باب ۴۹ از ۵۴صفحات ۵۹۱–۶۰۶
چھ آفتیں
مذمت کرنا تو غیبت ہے ہی تعریف کرنے میں بھی چھ آفتیں ہیں جن میں سے چار کا تعلق تو تعریف کرنے والے سے ہے اور دو کو جس کی تعریف کی جائے یعنی ممدوح سے:
(1) تعریف حد سے بڑھ کر ہو یہاں تک کہ جھوٹ تک پہنچ جائے،حضرت خالد بن معدان رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: جو شخص اپنے حکمراں یا کسی دوسرے شخص کی تعریف لوگوں کے سامنے کرتا ہے حالانکہ وہ بات اس میں نہیں ہے تو قیامت کے دن اللہ اسے یوں اٹھائے گا کہ اس کی زبان میں لکنت ہوگی۔
(2) دوسری آفت یہ ہے کہ وہ اس میں ریا کو داخل کرتا ہے وہ تعریف کے
ذریعہ اظہار محبت کرتا ہے اور بعض اوقات وہ اسے چھپاتا بھی نہیں لیکن جو کچھ وہ کہتا ہے اس کا اعتقاد نہیں رکھتا اس طرح وہ ریا کار منافق ہے۔
(3) تیسرے یہ کہ وہ تحقیق کے بغیر گفتگو کرتا ہے اور اسے اس پر اطلاع نہیں یہ آفت ان اوصاف کے ساتھ تعریف پر مشتمل ہے جو دلائل سے معلوم ہوتے ہیں جیسے تم کہو : وہ مفتی ہے،زاہد ہے اور اچھا انسان ہے، اسی طرح دیگر صفات کا ذکر کرو لیکن جب تم کہو کہ رات کے وقت میں نے اسے نماز پڑھتے ہوئے دیکھا،میں نے اسے صدقہ کرتے اور حج کرتے ہوئے دیکھا ہے تو یہ یقینی امور ہیں،وہ اوصاف جو مخفی ہیں مثلا وہ عادل ہے ،راضی رہنے والا ہے تو جب تک اس کے باطن کا علم نہ ہو قطعی طور پر کچھ نہ کہے۔
حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ایک شخص کو کسی دوسرے آدمی کی تعریف کرتے ہوئے دیکھا تو آپ نے پوچھا کیا تم نے اس کے ساتھ سفر کیا ہے؟ اس نے کہا نہیں،فرمایا: کیا خرید وفروخت اور دیگر معاملات میں اس کے ساتھ واسطہ پڑاہے؟ عرض کیا نہیں،فرمایا : کیا تم صبح وشام اس کے پڑوس میں گذارتے ہو؟ کہا: نہیں، فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے سوا کوئی معبود نہیں! میرے خیال میں تم اسے نہیں جانتے ہو۔
(4)تعریف کے ذریعہ وہ ممدوح کو خوش کرتا ہے حالانکہ وہ ظالم وفاسق ہے اور یہ جائز نہیں ،جس کی تعریف کی جاتی ہے اس کو دو طرح کا نقصان ہوتا ہے ایک یہ کہ اس میں غرور وتکبر اور خود پسندی آتی ہے اور یہ دونوں باتیں مہلک ہیں،دوسرے یہ کہ جب وہ اس کی اچھی تعریف کرتا ہے تو ممدوح خوش ہوتا ہے اور اپنے اعمال پر راضی۔ اس وجہ سے اس کی کوشش میں کمی آجائے گی، اس لیے کہ زیادہ محنت وہ کرتا ہے جو اپنے اندر کمی دیکھتا ہے لیکن تعریف کی وجہ سے وہ خود کو کامل سمجھ لے گا۔
حضرت امام قدس سرہ فرماتے ہیں اگر تعریف کرنے کی وجہ سے،تعریف کرنے والے اور ممدوح میں مذکورہ باتیں نہ پائی جائیں تو تعریف میں کوئی حرج نہیں،لیکن بعض اوقات تعریف کرنا بہتر ہوتا ہے،اسی لیے آقا علیہ السلام نے صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم کی تعریف فرمائی ہے،ہاں نبی اکرم ﷺ نے جو کچھ فرمایا وہ سچ بھی ہے اور بصیرت پر مبنی بھی اور صحا بہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا مقام اس سے بلند تھا کہ ان میں تکبر،خود پسندی اور کوتاہی پیدا ہو۔ تعریف کے وقت مذکورہ اصولوں کو سامنے رکھنا بھی ضروری ہے ورنہ خطر در خطر ہے،خیال رہے کہ جس طرح صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اپنے نفوس زکیہ کی وجہ سے تکبر وخود پسندی وغیرہ سے پاک تھے اسی طرح وہ نفوس قدسیہ جو اپنے نفوس کا تزکیہ کرکےولایت کی منزل پر فائز ہو جاتے ہیں وہ بھی تعریف کی آفتوں سے پاک رہتے ہیں،ان کے منھ پر اگر ان کے واقعی اوصاف ذکر کیے جائیں تو ان کے نفوس میں کوئی بھی تغیر نہیں آتا ہے۔
