مواد پر جائیں

Allama Afaque Ahmad Mujaddidiتصوف اور اس کے فوائدجاہ و منصب کی خواہش دور کرنے کے طریقے

باب ۲۳ از ۵۴صفحات ۲۸۱–۲۹۵

جاہ و منصب کی خواہش دور کرنے کے طریقے

وسوسوں اور شہوات سے چھٹکارے کا علاج آپ نے پڑھا۔ اب جاہ و منصب کے دلدل سے نکلنے کے راستے بھی غور سے پڑھیں۔ آج اس کا بھی بہت بھوت سوار ہے اور یہ بلا بھی عوام و خواص

سب میں عام ہے۔ معمولی سے معمولی منصب کے لیے آج کل انسان شریعت کو بالاے طاق رکھنے کے لیے تیار رہتا ہے۔ ریاست و حکومت کے مناصب اور ملازمتیں ہمارے سامنے اسی طرح مختلف سیاسی و سماجی پارٹیوں میں عہدے اور مناصب کی تحصیل کے لیے کیا کیا ہو رہا ہے، ہرہوش مند جانتا ہے۔

ہم اس کی تفصیل میں نہیں جانا چاہتے۔ ہمیں افسوس تو ان مسلمان کہلانے والوں پر ہے جو اس کے لیے موٹی موٹی رقومات لیتے اور دیتے ہیں اور ہر جائز و ناجائز ہتھکنڈہ استعمال کرتے ہیں حتیّٰ کہ کھلے ہوئے کفریات تک سے بہت سے نہیں بچتے۔ حرام کاموں میں مالوں کو خرچ کرتے ہیں۔ جو جس کے ساتھ ہے اسی کی جے بولتا رہتا ہے، اس کی ہر ناجائز بات کو بھی جائز اور غلط کام کو درست قرار دیتا رہتا ہے وغیرہ وغیرہ۔ شریعت سے آزاد ہو کر وہ بطور سیاست یہ سب کام کرتا ہے۔ افسوس یہ ہے کہ کھلے حراموں کو حرام نہیں سمجھتے، بلکہ حلال و جائز سمجھ کر کرتے ہیں۔ الامان و الحفیظ، حالات اس قدر خراب ہو گئے ہیں کہ بیان سے باہر ہیں۔

جاہ و منصب کی خواہش خواص یعنی علما و مشائخ کے قلوب و اذہان میں بھی اس قدر رچ بس گئی ہے کہ اس کی وجہ سے باہمی تحاسد و تباغض، ایک دوسرے کی تحقیر و تذلیل وغیرہ کسی بھی گھناونی حرکت سےباز نہیں رہتے۔ اگر کسی امام کی مسجد اچھی ہے، آمدنی اور عزت اچھی ہے تو اسے ہٹانے کی کوشش کرنے لگتے ہیں تاکہ خود امام ہو جائیں، اس کے لیے ہر جرم، غیبت، چغلی، افترا، بہتان وغیرہ کرتے ہیں۔ ایک مدرس و معلم دوسرے مدرس و معلم کو اسی طرح ایک مقرر و واعظ دوسرے مقرر و واعظ، ایک شیخ یا پیر دوسرے شیخ یا پیر کو بے عزت اور بے وقار کرنے پر اتر آتا ہے۔ نماز جنازہ و جمعہ و عیدین اور ہر ایسی محفل میں جہاں یہ چیزیں سیٹھوں اور مالداروں اور عوام کی نظر میں اعتبار و عزت کا باعث ہوتی ہیں وہاں ہر ایک اس کی تحصیل کے لیے کیا کچھ نہیں کرتا ہے۔

یہ چند مثالیں ہیں۔ اسی پر آپ دوسرےامور کو قیاس کرسکتے ہیں۔ ان چیزوں نے علما و مشائخ کو باہم متنفر کر دیا۔ وہ بغض و حسد وغیرہ کا شکار ہو گئے اور اس کے نتیجے میں عوام میں ایک دوسرے کی تذلیل و تحقیر کرنے لگے جس سے سب کی عزت و وقار لوگوں کے دلوں سے نکلتا جا رہا ہے۔ بس اللہ تعالیٰ جنھیں بچائے ہے وہ بچے ہیں، مگر وہ بہت کم ہیں، جن کی کوئی گنتی نہیں۔

حضرت امام قدس سرہ نے جاہ و منصب کی طلب کی بلا سے بچنے کے تین راستے بتائے ہیں۔ آپ فرماتے ہیں کہ جس آدمی کو جاہ و منصب سے انس ہو اور عادتاً اس کے اسباب سے تعلق مضبوط ہو جائے تو اسے علاج کے سلسلے میں محض علم و کشف کافی نہیں، عمل بھی ضروری ہے اور عمل کے طریقے یہ ہیں:

۱۔جاہ و مرتبہ کی جگہ سے بھاگے تاکہ اس کے اسباب کا مشاہدہ نہ کرے کیوں کہ اسباب کے ساتھ صبر مشکل ہے جیسے وہ شخص جس پر شہوت کا غلبہ ہو اس کے لیے ضروری ہے کہ وہ ان تصاویر کو دیکھنے سے پرہیز کرے جو شہوت کو حرکت دیتی ہیں۔

۲۔اپنے نفس کو ان اعمال کا مکلف بنائے جو اس کی عادت کے خلاف ہیں یہاں تک کہ تکلف کو عادت بنا لے۔ تکلف کا لباس چھوڑ کر تواضع کا لباس اختیار کرے۔ اسی طرح ہر صورت، حالت، فعل، رہائش، لباس، کھانے، اٹھنے بیٹھنے کے سلسلے میں جاہ و مرتبہ کے اعتبار سے جو عادت تھی اسے بدل ڈالے اور ختم کر دے یہاں تک کہ پہلے جو باتیں بطور عادت پکی ہو چکی تھیں۔ اب ان کےخلاف نئے امور عادت بن جائیں اسے علاج بالضد کہتے ہیں۔

۳۔اس سلسلے میں نرمی اور تدریج کو ملحوظ رکھے کیوں کہ انسانی طبیعت میں نفرت و وحشت بھی ہوتی ہے اور وہ عادات کو بہ تدریج ہی بدل سکتا ہے۔ پس بعض عادات کو چھوڑ دے اور بعض کے ذریعہ نفس کو تسلی دے۔ پھر دوسرے بعض کو

چھوڑے۔ اسی طرح مسلسل عمل جاری رکھنے سے رفتہ رفتہ سب بری عادتیں چھوٹ جائیں گی۔

یہ چند امور ہیں جو صبر کے تعلق سے سپرد قلم ہوئے۔ ہم نے آغاز میں صبر کی تین اقسام ذکر کیں:

(۱)عادات پر صبر — (۲)ممنوعات سے صبر — (۳)آلام و مصائب پر صبر

انسان کو چاہیے کہ عبادات کے فضائل اور گناہوں کے دنیوی و اخروی خسارے اور آلام و مصائب پر صبر کی فضیلتیں اور حکمتیں پڑھے اور سنے اور مواقع صبر کو بھی بالتفصیل نظر میں رکھے تو ہمیں امید ہے کہ صبر کے کڑوے گھونٹ بہ آسانی حلق میں اتر جائیں گے۔

مواقع صبر

مواقع صبر بہت تفصیل کے طالب ہیں۔ مذکورہ بالا تحریر سے کچھ نہ کچھ سمجھے جا سکتے ہیں۔ انسان کو قدم قدم پر صبر کی ضرورت پڑتی ہے۔ گھر سے باہر، انفراد سے اجتماع، اور خلوت سے جلوت تک صبر کی ضرورت ہے۔ انسان اپنے اہل و عیال یا احباب کے ساتھ رہتا ہے۔ کسی نہ کسی سے ناخوش گوار بات یا کام سرزد ہوتا ہی رہتا ہے۔ اگر صبر سے کام نہ لیا جائے تو ہر وقت لڑائی جھگڑے اور نفرت و کراہت تک بات پہنچتی ہے۔

شیخ اپنے مریدوں کے ساتھ، معلم اپنے متعلمین کے ساتھ، استاذ اپنے شاگردوں کے ساتھ ہوتا ہے تو دونوں طرف سے ایسے امور کبھی وجود میں آتے ہیں جو جواب یا ٹوکنے پر آمادہ کرتے ہیں یا ایسے بحث و مباحثہ تک لے جاتے ہیں جو دل شکنی اور دل آزاری کا سبب بنتے ہیں۔ اسی طرح مالک اپنے مملوک و محکوم کے ساتھ، حاکم اپنی رعایا کے ساتھ، کام کرانے والے مزدوروں کے ساتھ جب ہوتے ہیں تو بہت ساری چیزیں وجود میں آتی ہیں جو غصہ، گرمی یا انتقام کا سبب بنتی ہیں۔ ان میں

بعض رشتے بہت نازک ہوتے ہیں جیسے مرید کا پیر کے ساتھ، شاگردوں کا معلم و استاد کے ساتھ، اولاد کا باپ کے ساتھ، چھوٹے بھائی کے بڑے بھائی کے ساتھ یا بیوی کے شوہر کے ساتھ۔

