مواد پر جائیں

Allama Afaque Ahmad Mujaddidiتصوف اور اس کے فوائدحضرت مجدد کے ارشادات

باب ۱۴ از ۵۴صفحات ۱۷۵–۱۸۹

حضرت مجدد کے ارشادات

حضرت مجدد الف ثانی قدس سرہ مکتوب۶۰، جلد سوم میں فرماتے ہیں: انسان کی حقیقت اور اس کی ذات عدم ہے جو کہ نفس ناطقہ کی حقیقت ہے اور آغاز میں اسی نفس کی تعبیر نفس امارہ سے کرتے ہیں اور انسان کا ہر فرد لفظ انا سے اس کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ پس ذات انسان نفس امّارہ ہوئی اور انسان کے تمام لطائف قویٰ اور جوارح کی طرح ہوئے نفس امّارہ کے لیے، اورعدم چوں کہ اپنی حد ذات میں شر محض ہے، خیریت کی بو نہیں رکھتا ہے؛ اس لیے نفس امّارہ بھی شر محض ہوگا اور خیریت و بھلائی کی بو اس میں بالکل نہ ہوگی۔ پھر آپ قدس سرہ نے اس کی کئی شرارتیں بیان فرمائیں جن کا خلاصہ یہ ہے کہ کمالات منعکسہ جو اس میں بطریق ظلیت ظاہر ہوئے ان کو خود سے سمجھتا ہے یعنی مرتبہ وجوب سے جو کمالات بطور انعکاس اس پر فائض ہوئے وہ انھیں اپنے لیے ذاتی سمجھتا ہے اور ان کا قیام جو کہ ان کی اصل کے ساتھ ثابت ہے وہ اپنی ذات سے منسوب کرتا ہے اور خود کو ان کمالات کی وجہ سے کامل و خیر جانتا ہے اور اسی وجہ سے سرداری کا دعویٰ کرتا ہے اور اپنے کمالات میں خود کو خداے جل و علا کے ساتھ شریک بناتا ہے اور حول و قوت خود سے تصور کرتا ہے اور خود کو متصر ف جانتا ہے اور چاہتا ہے کہ سب اس کے تابع ہوں اور خود کسی کا تابع نہ ہو اور اپنے آپ کو سب سے زیادہ چاہتا اور محبوب رکھتا ہے، دوسروں کو اپنی خاطر چاہتا ہے نہ کہ ان کی خاطر، اور انھیں فاسد خیالات کی وجہ سے اپنے مولیٰ جل و علا کے ساتھ عداوت ذاتی پیدا کرتا اور اللہ تعالیٰ کے نازل کردہ احکام کا معتقد نہیں ہوتا ہے اور اپنی ہواؤں اور خواہشات کی متابعت چاہتا ہے اور خواہشات کی پرستش کرتا ہے۔ حدیث قدسی میں آایا ہے:

عادِ نفسَک فإنھا انْتصبتْ بمُعاداتی (اپنے نفس کو دشمن رکھو کیوں کہ وہ ہماری دشمنی پر قائم ہے)’’

مکتوب:۵۲ جلد اول میں شیخ فرید کو تحریر فرماتے ہیں: اے مخدوم! انسانی نفس امّارہ کی پیدائش و جبلت جب جاہ و ریاست پر ہوتی ہے اور اس کی پوری ہمت و ارادہ اپنے ہمسروں پر برتری اور بلندی حاصل کرنا ہے اور ذاتی خواہش اس کی یہ ہے کہ ساری مخلوق اس کی محتاج ہو اور اس کی مطیع اور امر و نواہی کی مطیع ہو اور وہ کسی کا نہ محتاج ہو اور نہ کسی ایک کا محکوم، یہ اس کی طرف سے الوہیت کا دعویٰ ہے اور بے مثل خدا جل و علا کے ساتھ شرکت ہے، بلکہ وہ بے سعادت شرکت پر بھی راضی نہیں ہے، وہ چاہتا ہے کہ بس حاکم وہی ہو اور سب اس کے محکوم ہوں۔’’ پھر حدیث قدسی مذکور ذکر کرکے فرماتے ہیں:

‘‘پس نفس کی تربیت اس کی مرادات، جاہ و ریاست اور ترفع (بلند سمجھنا) و تکبر کے ذریعہ در حقیقت دشمن خدا عز و جل کی مدد کرنا ہے اور اس کی تقویت کرنا ہے۔ اس معاملے کی قباحت اچھی طرح سمجھنا چاہیے، حدیث قدسی میں وارد ہے:

الْكِبْرِيَاءُ رِدَائِي ، وَالْعَظَمَةُ إِزَارِي ، فَمَنْ نَازَعَنِي وَاحِدًا مِنْهُمَا أَدْخَلْتُهُ النَّارَ وَ لَا أبَالِی (کبریا میری چادر ہے، اور عظمت و بلندی میرا تہبند ہے۔ پس جو ان دونوں میں سے کسی میں مجھ سے منازعت کرےگا میں اسے جہنم میں داخل کر دوں گا اور مجھے کوئی پرواہ نہیں۔’’

