مواد پر جائیں

باب ۱۵ از ۲۲صفحات ۱۷۵–۱۸۵

ہوش در دم

اس کلمہ میں ہوش بمعنی عقل اور در بمعنی طرف، جانب اور دم بمعنی سانس ہے۔ اس کے مرادی معنی یہ ہیں کہ سالک کو چاہیے کہ وہ ہر وقت ہوشیار اور بیدار رہے اور اس بات کا احساس رکھے کہ ہر سانس میں وہ غافل ہے یا ذاکر اور کوشش کرے کہ اس کی کوئی سانس یاد الٰہی سے خالی نہ ہو۔ اس طریقے سے بتدریج دوام حضور حاصل ہو جاتا ہے کیوں کہ غفلت سے سانسوں کی حفاظت حضور مع اللہ تک پہنچائےگی۔ ہوش در دم کا یہ ابتدائی مرحلہ ہے جو اس مبتدی سالک کے ساتھ مخصوص ہے جو مذکورہ طور پر ہوشیار ہو پھر جب یہ سالک سلوک کے درمیانی مرحلہ میں آئے تو چاہیے کہ اس بات کی تتبع اور تلاش میں رہے کہ یکے بعد دیگرے ساعتوں میں کسی ساعت میں غفلت آتی ہے یا نہیں اگر کسی ساعت میں آتی ہے تو استغفار کرے اور آئندہ اس کے چھوڑنے کا ارادہ کرے۔ اسی طرح ہر ساعت کا خیال رکھے تاکہ دوام حضور تک پہنچ جائے۔

اس پچھلی حالت کو وقوف زمانی کہتے ہیں جس کو حضرت خواجہ بہاء الدین نقشبند قدس سرہ نے استخراج فرمایا در اصل اس کی وجہ یہ ہوئی کہ آپ نے یہ خیال فرمایا کہ متوجہ ہونا علم العلم (علم کا علم) ہے ہر ہر سانس میں اور یہ سالک متوسط کے حال کو پریشان کرتا ہے سالک متوسط کے مناسب تو توجہ الی اللہ میں اس طرح استغراق ہے کہ اس کو اپنی توجہ کی دانست مزاحم نہ ہو۔

نظر بر قدم:

(قدم پر نظر) خیال رہے کہ اس کلمہ کا تعلق دو مفہوموں سے ہے ایک اس کا

ظاہر میں مفہوم ہے یعنی سالک کو چاہیے کہ راستہ چلتے وقت نظر قدم پر رکھے تاکہ مختلف لوگوں اور چیزوں پر نہ پڑے کیوں کہ ان چیزوں کی طرف نظر قلب میں حجاب پیدا کرتی ہے اس لیے کہ نظر کے راستے سے قلب میں جو صورتیں منتقس ہو جاتی ہیں وہی قلب کے لیے حجاب بن جاتی ہیں اس کلمہ کا ایک مفہوم یہ بھی ہو سکتا ہے کہ نظر قدموں کی طرف رہنی چاہیے کیوں کہ مختلف اشیا کی طرف نظر کرنے سے قلب غافل نہ ہو کیوں کہ مبتدی ذاکر کی نظر اشیا سے جب متعلق ہوتی ہے تو اس کا قلب ذکر سے غافل ہو جاتا ہے اس تفرقہ اور انتشار کی وجہ سے جو اشیا کی رویت سے پیدا ہوتا ہے کیوں کہ مبتدی کو حفظ قلب پر طاقت نہیں ہوتی ہے۔

یہ معنی بھی ہو سکتے ہیں کہ نظر قدموں پر ہونی چاہیے تاکہ اغیار کے چہروں پر نہ پڑے کیوں کہ اغیار کے چہروں پر نظر بھی صوفیہ کرام کے یہاں ممنوع و محظو رہے کیوں کہ قلوب صافیہ ان صاف و شفاف آئینوں کی طرح ہوتے ہیں جن میں ان چیزوں کا عکس آجاتا ہے جو اس کے مقابل ہوتی ہیں بعض دلوں میں جو قساوت اور سنگدلی ہوتی ہے یا برے اخلاق اور غلط تفکرات ہوتے ہیں قلوب صافیہ میں وہ بھی منعکس ہو جاتے ہیں جس وقت ان چہروں پر نظر پڑتی ہے جو ایسے اشخاص کے ہوتے ہیں نیز یہ معنی بھی ہو سکتے ہیں کہ نظر قدموں پر اس لیے چاہیے تاکہ حسین اور خوبصورت چہروں پر نہ پڑے کیوں کہ اکثر ایسے چہرے دیکھنے سے دل ان کی طرف راغب ہو جاتا ہے اور یہ رغبت وصول الی اللہ سے روکتی ہے۔

