مواد پر جائیں

باب ۳۶ از ۵۴صفحات ۴۲۲–۴۳۳

عیال دار کا توکل

جو انسان تجرد کی زندگی گذار رہا ہو اور اس پر دوسروں کی پرورش اور کفالت کی ذمہ داری نہ ہو جسے منفرد کہتے ہیں وہ توکل کی دولت کیسے حاصل کر سکتا ہے یا کس وقت وہ متوکل ہو سکتا ہے یا کہا جا سکتا ہے، لیکن جن کے

کندھوں پر اہل و عیال وغیرہ کا بوجھ ہو تو اس کا توکل کیا ہے؟

حضرت امام غزالی قدس سرہ فرماتے ہیں کہ عیال دار کا حکم اکیلے آدمی کے حکم سے جدا ہے کیوں کہ جو تنہا اور اکیلا ہوتا ہے اس کا توکل دو باتوں سے صحیح ہوتا ہے۔ ایک یہ کہ وہ کسی تنگدلی اور لوگوں کی تاک کے بغیر ایک ہفتہ تک بھوکا رہ سکتا ہے، دوم یہ کہ ایمان کی وہ اقسام اس میں پائی جائیں جو پہلے مذکور ہوئیں۔ ان میں سے ایک یہ ہے کہ اسے رزق نہ ملے تو وہ موت کو خوشی سے قبول کر لے اور اسی کو ثواب جانے۔

لیکن بال بچوں اور اہل و عیال کو بھوک پر صبر کرنے کی تکلیف دینا جائز نہیں اور نہ یہ کہ ان کے سامنے توحید کی تقریر کی جائے اور یہ کہا جائے کہ بھوکا مرنا قابل رشک ہے اگرچہ شاذ و نادر ایسا ہو بھی سکتا ہے۔ اسی طرح ایمان و اعتقاد کا مسئلہ ہے کہ وہ ان پر جبر کرے۔ لہٰذا ان کے حق میں مال کمانے کا توکل ممکن ہے اور یہ تیسرا مقام ہے جیسے حضرت ابو بکر کا توکل جب آپ کسب معاش کے لیے بازار تشریف لے گئے۔ اولاد کے حق میں توکل اختیار کرتے ہوئے جنگلوں میں نکل جانا یا ان کے معاملات کا اہتمام نہ کرنا اور اسے ان حق میں توکل سمجھنا حرام ہے۔ اور بعض اوقات یہ بات ان کی ہلاکت تک کا باعث بن جاتی ہے اور اس کا مواخذہ ہوگا۔

بلکہ تحقیق یہ ہے کہ خود اس کی ذات اور اہل و عیال میں کوئی فرق نہیں، اگر وہ کچھ مدت بھوک پر صبر کریں اور بھوک کے سبب مرنے کو اخروی رزق اور غنیمت سمجھیں تو ان کے حق میں توکل جائز ہے اور اس کا نفس بھی تو عیال میں شامل ہے، اسے ہلاک کرنا بھی جائز نہیں، ہاں اگر ایک مدت تک بھوک برداشت کرنے پر آمادہ ہو جاتا ہے تو ٹھیک ہے اور اگر وہ اس کی طاقت نہیں رکھتا اور اس کے د ل میں اس سے اضطراب اور عبادت میں خلل پیدا ہوتا ہے تو اس کے لیے توکل جائز

