مواد پر جائیں

باب ۳۳ از ۵۴صفحات ۳۹۰–۴۰۳

جمع مال کے درجات

مال جمع کرنے میں تین درجات ہیں۔ ایک یہ کہ صرف ایک دن رات کے لیے جمع کرے، یہ صدیقین کا درجہ ہے۔ دوم یہ کہ چالیس دن کے لیے جمع کرے کیوں کہ جو اس سے زائد ہے وہ طویل امید میں داخل ہے، یہ متقی لوگوں کا درجہ ہے۔ سوم یہ کہ ایک سال کے لیے جمع کرے، یہ سب سے آخری درجہ ہے اور یہ صالحین کا مقام ہے۔ اور جو شخص اس سے زائد جمع کرے وہ

عوام الناس میں داخل ہے اور خصوصی مقام سے مکمل طور پر خارج ہے۔ پس نیک کمزور شخص کا ایک سال کے لیے روزی میں اطمینان قلب اس کا غنا اور خاص لوگوں کا چالیس دن میں غنا سے جب کہ خاص الخاص کا غنا ایک دن رات رزق جمع کرنے میں ہے۔ نبی کریمﷺ نے اپنی ازواج مطہرات کو اسی قسم کی اقسام پر تقسیم کیا۔ بعض کو آپ ایک سال کا خرچہ عنایت فرماتے، بعض کو چالیس دن کا، اور کچھ ایک دن رات کا اور یہ آخری تقسیم حضرت عائشہ و حفصہ‌رضی اللہ عنہما کے لیے تھی۔’’

معلوم ہو کہ حضرت امام قدس سرہ نے بڑی نفیس بحثیں ذکر کی ہیں مثلاً بغیر سوال کے کوئی عطیہ ملے تو اس کے آداب، ضرورت کے بغیر سوال حرام ہے، مجبور فقیر کے آداب، کس قدر مالداری سے سوال حرام ہوتا ہے اور مانگنے کے حالات آپ مزید معلومات کے لیے اور مذکورہ امور کی تفصیل کے لیے دیکھیں احیاء العلوم شریف۔

زہد (ساتواں مقام)

زہد اور اس کی فضیلت: ارشاد خداوندی ہے:

۱۔ فَخَرَجَ عَلٰی قَوْمِہٖ فِیۡ زِیۡنَتِہٖ ؕ قَالَ الَّذِیۡنَ یُرِیۡدُوۡنَ الْحَیٰوۃَ الدُّنیَا یٰلَیۡتَ لَنَا مِثْلَ مَاۤ اُوۡتِیَ قَارُوۡنُ ۙ اِنَّہٗ لَذُوۡحَظٍّ عَظِیۡمٍ وَ قَالَ الَّذِیۡنَ اُوۡتُوا الْعِلْمَ وَیۡلَکُمْ ثَوَابُ اللہِ خَیۡرٌ لِّمَنْ اٰمَنَ وَعَمِلَ صَالِحًا ۚ وَلَا یُلَقّٰہَاۤ اِلَّا الصّٰبِرُوۡنَ (سورۃ القصص: ۲۸؍۷۹،۸۰)

ترجمہ: تو (ایک دن قارون) اپنی قوم پر نکلا اپنی آرائش میں بولے وہ جو دنیا کی زندگی چاہتے ہیں کسی طرح ہم کو بھی ایسا ملتا جیسا قارون کو ملا بیشک اس کا بڑا نصیب ہے۔ اور بولے وہ جنھیں علم دیا گیا خرابی ہو تمہاری اللہ کا ثواب بہتر ہے اس کے لئے جو ایمان لائے اور اچھے کام کرے اور یہ انہیں کو ملتا ہے جو صبر والے ہیں۔’’

اس میں زہد کو علما کی طرف منسوب کیا اور زاہدین کو علم سے موصوف قرار دیا، یہ انتہائی درجہ کی تعریف ہے۔

۲۔ مَنۡ کَانَ یُرِیۡدُ حَرْثَ الْاٰخِرَۃِ نَزِدْ لَہٗ فِیۡ حَرْثِہٖ ۚ وَ مَنۡ کَانَ یُرِیۡدُ حَرْثَ الدُّنْیَا نُؤتِہٖ مِنْہَا ۙوَمَا لَہٗ فِی الْاٰخِرَۃِ مِنۡ نَّصِیۡبٍ (سورۃ الشوریٰ: ۴۲؍۲۰)

