مواد پر جائیں

Allama Afaque Ahmad Mujaddidiتصوف اور اس کے فوائدخرقہ پوشی اور اس کے اقسام

باب ۱۰ از ۵۴صفحات ۱۳۳–۱۴۴

خرقہ پوشی اور اس کے اقسام

حضرت شیخ الشیوخ قدس سرہ فرماتے ہیں کہ خرقہ پوشی یا خرقہ شیخ اور مرید کے مابین ایک رشتہ ارتباط ہے اور مرید کی جانب سے شیخ کی خدمت میں ایک ذریعہ تحکیم ہے(یعنی مرید شیخ کو اپنا حاکم تسلیم کر لیتا ہے) جب مصالح دنیوی کے لیے یہ تحکیم (حاکم بنانا) شریعت میں جائز ہے اور پسندیدہ امر ہے تو پھر منکرِ خرقہ اس کا کس طرح انکار کرتا ہے جو ایک ایسے طالب صادق کو شیخ پہناتا ہے جو اس کے پاس حسن عقیدت کے ساتھ آیا ہےاور مذہبی امور میں اس کو اپنا رہبر بناتا ہے تاکہ شیخ اس کو راہ ہدایت پر لگائے اور اس کو آفات نفس کی بصارت عطا کرے، اعمال کے فساد سے واقف کرائے اور بتائے کہ نفس دشمن کن کن راستوں سے راہ پا لیتا ہے۔ اس طرح یہ اپنے نفس کو شیخ کے حوالے کر دیتا ہے اور اس کی راے کو تسلیم کر لیتا ہے اور تمام معاملات میں اس کی صوابدید کا پابند ہو جاتا ہے۔ پس خرقہ پوشی اس امر کا اظہار ہے کہ اب شیخ کو اس پر پورا پورا تصرف حاصل ہو گیاہے اور جب مرید نے خرقہ پہن لیا تو گویا اس نے خود کو شیخ کے سپرد کر دیا اور مرید کا شیخ کے حکم کے تابع ہو جانا اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولﷺ کے حکم کے تابع ہو جانا ہے۔ اس طرح وہ رسول اللہﷺ کی بیعت کو تازہ اور اس کی تجدید کرتا ہے جو ایک سنت ہے۔

حضرت شیخ الشیوخ قدس سرہ نے خرقہ پوشی کو عین بیعت قرار دیا ہے اور اس کی اصل سنت سے ثابت کی ہے اور فرمایا ہے کہ خرقہ پوشی اللہ تعالیٰ تک رسائی کا مبدأ ہے۔ وہ فرماتے ہیں کہ جب مرید صادق حکم شیخ کے تحت داخل ہو جاتا ہے، اس کی صحبت میں رہتا اور اس سے ادب سیکھتا ہےتو شیخ کی باطنی قوت مرید کے باطن

میں اس طرح سرایت کر جاتی ہےجیسے ایک چراغ دوسرے چراغ سے روشن ہو جاتا ہے۔ شیخ کا کلام مرید کے باطن کو معمور کر دیتاہے اور اس وقت شیخ کے ارشادات و مقالات جو حال کے نفائس کا خزانہ ہیں اپنی تمام تر کیفیات کے ساتھ فیض صحبت اور سماع کے ذریعہ شیخ میں سے مرید میں منتقل ہو جاتے ہیں، لیکن یہ صورت اسی وقت پیدا ہوتی ہےجب مرید خود کو شیخ کے لیے وقف کر دے اور اپنے نفسیاتی ارادوں اور اختیار نفس کو ترک کرکے شیخ میں فنا ہو جائے (پھر چند سطر بعد فرماتے ہیں) اس خیر کل کا مبدأ اور اس روحانی ترقی کا سرچشمہ شیخ کی ملازمت و صحبت ہے اور خرقہ اس کا مقدمہ اور نقطہ آغاز ہے۔

