باب ۴۲ از ۵۴صفحات ۵۰۸–۵۲۰
(2)تقلیل منام
ہمیں کسی رہنما کی ضرورت نہیں) اس نے نہیں جانا کہ یہ صفا نفس امارہ کے باریک پردے کے آگے نہیں بڑھی اور اس کا نفس امارہ اپنی اسی خباثت اور گندگی پر ہے یہ تو بس ایسا ہی ہےجیسے نجاست غلیظہ پر ستر کے ذریعہ باریک پردہ چڑھا دیں قلب کہ بذات خود پاکیزہ اور نورانی ہے اس کے چہرے پر ظلمانی اور تاریک نفس کےپڑوس اور مجاورت کی وجہ سے زنگ بیٹھ گیا ہے تھوڑے سے تصفیہ کے ذریعہ اصلی حالت پر آجائے گا اور نورانی ہو جائے گا،اس کے برخلاف نفس امارہ اپنی ذات کے اعتبار سے خبیث ہے اور ظلمت و تاریکی اس کی صفت ذاتی ہے،جب تک سیاست قلب بلکہ متابعت سنت واتباع شریعت علی صاحبہا الصلاۃ والتحیہ بلکہ محض فضل خداوندی جل سلطانہ کی بدولت مزکیّٰ ومطہر نہ ہو جائے اور اس کی قباحت ذاتی دور نہ ہو جائے اس سے فلاح و بہبود متصور نہیں ہے،افلاطون نے کمال جہل کی وجہ سے اپنی اس صفا کو جس کا تعلق نفس امارہ سے تھا حضرت عیسیٰ کے صفائے قلب کی طرح سمجھا اس لیے خود کو بھی انھیں کی طرح مہذب ومطہر سمجھا اس لیے ان کی دولت متابعت سے محروم رہا اور ابدی خسارہ کے داغ سے داغدار ہوا،اور چونکہ یہ ضرربھوک کی طبیعت میں پوشیدہ تھا اس لیے طریقہ نقشبندیہ کے اکابر قدس اللہ تعالیٰ اسرارہم نے بھوک کی ریاضت کو ترک کرکے مطعومات میں ریاضت اعتدال اور مجاہدہ میں توسط حال کی رہنمائی کی اور منافع جوع کو اس خطر عظیم الخطر کے احتمال کی وجہ سے ترک کردیا،دیگرحضرات نے منافع جوع کو ملاحظہ کیا اور اس کے نقصانات سے چشم پوشی کی اور بھوک کی رغبت دلائی۔
اہل عقل کا مسلمہ ہے کہ احتمال ضرر کی خاطر منافع کثیرہ کو چھوڑا جا سکتا ہے،اسی گفتگو کے قریب ہے جو علما نے فرمایا ہے کہ اگر کوئی سنت اور بدعت کے درمیان مترددہو تو سنت پرعمل سے بہتر بدعت کا ترک ہے،یعنی بدعت میں ضرر کا احتمال ہے اور سنت میں منافع کی توقع،پس احتمال ضرر کو منافع کی توقع پر
ترجیح دے کربدعت کو چھوڑناچاہیے،کیوں کہ تعجب نہیں کہ سنت پر عمل میں کسی دوسری راہ سے ضرر پیدا ہو جائے،اس بات کی حقیقت یہ ہے کہ وہ سنت گویا اس زمانہ سرور کونین ﷺتک موقت تھی چونکہ اس کا وقت دقت وخفا کی وجہ سے ایک گروہ نہ جان سکا اس لیے اس نے اس کی تقلید میں جلدی کی اور دوسرے نے اس کو اسی وقت تک جانا اس لیے پیروی نہ کی۔(مکتوب 1313)
حضرت مجددقدس سرہ کا یہ مبارک کلام بہت سے فوائد پر مشتمل ہے،اس سے معلوم ہوا کہ (1)بھوک میں بہت منافع ہیں اور اس کی وجہ سے کشف حاصل ہو تا ہے اور یہ صفائے قلب ونفس کا سبب ہے (2)رسول اکرمﷺاور آپ کے اصحاب نے بھو ک کا مجاہدہ کیا اور اس کے باوجود فرائض وسنن تو کجا جہاد باکفار میں بھی کوئی فتور نہ آیا (3)بھوک کا مجاہدہ انھیں حضرات کے لیے صحیح ہے جو مجاہدہ جوع کے باوجود احکام شرعیہ پر دل جمعی کے ساتھ عمل کر لیں (4)اعتدال اور میانہ روی بہت بڑا مجاہدہ ہے، کھانے پینے سونے جاگنےاور لباس ومکان وغیرہ تمام امور میں میانہ روی اختیار کرنا چاہیے(5)محافظت سنت کا دوام،متابعت سنت کاالتزام،توسط،میانہ روی اور ستر احوال بہت بڑامجاہدہ ہے اگرچہ عوام ان کو مجاہدہ نہ جانیں۔ اہل طریقت پر لازم ہے کہ وہ انھیں مجاہدات کواپنائیں(6)کشف کفار ومشرکین کو بھی ہو سکتا ہے لیکن کشف قلب نہیں بلکہ کشف نفس(7)ہر ایک کو چاہیے کہ اپنے کشف پر اعتماد کے بجائے اپنے نبیﷺکو مقتدا وپیشوا بنائے اگرچہ کشف اس کے خلاف ہو(8)ان مجاہدات سے بچے جن میں نام ونمود اور ریا کو زیادہ دخل ہو لہٰذا ایسے طریقے بھی نہ اپنائے جو شہرت کا سبب ہوں۔
خیال رہے ایک شہرت وہ ہے کہ انسان جس کی خاطر ایسے اعمال وافعال اختیار کرے جو شہرت کا باعث ہوتے ہیں جیسے آج کل اکثر علما اور مشائخ کا یہی حال ہے اور ایک وہ شہرت جو اللہ تعالیٰ کسی بندے کو اس کے خلوص اور ریاضت
وعبادت کی خاطردیتا ہے،بندہ کی نیت میں کوئی فتور نہیں ہوتا ہے یہ محبت وشہرت منجا نب اللہ ہوتی ہے جیسے وہ شہرت جو اولیائے کرام کو حاصل ہے،اس سے معلوم ہوا کہ متقدمین صوفیہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے جو بھوک کے مجاہدات اختیار کیے تو ان کے سامنے بھی ان کے نبیﷺکا اسوہ حسنہ تھا یہ الگ بات تھی کہ وہ اپنے اندر ان کی طاقت محسوس کرتے تھے اور ان مجاہدات کی وجہ سے احکام شرع کی ادائگی میں کوئی فتور واقع نہ ہوتا،لہٰذا ان پر کسی طرح اعتراض کی گنجائش نہیں،انھوں نے جو کچھ کیا اپنے مولیٰ عزوجل کو راضی کرنے اور اس کی محبت میں کیا۔
متاخرین صوفیہ نے دیگر مجاہدات زیادہ اختیار کیے خاص کر نقشبندیوں نے،تاریخ شاہد ہے کہ اس معاملے میں سہروردی بزرگوں کا عمل بھی نقشبندیوں کے قریب قریب ہے،خود حضور غوثیت مآب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا ابتدائی دور نہایت کٹھن مجاہدات میں گذرا لیکن بعد میں آپ نے یہ مجاہدہ ترک فرمادیا کیوں کہ یہ مجاہدات مقاصد سے نہیں بلکہ ذرائع سے ہیں،ذریعہ اتنا ہی اور اسی وقت تک اختیار کیا جاتا ہے جب تک مقصود حاصل نہ ہو،تزکیہ نفس کے حصول کے بعد اکثر مجاہدے متروک ہوجاتے ہیں،ہاں اگرچہ ان بزرگوں خود اپنے لیے ان مجاہدات کی کوئی خاص ضرورت نہیں رہتی ہے مگر یہ یاد رہے کہ مریدین کی تربیت اور ترغیب کے لیے بہت اہمیت کے حامل ہیں،بزرگوں کے مجاہدات میں بھی ہمیشہ یہ مقصد کارفرما رہا مگر جو اس سے جاہل ہیں وہی اعتراض کرتے ہیں،اس لیے کہ وہ جانتے نہیں کہ رہنمائی کیسے کی جاتی ہے؟
معلوم رہے کہ مجاہدہ کے اس رکن یعنی تقلیل طعام کے تعلق سے گفتگو بہت طویل ہو گئی اس کی وجہ صرف یہ ہے کہ ہم دیکھتے ہیں کہ آج کل کھانا بہت بڑا مسئلہ بن گیا ہے،اور زیادہ لوگ اس کے دیوانے ہوگیے ہیں اور اس قدر بے اعتدالیاں