نہیں۔

حضرت امام قدس سرہ فرماتے ہیں کہ واضح ہو گیا کہ اسباب سے قطع تعلق کا نام توکل نہیں، بلکہ ایک مدت تک بھوک برداشت کرنے اور کبھی رزق میں تاخیر ہو جائے تو موت پر راضی ہونے، شہروں یا دیہاتوں میں رہنے یا ایسے جنگلوں میں رہنے کا نام توکل ہے جن میں کوئی سبزی وغیرہ مل جائے۔ یہ تمام چیزیں بقا کے اسباب ہیں۔ البتہ ان میں کچھ نہ کچھ اذیت بھی ہے اس لیے کہ صبر کے بغیر ان پر برقرار رہنا مشکل ہے اور شہروں میں توکل اختیار کرنا، جنگلوں میں توکل کی بنسبت اسباب بقا کے حصول کے زیادہ قریب ہے اور یہ سب اسباب ہیں، لیکن ان سے زیادہ، ظاہر اسباب کی طرف جھک گئے اور مذکورہ چیزوں کو اسباب شمار اس کا سبب ایمان کی کمزوری اور حرص کی زیادتی ہے۔

نیز وہ آخرت کی خاطر دنیا میں اذیتوں پر صبرنہیں کرتے اور سوئے ظن اور طویل امید کی وجہ سے ان کے دلوں پر بزدلی کا غلبہ ہے۔ اسی سلسلۂ بیان میں حضرت امام قدس سرہ فرماتے ہیں کہ جو شخص کمانے پر قادر ہے اور بیکار پڑا ہے تو اس پر کمانا لازم ہے، اس کے حق میں توکل کا کوئی معنی نہیں ہے کیوں کہ توکل تو ایک دینی مقام ہے جس کے ذریعہ اللہ تعالیٰ کے لیے فارغ رہنے پر مدد حاصل کی جاتی ہے۔ لہٰذا بیکار آدمی کا توکل سے کوئی تعلق نہیں ہے اور اگر اللہ تعالیٰ کے لیے مشغول ہے، مسجد میں یا گھر میں بیٹھا علم وشغل اختیار کیا ہوا ہے تو لوگ اسے ترک کسب پر ملامت نہیں کرتے اور نہ ہی اسے کمانے کی زحمت دیتے ہیں، بلکہ اللہ تعالیٰ کے لیے اس کی مشغولیت کی وجہ سےلوگوں کے دلوں میں اس کی عقیدت مضبوط ہوتی ہے حتیّٰ کہ اس کے پاس ضرورت سے زیادہ لے جاتے ہیں۔ اس پر لازم ہے کہ وہ دروازہ نہ بند کرے، لیکن بھاگ کر پہاڑوں میں نہ چلا جائے۔ آج تک کوئی عالم یا عابد ایسا نہیں دیکھا گیا کہ وہ شہر میں رہ کر اپنا وقت اللہ تعالیٰ کے لیے

(علم وعبادت) میں گذارے اور وہ بھوکا مر جائے اور آئندہ کے لیے بھی یہ صورت نظر نہ آئے، بلکہ اگر وہ کسی ایک جماعت کو کھانا کھلانا چاہے تو محض اپنے کلام سے ایسا کر سکتا ہے کیوں کہ جو شخص اللہ تعالیٰ کا ہو جاتا ہے اللہ تعالیٰ اس کا ہو جاتا ہے اور جو شخص خود کو اللہ تعالیٰ کے لیے وقف کردیتا ہے اللہ تعالیٰ لوگوں کے دلوں میں اس کی محبت ڈال دیتا ہے اور اس کے لیے دلوں کو مسخر کر دیتا ہے جس طرح بچے کے لیے اس کی ماں کے دل کو مسخر کر دیا جاتا ہے۔

اللہ تعالیٰ نے ملک وملکوت کی ایسی تدبیر فرمائی ہے جو تمام اہل ملک وملکوت کو کافی ہے۔ جو شخص اس تدبیر پر نظر کرتا ہے وہ مدبر پر اعتماد اور یقین رکھتا ہے اور اس کے ساتھ مشغول ہو جاتا ہے۔ نیز اس پر ایمان رکھنے والا اسباب کو نہیں اس کے مدبر کو دیکھتا ہے۔ ایسے لوگ اگر توکل کو ترک کرتے ہیں تو اس کا سبب یہ ہے کہ نفس کو ہمیشہ ناز و نعمت میں پلنے، عمدہ کپڑے پہننے اور لطیف غذائیں کھانے کی رغبت ہوتی ہےاور یہ آخرت کا طریقہ نہیں۔ یہ چیزیں محنت و حرکت سے بھی شاذ و نادر ہی حاصل ہوتی ہیں اور کبھی بلا محنت مل جاتی ہیں۔ لہٰذا جس شخص کی بصیرت کی آنکھ کھلی ہو اس کے نزدیک حرکت و محنت کا اثر کمزور ہوتا ہے، وہ محنت و حرکت پر نہیں، بلکہ ملک و ملکوت کے مدبر سے مطمئن ہوتا ہے۔