ہر انسان بشر ہے جو خطا و نسیان سے مرکب ہے۔ دنیوی حیات میں ہر ایک کو علائق بشریت سے مکمل چھٹکارا نہیں مل پاتا ہے۔ لہٰذا تعلقات کو خوش گوار رکھنے کے لیے اور رشتوں کو مستحکم و مضبوط رکھنے کے لیے صبر کی ضرورت ہے۔ اسی طرح اسٹینڈوں اور دینی منبروں پر، ٹرینوں اور بسوں وغیرہ میں مسافروں کے ساتھ صبر کی ضرورت ہے۔ بے صبری کی وجہ سے آئے دن جھگڑوں کا مشاہدہ ہوتا ہے جو کہیں چڑھنے میں کہیں سیٹوں وغیرہ پر ہوتے ہیں۔ اسی طرح پیروں اور مشائخ کے اپنے اپنے حلقوں میں کہیں دوسرا پیر آجاتا ہے تو دلوں میں عجب کیفیتیں پیدا ہوتی ہیں۔ اسی طرح مدارس و مکاتب کے چندوں کی وصولیابی وغیرہ میں صبر کی ضرورت ہوتی ہے۔ ہم نے یہ چند اشارے کیے ہیں، اس کی روشنی میں آپ تفصیل سے مواقع صبر کو جان سکتے ہیں۔

خیال رہے کہ صبر کی تینوں اقسام میں صبر نفس پر بہت گراں گذرتا ہے اور تینوں پر ہی صبر کرنے میں قرآن و سنت میں بڑی فضیلتیں بیان کی گئی ہیں۔ آلام و مصائب پر صبر کی فضیلت بھی قرآن و سنت میں بہت بیان ہوئی، اس کی حکمتیں بھی بہت بیان ہوئی ہیں۔ عبادتوں کے فضائل اور گناہوں کی سزائیں اور وعیدات کچھ کچھ علما و مشائخ اپنے مواعظ و تقاریر اور تحریروں میں بیان کرتے رہتے ہیں۔ توفیق الٰہی شامل حال ہوئی تو ان کے فضائل وغیرہ علاحدہ تحریر میں سپرد قلم ہوں گے۔ إن شاء اللہ تعالیٰ۔

ہمارے نفوس راحت و آسائش کے اس قدر عادی ہو گئے ہیں کہ وہ معمولی تکلیفوں پر چیخ اٹھتے ہیں اور شکوہ و گلہ کرنے لگتے ہیں۔ نیز آلام و مصائب یا بلائیں

جن پر نازل ہوتی ہیں ان کی حکمتوں سے ناواقف لوگ کبھی شخصیات کے تعلق سے غلط فیصلے کر لیتے ہیں۔ اس لیے ہم چند احادیث اور بزرگوں کے ارشادات سپرد قلم کرتے ہیں اور امید کرتے ہیں کہ آلام و مصائب یا بلیات پر اگر صبر کی دولت حاصل ہو گئی تو عبادات بجا لانے میں اور منہیات سے اجتناب میں جو تکالیف پہنچتی ہیں ان پر بآسانی صبر کریں گے۔

احادیث کریمہ:

۱۔حضرت ابو ہریرہ‌رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ تعالیٰ جس کے ساتھ بھلائی کا ارادہ کرتا ہے اسے مصیبت دیتا ہے۔ (بخاری)

۲۔حضرت ابو سعید‌رضی اللہ عنہ نبیﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپﷺ نے فرمایا: کسی مسلمان کو کوئی تکلیف، پریشانی نہیں پہنچتی اور نہ کوئی ھم و حزن و غم اور نہ کوئی اذیت دینے والی چیز نہ غم حتیّٰ کہ وہ کانٹا جو اسے چبھ جائے، مگر اللہ تعالیٰ اس کے ذریعہ اس کی برائیوں کا کفارہ ادا کر دیتا ہے۔ (بخاری و مسلم)

۳۔حضرت عبد اللہ ابن ،مسعود‌رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نبیﷺ کے پاس داخل ہوا، آپ کو بخار تھا، میں نے چھو کر دیکھا، عرض کی کہ آپ کو بہت تیز بخار ہے۔ آپﷺ نے فرمایا: ہاں مجھے اتنا بخار آتا ہے جتنا کہ دو مردوں کو، میں نے کہا: وہ اس لیے کہ آپ کے لیے دو گنا اجر ہے، فرمایا: ہاں، پھر فرمایا: کوئی مسلمان نہیں جس کو کوئی اذیت ناک چیز مرض وغیرہ پہنچے، مگر اس کے ذریعہ اللہ تعالیٰ برائیوں کو ختم فرما دیتا ہے جیسے درخت پتے گراتا ہے۔ (بخاری و مسلم)