خرقہ پوشی کا فیضان

آپ قدس سرہ فرماتے ہیں : چناں چہ جب شیخ مرید کو خرقہ پہناتا ہےتو وہ مرید سے خرقہ کے شرائط بجا لانے کا عہد و پیمان لیتا ہے اور اس کو خرقہ پوشی کے تمام حقوق سے آگاہ کر دیتا ہے۔ پس شیخ مرید کے لیے ایک ایسی صورت ہے جس کے پیچھے مطالبات الٰہی اور مرضیات نبوی اس کو نظر آتی ہیں۔ یہ چیزیں اس کو بالکل اسی طرح نظر آتی ہیں جیسے تنگ لباس سے اعضاے جسمانی نظر آتے ہیں، اس وقت مرید کا یہ اعتقاد اور بھی مضبوط ہو جاتا ہے کہ شیخ ایک دروازہ ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے اپنے آستانہ لطف و کرم کی طرف کھول دیا ہے جہاں سے وہ آستانہ کرم الٰہی میں داخل ہو جاتا ہے اور لوٹ کر وہیں پہنچ جاتا ہے۔ پھر شیخ ہی کے ساتھ اس کی تمام وارداتیں، دینی اور دنیوی مہمات سر انجام پاتی ہیں اور اس کا یہ اعتقاد ہوتا ہے کہ اس پر خداوند تعالیٰ جو فضل و کرم نازل فرما رہا ہے وہ شیخ ہی کی بدولت اور اس کے واسطے سے نازل ہو رہا ہے اور جس طرح وہ اپنے شیخ کی طرف رجوع ہوتا ہے اسی طرح شیخ اس کے لیے اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع ہوتا ہے اور اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم کا دروازہ شیخ کے لیے خواہ وہ عالم بیداری میں ہو یا حالت خواب میں ہر وقت کھلا رہتا ہے۔ شیخ بھی ہواے نفسانی سے مرید کے معاملات میں کام نہیں

لیتا؛ کیوں کہ مرید شیخ کے پاس اللہ تعالیٰ کی مانت ہے اور وہ خداوند تعالیٰ کے حضور میں مرید کی ضرورتوں کے پورا کرنے کے لیے فریاد کرتا ہےجس طرح اللہ تعالیٰ سے وہ اپنی ضرورتوں اور اپنی دینی اور دنیاوی حاجتوں کے پورا کرنے کے لیے فریاد کرتا ہے۔

خرقہ کے اقسام

حضرت شیخ الشیوخ قدس سرہ فرماتے ہیں: خرقہ مشائخ دو طرح کا ہوتا ہے: (۱)خرقہ ارادت (۲)خرقہ تبرک۔ مشائخ مریدین کو خرقہ ارادت پہناتے ہیں۔ خرقہ تبرک خرقہ ارادت سے ملتا جلتا ہی ہوتا ہے۔ خرقہ ارادت مرید حقیقی کے لیے مختص ہے اور خرقہ تبرک متشبہ (مرید غیر حقیقی) جو حقیقتاً مرید نہیں ہے، لیکن ان جیسا بننا چاہتا ہے۔ ان کے علاوہ بھی کچھ اقسام بیان کی ہیں ۔ خرقہ کی طرح بیعت بھی دو طرح کی ہیں: بیعت ارادت اور بیعت تبرک۔

آج کی پیری مریدی

ہم آپ سب جانتے ہیں کہ آج کل پیری مریدی ایک رسم بن کر رہ گئی ہے، بلکہ اگر اسی پر معاملہ رک جاتا تو غنیمت تھا، اب دولت، عزت اور راحت وغیرہ کا ذریعہ بن کر رہ گئی ہے۔ ہاتھ چوموانا، نذرانے وصول کرنا، اپنی خدمتیں لینا یہ سب بیعت کے فائدے ہیں۔ چوں کہ مقصد دنیا کا حصول ہے، نفس کی پرورش کا پورا سامان اس میں موجود ہے؛ اس لیے ہر وقت مرید کرنے کے چکر میں رہتے ہیں، اس کے لیے حیلہ سازیاں کرتے ہیں، خود لوگوں سے اپنی بیعت کے لیے کہ دیتے ہیں، زور دیتے ہیں، اگر نہیں ہوتا ہے تو دھمکاتے ہیں، نقصان کا خوف دلاتے ہیں ، بزرگوں کے سارے اصول بالاے طاق رکھ دیتے ہیں، آپس میں لڑائیاں لڑتے ہیں ، ایک پیر دوسرے پیر سے جلتا ہے، نیک غریبوں کے مرید ہونے پر خوش نہیں ، مال دار فاسقوں کے مرید ہونے پر خوش ہوتے ہیں، ان کو پھانسنے کے لیے سو جتن کرتے ہیں ۔ الغرض کیا کیا کہا جائے مرید بھی ایسے ہیں جو ذرا بھی چھان بین نہیں کرتے ہیں، کبھی شہرت پر کبھی خاندان پر مرتے ہیں ، کبھی