اہم تنبیہ

آج کے علما و مشائخ اور شعرا و واعظین و مقررین اور تعویذ گنڈہ کرنے والوں حضرت امام کا یہ ارشاد بار بار توجہ سے پڑھنا چاہیے اگر وہ علمی خدمتیں اور وعظ و تقریر اور نعت خوانیاں اور تعویذ گنڈے جھاڑ پھونک اور امامتیں اور عبادتیں اخلاص و للٰہیت اور حسن نیت کے ساتھ کرتے، اپنے خالق و رازق جل و علا پر توکل و اعتماد کرکے علم و عبادت اور حق کی حفاظت کا کام کرتے تو انھیں آج جو مل رہا ہے وہ بھی ملتا ،بلکہ اور زیادہ ملتا ساتھ ہی قلب و جگر کے نذرانے اور عقید توں کے پھول نچھاور ہوتے ، لوگوں کے دل کھنچتے، عزتیں ملتیں اور آخرت میں بڑے اجر و

ثواب کے مستحق ہوتے۔ جس طبقے کو توکل و قناعت کا سبق دینا چاہیے تھا جب وہ خود حب دنیا اور حرص و ہوس کا شکار ہو گئے اور عملاً وہ مومنانہ خصلتوں سے دور ہو گئے تو عوام کو کیا درس دیں گے، دنیا داروں سے اپنی ٹوٹی پھوٹی خدمتوں کے معاوضے اور ان سے عزتوں کے طالب ہو کرذلیل بھی ہوئے، وقار گیا اور در در کی ٹھوکریں نصیب ہوئیں ہیں، عوام کے دلوں سے محبت و عقیدت مٹی ہے اور مذہب کی خدمت کرکے ثواب کمانے کے بجائے قوم و ملت کے لیے بدنما داغ اور دین کی بربادی کا باعث بن گئے اور خاص بات یہ کہ آخرت کے ثواب سے محروم ہو گئے۔

آج ہر حساس اور ذی شعور جس نے مذکورہ بالا طبقے کو قریب سے دیکھا ہے اور ان کے اقوال و اعمال ملاحظہ کیا ہے وہ ان حقائق سے اچھی طرح واقف ہے۔ دنیا طلبی اور کثرت مال کی حرص میں یہ دنیاداروں سے کہیں پیچھے نہیں، بس فرق یہ ہے کہ دنیادار دنیوی اسباب و ذرائع کے ذریعہ دن رات حصول مال کے لیے کوشاں ہیں، وہ پھر ایک حد تک بھکاریوں کی طرح مانگتے نہیں اور دینی رہبری کا دم بھرنے والا طبقہ دین کو ذریعہ بنا کر اور ہر دینی روپ اختیار کرکے مال و زر کےلیے کوشاں وپریشاں ہے۔ اب تو پانی سر سے اونچا ہوتا جا رہا ہے کہ شعرا و خطبا ہاتھ پھیلا پھیلا کر مانگتے ہیں، جو طے کرتے ہیں وہ الگ ہےْ یہ لوگ آج بھی مشاہدہ کر سکتے ہیں کہ اگر کہیں کہیں کوئی خال خال دین کا کام کر رہا ہے تو قوم صرف دل کے نذرانے نہیں مال و زر بھی ان پر نچھاو رکر رہی ہے جب کہ وہ توکل اور اخلاص نہیں۔

