باب ۵۳ از ۵۴صفحات ۶۳۹–۶۵۰
اخلاص کی علامتیں
عالم و واعظ وغیرہ کے اخلاص کی علامتیں یہ ہیں:
۱۔ اگر کوئی دوسرا عالم ظاہر ہو جو اس سے اچھا وعظ کہتا ہے یا وہ اس سے بڑا عالم
ہے اور لوگ اس کی بات کو بہت زیادہ قبول کرتے ہیں تو یہ اس پر خوش ہو اور حسد نہ کرے۔ ہاں رشک میں کوئی حرج نہیں۔
۲۔ جب اس کی مجلس میں اکابر موجود ہوں تو اس کے کلام میں تبدیلی نہ آئے، بلکہ پہلے کی طرح اسے وہ تمام مخلوق خواہ بادشاہ ہوں یا رعایا، غنی ہوں یا فقیر سب کو ایک نگاہ سے دیکھے نیز وہ اس بات کی خواہش نہ رکھے کہ لوگ اس کے پیچھے چلیں ہر جگہ راستے اور بازار میں اس کے پیچھے ہی رہیں۔ ان کے علاوہ بھی بے شمار علامتیں ہیں۔
حضرت حسن بصریرحمۃ اللہ علیہ ایک مرتبہ سوار ہوکر گھر تشریف لے جا رہے تھے، آپ نے مڑ کر دیکھا تو معلوم ہوا کہ کچھ لوگ آپ کے پیچھے پیچھے چلے آرہے ہیں، آپ کھڑے ہو گئے اور فرمایا: تمھیں کوئی کام ہے؟ یا کوئی بات پوچھنا ہے؟ اگر ایسا نہیں ہے تو واپس چلے جاؤ۔ اس صورت میں بندے کے دل میں کچھ باقی نہیں رہتا۔’’
حضرت امام غزالی قدس سرہ نے حضرت حسنرضی اللہ عنہ کا ایک طویل واقعہ بڑا عبرت آموز بیان فرمایا۔ مختصر یہ کہ آپرضی اللہ عنہ کی مجلس علم گرم تھی، حجاج ابن یوسف جیسا ظالم آپ کی مجلس میں آیا، آپ کے قریب بیٹھ گیا، آپ جیسا کلام روزانہ فرماتے تھے ویسا ہی فرماتے رہے، آپ نے اپنی گفتگو منقطع نہ فرمائی۔ حضرت سعید کہتے ہیں کہ میں دیکھ رہا تھا کہ حضرت حسن حجاج کی وجہ سے اپنےکلام میں اضافہ فرماکراس کے قرب کے خواہاں ہیں یا اس کی ہیبت کی وجہ سے آپ کے کلام میں کچھ کمی آجائےگی، مگر دیکھا کہ آپ نے اپنے معمول کے مطابق ہی گفتگو فرمائی (نہ کمی کی نہ اضافہ) جب آپ فارغ ہو گئے آپ نے حجاج کی موجودگی کی کوئی پرواہ نہیں کی تو اس نے اپنا ہاتھ حضرت حسن کے کندھے پر رکھا اور کہا: شیخ نے سچ کہا اور خوب کہا، تم لوگوں پر لازم ہے کہ اس قسم کی مجلسوں میں بیٹھا کرو اور اس قسم کی
گفتگو کو اپنے اخلاق و عادات بناؤ،مجھے رسول اکرمﷺ سے روایت پہنچی ہے :
ان مجالس الذکر ریاض الجنۃ (ذکر کی مجلسیں جنت کے باغات ہیں)۔(مسند امام احمد)
اگر ہم لوگوں کے امور میں مصروف نہ ہوتے تو ان مجالس میں تم سے زیادہ بیٹھتے کیوں کہ ہمیں ان کی فضیلت معلوم ہے۔ حضرت امام غزالی قدس سرہ فرماتے ہیں : ان علامتوں سے باطنی حالت کا پتا چلتا ہے اور جب تم علما کو دیکھو کہ وہ ایک دوسرے سے حسد کرتے ہیں، جلتے ہیں، آپس میں نہ محبت کرتے ہیں نہ ایک دوسرے کی مدد کرتے ہیں تو سمجھ لو کہ انھوں نے آخرت کے بدلے دنیا کو خرید لیا ہے۔