ترجمہ: جو آخرت کی کھیتی چاہے ہم اس کے لیے اس کی کھیتی بڑھائیں اور جو دنیا کی کھیتی چاہے ہم اسے اس میں سے کچھ دیں گے اور آخرت میں اس کا کچھ حصّہ نہیں۔’’

۳۔ کافروں کا وصف بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے: الَّذِیۡنَ یَسْتَحِبُّوۡنَ الْحَیٰوۃَ الدُّنْیَا عَلَی الۡاٰخِرَۃِ (سورۃ ابراہیم: ۱۴؍۳)

ترجمہ: جنھیں آخرت سے دنیا کی زندگی پیاری ہے۔’’

احادیث کریمہ:

۱۔ حضور رسالت مآبﷺ فرماتے ہیں: جس نے صبح کی اور اس کی فکر دنیا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے معاملے کو بکھیر دیتا ہے اور اس کے سامان کو اس پر متفرق کر دیتا ہے اور اس کا فقر و محتاجی اس کی نگاہوں کے سامنے کر دیتا ہے اور اس کے پاس دنیا نہیں آئےگی، مگر اسی قدر جو اس کے لیے لکھ دی گئی ہے۔ اور جس نے صبح کی اور اس کی فکر آخرت ہو تو اللہ تعالیٰ اس کی فکر و ہمت جمع کر دیتا ہے اور اس کے سامان کی حفاظت کرتا ہے اور اس کے دل میں غنا پیدا کر دیتا ہے اور اس کے پاس دنیا ذلیل ہو کر آتی ہے۔ (ابن ماجہ)

۲۔ ابن ماجہ ہی کی روایت ہے: اذا رأیتم العبدَ و قد اُعطی صمتاً و زھداً فی الدنیا فاقتربوا منہ فإنہ یلقی الحکمۃ (جب تم کسی بندے کو دیکھو کہ اسے خاموشی اور دنیا میں زہد دیا گیا تو اس کے قریب ہو کہ اسے حکمت دی جاتی ہے۔ اور حکمت کی تعریف میں قرآن فرماتاہے کہ جسے حکمت دی گئی اسے خیر کثیر یعنی

بہت بھلائی دی گئی۔

۳۔ پیارے آقاﷺ ارشاد فرماتے ہیں: اِنْ أردتَ أن یُحبک اللہ فازھد فی الدنیا (اگر تم چاہتے ہو کہ اللہ تعالیٰ تم سے محبت کرے تو دنیا میں زاہد یعنی بے رغبت ہو جاؤ۔ (ابن ماجہ)

۴۔ حضورﷺ سے اللہ تعالیٰ کے قول:

فَمَنَ یُّرِدِ اللہُ اَنۡ یَّہۡدِیَہٗ یَشْرَحْ صَدْرَہٗ لِلۡاِسْلَامِ (سورۃ الانعام: ۶؍۱۲۵)

ترجمہ: اور جسے اللہ راہ دکھانا چاہے اس کا سینہ اسلام کے لیے کھول دیتا ہے۔’’

کی تفسیر پوچھی گئی تو آپ نے فرمایا کہ نور جب دل میں داخل ہوتا ہے تو اس کا سینہ اس کے لیے کھل جاتا ہے اور کشادہ ہو جاتا ہے، عرض کیا گیا: اس کی علامت کیا ہے؟ تو فرمایا: التجافی عن دار الغرور و الاِنابۃ الی دار الخلود و الاستعداد للموت قبل نزولہ (یعنی اس کی علامت دھوکے والے گھر (دنیا) سے دور رہنا اور ہمیشگی کے گھر (آخرت) کی طرف رجوع کرنا اور موت کے آنے سے پہلے اس کے لیے تیار رہنا۔ (المستدرک)

۵۔ حضرت سہل ابن سعد‌رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص آئے اور عرض کیا: یا رسول اللہﷺ مجھے ایسا عمل بتا دیں کہ جب میں کروں تو اللہ تعالیٰ بھی مجھ سے محبت کرے اور لوگ بھی مجھ سے محبت کریں تو آپ نے فرمایا:اِزھد فی الدنیا یُحبک اللہ و ازھد فیما عند الناس یُحبک الناس (یعنی دنیا میں بے رغبت رہو اللہ تم سے محبت کرےگا اور جو لوگوں کے پاس ہے اس سے بے رغبت ہو جاؤ لوگ تم سے محبت کریں گے۔ (ترمذی و ابن ماجہ)

