باب ۱۶ از ۵۴صفحات ۱۹۹–۲۱۰
تزکیہ نفس کے طریقے
حضرت امام ربّانی مجدد و منور الف ثانی قدس سرہ مکتوب:۶۰، دفتر سوم میں فرماتے ہیں کہ تزکیہ نفس (نفس کو رذائل سے پاک کرنے) کے دو طریقے ہیں: ایک طریقہ ریاضات و مجاہدات سے تعلق رکھتا ہے اور وہ طریق انابت ہے جو کہ مریدوں سے تعلق رکھتا ہے۔ اور دوسرا طریق جذب و محبت کا طریق ہے جو کہ راہ اجتبا ہے اور مرادوں سے تعلق رکھتا ہے۔ ان دونوں میں بہت فرق ہے۔ ان دونوں میں وجوہ فرق ہم کتاب ‘‘نبوت و ولایت’’ میں بیان
کر چکے۔ نیز ہم طریق اول کو اپنے علم و تجربہ کی بنیاد پر قدرے تفصیل سے کتاب ‘‘سلاسل اور ان کے اسباب اختلاف’’ میں بیان کر چکے، سر دست کچھ ضروری امور بیان کرتے ہیں:
ریاضات و مجاہدات
ابھی آپ پڑھ چکے کہ قرب کی علت موجبہ جذب ہے۔ مشکات شریف میں بیہقی کے حوالے سے حضرت فضالہ کاملرضی اللہ عنہ سے روایت کیا کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: المجاھد من جاھد مِن نفسِہ یعنی کامل مجاہد وہ ہے جو اپنے نفس سے جہاد کرے جیسا کہ عربی قواعد کا تقاضہ ہے اور اسی جہاد کامل کا دوسرا نام جہاد اکبر ہے۔ جیسا کہ روایت کی گئی کہ تاجدار رسالتﷺ نے غزوہ تبوک سے واپسی پر فرمایا: رجعنا من الجھاد الأصغر إلی الجھاد الأکبر (ہم جہاد اصغر سے جہاد اکبر کی طرف لوٹے) ۔ جہاد اصغر سے جہاد بالکفار اور جہاد اکبر سے جہاد بالنفس مراد ہے۔ اس کو اکبر اس وجہ سے کہا گیا کہ اس میں جو سختی و مشقت ہے وہ جہاد اصغر کی مشقت و سختی سے کروڑوں زیادہ ہے۔ جہاد اصغر میں ایک موت ہے اور جہاد اکبر میں ہر دم موت ہے۔ اکبر کہنے کی ایک وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ ا س میں جو ثواب اور فائدہ ہے وہ جہاد بالکفار سے کہیں زیادہ ہے۔ (ماخوذ از الکلام الاضح)
لغت کے اعتبار سے مجاہدہ مشقت کو کہتے ہیں اور اصطلاح میں مخالفت نفس کا نام مجاہدہ ہے۔ خیال رہے کہ مجاہدہ کا حکم شریعت نے دیا ہے، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا اتَّقُوا اللہَ وَابْتَغُوۡۤا اِلَیۡہِ الْوَسِیۡلَۃَ وَجَاہِدُوۡا فِیۡ سَبِیۡلِہٖ لَعَلَّکُمْ تُفْلِحُوۡنَ (سورۃ المائدۃ: ۵؍۳۵)
ترجمہ: اے ایمان والو اللہ سے ڈرو اور اسکی طرف وسیلہ ڈھونڈو اور اس کی راہ میں جہاد کرو اس امید پر کہ فلاح پاؤ۔’’
اس کے علاوہ قرآن و سنت میں نصوص موجود ہیں۔ معلوم ہوا کہ مجاہدہ وہ امر ہے جس کا اللہ جل و علا و رسولﷺ نے حکم دیا ہے، لہٰذا وہ مقاصد سے ہے۔ بزرگوں نے فرمایا کہ مجاہدہ ہی اصل کار ہے۔ آپ پڑھ چکے کہ بندے اور اللہ تعالیٰ کے درمیان سب سے بڑی رکاوٹ نفس ہے اور ہواے نفس کی اتباع اور اس کی خواہشات پر چلنا ہلاکت کی طرف لے جاتا ہے۔ اس سلسلے میں ہم متعدد نصوص پہلے بیان کر چکے ہیں۔