یعنی یہ دونوں میری خاص صفتیں ہیں، ان میں کسی کی شرکت کی گنجائش نہیں، گھٹیا دنیا جو کہ حق سبحانہ و تعالیٰ کی مبغوض و ملعون ہے؛ اسی وجہ سے ہے کہ حصول دنیا، حصول مرادات نفس کے لیے ممد و معاون ہے۔ پس جو شخص دشمن کی مدد کرےگا لا محالہ لعنت کے لائق ہے اور فقر فخر محمدیﷺ ہوا؛ کیوں کہ فقر میں نامرادیِ نفس ہے اور اس کے عجز کا حصول، ابنیا علہیم الصلوات و التسلیمات کی

بعثت سے مقصود اور تکلیفات شرعیہ میں حکمت اسی نفس امّارہ کی تعجیز و تخریب ہے، شرائع نفسانی خواہشات کے ازالے کے لیے وا ہوئے۔ جس قدر شریعت کے مقتضا پر عمل ہوگا اسی قدر نفسانی ہوا و خواہش روبزوال ہوں گی۔ لہٰذا احکام شرعیہ سے ایک حکم بجا لانا نفسانی خواہش کے ازالے میں ہزار سالہ ان ریاضات و مجاہدات سے بہتر ہے جو اپنی طرف سے کیے جائیں، بلکہ یہ ریاضت و مجاہدات کہ شریعت غُرّا کے مقتضا کے مطابق واقع نہ ہوں (وہ) ہواے نفسانی کی تائید و تقویت کرنے والی ہیں۔

برہمنوں اور جوگیوں نے ریاضات و مجاہدات میں کوئی کمی نہیں کی ہے، لیکن ان میں سے کوئی فائدہ مند نہ ہوئے اور علاوہ تقویت نفس و تربیت کےکچھ نہیں۔ مثال کے طور پر ایک پیسہ زکات کی ادائیگی میں کہ شریعت نے جس کا حکم دیا ہے نفس کی تخریب میں زیادہ فائدہ مند ہے اس سے کہ ہزار دینار اپنی طرف سے (بغیر حکم شرع) خرچ کرے اور عید فطر میں کھانا کھانا بحکم شرع ازالہ ہواے نفس میں زیادہ نفع بخش کہ سنتوں سے کوئی سنت بجا لانا بمراتب اس سے بہتر ہے کہ تمام رات نماز نفل کے ساتھ قیام کرے اور نماز صبح بے جماعت ادا کرے۔

حقیقت نفس میں مزید اقوال

نفس کی حقیقت میں بزرگوں کے اقوال و ارشادات ملاحظہ فرمائے نیز حضرت مجدد قدس سرہ کی تحقیق بھی پڑھی، کہنا یہ ہے کہ نفس کس قدر شریر ہے، یہ ساری تعریفیں اس کی شرارت و فساد کو واضح کرتی ہیں۔

حضرت داتا ہجویری قدس سرہ نے حقیقت نفس میں متعدد مشائخ کے اقوال نقل کیے جو سب کے سب نفس کی گہری چالوں اور شرارتوں پر دلالت کرتے ہیں۔ نیز قرب خداوندی کی سب سے زبردست رکاوٹ یہی نفس ہے۔

حضرت ذوالنون مصری قدس سرہ فرماتے ہیں: ‘‘بندے کے لیے سخت ترین

عذاب نفس کو دیکھنا اور اس کی پیروی کرنا ہے؛ کیوں کہ نفس کی پیروی میں حق تعالیٰ کی مخالفت مخفی ہے اور حق تعالیٰ کی مخالفت حجابات کا منبع ہے۔’’

سلطان العارفین حضرت بایزید بسطامی‌رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: نفس ایک ایسی صفت ہے جسے باطل ہی سے سکون ملتا ہے اور راہ حق سے اسے کبھی فرحت محسوس نہیں ہوتی۔’’

حضرت حکیم ترمذی‌رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ تم یہ چاہتے ہو کہ تمھیں حق کی معرفت نفس کے تم میں باقی رہنے کے باوجودہو جائے (بھلا یہ کیسے ہو سکتا ہے) جب کہ نفس تمھارا خود کو نہیں پہچانتا ہے تو اپنے غیر کو کیسے پہچانےگا۔ مطلب یہ کہ نفس تو خود اپنے بقا کی حالت سے نابلد اور محجوب ہے اور جو ایسا ہو وہ حق تعالیٰ کو کیسے پہچانےگا۔’’

حضرت جنید بغدادی قدس سرہ فرماتے ہیں: ‘‘اپنے نفس کی مراد پہ تمھارا قائم رہنا کفر کی بنیاد ہے’’ گویا نفس کی خواہشات پر قائم رہنے کی میں بندے کے لیے کفر کی بنیاد ہے۔ لہٰذا نفس کی خواہشات سے اعراض کرنے کی پوری کوشش کرنی چاہیے۔ اس سے پہلو تہی کرنے والا منکر ہوتا ہے، بلکہ منکر بیگانہ۔

