مواد پر جائیں

Allama Afaque Ahmad Mujaddidiتصوف اور اس کے فوائدانسان خلاصۂ ممکنات ہے

باب ۶ از ۵۴صفحات ۹۱–۱۰۲

انسان خلاصۂ ممکنات ہے

حضرت مولانا ابوالحسن زید فاروقی ازہری مجددی نے اپنی کتاب مدارج الخیر میں اس سلسلے میں جو کچھ فرمایا ہے اس کا خلاصہ یہ ہے کہ پروردگار جل و علا نے جب چاہا کہ اپنے اسما وصفات کے کمالات پردۂ غیب سے عالم ظہور میں لاکر اپنی ربوبیت کا اظہار کرے تو تمام کائنات عالم عرش سے فرش تک کو پیدا کیا۔ پھر ارادہ کیاکہ کسی مخلوق کو اپنی خلافت بخشے، لیکن اس عنایت و کرامت کے لائق کوئی نہ نکلاآسمان نے اس بلندی کے باوجود اور زمین نے اس وسعت و عظمت کے باوجود یہ خدمت بجا لانے سے خود کو عاجز پاکرمعذرت کر لی۔ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:

اِنَّا عَرَضْنَا الْاَمَانَۃَ عَلَی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ الْجِبَالِ فَاَبَیۡنَ اَنۡ یَّحْمِلْنَہَا وَ اَشْفَقْنَ مِنْہَا وَ حَمَلَہَا الْاِنۡسَانُ ؂

ترجمہ: بیشک ہم نے امانت پیش فرمائی آسمانوں اور زمین اور پہاڑوں پر تو

.............................

۔سورۃ الاحزاب: ۳۳؍۷۲

انھوں نے اس کے اٹھانے سے انکار کیا اور اس سے ڈر گئے اور آدمی نے اٹھالی۔

کیوں کہ کوئی مخلوق تن تنہا اس بھاری بوجھ کو نہیں اٹھا سکتی تھی؛ اس لیے اللہ تعالیٰ نے تمام عالم کے اجزا خواہ عالم علوی ہو یا سفلی، ایک نسخۂ جامعہ پیدا کیا جو انسان کہلایا۔ چوں کہ ساری کائنات کے مجموعے سے اسے بنایا تھا؛ اس لیے تن تنہا ایک عالم کہلایا۔ یعنی عالم صغیر اور پوری کائنات عالم کبیر۔

خیال رہے کہ از روے صورت انسان عالم صغیر ہے، مگر از روے صفت و قدرت انسان کا مرتبہ بڑا ہے۔ انسان کا جسم عرش کے مثل اور نفس کرسی کے مثل اور قلب بیت المعمور کے مثل اور لطائف قلبیہ جنتوں کے مثل اور قویٰ روحانیہ فرشتوں کے مثل۔ دو آنکھیں، دوکان، ناک کے دونوں نتھنے، دونوں پستان،، دونوں مخرج (پاخانہ و پیشاب کے مقامات) اور منہ و ناف سات ستاروں کے مثل ہیں۔ ستاروں کا حاکم آفتاب ہے، چاند سورج سے مدد خواہ۔ اسی طرح قوتوں کا حاکم عقل ہے اور قوت گویائی عقل سے مدد خواہ۔

ایک سال میں تین سو ساٹھ دن ہیں تو انسان میں اتنے ہی جوڑبند ہیں ، اگر مہینے میں تیس دن ہوتے ہیں تواس میں اسی قدر دانت ہیں۔ اگر چاند کی اٹھائیس منزلیں ہیں تومنہ میں اداے حروف کے اٹھائیس مخارج ہیں۔ گوشت زمین کی طرح، ہڈیاں پہاڑوں کے، مغز معدنوں کے مثل، پیٹ سمندر کے، آنتیں دریا، نسیں نہروں، چربی گیلی مٹی، رونا بارش کے مثل ہے، ہنسی روز روشن کی طرح، غم رات کی اندھیری کے، نیند موت کے ، جاگنا زندگی اور پیدائش ابتداے سفر کے مثل ہے، بچپن بہار، جوانی موسم گرما، ادھیڑ عمر فصل خزاں اور بڑھاپا جاڑوں کے مثل ہے اور موت اتمام سفر کے۔