خیال رہے کہ آج کل عام حال یہی ہے اللہ تعالیٰ کے کچھ خاص خاص بندے جو بھی اس سے مستثنی ہیں ان کو ان کا رب ہی جانتا ہے۔ ملت کی بربادی دیکھ کر آنکھوں سے خون کے آنسو بہتے ہیں ، دین کاکام جن سے وابستہ تھا وہی دین کو مٹانے لگے جب کہ ہمارا مخالف ہر محاذ پر حق کو مٹانےکےلیے اترا ہوا ہے پھر بھی ہماری آنکھیں نہیں کھل رہی ہیں۔

آخر میں ایسے لوگ حضرت امام کا یہ ارشاد سن لیں، فرماتے ہیں: جو علم و عبادت کے ساتھ مشہور ہو وہ رات و دن میں ایک مرتبہ کھانے پر قناعت کرے وہ کھانا جیسا بھی ہو اگرچہ لذیذ کھانوں سے نہ ہو اور موٹا کپڑا جو دینداروں کے لائق ہے۔ تو اسے یہ کھانا ہمیشہ ملےگا وہاں سے بھی جس جگہ کا اسے گمان ہے اور وہاں سے بھی جہاں کا گمان نہیں،بلکہ کئی گنا زیادہ آئےگا تو ایسے شخص کا توکل چھوڑنا اور رزق کا اہتمام کرنا انتہائی کمزوری اور کوتاہی ہے کیوں کہ جو شخص کسی شہر میں گمنام ہے وہ کمانے کے باوجود اس قدر رزق حاصل نہیں کر سکتا جس قدر اس شخص کی شہرت حصول رزق کا مضبوط سبب ہے۔ پس دیندار لوگوں کے لیے رزق کا اہتمام قبیح ہے اور علما کے لیے تو زیادہ برا ہے کیوں کہ ان کے لیے قناعت شرط ہے اور قناعت والے عالم کے پاس خود ان کا رزق اور بہت بڑی جماعت اگر اس کے ساتھ ہو آتا ہے اور اگر وہ لوگوں کے ہاتھوں سے نہ لے کہ اپنی کمائی کھانے کا ارادہ رکھتا ہو تو وہ اس باعمل عالم کے لائق ہے جو ظاہری علم و عمل پر چلتا ہے اور باطنی سیر نہیں کرتا کیوں کہ مال کمانا باطنی فکر کے راستے میں رکاوٹ ہے۔ لہٰذا ایسا عام سلوک الی اللہ میں مشغول ہو اور ایسے انسان سے روزی حاصل کرے جو فی سبیل اللہ خرچ کرکے قرب خداوندی کا طالب ہے کیوں کہ اس صورت میں اللہ تعالیٰ کے لیے فراغت ہے اور دینے والے کے ثواب میں مدد ہے۔

عیال دار کب تک متوکل رہتا ہے

آپ قدس سرہ فرماتے ہیں: جہاں تک عیال دار کا تعلق ہے تو بال بچوں کے لیے ایک سال کا رزق جمع کرنے سے توکل کی تعریف سے خارج نہیں ہوگا، اس سے زیادہ جمع کرنا توکل کو باطل کر دیتا ہے کیوں کہ وہ دل کی کمزوری کا نتیجہ ہے جو قوت توکل کے خلاف ہے۔ آقاﷺ نے بھی اہل و عیال کے لیے ایک سال کا رزق جمع فرمایا۔ اس سے زیادہ جمع کرنا توکل کو باطل کر دیتا ہے کیوں کہ سالوں کے بدلنے سے اسباب بدلتے ہیں ۔ متوکل

اسے کہتے ہیں جو توحید پر ایمان رکھتا ہو، اس کا دل مضبوط ہو، نفس اللہ تعالیٰ کے فضل پر مطمئن ہو اور اس کی تدبیر پر اعتماد ہو اسباب ظاہر پر نہیں۔