حضرت ابو سلمان درانی‌رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ‘‘نفس امانت میں خیانت کرنے والا اور رضاے الٰہی سے روکنے والا ہے اور سب سے بہتر عمل نفس کشی ہے۔’’ اصل عبارتیں دیکھیے کشف المحجوب میں۔

حضرت امام حجۃ الاسلام محمد غزالی قدس سرہ فرماتے ہیں: ‘‘لفظ نفس کئی معانی میں مشترک ہے اور ہماری غرض اس کے دو معنی سے متعلق ہے؛ ایک وہ معنی جو انسان میں پائی جانے والی غضب و شہوت کی قوت کا جامع ہے۔ اہل تصوف میں عام طور پر یہی معنی مشہور ہے؛ کیوں کہ وہ نفس سے وہ اصل مراد لیتے ہیں جو

انسان کی مذموم صفات کا جامع ہے۔ اور وہ فرماتے ہیں کہ نفس کے ساتھ جہاد کرنا اور خواہشات کو توڑنا ضروری ہے۔ نبی اکرمﷺ نے اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: ‘‘تیرا سب سے بڑا دشمن تیرا نفس ہے جو تیرے دو پہلؤں کے درمیان ہے۔’’

دوسرا معنی وہی لطیفہ ہے جس کا ہم نے ذکر کیا ہے اور حقیقت میں یہی انسان ہے۔ نفس انسان اور ذات انسان بھی یہی ہے، لیکن یہ مختلف احوال کے اعتبار سے مختلف اوصاف سے موصوف ہوتا ہے اور اسی وجہ سے اس کے مختلف نام: امّارہ، مطمئنّہ اور لوّامہ ہیں جن کی تفصیل آگے آئےگی۔

نفس کی سرکشی کی مختلف مثالیں

خیال رہے کہ اولیاے کرام قدست اسرارہم سے اجماع ہے کہ ایک عالم مثال ہے جہاں ہر شے لفظ و معنی اور اعیان و اعراض سب کی مثال موجود ہے۔ وجود مثال پر مختلف و متعدد احادیث دلالت کرتی ہیں جیسا کہ ہم ایک مقام پر تفصیل سے ذکر کر چکے۔ بزرگوں نے نفس کی مثالیں بہت بیان کیں:

حضرت داتا ہجویری قدس سرہ فرماتے ہیں: ‘‘حضرت شیخ ابو علی سیاہ مروزی‌رحمۃ اللہ علیہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے نفس کو ایسی شکل میں دیکھا جو میری ہم صورت تھا، کسی نے اس کے بال پکڑ رکھے تھے، اس نے میرے حوالے کر دیا، میں نے ایک درخت سے اسے باندھ دیا۔ اس کے بعد میں نے اسے ہلاک کر دینے کا ارادہ کیا، اس نے مجھ سے کہا: اے ابو علی! زحمت نہ اٹھاؤ، میں خدا کا لشکری ہوں، تم مجھے فنا نہیں کر سکتے۔’’

حضرت شیخ ابو العباس شقانی‌رحمۃ اللہ علیہ امام وقت تھے، فرماتے ہیں کہ ایک دن میں گھر آیا تو زرد رنگ کے ایک کتے کو اپنے بستر پر سوتا ہوا پایا، میں نے خیال کیا

کہ شاید محلہ کا کتا گھس آیا ہے، اسے باہر نکالنے کا ارادہ کیا، مگر وہ میرے دامن میں گھس کر غائب ہو گیا۔’’

حضرت شیخ ابو القاسم گرگانی قدس سرہ آغاز حال کی ایک نشانی بیان کرتے ہیں کہ میں نے نفس کو سانپ کی صورت میں دیکھا ہے۔ اور ایک بزرگ بیان فرماتے ہیں کہ میں نے نفس کو چوہے کی شکل میں دیکھا ہے تو میں نے اس سے پوچھا: تو کون ہے؟ اس نے کہا: میں غافلوں کو ہلاکت میں ڈالنے والا، ان کو شرارت و برائی کی طرف بلانے والا اور دوستوں کی نجات ہوں۔ چوں کہ میرا وجود سراپا آفت ہے تو وہ اپنی پاکی و طہارت پر نازاں ہو کر اپنے افعال پر تکبر کرنے لگتے ہیں۔ وجہ یہ کہ جب وہ دل کی پاکیزگی، سیرت کی صفائی، نور ولایت اور طاعت پر اپنی استقامت کو دیکھتے ہیں تو ہوا و تکبر ان میں پیدا ہو جاتا ہے۔ پھر جب وہ اپنے پہلو میں مجھے دیکھتے ہیں تو وہ ان تمام عیبوں سے پاک ہو جاتےہیں۔’’ مزید تفصیل کے لیے دیکھیے کشف المحجوب۔