۶۔ حضرت ابو ذر‌رضی اللہ عنہ راوی کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: کوئی بندہ دنیا میں زاہد نہ ہوا، مگر اللہ تعالیٰ نے اس کے دل میں حکمت اگا دی اور حکمت کے ساتھ اس کی زبان کو گویا کر دیا اور اسے دنیا کے عیب اور اس کی بیماری اور دوا دکھا دی اور اس کو دنیا

سے جنت کی طرف سلامت نکالےگا۔ (بیہقی)

معلوم ہوا حکمت اور اس کے ساتھ گویائی اور دنیا کے عیوب و نقائص کی دید اور اس کا مرض اور دوا اور دنیا سے سلامتی زاہدوں کو نصیب ہوتی ہے۔

۷۔ حضرت معاذ ابن جبل‌رضی اللہ عنہ کو جب یمن بھیجا تو فرمایا: ایّاک و التنعم عباد اللہ لیسوا بالمتنعمین (تم خود کو تنعم (عیش و عشرت) سے بچانا، اللہ کے بندے عیش پرست نہیں ہوتے ہیں۔ (احمد)

۸۔ حضرت عبد اللہ ابن عمر‌رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ حضور اکرمﷺ نے میرے جسم کا بعض حصہ پکڑا، پس فرمایا: کُفْ فی الدنیا کأنک غریب أو عابر و عُد نفسک فی أھل القبور (دنیا میں تم ایسے رہو جیسے مسافر یا راہ گیر اور اپنے کو قبر والوں میں شمار کرو۔ (بخاری)

حدیث میں غریب اور عابر کے الفاظ آئے ہیں۔ غریب سے مراد غریب الوطن مسافر ہے اگرچہ وہ کسی جگہ چند دن ٹھہر جائے،مگر عابر وہ راہ گیر ہے جو کسی جگہ دوپہر گذارنے کے لیے بیٹھ جائے۔ مطلب یہ ہے کہ جس طرح یہ دونوں سفر اور جنگل میں دل نہیں لگاتے اسی طرح تم بھی دنیا میں دل نہ لگاؤ۔’’

۹۔ بیہقی میں حضرت عمرو، وہ اپنے باپ مسیب اور ان کے باپ عمرو کے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ نبیﷺ نے فرمایا: أوّل صلاح ھذہ الأمۃ الیقین و الزھد و أوّل فسادھا البخل و الأمل (اس امت کی پہلی صلاح و درستی یقین اور زہد ہے اور اس کا پہلا فساد بخل اور دراز امید ہے۔

زہد: حضرت امام حجۃ الاسلام قدس سرہ نے حقیقت زہد پر بڑا تفصیلی کلام سپرد قلم فرمایا۔ اسی سلسلۂ بیان میں فرماتے ہیں: جب زہد محبوب چیز سے پھیرنےکا نام ہے تو اس کا تصور اسی صورت میں ہوگا جب اس سے زیادہ محبوب چیز کی طرف توجہ کو پھیرا جائے ورنہ محض محبوب کو چھوڑنا محال ہے اور جو انسان ماسواے حق

تمام چیزوں سے محبت کو پھیر لیتا ہے حتیّٰ کہ اسے جنت کی رغبت بھی نہ رہے اور صرف اللہ تعالیٰ سے محبت کرتا ہو وہ زاہد مطلق ہے اور جو دنیا کی تمام چیزوں سے رغبت کو اٹھا لے اور اخروی نعمتوں میں رغبت رکھے مثلاً حوروں، محلات، نہروں وغیرہ سے اور ان کی طمع کرے وہ بھی زاہد ہے، لیکن اول سے اس کا درجہ کم ہے اور جو شخص دنیا کے بعض تعلقات اور فائدے چھوڑے، بعض کو نہ چھوڑے مثلاً کوئی شخص مال میں رغبت نہیں رکھتا، لیکن اقتدار میں رکھتا ہے اس طرح کہ وہ کھانے پینے وغیرہ میں توسع سے کام نہیں لیتا، لیکن زیب و زینت کو نہیں چھوڑتا ایسے شخص کو زاہد مطلق نہیں کہیں گے۔ زاہدین میں اس کا درجہ ایسا ہے جیسے توبہ کرنے والوں میں اس شخص کا جو بعض گناہوں سے توبہ کرتا ہے۔ یہ بھی زہد صحیح ہے۔