پیدا ہو گئی ہیں جو روحانیت کے زوال کا سبب ہیں،مجاہدہ جوع تو آج نہ جانے کتنا بڑاپہاڑ ہے اب تو نفس پر اعتدال کبھی جس کی حضرت مجددالف ثانی قدس سرہ نے تاکید فرمائی ہے وہ چلا گیا، یہ بات مریدوں ہی میں نہیں بلکہ پیروں میں تو اور زیادہ ہے ،ہمارا مقصد ایک تو اس دور میں اس مجاہدہ کو بیان کرنا ہے جو آسانی سے کیا جاسکتا ہے،دوم مجاہدات کی ترغیب کہ جب وہ اپنے اسلاف کو دیکھیں گے اور اس کے فائدے سمجھیں گے تو ہو سکتا ہے کہ مجاہدہ اعتدال ہی اپنا لیں تیسرے مزاج شرع اور روح دین سے نا واقف معترضین کے اعتراضات کا دفع بھی ایک مقصد ہے۔
یہاں یہ بھی دھیان رہے کہ اگر لوگ مجاہدہ جوع کو ایک حد تک اس احتیاط کے ساتھ اپنا لیں جو میں نے سپرد قلم کی ہے اور ساتھ ہی شیخ کامل کی صحبت مل جائے تو امید ہے کہ آج بھی کافی حد تک کشف حاصل ہو سکتاہے،ہمارے مشائخ نے اگرچہ کشف کو اہمیت نہیں دی بلکہ اسے مضر جانا اور غیر خدا کی طلب میں شمار کیا لیکن یہ بھی طے ہے کہ اس کے بغیر اب اس دور میں مریدوں میں طریقت کا ذوق پیدا ہو پا رہا ہے اور نہ ہی با ضابطہ تربیت ہو پا رہی ہے لہٰذا اگر حسن نیت کے ساتھ کشف وغیرہ کی تحصیل کے لیے اگر کچھ محنتیں کر لی جائیں تو امید ہے کہ اس دور میں بھی طریقت کا کام کافی حد تک ہو سکتا ہے۔
یہ بھی خیال رہے کہ کثرت جوع یا مجاہدہ جوع ہی پر کشف منحصر نہیں بلکہ کشف کے بہت طریقے ہیں جو بزرگوں نے اپنی اپنی کتب میں بیان کیے ہیں،خانقاہ میں بھوک کے تعلق سے اگر باضابطہ کوئی اچھا مجاہدہ سوچ لیا جائے تو اس سے بہر حال اعتدال تو ضرور پیدا ہو سکتا ہے،معترضین کو بھی یہ نکتہ ذہن میں رکھنا چاہیے کہ بھوک کا مجاہدہ روزوں کو آسان کرتا ہے جب کہ نوافل کی کثرت فرائض وسنن کی ادائیگی پر مدددیتی ہے،حضور اقدسﷺنے فرمایا"قیامت کے دن فرائض
میں واقع ہونے والی کو تاہیوں کی تلافی نوافل کے ذریعہ کی جائے گی۔
عالم ما کان ومایکونﷺنے سنن غیر موکدہ کے بھی بہت سارے فائدے بیان فرمائے ہیں ،ترمذی کی روایت میں ہے کہ اوابین کی چھ رکعتیں بارہ سال کی عبادت کے برابر ہیں، مشکاۃ شریف میں اسی سے متصل دوسری حدیث ہے کہ جس نے مغرب کے بعد بیس رکعتیں پڑھیں اللہ تعالیٰ جنت میں اس کے لیے گھر بنائے گا۔
سرور کون ومکاںﷺارشاد فرماتے ہیں"خبردار! ہر دو اذانوں کے درمیان نماز ہے،تین مرتبہ فرمایا اور آخر میں فرمایا جو چاہے"
اس معاملہ میں خود آپ ﷺ کا عمل آپ پڑھ چکے کہ آپ نوافل سواری پر بیٹھ کر اشارے سے پڑھتے اور جب فرض پڑھنا ہوتا تو زمیں پر تشریف لےآتے۔
آج غائر نظر كي ضرورت نہیں ہر معمولی عقل وعلم والا حالات سے سمجھ سکتا ہے کہ مجاہدات جب سے ختم ہوئے فرائض وواجبات اور سنن موکدہ تک سلامت نہیں رہے،تارک فرائض عوام کی کیا گنتی ذمہ دار اور مشہور مشائخ وعلما کے ساتھ کوئی چند دن رہ کر دیکھ لے پتہ چل جائےگا کہ کون کتنے فرائض وسنن موکدہ ادا کرتا ہے ؟ پھر ان کے گھروں کے حالات تو اور بھی نا گفتہ بہ ہیں،فرائض کے تارکین سے سنن کی کیا توقع کی جا سکتی ہےپھر جو نماز فرض کے پا بند ہیں وہ جماعت کے پابند نہیں اور سنن غیر موکدہ کو تو بالکل لا حاصل سمجھتے ہیں،اس کے بر خلاف آپ صوفیہ کو دیکھیے التزام متابعت سنت کا یہ حال کہ فرائض،واجبات اور سنن موکدہ تو بڑی چیزیں ہیں غیر موکدہ میں بھی اعلیٰ درجہ کا عمل کیا،قبلہ عالم حضرت خواجہ احمد سعید مجددی مہاجر مدنی قدس سرہ ہمیشہ اوابین کی بیس رکعتیں پڑھتے،صوفیہ کرام نے بالتزام ہمیشہ تہجد،اشراق ،چاشت،اوابین اور فئ زوال وغیرہ نمازیں پڑھیں،ہر ماہ کچھ نہ کچھ روزے رکھے اور مجاہدہ کی تمام صورتوں پر سنت کے دائرے میں رہ کر عمل
آج نکتہ چینی کرنے والے اپنے گریبانوں میں جھانک کر دیکھیں،سچائی یہ ہے کہ شریعت مطہرہ چونکہ نفس امارہ کے خلاف واقع ہوئی ہے،اس لیے فرائض وسنن وغیرہ نفس پر گراں ہیں وہ آزادی چاہتا ہے اورنفس کی تذلیل وتحقیر کا راستہ ہی شریعت پر عمل کرنا ہے،شریعت پر صحیح معنی میں عمل جب ہی ہو سکتا ہے جب کہ ذکر وعبادت کی کثرت کی جائے اور باطن کو منور ومعمور کیا جائے،آخر میں اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد یاد رکھیں:
کُلُوۡا وَ اشْرَبُوۡا وَلَا تُسْرِفُوۡا ۚ اِنَّہٗ لَا یُحِبُّ الْمُسْرِفِیۡنَ (سورۃ الاعراف: ۷؍۳۱)
كھاؤ پیو اور اسراف نہ کرو بے شک اللہ تعالیٰ اسراف کرنے والوں کو پسند نہیں فرماتا ہے۔’’
اسراف کیا ہے؟ یہ ایک جدا بحث ہے جس کی تفصیل فتاویٰ رضویہ شریف میں کما حقہ موجود ہے،اس میں صاف لکھا ہے کہ کھانے پینے میں اعتدال پر رہو اورحد سے نہ بڑھو۔
آقا علیہ السلام فرماتے ہیں:
يجزيهم ما يجزئ اهل السماء من التسبيح والتقديس (غذا کی جگہ) وہ چیز کافی ہو جائیگی جو آسمان والوں کو کافی ہوتی ہے یعنی تسبیح وتقدیس۔(مشکات)
یہ بڑا قابل نظر ارشاد ہے، معلوم ہوا کہ کچھ بندے ذکروفکر یا توبہ وعرفان میں اس منزل پر پہنچ جاتے ہیں کہ بجائے دنیا کے کھانوں کے انھیں رب کی تسبیح وغیرہ کافی ہوتی ہے۔
(7)معلوم ہو کہ شریعت کا مزاج یہ ہے کہ بندہ ذکروعبادت اس طریقہ پر کرے کہ قلب کو جمعیت واطمینان ہو اور وہ اپنے مذکور ومعبود کے سوا غیر کی ظرف التفات نہ کرے،اور اس کی توجہ میں انتشار نہ ہو اسی لیے پاخانہ کی حالت ہوتے
ہوئے یا ریاح کو روک کرفقہاء نے نماز کو مکروہ لکھا ہے کیوں کہ اس کی وجہ سے توجہ بٹتی ہے اور دل نہیں لگتا ہے،آقا علیہ السلام کا ارشاد ہے کہ کھانا حاضر ہو اور نماز بھی تیار ہو تو پہلے کھانا کھا لو۔بخاری وغیرہ میں اس تعلق سے متعد روایات موجود ہیں کیوں کہ بھوک کی شدت کے وقت نماز میں دل نہیں لگے گا ،تقلیل طعام کے سلسلے میں بھی اس اصول کو ملحوظ رکھنا چاہیے،بزرگوں کا کہنا ہے کہ انسان کو فرشتوں کی صفات پر ہونا چاہیے نہ اتنا کھائے کہ پیٹ اور بدن بھاری ہو جائے اور نہ اتنا کم کہ بھوک کا احساس ہو بلکہ درمیانی حالت مطلوب ہے،فرشتے کھاتے نہیں ہیں، ان کی صفت یہی ہے کہ نہ انھیں بھوک کا احساس ہو تا ہے اور نہ ہی ثقل کا اور تجربہ شاہد ہے کہ ایسی حالت میں ذکر وعبادت میں لطف اور حلاوت حاصل ہو تا ہے،کیفیات وارد ہوتی ہیں اور دل کو جمعیت اور سکون میسر ہوتا ہے،افاضہ اور استفاضہ میں بھی اسی حال میں توجہ اچھی ہوتی ہے،تجربہ ہے کہ گرانی کے وقت ذکر وعبادت میں دل بستگی یا بسط حاصل نہیں ہو پاتا۔
