باب ۹ از ۵۴صفحات ۱۲۲–۱۳۳
۶۔خانوادۂ عجمیاں یا حبیبیاں
حضرت حسن بصریرضی اللہ عنہ کے مرید و خلیفہ حضرت حبیب عجمی (۱۵۶ھ ۷۷۳ء) سے جو صوفیہ منسلک ہوئے ہیں وہ عجمیاں یا حبیبیاں کہلاتے ہیں۔ مشہور صحابی حضرت عبد الرحمٰن بن عوفرضی اللہ عنہ کے خاندان
میں سے دو متقی اور پرہیزگار بھائی مبارک ابن حمزہ ابن عبد الرحمٰن ابن عوف اور ان کے بھائی محمد ابن حمزہرضی اللہ عنہم شیخ حبیب عجمی کے مرید ہوئے اور عزلت نشینی اختیار کی، شیخ نے انھیں ہدایت کی کہ کوہِ حرا میں جاکر عبادت میں مشغول ہو جاؤ، لوگوں سے میل جول نہ رکھو، مجرّد اور تنہا زندگی گزارو، سات دن کے بعد ایک کھجور یا دو کھجور یا زیادہ سے زیادہ تین کھجور کھاکر روزہ کھولا کرو ان دونوں نے بارہ سال تک کوہ حرا میں خلوت نشینی کی زندگی بسر کی اور عجمیاں کہلائے۔ عجمیاں دن میں دانہ پانی نہیں لیتے، فتوح قبول نہیں کرتے، پہاڑی میوہ اور جنگلی گھاس پر گزارہ کر لیتے ہیں، بیس یا چالیس دن کے بعد کھانا کھاتے ہیں، اتنا ہی کپڑا استعمال کرتے ہیں جو ستر کے لیے ضروری ہو، جنگلی جانور ان سے مانوس ہوتے ہیں، ساتویں دن افطار کرتے ہیں۔
۷۔خانوادۂ طیفوریاں
حضرت بایزید بسطامی جن کا اصل نام طیفور ابن عیسیٰ ہے بطریق اویسیت حضرت امام جعفر صادقرضی اللہ عنہ سے روحانی نسبت حاصل ہے۔ حضرت بایزید قدس سرہ سے منسوب حضرات طیفوریاں کہلاتے ہیں۔ شیخ مسعود، شیخ محمود، شیخ ابراہیم اور شیخ احمدرضی اللہ عنہم نے خانوادۂ طیفوریاں کی بنیاد ڈالی۔ طیفوریاں بعد خلافت خرقہ پہن لیتے ہیں جو چار قسم کا ہوتا ہے۔ طیفوریاں سات یا دس دن بعد روزہ کھولتے ہیں، دنیا اور اہل دنیا سے گریزاں اور جنگلی جانوروں سے مانوس ہوتے ہیں، کسی ذی روح کو تکلیف نہیں دیتے۔
۸۔خانوادۂ کرخیاں
حضرت معروف کرخی قدس سرہ (۲۰۰ھ۸۱۵ء) سے منسوب صوفیہ کرخیاں کہلاتے ہیں۔ آپ حضرت امام علی رضارضی اللہ عنہ (۱۵۹۔۳۰۸ھ ۷۷۲۔۸۲۳ء) کے غلام تھے۔ حضرت حبیب عجمی سے بھی خرقہ فقر پایا تھا۔ کرخیاں دنیا سے نفور اور خوف خدا سے ہر وقت گریاں رہتے ہیں، ان کا وقت خلوت، ذکر اور تلاوت میں گزرتا ہے، اپنے آپ کو ہر ایک سے کمتر سمجھتے ہیں۔
۹۔خانوادۂ سقطیاں
حضرت معروف کرخی کے مرید و خلیفہ حضرت سری سقطیرضی اللہ عنہ کی طرف یہ خانوادہ منسوب ہےمشہور خاندان برامکہ کے تین شخص؛ عزیر ابن یحیٰ برمکی، عمر ابن فضل برمکی اور علی ابن عبد اللہ برمکی نے حضرت شیخ سری سقطی قدس سرہ کا طریقہ اختیار کیا اور سقطیاں کہلائے۔ یہ لوگ صائم الدہر اور قائم اللیل رہتے ہیں، اکثر اعتکاف میں رہتے ہیں، تین روز بعد خلوت سے نکل کردوستوں کے ساتھ روزہ کھولتے ہیں، حلقہ بنا کر ذکر کرتےہیں۔
۱۰۔خانوادۂ جنیدیاں
سید الطائفہ حضرت جنید بغدادیرضی اللہ عنہ سے منسوب حضرات جنیدیاں کہلاتے ہیں، توکل ان کا شعار ہے، ریاضت و مجاہدہ میں مشہور ہیں، غیب سے جو کچھ آتا ہے اس پر روزہ افطار کرتے ہیں۔