یہ خیال رہے کہ ممدوح تعریف کی آفتوں سے اس وقت بچ سکتا ہے جب کہ نفس مزکیّٰ ہو اور وہ اپنے کو پہچانے اور خاتمہ کی اہمیت میں غور کرے،ریا کاری کی باریکیوں اور اور اعمال کی آفتوں کو سمجھے کیونکہ اپنے آپ کو جتنا وہ خود جانتا ہے اتنا تعریف کرنے والا نہیں جانتا ،حضرت سفیان بن عیینہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں: جو شخص خود کو پہچان لیتا ہے اسے تعریف نقصان نہیں دیتی،ایک نیک آدمی کی تعریف کی گئی تو انھوں نے کہا : اے اللہ !یہ لوگ مجھے پہچانتے نہیں،تو مجھے پہچانتا ہے۔ حضرت علی کرم اللہ وجہہ کی جب تعریف کی گئی تو یوں فرمایا: اے اللہ جو کچھ یہ کہتے ہیں اس پر میرا مؤاخذہ نہ فرمانا،اور مجھے ان لوگوں کے گمان سے بہتر بنادے۔حضرت عمر فاروق اعظم رضی اللہ عنہ نے اپنی تعریف کے وقت تعریف کرنے والے سے فرمایا: تو مجھے اور اپنے آپ کو ہلاک کرنا چاہتا ہے۔
اہم تنبیہ
خیال رہے کہ تعریف کا لوگوں کو اس قدر بھوت سوار ہے کہ جب کوئی دوسرا نہیں کرتا ہے تو وہ خود کرنے لگتے ہیں اور اپنے اوصاف وفضائل اور افعال واعمال بیان کرنے لگتے ہیں،اس سے ان کا مقصد وہی ہے جو آپ نے پڑھا، یہ اکثر ریا کاری پر مبنی ہوتا ہے لیکن بعض ارباب نفوس زکیہ اولیائے کرام رضوان اللہ علیہم نے جو اپنے فضائل ومناقب بیان فرمائے وہ بہ الہام الٰہی تھے اور سراسر مصلحت پر مبنی ہوتے تھے جیسا کہ حضرت غوث پاک اور حضرت مجددالف ثانی وغیرہما سے منسوب ہیں قدس اللہ اسرارہم العالیہ۔ فقیر نے زبان کی یہ چند آفتیں ذکر کردیں تفصیل کے لیے احیاء العلوم شریف کا مطالعہ کریں۔
اسراف: اسراف ممنوع اور نا جائز ہے ارشاد خداوندی ہے:
وَلَا تُسْرِفُوۡا ؕ اِنَّہٗ لَا یُحِبُّ الْمُسْرِفِیۡنَ(سورۃ الانعام: ۶؍۱۴۱)
بیہودہ سرف نہ کرو بے شک اللہ تعالیٰ بیہودہ اسراف کرنے والوں کو پسند نہیں فرماتا ہے۔’’
(2)اللہ تعالیٰ جل شانہ کا ارشاد ہے:
وَلَا تُبَذِّرْ تَبْذِیۡرًا اِنَّ الْمُبَذِّرِیۡنَ کَانُوۡۤا اِخْوَانَ الشَّیٰطِیۡنِ ؕ وَکَانَ الشَّیۡطٰنُ لِرَبِّہٖ کَفُوۡرًا(سورۃ الاسرا: ۱۷؍۲۶)
مال بے جا نہ اڑا بے شک بے جا اڑاانے والے شیطانوں کے بھائی ہیں اور شیطان اپنے رب کا بڑا ناشکرا ہے۔’’
آیت کریمہ میں جس اسراف وتبذیر کی ممانعت ہے اس کی تفسیر میں علما کے چند اقوال ہیں،امام اہل سنت اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ نے گیارہ اقوال نقل فرمائے اور آپ کے نزدیک جو سب سے زیادہ جامع ،نافع اور واضح ہے وہ یہ ہے کہ اسراف کہتے ہیں غیر حق میں خرچ کرنا،یہ تفسیر سیدنا عبد اللہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمائی اور یہ اس کے قریب ہے جو تاج العروس میں بعض سے نقل کیا
گیا کہ ‘‘وضع الشی فی غیر موضعہ’’ یعنی بے جا خرچ کرنا۔
ابن ابی حاتم نے امام مجاہد تلمیذ سیدنا عبد اللہ ابن عباس رضی اللہ عنہم سے روایت کی: لو انفقت مثل ابی قبیس ذھبا فی طاعۃ اللہ لم یکن اسرافا ولو انفقت صاعا فی معصیۃ اللہ کان اسرافا’’
یعنی اگر ابو قبیس پہاڑ برابر سونا بھی اللہ کی اطاعت میں خرچ کرو تو یہ اسراف نہ ہوگا جب کہ اللہ کی معصیت میں ایک صاع بھی خرچ کرو تو یہ اسراف ہے۔