ہواے نفس

حضرت داتا قدس سرہ فرماتے ہیں: ایک گروہ کے نزدیک اصناف نفس میں سے ایک وصف ہوا یعنی خواہش ہے اور ایک گروہ کے نزدیک طبعی ارادہ خواہش کا متصر ف و مدبر ہے اس کا نام ہوا ہے۔ جس طرح روح کے لیے عقل ہے اور ہر روح جس کی اپنی افزائش میں عقلی قوت نہ ہو ناقص ہوتی ہے۔ اسی طرح ہر وہ نفس جس کے لیے ہوا کی قوت نہ ہو ناقص ہوتی ہے۔ لہٰذا روح کا ناقص ہونا قربت کا نقص ہے اور نفس کا ناقص ہونا عین قربت ہے۔ بندہ کے لیے ہمیشہ دو دعوتیں ہوتی ہیں؛ ایک عقل کی طرف سے دوسری ہوا کی طرف سے۔ جو عقل کی دعوت قبول کرکے اس کا فرماں بردار ہو گیا صاحب ایمان ہو گیا اور جو ہوا کی دعوت قبول کرکے اس کا مطیع ہوا وہ ضلالت و کفر میں پڑ گیا۔ لہٰذا ہوا واصلوں

کےلیے حجاب اور گمراہ کرنے والی چیز ہے، غافلوں کے لیے جاے قیام ہے اور طالبوں کے لیے محل اعراض ہے۔ بندے کو اس کے خلاف عمل کرنے کا حکم دیا گیا ہے اور اسے اس کے ارتکاب سے روکا گیا ہے۔ ہواے نفس کی اتباع کس قدر مہلک ہے قرآن و سنت کے چند نصوص ملاحظہ فرمائیں:

(۱)وَ اَمَّا مَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّہٖ وَ نَہَی النَّفْسَ عَنِ الْہَوٰی فَاِنَّ الْجَنَّۃَ ہِیَ الْمَاۡوٰی (سورۃ النازعات: ۷۹؍۴۰،۴۱)

ترجمہ: اور وہ جو اپنے رب کے حضور کھڑے ہونے سے ڈرااور نفس کو خواہش سے روکاتو بے شک جنّت ہی ٹھکانا ہے۔

(۲)اَفَرَءَیۡتَ مَنِ اتَّخَذَ اِلٰـہَہٗ ہَوٰىہُ (سورۃ الجاثیۃ: ۴۵؍۲۳)

ترجمہ: بَھلا دیکھو تو وہ جس نے اپنی خواہش کو اپنا خدا ٹھہرایا۔

(۳)وَ لَا تُطِعْ مَنْ اَغْفَلْنَا قَلْبَہٗ عَنۡ ذِکْرِنَا وَاتَّبَعَ ہَوٰىہُ وَکَانَ اَمْرُہٗ فُرُطًا (سورۃ الکہف: ۱۸؍۲۸)

ترجمہ: اور اس کا کہا نہ مانو جس کا دل ہم نے اپنی یاد سے غافل کردیا اور وہ اپنی خواہش کے پیچھے چلا اور اس کا کام حد سے گزر گیا ۔

(۴)وَاتَّبَعَ ہَوٰىہُ فَتَرْدٰی (سورۃ طٰہٰ: ۲۰؍۱۶)

ترجمہ: اور اپنی خواہش کے پیچھے چلا پھر تو ہلاک ہوجائے۔

(۵)وَمَنْ اَضَلُّ مِمَّنِ اتَّبَعَ ہَوٰىہُ بِغَیۡرِ ہُدًی مِّنَ اللہِ (سورۃ القصص: ۲۸؍۵۰)

ترجمہ: اور اس سے بڑھ کر گمراہ کون جو اپنی خواہش کی پیروی کرے اللہ کی ہدایت سے جدا۔

(۶)بَلِ اتَّبَعَ الَّذِیۡنَ ظَلَمُوۡۤا اَہۡوَآءَہُمۡ (سورۃ الروم: ۳۰؍۲۹)

ترجمہ: بلکہ ظالم اپنی خواہشوں کے پیچھے ہولیے۔

(۷)وَلَا تَتَّبِعِ الْہَوٰی فَیُضِلَّکَ عَنۡ سَبِیۡلِ اللہِ (سورۃ ص: ۳۸؍۲۶)

ترجمہ: اور خواہش کے پیچھے نہ جانا کہ تجھے اللہ کی راہ سے بہکادے گی۔

رسول کونینﷺ نے فرمایا: أشد ما أخاف علیکم خصلتان إتباع الھویٰ و طول الأمل (یعنی مجھے دو خصلتوں سے تم پر سخت خوف آتا ہے؛ ایک پیرویِ نفس دوسری درازیِ امید)

نیز وارد ہوا ہے: آدمی کو تین چیزیں ہلاک کرنے والی ہیں: (۱)بخل (۲)ہوا (۳)عجب۔ ترمذی میں ہے: جو نفس کی پیروی کرے عاجز ہے۔