خیال رہے کہ توبہ ممنوع چیزوں کو چھوڑنے کا نام ہے اور زہد ان مباح اور جائز چیزوں کے چھوڑنے کا نام ہے جن کو نفس چاہتا ہے اور متلذذ ہوتا ہے۔ یہ بھی دھیان رہے کہ جو صرف ممنوعات کو چھوڑے اسے زاہد نہیں کہا جا سکتا اگرچہ اس نے ممنوعات میں زہد اختیار کیا اور ان سے رخ پھیر لیا، لیکن عرف و عادت میں مباح چیزوں کے چھوڑنے کا نام زہد ہے۔ پس زہد دنیا سے رغبت ختم کرکے اس کو آخرت کی طرف پھیرنے کا نام ہے یا غیر خدا سے خدا کی طرف رجوع کرے، یہ بلند درجہ ہے۔ یہ بھی معلوم رہے کہ زہد کا مطلب یہ نہیں کہ آدمی سخاوت اور جواں مردی کے طور پر مال خرچ کرنا چھوڑ دے یا لوگوں کے دلوں کو مائل کرنے یا کسی طمع کی بنیاد پر دینے سے بھی باز رہے کیوں کہ یہ سب اچھی عادات ہیں۔ زہد تو یہ ہے کہ تم دنیا کو اس لیے ترک کرو کہ تم جانتے ہو کہ آخرت کی نفاست کے مقابلے میں یہ حقیر ہے اور دنیا کو ہر اعتبار سے وہی ترک کرتا ہے جو آخرت پر ایمان رکھتا۔

درجات: معلوم ہو کہ زہد اپنی قوت کے اعتبار سے تین درجے رکھتا ہے:

۱۔ اول درجہ، یہ سب سے ادنیٰ درجہ ہے یعنی دنیا سے بے رغبت رہے حالاں کہ

وہ اس کا خواہش رکھتا ہے، اس کا دل دنیا کی طرف مائل اور نفس متوجہ ہے، لیکن وہ مجاہدہ کرتا ہے اور اسے دور کرتا ہے۔ ایسے شخص کو متزہد کہتے ہیں۔ یہ خطرے میں رہتا ہے کیوں کہ بعض اوقات اس پر نفس غالب آجاتا ہے اور خواہش اسے کھینچتی ہے تو وہ دنیا اور راحت و آرام کی طرف پلٹ جاتا ہے کم ہو یا زیادہ۔

۲۔ دوسرا درجہ، یہ کہ اپنی خوشی سے دنیا چھوڑ دے یعنی وہ جس چیز کی طمع کر رہا ہے اس کی نسبت سے دنیا کو حقیر جانتا ہے جیسے کوئی شخص دو درہموں کے لیے ایک درہم کو، ایک روپے کو دو روپے کی خاطر چھوڑ دیتا ہے اور اسے گراں نہیں گذرتا اگرچہ اسے کچھ انتظار کرنا پڑے، لیکن یہ زاہد اپنے زہد کو سمجھتا ہے اور اس کی طرف توجہ کرتا ہے۔ ایسے شخص کے بارے میں یہ اندیشہ رہتا ہے کہ وہ خودپسندی کا شکار ہو جائے اور زہد پر تکبر کر بیٹھے اور خیال کرے کہ جو کچھ اس نے چھوڑا ہے اس کے نزدیک اس کی قدر ہے، لیکن اسے اس نے زیادہ قدر والی چیز کے لیے ترک کیا ہے۔ یہ بھی نقصان ہے۔

۳۔ تیسرا درجہ جو سب سے اعلیٰ ہے وہ یہ کہ اپنی خوشی سے زہد اختیار کرے اور اپنے زہد میں بھی زاہد ہو یعنی اپنے زہد کی طرف متوجہ نہ ہو کیوں کہ اس نے اپنے خیال میں کوئی چیز نہیں چھوڑی اس لیے کہ وہ جانتا ہے کہ دنیا کوئی چیز نہیں ہے، اس کی مثال اس شخص کی طرح ہے جو ایک جوہر لینے کےلیے ٹھیکری کو چھوڑ دیتا ہے۔ پس وہ اس جوہر کو اس کا معاوضہ نہیں جانتا اور خود کو کسی چیز کو چھوڑنے والا تصور نہیں کرتا اور اللہ تعالیٰ اور آخرت کی نعمتوں کے مقابلے میں دنیا اس سے بھی زیادہ حقیر ہے جس قدر جوہر (موتی) کے مقابلے میں ٹھیکری حقیر ہے۔ یہ زہد کامل ہے اور اس کا سبب معرفت کا کامل ہونا ہے۔ اس قسم کا زاہد دنیا کی طرف میلان اور توجہ کے خطرے سے محفوظ رہتا ہے جیسے جوہر لے کر ٹھیکری کی واپسی سے بے خوف ہے۔