کسی نے حاتم کی دادودہش پر کہا ‘‘لا خیر فی سرف’’اسراف میں خیر نہیں تو اس نے جواب دیا‘‘لاسرف فی خیر’’ خیر میں اسراف نہیں،اقول :حاتم کا مقصود تو خدا نہیں تھا بلکہ کام تھا جیسا کہ اس پر حدیث میں نص فرمائی تو اس کی ساری داد ودہش اسراف ہی تھی مگر خیر کی سخا میں بھی شرع مطہر نے اعتدال کا حکم دیا ہے۔
(1)ارشاد خداوندی ہے:
وَلَا تَجْعَلْ یَدَکَ مَغْلُوۡلَۃً اِلٰی عُنُقِکَ وَ لَا تَبْسُطْہَا کُلَّ الْبَسْطِ فَتَقْعُدَ مَلُوۡمًا مَّحْسُوۡرًا (ورۃ الاسرا: ۱۷؍۲۹)
اپنا ہاتھ تو اپنی گردن سے بندھا ہوا نہ رکھ اور نہ پورا کھول دے کہ تو ملامت کیا ہوااور تھکا ہوا بیٹھ رہے۔’’
(2) وَالَّذِیۡنَ اِذَاۤ اَنۡفَقُوۡا لَمْ یُسْرِفُوۡا وَلَمْ یَقْتُرُوۡا وَکَانَ بَیۡنَ ذٰلِکَ قَوَامًا(سورۃ الفرقان: ۲۵؍۶۷)
ترجمہ: اور وہ کہ جب خرچ کرتے ہیں نہ حد سے بڑھیں اور نہ تنگی کریں اور ان دونوں کے بیچ اعتدال پر رہیں۔
(3) کُلُوۡا وَ اشْرَبُوۡا وَلَا تُسْرِفُوۡا(سورۃ الاعراف: ۷؍۳۱)
کھاؤ پیو اور اسراف نہ کرو۔
(4) وَ اٰتُوۡا حَقَّہٗ یَوْمَ حَصَادِہٖ ۫ۖ وَلَا تُسْرِفُوۡا(سورۃ الانعام: ۶؍۱۴۱)
اس کی کٹائی کے دن اس کا حق دو اور اسراف نہ کرو۔’’
اس آیت کریمہ کے شان نزول میں ثابت ابن قیس رضی اللہ عنہ معروف ومشہور ہیں جیسا کہ جریر اور ابن ابی حاتم نے ابن جریر سے اور دیگر صحابہ سے حدیث مروی ہے کہ حضور اقدس ﷺ نے تصدق کا حکم فرمایا،فاروق اعظم رضی اللہ عنہ خوش ہوئے کہ اگر میں کبھی ابوبکر صدیق پر سبقت لے جاؤں گا تو وہ یہی باری ہے کہ میرے پاس مال بسیار ہے اور آپ نے اپنے جملہ اموال سے نصف حاضر خدمت اقدس لائے،حضور نے فرمایا: اہل وعیال کے لیے کیا رکھا ہے؟ عرض کیا اتنا ہی، اتنے میں صدیق اکبر رضی اللہ عنہ حاضر خدمت ہوئے اور اپنا کل مال حاضر خدمت لائے اور گھر میں کچھ نہ چھوڑا،ارشاد ہوا اہل وعیال کے لیے کیا رکھا؟عرض کی کہ اللہ اور اللہ کا رسول جل جلا لہ وﷺاس پر حضور پر نور ﷺنے فرمایا تم دونوں میں وہی فرق ہے جو تمہارے جوابوں میں۔
اور تحقیق یہ ہے کہ عوام کے لیے وہی حکم میانہ روی ہے جبکہ صدق توکل اور کمال تبتل والوں کی شان بڑی ہے،حضرت بلال رضی اللہ عنہ سے آقائے کریم علیہ السلام نے ارشاد فرمایا:انفق یا بلال ولا تخش من ذوی العرش اقلالا’’ اے بلال! خرچ کرو اور مالک عرش سے کمی کا اندیشہ مت کرو۔ (ابو یعلیٰ، طبرانی، بیہقی)
اس حدیث پاک کا پس منظر یہ ہے کہ رسول اکرم ﷺنے حضرت بلال رضی اللہ عنہ کے پاس ایک خرمن خرمہ ملا حظہ فرمایا ،ارشاد ہوا بلال یہ کیا ہے؟ عرض کی: حضور کے مہمانوں کے لیے چھوڑا ہے،فرمایا: اما تخشی ان یکون لک دخان فی نار جہنم’’ کیا ڈرتا نہیں کہ اس کے سبب آتش دوزخ میں تمہارے لیے دھواں ہو،خرچ کر اے بلال! اور عرش کے مالک سے کمی کا خوف نہ کر۔
ان ہی حضرت بلال رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم ﷺنے