امر دوم

مال جمع کرنے کے اسباب کے درپے ہونا جس شخص کو مال حاصل ہو خواہ وراثت کے طور پر یا کمانے کے ذریعہ یا مانگ کر یا دیگر اسباب سے کسی سبب کے ذریعہ تو ایسے شخص کی جمع مال میں تین حالتیں ہیں:

۱۔ وقتی ضرورت کے مطابق مال حاصل کرے۔ پس اگر بھوکا ہو تو کھائے، ننگا ہو تو کپڑا پہنے، اگر مکان کا محتاج ہے تو مختصر (بقدر ضرورت) مکان خرید لے اور باقی اسی وقت تقسیم کر دے جمع نہ کرے۔ ہاں اتنی مقدار جمع کر سکتا ہے جس کی کسی دوسرے کو حاجت ہو اور تو وہ اسی نیت پر جمع کرے۔ ایسا شخص توکل کے تقاضے کو پورا کرتا ہے اور یہ سب سے بلند درجہ ہے۔

۲۔ دوسری حالت پہلی کے مقابل جو توکل کے حدوں سے نکال دیتی ہے یعنی سال بھر یا اس سے زیادہ کے لیے مال جمع کرے۔

۳۔ تیسری حالت یہ کہ چالیس دن یا اس سے کم کے لیے جمع کرے۔ اس شخص کے لیے مال کا جمع کرنا کیا اسے اس مقام محمود سے محروم کر سکتا ہے جس کا آخرت اہل توکل کے لیے میں وعدہ ہے ، ائمہ طریقت کا اس میں اختلاف ہے۔

حضرت امام غزالی قدس سرہ کا خیال ہے کہ جب مال جمع کرنے کی اجازت ہے تو اس اختلاف کا کوئی مطلب نہیں، بلکہ حقیقت یہ ہے کہ مال جمع نہ کرنے کی صورت میں توکل کی تکمیل اس وقت ہوگی جب امید کم ہو، ہاں یہ ضرورہے کہ جو شخص ایک سال سے زیادہ کے لیے جمع کرتا ہے تو وہ قلبی کمزوری کا شکار ہے، اس کا جھکاو ظاہری اسباب کی طرف ہے، وہ مقام توکل سے خارج ہے، ایسا شخص سچے وکیل یعنی اللہ تعالیٰ کے ساتھ خفیہ تدبیر پر یقین نہیں رکھتا۔

یہ بھی خیال رہے کہ جس شخص کا دل ترک ذخیرہ سے مضطرب اور پریشان ہو

اور وہ لوگوں کے ہاتھوں اور اس کا دل اللہ کی طرف متوجہ رہے اور اگر اضطراب ہو جو اسے عبادت اور ذکر و فکر سے غافل کرے تو ایسے شخص کو مال جمع کرنازیادہ بہتر ہے، بلکہ اگر وہ ایسا سامان رکھے جس کی آمدنی اسے بقدر کفایت حاصل ہو اور اسی کی وجہ سے دل کو فراغت بھی حاصل ہوتی ہے تو ایسا کرنا بہتر ہے کیوں کہ مقصود تو یہ ہے کہ دل کی اصلاح کی جائے تاکہ وہ ذکر الٰہی کے لیے فارغ ہو جائے۔