۱۱۔خانوادۂ ذروفیاں
حضرت عبد اللہ ابن خفیفرضی اللہ عنہ کے مرید و خلیفہ شیخ ابو اسحاق ذروفی (۳۵۲۔۴۲۶ھ ۹۶۳۔۱۰۳۴ء) سے منسوب ہیں مخلوق میں رہ کر حق کا کام کرتے ہیں، اسم اعظم اور ایک مخصوص دعا کا اکثر ورد کرتے ہیں۔
۱۲۔ خانوادۂ فردوسیاں
حضرت نجم الدین کبریٰ ولی تراش (۶۱۸ھ ۱۲۲۱ء) فردوس کے رہنے والے تھے، شیخ ابو نجیب سہروردی قدس سرہ کے مرید و خلیفہ تھے۔ حضرت شیخ قدس سرہ نے خلافت عطا کرکے فرمایا کہ تم مشائخ فردوس میں سے ہو۔ اس وقت سے فردوسیاں کہلائے۔ اس خانوادے میں دو فرقے ہیں۔ ایک اپنے آپ کو فردوسیہ اور دوسرا کبرویہ کہلاتا ہے، فردوسیاں رقص و سماع اور وجد کو پسند کرتے ہیں، ذکر جلی کرتے ہیں، کھانے میں چون و چرا نہیں کرتے، کافر و مسلم اور غنی و فقیر میں کوئی امتیاز روا نہیں رکھتے۔
۱۳۔خانودۂ طوسیاں: حضرت شیخ نجم الدین کبریٰ اور شیخ علاء الدین طوسی (ساتویں صدی ہجری) کے درمیان اخوت دینی تھی، دونوں اکٹھے ہی حضرت سہروردی کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ حضرت طوسی سے منسوب طوسیاں کہلاتے
ہیں۔ ان کا اور فردوسیوں کا ایک ہی طریقہ ہے۔
۱۴۔خانوادۂ سہروردیاں
حضرت شیخ ابو النجیب سہروردی قدس سرہ سے منسوب سہروردیاں کہلاتے ہیں ۔ خیال رہے کہ ان چودہ خانوادوں میں سے پانچ حضرت عبد الواحد ابن زید کے توسط سے اور نو حضرت حبیب عجمی کے توسط سے حضرت حسن بصری تک پہنچتے ہیں۔
نیز معلوم ہو کہ خانوادہ کا مطلب کیا ہے، اور خانوادہ کس طرح ظہور میں آتا ہے؟ یہ اور اس طرح کی دیگر چیزیں ہم اپنی کتاب ‘‘سلاسل اور ان کے اسباب اختلاف’’ میں قدرے تفصیل سے بیان کر چکے ہیں۔ اس سے سمجھ میں آئےگا کہ یہ چودہ خانوادے کس وجہ سے شہرت پکڑ گئے، ورنہ خانوادے اسی تعداد میں منحصر نہیں ہیں۔ اس امت پر اس کے نبیﷺ کا خاص احسان یہ بھی ہے کہ مختلف اوقات میں مختلف ادوار و ازمان کے مناسب فیوضات اور کمالات کے لیے خاص خاص افراد کو چن لیا جاتا ہے جن کے ذریعہ ارواح و نفوس کا کام ہوتا رہتا ہےاور ان کا فیضان نہایت قوی اور پر تاثیر ہوتا ہے۔ ایسے افراد و اشخاص خانوادے کے وجود کا سبب بنتے ہیں۔ ان مختلف خانوادوں اور صوفیہ کرام کے مختلف طریقوں سے امت کو ہر وقت کے مناسب ظاہری و باطنی فیوضات اور کمالات امت کو ہاتھ آتے رہے اور آتے رہیں گے۔ قوموں کے مزاج اور ان کے تمدن اور مختلف ادوار میں استعدادوں کی کمی بیشی کے لحاظ سے یہ طرق مختلفہ بہت کام آئے اور شاید ان کے اختلاف میں یہی خاص حکمت ہو۔
نیز یہ دھیان رہے کہ صوفیہ کرام جو واقعۃً صوفیہ ہیں ان کے کچھ اخلاق و کمالات امور دنیا سے تعلق و ارتباط کی کچھ کیفیت ان مذکورہ خانوادہ سے آپ سمجھ سکتے ہیں۔ان میں ہر ایک کی سنت میں دلیل موجود ہے۔ ان کا کوئی بھی طریقہ اس سنت کے خلاف نہیں انھوں نے وقت اور حالات کے لحاظ سے ذکر کے طریقے اور