عمر کے سال شہروں کے، مہینے منزلوں، ہفتے کوس اور دن میلوں کے مثل ہیں۔ سانس قدموں کے کہ ہر سانس جو نکلتی ہےایک قدم موت کی طرف لے

جاتی ہے۔ لعاب دہن شیریں ہے، آنسو نمکین ہیں، کان کا میل بدبودار ہے۔ سارے جانوروں کی خصلتیں اس انسان میں موجود ہیں۔ فرشتوں کی معرفت و صفا، شیطان کا مکر و فریب، شیر کی شجاعت، بھیڑیے کی بدنفسی، گدھے کا صبر، لومڑی کی حیلہ سازی، بلّی کی چاپلوسی، اونٹ کا کبر، چوہے کی لالچ، چیونٹی کی ذخیرہ اندوزی، کتے کی وفاداری وغیرہ سب اس میں موجود ہیں۔

اس کے علاوہ نظر و استدلال، تمییز اور انواع حرفت و صنعت کاری میں ممتاز ہے۔ جب اس عجیب و غریب تخلیق اور اس کمال و خوبی اور اس تمام آراستگی و جمال اور حسن تقویم کے ساتھ اس عالم امکان میں اس کا ظہور ہوا تو اس کے خالق جل و علا نے اس کے سر کو تاج علم سے زینت بخشی اور حکمت کے خزانو ں کی کنجیاں اس کے ہاتھوں میں دے کر دنیا اور اس کی ہر شے کے لیے باعث فخر بنا دیا۔ فرشتوں کو بغیر اظہار توقیر کوئی چارہ نہ رہا عرض کی:

لَا عِلْمَ لَنَاۤ اِلَّا مَا عَلَّمْتَنَا ؂

ترجمہ: پاکی ہے تجھے ہمیں کچھ علم نہیں مگر جتنا تو نے ہمیں سکھایا۔

انسان کی جامعیت قرب و بعد کا سبب ہے

حضرت امام ربّانی قدس سرہ کے قول کا خلاصہ یہ ہے کہ حق سبحانہ کے قرب اور تکریم و تفضیل کا سبب انسان کی جامعیت ہےاور اس کے بعد تضلیل و تجہیل کا سبب بھی یہی جامعیت ہےقرب اس سبب سے ہے کہ وہ باری تعالیٰ کا کامل آئینہ اور اسما و صفات کے ظہور کی قابلیت، بلکہ تجلیات ذاتیہ کی بھی قابلیت رکھنے کی وجہ سے ہے اور حدیث قدسی ‘‘میری وسعت و گنجائش نہ زمین رکھتی ہے نہ آسمان، مگر میرے مومن بندے کا قلب وسعت رکھتا ہے’’ بھی اسی معنیٰ کی طرف اشارہ ہے اور بارگاہ حق سبحانہ سے بعد اور دوری اس سبب سے ہے کہ وہ عالم کے جزئیات سے ہر جزئی کا محتاج ہے؛ کیوں کہ

..............................

۔ سورۃ البقرۃ: ۲؍۳۲

اس کو تمام چیزیں درکار ہیں:

خَلَقَ لَکُمۡ مَّا فِی الۡاَرْضِ جَمِیۡعًا ؂

تمھارے لیے بنایا جو کچھ زمین میں ہے۔

وہ چوں کہ جمیع اشیا کا محتاج ہے؛ اسی لیے سب کے ساتھ گرفتاری اور لگاو ہے، مادون حق (غیر حق) کے ساتھ یہی گرفتاری اس کے بعد و تضلیل کا سبب ہے۔ موجودات میں سب سے بہترین انسان ہے اور کائنات کا بدترین بھی انسان ہے۔ سب سے بہترین ہونے کی دلیل ہمارے آقاﷺ کا انسان ہونا ہے اور سب سے بدترین ہونے کی دلیل ابو جہل کا انسان ہونا ہے۔ تو جب تک سب کی گرفتاری اور لگاو اورمحبت سے نجات میسر نہ ہو جائے اس واحد جل و علا سے لگاو و محبت حاصل نہیں ہو سکتی ہے اور اگر حاصل نہ ہوئی تو خرابی در خرابی ہے۔