ان سے فرمایا: اے بلال فقیر مرنا اور غنی نہ مرنا، عرض کی اس کے لیے کیا طریقہ برتوں؟ فرمایا: مارزقت فلا تخبا وما سئلت فلا تمنع’’ جو تجھے ملے اسے نہ چھپا اور جو تجھ سے مانگا جائے انکار نہ کر،عرض کی یا رسول اللہ یہ میں کیوں کر کرسکوں؟ فرمایا: ھو ذاک او النار’’ یا یہ یا دوزخ۔ ان پر تاکید اس لیے تھی کہ وہ اصحاب صفہ سے تھے اور ان حضرات کا عہد تھا کہ کچھ پاس نہ رکھیں گے۔اقول: ہاں! اور ہم بھی نہیں کہتے کہ ایسا کرنا ہر ایک کے لیے لازم ہے مگر ان حضرات پر اس کے لازم فرمانے سے پتہ چلتا ہے کہ یہ کام فی نفسہ محمود ہے اور ہر صادق التوکل کو اس کی اجازت ہے، ورنہ ان کو بھی منع کیا جاتا،جیسے ایک صاحب نے عمر بھررات کو نہ سونے کا عہد کیا،ایک نے عمر بھر روزے رکھنے کا اور ایک نے نکاح نہ کرنے کا آقا علیہ السلام نے اس پر اظہار ناراضگی فرمائی اور ارشاد فرمایا : میں بھی روزہ رکھتا ہوں اور افطار بھی کرتا ہوں،شب کو نماز بھی پڑھتا ہوں اور آرام بھی کرتا ہوں اور نکاح کرتا ہوں‘‘من رغب عن سنتی فلیس منی’’ تو جو میری سنت سے بے رغبتی کرے وہ مجھ سے نہیں۔ایک شخص نے پیادہ حج کرنے کی منت مانی اور ضعف سے دو آدمیوں پر تکیہ دے کر چل رہا تھا، آپ نے اس سے فرمایا کہ اللہ اس سے بے نیاز ہے کہ یہ اپنی جان کو عذاب میں ڈالے۔
تبذیر: تبذیر جس کی ممانعت مذکورہ بالا آیات میں فرمائی گئی، اس کے بارے میں علما کے دو قول ہیں:
۱۔ تبذیر اور اسراف دونوں کے ایک ہی معنی ہیں یعنی ناحق صرف کرنا۔ امام اہل سنترحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک یہی صحیح ہے کہ یہی قول حضرت عبد اللہ ابن مسعود و حضرت عبد اللہ ابن عباس و عامہ صحابہ کرامرضی اللہ عنہم کا ہے۔
دونوں ایک نہیں بلکہ فرق ہے۔ گناہوں اور معاصی میں مال برباد کرنے کو تبذیر کہتے ہیں۔ اس تقدیر پر اسراف تبذیر سے عام ہوگا کہ ناحق صرف کرنا عبث
میں صرف کرنے کوبھی شامل اور عبث مطلقاً گناہ نہیں۔ اعلیٰ حضرترحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ وہ قطب جن پر ممانعت کے افلاک دور کرتے ہیں، دو ہیں۔ ایک قصد معصیت دوسرا بیکار اضاعت اور حکم دونوں کا منع و کراہت۔ قول معصیت تو خود معصیت ہے و لہٰذا اس میں منع مال ضائع کرنے پر موقوف نہیں اور غیر معصیت میں جب کہ وہ فعل فی نفسہ گناہ نہیں لاجرم ممانعت میں مال کی اضاعت ملحوظ ہوگی اور اضاعت حدیث میں ممنوع فرمائی گئی ہے، فرماتے ہیں:
بیشک اللہ تعالیٰ تمھارے فضول بک بک اور سوال کی کثرت اور مال کی اضاعت کو مکروہ رکھتا ہے۔(ماخوذ از فتاویٰ رضویہ، جلد دوم)
دینی لگن اور خوف خدا سے دل جب سے خالی ہو گئے اس وقت سے انسان احکام شرع سے آزاد ہو کر خواہشات نفس کی زنجیروں میں جکڑ گیا اور اب وہی کرتا ہے جو اس کا نفس کہتا ہے۔ ارباب غنا و ثروت حسب مراتب ہر معاملے میں اس قدر آزاد ہیں کہ خواہ کھانا ہو یا پہننا ہو یا لباس وغیرہ یا مکانات ان میں اکثر اسراف کے جرم میں مبتلا ہیں۔ اسی طرح ہر خاص و عام بہت سے امور جیسے غسل، کپڑے وغیرہ دھلنے میں اس قدر پانی بہاتے ہیں کہ اسراف تک پہنچ جاتا ہے۔ اکثر مساجد وغیرہ میں سہولیات کی خاطر نل وغیرہ لگے ہوتے ہیں، بے دھڑک نل کھول کر آرام سے وضو کرتے رہتے ہیں، جو جتنا چاہتا ہے پانی استعمال کرتا ہے اور اسراف ہونے کا خیال بھی نہیں آتا۔ اکثر آج کے لوگ اسراف کو جانتے ہی نہیں۔ اگر کچھ جانتے ہیں تو انھیں یہ نہیں معلوم کہ کس میں کیا اسراف ہے۔ ہم چند امور ذکر کرتے ہیں، امید ہے کہ جن سے عام ناظرین بھی اسراف و غیر اسراف میں فرق کر لیں گے۔ اعلیٰ حضرترحمۃ اللہ علیہ فتح القدیر سے نقل کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