۴۔آپﷺ نے فرمایا: مومن کی مثل کھیت کی اس نرم ٹہنی کی طرح ہے جس کو ہوائیں کبھی الٹا کر دیں، کبھی سیدھا کر دیں یہاں تک کہ اس کی موت آجاتی ہے اور منافق کی مثل تھوہڑ کے درخت کی طرح ہے جو اپنی جگہ پر قائم ہو، اس کو کوئی چیز نہیں پہنچتی ہے یہاں تک کہ اس کا انقطاع ایک ساتھ ہوتا ہے۔ (بخاری و

مسلم)

۵۔رسول کونینﷺ حضرت ام السائب‌رضی اللہ عنہا کے پاس گئے، فرمایا: کیا ہوا، تم کانپ رہی ہو؟ کہا: بخار، اللہ اس میں برکت نہ دے۔ سرکارﷺ نے فرمایا کہ بخار کو برا نہ کہو کہ یہ بنی آدم کی خطاؤں کو اس طرح دور کر دیتا ہے جیسے بھٹی لوہے کی گندگی کو۔ (مسلم)

۶۔نبیﷺ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: جب میں بندے کو آزماؤں اس کی دو محبوب چیزوں کے ساتھ یعنی اس کی آنکھیں لے لوں، پھر بندہ صبر کرے تو اس کے بدلے میں اسے جنت دوں گا۔ (بخاری)

۷۔حضرت سعد‌رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں، نبیﷺ سے پوچھا گیا: کون سی بلا زیادہ سخت ہوتی ہے؟ فرمایا: انبیاے کرام، پھر جو افضل ہو، پس جو افضل ہو۔ مرد کو آزمایا جاتا ہے اس کے دین کے اعتبار سے، اگر اس کے دین میں سختی ہے تو اس کی بلا بھی سخت اور اگر اس کے دین میں نرمی ہے تو بلا بھی آسان اور تھوڑی، برابر بندہ اسی حال میں رہتا ہے یہاں تک کہ وہ زمین پر چلتا ہے کہ اس کے کوئی گناہ نہیں ہوتا۔ (ترمذی، ابن ماجہ وغیرہ)

۸۔حضرت انس‌رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: جب اللہ تعالیٰ بندے کے ساتھ بھلائی کا ارادہ کرتا ہے تو دنیا میں سزا جلد دیتا ہے اور جب اپنے بندے کے ساتھ شر کا ارادہ کرتا ہے تو اس کے گناہ کے باوجود اس سے سزا کو روک لیتا ہے یہاں تک کہ بروز قیامت پورا پورا بدلہ دےگا۔ (ترمذی)

۹۔اللہ تعالیٰ کے رسولﷺ نے فرمایا: مومن مرد یا عورت کو برابر اس کی جان مال اور اولاد میں بلا پہنچتی رہتی ہے یہاں تک کہ وہ اللہ سے ملےگا اس حال میں اس پر کوئی گناہ نہ ہوگا۔ (ترمذی وغیرہ)

۱۰۔اللہ تعالیٰ کے رسولﷺ نے فرمایا: جب بندے کے لیے کوئی منزل

اللہ تعالیٰ کی طرف سے سبقت لے جاتی ہے جس منزل تک بندہ اپنے عمل کے ذریعہ نہیں پہنچ پاتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کو آزماتا ہے اس کے جسم میں یا اس کے مال میں یا اس کی اولاد میں، پھر اسے صبر دیتا ہے حتیّٰ کہ اسے اس منزل تک پہنچا دیتا ہے جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے سبقت لے گئی۔ (احمد، ابو داؤد)

۱۱۔حضرت جابر‌رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اللہ کے رسولﷺ نے فرمایا: بروز قیامت جب اہل بلا کو ثواب دیا جائےگا تو اہل عافیت تمنا کریں گے کہ کاش ان کی کھالیں دنیا میں قینچیوں سے کاٹی گئی ہوتیں۔ (ترمذی)

۱۲۔حضرت عامر‌رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں، رسول اللہﷺ نے بیماریوں (کےثواب) کا تذکرہ کیا، فرمایا کہ مومن کو جب بیماری پہنچتی ہے، پھر اللہ تعالیٰ اسے اس سے عافیت دیتا ہے تو یہ اس کے گذشتہ گناہوں کا کفارہ ہو جاتا ہے اور آئندہ کے لیے نصیحت۔ اور بیشک جب منافق مریض ہوتا ہے، پھر اسے عافیت (مرض سے رہائی) مل جاتی ہے تو اس کی مثال اس اونٹ کی طرح ہےجس کے گھر والوں نے اسے باندھ دیا، پھر اسے چھوڑ دیا، وہ نہیں جانتا کہ کیوں باندھا اور کیوں چھوڑا۔ ایک مرد نے کہا: یا رسول اللہﷺ بیماریاں کیا ہیں؟ میں تو کبھی بیمار نہ ہوا، فرمایا: ہمارے پاس سے اٹھ جا، تو ہم میں سے نہیں۔ (ابوداؤد)