(8)حضرت امام غزالی قدس سرہ فرماتے ہیں"مرید پرپیٹ اور کھانوں کے چار وظائف ہیں،اول صرف حلال چیز کھائے کیوں کہ حرام کھاکر عبادت کرنا ایسے ہی ہے جیسے سمندر کی موجوں پر مکان تعمیر کرنا،کھانا تھوڑا کھانا چاہیے اور اس سلسلہ میں تدریجا ریاضت کا راستہ اختیار کرے،جس شخص کو زیادہ کھانے کی عادت ہو اگر وہ اک دم تھوڑے کھانے پر آجائے تو اس کا مزاج برداشت نہیں کرسکے گا اور وہ کمزور ہو جائے گا،اس لیے وہ روز تھوڑاتھوڑا کم کرتا جائے مثلا اگر وہ دو روٹیاں کھاتا تھا اور اب ان کو ایک روٹی کی طرف لانا چاہتا ہے تو چاہیے کہ روٹی کو بائیس یا اٹھائیس حصوں پر تقسیم کرلے اور روز ایک حصہ کم کرے تو یوں ایک ماہ میں ایک روٹی پر آجائے گا ایسا کرنے سے اسے نہ کوئی نقصان ہوگا اور نہ ہی کوئی اثر پڑے گا،وزن کے طریقے پر بھی ایسا کر سکتا ہے ورنہ مشاہدہ کے ذریعہ ایسا کرے کہ روزانہ
ایک لقمہ کم کرے یا کل جتنا کھایا تھا اس سے کچھ کم کرے اس کے پانچ درجات ہیں۔ دوم یہ ہے کہ کھانے کے وقت میں کسی قدر تاخیر کرے اس کے بھی چار درجات ہیں۔سوم کھانے کی جنس اور سالن چھورنے سے متعلق ہے،بہترین کھانا گندم کا آٹا ہے اگر اسے چھانا جائے تو عیاشی میں داخل ہو گا درمیانی کھانا جو کا چھنا آٹا ہے اور سب سے کم درجہ کا کھانا جو کا بغیر چھنا آٹا ہے،سب سے بہترین سالن گوشت اور حلوہ ہے اور درمیانی قسم کا سالن گوشت کے بغیر چکنائی ہے،اہل سلوک کی عادت تھی کہ وہ ہمیشہ سالن نہیں کھاتے بلکہ وہ خواہشات کی تکمیل سے بچتے تھے کیوں کہ انسان جس لذیذ چیز کی خواہش کرتا ہے اسے کھاتا ہے اور اس سے نفس میں اکڑ پیدا ہوتی ہے اور دل سخت ہو جاتا ہے نیز وہ دنیا کی لذتوں سے مانوس ہو جا تا ہے اور پھر وہ اس کی محبت میں موت اور اللہ تعالیٰ کی ملاقات کو بھول جاتا ہے،اس کے حق میں دنیا جنت اور موت قید خانہ بن جاتی ہے اس کے بر خلاف جب خواہشات پر کنٹرول کرے گا اور نفس پر سختی کرکے اسے لذتوں سے محروم رکھے گا تو دنیا اس کے لیے قید خانہ بن جاتی ہے ور گھٹن محسوس کرتا ہے اور اب اس کا نفس یہاں سے کوچ کرنا چاہتا ہے اور موت کے ذریعہ اس جہان سے چھٹکارہ چاہتا ہے "مزید تفصیل کے لیے احیاء العلوم جلد سوم دیکھیں نیز اس سلسلے میں بزرگوں کے مجاہدات بھی ہیں انھیں بھی مطالعہ میں رکھیں۔
