مواد پر جائیں

باب ۲۲ از ۲۲صفحات ۲۴۹–۲۵۵

صباحت و ملاحت

حضرت مجدد قدس سرہ ایک مکتوب میں فرماتے ہیں:‘‘حضرت حق سبحانہ کی ذات فی حد ذاتہٖ جمیل ہے اور اس کے لیے حسن وجمال ذاتی ثابت ہے یہ وہ حسن و جمال نہیں جو ہمارے کشف وادراک کے دائرے میں آسکے اور ،ہمارے تخیل و تعقل میں سما سکے اس کے باوجود حضرت ذات میں ایک ایسا بڑا مقدس مرتبہ ہے کہ جس کی عظمت و کبریائی کی وجہ سے یہ حسن و جمال بھی اس تک نہیں پہنچ سکتا ہے اور اس مرتبہ کو حسن و جمال کے ساتھ متصف نہیں کیا جا سکتا ہے تعین اول جو کہ تعین وجودی ہے اس کمال و جمال ذاتی کا تعین اور ظل اول ہے اور اس مرتبۂ اقدس سے کہ کمال و جمال کی بھی جس جگہ گنجائش نہیں ہے اس تعین وجودی میں کو ئی حصہ و نصیب نہیں ہے کیونکہ غایت عظمت و کبریائی کی وجہ سے وہ مرتبہ کسی تعین سے

متعین نہیں ہو سکتا ہے۔

اس کے باوجود ایک راز اور کیفیت ا س مرتبۂ اقدس سے اس تعین اول کے مرکز دائرہ میں ودیعت رکھی ہے اور ایک نشان اس بے نشان کا اس جگہ چھپایا ہے،جس طرح تعین اول ولایت خلیلی کا مبدأ ومنشأ ہے اسی طرح وہ راز و کیفیت جو کہ اس تعین کے مرکز میں رکھی گئی ہے ولایت محمدی علیٰ صاحبہا الصلاۃ والسلام کا منشأ و مبدأ ہے،اور وہ حسن وجمال ذاتی کہ تعین اول جس کا ظل ہے،صباحت کے ساتھ مشابہت رکھتا ہے جو کہ عالم مجاز میں رخسار کے حسن و جمال اور خال(تل) کے قبیل سے ہے۔

اور وہ راز و کیفیت جو کہ مرکز میں ودیعت رکھی گئی ہے ملاحت سے مناسبت رکھتی ہے جو کہ رَشاقَتِ قد و صباحت رخسار اور حسن چشم و جمال خال کے علاوہ ایک ایسا امر ذوقی ہے کہ بغیر ذوق کے اس کاادراک نہیں ہو سکتا ہے۔؎

آں دارد آں نگار کہ آنست ہر چہ ہست

آں را طلب کنند حریفاں کہ آں کجا است

اس سے ولایت ابراہیمی اور ولایت محمدی کا فرق سمجھنا چاہیے ہر چند دونوں ولایتیں حضرت ذات تعالیٰ و تقدس کے قرب سے پیدا ہو تی ہیں لیکن ایک(ولایت ابراہیمی)کا مرجع ذات کے کمالات ہیں اور دوسرے(ولایت محمدی)کا مآل صرف ذات حق تعالیٰ،اور چونکہ ملاحت صباحت کے اوپر ہے لہٰذا ملاحت تک وصول صباحت کے مراتب طے کرنے کے بعد متصور ہو سکتا ہے،پس جب تک ولایت ابراہیمی کے تمام مراتب تک وصول میسر نہیں ہوتا ہے اس ولایت کی حقیقت تک جو کہ ولایت محمدی کی بلند چوٹی ہے وصول میسر نہیں آ سکتا ہے علیٰ صاحبہا الصلاۃ والسلام۔’’(مکتوب ۸۸،۹۳،۹۴ دفتر سوم)

معلوم رہے کہ تعین اول کے سلسلے میں آپ نے جو پڑھا ہے کہ وہ وجودی ہے اور حضرت خلیل علیٰ نبینا و علیہ الصلاۃ والسلام کا رب ہے یہ پہلے کی تحقیق ہے اس کے بعد آخر میں حضرت مجدد قدس سرہ جس نتیجے پر پہنچے ہیں وہ یہ ہے :‘‘حقیقت محمدی علیٰ صاحبہا الصلاۃ والسلام جو کہ حقیقۃ الحقائق ہے جو کہ آخر کار ظلال کے مراتب طے کرنے کے بعد اس فقیر پر منکشف ہوا ہے(وہ یہ کہ حقیقت مذکورہ)حبی تعین و ظہور ہے جو کہ ظہورات کا مبدأ اور مخلوقا کی پیدائش کا منشأ ہے،مشہور حدیث قدسی میں ہے:‘‘کنت کنزاً مخفیاً۔۔۔الحدیث’’پہلی چیز جو کہ اس مخفی خزانہ سے منصۂ ظہور میں آئی وہ حب ہے جو کہ مخلوق کی پیدائش کا سبب بنی۔’’(مکتوب ۱۲۲ دفتر سوم)