پھر آپ قدس سرہ نے بڑے عمدہ پیرائے میں گرفتاری غیر سے نجات کا نسخہ تحریر فرمایا کہ حضور پرنورﷺ کی کامل اتباع کی جائے کہ عذاب اخروی سے نجات اور ابدی نعمتوں سے مالا مال ہو سکیں۔ جن اموال میں جس طرح کی زکات فرض و واجب ہے اسے ادا کریں، یہ بھی ایک گونہ غیر حق کے ساتھ گرفتاری سے آزادی ہے۔ مطعومات و ملبوسات سب براے رضاے الٰہی ہوں ، کوئی کام بھی نفس کی خاطر نہ ہو وغیرہ وغیرہ۔

معلوم رہے کہ انسان صرف اسی لیے جامع نہیں ہے کہ جو کچھ عالم کبیر میں ہے وہ اس میں ہے، بلکہ اس کی جامعیت اس وجہ سے بھی ہے کہ انسانی کمالات سب کے سب مرتبہ وجوب تعالت و تقدست سے مستفاد ہیں۔ اگر علم ہے تو وہ اسی س ماخوذ، اگر قدرت ہے تو بھی اسی سے مستفاد ہے، اسی طرح باقی کمالات۔ ہاں یہ معلوم رہے کہ ہر مرتبہ کا کمال اسی مرتبہ کے اندازے کے مطابق ہے۔ انسان کا

..........................

۔ سورۃ البقرۃ: ۲؍۲۹

علم واجب تعالیٰ کے علم کی بہ نسبت لاشی محض ہےایسے ہی جیسے مردے کو اس حی اور زندہ سے نسبت ہےجو حیات ابدی رکھتا ہے۔ اسی طرح قدرت انسان واجب تعالیٰ کی قدرت کی نسبت ایسے ہے جیسے مکڑی کے جالے کی ہیئت اس ذات کی نسبت جس کے ایک دم سے آسمان و زمین، پہاڑ اور دریا وغیرہ سب پارہ پارہ ہو جائیں۔ یہ فرق بھی تنگی عبارت کی وجہ سے ہے ‘‘چہ نسبت خاک را بعالم پاک’’ پس انسان کے کمالات مرتبہ وجوب تعالت و تقدست کے کمالات کی صورت میں ہوئے۔ انسانی کمالات کہ مرتبہ وجوب کے کمالات کے ساتھ صرف کام کی مشارکت رکھتے ہیں، باقی کچھ نہیں؛ اسی لیے حدیث شریف میں ہے:

إن اللہ خلق آدم علیٰ صورتہ (بے شک اللہ نے آدم کو اپنی صورت پر پیدا کیا)

اسی سے من عرف نفسَہ فقد عرف ربَّہ کے معنی بھی ظاہر ہو گئے؛ کیوں کہ جو کچھ نفس میں ہے اگرچہ صورت ہے، لیکن ہے وہی کہ جس کی حقیقت مرتبہ وجوب تعالت و تقدست میں حاصل ہے۔ اس جگہ سے انسان کے خلیفہ ہونے کا راز جاننا چاہیے؛ کیوں کہ صورت شی خلیفہ شی ہے۔

بے دینوں اور مجسمہ (جو کہ اللہ تعالیٰ کے جسم کے قائل ہیں) نے گمان کر لیا کہ اللہ تعالیٰ انسان کی صورت پر ہے اور بد عقلی سے انسانی قُویٰ و جوارح بھی حق سبحانہ کے لیے کر دیے۔ اس خیال باطل کی تردید کے لیے دیکھیے مکتوب۳۱۰۔