خیال رہے کہ نفس جب تک اپنی امّارگی اور شرارت پر قائم رہتا ہے اس وقت تک اس کی خواہشات اور چاہتیں ہمیشہ شریعت کے خلاف ہی ہوتی ہیں اگرچہ بظاہر کوئی نیک خواہش کرتا ہے۔ لہٰذا نفس کی مخالفت ہی مجاہدہ ہے۔
اس کی قدرے تفصیل یہ ہے کہ ہم سے جس قدر گناہ صادر ہوتے ہیں خواہ ان کا تعلق منہیات کے ارتکاب سے ہو یامامورات کے ترک سے یہ سب خواہش نفس کی اتباع میں ہوتے ہیں اور اسی میں نفس کی راحت اور آرام ہے اور منہیات کو ترک کرنا اور مامورات کو بجالانا اس میں نفس کی مخالفت اور مشقت ہے۔ معلوم ہواکہ ساری شریعت ہی مخالفت نفس پر مبنی ہے۔ حضرت مجدد قدس سرہ نے اسی لیے خود دقائق سنت پر عمل کیا اور اسی کی ترغیب دی اور ان کے نزدیک کامل اتباع سنت ہی بڑا مجاہدہ ہے کہ انسان جو کچھ کرے اتباع سنت کی نیت سے کرے حتّی کہ ثواب بھی ملحوظ نہ ہو۔ اگر غور سے دیکھا جائے تو حقیقتاً یہ بڑا مجاہدہ ہے جس کو دوسری تحریر میں تفصیل سے عرض کر چکے ہیں۔
بزرگوں نے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولﷺ کی محبت میں اور ان کا قرب حاصل کرنے میں نفس کو بڑی بڑی مشقتوں میں ڈالا تاکہ یہ دشمن خدا مقہور و مغلوب ہو، اس کی امّارگی اور شرارتیں دور ہوں اور یہ اطمینان کی منزل پر پہنچے۔ آپ پڑھ چکے کہ قرب کا سب سے بڑا مانع رذائل نفس ہیں۔
اقسام مجاہدہ
ریاضت و مجاہدہ کی دو قسمیں علما نے بیان فرمائیں: (۱)مجاہدہ اختیاریہ (۲)مجاہدہ اضطراریہ۔ اول کا مطلب یہ ہے کہ انسان از خود وہ اصول اور امور اپنائے جن میں مخالفت نفس اور مشقت ہے اور لذتیں کم سے کم اختیار کرے۔ بزرگوں نے مجاہدے کے جو اصول مقرر کیے ہیں ان کا بیان آگے آئےگا۔ دوم کا مطلب یہ ہے کہ بندہ از خود وہ امور نہ اپنائے جو نفس پر شاق اور گراں ہیں، بلکہ اللہ تعالیٰ اسے بلیات و مصائب میں مبتلا کرے اور بندے کو صبر دے کہ جس کی وجہ سے درجات بلند ہوں، قرآن شریف میں ہے:
وَلَنَبْلُوَنَّکُمْ بِشَیۡءٍ مِّنَ الْخَوۡفِ وَالْجُوۡعِ وَنَقْصٍ مِّنَ الۡاَمۡوَالِ وَالۡاَنۡفُسِ وَالثَّمَرٰتِ (سورۃ البقرۃ: ۲؍۱۵۵)
ترجمہ: اور ضرور ہم تمہیں آزمائیں گے کچھ ڈر اور بھوک سے اور کچھ مالوں اور جانوں اور پھلوں کی کمی سے۔’’
اور پھر فرمایا کہ صبر کرنے والوں کو خوش خبری سنا دو اور انھیں یہ انعام دیا:
اُولٰٓئِکَ عَلَیۡہِمۡ صَلَوٰتٌ مِّنۡ رَّبِّہِمْ وَرَحْمَۃٌ (سورۃ البقرۃ: ۲؍ ۱۷۵)
ترجمہ: یہ لوگ ہیں جن پر ان کے رب کی دُرودیں ہیں اوررحمت۔’’
مجاہدہ اضطراریہ بھی بہت ثواب اور رفع درجات کا سبب بنتا ہے۔
حضور غوث اعظم کا ارشاد
