باب ۱۸ از ۵۴صفحات ۲۲۰–۲۳۲
ریاضت سے اخلاق کی تبدیلی
حضرت امام غزالی قدس سرہ یہ بیان کرنے کے بعد کہ ریاضت سے تبدیلی انسان تو انسان جانوروں تک میں ہوتی ہے، فرماتے ہیں: ‘‘اس سلسلے میں لوگوں کے چار مراتب ہیں:
(۱)وہ لوگ جو غافل ہیں اور حق و باطل اور اچھے برے میں تمیز نہیں کر سکتے ہیں، بلکہ اپنی فطرت پر باقی رہتے ہیں وہ تمام اعتقادات سے فارغ ہوتے ہیں اور لذات کے پیچھے چلنے کے باوجود ان کی خواہش پوری نہیں ہوتی تو ایسے لوگوں کا علاج جلدی ہو سکتا ہے، انھیں ایک معلم اور مرشد کی ضرورت ہوتی ہے نیز اس کے اندر ایک جذبہ ہو جو اسے مجاہدہ پر مجبور کرے تو ایسے لوگوں کے اخلاق بہت جلد درست ہو جاتے ہیں۔
(۲)دوسری قسم کے لوگ وہ ہیں جو برائی کی پہچان رکھتے ہیں، لیکن وہ اچھے اعمال کے عادی نہیں، بلکہ ان کے لیے ان کا برا عمل مزین ہو جاتا ہے اور وہ اپنی خواہش پوری کرنے کے لیے اس کے مرتکب ہوتے ہیں اور چوں کہ ان پر خواہش کا غلبہ ہوتا ہے۔ لہٰذا وہ اچھی راے سے منہ پھیرتے نہیں، لیکن وہ اپنی عملی کوتاہی سے باخبر ہوتے ہیں، ان کا معاملہ پہلے قسم کے لوگوں سے زیادہ مشکل ہوتا ہے؛ کیوں کہ یہاں دوگنا محنت کرنا ہوگی کہ پہلے اس میل کو دور کیا جائےجو فساد کی عادت کی وجہ سےان کے نفس پر جمی ہوئی ہے۔ دوسرا یہ کہ وہ خود کو اچھے کاموں کا عادی بنائیں، لیکن اس کے باوجود اگر ان کے لیے محنت اور کوشش کی جائے تو یہ ریاضت کا محل ہیں۔
(۳)تیسری قسم کے وہ لوگ ہیں جو اخلاق قبیحہ کو واجب اور اچھا سمجھتے ہیں، ان کے خیال میں یہ حق اور اچھے ہیں اور انھی پر ان کی پرورش بھی ہوئی۔ اس قسم کے
لوگوں کا علاج گویا محال ہے اور اصلاح کی امید بہت نادر ہے۔
(۴)چوتھی قسم کے وہ لوگ ہیں جو برے اعمال اور فاسد راے پر پرورش پاتے ہیں اور یوں ان کی نشو و نما ہوئی اور اس کے ساتھ ساتھ وہ کثرت شر، لوگوں کو ہلاک کرنے اور اس پر فخر کرنے کوفضیلت سمجھتے ہیں اور ان کے خیال میں یہی کام ان کی بلندی کا باعث ہیں۔ یہ سب سے مشکل مرتبہ ہے۔ اسی قسم کی صورت کے بارے میں کہا گیا ہے ‘‘بڑھاپے کی ریاضت تھکاوٹ ہے اور بھیڑیے کو مہذب بنانا اپنے آپ کو عذاب میں ڈالنا ہے۔’’
اخلاق حسنہ کے حصول کا سبب
حضرت امام قدس سرہ فرماتے ہیں: حسن خلق قوت عقل کے اعتدال، کمال حکمت، غصے اور خواہش کی قوت کے اعتدال اور ان کے عقل و شریعت کے تابع ہونے کا نام ہے اور یہ اعتدال دو طریقوں پر حاصل ہوتا ہے۔ ایک جود الٰہی اور فطری کمال ہے۔ وہ اس طرح کہ انسان کی تخلیق اور ولادت کامل عقل اور اچھے اخلاق کے ساتھ ہو اور اس پر خواہش اور غصے کا غلبہ نہ ہو، بلکہ پیدائشی اعتدال ہو اور عقل و شریعت کے تابع ہو۔ یوں وہ تعلیم کے بغیر عالم اور تادیب کے بغیر مؤدب ہو جاتا ہے جیسے انبیاے کرام علیہم الصلوات و التسلیمات۔ سب کی یہی حالت تھی۔ اور یہ بات عقل سے بعید نہیں کہ جو بات کسب و عمل سے حاصل ہو وہ فطرت میں داخل ہو۔ کئی بچے پیدائشی طور پر سخی، جرأت مند اور اچھے لہجے والے ہوتے ہیں اور بعض اوقات پیدائشی طور پر نہیں پائی جاتیں، لیکن بعد میں اچھے اخلاق والوں کے ساتھ میل جول رکھنے اور ان کی عادت بنانے سے حاصل ہو جاتی ہیں اور کبھی تعلم سے۔