تفرقہ و جمعیت کا سبب

انسان کی جامعیت اس کے تفرقہ و جمعیت کا بھی سبب ہے۔ حضرت مجدد قدس سرہ کے قول کا خلاصہ یہ ہے کہ موجودات میں سب سے زیادہ جامع انسان ہے اور اس کے اجزا سے ہر جز کی وجہ سے موجودات متکثرہ کے ساتھ محبت و گرفتاری اس میں پیدا ہو گئی ہے۔ پس اس کی جامعیت ہی در حقیقت بارگاہ قدس سے دوری کا سبب ہوئی اور تعلقات متعددہ اس کی محرومی کا سب

سے زیادہ سبب ہو گئے۔ اگر اللہ تعالیٰ کی توفیق سے خود کو ان متفرق تعلقات سے جمع کر لےاور الٹے پیر واپس آجائے فقد فاز فوزاً عظیماً تو بڑی کامیابی کے ساتھ کامیاب ہوا، ورنہ فقد ضلّ ضلالاً بعیداً۔

جامعیت کی وجہ سے چوں کہ سارے موجودات سے بہتر انسان ہے اسی جامعیت کی وجہ سے مخلوقات میں بدترین بھی وہی ہے۔ اس کا آئینہ جامعیت کی وجہ سے اتم ہے۔ اگر عالم کی طرف رخ کرے تو جو کچھ اس کے بارے میں کہیں اس سب سے گندہ ہے اور اگر حق سبحانہ کی طرف رخ کرے تو مصفا اور سب سے زیادہ دیکھنے والا ہے۔ ان تعلقات کے میل سے مکمل آزادی جناب محمد رسول اللہﷺ اور ان کے بعد انبیا و اولیا و دیگر حضرات کو تفاوت درجات کے مطابق ہے۔ صلوات اللہ تعالیٰ و تسلیماتہ علیٰ نبینا و علیہم و علیٰ اتباعہم اجمعین إلیٰ یوم الدین۔

انسان مدنی الطبع ہے

انسان کی جامعیت آپ نے پڑھی، اس جامعیت نے انسان میں مختلف النوع خوبیاں اور برائیاں پیدا کیں اور سب سے زیادہ محتاج بھی ہوا۔ اسے اس کے خالق جل و علا نے مدنی الطبع پیدا کیاکہ وہ اپنے تمدن و تعیش میں بنی نوع انسان کا محتاج ہے اور اس کے کام بغیر دوسروں کے پورے نہیں ہوتے ہیں۔ یہ احتیاج بھی دوسروں سے محبت و الفت اور تفرقات کا سبب بنتی ہے۔ اس میں پروردگار کی بڑی حکمتیں پوشیدہ ہیں، بندگی اس کی اسی راہ سے پیدا ہوئی ہے۔ اگر بالفرض احتیاج نہ ہو اور وہ سب سے مستغنی ہو جائے تو بھی عصیان و سرکشی و طغیان و نافرمانی اس کی عادت ہو جائےگی، ارشاد ربّانی ہے:

اِنَّ الْاِنۡسَانَ لَیَطْغٰۤی اَنۡ رَّاٰہُ اسْتَغْنٰی ؎

ترجمہ: بے شک آدمی سرکشی کرتا ہےاس پر کہ اپنے آپ کو غنی سمجھ لیا۔

انسان کی فطرت ہے جو اس کے کام آتا ہے اسے اس سے محبت ہو جاتی ہے۔

........................