مراتب پانچ ہیں: (۱)ضرورت (۲)حاجت (۳)منفعت (۴)زینت (۵)فضول۔
اول یعنی ضرورت یہ کہ اس کے بغیر گذر نہ ہو سکے جیسے مکان حُجر یتدخّلہ وہ سراخ جس میں آدمی بزور سما سکے یعنی تنگ دروازہ، کھانے میں لُقیمات یُقمن صُلبہ چھوٹے چھوٹے چند لقمے کہ سد رمق کریں اور اداے فرض کی طاقت دیں، لباس میں خرقۃٌ تواری عورتَہ اتنا (کپڑے کا) ٹکڑا کہ ستر عورت کرے۔’’
دوم یعنی حاجت کہ بے اس کے ضرر ہو جیسے مکان اتنا کہ گرمی، جاڑے، برسات کی تکلیفوں سے بچا سکے، کھانا اتنا کہ اداے واجبات و سنن کی قوت ملے، کپڑا اتنا کہ جاڑا روکے، اتنا کہ بدن ڈھکے جس کا کھولنا نماز و جمع ناس میں خلاف ادب و تہذیب ہے مثلاً خالی پاجامے سے نماز مکروہ تحریمی ہے، حدیث میں منع فرمایا۔ یوں ہی تنہا پاجامہ پہنے راہ میں نکلنے والا ساقط العدالۃ مردودۃ الشہادۃ خفیف الحرکات ہے، یہ مسئلہ خوب یاد رکھنے کا ہے کہ آج اکثر لوگوں میں اس کی بے پرواہی ہے خصوصاً جن کے مکان سرِ راہ ہیں۔
سو م یعنی منفعت یہ کہ اس کے بغیر اس کے ضرر تو موجود نہیں، مگر اس کا ہونا اصل مقصود میں نافع و مفید ہے جیسے مکان میں بلندی و وسعت، کھانے میں سرکہ، چٹنی سیری، لباس میں نماز میں عمامہ۔
چہارم زینت یہ کہ مقصود سے محض بالائی زائد بات ہے جس سے ایک معمولی افزائش حسن و خوش نمائی کے سوا اور نفع و تائید غرض نہیں جیسے مکان کے درون میں محرابیں، کھانے میں رنگتیں کہ قورمہ خوب سرخ ہو، کپڑے بخیہ باریک ہو، قطع میں کج نہ ہو۔
پنجم فضول یہ کہ بے منفعت چیز میں حد سے زیادہ توسع و تدقیق جیسے مکان میں سونے چاندی کی قَلَس، دیواروں پر قیمتی غلاف، کھانا کھانے پر میوے شیرینیاں، پائنچے گٹوں سے نیچے۔
اول (ضرورت) مرتبہ میں فرض ہے، دوم (حاجت) میں واجب و سنن مؤکدہ،
سوم و چہارم (منفعت و زینت) میں سنن غیر مؤکدہ سے مستحبات و آداب تک، پنجم (فضول) میں باختلاف مراتب مباح و مکروہ تنزیہی و تحریمی سے حرام تک۔
ان امور سے آپ کافی حد تک اسراف اور غیر اسراف میں فرق کر سکتے ہیں نیز اس کے بہت سے جزئیات فتاویٰ رضویہ وغیرہ میں مذکور ہیں۔ اسی طرح مذکورہ پانچوں مراتب کے تعلق سے جزئیات بہار شریعت میں خاص کر سولہویں حصہ میں مذکور ہیں، وہاں سے مطالعہ کیا جا سکتا ہے۔
حب دنیا
رذیل اوصاف اور برے اخلاق سے دنیا کی محبت بھی ہے اور یہی سب سے زیادہ فساد کی جڑ ہے۔ فقر و زہد کے بیان میں اس کے متعلق کچھ آیات و احادیث مذکور ہو چکیں۔ یہاں مزید کچھ امور سپرد قلم ہیں ۔ دنیا کے تعلق سے متعدد بحثیں ہیں مثلاً دنیا ہے کیا چیز؟ کون دنیا مذموم ہے؟ دنیا کی محبت سے نقصان کیا ہے؟ دنیا کی تخلیق میں حکمت کیا ہے؟ وغیرہ وغیرہ۔
کتاب و سنت میں دنیا اور اس کی حقیقت اور اس کے فریب اور اس کو اختیار کرنے، اس سے محبت کرنے کا وبال بڑی تفصیل سے بیان کیا گیا ہے۔ خود حضور محبوب رب العالمینﷺ کی اپنی حیات طیبہ بھی تفصیل سے واضح کرتی ہے کہ ایک بندے کا دنیا سے کیا تعلق ہونا چاہیے اور دنیا کی محبت کس قدر مہلک اور زہر قاتل ہے۔
بخاری وغیرہ میں آپﷺ نے واضح الفاظ میں فرمایا: مجھے یہ ڈر نہیں کہ تم میرے بعد شرک کروگے یا بتوں کو پوجوگے، بلکہ مجھے ڈر ہے کہ تم دنیا میں راغب ہو جاؤگے جیسا کہ تم سے اگلے راغب ہو گئے تھے اور دنیا تمھیں بھی ہلاک کر دےگی جیسا کہ ان کو ہلاک کر دیا۔