حضور غوثیت مآبرضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: خلاصہ یہ کہ بندہ بار بار دنیا طلب کرتا ہے، لیکن اس کی مراد پوری نہیں ہوتی ہے۔ بالآخر بندہ تھک ہار بیٹھ رہتا ہے اور اس کی طلب چھوڑ دیتا ہے۔ یہ در اصل بندے پر خدا کی رحمت ہوتی ہے کہ وہ اس طرح بندے کو دنیا سے ہٹا کر آخرت کی طرف متوجہ کرنا چاہتا ہے کیوں کہ بندے کی فطرت ہے کہ بار بار جب کسی چیز کو طلب کرتا ہے اور وہ نہیں ملتی ہے تو اس کا تعلق خاطر رفتہ رفتہ اس سے ہٹ جاتا ہے۔
حضرت مجدد کے ارشادات
آج جہاں بندوں میں جب دنیا اور مادیت کے
غلبہ کی وجہ سے بہت سی خرابیاں پیدا ہو گئی ہیں وہیں آلام و مصائب کے سلسلے میں بھی بہت کچھ کوتاہیاں ہونے لگیں۔ جہلا اور عوام تو ورود مصائب کے وقت واویلا کرتے ہی ہیں خواص تک شکوہ و شکایت میں زبان کھولنے لگے، جو صوفیہ کہلاتے ہیں ان کا بھی کچھ عجب حال ہے۔ یہ سب کچھ صرف اس لیے ہے کہ اجسام آرام و راحت اور عیش و تنعم کے عادی ہو گئے ہیں؛ اس لیے معمولی تکلیف پر چیخ اٹھتے ہیں۔ دوسری عوام بھی نیک لوگوں پر آلام و مصائب یا کسی معاملے میں ناکامی ہونے پر نیکوں کے معاملے میں طرح طرح کی غلط فہمیوں کا شکار ہو جاتے ہیں۔ ہم اس سلسلے میں حضرت مجدد قدس سرہ کے چند ارشادات نقل کرتے ہیں جن سے بہت کچھ عبرت و نصیحت حاصل کی جا سکتی ہے جو ہر گروہ کے لیے لائق تقلید ہیں نیز آپ دیکھیں گے کہ یہ ایلام و ابتلا اللہ تعالیٰ کے خاص بندوں کے لیے کس قدر رحمت ہوتے ہیں۔ اس سلسلے میں قرآن و سنت میں بہت کچھ موجود ہے۔
مقام لذت و الم
حضرت مجدد قدس سرہ فرماتے ہیں: ‘‘دنیا کے لذت و الم کی دو قسمیں ہیں: (۱)جسمانی (۲)روحانی۔ ہر وہ چیز جس میں جسم کی لذت ہے روح کے لیے اس میں الم ہے اور ہر وہ چیز جس سے جسم کو درد و الم لاحق ہوتا ہے روح اس سے لذت پاتی ہے۔ پس روح اور جسم ایک دوسرے کی نقیض اور مخالف ہیں۔ اس دنیا میں جہاں روح نے مقام جسم میں تنزل (اترنا) کیا ہے اور جسم و جسمانی کی گرفتار اور اسیر ہو گئی ہے؛ اس لیے روح نے حکم جسم پیدا کر کے ایسی ہو گئی ہے کہ جسم کی لذت سے لذت حاصل کرتی ہے اور اس کے الم سے الم زدہ ہوتی ہے۔ یہ عوام کالانعام کا مرتبہ ہے۔ آیت کریمہ ‘‘ثُمَّ رَدَدْنٰہُ اَسْفَلَ سٰفِلِیۡنَ’’ (پھر اسے ہر نیچی سے نیچی سی حالت کی طرف پھیردیا) ان کے حق میں صادق ہے۔
افسوس صد افسوس! اگر روح اس گرفتاری سے چھٹکارا حاصل نہ کرے اور وطن اصلی کی جانب رجوع نہ کرے۔’’ پھر تین سطر لکھ کر فرماتے ہیں: روح کی بیماری یہ
ہے کہ اپنے الم کو لذت سمجھتی ہے اور لذت کو الم خیال کرتی ہے جیسے صفرا کا مریض صفرا کی بیماری کی وجہ سے میٹھی چیز کو تلخ پاتا ہے۔ پس عقلا پر اس مرض کے ازالے کی فکر لازم ہے تاکہ جسمانی مصائب و آلام میں خرم و شاداں زندگانی گذارے؎