معلوم ہو کہ کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جن کے پاس مال ہونا انھیں غافل کرتا ہے اور بعض کو نا ہونا غافل کرتا ہے اور ممنوع وہ ہے جو ذکر الٰہی سے غافل کرے ورنہ ذاتی طور پر دنیا ممنوع نہیں ہے نہ اس کا وجود نہ عدم اسی لیے نبی اکرمﷺ کو مختلف قسم کے لوگوں کی طرف بھیجا گیا جن میں تاجر بھی ہیں اور صنعت و حرفت والے بھی، تاجر کو تجارت چھوڑنے اور کسی پیشے والے کو پیشہ چھوڑنے کا حکم نہیں دیا گیا اور جو لوگ تجارت و پیشے وغیرہ سے تعلق نہیں رکھتے تھے ان کو یہ کام کرنے کا حکم نہیں دیا گیا، بلکہ سب کو اللہ تعالیٰ کی طرف بلایا اور بتایا کہ ان کی نجات و کامیابی صرف اسی میں ہے کہ وہ اپنے دلوں کو دنیا سے اللہ تعالیٰ کی طرف پھیر دیں اور دل کا بہترین شغل اللہ تعالیٰ کے ساتھ تعلق ہے۔ پس کمزور آدمی کا حاجت کے مطابق جمع کرنا بہتر ہے جیسے مضبوط کے لیے نہ جمع کرنا بہتر ہے اور یہ حکم منفرد کا ہے، عیال دار کا حکم پہلے گذر چکا ہے۔

خیال رہے کہ سید المتوکلین سرور کونینﷺ کا یہ حال تھا اور آپ کو اس قدر امید کم تھی کہ حدیث شریف میں ہے، آپ نے پیشاب فرمایا اور فوراً تیمم کرنے لگے، ایک صاحب نے عرض کیا کہ پانی قریب ہے، فرمایا: مایُدرینی لعلی لا أبلغہ (مجھے معلوم نہیں، شاید اس (پانی) تک نہ پہنچوں)

آپ اگر مال جمع کرتے تو توکل میں کوئی فرق نہ آتا کیوں کہ آپ کا بھروسہ اس چیز پر نہ تھا جسے آپ جمع فرماتے پھر آپ نے فتح خیبر کے بعد ایک سال کا نفقہ

اپنے اہل کے لیے جمع فرمایا اور کچھ لوگوں کے لیے آپ کا ارشاد ہے مثلاً حضرت امّ ایمن کے لیے فرمایا کہ دوسرے دن کے لیے جمع نہ کرنا۔ حضرت بلال‌رضی اللہ عنہ نے روٹی کا ایک ٹکڑا افطاری کے لیے رکھا تو منع کرتے ہوئے فرمایا: اے بلال! اسے خرچ کر دو اور مالک عرش جل و علا سے مفلسی کا ڈر نہ رکھو۔ انھی سے آپ نے یہ بھی فرمایا: جب تم سے مانگا جائے تو نہ روکو اور جب تمھیں دیا جائے تو نہ چھپاؤ۔

یہ سب روایتیں مجمع الزوائد اور تاریخ ابن عساکر میں موجود ہیں۔ یہ سب کچھ اس وجہ سے ہے کہ امت کے لوگ مختلف تھے، آپ جانتے تھے۔ لہٰذا مضبوط دل والوں کی تعلیم کے لیے یہ راستہ اختیار فرمایا کیوں کہ آپ کے مضبوط دل امتی بھی آپ کے بہ نسبت کمزور ہیں۔ اپنے گھر والوں کے لیے سال بھر کا خرچ جمع کرنا اس وجہ سے نہ تھا کہ آپ کا یا آپ کے اہل خانہ کا دل کمزور تھا، بلکہ اس سے تعلیم دینی مقصود تھی کہ اللہ تعالیٰ اس بات کو پسند کرتا ہے کہ جس طرح عزیمت (حکم اصلی) پر عمل کیا جاتا ہے اسی طرح کمزوروں کی دل جوئی کے لیے رخصت پر بھی عمل کیا جائے تاکہ ان کی کمزوری مایوسی تک نہ لے جائے اور انتہائی درجہ تک نہ پہنچ پانے کی وجہ سے آسان نیکی بھی چھوڑ دیں۔