حضرت علامہ مفتی نقی علی خاں بریلوی‌رحمۃ اللہ علیہ نقل کرتے ہیں، ابو بکر وراق‌رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: میرے نزدیک خواش سے بدتر کوئی برائی اور شہوت سے زیادہ کوئی گمراہی نہیں۔ شریعت میں آدمی اس وقت بالغ ہوتا ہےکہ شہوت صحیح اور خواہش صادق حاصل ہو۔ اور طریقت میں جب بالغ ہوتا ہے کہ خواہش اور شہوت اصلاً باقی نہ رہے۔

بحر العلوم حاشیہ میر زاہدجلالیہ میں ثابت کرتے ہیں کہ ہواے نفس غلطی و گمراہی کا سبب ہے۔ اگر ریاضت و مشقت سے یہ آفت زائل ہو تو فطرت انسانیہ بے استعمال قواعد منطق مطلب کو دریافت کرے۔ بعض کاملین سے منقول ہے: نفس کا پیرو اگر آسمان پر اڑتا ہے، خدا سے دور ہے اور جو اس سے دور ہے اگر مزبلہ (کوڑا خانہ) میں پڑا ہے اس سے قریب ہے۔

اے عزیز! جو نفس کی پیروی کرتا ہے ہزار طرح کی ذلت و خواری میں مبتلا ہوتا ہے اور جو اس پر لات مارتا ہے، دنیا و آخرت میں عزت و حرمت حاصل کرتا ہے۔ زلیخا کو خواہش نفس نے محتاج اور یوسف‌علیہ السلام کو ترک ہوا نے صاحب تاج کیا۔ ابتدا ہر معصیت کی اور اصل ہر آفت کی یہی سرکش ہے۔ شیطان بے اس کی مدد کے دخل نہیں کر سکتا اور کوئی شخص بے اس کے قتل کیے راہ مولیٰ میں قدم

نہیں رکھ سکتا، دوستیِ مولیٰ اس کی دشمنی سے حاصل ہوتی ہے اور فرماں برداری اس کی نافرمانی سے ہاتھ آتی ہے۔ جو اپنی خواہش کی پیروی کرتا ہے محبت سے بے بہرہ ہے اور جو نفس کے کہنے پر چلتا ہے دعواے اسلام اس کو نازیبا ہے۔

حضرت حسن بصری فرماتے ہیں: کوئی جانور بدلگام نفس سے بدتر نہیں۔ خواجہ ابراہیم خواص‌رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ایک راہب سے ملک روم میں ملاقات ہوئی، اس نے دنیا ستر برس سے چھوڑ دی تھی میں نے کہا: رہبانیت چالیس برس سے زیادہ نہیں، کہا: میں اپنے نفس کو بند کیے اور اس کی خواہش کو روکے ہوئے بیٹھا ہوں تاکہ اس شوریدہ سر کی شر اور ایذا سے خلق کو محفوظ رکھوں، یہ رہبانیت نہیں، سگبانی ہے۔ اے ابراہیم! کسی سے کام نہ رکھ، اپنے نفس کی فکر کر، جب اس کو پائے غافل مت ہو جا کہ ہواے نفس روز نئی طرح کا لباس پہن کر دھوکا دیتی ہے اور ہر وقت نئے طور سے گمراہ کرتی ہے۔ آدمی ہزار طرح سے اس کتے کی دم کو سنوارے، مگر کجی سے باہر نہ آوے اور لاکھ طرح سے روکے، مگر ایک دم کی غفلت میں زنجیریں توڑ کر قابو سے نکل جاوے۔ پہاڑ کو ناخن سے کاٹنا سہل ہے اور اس گمراہ کو راہ پر لانا مشکل۔

اے عزیز! نفس بے تمیز کسی حالت میں شرارت سے باز نہیں آتا اور ہر وقت نیا رنگ لاتا ہے، بھوک کے وقت دیوانہ ہو جاتا ہے اور گدھے کی طرح چلاتا ہے، سیر ہوتا ہے تو سرکشی کرتا ہے اور کتے کی طرح بے وجہ کاٹنے کو دوڑتا ہے، غصے کے وقت درندہ اور تنعم کے وقت فرعون بن جاتا ہے۔ ہر چند خدا و رسولﷺ کو شفیع لاویں اور سکرات موت اور قبر کی سختی اور محشر کی تکلیف اور دوزخ کے عذاب سے ڈرائیں۔ شرارت اور کبر و نخوت سے باز نہیں آتا۔ اسی وجہ سے مردان راہ شب و روز اس سے ہوشیار رہتے ہیں اور اس کی مخالفت اور قتل و تعذیب اور تذلیل و توہین کو مدار کار سمجھتے ہیں۔