۱۳۔اللہ کے رسولﷺ نے فرمایا: جب بندے کے گناہ زیادہ ہو جاتے ہیں اور اس کے پاس وہ عمل نہیں ہوتا ہے جو گناہوں کو مٹا دے تو اللہ تعالیٰ اسے غم میں مبتلا کرتا ہے تاکہ گناہوں کا کفارہ کردے۔ (احمد)

نوٹ: یہ ساری احادیث مشکات شریف سے لی گئی ہیں۔

حضرت مجدد کا ارشاد

حضرت شیخ بدیع الدین سہارنپوری‌رحمۃ اللہ علیہ نے خلق کی جفا و ملامت کی شکایت کی تھی، آپ قدس سرہ ان کو تحریر فرماتے ہیں:

جفا و ملامت خود اس گروہ (صوفیہ) کا جمال ہےاور ان کا صیقل زنگار (مانجھنے

والا) ہے، قبض و کدورت کا باعث کیوں ہوگا کہ آغاز حال میں کہ فقیر (حضرت مجدد قدس سرہ) اس قلعہ میں پہنچا، محسوس ہوا کہ شہروں اور بستیوں سے ملامت خلق کے انوار نورانی بادلوں کی طرح پے در پے پہنچ رہے ہیں اور کام کو پستی سے بلندی کی طرف لے جا رہے ہیں۔ سالوں جمالی تربیت کے ساتھ منازل طے کرائے، اب جلالی تربیت کے ساتھ راستہ طے کرا رہے ہیں اور مقام صبر، بلکہ مقام رضا میں رہیں اور جمال و جلال کو برابر جانیں۔ آپ نے لکھا ہے کہ ظہور فتنہ کے وقت سے نہ ذوق رہا نہ حال، چاہیے کہ ذوق و حال چند گنا ہو کہ محبوب کی جفا اس کی وفا سے زیادہ لذت بخش ہے۔ کس طرح تعجب ہے، عوام کی طرح بات کی ہے اور محبت ذاتیہ سے دور چلے گئے۔ جو کچھ ہو چکا اس کے خلاف جلال کو جمال سے زیادہ سمجھیں اور انعام سے زیادہ ایلام کو تصور کریں کیوں کہ جمال و انعام میں محبوب کی مراد اپنی مراد کے ساتھ مخلوط ہے اور جلال و ایلام میں خالص مراد محبوب ہے اور اپنی مراد کے خلاف ہے۔ یہ وقت و حال سابق حال و وقت کے علاوہ ہے۔ (مکتوب:۶، دفتر سوم)

سوال: آپ کے خلیفہ حضرت سید محمد نعمان بدخشی‌رحمۃ اللہ علیہ نے پوچھا تھا کہ کیا سبب ہے کہ انبیا علیہم الصلوات و التسلیمات اور اولیا علیہم الرضوان دنیا میں بلا و مصائب میں مبتلا ہوتے ہیں اور بلاؤں اور مشقتوں میں زیادہ گرفتار ہوتے ہیں جیسا کہ کہا گیا کہ لوگوں میں سب سے سخت بلا میں انبیا ہیں، پھر اولیا، پھر فاضل تر، پھر فاضل تر اور حضرت حق سبحانہ و تعالیٰ اپنی کتاب مجید میں فرماتا ہے:

وَ مَاۤ اَصَابَکُمۡ مِّنۡ مُّصِیۡبَۃٍ فَبِمَا کَسَبَتْ اَیۡدِیۡکُمْ (سورۃ الشوریٰ: ۴۲؍۳۰)

ترجمہ: اور تمھیں جو مصیبت پہنچی وہ اس کے سبب سے ہے جو تمھارے ہاتھوں نے کمایا۔’’

اس آیت کریمہ سے مفہوم ہوتا ہے کہ جو شخص برائیاں زیادہ کرتا ہے مصیبت کا ورود اس پر زیادہ ہوتا ہے تو چاہیے کہ انبیا علیہم الصلوات و التسلیمات اور

اولیا علیہم الرضوان کے علاوہ دوسرے لوگ سخت بلاؤوں اور مصائب میں گرفتار ہوں، نہ کہ انبیا و اولیا علیہم الصلوات و التسلیمات، اولاً و ثانیاً۔