بڑی مشہور و معروف حدیث ہے کہ حبُّ الدنیا رأس کل خطیئۃ (دنیا کی محبت ہر خطا کی جڑ ہے) آج جس قدر غفلت، بدعملی اور فساد و اختلاف وغیرہ ہے اس
کا تعلق زیادہ تر حب دنیا سے ہے۔
مذموم دنیا
حضرت امام قدس سرہ فرماتے ہیں کہ دنیا اور آخرت تیرے دل کی دو حالتوں کا نام ہے جو اس کے قریب ہے و ہ دنیا ہے اور یہ موت سے پہلے ہے کیوں کہ دنیا کا معنی قریب ہے اور جو حالت موت کے بعد ہے اسے آخرت کہتے ہیں تو وہ کا م جن سے فوری (موت سے پہلے) لذت حاصل ہوتی ہے اس کی غرض، خواہش اور حصہ وغیرہ ہوتا ہے وہ تمھارے حق میں دنیا ہے، لیکن ہر وہ چیز جس کی طرف تمھارا میلان اور حصہ ہو وہ مذموم نہیں، بلکہ اس کی تین قسمیں ہیں:
۱۔ وہ اشیا جو آخرت میں تمھارا ساتھ دیں گی اور ان کا نفع موت کے بعد بھی تمھارے ساتھ رہےگا تو وہ صرف دو چیزیں ہیں علم اور عمل۔ علم سے مراد اللہ تعالیٰ کی ذات، اس کی صفات اور اس کے افعال، فرشتوں، اس کی کتابوں، اس کے رسولوں، زمین و آسمان میں اس کی بادشاہی اور اس کے نبی کو شریعت کا علم مراد ہے۔ اور عمل سے خالص اللہ تعالیٰ کے لیے عبادت کرنا ہے۔ اور بعض اوقات عالم علم سے اس قدر مانوس ہو جاتا ہے کہ یہ اس کے نزدیک سب سے زیادہ لذیذ چیز بن جاتا ہے، وہ اس کی لذت میں نیند، کھانا اور نکاح تک کو چھوڑ دیتا ہے کیوں کہ علم اس کے نزدیک سب سے لذیذ چیز ہوتا ہے۔ یہ دنیا میں ملنے والا فوری حصہ ہے۔ اسی طرح عبادت گزار کبھی عبادت سے اس قدر مانوس ہو جاتا ہے کہ بغیر اس کے اسے سخت تکلیف ہوتی ہے حتیّٰ کہ بعض بزرگوں نے فرمایا کہ مجھے موت سے صرف اس لیے خوف لگتا ہے کہ وہ میری نماز تہجد میں حائل ہوگی۔ دوسرے بزرگ فرماتے ہیں: یا اللہ! مجھے قبر میں نماز، رکوع اور سجدے کی قوت عطا فرما۔ یہ بھی وہ حصہ ہے جو دنیامیں ہی اسے دے دیا جاتا ہے۔ تو دنیا میں جو کچھ ملتا ہے اس کے قریب ہونے کی وجہ سے اسے دنیا کہا جاتا ہے، لیکن اس سے ہماری مراد مذموم دنیا نہیں ہے۔
نبی اکرمﷺ نے فرمایا: حُبِّبَ إلیَّ من دنیاکم ثلٰث النساء والطیب و قرّۃ عینی فی الصلاۃ (مجھے تمھاری دنیا سے تین چیز کی محبت دی گئی؛ عورتیں، خوشبو اور میری آنکھ کی ٹھنڈک نماز میں ہے۔(مسند امام احمد وغیرہ)
اس طرح آپ نے نماز کو بھی دنیوی لذتوں میں شمار کیا۔ اسی طرح جو چیز محسوسات اور مشاہدے سے ہے وہ عالم شہادت سے ہے اور وہ دنیا ہے۔ رکوع اور سجدے میں اعضا کی حرکت سے لذت کا حاصل ہونا دنیوی لذت سے ہے، اسی لیے دنیا کی طرف ان کی اضافت فرمائی۔
۲۔دوسری قسم پہلی قسم کے طرف اور کنارے پر ہے۔ یہ وہ لذات ہیں جن کا فائدہ دنیا میں ہی حاصل ہے۔ آخرت میں اس کا کوئی پھل نہیں ہے جیسے ہر قسم کے گناہوں سے لطف اندوز ہونا، مباح چیزوں سے ضرورت سے زائد استفادہ کرنا۔ یہ سب انا نیت عیش و عشرت اور رعونت میں داخل ہیں جیسے سونے چاندی کے ڈھیر، عمدہ گھوڑے، چارپایے، کھیتی، غلام، باندیاں، لشکر، جانور، محلات،عمدہ کپڑے اور طرح طرح کے لذیذ کھانے۔ ان تمام چیزوں سے بندے کا نفع اٹھانا مذموم دنیا میں شامل ہے۔ ان میں سے کسے زائد از حاجت قرار دیں اور کس کو حاجت میں داخل سمجھیں، یہ ایک طویل کلام ہے۔
فقیر مجددی عرض کرتا ہے کہ جو علما و فقہا کے بیان کردہ مراتب خمسہ آپ نے پچھلے اوراق میں پڑھے ان سے کافی حد تک ہر معاملے میں ممنوع اسراف و تبذیر کو جانا جا سکتا ہے اور پتا لگایا جا سکتا ہے کہ کہاں تک دنیا کو استعمال کرنے کی اجازت ہے۔