نسبت دیکھتے ہیں ۔ اگر آج کے مشائخ صحیح روش اختیار کرتے تو ایمان و سنت کا بڑا علمی و عملی کام کر لے جاتے۔ ایک وہ مشائخ طریقت تھے جو مریدوں کی ظاہری و باطنی اصلاح کرتے تھے، بلکہ جسمانی پرورش تک کرتے تھے، خانقاہیں قائم کرکے ان میں مقیم اہل ارادت کو علوم اسلامیہ کی اعلیٰ تعلیم دیتے، تقویٰ و پرہیز گاری اور خوف و خشیت اور محبت و انس وغیرہ اخلاق عالیہ سے آراستہ کرتے اور اپنی باطنی توجہات کے ذریعہ مریدوں کو مدارج طے کراتے اور ولایت کی دولت سے مالامال کرتے ، قوم و ملت کا ہادی و رہبر بناتے جن سے بڑے بڑے اسلام و سنیت کے داعی اور روحانیت کے حامل پیدا ہوتے، اصلاح کا بڑے پیمانے پر کام ہوتا۔ آج انھی نفوس قدسیہ کی وجہ سےچاروں طرف اسلام کی بہاریں نظر آرہی ہیں ۔ انھوں نے اپنی قوت تصرف سے کافروں کو مسلمان بنایا، باعمل بنایا، ہر طاقت کا مقابلہ کیا، اسلام کی عظمتوں کا سکہ بٹھایا، کبھی کسی کے سامنے ہاتھ نہ پھیلایا، بلکہ ہمیشہ غریبوں کی مدد کی، پرورش کی، جھولیاں بھریں اور دنیا و آخرت کی نعمتوں سے مالامال کیا۔ آپ اس سے قبل مشائخ کا کچھ حال پڑھ چکے کہ وہ کیا کرتے تھے۔ مزید کچھ پڑھیے دیکھیے کہ وہ انسان کو انسان کامل بنانے کے لیے کیا کچھ کرتے تھے۔

مشیخت کی ذمہ داریاں

حضرت شیخ الشیوخ قدس سرہ نے اقسام خرقہ کے تحت جو کچھ فرمایا ہے اس کا خلاصہ یہ ہے کہ شیخ ہر وقت مرید کی اصلاح میں لگا رہتا ہے اور باطن کی نگرانی پر توجہ مبذول رکھتا ہے۔ لباس، کھانے پینے، روزہ رکھنے نہ رکھنے میں اور دوسرے دینی کا موں میں تصرف کرتا ہے اور ایسا طریقہ اختیار کرتا ہے جس میں مرید کی بھلائی ہو۔ چناں چہ کبھی وہ اس کو ہر وقت ذکر میں مشغول رکھتا ہے،نماز (فرائض ) کے ساتھ نفلوں کا پڑھنا ضروی کر دیتا ہے، تلاوت کلام اللہ میں مصروف رکھتا ہے یا دوسروں کی خدمت میں لگا دیتا ہے، کبھی ایسا ہوتا ہے کہ اس کو کسب معاش میں لگا دیتا ہے یا کبھی فتوح نذرانے پر گزر بسر کرنے کا حکم

دے دیا جاتا ہے۔ غرضیکہ شیخ کو انشراح باطن ہوتا ہے اور مختلف مریدوں کی مختلف استعدادات پر اس کو اطلاع ہوتی ہے (جو مرید جیسی اصلاح اور تربیت کا اہل ہوتا ہے ویسی ہی اس کی اصلاح اور تربیت کی جاتی ہے) اور مرید کو معاد معاش میں اس کی استعداد کے مطابق حکم دیتا ہے کہ اسی میں اس کی اصلاح حال پنہاں ہوتی ہے۔ چوں کہ مریدوں کی استعداد وصلاحیت مختلف ہوتی ہے؛ اس لیے ان کی معاد معاش کے سلسلے میں احکام بھی مختلف ہوتے ہیں۔’’