ظاہری و لغوی مفہوم سے ہٹ کر یہ بھی ہو سکتا ہے کہ یہ کلمہ علو ہمت سے کنایہ ہو کیوں کہ عالی ہمت سالک حق کے سوا کسی کو نہیں دیکھتا ہے، تواضع سے بھی کنایہ ہو سکتا ہے جو لوگ متواضعین اور متکبرین کے احوال و اوضاع سے واقف ہیں وہ اچھی طرح اس کو سمجھ سکتے ہیں کہ متواضع عموماً سرنگوں ہوتا ہے یہ بھی ہو

سکتا ہے کہ اس کلمہ میں ایک سنت پر تنبیہ ہو کیوں کہ سرور کون و مکاںﷺ چلتے وقت دائیں بائیں جانب نہیں دیکھتے تھے بلکہ قدموں کی جانب دیکھتے تھے۔

نظر بر قدم کے معانی امام ربّانی قدس سرہ کی زبانی:

نظر بر قدم کا ایک مفہوم وہ ہے جسے ہم نے باطنی کہا ہے جس کا تعلق مقامات سلوک سے ہے۔ حضرت مجدد قدس سرہ فرماتے ہیں کہ سلوک میں نظر بر قدم سے مراد یہ ہے کہ نظر ہمیشہ اوپر رہے اور قدم اس کے پیچھے آئے کیوں کہ بلند زینوں پر چڑھتے وقت پہلے نظر بلند زینوں پر پڑتی ہے پھر قدم نظر کے مقام تک پہنچتا ہے پھر نظر اس سے اوپر کے زینے پر پڑتی ہے اور قدم نظر کی پیروی میں بلندی کی طرف چڑھتا ہے علیٰ ھٰذا القیاس۔

دوم یہ معنی بھی ہو سکتے ہیں کہ اثناے سلوک میں نظر قدم سے اوپر یعنی آگے جاتی ہے اور قدم پیچھے رہ جاتا ہے۔ اس کی تفصیل یہ ہے کہ قدم کی انتہا سالک کی استعداد کے انتہاے مراتب تک ہے بلکہ اس کی انتہا میں استعداد تک جس کے زیر قدم وہ سالک ہے لیکن پہلا قدم (جو خود استعداد سالک کے انتہاے مراتب تک اٹھتا ہے) بالاصالت اور دوسرا قدم (جو نبی کی انتہاے استعداد تک جاتا ہے) اس نبی کی پیروی میں اور ان دونوں استعدادوں کے مراتب سے اوپر اس سالک کا قدم نہیں جا سکتا ہے لیکن نظر جا سکتی ہے۔

اور یہ نظر جب تیزی پیدا کر لیتی ہے تو اس کا منتہی اس نبی کی نظر کے مراتب کا منتہی ہوتا ہے جس کے قدم پر وہ سالک ہے کیوں کہ کامل پیروکاروں کے لیے اس نبی کے تمام کمالات سے حصہ ہے لیکن مراتب استعداد کی نہایت جو سالک کی اصالت و تبعیت ہے قدم اور نظر آپس میں موافقت رکھتے ہیں اس کے بعد قدم کوتاہ ہو جاتا ہے اور اکیلی نظر ہی اوپر کو چڑھتی جاتی ہے اور اس نبی کی مراتب نظر

کے نہایت تک ترقی کرتی ہے۔

اس سے یہ بھی معلوم ہو گیا کہ انبیا علیہم الصلوات و التسلیمات کی نظر بھی ان کے اقدام سے اوپر صعود فرماتی ہے اور ان بزرگوں کے کامل پیروکاروں کو ان کی نظروں کے مقامات سے حصہ ملتا ہے جس طرح ان کے قدموں کے مقامات سے اور خاتم الانبیا علیہ و علیہم الصلوات و التسلیمات کے قدم مبارک کے اوپر مقام رویت ہے جس کا دوسروں کے لیے آخرت میں وعدہ جو دوسروں کے لیے ادھار ہے اور آپ کے لیے نقد ہے آپ کے کامل پیروکاروں کو بھی اس مقام سے حصہ حاصل ہے۔

حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی‌رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ظاہری مفہوم بیان کرنے کے بعد فرماتے ہیں کہ میں نے اپنے والد قدس سرہ کو فرماتے سنا ہے کہ یہ مبتدی کی بنسبت ہے ورنہ منتہی پر واجب ہے کہ اپنے حال میں غور و فکر کرے کہ کس نبی کے زیر قدم ہے پھر جب اپنے پیشوا کو پہچان لے تو چاہیے کہ اس کے حالات و واقعات اس کے پیشوا کے حالات و واقعات کے مناسب ہوں۔