نیز یہ بزرگوار حضرات انبیا علیہم الصلوات و التحیات و التسلیمات اصالۃً و تبعاً حق جل و علا کے محبوب ہیں اور اس کے خواص مقرب۔ محبوبوں اور خاص مقرب لوگوں کے حوالے بلاؤں اور مشقتوں کو کرنا کیوں ہے؟ اور ان کا آزار کس وجہ سے درست ہوگا؟ دشمن لوگ ناز و نعمتوں میں اور دوست بلاؤوں اور مشقتوں میں کیوں مقیم ہوتے ہیں؟ آپ جواب میں فرماتے ہیں:

جواب: دنیا تنعم و تلذذ (ناز و نعمت کے ساتھ پرورش پانا) کے لیے پیدا نہیں کی گئی ہے وہ آخرت ہے کہ جسے تنعم و تلذذ کے واسطے تیار کیا گیا ہے اور چوں کہ دنیا اور آخرت ایک دوسرے کے ضد اور مخالف ہیں اور ایک کا راضی و خوش ہونا دوسرے کی ناراضگی کو مستلزم ہے؛ اس لیے لامحالہ ایک میں تلذذ دوسرے میں تألم (الم پانا) ہوگا۔ پس جو شخص دنیا میں زیادہ لذت و نعمت حاصل کرےگا آخرت میں الم و شرمندگی زیادہ اٹھائےگا اور اسی طرح جو شخص دنیا میں بلاؤوں اور مشقتوں میں زیادہ مبتلا ہوگا آخرت میں تنعمات و تلذذات کے ساتھ زیادہ محظوظ و مسرور ہوگا اور دنیا کی بقا کاش آخرت کی بقا کی نسبت وہ حکم رکھتی جو قطرہ کو دریاے محیط کی نسبت ہے، بلکہ متناہی کو غیر متناہی سے کیا نسبت ہوگی۔ پس لامحالہ بتقاضاے عنایت خداوندی دوستوں کو چند روزہ مشقت میں اس جگہ مبتلا رکھا جائے تاکہ تنعمات ابدی کے ساتھ محظوظ و مسرور ہو سکیں اور دشمنوں کو خفیہ تدبیر اور استدراج کے ساتھ تھوڑی تلذذات کے ساتھ محظوظ رکھنا چاہیے تاکہ تألمات کثیرہ کے ساتھ گرفتار ہوں۔

دوسرا جواب: بلائیں اور مشقتیں اگرچہ عوام کے نزدیک الم کے اسباب سے ہیں، لیکن انبیا و اولیا علیہم السلام کے نزدیک جو کچھ جمیل مطلق جل سبحانہ سے پہنچتا

ہے ان کے لذات پانے کے اسباب سے ہے۔ بلاؤں سے بھی اسی طرح لذت پاتے ہیں جس طرح نعمتوں سے، بلکہ بلاؤں سے زیادہ محظوظ اور بہرہ مند ہوتے ہیں کیوں کہ وہ خالص مراد محبوب ہے اور نعمتوں میں یہ خلوص نہیں کہ نفس بھی نعمتوں کا خواہاں اور بلاؤوں سے گریزاں ہے۔ پس ان اکابر کے نزدیک بلا نعمت سے بہتر ہے اور جو لذت یہ بلا سے حاصل کرتے ہیں وہ نعمت سے زیادہ ہے۔ ان بزرگوں کا حصہ ہے جو کہ دنیا میں ہے وہ بلائیں اور مصیبتیں ہیں اگر دنیا یہ نمک نہ رکھتی ان کے نزدیک ایک جو کی قیمت نہ رکھتی اور اگریہ حلاوت (چاشنی) اس میں نہ ہوتی تو ان کی نظر میں عبث ہوتی؎

غرض از عشق تو ام چاشنی درد و غم است

ورنہ زیر فلک اسباب تنعم چہ کم است

پس اللہ تعالیٰ کے دوست دنیا میں بھی متلذذ ہیں اور آخرت میں بھی محظوظ و مسرور اور یہ ان کی لذت دنیا ان کی آخرت کے نصیب سے جنگ نہیں رکھتی ہے، وہ دوسری لذت ہے جو حظ آخرت سے جنگ اور ٹکراو رکھتی ہے جو کہ عوام کو حاصل ہے۔