الغرض شیخ کو چاہیے کہ مرید کے مزاج و رجحان کو دیکھے اور اس کی نفسانی خواہشات کا اندازہ کرے اور سمجھے کہ اس کے لیے تربیت کا کیا طریقہ اختیار کیا جائے۔ اب آج کے دور میں یہ باتیں عجیب سی لگتی ہیں، کہاں آج کے پیر اور کہاں وہ مبارک افراد جنھوں نے روحانیت کے نور سے چپہ چپہ روشن و منور کر دیا۔ بہر حال مریدوں کی تربیت ظاہری اور باطنی سےکبھی غفلت نہیں برتنا چاہیے، رضاے الٰہی کے لیے مرید کرے اور اسے قریب کرے اور رفتہ رفتہ اسے اعمال صالحہ کا خوگر بنائے، احکام سکھائے اور ذکر وغیرہ بتائے اور علم وعمل کے فوائد بتائے اور ترغیب دلائے، سنت پر عمل کی اہمیت اور خداے تعالیٰ کی راہ میں مجاہدات کے فوائد سے آگاہ کرے۔ میں اس چیز کو قدرے تفصیل سے دیگر کتب میں بیان کر چکا ہوں۔

خانقاہوں کا قیام

یہ بات بالکل ظاہر اور ہویدا ہے کہ ہدایت کے لیے کوئی خاندان، کوئی قوم ،کوئی برادری مقرر ومتعین نہیں، پروردگار جل علا نےیہ سعادت مختلف اشخاص و افراد کے مقدر کی ہے۔ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ اکثر قریبی لوگ محروم رہتے ہیں اور دور والے فیض یاب ہو جاتے ہیں ۔ آفتاب نبوتﷺ کی جلوہ گری کی تاریخ ہمارے سامنے ہے، اعزہ و اقربا نے کس قدر مخالفت کی اور ہر موڑ پر مانع آئے اور دور دور کے لوگوں نے فیض پایا، کوئی کہیں سے آکر اسلام لاتا ، کوئی

کہیں سے۔ یہ حضرات وہ تھے جنھیں اسلام کی خاطر سب کچھ چھوڑنا پڑ جاتا؛ گھر، مکان، مال، جائداد سبھی کچھ ترک کرنا پڑتا۔ ایسے حالات میں ضروری تھا کہ ان اسلام لانے والوں کےلیے خورد و نوش اور رہائش وغیرہ کا انتظام کیا جاتا۔ سرور عالمﷺ نے ان کے لیے سب کچھ انتظام کیااور ان کے قیام کے لیے ایک جگہ مقرر کر دی جہاں یہ حضرات اٹھتے بیٹھتے، احکام شرع سیکھتے سکھاتے، قرآن کی تعلیم و تعلم کا کام ہوتا۔ یہ وہ حضرات تھے جن کا رات دن مشغلہ ہی آقاﷺ کی صحبت بابرکت میں رہ کر ظاہری و باطنی فیوضات کا اکتساب تھا۔ ان حضرات نے اپنے آپ کو دنیاوی مشاغل سے برطرف کرکے خود کو مکمل طور پر اللہ جل شانہ اور اس کے رسولﷺ کے حوالے کر دیا تھا۔ آقاﷺ کے ارشادات سنتے، انھیں محفوظ کرتے، قرآنی آیات حفظ کرتے اور دن رات ذکر حق کے جلووں سے خود کو معمور و پرنور رکھتے۔ حضرت ابو ہریرہ‌رضی اللہ عنہ خود انھی حضرات سے ہیں جن کے ذریعہ تاجدار مدینہﷺ کے ارشادات کا بڑا ذخیرہ امت کو ہاتھ آیا۔