از پئے ایں عیش و عشرت ساختنصد ہزاراں جان بباید باختن
یعنی اس عیش و عشرت کے آلام و مصائب میں فرحاں و شاداں رہنے کے واسطے ہزار جانوں سے کھیلنا چاہیے مطلب یہ کہ جسم کو ریاضات و مجاہدات کا عادی بنانا چاہیے۔’’
فرماتے ہیں: جب اچھی طرح ملاحظہ کیا جاتا ہے تو معلوم ہوتا ہے کہ اگر دنیا میں درد و الم اور مصیبت نہ ہوتے تو دنیا کی جو کے برابر بھی قیمت نہ ہوتی۔ دنیا کی ظلمتوں کو وقائع و حوادث زائل کرتے ہیں۔ حوادث کی تلخی نفع بخش دوا کی تلخی کی طرح ہے جو کہ مرض کا ازالہ کرتی ہے، اس فقیر (مجدد قدس سرہ) کو محسوس ہوتا ہے کہ دعوت عام میں جہاں کھانے پکاتے ہیں اور خلوص نیت نہیں کر پاتے ہیں وہاں کھانا کھانے والوں کی ایک جماعت شکایت کرتی ہے اور کھانے اور کھانا کھلانے والے میں کمی نکالتے ہیں جس سے کھانا کھلانے والے کا دل ٹوٹتا ہے۔ اس دل ٹوٹنے سے ہی اس کی وہ ظلمت جو کہ عدم خلوص نیت کی وجہ سے کہ کھانے میں پیدا ہو جاتی ہے زائل ہو جاتی ہے اور قبول کے محل میں لے آتی ہے۔ اگر اس جماعت کا شکوہ نہ ہوتا اورکھلانے والے کو انکسار قلب نہ ہوتا تو جو کھانا سراسر ظلمت و کدورت سے پُر تھا قبول کے احتمال کی اس میں کیا گنجائش ہوتی، پس کام کا مدار شکستگی و آوارگی پر ہوا اور ہم نازپروروں اور عیش و تنعم کے جویاں لوگوں کے لیے کام مشکل ہے:
وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَ الْاِنۡسَ اِلَّا لِیَعْبُدُوۡنِ (سورۃ الذاریات: ۵۱؍۵۶)
ترجمہ: اور میں نے جن اور آدمی اپنے ہی لئے بنائے کہ میری بندگی کریں۔’’
نص قاطع اور قطعی یقینی دلیل ہے اور عبادت تذلل و انکسار کا نام ہے۔ پس انسان کی پیدائش سے مقصود اس کی ذلت و خواری ہے، خاص کر مسلمانوں اور دین داروں کے لیے کہ دنیا ان کے لیے قید خانہ ہے، قید خانے میں عیش کا جویاں ہونا عقل سے دور ہے۔ آدمی کے لیے محنت کشی کی مشقت سے چارہ نہیں اور بار برداری کی ورزش سے گذر نہیں۔ حضرت حق سبحانہ و تعالیٰ ہم بے طاقتوں کو اس معنی پر استقامت کرامت فرمائے۔ (مکتوب؍۶۴، جلد اول)
رنج و غم لوازم محبت سے ہیں
حضرت مجدد قدس سرہ مکتوب ۱۴۰، دفتر اول میں فرماتے ہیں: رنج و غم لوازم محبت سے ہیں، اختیار فقر کے لیے درد و غم ضروری ہیں؎
غرض از عشق تو چاشنی درد و غم است
ورنہ زیر فلک اسباب تنعم چہ کم است
یعنی تیرے عشق سے مقصود درد و غم کی چاشنی ہےورنہ آسمان کے نیچے اسباب تنعم کیا کم ہیں۔’’