۳۔ یہ دونوں طرفوں کے درمیان ہے۔ ہر وہ چیز جو آخرت کے اعمال پر مدد گار ہو جیسے ضروری، غذا اور موٹے کپڑےکا ایک جوڑا اور ہر وہ چیز جس کا انسان کے باقی رہنے اور اس کی صحت کے لیے ہونا ضروری ہے اور اس کے ذریعہ وہ علم و عمل
تک پہنچتا ہے تو یہ دنیا سے نہیں ہے پہلی قسم ہے کیوں کہ یہ تیسری قسم پہلی قسم کے لیے مددگار اور وسیلہ ہے تو ان چیزوں کو علم و عمل کے مددگار کے طور پر استعمال کرتا ہے تو دنیا کے لیے نہیں لیتا اور نہ ہی وہ اس کی وجہ سے دنیادار کہلاتا ہے اور اگر محض دنیا کا فوری لذت اور فائدہ مطلوب ہو، تقویٰ پر مدد کا حصول مقصود نہ ہو تو یہ دوسری قسم حق ہو جائےگا اور دنیا میں شمار ہوگا۔
خیال رہے کہ بوقت موت بندے کے ساتھ تین صفات باقی رہتی ہیں: (۱)دل کی صفائی یعنی تمام ظلمتوں اور میل کچیل سے اس کا پاک ہونا اور اللہ تعالیٰ کے ذکر و محبت سے اس کا انس حاصل کرنا اور یہ اسی وقت ہو سکتا ہے جب کہ دنیوی خواہشات سے اجتناب کرے اور انس کا حصول بکثرت ذکر الٰہی پر موقوف ہے اور محبت کا حصول معرفت کے حصول پر موقوف ہے اور معرفت دائمی فکر سے حاصل ہوتی ہے۔ یہی تین چیزیں صفاے قلب انس اور محبت موت کے بعدنجات دینے والی اور خوش بختی کا باعث ہیں۔ آخر میں حضرت مجدد الف ثانی قدس سرہ کے چند ارشادات بھی ملاحظہ فرما لیں۔
دنیا: آپ قدس سرہ فرماتے ہیں: اے فرزند! دنیا آزمائش و ابتلا کا محل ہے، دنیا کے ظاہر کو مختلف قسم کی آرائشوں سے ملمع اور مزین کیا ہے۔ اس کی صورت کو خال و خط اور زلف و رخسار کے ساتھ زیبا بنایا ہے، دیکھنے میں شیریں اور میٹھی ہے اور تری و تازگی کے ساتھ متخیل، لیکن حقیقت میں بدبودار لاش ہے جس پر عطر مل دیا ہے اور کوڑا و گندگی کی جگہ ہے جو مکھی اور کیڑوں سے بھری ہوئی ہے اور صحرا کا وہ ریت ہے جو دور سے دیکھنے میں پانی لگتا ہے اور شکر ہے زہر ملی ہوئی، دنیا کا باطن سراسر خراب اور ابتر ہے۔ اس کا معاملہ خود اپنے اہل اور بیٹوں کے ساتھ اس تمام گندگی کے باوجود جو کچھ تم کہوگے اس سے برا ہے، اس پر جو فریفتہ ہے وہ دیوانہ اور مسحور (جادو کیا ہوا) اس کا گرفتار (اور محبت کرنے والا) پاگل اور فریب خوردہ جو بھی
اس کے ظاہر سے فتنہ میں پڑا ابدی خسارہ کے داغ سے داغدار ہوا اور جس نے اس کی حلاوت اور چاشنی اور تازگی پر نظر کی دائمی شرمندگی اس کا نصیب ہوئی۔
سردار کائناتﷺ نے فرمایا: دنیا اور آخرت ایک دوسرے کے سوتن ہیں، ان دونوں میں اگر ایک خوش تو دوسری ناراض۔ پس جس نے دنیا کو راضی کیا آخرت اس سے ناراض ہے تو لا محالہ آخرت سے بے نصیب ہوگا۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اور تمھیں دنیا اور اہل دنیا کی محبت سے پناہ دے۔
اے فرزند! کچھ جانتے ہو کہ دنیا کیا ہے؟ جو کچھ تمھیں حق سبحانہ و تعالیٰ سے روکے اور باز رکھے وہ دنیا ہے۔ پس بیوی، بچے، مال، جاہ، ریاست، لہو و لعب اور لا یعنی کے اشغال سب دنیا میں داخل ہیں۔ (اسی طرح وہ) علوم بھی جو آخرت میں کام نہ آئیں دنیا سے ہیں، اگر (علم نجوم، منطق) ہندسہ و حساب اور ان جیسے دیگر بے فائدہ علوم کی تحصیل کارآمد ہوتی تو فلاسفہ اہل نجات سے ہوتے۔