تکبر اور خود پسندی: صحیح تربیت نہ ہونے کا نتیجہ ہے کہ اب عام طور پر اہل علم اکثر اخلاق حسنہ سے عاری اور اخلاق رذیلہ کی گندگی سے آلودہ ہیں۔ اخلاق رذیلہ سے پاک کرکے اخلاق حسنہ سے آراستہ کرنا محنت، توجہ اور گہری نظر چاہتا ہے، پوری شفقت و محبت اور ہمدردی اور اصول تربیت سے جب تک صحیح واقفیت نہیں ہوگی کبھی انسان کی اچھی تربیت نہیں کرتا ہے، غیر تو غیر ہیں، باپ اپنی اولاد، بھائی اپنے بھائی، استاذ اپنے شاگرد اور پیر اپنے مریدوں کی تربیت سے غافل اور لاپرواہ ہیں۔ دنیا کے کام کاج ،جھگڑوں، ہوٹل بازیوں وغیرہ کے لیے آدمی کے پاس وقت ہے، مگر تربیت کے لیے نہیں ۔ اس کا نقصان صرف انھی تک محدود نہیں جن کی تربیت سے لاپرواہی اور غفلت ہے، بلکہ عدم تربیت کی وجہ سے اکثر بڑے چھوٹوں سے پریشان ہیں اور چھوٹے بڑوں سے دکھی۔ اللہ تعالیٰ کسی کو کسی نعمت سے نوازتا ہے خواہ دینی ہو یا دنیوی، کسی کو اچھا علم ظاہر حاصل ہو گیا، علوم و فنون میں دسترس حاصل ہو گئی، کسی منصب پر فائز ہو گیا، عزت و اقتدار کی نعمت مل گئی، کسی کا حلقہ ارادت وسیع ہو گیا یا کچھ مالدار مرید ہاتھ آگئے۔ غرضیکہ وہ بجائے شکر الٰہی کے تکبر اور انانیت کا شکار
ہو جاتا ہے۔ یہ بلا اتنی عام ہے کہ بیان سے باہر ہے اور ایسی دلوں میں گھر کیے ہوئے ہوتی ہے کہ نکالے نہیں نکلتی ہے۔
ہم آیات و احادیث وغیرہ عرض کرتے ہیں، آپ پڑھیں کہ یہ آخرت کے لیے کتنا بڑا وبال ہے۔
آیات:
۱۔ سَاَصْرِفُ عَنْ اٰیٰتِیَ الَّذِیۡنَ یَتَکَبَّرُوۡنَ فِی الۡاَرْضِ بِغَیۡرِ الْحَقِّ (سورۃ الاعراف: ۷؍۱۴۶)
ترجمہ: اور میں اپنی آیتوں سے انہیں پھیردوں گا جو زمین میں ناحق اپنی بڑائی چاہتے ہیں۔
۲۔ کَذٰلِکَ یَطْبَعُ اللہُ عَلٰی کُلِّ قَلْبِ مُتَکَبِّرٍ جَبَّارٍ (سورۃ مومن: ۴۰؍۳۵)
ترجمہ: اللہ یوں ہی مُہر کردیتا ہے متکبر سرکش کے سارے دل پر۔
۳۔ اِنَّہٗ لَایُحِبُّ الْمُسْتَکْبِرِیۡنَ (سورۃ النحل: ۱۶؍۲۳)
ترجمہ: بیشک وہ مغروروں کو پسند نہیں فرماتا۔
مزید آیات احیاء العلوم شریف میں بھی دیکھ سکتے ہیں۔ چند احادیث بھی ملاحظہ فرمائیں :
۱۔ وہ جنت میں نہ جائےگا جس کے دل میں رائی کے برابر تکبر ہوگا اور وہ دوزخ میں داخل نہ ہوگا جس کے دل میں رائی کے برابر ایمان ہوگا۔(صحیح مسلم)
۲۔ حضورﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: بڑائی میری چادر اور عظمت میرا تہبند ہے (یہ دونوں ہی وصف میرے شایان شان ہیں) پس جو شخص ان دونوں میں سے کسی ایک میں مجھ سے جھگڑےگا میں اسے دوزخ میں ڈال دوں گا اور مجھے اس کی پرواہ نہیں۔(مسند امام احمد)
۳۔ کوئی بخیل جنت میں داخل نہ ہوگا نہ جبار (متکبر) اور نہ بد اخلاق۔(مسند امام
۴۔ وہ تمام لوگ دوزخی ہیں جو سخت مزاج متکبر، خوب جمع کرنے والے اور خرچ نہ کرنے والے ہیں اور اہل جنت کم جمع کرنے والے ہیں۔(مسند امام احمد)