دوست آوارگی چاہتا ہے تاکہ اس کے غیر سے کلی طور پر انقطاع حاصل ہو۔ اس جگہ بے آرامی میں آرام ہے اور سوز میں ساز (لذت و خوشی) ہے، بے قراری میں قرار ہے اور جراحت (زخم) میں راحت ہے۔ اس مقام میں فراغت طلب کرنا خود کو محنت میں ڈالنا ہے۔ خود کو پورے طور پر محبوب کے سپرد کر دینا چاہیے اور جو کچھ دوست سے آئے خوشی سے قبول کرنا چاہیے، بھؤں نہیں چڑھانا چاہیے۔ حضرت شرف الدین حسین کی تعزیت کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
‘‘ہر چند آلام و مصائب بظاہر تلخ ہیں اور جسم کے الم کا سبب ہیں، لیکن بباطن شیریں اور میٹھے اور روح کے لیے لذت بخش ہیں کیوں کہ جسم اور روح گویا دونوں
ایک دوسرے کی نقیض ہیں، ایک کا الم دوسرے کی لذت کو مستلزم ہے۔ پس فطرت جو کہ ان دونوں نقیضوں اور ان کے لوازم کے درمیان تمییز نہ کر سکے بحث سےخارج ہے اور اس لائق نہیں کہ اس ست گفتگو کی جائے۔’’
فرماتے ہیں: جس کی روح تنزل کرکے مرتبہ جسم میں استقرار حاصل کر لے اور اس کا عالم امر عالم خلق کے تابع ہو جائے وہ اس معمہ کا راز کیا جانےگا جب تک روح اپنے اصل ٹھکانے تک الٹے پیر نہ لوٹ جائے اور عالم امر عالم خلق سے جدا نہ ہو جائے، اس معرفت کا جمال جلوہ گر نہیں ہوتا ہے۔ یہ دولت اس موت سے وابستہ ہے جو (عرفی و ظاہری موت) سے پہلے ہے اور مشائخ طریقت قدس اللہ اسراہم جس کو فنا سے تعبیر کرتے ہیں۔
ایام ابتلا اور ان کے کام: مکتوب ۲، دفتر سوم میں فرماتے ہیں: فرزندان گرامی! وقت ابتلا ہر چند تلخ و بے مزہ ہے، لیکن اگر فرصت دیں تو غنیمت ہے۔ اس وقت میں چوں کہ تم کو فرصت ہے، اللہ تعالیٰ کی حمد بجا لاکر اپنے کام کی طرف متوجہ ہوں اور خود پر ایک لمحہ و لحظہ فراغت کا تجویز نہ کریں اور تین چیزوں سے ایک چاہیے کہ اس سے خالی نہ ہوں: (۱)تلاوت قرآن مجید (۲)طول قراءت کے ساتھ نماز ادا کرنا (۳)کلمہ طیبہ لا إلٰہ إلا اللہ کی تکرار۔ چاہیے کہ کلمہ لا کے ذریعہ اپنے نفس کی ہواؤں اور خواہشات کے (خداؤں) کی نفی کریں اور اپنے مقاصد و مرادات کو دفع کریں۔ اپنی مراد طلب کرنا اپنی الوہیت کا دعویٰ کرنا ہے۔ چاہیے کہ کسی مراد کی مساحت سینہ میں گنجائش نہ رہے اور کوئی ہوس متخیلہ (قوت خیالیہ) نہ رہے تاکہ حقیقت بندگی ثابت ہو۔
معلوم رہے کہ قرآن شریف میں مجاہدے کی ان دو قسموں کو جمع کیا گیا ہے۔ رب کائنات جل و علا فرماتا ہے:
اَحَسِبَ النَّاسُ اَنۡ یُّتْرَکُوۡۤا اَنۡ یَّقُوۡلُوۡۤا اٰمَنَّا وَہُمْ لَا یُفْتَنُوۡنَ وَلَقَدْ فَتَنَّا الَّذِیۡنَ مِنۡ قَبْلِہِمْ فَلَیَعْلَمَنَّ اللہُ الَّذِیۡنَ صَدَقُوۡا وَ لَیَعْلَمَنَّ الْکٰذِبِیۡنَ (سورۃ العنکبوت: ۲۹؍۲،۳)
ترجمہ: کیا لوگ اس گھمنڈ میں ہیں کہ اتنی بات پر چھوڑ دیے جائیں گےکہ کہیں ہم ایمان لائے اور ان کی آزمائش نہ ہوگی اور بیشک ہم نے ان سے اگلوں کو جانچا تو ضرور اللہ سچوں کو دیکھے گا اور ضرور جھوٹوں کو دیکھے گا۔’’