دوسری وجہ ان اخلاق کو ریاضت و مجاہدہ کے ذریعہ حاصل کرنا ہےیعنی یہ ‘‘خلق مطلوب’’ جن اعمال کا تقاضا کرتا ہے خود کو ان میں مشغول رکھنا مثلاً جو آدمی اپنے اندر خلق سخاوت پیدا کرنا چاہتا ہے تو اس کا طریقہ یہ ہے کہ وہ سخی لوگوں کے طریقے
پر عمل کرے یعنی مال خرچ کرے۔ اسے چاہیے مسلسل اور بتکلف ایسا کرے یہاں تک کہ یہ بات اس کی طبیعت و عادت بن جائے۔ اسی طرح جو تواضع کا خلق حاصل کرنا چاہتا ہے حالاں کہ اس پر تکبر غالب ہو چکا ہے تو اس کا طریقہ یہ ہے کہ وہ ایک طویل عرصے تک تواضع کرنے والوں کے طریقے پر عمل کرے اور اس سلسلے میں نفس سے مجاہدہ کرے۔ اسے بتکلف کرتا رہے یہاں تک کہ یہ اس کی طبیعت و عادت بن جائے اور اس کے لیے تواضع آسان ہو جائے۔ جتنے اخلاق شرعاً محمود ہیں وہ اسی طریقے پر حاصل ہوتے ہیں اس کی انتہا یہ ہے کہ آدمی کو اس کام میں لذت محسوس ہونے لگے، سخی وہ ہے جو مال خرچ کرکے لذت محسوس کرتا ہے وہ نہیں جو ناگواری سے خرچ کرتا ہے۔ اسی طرح تواضع سے لذت محسوس کرنے لگے تو یہ تواضع ہے۔ اخلاق دینیہ نفس میں اس وقت تک راسخ نہیں ہوتے جب تک نفس کو عادی نہ بنائے، برے اخلاق کو چھوڑ نہ دے اور اچھے افعال پر اہل شوق کی طرح پابندی اختیار نہ کرے اور لذت محسوس نہ کرے۔
تربیت مرید کا طریقہ
حضرت امام قدس سرہ فرماتے ہیں: ‘‘وہ مرشد جو مریدوں کا علاج کرتا ہے اسے چاہیے کہ وہ ایک مخصوص فن یا مخصوص طریقے پر انھیں ریاضت اور مجاہدے میں نہ ڈالے جب تک ان کے اخلاق و امراض کی معرفت نہ ہو جائے اور جس طرح اگر معالج تمام بیماریوں کا علاج ایک ہی طریقے پر کرے تو ان میں سے اکثر کو موت کے گھاٹ اتار دےگا۔ اسی طرح اگر شیخ تمام مریدین کو ایک ہی طریقے پر ریاضت کا پابند بنائے تو وہ ان کو ہلاک کر دےگا اور ان کے دل مر جائیں گے، بلکہ اسے چاہیے کہ مرید کی بیماری، اس کی حالت، عمر اور مزاج کو دیکھے اور معلوم کرے کہ وہ کس قسم کی ریاضت برداشت کر سکتا ہے۔
اگر مرید ابتدائی مراحل میں ہے اور شرعی احکام و حدود سے ناواقف ہے تو پہلے اسے طہارت، نماز اور دیگر ظاہری عبادات کی تعلیم دے اور اگر حرام مال اور دیگر
گناہوں میں مبتلا ہے تو انھیں چھڑائے۔ پھر جب ظاہر عبادات سے مزین ہو جائے اور گناہوں سے اجتناب حاصل ہو جائے تو حالات کے قرینے سے اس کے باطن کو دیکھے تاکہ اس کے اخلاق اور قلبی بیماریوں کو سمجھ سکے، اگر اس کے پاس مال ضرورت سے زائد ہو تو اس سے لے کر اچھے کاموں پر خرچ کرے اور اس کے دل کو اس سے فارغ کر دے یہاں تک کہ مال کی طرف اس کی توجہ ختم ہو جائے اور اگر تکبر دیکھے اور یہ عزت نفس اس پر غالب ہے تو اسے حکم دے کہ بازاروں میں جاکر گداگری کرے اور لوگوں سے مانگے کیوں کہ نفس و ریاست کی عزت اور شیخی ذلت کے بغیر نہیں جاتی اور مانگنے سے بڑھ کر کوئی ذلت نہیں۔ ایک مدت تک اس کام پر لگائے تاکہ یہ بری خصلت دور ہو۔ اسی طرح رعونت بھی بہت زہر ہے، اگر دیکھے کہ اس کے جسم اور کپڑوں پر پاکیزگی غالب ہے اور ان پر خوشی کے باعث اس کا دل اس کی طرف مائل اور متوجہ ہے تو اس سے پانی کی جگہ اور گندی جگہیں صاف کرائے، باورچی خانوں وغیرہ حتیّٰ کہ نظافت وغیرہ کی رعونت اس سے ختم ہو جائے کیوں کہ جو لوگ اپنے کپڑوں کو پاک صاف رکھنے اور انھیں عمدہ بنانے اور ان کے بناو سنگار میں لگے رہتے ہیں اور رنگ برنگے مصلے تیار کرتے ہیں ان میں اور اس دلہن میں کوئی فرق نہیں جو دن بھر اپنے بناو سنگار میں لگی رہتی ہے۔
ریاضت کے لطائف سے ہے کہ مرید جب رعونت کو بالکل چھوڑنے پر راضی نہ ہو اور نہ کسی دوسری خصلت کو چھوڑنا چاہے اور اس کی ضد کو یکدم گوارا نہ کرے تو مرشد کو چاہیے کہ وہ اسے اس مذموم عادت سے کسی دوسری مذموم عادت کی طرف پھیر دے جو اس سے ہلکی ہو جیسے وہ شخص جو خون کو پیشاب سے دھوتا ہے، پھر پیشاب کو پانی سے جب پانی خون کو زائل نہ کرتا ہو اور جیسے اسکول کے بچے پہلے اس میں گیند بلا کے ذریعہ ترغیب دی جاتی ہے، پھر زینت اور اچھے کپڑوں کی طرف اس کے ذہن کو منتقل کیا جاتا ہے، پھر ریاست اور مرتبے کے حصول کی طرف
اس کو پھیرا جاتا ہے، پھر آخرت کی ترغیب دیتے ہوئے جاہ و مرتبے سے اس کے ذہن کو منتقل کیا جاتا ہے۔ اسی طرح جو شخص جاہ و مرتبے کو یکدم چھوڑنے کے لیے تیار نہ ہو اسے کسی دوسرے اور ہلکے مقام کی طرف منتقل کیا جائے۔ تمام صفات کا یہی حکم ہے۔ اگر کھانے کی زیادہ حرص ہے تو اسے روزہ رکھنے اور کم کھانے کا پابند بنائے اور پھر اسے حکم دے کہ وہ لذیذ کھانے پکا کر دوسروں کو کھلائے اور خود نہ کھائے یہاں تک کہ اس کا نفس مضبوط ہو، صبر کرنا اس کی عادت بن جائے اور حرص ختم ہو جائے۔ اسی طرح دیکھیے کہ مرید نوجوان ہے، نکاح کا شوق رکھتا ہے اور مالی طاقت نہیں رکھتا تو اسے روزہ رکھنے کا حکم دے۔ اگر اس پر بھی شہوت نہ رکے تو حکم دے کہ ایک رات پانی سے افطار کرے روٹی سے نہ کرے اور دوسری رات روٹی سے کرے پانی نہ پیے اور گوشت و سالن سے بالکل روک دے حتیّٰ کہ اس کا نفس ذلیل ہو اور خواہش کم کرے۔ ارادت کے ابتدائی دور میں بھوک سے زیادہ نفع بخش کوئی علاج نہیں، اگر اسے غصہ زیادہ آتا ہو تو اسے بردبار اور خاموش رہنے کا پابند بنائے اور ایک بدمزاج آدمی کے ساتھ لگا کر اس کی اطاعت کا حکم دے اور بد اخلاق آدمی کی خدمت پر مامور کردے حتیّٰ کہ اس کا نفس برداشت کرنے کا عادی ہو جائے۔
جیسے کسی بزرگ سے منقول ہے کہ وہ اپنے آپ میں بردباری پیدا کرنے اور غصہ ختم کرنے کے لیے ایسے شخص کی مزدوری کرتے جو لوگوں کے سامنے گالیاں دیتا تھا وہ اپنے آپ کو صبر کا مکلف کرتے اور غصہ پی جاتے حتیّٰ کہ بردباری اس کی ایسی عادت بن گئی جو ایک ضرب المثل تھی۔ اسی طرح ایک بزرگ اپنے اندر بزدلی اور دل کی کمزوری محسوس کر تے تھے، انھوں نے ارادہ کیا کہ وصف شجاعت حاصل کریں تو سردیوں میں جب دریا میں موجیں اٹھتی تھیں کشتی میں سوار ہوتے۔ (ماخوذ از احیاء العلوم)