۔ سورۃ العلق: ۹۶؍۶

کہا جاتا ہے ‘‘الإنسان عبد الاحسان’’ ان تمام باتوں سے بآسانی سمجھ سکتے ہیں کہ انسان کو سب سے بے تعلق کرکے ایک حق جل و علا سے متعلق کرنا کتنا اہم کام ہےاور کس قدر مشکل کام ہے۔ اہل و عیال، جان و مال، عزت وجاہ وغیرہ کی محبتیں کس قدر راسخ ہوتی ہیں۔ یہ محبتیں اس کو برائیوں کی طرف لے جاتی ہیں۔ یہ مقام اس بات کی تفصیل کا نہیں ہے۔ ان صوفیہ کرام علیہم الرضوان نے انسان کی اس جامعیت کو گہرائی سے جانا اور اس جامعیت کی وجہ سے جو بگڑنے کے امکانات تھے نہایت حسن تدبیر سے ان سے بچایا اور اسی جامعیت کی وجہ سے جس راہ پر چل کر وہ اشرف المخلوقات بن سکتا تھا، وہ راہیں بتائیں اور ان پر چلایا۔ آپ جس قدر اس بات کی گہرائی میں اتریں گے آپ کو یقین ہو جائےگا کہ بغیر تصوف کے انسان کی ظاہری و باطنی تعمیر ناممکن ہے۔

آپ پڑھ چکے کہ انسان تمام کائنات کا خلاصہ ہے، یہ درندوں سے مشابہت رکھتا ہے، دیگر حیوانات سے، باقی اشیا سے بھی۔ آپ دیکھیں کہ آج داعیوں اور مبلغوں کا ایک جال بچھا ہوا ہے، تحریر و تقریر کے ذریعہ مختلف زبانوں میں ہر طرح اصلاح کی کوششیں ہو رہی ہیں، علما سمجھا رہے ہیں، بتا رہے ہیں، مگر اس سب کے باوجود شاید کوئی ظاہر و باطن میں مکمل دین دار آپ کو مل جائے۔ کہیں حرص ہے، کہیں تملق و چاپلوسی، حیلہ سازی، فریب، دھوکہ بازی، گناہوں پر جرأت، ظلم و بربریت، حسد، بغض، حب جاہ و دنیا وغیرہ وغیرہ۔ بڑے بڑے دین دار کہلانے والوں کا حال گہرائی سے دیکھیں تو پتا لگ جائےگا کہ کتنا اثر ہو رہا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ انسان کو صوفیہ نے سمجھا اور اس کی کما حقہ ترقی کی راہیں اس پر کشادہ کیں۔

حصول فلاح: (گیارہواں فائدہ)

فلاح اور اس کے اقسام: فلاح کی دو قسمیں ہیں: اول انجام کار رستگاری اگرچہ

معاذ اللہ سبقت عذاب کے بعد ہو۔ یہ اہل سنت میں ہر مسلمان کے لیے لازم اور کسی بیعت و مریدی پر موقوف نہیں۔ نہ اس کے لیے صرف نبی کو مرشد ماننا ضروری ہے، بلکہ ابتداے اسلام میں کسی دور دراز پہاڑ یا گمنام ٹاپو کے رہنے والے غافل جن کو نبوت کی خبر ہی نہ پہنچی اور دنیا سے صرف توحید پر اٹھا بالآخر ان کے لیے بھی یہ فلاح ثابت، دوم کامل رستگاری و بے سبقت عذاب دخول جنت ہو اس کے دو پہلو ہیں: اول وقوع۔ یہ مذہب اہل سنت میں محض مشیت الٰہی پر ہے جسے چاہے ایسی فلاح عطا فرمائے، اگرچہ لاکھوں کبائر کا ارتکاب ہو اور چاہے تو ایک گناہ صغیرہ پر گرفت کر لے، اگرچہ لاکھوں حسنات رکھتا ہو۔ یہ عدل ہے اور فضل:

یَغْفِرُ لِمَنۡ یَّشَآءُ وَیُعَذِّبُ مَنۡ یَّشَآءُ ( )

ترجمہ: جسے چاہے بخشے اور جسے چاہے عذاب کرے۔’’

دوم امید یعنی انسان کے اعمال و افعال، اقوال و احوال کا ایسے ہونا کہ اگر انھی پر فائز ہو توکرم الٰہی سے امید واثق ہو کہ بلا عذاب داخل جنت کیا جائے۔ یہی وہ فلاح ہے جس کی تلاش کا حکم ہے کہ:

سَابِقُوۡۤا اِلٰی مَغْفِرَۃٍ مِّنۡ رَّبِّکُمْ وَ جَنَّۃٍ عَرْضُہَا کَعَرْضِ السَّمَآءِ وَ الْاَرْضِ ( )