جس چیز میں رغبت ہوتی ہے اس کے اعتبار سے بھی زہد کے تین درجے ہیں:

۱۔جس کی رغبت ہے اس میں جہنم اور دیگر تمام تکالیف سے نجات ہو جیسے عذاب قبر، حساب کتاب، پل کا خطرہ، اور دیگر خطرناک مراحل سے نجات ہو۔

۲۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ملنے والے ثواب اور اس کی نعمتوں میں رغبت رکھنے کی وجہ سے زہد اختیار کرے اور ان لذتوں کی رغبت ہو جن کا وعدہ کیا گیا ہے جیسے جنت میں حور اور محلات وغیرہ۔ یہ امید رکھنے والوں کا زہد ہے۔

۳۔ اللہ تعالیٰ کی ذات اور اس کی لقا کی وجہ سے زہد اختیار کرے، نہ تکالیف سے نجات مطلوب نہ لذتوں کی خواہش۔ یہ سب سے اعلیٰ درجہ ہے، یہ حقیقی مؤحد اور سچا عاشق ہے۔

یہاں چند امور ملحوظ خاطر رہیں:

۱۔ جو شخص دنیا کو آخرت کے لیے چھوڑتا ہے وہ ان اہل معرفت اور ارباب قلوب کے نزدیک جن کے دل مشاہدات و مکاشفات سے معمور ہیں، اس شخص کی طرح ہے جو بادشاہ کے دربار میں جانا چاہتا ہے تو دروازے پر موجود کتا اسے روک دیتا ہے، وہ اس کے سامنے روٹی کا ایک لقمہ ڈال دیتا ہے اور اسے اپنے کام میں مشغول کرکے خود دروازے سے اندر داخل ہو جاتا ہے اور بادشاہ کا قرب حاصل کرتا ہے حتیّٰ کہ اس کا حکم تمام مملکت پر نافذ ہونے لگتا ہے تو تمھارا کیا خیال ہے کہ اس نے بادشاہ کے قرب سے جو کچھ حاصل کیا ہے اس کے مقابل اس لقمے کی کوئی حیثیت ہے جو اس نے کتے کے لیے ڈالا ہے۔ پس شیطان اللہ تعالیٰ کے دروازے پر ایک کتا ہے جو لوگوں کو داخل ہونے سے روکتا ہے حالاں کہ دروازہ کھلا ہے اور پردہ بھی اٹھا ہواہےاور دنیا ایک لقمے کی طرح ہے، مگر تم اسے کھاؤ تو اس کی لذت صرف چبانے کی حد تک ہے، نگلتے ہی لذت ختم ہو جاتی ہے، پھر اس کا اثر (بھوک) معدے میں باقی رہتا ہے۔ پھر وہ بدبو اور گندگی کی شکل اختیار کرتا ہے۔ پھر اس

کے بعد اسے نکالنے کی ضرورت ہوتی ہے تو جو شخص بادشاہ کے تقرب کا طالب ہوگا اس کی توجہ دنیا کی طرف کیسے ہوگی۔

۲۔ دنیا جو کسی شخص کو صحیح سالم حاصل ہوتی ہے اگرچہ اس کی عمر سو سال ہو آخرت کی نعمتوں کے مقابلے میں اس کی وہ نسبت بھی نہیں جو ایک لقمے کو دنیوی ملک کے مقابلے میں حاصل ہے کیوں کہ متناہی کو غیر متناہی سے کوئی نسبت نہیں۔ دنیا فانی ہے، آخرت ابدی ہے۔ دنیا اگرچہ ایک لاکھ سال چل جائے اور اس میں کوئی میل و گندگی بھی نہ ہو تب بھی آخرت کی ابدی نعمتوں سے اسے کوئی مناسبت نہیں۔ بلکہ حال یہ ہے کہ عمر بھی کم ہے اور اس کی لذتیں گدلی اور میلی کچیلی ہیں۔