یہ خیال رہے کہ تقلیل طعام ذریعہ مقصود ہے مقصود نہیں مقصود تو قوت بہیمیہ یعنی حیوانی قوت کو توڑنا ہے اور اس سے مقصود نفس کو گنا ہوں سے روکنا ہے،زیادہ کھا نے سے خطرات بھی آتے ہیں کیوں کہ معدے کی تبخیر دماغ تک چڑھتی ہے تو دماغ پریشان ہو جا تا ہے، صحیح طریقہ یہ ہے کہ جب خوب خواہش ہو اس وقت اتنا ہی کھائے کہ اشتہا اور خواہش فنا نہ ہو جائے بلکہ درمیان میں ہاتھ روک لے۔
(2)تقلیل منام
مجاہدہ کا دوسرا رکن تقلیل منام یعنی کم سو نا ہے،ارشاد باری
قُمِ الَّیۡلَ اِلَّا قَلِیۡلًا نِّصْفَہٗۤ اَوِانۡقُصْ مِنْہُ قَلِیۡلًا (سورۃ المزمل: ۷۳؍۳)
یعنی کھڑے رہا کرو مگر تھوڑی رات یعنی آدھی رات یا اس سے کچھ کم۔’’
بخاری وغیرہ کی حدیث ہے کہ اللہ تعالیٰ کو سب سے زیادہ محبوب حضرت داؤد کی نماز ہے کہ آدھی رات سوتے پھر تہائی رات جاگتے پھر چھٹا حصہ سوتے، خود حضورﷺکا عمل بھی اکثر یہی تھا کہ آپﷺپسند فرماتے کہ عشا تہائی رات گذرنے پر پڑھی جائے اس کے بعد دنیاوی گفتگو نہ کی جائے اور سو رہا جائے پھر آدھی رات کے بعد جاگا جائے،آپ اس وقت جاگ کر طول قیام فرماتے اور لمبی قرات کر کے وتر بھی اکثر تہجد کے ساتھ پڑھتے پھر فجر کے قریب سو رہتے ،آپﷺصحابہ کو پوری رات جاگنے سے منع فرماتے کہ اس سے آنکھیں اور جان کمزور ہوجائے گی اور فرماتے کہ تمھاری بیوی،آنکھ اور جان کا تم پر حق ہے پس ہر حقدار کو اس کا حق ادا کرو ۔
صوفیہ کرام جن پر اتباع سنت کا جذبہ غالب تھا ان کا بھی معمول اکثر ایسا ہی تھا ،بعض بعض نے شب بیداری بھی کی ہے،خیال رہے کہ تقلیل منام کا حکم بھی خود شریعت سے ثابت ہےمثلا نماز تراویح خود شریعت میں مامور ہے اور ختم قرآن کے ساتھ تراویح خود تقلیل منام کو مستلزم ہے، اس کے علاوہ قیام لیل کی ترغیبات وتاکیدات خود احادیث کریمہ بلکہ قرآن عظیم سے ثابت ہے،بزرگوں نے ہر ایک کے لیے رات رات بھر جاگنا مجا ہدہ کا رکن قرار نہیں دیا ہے،بلکہ کم سونے کو مجاہدہ کا رکن قرار دیا ہے،جس طرح شریعت مطہرہ نے رمضان وغیرہ کے روزوں کا حکم دے کر عادت بدلی اور اس سے مجا ہدہ آیا اسی طرح تراویح اور تہجد سے عادت کو بدلا اور اسے مجاہدہ میں تبدیل کیا کیوں کہ عام طور پر لوگ عشا کے بعد بلکہ اب تو پہلے ہی سو جاتے ہیں تو اس وقت میں تراویح کا حکم دے کر عادت کو بدلا
جس سے نفس پر گرانی ہوتی ہے اور یہی مجا ہدہ ہے پھر تہجد سے اسے مزید تقویت ملی۔
اس بارے میں بزرگوں کے معاملات مختلف رہے،متقدمین نے جہاں بھوک کے مجاہدہ کو آخر تک پہنچا دیا وہیں ترک یا تقلیل نوم کو بھی، حضرت امام اعظم ابو حنیفہ قدس سرہ کے بارے میں عام طور پر مشہور ہے کہ آپ نے چالیس سال تک عشا کے وضو سے فجر کی نماز پڑھی اسی طرح حضور غوثیت مآب رضی اللہ عنہ کے بارے میں منقول ہے،اخبار الاخیار میں حضرت شیخ عبد الحق محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ نقل فرماتے ہیں کہ حضرت قطب اودھ شاہ محمد مینا لکھنوی چشتی نظامی قدس سرہ اکثر پتلی دیوار پر بیٹھ کر ذکر الٰہی کرتے تاکہ گرنے کے خوف سے نیند نہ آئے،کبھی