نفس کی چارخصلتیں
حضرت شیخ ابو طالب مکیرحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ‘‘نفس کے اندر چار جبلتیں ہیں جو اس کی خواہشات اور فطری تقاضے کی بنیاد اور جڑ ہیں جس فطرت کے مطابق اللہ نے اسے پیدا فرمایا ہے۔ پہلی جبلت ضعف اور کمزوری ہے جو اس کے خشک مٹی سے ہونے کا فطری تقاضا ہے۔ پھر بخل جو اس کے نرم مٹی سے ہونے کا تقاضا ہے۔ پھر شہوت جس کا سبب اس کا کیچڑ سے ہونا ہے اور جہالت جو خشک اور سوکھی مٹی سے ہونے کا تقاضا ہے۔ انھی صفات پر اس کی فطری جبلتیں ہیں اس کے امتحان اور ابتلا کی غرض سے اور اسی میں اس کی کجی اور یہی عزیز علیم کا فیصلہ ہے۔ پھر نفس مختلف اوصاف میں مبتلا ہے۔ پہلا وصف صفات ربانی سے متعلق ہے جیسے کبر، مدح، عزت اور مستغنی ہونے کی چاہت۔ پھر اخلاق شیاطین میں مبتلا ہونا جیسے دھوکہ، حیلہ،حسد اور بدگمانی ہے۔ پھر جانوروں کی خصلت میں مبتلا ہونا جیسے کھانے پینے اور نکاح کی خواہش۔ چوتھا وصف اوصاف عبودیت کا مطالبہ جیسے خوف، تواضع اور عاجزی۔ بندہ جب تک پہلی تین صفات سے نجات حاصل نہیں کر لیتا ہے نجات یافتہ نہیں ہو سکتا ہے اور جب اس میں اوصاف آجائیں تو وہ سابقہ اوصاف سے نجات حاصل کر لےگا۔ اسی لیے اہل توحید کے نزدیک عبودیت میں اخلاص معاملات کے اخلاص سے زیادہ مشکل ہے اور اسی اخلاص کی بدولت وہ مقامات قرب تک اٹھائے گئے۔
نیک ہونے کا راستہ
مرید اس وقت تک ابدال سے نہیں ہو سکتا جب تک کہ وہ اذکار و علوم کے ذریعہ صفات ربوبیت کو صفات عبودیت (بندگی) سے اور اخلاق شیاطین کو اخلاق مومنین سے اور جانوروں کے طبائع کو اوصاف روحانی میں نہ بدل لے ۔ اس وصف کے حاصل کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ آدمی اپنے نفس کو قابو کرکے اس پر غالب آجائے، نفس پر تنگی کرے، آسانیاں پیدا نہ کرے اس لیے کہ یہ اگر اس پر غالب نہیں آئےگا تو وہ اس پر غالب آجائےگا، اگر کامیابی مطلوب ہے تو نفس کو اس
کی خواہشات کے پیچھے نہ چلاؤ، خواہشات کے اسباب اور شہوتوں کے راستے بند کرکے اسے کمزور کردو۔ اسے قابو میں کرنے کا پہلا مرحلہ یہ ہے کہ ہر لمحہ اس کا محاسبہ اور نگرانی کرو اور اس کے خیالات میں ہر خیال پر غور کرو، اگر کوئی خیال اللہ کے لیے آئے تو فوراً اسے کر ڈالو اور غیر اللہ کے لیے ہے تو اسے فوراً مٹا ڈالو تاکہ وہ تمھارے ذہن میں رہ کر تمھارے ارادے کو بدل نہ ڈالے۔