اپنا رہن سہن اور لوگوں سے تعلق اور ترک تعلق اختیار کیا۔ یہ سب اللہ تعالیٰ اور اس کے حبیبﷺ کی محبت و الفت اور ان کے کمالات علمیہ و عملیہ کی نشر و اشاعت کے لیے اگر آپ مختلف ادوار کے سلاطین و امرا یا خلفا کہلانے والوں کی تاریخ پڑھیں تو آپ یقین کر لیں گے کہ صوفیہ کرام نے اپنے مخصوص طریقوں سے انفاس قدسیہ نے دین کی اصل روح کو زندہ و تابندہ رکھا۔
حضرت شیخ الشیوخ قدس سرہ کی ہم مختصر تحریر سپرد قلم کرتے ہیں جس سے آپ اجمالی طور پر بآسانی سمجھ سکتے ہیں۔ خلفا و امراکی بے راہ روی سے خود ان پر اور رعایا پر جو اثرات پڑے اور دنیا کی میلان و رغبت اور پھر اس کی وجہ سے جو فسادات وجود میں آئے ان کے تناظر میں صرف یہی ایک طبقہ ایسا نظر آتاہے جس نے سب راستوں کو بالاے طا ق رکھ کراصل دین کو اس کے ظاہر و باطن کے ساتھ زندہ کیا۔
حضرت شیخ الشیوخ قدس سرہ کا ارشاد: ‘‘رسول خداﷺ کا عہد مسعود ختم ہونے کے بعد جن حضرات نے صحابہ کرام سے تعلیم حاصل کی اور شرف صحبت پایا ان کو تابعی کے نام سے موسوم کیا گیا، لیکن عہد رسالت اور انقطاع وحی کی مدت مدید گزر گئی اور نور مصطفویﷺ روپوش ہوئے ایک عرصہ گزر گیا، لوگ مختلف الآرا ہو گئے اور لوگوں کے راستے الگ الگ ہو گئے، ہر صاحب الراے اپنی راے میں خود راے ہو گیا اور اس طرفہ خیالی اور آزادیِ راے کا نتیجہ یہ نکلا کہ نفسانی خواہشات نے عملی فضا کو مکدر کر دیا، پرہیزگاروں کی بنیادیں ہل گئیں اور زاہدوں کے ارادے متزلزل ہو گئے، جہالتوں نے غلبہ پا لیااور اس کے کثیف پردے دلوں میں پڑ گئے، عادتیں بگڑ گئیں اور ارباب دنیا زخرفات دنیا میں گھر گئے اور خطا کاریوں میں مبتلا ہو گئے، لوگ اعمال صالحہ چھوڑ بیٹھے، بد اعمالیوں میں گرفتار ہو گئے، نہ صدق عزیمت ان میں باقی رہی اور نہ قوت دینی اوریہ سب دنیا اور دنیا کی محبت
ایسے ناشائستہ اور غیر صالح ماحول میں کچھ حضرات نےعزلت اور گوشہ نشینی کو غنیمت سمجھا اور زاویوں میں جاکر بیٹھ گئے۔ کبھی کبھار یہ لوگ وہاں جمع ہوتے اور پھر الگ ہو جاتے، ان میں اہل صفہ کا نمونہ موجود تھا، اسباب کو انھوں نے چھوڑ دیا اور ہمہ تن اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ ہو گئے جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ ان کے نیک اعمال کے اچھے نتائج برآمد ہوئے اور اس ریاضت کے باعث ان میں صفاے فہم پیداہوئی اور علوم الٰہیہ کے قبول کرنے کے لائق بن گئے اور اس طرح ان کو ظاہری زبان کے ساتھ باطنی زبان اور عرفان حاصل ہے۔ ایک اور نیا عرفان حاصل ہوا اور اس طرح ایمان ظاہری کے ساتھ ساتھ وہ ایمان باطنی سے بھی بہرہ ور ہو گئے جیسا کہ حضرت حارثہرضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ جب مجھے غیر معمولی ایمان کا مرتبہ ا کشف ہوا جو عام لوگوں میں نہیں پایا جاتا ہے تو اس وقت میں حقیقی اور صحیح معنوں میں مومن بن گیا۔ ان علوم نے ان زاویہ نشینوں اور گوشہ نشینوں کو نئے علوم سے واقف کرایا اور انھوں نے ان علوم جدیدہ کے ذریعہ ایسی اور علامات وضع کیں جو ان کے خیالات کی ترجمانی کر سکیں اور ان کے وجدان و باطنی کیفیات کو ظاہر کر سکیں۔ انھی اصطلاحات اور انھی علوم جدیدہ کو تعلیمات تصوف یا تصوف کہا جانے لگا اور پھر اخلاف نے اپنے اسلاف سے اس کی تعلیمات حاصل کرنا شروع کی اور یہ سلسلہ جاری و ساری ہو گیا اور یہ حضرات خود بھی اسی نام سے موسوم ہو گئے (صوفی کہلائے) پس اس وقت سے یہ علم ان کی نشانی ہے اور علم الٰہی ان کی صفت ہے، عبادت الٰہی ان کا سراپا ہے، تقویٰ ان کا لباس ہے اور حقیقت الٰہیہ کے اسرار ان کے حقائق ہیں۔
مقاصد کی تحصیل
انسان کے ظاہر و باطن کی تعمیر اور نور مصطفوی کی بقا و
>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>
۔ عہد بنو امیہ اور بنی عباس کی تاریخ ملاحظہ کیجیے، مصنف علام کا ایک ایک لفظ ان دونوں ادوار کی اخلاقی اور ایمانی حالت پر صادق آتا ہے۔
تحفظ کے لیے صوفیہ کرام نے باضابطہ ایک لائحہ عمل مرتب کیا اور اس کے لیے مختلف طرح کی محنتیں کیں اور مختلف طریقے اپنائے، ہم چند ذکر کرتے ہیں:
بیعت و ارادت اور اس کے فائدے: ارشاد و اصلاح اور کمالات باطنی کے لیے سب سے مؤثر طریقہ بیعت ہے۔ آج ہم دیکھتے ہیں کہ اصلاح کے نام کے متعدد ذرائع ہیں۔ مثلاً ایک ذریعہ مدارس عربیہ ہیں، ان کی افادیت مسلم ہے، بڑےبڑے اہل علم و اہل قلم پیدا کیے جا سکتے ہیں ،مگر یہ دولت خاص خاص لوگ ہی حاصل کر سکتے ہیں اور خاص خاص کو ہی ملی ہے، ان کا ہر ایک اہل بھی نہیں۔ لہٰذا ان کے ذریعہ عمومی اصلاح اور تربیت و ارشاد کا کام نہیں لیا جا سکتا ہے اور نہ کسی بڑے پیمانے پر کسی دینی و روحانی انقلاب کی توقع کی جا سکتی ہے۔
دوسرا طریقہ مجالس وعظ و تقریر ہیں۔ ان مجالس میں نہ تو عام طور پر لوگ شریک ہوتے ہیں نہ ان سے خاص کر اس دور میں لوگ واعظ و مقرر سے مطمئن ہوتے ہیں اور نہ اس میں ہر ایک دلوں کی تسکین کا سامان پاتے ہیں۔ نیز ہمہ گیر اصلاح اور مستقل تربیت اور زندگی میں جن گہرے تغیرات کی ضرورت ہے وہ وجود میں آتے ہیں۔ مستقل تربیت چاہتی ہے کہ داعی و مبلغ سے گہرا ربط و تعلق تسلسل کے ساتھ ہو اور ان مجالس کے شرکا میں سامعین میں یہ کچھ نہیں، وہ پورے طور پر آزاد ہوتے ہیں۔ کبھی آتے ہیں کبھی نہیں آتے ہیں، اگر مسلسل آئیں تب بھی یہ توقع نہیں کی جا سکتی ہے کہ ظاہر و باطن کی مکمل اصلاح ہو سکتی ہے اور شریعت کے کامل پابند ہو سکتے ہیں اور وہ کیفیتیں پیدا ہو سکتی ہیں جو ہم بہت پہلے ذکر کر چکے ہیں۔