۵۔ بیشک دوزخ میں ایک محل ہے جس میں تکبر کرنے والوں کو ڈال کر اوپر سے بند کر دیا جائےگا۔(شعب الایمان)
تکبر کی حقیقت
حضرت امام غزالی قدس سرہ فرماتے ہیں: تکبر دو قسم پر ہے: (۱)باطنی تکبر (۲)ظاہری تکبر۔ اول نفس کی عادت کا نام ہے۔ دوم اعضا سے ظاہر ہوتا ہے۔ باطنی صفات کو ہی تکبر کہنا زیادہ صحیح ہے کیوں کہ اعمال تو اس صفت تکبر کا نتیجہ ہوتے ہیں اور وہی عادت ان اعمال کو موجب ہوتی ہے۔ باطنی تکبر کا مطلب ہوتا ہے خود کو دوسروں سے بلند سمجھنا اور نفس کی طرف مائل ہونے سے راحت پانا ہے کیوں کہ تکبر دو باتیں چاہتا ہے۔ ایک وہ جن پر تکبر کیا جائے، دوسرے وہ عمل جس کے ذریعہ تکبر کیا جائے۔
خیال رہے کہ خود پسندی اور چیز ہے تکبر اور چیز کیوں کہ خود پسندی صرف اسی شخص تک محدود رہتی ہے، بلکہ انسان اگر اکیلا ہی پیدا ہوتا تو بھی خود پسندی کا تصور کیا جا سکتا تھا، لیکن تکبر کے لیے کوئی دوسرا بھی ضروری ہے۔ یہ بھی معلوم رہے کہ تکبر کے لیے اتنا کافی نہیں ہے کہ وہ دوسرے شخص کو حقیر جانتا ہو کیوں کہ اس صورت میں اگر دوسرے آدمی کو اپنے جیسا سمجھتا ہے تو یہ بھی تکبر نہیں، بلکہ تکبر اس صورت میں ہوگا جب اپنے لیے بھی ایک مرتبہ و مقام خیال کرے اور دوسرے کے لیے بھی۔ پھر اپنے آپ کو اس سے بلند مرتبہ سمجھے۔
تکبر کی قباحتیں
متکبر کے دل میں اپنی عظمت کا احساس ہوتا ہے اور یہ عظمت کچھ ظاہری اور باطنی اعمال کا تقاضا کرتی ہے جو اس کا نتیجہ اور ثمرہ ہوتے ہیں اور اسے تکبر کہا جاتا ہے۔ جب خود کو بڑا سمجھتا ہے تو لازمی طور پر دوسروں کو حقیر
جانتا ہے، انھیں اپنے سے دور کرتا ہے، ان کے ساتھ اٹھنا بیٹھنا، کھانا پینا پسند نہیں کرتا اور جب تکبر بڑھ جاتا ہے تو وہ چاہتا ہے کہ دوسرا شخص اس کے سامنے جھک کر کھڑا ہو اوریہ اس کا حق ہے اور جب تکبر مزید بڑھتا ہے تو ان لوگوں سے خدمت لینے میں بھی عار سمجھتا ہے اور ان کو اپنے سامنے کھڑا ہونے کا اہل نہیں سمجھتا اور اگر تکبر کچھ کم ہو تو اس کی برابری سے نفرت کرتا ہے۔ تنگ راستوں میں اس سے آگے بڑھتا ہے اور مجالس میں اونچی جگہ بیٹھتا ہے اور اس انتظار میں رہتا ہے کہ سلام میں وہ شخص پہل کرے اور اگر وہ اس کے کام کاج کو بجا لانے میں کوتاہی کرے تو اس بات کو بہت بعید اور تعجب خیز سمجھتا ہے اور اگر وہ اس کے سامنے کوئی دلیل پیش کرے یا مناظرہ کرے تو اس کو جواب دینا مناسب نہیں سمجھتا اور اگر نصیحت کرے تو قبول کرنے سے نفرت کرتا ہے اور اگر یہ متکبر انسان خود دوسروں کو نصیحت کرے تو نہایت سخت مزاجی سے کرتا ہے اور اگر اس کی بات کو رد کیا جائے تو سخت غصے میں آتا ہے۔