سرور عالمﷺ کی اس حکمت سےایک تو یہ جماعت مالی دشواریوں سے بچ گئی اور تمام ساعتیں ان کی ذکر و فکر اور تعلیم و تعلم اور دعوت و تبلیغ کے لیے وقف ہو گئیں۔ دوسرے ایمان لانے والوں کو ایک حوصلہ مل گیا کہ اگر ایمان کی خاطر گھر بار چھوڑا تو اس کے بدلے اللہ جل و علا اور اس کے رسولﷺ نے ٹھکانہ دے دیا۔ یہ مبارک جماعت اسلامی تاریخ میں اصحاب صفہ کے نام سے جانی گئی اور یہ حضرات امت کےلیے بڑے رہنما ثابت ہوئے۔ در اصل تصوف میں زہد و مجاہدہ اور ترک و تجرید وغیرہ کا بلند حوصلہ صوفیہ کو انھی سے ملا۔ علوم خواہ ظاہری ہوں یا باطنی سب مجاہدہ چاہتے ہیں، فروتنی اور عجز و انکسار، ترک وطن، ترک راحت و عیش اور خود سپردگی وغیرہ باطن کی تحصیل کے لیے جہاں ضروی ہیں وہیں ظاہر کے لیے بھی باطن مزید خصوصیات چاہتا ہے، دلوں کی شکستگی سے بچنا حد درجہ ضروری ہے۔ علوم

ظاہر کے تعلیم و تعلم کا تعلق زبان سے ہے، اگر دل میں کچھ کدورت ہے تب بھی یہ سلسلہ چلتا رہتا ہے، مگر باطن کا تعلق دل سے ہے، کسی بھی حال میں مرشد کے دل کو ٹھیس نہیں پہنچنا چاہیے، ہر وقت لحاظ رکھنا پڑتا ہے، اپنے افعال و اقوال میں مرضی مرشد کا بہت دھیان رکھنا پڑتا ہے۔ مختصر یہ کہ سلوک بہت کچھ قربانیوں کا طالب ہوتا ہے اور ان ساری قربانیوں کے جذبات اور حوصلے اصحاب صفّہ کی حیات طیبہ سے اعلیٰ پیمانے پر حاصل ہوتے ہیں۔

اہل خانقاہ کی فضیلت:

فِیۡ بُیُوۡتٍ اَذِنَ اللہُ اَنۡ تُرْفَعَ وَ یُذْکَرَ فِیۡہَا اسْمُہٗ ۙ یُسَبِّحُ لَہٗ فِیۡہَا بِالْغُدُوِّ وَ الْاٰصَالِ رِجَالٌ ۙ لَّا تُلْہِیۡہِمْ تِجَارَۃٌ وَّ لَا بَیۡعٌ عَنۡ ذِکْرِ اللہِ وَ اِقَامِ الصَّلٰوۃِ وَ اِیۡتَآءِ الزَّکٰوۃِ ۪ۙ یَخَافُوۡنَ یَوْمًا تَتَقَلَّبُ فِیۡہِ الْقُلُوۡبُ وَ الْاَبْصَارُ ( )

ترجمہ: ان گھروں میں جنہیں بلند کرنے کا اللہ نے حکم دیا ہے اور ان میں اس کا نام لیا جاتا ہے اللہ کی تسبیح کرتے ہیں ان میں صبح اور شام۔ وہ مرد جنھیں غافل نہیں کرتا کوئی سودا اور نہ خرید و فروخت اللہ کی یاد اور نماز برپا رکھنے اور زکوٰۃ دینے سے ڈرتے ہیں اس دن سے جس میں اُلٹ جائیں گے دل اور آنکھیں’’

‘‘فِیۡ بُیُوۡتٍ’’ سے مراد یا تو مساجد ہیں یا بعض کے بقول مدینۃ الرسول کے مکانات یا آقاﷺ کے مکانات ہیں۔ حضرت حسن بصری‌رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اس لیے کہ زمین کے تمام گھر رسول اللہﷺ کے لیے سجدہ گاہ بنا دیے گئے، ہر جگہ نماز پڑھنے کی اجازت ہے، اس اعتبار سے ذکر کرنے والوں کی تخصیص کی گئی ہے نہ کہ جگہوں کی چار دیواری کی یعنی آیت میں ذاکرین کی اہمیت ہے نہ کہ کسی مخصوص گھر کی۔ پس جس جگہ اور جس مقام پر بھی ذاکرین جمع ہوں گے وہی مقامات ایسے گھر مراد لیے جائیں گے جن میں خدا کے حکم سے صبح و شام اس کا ذکر بلند کیا جاتا