ان تمام باتوں سے آپ نے سمجھ لیا ہوگا کہ مال کا جمع کرنا بعض کے لیے نقصان دہ ہے، بعض کے لیے نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ حدیث شریف میں ہے کہ اصحاب صفہ میں سے ایک کا انتقال ہوا اور ان کے کپڑوں میں دینار نکلے تو آپﷺ نے فرمایا: دو داغ ہیں۔ اور بعض صحابہ کرام‌رضی اللہ عنہم نے بہت بہت مال چھوڑا تو آپ نے کچھ نہ فرمایا۔ بات در اصل یہ ہے کہ جب کسی کی حالت سے زہد، فقر اور توکل کا اظہار ہو حالاں کہ وہ ان امور سے خالی ہو تو یہ ایک قسم کا دھوکہ ہے۔ دوسری صورت یہ کہ دھوکہ کی وجہ نہ ہو تو مطلب یہ ہوگا کہ درجہ کمال میں نقصان واقع ہو جیسے چہرے پر دو داغ ہوں تو چہرے کے جمال میں کمی آجاتی ہے، یہ کسی

دھوکہ کی وجہ سے نہیں ہوتا ہے کیوں کہ انسان کو دنیا میں جس قدر حصہ ملتا ہے اسی قدر آخرت میں کم ہو جاتا ہے۔ یہ خیال رہے کہ مال جمع کرنے کی صورت میں اگر جمع شدہ مال سے دل فارغ ہو تو اس سے توکل کا باطل ہونا لازم نہیں آتا۔

امر سوم

وہ اسباب اختیار کرنا جو ضرر کو دفع کرتے ہیں۔ معلوم ہو کہ بعض اوقات نفس یا مال میں خوف کی وجہ سے بھی ضرر ہوتا ہے۔ توکل کے شرائط میں یہ نہیں ہے کہ ضرر کو دور کرنے والے اسباب بالکل چھوڑ دیے جائیں مثلاً نفس کے اعتبار سے یوں کہ اس زمین پر سوئے جہاں درندے ہوں یا وادی میں سیلاب کے راستے میں سو جانا یا گرنے والی دیوار اور ٹوٹی ہوئی چھت کے نیچے سونا۔ یہ سب باتیں ممنوع ہیں اور ایسا شخص بعض اوقات کسی فائدے کے بغیر خود کو ہلاکت میں ڈالتا ہے۔ ہاں یہ اسباب قطعی بھی ہوتے ہیں ، ظنی بھی اور موہوم بھی۔ موہوم کو چھوڑنا توکل کی شرط ہے۔ یہ وہ ہیں جن کی دفع ضرر کی طرف نسبت ایسی ہے جیسے دغوانے اور جھاڑ پھونک کروانے کی نسبت کیوں کہ یہ امور کبھی متوقع ضرر کے پیش آنے سے قبل ہی اختیار کر لیے جاتے ہیں اور کبھی آنے پر اس کے ازالے کے لیے اختیار کیے جاتے ہیں۔

حضور اکرمﷺ نے اہل توکل کا یہ وصف بیان فرمایا کہ وہ یہ کام دغوانا وغیرہ نہیں کرتے، آپ نے یہ نہیں فرمایا کہ جب وہ ٹھنڈی جگہ جاتے ہیں تو جبّہ نہیں پہنتے، جبہ تو متوقع سردی کے لیے پہنا جاتا ہے۔ اسی طرح دوسرے اسباب جو اس کے ہم معنی ہیں۔

خیال رہے کہ دفع ضرر کے اسباب اگرچہ قطعی ہوں اس کے ترک کی ایک وجہ یہ ہے کہ جب اسے انسانوں سے ضرر پہنچے اور وہ صبر کر سکتا ہو اور ان کودور کر کےتشفی حاصل کر سکتا ہو تو شرط توکل ہے کہ صبر کرے اور برداشت سے کام لے، ارشاد خداوندی ہے:

فَاتَّخِذْہُ وَکِیۡلًا وَاصْبِرْ عَلٰی مَا یَقُوۡلُوۡنَ (سورۃ المزمل: ۷۳؍۸،۹)