اگر معلم ہے تو طلبہ کے ساتھ نرمی نہیں برتتا، ان کو ذلیل جانتا ہے، جھڑکتا ہے، ان پراحسان جتلاتا ہے اور ان سے خدمت لیتا ہے اور عام لوگوں کو اس طرح دیکھتا ہے گویا وہ گدھے کو دیکھ رہا ہو یعنی ان کو جاہل اور حقیر خیال کرتا ہے۔ تکبر کی وجہ سے جو اعمال صادر ہوتے ہیں وہ بہت زیادہ ہیں، شمار میں نہیں آسکتے، تکبر کی آفت بہت بڑی اور مہلک ہے، اس سے خاص لوگ بھی تباہ ہو جاتے ہیں۔ عابدین، زاہدین اور علما بھی اس سے بہت کم محفوظ ہوتے ہیں، عام لوگوں کا تو ذکر ہی کیا ہے۔
تکبر جنت کے راستے میں رکاوٹ بن جاتا ہے اور مومنوں کے اخلاق کے درمیان حائل ہو جاتا ہے اور یہی اخلاق جنت کے راستے ہیں جب کہ تکبر اور عزت نفس ان تمام دروازوں کو تالا لگا دیتے ہیں کیوں کہ اس قسم کا آدمی ایسا نہیں ہوتا کہ
جو کچھ اپنے لیے پسند کرے وہ دوسروں کے لیے بھی پسند کرے اور وہ توضع کی بھی قدرت نہیں رکھتا جو متقی لوگوں کے اخلاق کی جڑ ہے اور جب تک تکبر ہے وہ کینہ بھی نہیں چھوڑ سکتا۔ وہ اپنی عزت بچانے کے لیے ہمیشہ سچ بولنے پر قادر نہیں ہوتا اور اس جھوٹی عزت کی وجہ سے غصہ نہیں چھوڑ سکتا، غصہ پینے کی طاقت نہیں رکھتا، حسد نہیں چھوڑ سکتا، اچھی نصیحتیں نہیں کر سکتا، دوسروں کی نصیحت قبول نہیں کرتا اور غیبت اور لوگوں کو حقیر جاننے سے نہیں بچتا۔
غرضیکہ متکبر انسان ہر برے کام کے لیے مجبور ہوتا ہے اور ہر اچھے کام سے عاجز ہوتا ہے۔ بری عادتیں متکبر کے لیے ایک لازمی امر ہیں اور ان میں بعض دوسری بعض کا تقاضا کرتی ہیں۔ تکبر کی سب سے بری قسم وہ ہے جو علم کے استفادہ اور قبول حق میں رکاوٹ بنتی ہے۔ قرآن پاک میں متعدد مقامات پر اس کی مذمت بیان فرمائی گئی ہے۔
اقسام و درجات
تکبر کی تین قسمیں: (۱)اللہ تعالیٰ پر تکبر کرنا، یہ سب سے بڑا تکبر ہے، اس کا باعث محض جہالت و سرکشی ہے۔ جس طرح نمرود نے تکبر کیا تھا۔ (۲)رسولوں پر تکبر کرنا یعنی اپنے نفس کو عزت والا اور بلند سمجھنا اور یہ خیال کرنا کہ عام جیسے لوگوں کا حکم کیسے مانا جائے، بعض اوقات یہ بات غور و فکر سے روک دیتی ہے۔ (۳)تیسری قسم عام بندوں پر تکبر کرنا، انسان خود کو بڑا سمجھتا ہے اور دوسروں کو حقیر جانتا ہے اور یوں اس کا نفس دوسروں کے سامنے جھکنے سے انکار کر دیتا ہے اور نفس اپنی برتری کے اظہار کی دعوت دیتا ہے اور اس کو حقیر و ذلیل خیال کرتا ہے۔
اسباب: معلوم ہو کہ تکبر اسی وقت ہوتا ہے جب کہ انسان خود کو بڑا سمجھے اور یہ اسی وقت ہوتا ہے جب وہ اپنے اندر کسی صفت کمال کا اعتقاد رکھتا ہے۔ کمال یا تو دینی ہوتا ہے اور یہ علم و عمل ہے یا دنیوی اور یہ نسب، جمال، قوت مال، کثرت
احباب، یہ سب سات اسباب ہیں۔ پہلا سبب علم ہے اور علما میں یہ تکبر بہت جلد آتا ہے، اس لیے حدیث میں ہے: آفۃ العلم الخیلاء (علم کی آفت تکبر ہے)