>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>

۔ سورۃ النور: ۲۴؍۳۶،۳۷

ہے۔ اس زاویہ سے خانقاہوں کو دیکھیے کہ وہاں ذاکرین وہ بھی ایسے کہ نہ تجارت غافل کرتی ہے اور نہ اور کوئی مشغلہ۔

رباط: لغت میں اس جگہ اور مقام کو کہتے ہیں جہاں گھوڑے باندھے جاتے ہیں (یعنی اصطبل) پھر اس لفظ کو ان سرحدوں کے لیے استعمال کیا جانے لگا جو مملکت اسلامیہ اور مملکت کفار کی حد فاصل ہوتی ہیں۔ پس جس طرح سرحد کا محافظ مجاہد اپنے ملک کی حفاظت کرتا ہے اسی طرح وہ شخص جو خانقاہ نشین ہے رباط میں رہتا ہے اور اللہ تعالیٰ کے ذکر اور اس کی اطاعت میں مشغول ہے۔ وہ بھی دعاؤں اور اطاعت گزاری سے بندوں اور شہروں سے بلاؤں کو دفع کرتا ہے اور حفاظت کرتا ہے۔ اس سلسلے میں متعدد روایت وارد ہوئی ہیں جن کو امام اہل سنت اعلیٰ حضرت قدس سرہ نے اپنے رسالے الأمن و العلیٰ میں ذکر اور جمع فرمایا ہے۔ ایک روایت میں ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ میں تم کو اس بات کی خبر نہ دوں جس سے اللہ تعالیٰ تمھاری خطاؤں کو معاف اور تمھارے درجات بلند فرمائے؟ عرض کی گئی: ضرور ارشاد فرمائیں، فرمایا: جس وقت وضو کرنے میں کراہت اور تکلیف ہو اس وقت کامل وضو کرنا، مسجدوں کی طرف کثرت سے قدم بڑھانا اور ایک نماز کے بعد دوسری نماز کا انتظار کرنا، یہ رباط ہے، یہ رباط ہے، یہ رباط ہے۔’’

اہل خانقاہ کے اصول اور فرائض: حضرت شیخ الشیوخ قدس سرہ فرماتے ہیں: خانقاہ نشینوں کے فرائض میں داخل ہے کہ مخلوق سے قطع تعلق کر لیں اور حق کے ساتھ اپنا رشتہ جوڑیں، ترک اسباب کرکے مسبب الاسباب کی کفالت پر اکتفا کریں، میل جول اور ارتباط سے اپنے نفس کو روکیں ، برے کاموں سے اجتناب کریں اور اپنی تمام پچھلی عادتوں کو ترک کرکے رات دن عبادت میں مشغول رہیں، اپنے اوقات کی نگہ داری کریں اور اوراد و وظائف میں مصروف رہیں، نمازوں کا انتظار کریں اور غفلتوں سے خود کو محفوظ رکھیں۔ اگر ان باتوں پر اہل خانقاہ عمل

پیرا رہیں گے تو وہ ایک زبردست مجاہد (مرابط) بن جائیں گے۔’’