کبھی رات میں ارد گرگ کانٹے بچھالیتے تاکہ نیند آئے تو کانٹوں پر گروں اور وہ چبھیں تو آنکھ کھل جائے،فتح پور سیکری کےمشہور بزرگ حضرت شیخ سلیم چشتی قدس سرہ کے بارے میں نقل کرتے ہیں کہ وہ اکثر سردی کے موسم میں گیلا کرتا پہن کر پہاڑ پر عبادت کرتے تاکہ سردی کی تکلیف کی وجہ سے نیند نہ آئے،حضرت خواجہ باقی با للہ دہلوی قدس سرہ تسلیم ورضا اور ضعف بدن کے باوجود ہر وقت با وضو رہتے اور کثرت سے طاعت بجا لانے کا نہایت شوق تھا ،نماز عشا پڑھ کر آپ حجرے میں تشریف لے جاتے کچھ دیر مراقبہ میں بیٹھتے اور جب اعضا پر ضعف کا غلبہ ہوتا تو اٹھ کر از سر نو وضو کرکے دو رکعت پڑھ کر مراقب ہو جاتے پھر جب اعضاء میں درد محسوس ہوتاتو پھر اسی طرح کرتے اور اکثر رات اسی طرح گذر جاتی،حضرت سیدنا شاہ غلام علی دہلوی قدس سرہ بہت کم سوتے،تہجد کے وقت خانقاہ کے ساکنان کو جگاتے اور تہجد میں دس بارہ پارے تلاوت فرماتے۔
آج کل عورتوں اور نفسانی خواہشات کے دیوانوں کو یہ مجاہدات اور شب بیداریاں عجیب معلوم ہوتی ہیں اور طرح طرح کے شبہات وارد کرتے ہیں مثلاً جب
پوری پوری رات جاگتے تھے تو بیویوں کے حقوق کیسے ادا کرتے تھے وغیرہ وغیرہ۔
آج کے دور میں خواہشیں اور نفسانی خواہشات کا اس قدر تسلط اور غلبہ ہو گیا ہے اور عورتوں کے ساتھ عشق اور دیوانگی اس قدر بڑھ گئی ہے کہ بیان سے باہر ہے، ہر وقت اسی عیش کی خواہش ہے،ان لوگوں کو ہمیشہ نظر میں رکھنا چاہیے کہ شریعت میں بیویوں کے حقوق کی وہ حیثیت نہیں جو یہ عیش وعشرت کے دلدادہ سمجھتے ہیں،اس زمانے کی بیویاں اس قدر خواہشات سے مغلوب نہیں تھیں بلکہ جیسے ان کے مرد عبادت گذار تھے ویسے ہی ان کی بیویاں بھی، ان کی توجہات تعلیم وتعلم اور ذکر وعبادت کی طرف لگی رہتی تھیں۔
آج کے دور میں جب کہ علم وعمل اٹھا ،بد عملی بڑھی،فلمیں اورڈرامےوجود میں آئے،اور اب تو عریاں تصویریں وگیرہ ٹیلی ویزنوں اور موبائلوں پر عام ہو کر اس قدر رجحان بدل دیا،شہوتوں اورعورتوں کی خواہشات اس قدر غالب ہو گئی ہیں کہ ہروقت ذہن ودماغ میں یہی سمایا رہتا ہے اور اسی کا بھوت سوار رہتا ہے،ہروقت انھیں خواہشات کی تکمیل میں رہتے ہیں۔
اس معاملہ میں اب تو مردوں اور عورتوں کی بے حیائی حد سے تجاؤز کر گئی ہے اور اس نے انھیں حیوانات کی فہرست میں کھڑا کردیا ہے،دوسرے یہ کہ اس قسم کے حقوق ادا کرنے کے لیے شریعت میں تو صرف راتیں ہی خاص نہیں ہیں،تو پھر راتوں میں اس قسم کے حقوق کی ادائیگی سے مانع اور رکاوٹ کب ہو سکتی ہے،ہر انسان سمجھ سکتا ہے کہ یہ حقوق بھی ادا ہو سکتے ہیں اور عبادت بھی ہو سکتی ہے ۔
یہ بھی دھیان رہے کہ بزرگوں نےاللہ تعالیٰ کی رضا کی خاطر اپنی خواہشات کو چھوڑ کرہر معاملہ میں حسن نیت پیدا کیا ،اپنی جسمانی لذتوں کی خواہشات سے کنارہ کش ہو کر رب کی رضا کے لیے کام کیا ،وہ بیویوں سے جماع وصحبت بھی دفع