مفسرین نے فرمایا کہ آزمائش شدائد تکالیف اور انواع مصائب اور ذوق طاعات و ترک شہوات (بدل و جان و مال) کہ ان کی حقیقت ایمان خوب ظاہر ہو جائے اور مومن مخلص اور منافق میں امتیاز ظاہر ہو جائے اور اگلوں کی جانچ یہ کہ انھیں طرح طرح کی آزمائشوں میں ڈالا۔ بعض ان میں سے وہ ہیں جو آرے سے چیر ڈالے گئے، بعض لوہے کی کنگھیوں سے پرزے پرزے کیے گئے اور مقام صدق و وفا میں ثابت و قائم رہے۔ (خزائن العرفان)
آیت میں ‘‘اٰمَنَّا’’ سے مجاہدہ اختیاریہ کی طرف اشارہ ہے کیوں کہ یہ فعل اختیاری اور یہ مجاہدہ بھی اپنے قصد و اختیار سے ہوتا ہے اور باقی آزمائشوں میں مبتلا کرنا یہ مجاہدہ اضطراریہ ہے۔
دونوں مجاہدات کے اثرات
مجاہدہ اضطراریہ کے ذریعہ نفس کی تہذیب ہوتی ہے، اسے رذائل سے پاک اور خالص کیا جاتا ہے اور اخلاق درست ہوتے ہیں۔ انسان جب درد و کرب اور پریشانیوں میں مبتلا ہوتا ہے تو اس کی نفسانی خواہشات کافی دب جاتی ہیں اور نفس مضمحل ہوتا ہے، اندرونی عجب کیفیات سے دو چار ہوتا ہے۔ کتابوں میں لکھا ہے کہ جو بات مجاہدہ اختیاریہ سے برسوں میں حاصل نہ ہو وہ ان مجاہدات اضطراریہ سے ایک دن میں حاصل ہو جاتی ہے اور نفس ڈھیلا ہو جاتا ہے۔ ہاں یہ ضرور ہے کہ مجاہدہ اختیاریہ میں فعل کا غلبہ ہوتا ہے اس لیے اس میں انوار زیادہ ہوتے ہیں کیوں کہ انوار کا ترتب عمل پر ہوتا ہے اور مجاہدہ اضطراریہ
میں فعل کم ہوتا ہے اس لیے نورانیت بھی کم ہوتی ہے، لیکن اس میں انفعال کا غلبہ ہوتا ہے اس لیے قابلیت و استعداد میں قوت بڑھتی ہے اور اس انفعال و قابلیت کی خود اعمال اختیاریہ کے راسخ ہونے میں سخت ضرورت ہے اسی لیے بزرگوں نے اس طرح کے مجاہدات بہت کرائے ہیں اور بعض اوقات دونوں قسم کے مجاہدات جمع ہو جاتے ہیں، یہ نور علیٰ نور ہے جیساکہ آیت بالا سے معلوم ہوا، نیز رب جہاں جل و علا فرماتا ہے:
اَمْ حَسِبْتُمْ اَنۡ تَدْخُلُوا الْجَنَّۃَ وَ لَمَّا یَاۡتِکُمۡ مَّثَلُ الَّذِیۡنَ خَلَوْا مِنۡ قَبْلِکُمۡ ؕ مَسَّتْہُمُ الْبَاۡسَآءُ وَالضَّرَّآءُ وَ زُلْزِلُوۡا حَتّٰی یَقُوۡلَ الرَّسُوۡلُ وَالَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا مَعَہٗ مَتٰی نَصْرُ اللہِ (سورۃ البقرۃ: ۲؍۲۱۴)
ترجمہ: کیا اس گمان میں ہو کہ جنت میں چلے جاؤ گے اور ابھی تم پر اگلوں کی سی روداد نہ آئی پہنچی انہیں سختی اور شدت اور ہلا ہلا ڈالے گئے یہاں تک کہ کہہ اٹھا رسول اور اس کے ساتھ کے ایمان والے کب آئے گی اللہ کی مدد۔’’
نیز فرماتا ہے:
یُنۡفِقُوۡنَ فِی السَّرَّآءِ وَالضَّرَّآءِ (سورۃ آل عمران: ۳؍۱۳۴)
ترجمہ: جو اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں خوشی میں اور رنج میں۔’’