تربیت کے دو طریقے

حضرت شیخ عبد الحق محدث دہلوی‌رحمۃ اللہ علیہ نے حضرت شیخ ابوالعباس قدس سرہ سے نقل فرمایا: خلاصہ یہ کہ زمان قدیم میں ایک تربیت اصطلاحی ہوتی تھی جس کا مطلب یہ ہے کہ مرشد کامل مکمل ایک خاص طریقے پر خانقاہوں اور رباطوں کو بناتے تھے، طالبان خدا کو ان خلوتوں اور خانقاہوں میں بٹھاتے تھےاور ہر ایک کا کھانا پینا اس کے حساب سے مقرر فرماتے اور ہر ایک کے لائق مجاہدہ مقرر فرماتے اور ہر ایک کو ذکر شغل خاص کی تلقین تعلیم فرماتے اور باجماعت فرائض پنج گانہ کے علاوہ خانقاہ سے باہر قدم رکھنے کی اجازت نہ دیتے اور اس دوران بھی سالک پر ضروری قرار دیتے کہ وہ قدم پر نظر رکھے اور سر اور آنکھوں کی حفاظت کرے، دائیں بائیں التفات نہ کرے اور بجز ذکر الٰہی زبان پر کچھ جاری نہ کرے اور ہر رات و دن میں ایک بار یا دس بار کیفیت احوال و خواطر اور واردات و معاملات اس سے پوچھتے جو بھی مصلحت وقت اور موافقت مزاج کے مطابق اصلاح کار ہوتی طعام و شراب اور ذکر شغل وغیرہ میں تغیر و تبدل کرتے، بالکل ایسے ہی جیسے طبیب حاذق مریض کا علاج کرتا ہے اور مریض کی صحت و عافیت کے اعتبار سے دوا و غذا مین تبدیلی کرتا رہتا ہے۔ اسی طرح یہ حضرات طالب و سالک کی تسلیک فرماتے اور وہ اپنی استعداد اور محنت کے اعتبار سے جوں جوں ترقی کرتا جاتا ہے اور جس قدر جلد مراتب و مقامات طے کر لیتا اسی اعتبار سے اسے اجازت و خلافت وغیرہ دیگر قوم و ملت کی اصلاح وارشاد کے لیے تیار کر دیتے، کسی کو چند ماہ میں، کسی کو ایک سال، کسی کو اس سے زیادہ۔ بہر حال خانقاہ جب سے باہر کرتے وہ کامل و اصل ہو جاتا، تربیت میں متقدمین مشائخ کا یہی طریقہ تھا۔

تربیت کا دوسرا طریقہ ہمت و حال کے ذریعہ تربیت کرنا ہے۔ اس کا طریقہ یہ ہوتا ہے کہ شیخ مرشد طالب کو ظاہر میں احکام شریعت تعلیم کرتا ہے اور آداب

طریقت میں مشغول رکھتا ہے اور باطن میں اپنے ہمت و حال، اپنی قوت و نفوذ کے اعتبار سے طالب کی تسلیک پر مبذول رکھتا ہے اور قول و عمل اور حال کے ذریعہ مرید کی تکمیل و ارشاد کرتا ہے۔ یہ طریقہ بھی ایک مدت کے بعد بحسب استعداد و استمداد و توجہ و اعتقاد طالب اور شیخ کی ہمت و حال و تصرف و کمال کے مطابق تاثیر پیدا کرتا ہے اور تاثیر صحبت و نفوذ ہمت کے ذریعہ احوال شیخ کی نورانیت و صفائیِ طالب میں سرایت کرتی ہے۔

اس دوسرے طریقہ تربیت میں بھی مشائخ کی روشیں رہیں، بعض حضرات آغاز کار میں طالب کو باختیار مالوفات عادت و مانوسات طبیعت سے اور سابقہ اطوار و اوضاع جو کہ طالب مرید رکھتا ہے شیخ باہر لاتا ہے۔ اس کے بعد طالبان خدا کو کارِ حق اور روش طریقت میں استعمال کرتے ہیں اور دیگر بعض مشائخ طالبوں کو ان کے حال پر چھوڑے رہتے ہیں اور مذکورہ بالا امور سے باہر کرنے میں جلد بازی سے کام نہیں لیتے ہیں یہاں تک کہ بتدریج ہمت و حال کی اعانت و امداد کے ذریعہ باطن میں صفا و نورانیت ایک مدت میں جب چاہتا ہے طالب خود بخود ظلمات رذائل سے نکل کر انوار حمائد کے ساتھ متصف ہو جاتا ہے۔ یہ طریقہ قریب تر، آسان تر اور زیادہ رفق پر مبنی ہے۔

تربیت کے یہ دونوں ہی طریقے روحانیت میں نہایت کارآمد ثابت ہوئے اور گزشتہ صدیوں میں نامعلوم ان طریقوں کے ذریعہ کتنے لاکھ منزل قرب و عرفان تک پہنچے اور رشد و ہدایت کے نور سے پورا عالم منور کر گئے۔ بالآخر مادیت نے غلبہ کیا اور رفتہ رفتہ روحانیت عنقا ہوتی چلی گئی اور آج وہ وقت آگیا کہ دور دور تک روحانیت کا چراغ ٹمٹماتا نظر نہیں آتا ہے۔ ہاے افسوس! جن بزرگوں نے روحانیت و تصوف کی شمعیں روشن کیں آج ان کے نام سے مال و زر اور عزت و جاہ کی تحصیل تو ہو رہی ہے، خانقاہوں کی تعمیر کے نام سے مریدوں کے نذر سے محل تو تعمیر ہو