مذکورہ بالا مکتوب میں چند سطر بعد فرماتے ہیں:‘‘معلوم ہونا چاہیے کہ تعین اول میں جو کہ تعین حبی ہے جب باریک بینی سے کام لیا جاتا ہے تو خداوند قدوس کے فضل سے معلوم ہو تا ہے کہ مرکزِ آں تعین(اس تعین کا مرکز) حب ہے جو کہ حقیقت محمدی علیٰ صاحبہا الصلاۃ والسلام ااور اس کا محیط جو کہ عالم مثال میں دائرہ کی طرح ہے اور یہ محیط اس مرکزکے ظل کی طرح ہے،جو کہ خلت ہے کہ حقیقت ابراہیمی ہے علیٰ نبینا و علیہ الصلاۃ والسلام پس حب اصلی ہو ئی اور خلت مانند ظل ہو ئی اور یہ مرکز و محیط کا مجموعہ جو کہ ایک دائرہ ہے تعین اول ہے۔’’

(چند سطر بعد)‘‘چو نکہ مرکز اصل محیط ہے لا محالہ محیط کو مطلوب کے وصال میں مرکز کے توسط سے کوئی چارہ نہیں،کیونکہ مطلوب تک وصول مرکز کی راہ سے ہے،جو کہ دائرہ کی اصل اور اس کا جمال ہے،اس بیان سے حضرت خلیل اللہ کے ساتھ حضرت حبیب اللہ کا اتحاد اور مناسبت معلوم کر نا چاہیے،علیہما و علیٰ جمیع الانبیاء و المرسلین الصلوات والتسلیمات۔’’

اور چونکہ مطلوب تک ظل کے وصول میں اصل واسطہ ہے اسی لیے حضرت خلیل اللہ علیہ السلام نے حضرت حبیب اللہ ﷺ کا وسیلہ چاہا اور تمنا کی کہ آپ ﷺ کی امت میں داخل ہوں۔’’

اسی مکتوب میں آپ نے بیان فرمایا ہے کہ حقیقت محمدی کے بعد مرتبۂ لا تعین ہے اور حقیقت محمدی علیٰ صاحبہا الصلاۃ والسلام سے اوپر ترقی نہیں ہو سکتی ہے۔

اگر تفصیلی معلومات درکار ہوں تو حضرت مجدد قدس سرہ کے مذکورہ مکتوبات کا مطالعہ کریں آپ کو نبوت ورسالت کی عظمتوں اور رفعتوں کے ایسے مہکتے ہوئے گلشن نظر آئیں گے کی جن سے دل اور عقیدہ و ایمان کی دنیا معطر ہو جائے گی۔

محمد واحمد:

مکتوب ۹۶ دفتر سوم میں فرماتے ہیں:‘‘محمد و احمدہمارے پیغمبر ﷺ کے اسم مبارک ہیں اور دونوں اسم مبارک قرآن مجید میں مذکور ہیں ارشاد ہے:‘‘محمد رسول اللہ’’اور نیز حضرت عیسیٰ روح اللہ کی بشارت کی حکایت میں ارشاد ہوا: ‘‘اسمہ احمد’’ ان دونوں اسما کی ولایت جدا جدا ہے۔

ولایت محمدی ہر چند آپ کے مقام محبوبیت سے ناشی ہے علیہ الصلاۃ والسلام لیکن اس جگہ محبوبیتِ صِرف ثابت نہیں بلکہ کیفیت محبیت کا اختلاط بھی رکھتی ہے اگرچہ یہ اختلاط اس کے لیے بالاصالت ثابت نہیں لیکن مانع مقام محبوبیت صرف ہے اور ولایتِ احمدی محبوبیت صِرف سے ناشی ہے جو کہ محبیت کا شائبہ نہیں رکھتی ہے۔’’

یہ ولایت پہلی ولایت سے پیش قدم اور مطلوب سے ایک منزل قریب تر ہے

اور محب کی مرغوب تر ہے کیونکہ محبوب محبوبیت میں جتنا زیادہ محبوب تر ہو گا استغنا و بے نیازی اس کی اتنی ہی کامل ترین ہو گی اور محب کی نظر میں زیبا تر اور زیادہ خوش نما اور محب کو اپنی طرف زیادہ کھینچے گی اور اس کو شیفتہ و سرگشتہ بنائے گی۔؎

نہ تنہا آختم زیبائی اوست

بلائے من زنا پروائی اوست

(اس شعر میں)بلا سے مراد عشق میں افراط اور حد سے گزرنا ہے جو کہ عاشق کا مطلوب ہے۔

سبحان اللہ! احمد عجب نام ہے جو کہ کلمۂ مقدسہ اَحَدْ اور حرف میم کے حلقہ سے مرکب ہے جو کہ عالمِ بے چون میں اسرارِ الٰہی کے رازوں میں سے ہے اور عالمِ چون میں اس رازِ پنہاں کی تعبیر حلقۂ میم کے علاوہ کسی کی گنجائش نہیں رکھتی ہے،اسی لیے تو حضرت حق سبحانہ اسی سے تعبیر فرماتا ہے۔