تیسرا طریقہ اچھی اور مفید کتب کا مطالعہ ہے، مگر اس سے بھی کامل عقائد و اعمال کی اصلاح کی امید نہیں کی جا سکتی ہے نہ تو ہر ایک اتنا پڑھا لکھا ہے کہ ہر کتاب سمجھ لے اور نہ ہر ایک کے پاس اتنا وقت ہے اور نہ پڑھنے والا مصنف سے اس
قدر مانوس ہوتا ہے کہ وہ ہر بات قبول ہی کر لے۔ آج تجربہ شاہد ہے، بازار میں کتابوں کا ایک ذخیرہ موجود ہے اور بڑی خطیر رقومات اس کام پر خرچ ہو رہی ہیں، مگر اصلاح کی صورت میں جو ان سے فائدہ ہونا چاہیے وہ نا کے برابر ہے۔ پھر یہ خاص دھیان رہے کہ تزکیہ نفس اور تصفیہ قلب کے لیے جس نور الٰہی کی ضرورت ہے اور جو مسلسل فیضان درکار ہے وہ بجز بیعت و ارادت کسی سے حاصل نہیں ہو سکتا ہے۔ آج جب کہ خانقاہیں اپنا روحانی وقار کھو چکی ہیں بیعت وغیرہ ایک رسمی سی چیز بن کر رہ گئی ہیں مشائخ سے جن روحانی کمالات کی توقع کی جا سکتی تھی وہ ناپید ہو چکے ہیں، مگر پھر بھی عقائد و اعمال کی اصلاح عوامی سطح پر جو ان سے ہو رہی ہےوہ کسی سے پوشیدہ نہیں۔ جب اس بگڑی ہوئی صورت سےاس قدر فائدہ ہے تو اگر اس کام کو شرعی ذمہ داریوں کے ساتھ کیا جائے تو کتنا بڑا کام ہو سکتا ہے۔ حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی قدس سرہ نے کتاب ‘‘القول الجمیل’’ میں بیعت کا سنت ہونا ثابت کیا ہے، مولوی خرم علی صاحب نے حاشیہ میں تحریر کیا ہے کہ اس سنت کو صوفیہ کرام نے زندہ کیا اور زندہ رکھا۔ لہٰذا وہ اس ثواب کے مستحق ہیں جو احیاے سنت پر حدیث میں آیا ہے۔
بیعت کے مختلف طریقے
مختلف سلاسل کے متقدمین و متأخرین صوفیہ میں بیعت کے مختلف طریقے رائج رہے ہیں اور ان کے مختلف مقاصد تھے، بہت سے ختم ہو چکے ہیں۔ چوں کہ جہالت عام ہے، بہت سے کفر و اسلام تک کے درمیان تمیز نہیں کر پاتے، نادانی میں کلمات کفریہ بک جاتے ہیں ۔ ایسے بھی تجدید ایمان ایک عمدہ چیز ہے، حدیث شریف میں ہے: جَدِّدوا إیمانکم بقولِ لاإلٰہ إلا اللہ’’ (یعنی کلمہ طیبہ کے ذریعہ اپنے ایمانوں کی تجدید کرتے رہو) اس کے پیش نظرعموماً کلمہ طیبہ اور کلمہ شہادت پڑھاتے ہیں اور ایمان مفصل میں جو دینی ضروریات بیان کیے گئے ہیں، ان پر ایمان و تصدیق اور اقرار کرا کر گناہوں سے
توبہ اور آئندہ کے لیے اجتناب اور ارکان اسلام کی بجا آوری پر عہد لیتے ہیں۔ اگر ایک آدمی ہوتا ہے تو ہاتھوں میں مرید کے ہاتھ لے کر ورنہ زیادہ کی صورت میں کپڑا وغیرہ پکڑواکر ہی بیعت لیتے ہیں۔ محتاط علما و مشائخ بوقت بیعت بھی عورتوں کو منہ کھولنےکی اجازت نہیں دیتے، بلکہ ان مشائخ سے ملنا پسند نہیں کرتے ہیں جو بے پردہ بیعت لیتے ہیں۔ کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ سلسلے کے کسی بزرگ کے مزار پر اگر ہوتے ہیں تو مزار شریف کی چادر پکڑ کر بیعت لیتے ہیں اور عہد و پیمان کرتے ہیں ۔