یہ بھی معلوم ہو کہ جس چیز سے رغبت اور خواہش کو پھیرا جائے اس کی نسبت سے تقسیم درجات میں بہت اقوال ہیں، اجمالاً آپ یہ سمجھ لیں کہ پہلا درجہ یہ ہے کہ جو کچھ اللہ تعالیٰ کے سوا ہے اس سے بے رغبت ہو حتیّٰ کہ خود اپنے آپ سے بھی۔ دوسرا درجہ یہ کہ اپنی تمام صفات سے توجہ ہٹا دے جن میں نفع ہو، اس میں طبیعت کے تمام تقاضے داخل ہیں جیسے شہوت، غصہ، تکبر، اقتدار، مال اور جاہ و مرتبہ وغیرہ۔ تیسرے درجے میں مال و جاہ اور ان کے اسباب سے زہد اختیار کرے کیوں کہ تمام نفسانی فوائد ان دونوں کی طرف لوٹتے ہیں۔ چوتھے درجے میں علم، طاقت، دینار و درہم اور جاہ و مرتبہ آتاہے کہ ان سے زہد اور بے رغبتی اختیار کرے کیوں کہ مال کی اقسام زیادہ ہیں، مگر وہ سب درہم و دینار میں جمع ہیں اور جاہ و مرتبہ کے اسباب اگرچہ بہت زیادہ ہیں، لیکن ان کا رجوع علم و قدرت کی طرف ہوتا ہے کیوں کہ اس سے مراد وہ علم و قدرت ہے جس سے دلوں کا مالک بننا مقصود ہو کیوں کہ جاہ و مرتبہ کا معنی دلوں کا مالک بننا اور ان پر قادر ہونا ہے جس طرح مال کا مفہوم اسباب کا مالک بننا اور ان پر قادر ہونا ہے۔ اس تفصیل و اجمال کو حضرت امام قدس سرہ نے

یوں سمجھایا کہ اللہ تعالیٰ نے ایک آیت میں سات چیزوں کا ذکر کیا ہے، ارشاد خداوندی ہے:

زُیِّنَ لِلنَّاسِ حُبُّ الشَّہَوٰتِ مِنَ النِّسَآءِ وَالْبَنِیۡنَ وَالْقَنَاطِیۡرِ الْمُقَنۡطَرَۃِ مِنَ الذَّہَبِ وَالْفِضَّۃِ وَالْخَیۡلِ الْمُسَوَّمَۃِ وَالۡاَنْعَامِ وَالْحَرْثِ (سورۃ آل عمران: ۳؍۱۴)

ترجمہ: لوگوں کے لیے آراستہ کی گئی ان خواہشوں کی محبت عورتیں اور بیٹے اور تلے اوپر سونے چاندی کے ڈھیر اور نشان کئے ہوئے گھوڑے اور چوپائے اور کھیتی۔’’

پھر دوسری آیت میں پانچ کا ذکر فرمایا:

اِعْلَمُوۡۤا اَنَّمَا الْحَیٰوۃُ الدُّنْیَا لَعِبٌ وَّ لَہۡوٌ وَّ زِیۡنَۃٌ وَّ تَفَاخُرٌۢ بَیۡنَکُمْ وَ تَکَاثُرٌ فِی الْاَمْوَالِ وَالْاَوْلَادِ (سورۃ الحدید: ۵۷؍۲۰)

ترجمہ: جان لو کہ دنیا کی زندگی تو نہیں مگر کھیل کود اور آرائش اور تمہارا آپس میں بڑائی مارنا اور مال اور اولاد میں ایک دوسرے پر زیادتی چاہنا۔’’

پھر ان سب کو دو باتوں کی طرف لوٹایا اور فرمایا:

اِنَّمَا الۡحَیٰوۃُ الدُّنْیَا لَعِبٌ وَّ لَہۡوٌ (سورۃ محمد: ۴۷؍۳۶)

ترجمہ: دنیا کی زندگی تو یہی کھیل کود ہے۔’’

پھر ان سب کو ایک بات میں جمع فرما دیا، ارشاد ہوا:

وَ نَہَی النَّفْسَ عَنِ الْہَوٰی فَاِنَّ الْجَنَّۃَ ہِیَ الْمَاۡوٰی (سورۃ النازعات: ۷۹ء۴۰،۴۱)

ترجمہ: اور نفس کو خواہش سے روکا، تو بے شک جنّت ہی ٹھکانا ہے۔’’

لفظ تقویٰ ایک ایسا لفظ ہے جو نفس کی تمام دنیوی لذتوں کو جمع کرتا ہے، لہٰذا اس سے زہد ہونا چاہیے۔ حاصل یہ ہوا کہ زہد کا مطلب تمام دنیوی لذتوں سے بے رغبت ہو جانا ہے اور جب انسان نفس کی خواہشات سے بے رغبت ہو جائے