حاجت کے طور پر کرتے اور اس معاملے مین سنت کا پورا خیال رکھتے تھے،رات رات بھر عورتوں کے ساتھ لیٹنا،باتیں کرنا اور عیاشیاں کرنا ان کا شیوہ نہ تھا بلکہ وہ حیادار اور متبع سنت تھے،متعدد احادیث سے ثابت ہے کہ حضورﷺنماز تہجد کے بعد وطی کو پسند کرتے،اس سے متعدد فائدے تھے،دن کی محنتون کے بعد شام کو کھانا کھاکر طبیعت میں سستی اور اضمحلال ہوتا ہے،سونے کی خواہش ہوتی ہے لہذا جماع میں اس قدر نشاط حاصل نہ ہوسکےگا اس کے برخلاف چند گھنٹے سونے کے بعد طبیعت ہشاش بشاش ہوتی ہے،ہمارے نبیﷺنے اس معاملہ میں ہماری لذتوں کا بھی خیال رکھا،دوم انسان کو زیادہ دیر ناپاک رہنے کی حاجت نہ ہوگی بعد تہجد فجر کا وقت ہوتا ہے لہٰذا جلد غسل کرلے گا،تیسرے عبادت میں خلل نہ ہوگا بلکہ بہ آسانی ذکر وعبادت کرسکتا ہے۔
یہ بھی معلوم رہے کہ ان سب بزرگوں کے یہ مجاہدات اور شب بیداریان دائمی نہ تھیں بلکہ ان کے اکثر مجاہدات اس وقت سے تعلق رکھتے ہیں جب وہ منازل سلوک وجذبہ طے کرنے کی منزل میں ہو تے ہیں،جب کمال وتکمیل کی منزل پرپہنچ کر وہ ارشاد وہدایت کے لیے مامور ہوتے ہیں تو اس وقت مجاہدات کی نوعیت اور ہوتی ہے،وہ عام طور پر نکاح وغیرہ بھی منازل سلوک طے کرنے کے بعد ہی کرتے تھے،سوچنے کی چیز ہے کہ جن کی ساری زندگیاں اسلام وسنت اور دین کےظاہر وباطن کے ترویج واشاعت میں گزری اور جو ہمیشہ دعوت الی للہ کا کام کرتے رہے ہوں اور مخلوق کو حق سے ملاتے رہےہوں اور دوسروں کو بھی ادائے حقوق کی تبلیغ کرتے رہے ہوں،جنھوں نے چیٹیوں اور کیڑوں تک کو ایذا نہ دی ہو، بلکہ اپنے اوپر ان کے بھی حقوق سمجھتے رہے ہوں کیا وہ عورتوں کے حقوق ضائع کریں گے؟ بلکہ یہ بھی یاد رہے کہ دوران مجاہدات ہی نھیں بلکہ جب ان پر انوار وتجلیات کے دروازے کھل جاتے ہیں، نئی نئی کیفیتیں وارد ہونے لگتی ہیں اور باطنی مشاہدات
کا دروازہ کھل جاتا ہے تو ان کی توجہات کا رخ اللہ تعالیٰ کی طرف ہوتا ہے،ذکر وعبادت کا شوق بڑھتا جاتا ہے اور یہ شب بیداری ہی ان کی خوشی ومسرت کا سبب اور ان کی عید ہوتی ہے، ناقص عقل والے جو سب کو ایک ہی ترازو سے تولتے ہیں یا ایک ہی پیمانے سے ناپتے ہیں وہ بہت خسارے میں ہیں اور شریعت سے واقف نہیں ہیں۔
آقاﷺکے صحابہ میں ایسی مثالیں موجود ہیں حضرت سیدعالمﷺنے بعض صحابہ کو صرف تہائی مال خرچ کرنے کی اجازت دی اور فرمایا کہ تم اپنے وارثوں کو غنی چھوڑو یہ اس سے بہتر ہے کہ انہیں فقیر چھوڑو اور وہ دوسروں کے سامنے ہاتھ پھیلائیں۔حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے ایک موقع پر آدھا مال لا کر پیش کردیا اور حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے سارا مال پیش کر دیا آقا علیہ السلام نے فرمایا"ابو بکر گھر کے لیے کیا چھوڑا؟علامہ اقبال نے جواب کی یوں ترجمانی کی ہے
صدیق کے لیے ہے خدا کا رسول بس
پروانے کوچراغ اور بلبل کو پھول بس