احد،احد ہے کہ لا شریک لہ ہے اور حلقۂ میم عبودیت و بندگی کا طوق ہے جس نے بندہ کو مولیٰ سے ممتاز و جدا کیا ہے پس بندہ وہی حلقۂ میم ہے اور لفظ احد اس کی تعظیم کے واسطے آیا ہے اور اس کا اختصاص ظاہر کیا ہے علیہ و علیٰ آلہٖ الصلاۃ والسلام۔

چوں نام ایں است نام آور چہ باشد

(پھر چند سطر بعد)سوال: جو فنا و بقا مشائخ نے قرار دی ہے اور ولایت کو اس سے مربوط و وابستہ کیا ہے کس معنیٰ کر ہے اور یہ فنا و بقا جو تعین محمدی میں کہی گئی ہے اس کے کیا معنیٰ ہیں؟

جواب:جس فنا و بقا سے ولایت وابستہ ہے وہ شہودی فنا و بقا ہے اگر فنا وزوال ہے

......................

۔جب نام کا یہ عالم ہے تو نام والے کا عالم کیا ہوگا۔..1

تو بہ اعتبار نظر ہے اور اگر بقا و ثبات ہے تو بھی بہ اعتبار نظر اس جگہ صفات بشری کا استتار اور ان کا چھپ جانا ہے نہ کہ زوال۔

اور تعین محمدی کی فنا ایسی نہیں ہے بلکہ صفات بشری کو اس جگہ وجودی زوال متحقق ہے اور جسدی تعین سے روحی تعین کی طرف گزر جانا موجود ہے اور جانب بقا میں بھی بندہ اس جگہ اگرچہ حق نہیں ہو تا ہے اور بندگی سے باہر نہیں نکلتا لیکن حق سے بہت نزدیک ہو جاتا ہے اور اس کی معیت زیادہ حاصل کر لیتا ہے اور اپنے آپ سے بہت دور ہو جانے کی وجہ سے بشری احکام اس سے زیادہ تر مسلوب ہو جاتے ہیں۔’’

معلوم ہونا چاہیے کہ یہ عروج محمدی جو کہ صفات بشری کے انتفاء سےوابستہ ہے ہر چند آپ ﷺ کے معاملہ کو بالا تر لے گیا اور بلندی کی آخری چوٹی تک پہنچادیا اور غیر و غیریت کی کشاکش چھڑا دیا لیکن آپ ﷺ کے امتیوں پر معاملہ بہت تنگ ہو گیا اور آپ ﷺ کا نور ہدایت جو بشریت کی وجہ سے تھا کمتر ہو گیا اور جو توجہ ان پس ماندو ں کے حال کی طرف رکھتے تھے اس نے قلت پیدا کی اور آپ ﷺ کلی طور پر قبلۂ حقیقی کی طرف متوجہ ہو گئے،افسوس! اس رعایا پر کہ بادشاہ ان کے حال کی طرف متوجہ نہ ہو اور پورے طور پر اپنے محبوب کی طرف متوجہ ہو جائے،یہی وجہ ہے کہ ہزار سال کے بعد کفر و بدعت کی ظلمتیں غالب ہو گئیں ہیں اور اسلام و سنت کا نور کم ہو گیا ہے۔

یہ مختصر فضائل رسل اولوالعزم بالخصوص پیارے آقا،مدینے کے تاجدار،غریبوں کے غمگسار ﷺ کے حضرت مجدد قدس سرہ کے مکتوبات قدسی آیات سے اس نیت سے نقل کیے گئے ہیں کہ مجھ نادان میں یہ کہاں تاب کہاں کہ ان بزرگواروں کے حقائق بیان کر سکے مگر حضرت مجدد جیسے عارف حقائق

کے قلم سے نکلے ہو ئے جملوں کا ترجمہ ہی کردوں ہو سکتا ہے کہ رب کا ئنات اپنے محبوب ﷺ کی بارگاہ میں یہی نذرانہ قبول فرمائے اور سعادت ہمارا نصیب ہو جائے آمین ثم آمین بجاہ سید المرسلین صلی اللہ علیہ وعلیٰ آلہٖ واصحابہٖ اجمعین۔

خیال رہے کہ میں نے سلسلۂ عالیہ نقشبندیہ مجددیہ کے یہ مختصر خصائص میں کر دیے ان کے علاوہ بہت خصائص اور دیگر امور ہیں جن کا منتہی سالکین کے لیے جاننا بے حد مفید ہے اہل زمانہ کا تصوف و روحانیت سے دوری اورناواقفیت کی وجہ سے مذکورہ خصائص کی تحریر ہی میں کا فی تامل کرنا پڑا،مگر یہ خیال کرکے کہ ذی علم لوگ پڑھیں تو ہو سکتا ہے کہ یہ علم ہی ان کی تحصیل کا سبب بن جائے عرض کر دیے۔