ترجمہ: بڑھ کر چلو اپنے رب کی بخشش اور اس جنّت کی طرف جس کی چوڑائی جیسے آسمان اور زمین کا پھیلاو۔’’

اس لیے کہ کسب انسانی اسی سے متعلق ہے۔ پھر یہ دو قسم پر ہے:

قسم اول فلاح ظاہر، حاشا اس سے وہ مراد نہیں کہ نرے ظاہر داروں کو مطلوب جن کی نظر صرف اعمال جوارح متصور کہ ظاہر احکام شرع سے آراستہ اور معاصی سے منزہ کر لیا اور متقی و مفلح بن گئے، اگرچہ باطن میں ریا و عجب (وہ اخلاق رذیلہ ذکر

.........................

۔ سورۃ آل عمران: ۳؍۱۲۹

۔ سورۃ الحدید: ۵۷؍۲۱

کرتے ہیں جو ہم پہلے ذکر کر چکے ہیں) فرماتے ہیں: جیسےمزبلہ پر زر بفت کا خیمہ اوپر زینت اندر نجاست۔ پھر کیا یہ باطنی خباثتیں ظاہری صلاح پر قائم رہنے دیں گی حاشا! معاملہ پڑنے دیجیے! کون سی ناگفتی کہ نہ کہیں گے؟ کون سی ناکردنی کہ اٹھا رکھیں گےاور پھر بدستور۔

دوم فلاح باطن کہ قلب و قالب رذائل سے متخلّی اور فضائل سے متجلّی کرکے بقایاے شرک خفی دل سے دور کیے جائیں یہاں تک کہ لا مقصود إلا اللہ، پھر لا مشھود إالا اللہ، پھر لا موجود إلا اللہ سے متجلّی یعنی اولا ارادہ غیر سے خالی ہو، پھر غیر نظر سے معدوم ، پھر حق حقیقت جلوہ فرمائے کہ وجود اسی کے لیے ہے، باقی سب جلال و پرتو۔ یہ منتہاے فلاح اور فلاح احسان، فلاح تقویٰ میں تو عذاب سے دور ی اور جنت کا چین تھا کہ:

فَمَنۡ زُحْزِحَ عَنِ النَّارِ وَاُدْخِلَ الْجَنَّۃَ فَقَدْ فَازَ ( )

ترجمہ: جو آگ سے بچا کر جنت میں داخل کیا گیا وہ مراد کو پہونچا۔’’

اور فلاح انسان اس سے اعظم ہےکہ عذاب کا ذکر، کسی قسم کا اندیشہ و غم بھی ان کے پاس نہیں آتا:

اَلَاۤ اِنَّ اَوْلِیَآءَ اللہِ لَا خَوْفٌ عَلَیۡہِمْ وَلَا ہُمْ یَحْزَنُوۡنَ ( )

ترجمہ: سن لو بیشک اللہ کے ولیوں پر نہ کچھ خو ف ہے نہ کچھ غم۔’’

پھر اس فلاح کے لیے ضرور پیر و مرشد کی حاجت ہے چاہے قسم اول کی ہو یا دوم کی۔

تصوف کی نشو و نما

حضرت امام قشیری قدس سرہ فرماتے ہیں: رسول

.......................