علامہ بیضاوی اپنی تفسیر میں کسی بزرگ سے نقل کرتے ہیں کہ جو شخص نفس کو تکلیف نہ دے اور عذاب نہ کرے ثواب و راحت سے اور جو اسے قتل نہ کرے حیات ابدی سے محروم رہے کہ تنعم دائم اس کی تعذیب اور ابدی زندگی اس کے ہلاک پر موقوف ہے۔ عارف رومی قدس سرہ فرماتے ہیں:

نفس فرعونیست آنرا خوار کن

تا نیارد یاد از کفر کہن

دشمن راہ خدا را خوار دار

دزد را منبر منہ بردار دار

(ماخوذ از کلام الاوضح)

یعنی نفس فرعون ہے، اس کو ذلیل کرو تاکہ پرانا کفر اسے یاد نہ آئے۔ راہ خدا کے دشمن کو خوار و ذلیل رکھو، چور کے لیے منبر نہ رکھو، دار و سولی پر رکھو۔

یہ مفاسد نفس و مصائد ہوا کی ہلکی سی جھلک ہے جس سے شیخ ایصال کو واقف ہونا ضروری ہے جیسا کہ امام اہل سنت قدس سرہ نے فرمایاہے۔

مکائد شیطان

تیسری چیز جس سے شیخ کو واقف ہونا ضروری ہے وہ ہے مکائد شیطان۔ حضرت امام غزالی قدس سرہ نے احیاء العلوم میں بڑی تفصیل سے کلام فرمایا ہے، آپ وہاں مطالعہ کریں تاکہ شیطانی مکر و فریب سے واقف ہوکر دوسروں کو واقف کر سکیں۔ ہم کچھ امور اقتباس کرکے لکھتے ہیں، امید ہے نافع ثابت ہوں گے۔

۱۔خواطر: دل میں حاصل ہونے والے اثرات میں سب سے خاص اثر خواطر ہیں۔ خواطر جو خاطر کی جمع ہے، سے مراد دل میں حاصل ہونے والے افکار و اذکار ہیں۔ پس وہ خواطر جو رغبت کو حرکت دیتے ہیں وہ کبھی شرک کی طرف بلاتے ہیں جو بالآخر نقصان دیتی ہے اور بھلائی کی طرف بھی بلاتے ہیں۔ پس جو خاطر محمود ہے وہ الہام کہلاتا ہے اور مذموم خاطر یعنی جو برائی کی طرف بلاتا ہے وہ وسوسہ کہلاتا ہے۔ اسی طرح دل کے انوار و تاریکی کے اسباب بھی مختلف ہیں۔ وہ خاطر جو

نیکی کی دعوت دیتا ہے اس کے سبب کو ملک و فرشتہ اور جو برائی کی طرف بلاتا ہے اسے شیطان کہتے ہیں اور وہ لطف و کرم جو دل کو الہام کی قبولیت کے لیے تیار کرتا ہے اسے توفیق کہا جاتا ہے اور وہ چیز جو دل کو شیطانی وسوسوں کے لیے تیار کرتی ہے اسے اغوا اور خذلان کہتے ہیں۔

۲۔قلب اصل فطرت کے اعتبار سے فرشتہ اور شیطان دونوں کے اثرات قبول کرنے کی برابر برابر صلاحیت رکھتا ہے۔ البتہ خواہش کی اتباع یا اس کی مخالفت اور اس سے اعراض کے اعتبار سے دونوں میں سے ایک جانب دوسری پر غالب ہو جاتی ہے۔ اگر انسان غصے اور خواہشات کے مقتضا کی اتباع کرے تو اس کے ذریعہ شیطان کا غلبہ ظاہر ہو جاتا ہے اور دل شیطان کا مرکز بن جاتا ہے؛ کیوں کہ شہوت و خواہش شیطان کی چراگاہ ہے اور اگر خواہشات سے لڑتے ہوئے اسے اپنے اوپر مسلط نہ ہونے دے اور فرشتوں کے اخلاق کی مشابہت اختیار کرے تو اس کا دل فرشتوں کا ٹھکانہ اور نزول کی جگہ ہوتا ہے تو جب کوئی بھی دل شہوت، غضب، حرص، طمع اور طول امل (لمبی امیدیں) وغیرہ بشری صفات سے خالی نہیں ہوتا اور یہ سب خواہش کی فرع ہیں تو لازماً شیطان کو بھی وسوسے کے ذریعہ دل میں عمل حاصل ہے۔

۳۔جب خواہشات کے تقاضے کے مطابق دل پر دنیا کی یاد غالب ہو تو شیطان وسوسوں کی گنجائش مل جاتی ہے اور دل جب ذکر الٰہی کی طرف متوجہ ہو جائے تو شیطان کوچ کر جاتا ہے اور اس کا میدان تنگ ہو جاتا ہے تو فرشتہ آگے بڑھتا ہے اوراسے الہام کرتا ہے۔ فرشتوں اور شیطانوں کے لشکروں کے درمیان ہمیشہ جنگ جاری رہتی ہے یہاں تک کہ دل ان میں ایک کے لیے کھل جائے اور اس کا وطن بن جائے اور وہاں ٹھکانہ بنا لے۔ اب دوسرے کا گذر محض اچکنے کے طور پر ہوتا ہے۔ معلوم ہوا کہ شیطان سے نجات کا راستہ ذکر الٰہی ہے اور اس کے غلبہ کا سبب