رہے ہیں، مگر روحایت تو کجا تعمیر ظاہر سے بھی کوئی سروکار نہیں رہ گیا ہے، ہم ایک مختصر خاکہ پیش کرتے ہیں، اگر اس پر عمل کیا جائے تو کچھ نہ کچھ تعمیر ظاہر و باطن کا کام ہو سکتا ہے۔

اول تو یہ یاد رکھیں کہ تصوف کی ایک حیثیت علمی ہے، دوم عملی: اول سے مراد اسے بطریق علم و فن جاننا ہے۔ مثلاً اس کی تعریف، موضوع، غرض و غایت اور اس کے مسائل اور اصطلاحات اور دیگر اصول و ضوابط وغیرہ۔ دوم سے مراد ان کیفیات و احوال و مقامات اور انوار و تجلیات وغیرہ کی تحصیل ہے۔ جس نے کتب تصوف کا تفصیل سے مطالعہ کیا ہے اور بحیثیت فن اسے اچھی طرح سمجھا ہے تو وہ تصوف کا عالم ہے اور بحیثیت فن اسے دوسروں کو سیکھا سکتا ہے اور ظاہراً ان آداب سے تربیت کے ذریعہ لوگوں کو آراستہ کر سکتا ہے جن سے صوفیہ کرام آراستہ تھے۔ زیر نظر کتاب میں اختصار کے ساتھ تصوف بحیثیت علم و فن سمجھ لیں گے۔ ہم کوشش کریں گے کہ آپ اصل تصوف جان لیں اور کتنا حصہ ضروری ہے وہ سمجھ لیں۔ رہا تصوف عملی تو وہ شیخ ایصال اگر میسر آئے تو اس کے ذریعہ حاصل کیا جا سکتا ہے۔ ایسے لوگ اس زمانے میں نادر ہیں۔ تصوف عملی سے ہم جو مراد لے رہے ہیں اس کی مختلف شکلیں ہیں، ہر سلسلے میں اثناے سلوک میں جدا جدا مقامات و منازل پیش آتے ہیں اور الگ الگ کیفیات و واردات اور مشاہدات ہوتے ہیں۔ سلسلہ نقش بندیہ کا ہم نے اپنے رسالے ‘‘سلسلہ نقش بندیہ اور اس کا سلوک’’ میں بیان کر دیام ہے۔ قادریہ و چشتیہ وغیرہ میں جو منازل و مراحل پیش آتے ہیں ان کو کتاب ولایت و نبوت میں قدرے تفصیل سے عرض کر دیا ہے، ان کے اذکار و اشغال بھی اسی مین تحریر کر دیے ہیں، وہ إن شاء المولیٰ الکریم طبع ہو کر آپ کے سامنے آجائیں گے۔ اس تصوف عملی یا قرب و ولایت کے موجبات و موانع بھی ہم مذکورہ کتاب میں بیان کر چکے ہیں۔

تصوف عملی کی تحصیل کے لیےشیخ ایصال ضروری ہے۔ امام اہل سنت اعلیٰ حضرت قدس سرہ فرماتے ہیں: مرشد بھی دو قسم کے ہیں: اول عام کہ کلام اللہ و کلام الرسول و کلام ائمہ شریعت و طریقت و کلام علماے دین رشد و ہدایت ہے۔ اسی سلسلہ صحیحہ پر کہ عوام کا ہادی کلام علما، علما کا رہنما کلام ائمہ، ائمہ کا مرشد کلام رسول، رسول کا پیشوا کلام اللہ عز و جل۔ فلاح ظاہر ہو خواہ فلاح باطن اسے اس مرشد سے چارہ نہیں جو اس سے جدا ہے، بلا شبہ کافر ہے یا گمراہ اور اس کی عبادت برباد و تباہ۔ دوم بندہ کی عام سنّی صحیح العقیدہ صحیح الاعمال جامع شرائط بیعت کہ ہاتھ میں ہاتھ دے۔ یہ مرشد خاص ہے جسے پیر و شیخ کہتے ہیں، پھر دو قسم ہے۔