معلوم ہو کہ بیعت کا خاص مقصد بیان کرتے ہوئے ایک اہل قلم نے لکھا جس کا خلاصہ یہ ہے کہ مسلمانوں میں نئی دینی زندگی، نیا نظم و ضبط اور نئے سرے سے حرکت و عمل پیدا کرنےکے لیے رسول اللہﷺ کے طریقہ پرایمان و عمل اور اتباع شریعت کے لیے بیعت لے اور مسلمان اس کے ہاتھ پر اپنی سابقہ غفلت و جاہلیت کی زندگی سے توبہ اور ایمان کی تجدید کریں اور پھر وہ نائب پیغمبر ان کی دینی نگرانی اور تربیت کرے، اپنی کیمیا اثر صحبت، اپنے شعلۂ محبت، اپنی استقامت اور اپنے نفس گرم پھر ایمانی حرارت، گرمیِ محبت، خلوص و للٰہیت، جذبۂ اتباع سنت اور شوق آخرت پیدا کر دے، ان کو اس نئے تعلق سے محسوس ہو کہ انھوں نے ایک نئی زندگی سے توبہ کی ہے اور نئی زندگی میں قدم رکھا ہے اور کسی اللہ کے بندےکے ہاتھ میں ہاتھ دے دیا ہے وہ بھی یہ سمجھے کہ ان بیعت کرنے والوں کی اصلاح و تربیت اور ان کی دینی خدمت اللہ تعالیٰ نے میرے سپرد کی ہے اور اس محبت و اعتماد کا مجھ پر نیا حق قائم ہو گیا ہے۔ پھر اپنے تجربہ و اجتہاد اور کتاب و سنت کے اصول و تعلیمات کے مطابق ان میں صحیح روحانیت، تقویٰ اور ان کی زندگی میں ایمان و احتساب و اخلاص اوران کے اعمال و عبادات میں کیفیات اور روح پیدا کرنے کی کوشش کرے’’ (تزکیہ و احسان)
جو رسمی شیخ یا صوفی نہیں، بلکہ حقیقی صوفی و شیخ ہوتے تھے ان کے مقاصد یہی
تھے اور وہ ظاہر و باطن کی تعمیرو ترقی اور اصلاح و تربیت اخلاق حسنہ سے اتصاف اور اخلاق سیئہ سے اجتناب اور غیر اللہ سے علمی و حبیّ تعلق چھڑا کر خدا وند قدوس سے رشتہ جوڑنا چاہتے تھے اور بندوں کو وصول کی دولت سے مالا مال کرنا چاہتے تھے؛ اس لیے بیعت کے وقت وہ ایسے کام بھی کرتے تھے جن سے مرید ہونے والا انسان احساس کر لے کہ ہم پہلی زندگی چھوڑ کر نئی زندگی میں قدم رکھ رہےہیں اور اس نئی زندگی کے اصول و ضواط کی روشنی میں ہم پر کیا کیا ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں۔ مثلاً گواہوں کے سامنے بیعت لیتے، اسے خانقاہ یا تکیہ میں چالیس روز کے لیے خلوت میں رکھتے، سر پر استرا پھیرتے یا بال کم کرتے، کبھی مرید کے تین بال کاٹ لیتے، دو بال سر کے دائیں جانب سے جو اس بات کا اشارہ ہوتا کہ مرید نے دو جہان سے قطع تعلق کر لیا ہے اور ایک بال سر کے بائیں جانب سے جو اس کے قطع وجود کی طرف اشارہ کرتا۔ بعض مشائخ فرماتے ہیں کہ طالب و مطلوب کے درمیان تین کثیف ترین پردے ہوتے ہیں: (۱)مخلوق جو طاعت و عبادت کا محاسبہ ہے (۲)دنیا جو عقبیٰ کا محاسبہ ہے (۳) عقبیٰ جو بندے اور مولیٰ کے درمیان محاسبہ ہے؛ اس لیے تین بال کاٹتے جو اشارہ ہوتا کہ مرید تینوں پردے چاک کرتا ہے۔