حب دنیا ہے۔

حضرت امام قدس سرہ فرماتے ہیں: اب دلوں کو فتح کرنا اس صورت میں ممکن ہے جب دل کو شیطان کی قوت سے اور قوت خواہش اور شہوت سے خالی کر دیا جائے ، اور ذکر الٰہی سے آباد کیا جائے۔ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:

اِنَّ عِبَادِیۡ لَیۡسَ لَکَ عَلَیۡہِمْ سُلْطٰنٌ (سورۃ الحجر: ۱۵؍۴۲)

ترجمہ: بیشک میرے بندوں پر تیرا کچھ قابو نہیں۔’’

آیت سے یہ بھی معلوم ہوا کہ بندے تو سب ہیں، مگر رب تعالیٰ کے خاص بندے وہی ہیں جو شیطانی غلبات سے محفوظ ہیں اور حفاظت کا ذریعہ ذکر الٰہی ہے۔ اللہ تعالیٰ کے قول ‘‘مِنۡ شَرِّ الْوَسْوَاسِ الْخَنَّاسِ ’’ (وسوسے ڈالنے والے شیطان کے شر سے پناہ جو ذکر اللہ سن کر پیچھے ہٹ جاتا ہے) کی تفسیر میں حضرت امام مجاہد‌رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: شیطان دل پر چھایا ہوا ہوتا ہے۔ جب انسان ذکر الٰہی کرتا ہے تو سکڑ جاتا ہے اور جب غافل ہوتا ہے تو شیطان دل پر پھیل جاتا ہے۔ ذکر الٰہی اور شیطانی وسوسوں کے درمیان یہ جنگ اسی طرح ہے جس طرح نور اور ظلمت اور رات و دن کے درمیان لڑائی جاری ہے۔ اور چوں کہ یہ دونوں ایک دوسرے کے مخالف ہیں۔ پروردگار جل و علا فرماتاہے:

اِسْتَحْوَذَ عَلَیۡہِمُ الشَّیۡطٰنُ فَاَنۡسٰہُمْ ذِکْرَ اللہِ (سورۃ المجادلۃ: ۵۸؍۱۹)

ترجمہ: ان پر شیطان غالب آگیا تو انہیں اللہ کی یاد بُھلا دی۔

۴۔جس طرح شہوات انسان کے گوشت اور خون میں ملی ہوئی ہیں اسی طرح شیطان کا غلبہ بھی اس کے گوشت اور خون میں ملا ہوا ہے اور اس کے دل کو ہر طرف سے گھیرے ہوئے ہے۔ ارشاد نبوی ہے: بیشک شیطان انسان میں خون کی طرح گردش کرتا ہے۔ پس اس کے راستوں کو بھوک کے ذریعہ تنگ کر دو۔’’ کیوں کہ بھوک شہوت کو توڑ دیتی ہے اور شیطان کے راستے شہوتیں ہیں اور چوں کہ دل کو

شہوتوں نے چاروں طرف سے گھیر رکھا ہے۔ اسی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے شیطان کا قول یوں نقل فرمایا ہے:

لَاَقْعُدَنَّ لَہُمْ صِرَاطَکَ الْمُسْتَقِیۡمَ ثُمَّ لَاٰتِیَنَّہُمۡ مِّنۡۢ بَیۡنِ اَیۡدِیۡہِمْ وَ مِنْ خَلْفِہِمْ وَعَنْ اَیۡمَانِہِمْ وَعَنۡ شَمَآئِلِہِمْ (سورۃ الاعراف: ۷؍۱۶،۱۷)

ترجمہ: میں ضرور تیرے سیدھے راستہ پر ان کی تاک میں بیٹھوں گاپھر ضرور میں ان کے پاس آؤں گا ان کے آگے اور ان کے پیچھے اور ان کے داہنے اور بائیں سے۔’’

بیشک شیطان ابن آدم کی تاک میں مختلف راستوں پر بیٹھا۔ وہ اسلام کے راستے پر بیٹھا اور کہنے لگا: تو اپنےاور اپنے باپ دادا کے دین کو چھوڑ دےگا؟ لیکن انسان نے نہ مانی اور وہ مسلمان ہو گیا۔ پھر وہ اس کے ہجرت کے راستے پر بیٹھا اور کہا کہ تو ہجرت کر رہا ہے اور اپنی زمین اورفضا کو چھوڑ رہا ہے؟ اس نے شیطان کی نہ مانی اور ہجرت کی۔ پھر وہ اس کے لیے جہاد کے راستے میں بیٹھا اور کہنے لگا تو جہاد کرتا ہے، یہ تو جان و مال کو ضائع کرتا ہے، تو لڑےگا تو قتل کیا جائےگا، لوگ تیری بیویوں سے نکاح کریں گے اور تیرا مال تقسیم ہو جائےگا اس نے شیطان کی یہ بات بھی نہ مانی اور جہاد کیا۔