تواسے دنیا میں باقی رہنے کی رغبت بھی نہیں رہتی۔ لامحالہ اس کی امیدیں کم ہوں گی کیوں کہ بقا تو اس لیے چاہتا ہے کہ نفع حاصل کرے اور بقا کے ذریعہ دائمی نفع کا ارادہ کرتا ہے اور دنیوی زندگی سے محبت کا مطلب یہی ہے کہ جو کچھ اس میں موجود ہے یا جس کا امکان ہے وہ ہمیشہ رہے اور اس سے بے رغبت ہو جائےگا تو دوام کا ارادہ نہیں کرےگا۔

۳۔ دنیا سے حقارت اور اس سے بغض و نفرت اور اس کی زندگی پر اعتماد اور اس سے محبت و لگاو کے تعلق سے جو آیات و احادیث اور آثار و اخبار وغیرہ ہیں نیز زہد و فقر کے فضائل پر بھی نظر رکھیں تو زہد کی اہمیت و عظمت اور اس سے پیدا ہونے والے نتائج و ثمرات کا کافی حد تک اندازہ ہو جائےگا اور یہ بھی پتا چل جائےگا کہ اگر صوفیہ کرام زاہدانہ زندگی نہ گذارتے اور اس میں بلند مثالیں قائم نہ کرتے تو نا معلوم دین کا کیا حال ہوتا اور دنیا کے گرویدہ ہوکر لوگ نا معلوم دین، اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولﷺ کو کیسا فراموش کر دیتے اور روحانیت اور اخلاق عالیہ کی راہیں نا معلوم کب سے مسدود اور بند ہو گئی ہوتیں۔ یہ زہد ہی تھا جس نے کافی حد تک لوگوں کو اخلاق رذیلہ سے پاک و صاف رکھا جو دنیا و ما فیھا کی محبت سے پیدا ہوتے ہیں۔

۴۔ حضور انورﷺ کا یہ ارشاد گرامی بھی نظر میں رکھیں خاص کر وہ لوگ جو صوفیہ کرام کے زہد و فقر کونشانہ بناتے ہیں، آقاﷺ فرماتے ہیں:

ما أحی إلی أن أجمع المال و أکون من التاجرین و لکن أوحی إلی أن أسبّح بحمد ربّک و کن من الساجدین و أعبد ربّک حتیّٰ یأتیک الیقین

مجھے مال جمع کرنے اور تاجروں سے ہو جانے کی وحی نہیں کی گئی، لیکن وحی کی گئی کہ تم اپنے رب کی تسبیح کرو حمد کے ساتھ اور سجدہ کرنے والوں سے ہو جاؤ اور اپنے رب کی عبادت کرتے رہو یہاں تک کہ موت آجائے۔ (شرح سنہ)

دنیا کے دیوانے اور بصیرت سے محروم لوگ کیسی کیسی باتیں کرتے ہیں، بڑی

حیرت ہوتی ہے۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ صوفیہ کرام نے جس بالغ نظری اور قربانی سے لوگوں کو اللہ تعالیٰ کے قریب کیا اور قرب کی راہیں ہموار کیں، انھیں سراہتے اور انھیں مشعل راہ بناتے۔ اگر وہ قرآن و حدیث کا صحیح مزاج پرکھتے اور حب دنیا وغیرہ کے مفاسد پر نظر رکھتے نیز دیکھتے کہ ان فانی لذتوں کا شکار ہوکر ابدی لازوال نعمتوں سے کیسے محرومی ہوتی ہے تو کبھی بھی صوفیہ کے زہد و فقر پر اعترض نہ کرتے۔

اس بات پر بھی نظر رہے کہ دنیا سے محبت اور اس کی طرف رغبت یا جمع مال وغیرہ کا کہیں حکم نہیں آیا جیسا کہ ابھی حدیث پیش کی، حکم آیا ہے تو آخرت کو اختیار کرنے، اس کی طرف رغبت کرنے، اور اس سے محبت کرنے کا۔ اگر بالفرض یہ نہ بھی ہوتا تو صوفیہ کا عمل خلاف قرآن و سنت نہ ہوتا کیوں کہ وہ اس کے مامور نہ تھے۔ وہ کرتے جو بھی کرتے اپنے لیے کرتے جب کہ یہاں اس کے برعکس ہے، قرآن و سنت میں جس کا حکم دیا گیا، حضورﷺ نے جسے اختیار فرمایا اور اس کی ترغیب دی صوفیہ نے اسے اپنایا اور جس سے منع فرمایا اسے چھوڑا اور اس سے بے رغبت ہوئے تو وہ قابل تعریف ہیں نہ کہ قابل مذ مت۔