۔ سورۃ آل عمران: ۳؍۱۸۵

۔ سورۃ یونس: ۱۰؍۶۲

کونینﷺ کے بعد افاضل مسلمین بجز صحبت رسولﷺ اور کسی کام سے موسوم نہ تھے ان کا نام صحابہ ہوا اور قرن ثانی (زمانہ دوم) کے لوگ کہ جنھوں نے صحابہ کرام کی صحبت پائی ان کو تابعین کہہ کر یاد کیا گیا۔ اس کے بعد لوگوں میں اختلاف ہوا اور مراتب مختلف ہو گئے، لوگوں میں خواص جو امر دین کے معاملے میں مزید توجہ رکھتے تھے، کو زہاد و عبادکہا۔ اس کے بعد بدعت کا ظہور ہوا اور فرقوں کے درمیان تداعی پیدا ہوئی، ہر فرقہ اپنے اندر زہد و عبادت کا دعویدار بنا۔ خواص اہل سنت کہ جنھوں نے اپنے نفوس کی مراعات حق سبحانہ کے ساتھ کیں اور دلوں کو غفلتوں کی راہوں سے محفوظ رکھا وہ تصوف کے نام سے منفرد ہوئے۔ اس نام کی شہرت ۲۰۰ھ سے قبل ہو گئی تھی۔ سب سے پہلے جن کو صوفی کہا گیا ابو ہاشم تھے جن کا وصال ۱۵۰ھ میں ہوا۔

ابن خلدون نے کہا: یہ علم تصوف ان علوم شرعیہ سے ایک ہے جو ملت میں حادث اور پیدا ہوئے۔ اس قوم کا طریقہ سلف اور کبار امت صحابہ و تابعین کے نزدیک حق و ہدایت کا طریقہ تھا۔ اس کی اصل عبادت پر اپنے آپ کو قائم اور محصور رکھنا اور سب کو چھوڑ کر اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ ہونا، دنیا کی زیب و زینت اوراس کے زخرفات سے اعراض کرنا اور لذت جاہ و مال سے بے رغبتی کہ جمہور جن پر ٹوٹے پڑتے ہیں اور خلق سے یکسو ہو کر عبادات کے واسطے خلوت اختیار کرنا اور یہ چیزیں صحابہ و سلف میں عام تھیں چوں کہ دنیا کی طرف میلان قرن دوم اور ان کے مابعد میں عام ہو گیا اور لوگوں نے دنیا کی طرف توجہ کر لی تو جن کا رخ عبادت کی طرف تھا وہ صوفیہ اور متصوف کے نام سے موصوف ہو گئے۔’’

الغزالی کے مؤلف لکھتے ہیں: ‘‘حقیقت یہ ہے کہ تصوف ابتدا میں صرف زہد و عبادت کا نام تھا۔ زہد جس قدر بڑھتا گیا، روحانی اوصاف یعنی صبر و شکر ، توکل و غنا، انس و محبت وغیرہ خود بخود پیدا ہوتے گئے۔ عبادت میں توجہ الی اللہ کا زور بڑھا تو

مجاہدہ اور مجاہدہ سے کشف و الہام اور بعض قسم کے خرق عادت کا ظہور غرض رفتہ رفتہ تصوف بہت سی چیزوں کا مجموعہ بن گیا۔’’ پھر کچھ آگے چل کر لکھتے ہیں: ‘‘مجاہدہ و ریاضت میں قلب پر بہت سے حالات و کیفیات طاری ہوتی ہیں، ان کے سینکڑوں انواع و مدارج ہیں اور جس قدر فن تصوف کو ترقی ہوتی گئ ہےان گوناگوں کیفیتوں کے لیےخاص خاص اور علامتیں قائم ہوتی گئ ہیں۔ امام قشیری کے زمانے تک جو علامات قائم ہو چکی تھیں، ان کے نام یہ ہیں: رقت، مقام، حال، قبض و بسط، ہیبت، انس، تواجد، جمع، فرق، جمع الجمع، فنا و بقا، غیبت و حضور، صحو و سکر، ذوق و مشرب، محو و اثبات، ستر و تجلی، محاضرہ و مکاشفہ، لوائح، طوالع، لوامع، بوادہ و ہجوم، تلوین و تمکین، قرب و بعد، خواطر، علم الیقین، حق الیقین، عین الیقین، لطیفہ، ستر۔’’

امام غزالی نے اپنے رسالہ ‘‘املا عن مشکلات الاحیاء’’ میں اصطلاحات مذکورہ پر مصطلحات ذیل کا اضافہ کیا ہے: ‘‘سفر سالک، مکان، شطح و ذھاب، وصل و فصل، ادب تحلی، تخلی، علت،، انزعاج، غیرت، حریت، فتوح، وسم، رسم، ارادہ، ہمت، غربت، مکر اصطلام۔ رغبت، وجد۔’’