بعض حضرات چار کاٹتے؛ ایک ایک بال کرکے دونوں جانب سے، ایک پیشانی سے اور ایک سر کے پچھلے حصے سے تراش لیتے۔ ان کے نزدیک چار حجابات ہیں: تین مذکورہ بالا اور چوتھا نفس۔ بعض مشائخ اپنا دایاں ہاتھ مرید کے دائیں ہاتھ پر اس طرح رکھتے کہ انگوٹھے ایک دوسرے سے محکم طور پر ملحق ہو جاتے ، اس کے بعد شیخ سورۃ القارعۃ پڑھ کر مرید کے سینے پر دم کرتا، اس کے بعد شیخ ہاتھ پلٹ کر مرید کا ہاتھ اوپر کر دیتا ہے اور یہ الفاظ کہتا ہے: ‘‘ہمیں قبول کیا یا ہمارے شیخ کو قبول کیا؟ ہمارے شیخ کے شیخ کو قبول کیا اور پیروں کو قبول کیا؟ ’’ مرید جواب دیتا ہے: ‘‘میں نے قبول کیا’’ اس پر شیخ کہتا ہے: الحمد للہ ہم نے تجھے قبول کیا اور شیخ و مشائخ
اپنے خواجگان کے سلسلے میں تجھ کو داخل کیا’’ اس کے بعد شیخ طاقیہ (کلاہ چہار ترکی) پہلے اپنے سر پر رکھتا ہے، پھر مرید کے سر پر رکھتا ہے اور تکبیر اللہ اکبر اللہ اکبر لا إلٰہ إلا اللہ و اللہ اکبر اللہ اکبر و للہ الحمد کہتا۔ مرید شکرانے کے طور پر دو رکعت نماز ادا کرتا ہےبایں طور کہ ہر رکعت میں فاتحہ کے بعد تین بار سورہ اخلاص پڑھتا، سلام کے بعد سجدہ کرکے عرض حاجت کرتا؛ کیوں کہ یہ استجابت دعا کا وقت ہوتا ہے۔ (مطالعہ تصوف وغیرہ)
اس سب کے ساتھ مرید کو آداب طریقت سکھائے جاتے اور ایک مرید کو شیخ سے گہرے تعلق اور عشق و محبت کی کیا ضرورت ہے، بتایا جاتا۔
معلوم ہو کہ کامل صوفیہ کرام مرید کے تزکیہ نفس وغیرہ کے لیے شریعت کی پابندی کرتےاور مجاہدات و ریاضات کراتے اور بہت سے ایسے امور جو نفس پر نہایت شاق ہوتے؛ اس لیے صوفیہ کرام طلب کی سچائی کا امتحان بھی لیتے، کبھی کبھی بار بار واپس کرتے، بھگاتے، جب ہر طرح سے صدق سامنے آجاتا داخلِ سلسلہ کرتے۔ نیز کامل صوفیہ کا مقصد قرب و عرفان خداوندی کی دولت عطا کرنا ہوتا، خود مریدوں پر بڑی محنت کرتے، احکام شریعت کی تعلیم بھی دیتے اور اوقات مخصوصہ میں باطنی توجہات بھی فرماتے، ورنہ خالی تعلیم و تعلم سے روحانی جلا میسر نہیں آسکتا ہے، نور باطن کو توجہات کے ذریعہ منتقل کرتے، بلکہ تزکیہ و تصفیہ میں سب سے زیادہ دخل ہی ان توجہات کو ہے۔ ان کے ذریعہ وہ مریدوں کے باطن میں تصر ف کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے بندوں میں بغیر مرضی مولیٰ تصرف مناسب نہیں سمجھتے؛ اس لیے مرید کرنے سے پہلے استخارہ کرتے۔ جب اجازت ملتی تب مرید کرتے۔ اب تو مرید کرنے کے لیے دوڑے دوڑے پھرتے ہیں، حیلہ سازی کرتے ہیں، ایک دوسرے سے جھگڑتے ہیں۔ چوں کہ اس سے تمام دنیوی اغراض کا حصول؛ دولت بھی عزت بھی، جسم کی راحت بھی، افسوس افسوس! جو
پہلے ترک دنیا کے لیے ساری کوشش کرتے تھے اب ان کا نام لینے والے طلب دنیا کے لیے سب کچھ کر رہے ہیں۔ معلوم رہے کہ مرید و پیر وغیرہ کے کچھ آداب ہم اپنی کتاب ‘‘آداب طریقت’’ میں بیان کر چکے ہیں۔ نیز بعض اقسام بیعت بھی۔