نبی اکرمﷺ نے فرمایا: علامۃ اعراضہ تعالیٰ عن اشتغالہ بما لا یعنیہ
یعنی بندے سے اللہ تعالیٰ کے اعراض کی علامت یہ ہے کہ بندہ لایعنی باتوں اور کاموں میں مشغول ہو جاتا ہے۔’’
خیال رہے کہ بہت سے علوم غیر دینیہ ہیں جن کے لیے علما جواز کی وجہ یہ بتاتے ہیں کہ وہ دین میں کام آتے ہیں جیسے علم نجوم کہ اوقات نماز کی پہچان میں کام آتا تھا۔ اسی طرح منطق اور حساب وغیرہ۔ حضرت مجدد قدس سرہ فرماتے ہیں کہ بہت سے محتملات اور حیلے کرنے کے بعد ان علوم کے ساتھ اشتغال کی وجہ جواز پیدا ہوتی ہے، لیکن شرط یہ ہے کہ ان کے پڑھنے سے مقصود صرف احکام شرعیہ کی معرفت اور دلائل کلامیہ کی تقویت ہو، کوئی دوسری نیت نہ ہو، ورنہ باطل جائز نہیں۔ ایک ایسا کام جس کی وجہ سے واجب امور فوت ہوں تو وہ ناجائز ہو جاتا ہے۔
آپ قدس سرہ فرماتے ہیں کہ ان علوم کے ساتھ اشتغال علوم شرعیہ ضروریہ کے ساتھ اشتغال کو فوت کرتا ہے۔’’
آج جس دور میں ہم داخل ہیں ایسی باتیں نا معلو م لوگوں کو کیسی لگیں گی۔ دنیا اور اس کی محبت کے غلبہ کے سبب ہر وقت ہر ایک کو انھی علوم کی تحصیل کی فکر ہے جن سے دنیا سے خواہ حرام طریقے سے یا حلال انگریزی اور دینی علوم کی تحصیل کے لیے نا معلوم کتنی موٹی موٹی رقومات خرچ کرتے ہیں اور ہر ایک حسب حیثیت، بلکہ قرض لے کر اولاد کو اعلیٰ عصری تعلیم دلواتے ہیں، نہ نماز سے تعلق نہ دین کے کسی دوسرے احکام سے۔ اسے پڑھنے کے لیے جن کالجوں، یونیورسٹیوں وغیر میں داخل کرتے ہیں وہاں وہ فاسق فاجر اور انگریز بنتے ہیں، بلکہ بہت سے دہریہ ہو جاتے ہیں ۔
بہت سے علما حالات سے دباو یا نا سمجھی سے انھی علوم کی تحصیل پر زور دیتے ہیں اور حدیث سے اس کا جواز اور اہمیت بیان کرتے ہیں اور مدارس جہاں تھوڑے بہت علوم دینیہ باقی ہیں ان میں بھی انھیں داخل کرنے پر بہت زور دیتے ہیں، بلکہ یہی لوگ کبھی دنیوی اداروں میں دینی تعلیم کو شامل کرنے کے لیے کبھی لب نہیں کھولتے۔ بخاری وغیرہ میں جو غیروں کی زبان سیکھنے کے تعلق سے آیا ہے وہ صرف اتنا ہے کہ آپ نے جب عربی کے علاوہ دیگر سلاطین و حکام کو دینی دعوت کے لیے خطوط تحریر فرمانا چاہا یا غیر عربی میں خطوط آئے ان کو سمجھنے میں دشواری ہوئی تو ان وجوہات کی وجہ سے آپ نے حضرت زید ابن ثابترضی اللہ عنہ کو ایسے لوگوں کی زبان سیکھنے کی مذکورہ بالا ضرورتوں کی وجہ سے حکم فرمایا اور انھوں نے چند دنوں میں سیکھ لی۔
اگر بہت زیادہ تلاش و جستجو کی جائے تو معدودے چند یعنی دو چار ہوں گے جنھوں نے غیروں کی زبان سیکھی۔ جن ضرورتوں کی وجہ سے غیروں کی زبان سیکھی
تھی انھی ضرورتوں کی وجہ سے ضرورتوں کی حد تک حدیث کو سند بنایا جا سکتا ہے، اب پانی سر سے اونچا جا چکا ہے، دنیا کی خاطر اس کے علوم کی تحصیل کا سیلاب کسی کے روکنے کا نہیں ہے، لیکن جن کی نظر آخرت اور مقصد تخلیق پر ہے وہ خوب جانتے ہیں کہ سلامتی کا راستہ کیا ہے اور ابدی سعادتوں سے ہم آغوش کیسے ہوا جا سکتا ہے۔ اس کا راستہ وہی ہے جو حضرت امام غزالی اور مجدد الف ثانی وغیرہما قدس اللہ تعالیٰ اسرارہما العالیہ بیان فرماتے ہیں: صوفیہ کی حیات طیبہ پر ہلکی نظر ڈالنے والا بھی بآسانی جان سکتا ہے کہ ان بزرگوں نے کئی لوگوں کو دنیا سے بچاکر آخرت کے قریب کیا اور ان کی گرفت ہٹتے ہی دنیا کا طوفان امنڈ پڑا اور اب ہر برائی کھلے عام ہو رہی ہے۔