ترجمہ: تو تم اسی کو اپنا کارساز بناؤ اور کافروں کی باتوں پر صبر فرماؤ۔’’

اور ارشاد ہے:

وَ لَنَصْبِرَنَّ عَلٰی مَاۤ اٰذَیۡتُمُوۡنَا ؕ وَعَلَی اللہِ فَلْیَتَوَکَّلِ الْمُتَوَکِّلُوۡنَ(سورۃ ابراہیم: ۱۴؍۱۲)

ترجمہ: اور تم جو ہمیں ستا رہے ہو ہم ضرور اس پر صبر کریں گے اور بھروسہ کرنے والوں کو اللہ ہی پر بھروسہ چاہیے۔’’

ان کے علاوہ بہت آیات ہیں۔

یہ دھیان رہے کہ سانپوں، درندوں اور بچھوؤں کی اذیت پر صبر کرنا اور ان کو دور نہ کرنا توکل نہیں کیوں کہ اس میں کوئی فائدہ نہیں، ان میں کوشش یا ترک ذاتی طور پر مقصود نہیں، بلکہ مقصود دین پر مدد حاصل کرنا ہے۔ اسی طرح مال کی حفاظت کے اسباب مثلاً باہر جاتے وقت تالا لگا دینا یا اونٹ (وغیرہ جانور) کو باندھ دینا اس سے توکل میں کوئی فرق نہیں پڑتا کیوں کہ یہ اسباب اللہ تعالیٰ کی عادت جاریہ سے قطعی یا ظنی طور پر معلوم ہوئے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ نبی اکرمﷺ نے اس اعرابی سے جس نے اپنا اونٹ کھلا چھوڑ کر کہا کہ میں نے اللہ تعالیٰ پر توکل کیا، فرمایا: باندھ کر توکل کرو۔(حلیۃ الاولیا)

ارشاد خداوندی ہے:

خُذُوۡا حِذْرَکُمْ (سورۃ النساء: ۴؍۷۱)

ترجمہ: ہوشیاری سے کام لو۔’’

نیز نماز خوف کی کیفیت کے ضمن میں فرمایا:

وَلْیَاۡخُذُوۡۤا اَسْلِحَتَہُمْ (سورۃ النساء: ۴؍۱۰۲)

ترجمہ: اور وہ اپنے ہتھیارلیے رہیں۔’’

اور فرماتا ہے:

وَ اَعِدُّوۡا لَہُمۡ مَّا اسْتَطَعْتُمۡ مِّنۡ قُوَّۃٍ وَّمِنۡ رِّبَاطِ الْخَیۡلِ (سورۃ الانفال: ۸؍۶۰)

ترجمہ: اور ان کے لیے تیار رکھو جو قوّت تمہیں بن پڑے اور جتنے گھوڑے باندھ سکو۔’’

اور حضرت موسیٰ‌علیہ السلام سے فرمایا:

فَاَسْرِ بِعِبَادِیۡ لَیۡلًا (سورۃ الدخان: ۴۴؍۲۳)

ترجمہ: ہم نے حکم فرمایا کہ میرے بندوں کو راتوں رات لے نکل۔’’

دیکھیے رات کے وقت نکلنا دشمنوں سے چھپنا اور اذیت سے بچنا ہے اور حضورﷺ کا غار میں چھپنا دشمنوں کی آنکھوں سے چھپ کر ضرر سے بچنا تھا اور نماز میں ہتھیار اٹھائے رکھنا، سانپ اور بچھو کو قتل کرنا قطعی طور پر ضرر کو دفع کرنا نہیں تھا، لیکن ہتھیار اٹھائے رکھنا ظنی سبب تو ہے اور ظنی قطعی کی طرح ہوتا ہے، صرف موہوم وہ ہے کہ اس کا ترک توکل کا تقاضا ہے۔ یہاں بڑے اہم معلوماتی مباحث ہیں، ان کے لیے احیاء العلوم مطالعہ کریں۔