علم کے سبب انسان بہت جلد دھوکہ میں آجاتا ہے اور اپنے اندر علم کے جمال و کمال کا تصور کرکے اپنے آپ کوبہت بڑا سمجھتا ہے، لوگوں کو حقیر جانتا ہے، انھیں جاہل قرار دیتا ہے۔ وہ چاہتا ہے کہ کہ لوگ اسے سلام کریں (ہاتھ چومیں، قدم بوسی کریں) تعظیماً کھڑے ہوں۔ اگر یہ کسی کو سلام میں پہل کرے یا بخوشی سلام کا جواب دے یا کسی کے لیے کھڑا ہو جائے یا اس کی دعوت قبول کر لے تو اسے احسان سمجھتا ہے اور چاہتا ہے کہ وہ اس کا شکر گزار ہو۔ یہ اعتقاد رکھتا ہے کہ اس نے جس کی عزت کی ہے اور جو سلوک کیا ہے وہ اس کے مستحق نہیں تھے۔ لہٰذا ان لوگوں کو چاہیے کہ وہ اس کی عزت و خدمت کریں، بلکہ علمی تکبر اس مرحلے پر کھڑا کر دیتا ہے کہ لوگ اس کے ساتھ نیکی کرتے ہیں اور وہ ان کے ساتھ حسن سلوک نہیں کرتا، لوگ ملاقات کو آتے ہیں اور یہ کسی کی ملاقات کو نہیں جاتا، وہ اس کی بیمار پرسی کرتے ہیں یہ نہیں کرتا، لوگوں سے خدمتیں لیتا ہے، کوتاہی کرنے والوں کو برا جانتا ہے۔
اور آخرت کے اعتبار سے لوگوں پر تکبر یہ ہے کہ وہ خود کو اللہ تعالیٰ کے یہاں دوسروں سے افضل و اعلیٰ سمجھے اور ان کے بارے میں زیادہ خوف ہو، اپنے بارے میں خوف نہ ہو اور لوگوں کے مقابل اپنے لیے زیادہ امیدیں رکھے۔ حضرت امام قدس سرہ فرماتے ہیں: ایسے کو بجائے عالم جاہل کہنا زیادہ مناسب ہے کیوں کہ علم حقیقی تو وہ ہے جس کی وجہ سے آدمی خود کو اور اپنے آپ کو پہچان لے، خاتمہ کے خطرے کو جان لے۔ یہ بھی ذہن میں رکھے کہ علما سے پوچھ کچھ زیادہ ہوگی اور علم کا خطرہ زیادہ ہے اور یہ سمجھے کہ علم تواضع، خوف اور خشیت کو بڑھاتا ہے۔ اس کا تقاضا یہ ہے کہ عالم اپنے آپ سے تمام لوگوں کو بہتر جانے کیوں کہ علم کی وجہ سے اس پر اللہ تعالیٰ کی
محبت بڑی ہے۔ اس نے نعمت علم کے شکر کے سلسلے میں کوتاہی برتی ہے۔ اسی وجہ سے حضرت ابو داؤدرضی اللہ عنہ نے فرمایا: جس کا علم زیادہ ہوتا ہے اس کا درد بھی زیادہ ہوتا ہے۔
تکبر علم کے دو سبب
علم کی وجہ سے تکبر کے دو سبب ہیں۔ ایک یہ کہ وہ شخص ایسے علم میں مشغول ہوتا ہے جسے علم کہا جاتا ہے، لیکن وہ حقیقی علم نہیں ہوتا، حقیقی علم تو وہ ہے جس کا اوپر ذکر ہوا۔ علم حقیقی سے خوف و خشیت پیدا ہوتی ہے،ارشاد ربّانی ہے:
اِنَّمَا یَخْشَی اللہَ مِنْ عِبَادِہِ الْعُلَمٰٓؤُا (سورۃ فاطر: ۳۵؍۲۸)
ترجمہ: اللہ سے اس کے بندوں میں وہی ڈرتے ہیں جو علم والے ہیں۔’’