امام صاحب نے ان مصطلحات کی شرح بھی کی ہے۔ کسی کو شوق ہو تو اصل کتاب کی طرف رجوع کرے۔ تصوف اگرچہ (جیسا کہ بیان ہوا) در حقیقت صرف ایک قسم کا علم ہے یعنی علم باطن، لیکن اس کے نتائج عجیب و غریب ہیں جو مقامات سے تعبیر کیے جاتے ہیں۔ مثلاً خدا کا ہر جگہ حاضر و ناظر ہونا چوں کہ عقائد اسلام میں داخل ہے، عالم و جاہل، خاص و عام سب اس پر اعتقاد رکھتے ہیں، لیکن عام لوگوں کو چوں کہ اس مسئلے کا علم تقلید یا استدلال سے ہوتا ہے اس لیے اس سے کوئی خاص حالت پیدا نہیں ہوتی اور افعال و اعمال پر اس کا چنداں اثر نہیں پڑتا بخلاف اس کے تصوف میں اس مسئلے کا علم مشاہدہ و کشف کی ہیئت سے ہوتا ہے یعنی صوفی کو در

حقیقت چاروں طرف خدا ہی خدا نظر آتا ہے جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اس پر خشوع و خضوع کی ہیبت، خوف، ادب و انقیاد کی وہ کیفیت طاری ہوتی ہے جو کسی طرح علم ظاہری میں پیدا نہیں ہو سکتی ہےیا مثلاً خدا کا رزّاق ہونا سب مانتے ہیں، لیکن طلب معاش میں لوگوں کو جو بے قراری رہتی ہے اس سے اس اعتقاد کا پتا بھی نہیں چلتا ہے بخلاف اس کے صوفیہ میں سے جو لوگ اس مقام تک پہنچتے ہیں ان کو وہ اطمینان اور سکون حاصل ہوتا ہے کہ اگر وہ ایک ویران و سنسان جنگل میں پہنچ جائیں جہاں سینکڑوں کوس تک آب و دانہ کا پتا نہ ہو تب بھی ان کو کھانے پینے کی ذرا فکر نہیں ہوتی۔ اسی طرح صبر و شکر، رضا و قناعت، تواضع وغیرہ کی حقیقی کیفیت صوفی پر طاری ہوتی ہے اور وہ سراپا حال بن جاتا ہے۔ صوفیہ کے مدارج میں اختلاف ہوتا ہے یعنی ہر شخص اپنے مذاق کے موافق کوئی خاص مقام اختیار کر لیتا ہےاور اس میں ترقی کرتا ہے۔ مثلا ً کسی پر توکل کی کیفیت طاری ہوتی ہے، کوئی جہد کے مقام میں ہے، کوئی محو کے عالم میں ہے، کسی پر اثبات کا غلبہ ہے وغیرہ وغیرہ’’

مندرجہ بالا تحریروں سے تصوف کی تعریف، موضوع اور غرض و غایت بھی کچھ معلوم ہو گئی۔ تصوف کے فوائد اور ضرورت بھی سمجھ میں آگئی۔ یہ معلوم رہے کہ تصوف کی دو حیثتیں ہیں؛ علمی یعنی تصوف کو بطور علم جاننا کہ وہ کیا ہے، اس کے مسائل کیا ہیں ایسے جیسے نماز کے مسائل وغیرہ کی آپ جانکاری حاصل کریں اور ایک ہے نماز کا عمل۔ اسی طرح تصوف میں در حقیقت عمل ہے۔ حضرت امام غزالی قدس سرہ نے جو فرمایا کہ تصوف عمل کے بعد پیدا ہوتا ہے، اس میں تصوف عملی کا بیان ہے یعنی شریعت پر عمل کے بعد صوفی میں وہ کیفیات اور احوال ومقامات پیدا ہوتے ہیں جو تصوف علمی میں بیان کیے جاتے ہیں۔