اس میں حالت ضراء (ضرر اور تنگی) میں انفاق یعنی خرچ کرنے کی ترغیب ہے۔ بہر حال بڑے خوش نصیب ہیں وہ جو دونوں قسم کے مجاہدوں کے جامع ہیں۔
ارکان مجاہدہ
ارکان کے لحاظ سے بھی مجاہدہ کی دو قسمیں ہیں: (۱)مجاہدہ جسمانی (یا اجمالی) کہ نفس کو مشقت کا عادی بنایا جائے جیسے کثرت سے نوافل پڑھنا، روزے کی کثرت کے زریعہ طعام وغیرہ کی حرص کم کرنا وغیرہ۔ (۲)مجاہدہ نفسانی (یا ریاضت تفصیلی) یعنی مخالفت نفس ہے کہ نفس جس وقت گناہ کی طرف بلائے اور دعوت دے تو اس کی چاہت و خواہش پر عمل نہ کرنا اور اس کی مخالفت کرنا،
اصل مقصود یہی مجاہدہ ہے، اس کو واجب کیا گیا، پہلا مجاہدہ بھی اس کی تحصیل کے لیے ہوتا ہے کہ جب نفس مشقت برداشت کرنے کا عادی ہوگا تو اس کو اپنے جذبات کو ضبط کرنے اور قابو میں رکھنے کی بھی عادت ہوگی، لیکن اگر کسی شخص کو مجاہدہ جسمانی کے بغیر نفس پر قابو حاصل ہو جائے تو اس کو مجاہدہ نفسانیہ کی حاجت و ضرورت نہیں اگرچہ ایسے لوگ بہت کم ہوتے ہیں۔ صوفیہ کرام نے اسی لیے مجاہدہ جسمانیہ کا خوب خوب اہتمام کیا ہے اور ان کے نزدیک اس مجاہدے کے چار ارکان ہیں: (۱)قلت کلام (۲)قلت طعام (۳)قلت منام (۴)قلت اختلاط مع الانام۔ جو شخص ان ارکان کا عادی ہو جائےگا وہ ضرور اپنے نفس پر قابو پا لےگا کہ گناہ کے تقاضوں کو ضبط کر لےگا۔
یہ بھی دھیان رہے کہ مجاہدہ نفسانیہ (یعنی نفس جب گناہ کا ارادہ کرے تو اس کی مخالفت کی جائے) اس وقت حاصل ہوگا کہ نفس کی جائز خواہشات کی بھی ایک حد تک مخالفت کی جائے۔ مثلاً کسی لذیذ چیز کی خواہش کرے تو فوراً اس کی خواہش پوری نہ کرے، نیز ہمیشہ نہ کرے۔ اس (نفس) کی عادت بزرگوں نے بیان فرمائی کہ جو وہ خواہش کر رہا ہے آپ فوراً پوری کر دیں گے تو وہ اس سے زیادہ لذت کی خواہش کرےگا اور اگر عمل نہ کیا تو اس کی خواہش مردہ ہو جائےگی۔
حضرت مجدد قدس سرہ فرماتے ہیں: اے فرزند! کام یہ ہے کہ فضول مباحات سے اجتناب کرنا چاہیے اور مباحات پر بقدر ضرورت اکتفا کرنا چاہیے وہ بھی اس نیت سے کہ وظائف بندگی کی ادائگی میں جمعیت رہے مثلاً خوراک سے مقصود اداے طاعات پر قوت ہے اور پوشاک سے مقصود ستر عورت اور ٹھندک و گرمی کو دفع کرنا ہے اور اسی پر باقی مباحات کو قیاس کر لو۔ (مکتوب: ۷۳، ج: ۱)
مشائخ متقدمین نے ریاضت و مجاہدہ جسمانی کو اس کے نقطۂ آخر تک پہنچایا اور ایسی ایسی انوکھی مثالیں قائم کیں کہ حیرت ہوتی ہے، یہ انھی کی ہمت و قوت تھی اور
توفیق الٰہی ان کے شامل حال تھی۔ نفس کی تہذیب و تادیب کے لیے انھوں نےجو روزہ اور بھوک اور شب بیداریاں وغیرہ اختیار کیں وہ انھی کا حصہ تھیں، ان سے انھیں بہت فائدے پہنچے۔