نبی اکرمﷺ نے فرمایا : جو شخص ایسا کرے اور پھر فوت ہو جائے تو اللہ تعالیٰ کے ذمہ کرم پر ہے کہ اسے جنت میں داخل کرے۔ پھر آگے چل کر فرماتے ہیں: لہٰذا بندے کو چاہیے کہ وہ اپنے آپ سے دشمن کو دور کرنے میں مشغول ہو، اس کے اصل، نسب اور جگہ کے بارے میں نہ پوچھے، ہاں اس کے ہتھیار کے بارے میں پوچھے تاکہ اپنے سے دفع کر سکے۔ شیطان کا اسلحہ خواہش اور شہوات ہیں، علما کے لیے اس قدر کافی ہے۔ جہاں تک شیطان کی ذات و صفات اور حقیقت کی معرفت کا تعلق ہے تو اس سے اللہ تعالیٰ کی پناہ چاہتے ہیں۔ فرشتوں کی

حقیقت معلوم کرنا عارفین کا میدان ہے جو علوم مکاشفات میں مستغرق رہتے ہیں۔ لہٰذا علم معاملہ میں اس کی پہچان کی ضرورت نہیں ہے۔

۵۔خواطر کی تین قسمیں ہیں: ایک قسم وہ خواطر ہیں جن کے بارے میں قطعاً معلوم ہے کہ وہ شر کی طرف بلاتے ہیں تو ان کا وسوسہ ہونا پوشیدہ نہیں ہے اور دوسری قسم ان خواطر کی ہے جو نیکی کی دعوت دیتے ہیں تو اس میں شک نہیں ہے کہ وہ الہام ہے، تیسری قسم وہ ہے جس میں تردد ہوتا ہے، معلوم نہیں ہوتا کہ وہ خاطر فرشتہ کی طرف سے ہے یا شیطان کی طرف سے۔ شیطان کے مکر و فریب سے ہے کہ وہ بھلائی کے مقام پر شر کو پیش کرتا ہے اور اس میں امتیاز کرنا مشکل بات ہے اور اکثر لوگ اسی وجہ سے ہلاک ہوتے ہیں؛ کیوں کہ شیطان لوگوں کو صریح شر کی طرف بلانے پر قادر نہیں ہوتا۔ لہٰذا وہ شر کو خیر کی صورت دیتا ہے جیسے وہ کسی عالم کو وعظ کے طریقے پر کہتا ہے کہ لوگوں کو دیکھو کہ وہ جہالت کی وجہ سے مردہ ہیں، غفلت کی وجہ سے ہلاک ہو گئے اور جہنم کے کنارے پر پہنچ گئے، کیا تم کو مخلوق پر رحم نہیں آتا کہ تم وعظ و نصیحت کے ذریعہ سختیوں سے بچاؤ، اللہ تعالیٰ نے تم پر انعام فرمایا کہ تمھیں روشن دل، فصیح زبان اور مقبول لہجہ عطا کیا تو تم کس طرح اللہ تعالیٰ کی نعمت کی ناشکری کرتے ہو اور اس کی ناراضگی مول لیتے ہو۔ تو تم اشاعت علم سے خاموشی اختیار کرتے ہو اور لوگوں کو صراط مستقیم کی طرف نہیں بلاتے۔ شیطان مسلسل اس کے دل میں یہ بات ڈالتا ہے اور نہایت لطیف حیلوں کے ذریعہ اسے وعظ گوئی پر مجبور کرتا ہے یہاں تک کہ وہ لوگوں کو وعظ و نصیحت کرنے میں مشغول ہو جاتا ہے۔

پھر وہ دعوت دیتا ہے کہ وہ لوگوں کے لیے زینت اختیار کر نے یعنی اچھے الفاظ استعمال کرے اور بھلائی ظاہر کرے۔ شیطان اس سے کہتا ہے کہ اگر تم ایسا نہیں کروگے تو ان کے دلوں میں تمھاری گفتگو کی کوئی وقعت باقی نہیں رہےگی اور

وہ راہ حق کی ہدایت نہیں پائیں گے۔ وہ مسلسل یہ بات دل میں ڈالتا ہے اور اسی دوران اس شخص کو ریاکاری، مخلوق کے یہاں قبولیت جاہ و مرتبہ کی لذت اور ماننے والوں کی کثرت کا شوق دلاتا ہے۔ نیز یہ کہ وہ دوسروں کو حقارت کی نظر سے دیکھے۔ اب وہ واعظ تقریر کرتے ہوئے خیال کرتا ہے کہ اس کا مقصد بھلائی ہے حالاں کہ اس کا مقصد مرتبے اور لوگوں میں مقبولیت کا حصول ہے۔