کوتا ہ بینوں نے صورت کو صرف ظاہر پر محمول کیا وہ گمراہ ہوئے، مخلوق سے تشبیہ سے دی اور اس کے لیے جسم و صورت مان لی تعالی اللہ عن ذالک۔

اسی مناسبت کی طرف اشارہ ہے جو اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علی نبینا و علیہ الصلوٰۃ و السلام سے فرمایا کہ میں بیمار ہوا، تم نے میری عیادت نہ کی، عرض کیا: اے میرے رب! یہ کیسے؟ فرمایا کہ میرا فلاں بندہ بیمار ہوا، تم نےاس کی عیادت نہ کی، اگر عیادت کرتے تو مجھے اس کے پاس پاتے۔(مسند امام احمد)

معلوم ہو کہ یہ مناسبت اس وقت ظاہر ہوتی ہے جب فرائض کی تکمیل کے

بعد نفلی عبادت زیادہ سے زیادہ کرے۔ بخاری وغیرہ کی حدیث قدسی ہے: میرا بندہ نوافل کے ذریعہ برابر میرے قریب ہوتا رہتا ہے یہاں تک کہ میں اسے محبوب بنا لیتا ہوں تو اس کا کان بن جاتا ہوں جس سے وہ سنتا ہے، اور اس کی آنکھ بن جاتا ہوں جس سے وہ دیکھتا ہے، (اور بعض روایات کے مطابق) اس کا ہاتھ بن جاتا ہوں جس سے وہ پکڑتا ہے اور اس کا پیر بن جاتا ہوں جس سے وہ چلتا ہے۔