اس کے علاوہ جو علوم ہیں جیسے علم طب، حساب، لغت، شعر گوئی، نحو، مقدمات کے فیصلے اور مناظرہ کے طریقے وغیرہ انسان جب صرف یہی علوم سیکھتا ہے تو وہ تکبر اور نفاق کا شکار ہوتا ہے۔ لہٰذا ان کو علم کے بجائے صنعت اور فن کہنا زیادہ مناسب ہے۔ علم تو صحیح وہی ہے جس سے بندگی اور ربوبیت کی معرفت حاصل ہوتی ہے اور طریقہ عبادت معلوم ہوتا ہے اور اس علم سے عموماً تواضع پیدا ہوتا ہے۔ دوسرا سبب یہ ہوتا ہے کہ آدمی جب علم کا آغاز کرتا ہے تو اس کا باطن اچھا نہیں ہوتا، نفس نکما اور بداخلاق ہوتا ہے، وہ پہلے تہذیب نفس اور تصفیہ قلب میں مصروف نہیں ہوتا۔ وہ چوں کہ ریاضت و مجاہدہ کے ذریعہ تزکیہ کر نہیں پاتا ہے، اسی لیے اس کا نفس عبادت پر راضی نہیں ہوتا ہے، اس لیے اس کا جوہر بد باقی رہتا ہے۔ ایسی حالت میں جب وہ علم میں مشغول ہوتا ہے، کوئی بھی علم ہو تو وہ علم اس کے دل میں خبیث کی جگہ پر رہتا ہے، اس لیے اس کا نتیجہ اچھا نہیں ہوتا اور نیکیوں میں اس کا اثر ظاہر نہیں ہوتا۔
عمل و عبادت
عمل و عبادت کے ذریعہ عزت و تکبر اور لوگوں کو اپنی طرف
مائل کرنے سے عابد و زاہد لوگ بھی خالی نہیں ہیں۔ ان لوگوں کے دین و دنیا کے حوالے سےتکبر ٹپکتا ہے۔ دنیا میں یوں کہ ان کو دوسروں کا ان کے پاس آنا خود ان کے پاس جانے سے اچھا معلوم ہوتا ہے، ان کی لوگوں سے توقعات ہوتی ہیں کہ وہ ان کی ضروریات پوری کریں، عزت و تعظیم کریں، مجالس میں ان کو کشادہ اور عزت کی جگہ دیں۔ ان کے فضائل علمی و عملی تقویٰ وغیرہ بیان کریں۔ ہر معاملے میں انھیں مقدم رکھیں وغیرہ وغیرہ۔
آج کے دور میں حالات ایسے ہو گئے ہیں کہ حاجی صاحبان تک چاہتے ہیں کہ انھیں عزت کا مقام ملے، ان کا اعلان ہو وغیرہ وغیرہ ان کے عمل سے ظاہر ہوتا ہے۔ گویا وہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کے ذریعہ لوگوں پر احسان کر رہے ہیں۔ جہاں تک دین کا تعلق ہے تو وہ سمجھتے ہیں کہ گویا وہی نجات پانے والے ہیں، باقی سب تباہ و برباد ہونے والے ہیں۔ یہ تکبر انسان کو کبھی بہت بڑے ابدی خسارہ کا مستحق بنا دیتا ہے جیسا کہ روایتوں میں آیا ہے کہ بنی اسرائیل میں ایک گنہ گار شخص تھا جسے کثرت فساد کی وجہ سے خبیث کہا جاتا تھا، وہ ایک عابد کے پاس سے گذرا جس پر بادل سایہ کیے ہوئے تھا۔ اس گنہ گار نے سوچا کہ میں گنہ گار ہوں، چلو اس عابد کے پاس بیٹھ جائیں، ہو سکتا ہے اس کی برکت سے اللہ تعالیٰ مجھے معاف کر دے، وہ بیٹھا، عابد نے سوچا میں عابد ہوں اور یہ بدنام گنہ گار ہے، یہ میرے پاس بیٹھنے کے لائق نہیں۔ چناں چہ اس نے نفرت سے اسے اپنے پاس سے اٹھا دیا۔ اس زمانے کے نبیعلیہ السلام پر وحی آئی کہ ان دونوں سے کہہ دو، اپنا اپنا عمل سرے سے شروع کریں، میں نے اس گنہ گار کو بخش دیا اور اس عابد کے عمل کو ضائع کر دیا اور وہ بادل جو سایہ کیے ہوئے تھا اس عابد سے ہٹ کر گنہ گار پر سایہ فگن ہو گیا۔
درجات: علم و عبادت کے تعلق سے تکبر کے تین درجات ہیں:
۱۔ تکبر اس کے دل میں جم جائے اور وہ خود کو دوسروں سے بہتر سمجھے، لیکن اس