تیسرا جواب: یہ گھر (دنیا) ابتلا و آزمائش کا گھر ہے۔ حق باطل کے ساتھ مختلط اور محق مطل کے ساتھ ملا ہوا ہے۔ اگر دوستوں کو مشقتیں اور بلائیں نہ دیں اور دشمنوں کو دیں تو دوست دشمن سے جدا اور متمیز نہیں ہوتا اور امتحان و آزمائش کی حکمت باطل ہو جائےگی اور یہ چیز غیبی ایمان کے منافی ہے کہ جس کے اندر دنیوی و اخروی سعادتیں ودیعت ہیں۔ پس دشمنوں کی آنکھ میں خاک ڈالتے ہوئے دوستوں کو بھی مشقتوں اور بلاؤں کی صورت میں مبتلا کیا تاکہ ابتلا و آزمائش کی حکمت پوری ہو اور دوست لوگ عین بلا میں لذت پائیں اور آنکھ کے اندھے دشمن خائب و خاسر۔ انبیا علیہم الصلوات و التسلیمات کا معاملہ کافروں کے ساتھ یہی رہا ہےکہ کبھی غلبہ ان

کی جانب سے اور کبھی ان کی جانب۔ جنگ بدر میں مسلمانوں کی طرف مدد رہی ہے اور جنگ احد میں ‘‘کفر کو غلبہ تھا’’ مزید تفصیل کے لیے ملاحظہ کریں مکتوب؍۹۹، دفتر دوم۔

شکر ( تیسرا مقام)

مقامات عشرہ سے زبردست مقام شکر ہے۔ شکر کے فضائل میں قرآن کی متعدد آیات کریمہ اور احادیث نبویہ بے شمار وارد ہوئی ہیں، چند آیات ملاحظہ ہوں:

۱۔ فَاذْکُرُوۡنِیۡۤ اَذْکُرْکُمْ وَاشْکُرُوۡا لِیۡ وَلَا تَکْفُرُوۡنِ (سورۃ البقرۃ: ۲؍۱۵۲)

ترجمہ: تم میری یاد کرو میں تمہارا چرچا کروں گا اور میرا حق مانو اور میری ناشکری نہ کرو ۔’’

ذکر کے ساتھ شکر کو ذکر کیا یہ بھی اس کی اہمیت کو ظاہر کرتا ہے کیوں کہ ذکر کے بارے میں اللہ جل و علا فرماتا ہے:

وَلَذِکْرُ اللہِ اَکْبَرُ (سورۃ العنکبوت: ۲۹؍۴۵)

ترجمہ: اور بیشک اللہ کا ذکر سب سے بڑا۔’’

ظاہر ہے جس ذکر کو اللہ تعالیٰ اکبر فرمائے اس کے ساتھ شکر کا تذکرہ اس کی اہمیت کو اجاگر کرےگا۔

۲۔ مَا یَفْعَلُ اللہُ بِعَذَابِکُمْ اِنۡ شَکَرْتُمْ وَاٰمَنۡتُمْ (سورۃ النساء: ۴؍۱۴۷)

ترجمہ: اور اللہ تمھیں عذاب دے کر کیا کرے گا اگر تم حق مانو اور ایمان لاؤ۔’’

۳۔وَسَنَجْزِی الشّٰکِرِیۡنَ (سورۃ آل عمران: ۳؍۱۴۵)

ترجمہ: اور قریب ہے کہ ہم شکر والوں کو صلہ عطا کریں۔’’

۴۔ لَئِنۡ شَکَرْتُمْ لَاَزِیۡدَنَّکُمْ (سورۃ ابراہیم: ۱۴؍۷)

ترجمہ: اگر احسان مانو گے تو میں تمھیں اور دونگا۔’’

احیاء العلوم شریف میں متعدد آیات کریمہ اس تعلق سے مذکور ہیں۔ حدیث شریف میں ہے:

الطاعم الشاکر بمنزلۃ الصائم الصابر

کھاکر شکر کرنے والا روزہ دار صابر کی طرح ہے۔’’

احیاء العلوم و قوت القلوب وغیرہ میں شکر کی فضیلت و اہمیت کو مختلف پہلوؤں سے اجاگر کیا گیا ہے اور شکر کے تعلق سے سیر حاصل بحث کی گئی ہے۔

حضرت امام حجۃ الاسلام قدس سرہ نے شکر کی تعریف و حقیقت پر تفصیل سے کلام فرمایا ہے اور فرمایا اس میں علم، حال اور عمل شامل ہیں۔ علم اصل ہے جو حال کو جنم دیتا ہے اورحال سے عمل پیدا ہوتا ہے۔ شکر کے یہ تین اصول ہیں، پہلی اصل یعنی علم تین امور پر مشتمل ہے:

(۱)ذات نعمت کا علم ہو۔ (۲)اس کے حق میں یہ نعمت کیوں ہے؟ (۳)منعم کی ذات کا علم اور ان صفات کا علم جن کے ساتھ انعام کی تکمیل ہوتی ہے۔