یہ ہم پہلے بیان کر چکے ہیں کہ دنیا و ما فیھا کی محبت و رغبت نفس کی طبعی خصلت ہے وہ تو عیش پرستی وغیرہ چاہتا ہی ہے۔ لہٰذا اس کی ترغیب وغیرہ کی ضرورت نہیں، نہ دنیا کی فضیلت بیان کرنے کی ضرورت ہے۔ آج مشاہدہ ہے کہ لوگ خود بخود دنیا کی طرف مائل اور اس کے دیوانے ہیں اور اس کی تحصیل میں قلب و ذہن کی ساری توانائیاں صرف کیے ہوئے ہیں اور اس قدر محبت میں اندھے ہو گئے ہیں کہ اس کی وجہ سے حلال و حرام کی تمیز اٹھ گئی ہے، خدا و رسولﷺ کو بھول بیٹھے، فرائض و واجبات کو چھوڑ دیا، اس کی خاطر آپس میں دست و گریباں ہیں۔

۵۔ آپ پڑھ چکے کہ زہد در اصل بے رغبتی کا نام ہے۔ یہ معنی خود قرآن و

سنت سے متعدد طرح سے ثابت ہیں۔ اس کے بہت سے درجات ہیں اور یہ بھی قرآن و سنت سے ماخوذ ہیں۔ اب جو شخص دنیا اور اس کی تمام چیزوں سے خود کو بے رغبت کرے وہ زاہد ہے اگرچہ وہ کسی درجہ کا ہو۔ لہٰذا ایسا ہو سکتا ہے کہ بظاہر مال و متاع بھی رکھتا ہو اور بباطن زاہد ہو۔ آپ فقر کے بیان میں پڑھ چکے کہ بعض انبیاے کرام‌علیہم السلام اور اولیاے عظام رحمہم اللہ بھی بظاہر کافی مال و متاع اور دولت و ثروت رکھتے تھے، لیکن ان کے دل مکمل طور پر اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولﷺ کے حوالے تھے۔ عارف رومی جیسا مجدد عشق و محبت فرماتا ہے؎

چیست دنیا از خدا غافل بُدن

نے قماش و نقرہ و فرزند و زن

یاد خدا سے غفلت کا نام دنیا ہے مال و متاع، سونا چاندی اور فرزند و زن کا ہونا دنیا نہیں ہے۔’’

مشکات شریف میں حضرت سفیان ثوری‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انھوں نے فرمایا کہ دنیا میں زہد موٹا پہننا اور معمولی کھانا نہیں ہے، زہد تو امیدوں کو کم کرنے کا نام ہے۔ اسی مشکات میں بیہقی کے حوالے سے ہے کہ حضرت امام مالک‌رضی اللہ عنہ سے پوچھا گیا: دنیا میں زہد کون سی چیز ہے، فرمایا: پاکیزہ کمائی اور امید کو کم کرنا۔ حضرت امام ابوطالب مکی قدس سرہ فرماتے ہیں: زہد کے دو معنی ہیں اگر کوئی چیز موجود ہے تو اس میں زہد اس کا نکالنا اور دل کا اس سے خالی رہنا ہے۔ اگر نفس کے لیے باقی رکھنا ہے تو زہد درست نہیں کیوں کہ یہ اس کی رغبت کی دلیل ہے، یہ اغنیا کا زہد ہے اور اگر کوئی چیز موجود نہیں ہے اور عدم ہی اس کا حال ہے تو زہد اس کا رشک اور معدوم پر راضی رہنا ہے اور یہ فقرا کا زہد ہے۔

حضرت امام غزالی قدس سرہ زہد کی علامتوں کے بیان میں فرماتے ہیں: بعض اوقات گمان کیا جاتا ہے کہ مال کا تارک زاہد ہے حالاں کہ یہ زہد نہیں، مال کو چھوڑنا اور شدت و تکلیف کا اظہار اس کے لیے آسان ہے جو زہد کے ساتھ اپنی

تعریف چاہتا ہے، کتنے ہی راہب (تارک دنیا) ہیں جو معمولی کھاتے ہیں اور بند عبادت خانوں میں رہتے ہیں ۔ لیکن وہ اس بات پر خوش ہوتے ہیں کہ لوگوں کو ان کی حالت کا علم ہو، لوگ انھیں دیکھیں اور ان کی تعریف کریں۔ معلوم ہوا ترک دنیا زہد کی قطعی علامت نہیں، بلکہ مال اور جاہ دونوں سے بے رغبتی زہد ہے۔