کے ساتھ ساتھ وہ تواضع بھی کرتا ہے اور کاموں کی کوشش بھی کرتا ہے جو اپنے آپ سے دوسروں کو بہتر سمجھنے والے لوگ کرتے ہیں۔ یہ وہ شخص ہے جس کے دل میں تکبرکا درخت مضبوط ہو چکا ہے، لیکن اس کی شاخیں مکمل طور پر کاٹ دی گئی ہیں۔
۲۔ دوسرا وہ شخص ہے جو تکبر اپنے افعال میں ظاہر کرتا ہے مثلاً مجلسوں میں اونچا بیٹھتا ہے، اپنے ہم پلہ ساتھیوں سے آگے بڑھتا ہے۔ جو اس کے حق میں کوتاہی کرے اس پر اعتراض کرتا ہے اور عالم میں ادنیٰ بات یہ ہوتی ہے کہ وہ اس طرح رخ پھیرتا ہے گویا وہ اعراض کر رہا ہے اور عابد ترش رو ہوتا ہے، اس کی پیشانی پر شکن ہوتی ہے گویا وہ لوگوں سے بچنا چاہتا ہے اور ان کو حقیر سمجھتا ہے یا ان پر غصہ سے ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کا تکبر ان کی عادات و احوال پر ظاہر ہوتا ہے۔
۳۔ تیسرا درجہ یہ ہے کہ شخص زبان پر تکبر ظاہر کرے حتیّٰ کہ وہ اسے دعویٰ کرنے، دوسروں پر فخر اور اپنے آپ کو پاک سمجھنے کی طرف بلاتا ہے، اپنے احوال و مقامات ذکر کرتا ہے، علم و عمل میں دوسروں پر غلبہ اختیار کرتا ہے۔ عابد شخص فخر کے طور پر دوسرے عبادت گزاروں کے بارے میں پوچھتا ہے: وہ کون ہے؟ اس کا عمل کیا ہے؟ اور اسے زہد کہاں سے مل گیا؟ پھر وہ دوسروں کے بارے میں زبان درازی اور عیب جوئی کرتا ہے کہ میں نے اتنے روزے رکھے، میں رات کو سوتا نہیں، روزانہ کلام اللہ ختم کرتا ہوں اور فلاں تو سحری تک سویا رہتا ہے، تلاوت بھی زیادہ نہیں کرتا اور اسی طرح دیگر باتیں کرتا ہے۔ بعض اوقات وہ اپنے نفس کی پاکیزگی بیان کرتا ہے اور کہتا ہے کہ فلاں آدمی نے مجھے تکلیف دینا چاہی تو اس کا بیٹا مر گیا یا مال لٹ گیا یا وہ بیمار ہو گیا۔ اس طرح وہ کرامت کا دعویٰ کرتا ہے۔ اسی طرح علما فخر کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ میں تمام فنون کا عالم ہوں، حقائق سے آگاہ ہوں اور میں نے فلاں عالم کو دیکھا ہے اور تو کون ہے؟ تیری فضیلت کیا ہے؟
یہ تمام باتیں اس لیے کہ دوسرے کو حقیر اور اپنے کو عظیم قرار دے اور دوسروں پر برتری کے لیے مناظرہ کی کوشش کرتا ہے۔ ایسے علوم و فنون کے حصول میں محنت کرتا ہے اور مصروف رہتا ہے جن کے ذریعہ محفلوں میں زینت حاصل کرے جیسے مناظرہ، مجادلہ، عمدہ گفتگو اور مسجع کلام۔ اسی طرح عجیب و غریب علوم یاد کرتا ہے تاکہ اپنے ہم زمانہ لوگوں پر عظمت حاصل کرے۔ یہ تمام باتیں متکبرانہ عادات اور تکبر کی علامات ہیں جو علم و عمل کے ذریعہ بڑا بننے کا نتیجہ ہیں۔ اسی طرح آپ دیگر اسباب تکبر کو سمجھ سکتے ہیں، تفصیل کے لیے دیکھیے احیاء العلوم شریف۔
جو چیزیں تکبر کا باعث بنتی ہیں وہ چار ہیں: (۱)خود پسندی (۲)کینہ (۳)حسد (۴)ریا۔