دوسری اصل حال ہے جو اصل معرفت سے حاصل ہوتا ہے اور یہ منعم کے ساتھ خوش ہونا اور اس کے ساتھ خشوع و خضوع کو اختیار کرنا ہے تو فی نفسہ یہ بھی شکر ہے جیسا کہ معرفت شکر ہے۔ تیسری اصل اس خوشی کے مطابق عمل کرنا ہے جو منعم کی معرفت سے حاصل ہوتی ہے اور یہ عمل دل، زبان اور اعضا سے تعلق رکھتا ہے۔ جہاں تک دل کا تعلق ہے تو اس کا عمل بھلائی کا ارادہ اور تمام لوگوں کے لیے اس ارادہ خیر کو چھپانا، زبان کا عمل اللہ تعالیٰ کے لیے شکر کو ظاہر کرنا یعنی اللہ تعالیٰ کی ایسی حمد و ثنا جو شکر پر دلالت کرے اور اعضا کا عمل یہ ہے کہ اس نعمت الٰہی کو اسی کےلیے استعمال کرے اور گناہوں پر اس نعمت کے ذریعہ مدد حاصل نہ کرے حتیّٰ کہ آنکھوں کا شکر یہ ہے کہ کسی مسلمان کا عیب دیکھے توپردہ پوشی

کرے، کانوں کا شکر یہ ہے کہ جو عیب سنے اس پر پردہ ڈالے۔ انعامات کے شکر الٰہی میں یہ چیز بھی داخل ہیں کہ زبان سے شکر ادا کرنا یہ ہے کہ ایسے کلمات ادا کرے جو رضاے الٰہی پر راضی ہونے پر دلالت کریں۔

معلوم رہے کہ علماے کرام خاص کر شارحین حضرات نے اکثر حمد کی تعریف کے ساتھ ساتھ شکر کی بھی تعریف اور حمد و مدح اور شکر کے باہمی تعلق پر کافی روشنی ڈالی ہے۔ حمد اس ثنا کو کہتے ہیں جو اختیاری خوبیوں پر ہو خواہ نعمت کے مقابلے میں ہو یا نعمت کے مقابلے میں نہ ہو اور شکر خاص اس تعظیم و ثنا کو کہتے ہیں جو نعمت کے مقابل ہو۔ اب ضرورت اس بات کی ہے کہ آپ پہچانیں کہ نعمت کیا چیز ہے تاکہ آپ اس کے حصول پر شکر ادا کر سکیں اور اگر نہیں کیا تو محاسبہ نفس کے وقت آپ کو احساس ہو کہ ہم سے کس قدر زبردست کوتاہی واقع ہوئی ہے تاکہ توبہ کر سکیں۔ حضرت امام غزالی قدس سرہ نے بڑی تفصیل سے نعمت پر کلام فرمایا ہے، فرماتے ہیں:

نعمت: یہ جان لو کہ ہر بھلائی، لذت اور سعادت،بلکہ ہر مطلوب و موثر کو نعمت کہا جاتا ہے، لیکن حقیقی نعمت اخروی سعادت ہےاور دیگر چیزوں کو بطریق مجاز نعمت کہتے ہیں جیسے وہ دنیوی سعادت جو آخرت کے لیے معاون و مددگار نہ ہو اسے نعمت کہنا غلط ہے۔ غرضیکہ ہر وہ سبب جو اخروی سعادت تک پہنچاتا اور اس پر مددگار ہوتا ہےخواہ ایک یا زیادہ واسطوں سے اسے نعمت کہنا صحیح بھی ہے اور سچ بھی۔ حضرت امام قدس سرہ نے اس کے لیے چھ تقسیمات بیان کی ہیں، چھٹی تقسیم میں فرماتے ہیں کہ یہ تقسیم تمام نعمتوں کو شامل ہے یعنی نعمتوں کی دو قسمیں ہیں؛ ایک وہ جو ذاتی طور پر مطلوب ہیں اور وہی غایت ہیں اور دوسری قسم ان نعمتوں کی ہے جو غایت کے لیے مطلوب ہیں۔ اخروی سعادت کانام غایت ہے اور اس کا خلاصہ چار باتوں کی طرف راجع ہے:

(۱)ایسی بقا جس کے لیے فنا نہیں۔

(۲)ایسا سرور جس میں غم نہ ہو۔

(۳)ایسا علم جو جہالت سے خالی ہو۔

(۴)ایسی مالداری جس میں فقر نہ ہو۔

یہی حقیقت نعمت ہے، اسی لیے نبی کریمﷺ نے فرمایا:

لاعیشَ إلا عیشُ الآخرۃِ (حقیقی زندگی تو آخرت کی زندگی ہے)