مرید کے لیے سات فضیلتیں: سات فضیلتیں جو ضروری ہیں وہ یہ ہیں: (۱)ارادوں میں سچائی اس کی علامت اس کی رحمت کا سامان تیار رکھنا۔ (۲)اسباب اطاعت اختیار کرنا، اس کی علامت برے دوستوں کو چھوڑنا ہے۔ (۳) نفس کے حال کی معرفت، اس کی علامت آفات نفس کا علم حاصل کرنا۔ (۴)عارف خدا کی صحبت، اس کی علامت اس کو ماسوا پر ترجیح دینا ہے۔ (۵)خالص توبہ، اس کے ذریعہ اطاعت میں حلاوت اور مداومت نصیب ہوتی ہے، اس کی علامت خواہشات نفس کے اسباب ختم کرنا ہے۔ (۶)جن کی طرف نفس رغبت کرتا ہے ان چیزوں میں زہد اختیار کرنا اور حلال کھانا۔ (۷)صالح رفیق اور نیک ساتھی جو نیک کام میں تعاون کرے، اس کی علامت بہترین دوست۔’’
ان ساری باتوں کی تحصیل کے لیے چار چیزیں خاص معاون ہیں: (۱)بھوک (۲)شب بیداری (۳)سکوت (۴)خلوت اختیار کرنا۔ ان میں ہر خصلت دل پر بہت اثر ڈالتی ہے۔ بھوک دل کے حزن کو کم کرتی ہے تو دل روشن ہو جاتا ہے اور اس کی روشنی میں نور ہے نیز بھوک دل کی چربی کو پگھلاتی ہے جس سے رقت پیدا ہوتی ہے جو نیکی کی کنجی ہے (ماخوذ از قوت القلوب)
مخالفت نفس کے سلسلے میں مشائخ کے ارشادات: سید عالمﷺ نے فرمایا: (۱)مجھے اپنی امت پر سب سے زیادہ خوف خواہشات کی پیروی اور لمبی لمبی آرزؤوں سے ہے۔ اتباع ہویٰ و خواہشات کی پیروی حق سے روکتی ہے اور لمبی آرزو
(۲)نفس کی مخالفت اصل عبادت ہے۔ مشائخ سے اسلام کے بارے میں دریافت کیا گیا ہے تو فرمایا مخالفت کی تلوار سے نفس کو ذبح کرنے کا نام اسلام ہے۔
(۳)جس شخص کے نفس کی خواہشات ظاہر ہوتی ہیں اس شخص کے اللہ کے ساتھ انس کے روشن ستارے غروب ہو جاتے ہیں۔
(۴)حضرت ذوالنون مصری فرماتے ہیں: غور و فکر عبادت کی کنجی ہے اور درست کام کرنے کی نشانی یہ ہے کہ تو نفس اور خواہشات کی مخالفت کرے اور مخالفت ترک خواہشات سے ہوتی ہے۔
(۵)حضرت سرّی سقطیرحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: تیس چالیس سے میرا نفس مطالبہ کر رہا ہے کہ میں ایک گاجر شہد میں ڈبو کر کھا لوں، مگر میں نے اس کی اطاعت نہیں کی۔
اخلاق کی علامتیں
حضرت امام قدس سرہ فرماتے ہیں: ‘‘جو انسان اپنے عیبوں سے بے خبر ہوتا ہے جب تھوڑا سا بھی مجاہدہ کرتا ہے حتیّٰ کہ وہ بڑے بڑے گناہوں کو چھوڑ دیتا ہے تو خیال کرتا ہے کہ اس کا نفس مہذب ہو گیا اور اخلاق اچھے ہو گئے تو وہ مجاہدے سے بے نیاز ہو جاتا ہے؛ اس لیے حسن خلق کی علامتیں ضروری ہیں کیوں کہ حسن خلق ہی ایمان ہے اور بد اخلاقی منافقت ہے۔
بعض بزرگوں نے اخلاق کی علامتوں کو یوں جمع کیا ہے کہ اس شخص میں حیا زیادہ ہو، آزاد کم ہو، بھلائی زیادہ ہو، زبان سچی، کلام قلیل، عمل زیادہ، لغزش کم ہو اور فضول باتیں بھی کم ہوں، نیکو کار، میل جول رکھنے والا، باوقار، صابر و شاکر، راضی برضا، حلیم الطبع، پاک دامن، شفیق اور ہشاش بشاش ہو، نہ غیبت کرتا ہو نہ چغلی، نہ جلد باز ہو نہ حاسد نہ بخیل نہ گالی دینے والا نہ لعن طعن کرنے والا، اللہ تعالیٰ کے لیے محبت
اور اسی کے لیے نفرت کرتا ہو۔ حسن خلق کا امتحان جن چیزوں سے ہوتا ہےان میں اذیت پر صبر کرنا، ظلم برداشت کرنا، دوسروں کی بداخلاقی کی شکایت اس کی خود اپنی بداخلاقی پر دلالت کرتی ہے۔ اس سلسلے میں آقاﷺ کے اخلاق کریمانہ ہمارے لیے مشعل راہ ہیں جنھیں علما نے کافی تفصیل سے بیان فرمائے ہیں:
حضرت یوسف ابن اسباطرحمۃ اللہ علیہ نے حسن اخلاق کی دس علامتیں بتائی ہیں: (۱)اختلاف کم کرنا (۲)اچھی طرح انصاف کرنا (۳)انتقام نہ لینا (۴)جو برائیاں ظاہر ہوں ان کی اچھی تاویل کرنا (۵)معذرت کرنا (۶)اذیت برداشت کرنا (۷)اپنے نفس کو ملامت کرتے رہنا (۸)دوسروں کی عیب جوئی کے بجائے اپنے عیب تلاش کرنا (۹)چھوٹے بڑے سے کشادہ پیشانی سے پیش آنا (۱۰)اپنے سے نچلے اور اوپر والے درجے کے لوگوں سے نرم کلام کرنا۔ (ماخوذ از احیاء العلوم)
اسی کتاب میں دیکھیے بزرگوں کے اخلاق حسنہ۔ نیز حضرت امام قدس سرہ نے بچوں کی ریاضت تادیب اور اخلاق حسنہ کی تربیت بڑی پیاری اور انوکھی تحریر فرمائی ہے جو آج کے مریدوں کے لیے بہت کارآمد ہے، ہر شخص مرشد کواسے غور سے پڑھنا چاہیے۔’’
مرید کے لیے بڑے حجابات
مرید اور حق کے درمیان چارقسم کی رکاوٹیں ہیں: (۱)مال (۲)جاہ و مرتبہ (۳)تقلید (۴)معصیت۔ مال کا حجاب اس وقت اٹھتا ہے جب وہ اسے اپنی ملک سے نکال دیتا ہے حتیّٰ کہ اس کے پاس ضرورت کے مطابق باقی رہتا ہے کیوں کہ جب تک اس کے پاس ایک درہم بھی ہوگا اس کا دل اس کی طرف متوجہ رہےگا۔ جاہ و مرتبے کا حجاب دور کرنے کی صورت یہ ہے کہ اس مقام و مرتبے سے دور رہے یعنی تواضع اختیار کرے، خاموشی کو ترجیح دے، شہرت کے اسباب سے دور رہے اور ایسے اعمال کرے کہ مخلوق کو اس سے نفرت ہو جائے۔ تقلید کا حجاب مذاہب کا تعصب چھوڑ دینے سے دور ہوتا ہے۔ معصیت
بھی ایک حجاب ہے جو توبہ اور زیادتیوں کے خاتمے اور آئندہ گناہ نہ کرنے کے پختہ ارادے سے اٹھ جاتا ہے نیز گذشتہ گناہوں پر ندامت ہو، لوگوں کے حقوق واپس کیے جائیں اور مخالف کو راضی کیا جائے کیوں کہ جو شخص صحیح طور پرتوبہ نہ کرے اور ظاہر گناہ نہ چھوڑے اور پھر کشف کے ذریعہ دین کے اسرار پر مانع ہونا چاہیے وہ اس شخص کی طرح ہے جو اسرار قرآن اوراس کی تفسیرسے آگاہی چاہتا ہے حالاں کہ ابھی تک اس نے عربی لغت نہیں سیکھی۔
مرید جب ان شرائط کو اختیار کر لے اور مال و مرتبہ سے خالی ہو جائے تو وہ اس شخص کی طرح ہوگا جس نے طہارت حاصل کی اور وضو کرکے حدث کو ختم کر دیا اور نماز کے لائق بن گیا۔ اب اسے امام کی حاجت ہے جس کی اقتدا کرے۔ اسی طرح مرید کو شیخ و استاد کی ضرورت ہے جو صحیح راستے کی رہنمائی کر سکےاور واصل بحق کر سکے اور راہ کے نشیب و فراز سے آگاہ کر سکے۔
مرشد کی ضرورت و اہمیت بیان کرکے فرماتے ہیں: جب اس قسم کا مرشد مل جائے تو اس مر شد کو چاہیے کہ مرید کو ایسی پناہ گاہ اور مضبوط قلعے میں بٹھا دے کہ وہ ڈاکوؤں سے محفوظ رہے اور یہ قلعے چار چیزیں ہیں: (۱)گوشہ نشینی (۲)خاموشی (۳)بھوک (۴)بیداری۔ اس طرح وہ راہزنوں سے محفوظ رہےگا کیوں کہ مرید کا مقصد اپنے دل کی اصلاح ہے تاکہ اس کے ذریعہ اپنے رب کا مشاہدہ کر سکے اور اس کے قرب کے لائق ہو جائے۔ جہاں تک بھوک کا تعلق ہے تو اس سے دل کا خون کم اور سفید ہو جاتا ہے اور سفیدی میں ہی اس کا نور ہے۔ علاوہ ازیں بھوک سے دل کی چربی پگھل جاتی ہے اور یہ دل کی نرمی کا باعث ہے اور یہ نرمی مکاشفہ کی چابی ہے جس طرح دل کی سختی حجاب کا باعث ہے اور جب دل کا خون کم ہوتا ہے تو دشمن کا راستہ تنگ ہوجاتا ہے کیوں کہ اس کی گذرگاہ میں وہ رگیں ہیں جو خواہشات سے بھری ہوئی ہیں۔
بیداری دل کو روشن کرتی ہے نیز اس کو صاف و منور کر دیتی ہے اور جس قدر بھوک سے حاصل ہوا تھا اس کی وجہ سے اس میں اضافہ ہو جاتا ہے۔ اب دل چمکتے ہوئے ستارے یا صاف و شفاف شیشے کی طرح ہوتا ہے، اس میں جمال حق چمکتا ہے، آخرت کے بلند درجات نیز دنیا کی حقارت اور آفات دیکھی جا سکتی ہیں۔ اس طرح دنیا سے اعراض اور آخرت کی طرف توجہ مکمل ہو جاتی ہے۔ بیداری بھی بھوک کا نتیجہ ہے کیوں کہ سیر ہوکر کھانے کی صورت میں بیداری ممکن نہیں ہوتی اور نیند دل کو سخت اور مردہ کر دیتی ہے۔ ہاں ضرورت کے مطابق ہو تو کوئی حرج نہیں اور یہ غیبی اسرار کے کشف کا سبب ہے۔
ابدال کی صفت میں کہا گیا ہے کہ کھانا فاقے کے وقت، نیند غلبہ کی صورت میں، اور کلام ضرورت کے وقت ہوتا ہے۔ حضرت ابراہیم خواصرحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا: ستر صدیقین اس بات پر متفق ہیں کہ نیند کی کثرت کا سبب زیادہ پانی پینا ہے۔ خاموشی گوشہ نشینی کی صورت میں آسان ہوتی ہے۔ مرید کو چاہیے کہ ضرورت کے مطابق گفتگو کرے کیوں کہ گفتگو دل کو مشغول کر دیتی ہے اور دلوں میں گفتگو کی حرص بہت زیادہ ہوتی ہے کیوں کہ وہ اس سے راحت محسوس کرتا ہے اور ذکر و فکر کے لیے علاحدگی اختیار کرنے سے تھک جاتا ہے تو خاموشی سے عقل مضبوط ہوتی ہے اور تقویٰ حاصل ہوتا ہے۔ خلوت کا فائدہ یہ ہے کہ اس سے مشاغل ختم ہو جاتے ہیں نیز کان اور آنکھ پر کنٹرول ہوتا ہے کیوں کہ یہ دونوں عضو دل کی دہلیز ہیں اور دل حوض کی طرح ہے جس میں نہروں کے حواس سے ناپسندیدہ اور گدلا پانی گرتا ہے اور ریاضت کا مقصود یہ ہے کہ اس حوض کو ان پانیوں سے خالی کیا جائے نیز جو مٹی جمی ہوتی ہے اسے بھی نکالا جائے تاکہ اصل حوض سے پانی جاری ہو اور اس سے صاف اور پاک پانی نکلے تو جب تک نہریں کھلی ہوں گی حوض میں سے پانی کیسے نکلےگا۔ اس طرح تو ہر وقت کم ہونے والے پانی کی بنسبت آنے والا پانی زیادہ ہوگا۔
لہٰذا ضرورت ہے زائد پانی سے حواس کو کنٹرول کیا جائے اور یہ اس صورت میں ہو سکتا ہے جب وہ کسی اندھیرے کمرے میں خلوت اختیار کرے اور اگر اسے کوئی اندھیرا کمرہ میسر نہ ہو تو وہ اپنے سر کو گریبان میں لپیٹ دے یا کوئی چادر وغیرہ لپیٹ لے۔ اس قسم کی حالت میں وہ حق کی آواز سنےگا اور جلال ربوبیت کا مشاہدہ کرےگا۔
پھر چند سطر بعد فرماتے ہیں: ‘‘پس جب شہوات سے محفوظ ہو جائے یا مجاہدے کی وجہ سے کمزور ہو جائے اور اس کے دل میں خطرہ نہ رہے تو مرشد کو چاہیے کہ اسے ایسے ذکر میں مشغول کر دےجو اس دل کے ساتھ ہمیشہ رہے اور ظاہری وظائف کی کثرت سے اسے منع کر دے، بلکہ وہ فرائض اور سنتوں پر اکتفا کرے اور اس کا صرف ایک وظیفہ ہو جو تمام وظائف کا نچوڑ اور نتیجہ ہو یعنی دل کو غیر خدا کے ذکر سے خالی کرنے کےبعد اب ہمیشہ دل میں اللہ تعالیٰ کا ذکر رہے اور جب تک وہ دنیوی مشاغل کی طرف متوجہ ہو اس وقت تک اسے اس ذکر میں مشغول نہ کرے۔
حضرت شبلیرحمۃ اللہ علیہ نے اپنے مرید مصری سے فرمایا: اگر اس جمعہ سے لے کر جس میں تم میرے پاس آئے ہو دوسرے جمعہ تک تمھارے دل میں اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی چیز آتی ہے تو تم پر میرے پاس آنا حرام ہے۔’’
پھر چند سطر بعد فرماتے ہیں: ‘‘جب یہ صورت ہو جائے تو شیخ اسے ایک کونے میں تنہا بیٹھنے پر پابند کردے اور کسی آدمی کو مقرر کر دے جو اسے رزق حلال سے تھوڑا سا کھانا پہنچائے کیوں کہ دین کی اصل حلال رزق ہے۔ اس وقت اسے کوئی ذکر پڑھنے کو کہے حتیّٰ کہ اس کی زبان اور دل اس میں مصروف ہو۔ پس وہ بیٹھ کر کہے: ‘‘اللہ اللہ’’ یا ‘‘سبحان اللہ سبحان اللہ’’ یا جو کلمات مرشد مناسب سمجھے۔ وہ مسلسل اس ذکر میں مصروف رہے یہاں تک کہ زبان کی حرکت ختم ہو جائے اور یوں ہو
جائے گویا کلمہ خود بخود زبان پر جاری ہے اور زبان کو حرکت نہیں دی جاتی۔ پھر وہ مسلسل ذکر کرتا رہے حتیّٰ کہ زبان سے اثر ختم ہو جائے اور لفظ کی صورت صرف دل میں باقی رہے یہاں تک کرتا رہے کہ زبان سے بھی حروف اور ان کی صورت مٹ جائے اور معنی کی حقیقت باقی رہ جائے جو دل کو لازم ہو، اس کے پاس حاضر ہو اور اس پر غالب بھی ہو اور باقی سب سے فارغ ہو جائے کیوں کہ دل جب کسی بات میں مشغول ہوتا ہے تو اس کے غیر سے خالی ہو جاتا ہے۔
اگر آپ چاہتے ہیں کہ اخلاق حسنہ سے آراستہ ہوں اور اخلاق سیئہ سے نجات مل جائے تو اس کے لیے ضروری ہے کہ آپ جانیں کہ اخلاق حسنہ کیا ہیں اور اخلاق سیئہ کیا ہیں۔ اول سے آراستہ ہونے کا طریقہ کیا ہے اور دوم کو کیسے دور کیا جا سکتا ہے۔ نیز یہ دیکھیں کہ اپنے اندر کون کون سے عیوب اور برے اخلاق موجود ہیں۔ ہم ان امور کو قدرے تفصیل سے بیان کرتے ہیں۔ یہی برائیاں اور بداخلاقیاں آج روحانیت کے لیے بڑی رکاوٹیں ہیں۔ بڑا المیہ یہ ہے کہ علما و مشائخ نے تعلیم و تربیت کا کام چھوڑ دیا۔ اب تو طریقت کی رہنمائی کرنے والے اس دور میں کہیں شاید مل جائیں جن کو خود اپنی فکر نہیں ان کو دوسروں کی فکر کیا ہوگی۔ اکثر بداخلاقی کا مفہوم ہی نہیں جانتے۔ نہ حسن اخلاق کا ہر انسان کی ایک عجب کیفیت ہے نہ جاننے والے زیادہ ہیں اور جنھیں اگر کچھ علم ہے تو بتانے سے ڈرتے ہیں اور برائی کرنے والوں کا تو یہ حال ہے کہ گناہ کرکے بھی اپنی مدح و تعریف کے ہر وقت خواہاں رہتے ہیں، ذرا سی غلطی پر ٹوکنا برداشت نہیں کرتے۔ ہم پہلے اپنے عیوب پہچاننے کا طریقہ احیاء العلوم سے نقل کرتے ہیں، پھر اخلاق حسنہ و سیئہ۔