سلوک مجددی:

مظہر تجلیات رحمانی، محبوب سبحانی امام ربّانی مجدد الف ثانی حضرت شیخ احمد فاروقی سرہندی قدس سرہ النورانی کو خالق کائنات جل جلالہ نے وہ عالی کمالات اور جامع صفات انسان بنایا کہ اولیاے کرام میں آپ جیسے انسان بہت کم پیدا ہوئے۔ سرہند کی سرزمین کو یہ فخر حاصل ہے کہ آپ جیسا لعل اس کی آغوش میں آرام فرما ہے۔ آپ کے آنے سے شریعت احمدیہ علیٰ صاحبہا الصلاۃ وا لسلام کو ایک نئی تازگی اور جان ملی۔ نسبت نقشبندیہ اپنے بام عروج پر پہنچ گئی۔ آپ کے خالق ومحب نے آپ کو ایک نرالا طریقہ جدیدہ عطا فرمایا جس پر چل کر لاکھوں نہیں کروڑوں راہ خدا

کے مسافر منزل مقصود پر پہنچے اور مطلوب حقیقی کی دولت وصال سے مالال ہوئے اور قرب و منزلت کی ان حدوں میں داخل ہو گئے جہاں تجلی ذات بے پروۂ صفات ان کا دائمی نصیب بن گئی۔ رب اکبر ان کی قبر کو رحمتوں کا گلشن بنائے جنھوں نے ہم کو ایسا طریقہ عطا فرمایا جو سب سے اسہل تر سب سے قریب تر اورکم محنت میں سب سے مفید تر ہے۔

خصائص طریقہ احمدیہ:

جاننا چاہیے کہ حضرت مجدد قدس سرہ کی ذات اقدس سے جو خصائص نقشبندی سلسلے میں شامل ہوئے اور جن کی وجہ سے وہ ایک مستقل طریقہ مجددیہ ہو گیا ان کا خلاصہ درج ذیل سطور میں ملاحظہ فرمائیں جن کی تفصیل آئندہ صفحات میں ہدیہ ناظرین ہوگی۔ طریقہ مجددیہ کے خصائص بہت ہیں جن میں بعض یہ ہیں:

پہلی خصوصیت:

مجددی طریق کی ایک خصوصیت یہ ہے کہ آپ کے نزدیک انسان دس لطائف سے مرکب ہے ان میں پانچ عالم امر سے اور پانچ عالم خلق سے تعلق رکھتے ہیں اور پانچ یہ ہیں؛ قلب، روح، سِر، خفی، اخفیٰ، اور دوم یہ ہیں؛ لطیفہ آب، خاک، ہوا، نار یعنی عناصر اربعہ اور نفس ناطقہ ان اجزا کے علاوہ جو قویٰ اور جوارح ہیں وہ انھی کی طرف راجع ہیں۔ یہ اجزا مذکورہ ایک دوسرے کے مخالف ہیں عناصر اربعہ کا باہم مخالف ہونا ظاہر ہے اسی طرح عالم امر اور خلق کے مابین تضاد بھی روشن ہے نیز عالم امر کے لطائف پنج گانہ بھی باہم جدا جدا خصوصیات اور کمالات رکھتے ہیں۔ اسی طرح نفس ناطقہ خود اپنی خواہشات کا طالب ہے وہ کسی کے سامنے سر نہیں جھکاتا ہے۔

خلاصہ یہ کہ آپ کے نزدیک ان لطائف میں سے ہر ایک کو بدن کے ایک مخصوص عضو سے تعلق و ارتباط ہے اور ہر ایک میں ایک حرکت ہے نبض کی مانند

اس حرکت کی حفاظت آپ کے نزدیک بڑی اہم چیز ہے۔ اسی طرح ان لطائف کے انوار و اثرات بھی جدا جدا ہیں۔ متقدمین مشائخ نقشبندیہ قدس اللہ تعالیٰ اسراہم کے نزدیک حضور حق کے غلبہ و استیلا کا نام لطائف ہے، ان بزرگوں کے نزدیک اگر حضور حق حضور خلق کے برابر ہے تو یہ ذکر قلب ہے اور اگر حضور حق غالب ہے تو ذکر روح ہے اور اگر حضور حق حضور خلق کی غیبت کے ساتھ ہے تو ذکر سِر اور اگر حضور حق خود سالک اور حضور خلق کی غیبت کے ساتھ ہے تو ذکر خفی۔

دائرہ امکان:

معلوم ہونا چاہیے کہ حضرت مجدد الف ثانی قدس سرہ نے تین ولایات و تین کمالات و حقائق وغیرہ قرار دیے ہیں ان کے علاوہ کی طرف بھی اشارہ فرمایا ہے ہر ایک کے جدا جدا حالات و کیفیات اور علوم و معارف ہیں اللہ تعالیٰ کے قول رفیع الدرجات اور حدیث مبارک لایزال العبد یتقرّب الیّ الخ میں انھی کی طرف اشارہ ہے۔ یہ مراتب قرب اگرچہ بے چون و بے چگون ہیں مگر حضرت مجدد رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ان کو دائرہ سے تعبیر کیا ہے کیوں کہ صاحب کشف سالک کو یہ مراتب عالم مثال میں دائروں کی شکل میں نظر آتے ہیں چناں چہ تمام عالم نظر کشفی میں بصورت دائرہ نظر آتا ہے اور عرش مجید اس دائرہ کا قطر دکھائی دیتا ہے۔

خداے تعالیٰ کی تمام کائنات کو عالم کبیر یا دائرہ امکان کہتے ہیں چوں کہ دائرہ بے جہت ہوتا ہے سالک کو بنظر کشفی یہ عالم دائرہ ہی کی شکل میں مکشوف ہوتا ہے۔ اس دائرہ کے ہر دو حصے میں نچلے حصے کو نصف سافل اور اوپری کو نصف عالی کہتے ہیں جو چیز ان دونوں حصوں کی تنصیف کرتی ہے وہ در اصل عرش ہے عرش سے لے کر منتہاے فرش تک یعنی نصف سافل کو عالم خلق اور عرش کے اوپر والے نصف کو عالم امر کہتے ہیں عرش خود بھی عالم خلق میں داخل ہے۔

عرش کے اوپر عالم امر کے لطائف کے اصول موجود ہیں مذکورہ بالا ترتیب کے موافق عالم امر کا آغاز لطیفہ قلب کی اصل سے ہوتا ہے عرش اور اصل لطیفہ قلب کے مابین جو جگہ ہے وہ برزخ کہلاتی ہے خیال رہے کہ اجسام اور اشخاص سب کی جائے قرار عالم خلق ہے عرش کرسی، لوح و قلم، جنت و دوزخ، آسمان و زمین وغیرہ سب اسی میں داخل ہیں۔ اسی طرح عناصر اربعہ وغیرہ کا تعلق اسی سے ہے۔ اس عالم کے بھی دو حصے ہیں ایک نیچے سے شروع ہو کر آسمان دنیا تک جاتا ہے۔ اس حصہ کا نام عالم ملک ہے اور دوسرا حصہ اس آسمان سے شروع ہوتا اور عرش پر ختم ہوتا ہے اس کا عالم ملکوت ہے۔

دائرہ امکان کا نصف عالی جو اصل لطیفہ قلب سے شروع ہو کر لطیفہ اخفیٰ کی اصل تک پہنچ کر ختم ہوتا ہے اور جس کو عالم امر کہتے ہیں تمام مخلوقات کے اصول، جمیع ممکنات کے حقائق اور سارے جانداروں کی روحوں کا مأویٰ و مسکن یہی عالم ہے، عالمِ ارواح اور عالم مثال کا تعلق اسی سے ہے۔ یہ پورا عالم اللہ تعالیٰ کی صفات اور اسما کی تجلیات کا مظہر ہے جو بھی چیز ظاہر ہوئی یا ہوگی خداوند قدوس کی بے انتہا تجلیات صفات میں سے کسی تجلی سے وابستہ ہے پھر ان تجلیات سے وابستگی بعض بزرگوں کی بلاواسطہ یعنی اصالۃً ہے جیسے انبیاے کرام اور فرشتے ، یہ بزرگ اپنی صفائی طبع اور بلندی استعداد کی وجہ سے ظلال کے واسطوں کے محتاج نہیں بلکہ تجلیات سے تعلق اصالۃً ہوتا ہے پھر یہاں بھی دو صورتیں ہیں تجلیات صفات سے بلا واسطہ تعلق اگر تجلی ذاتی کے ساتھ امتزاج کے بغیر ہوگا جیسے انبیاے کرام کا یا امتزاج کے ساتھ جیسے ملائکہ عظام کا۔

اور بعض اپنی کم ظرفی اور قصور ہمت کی وجہ سے بلا واسطہ تجلیات سے وابستگی کی قابلیت نہیں رکھتے ہیں ۔ لہٰذا ان کا تعلق پہلے تجلیات صفات کے ظلال سے ہوتا

ہے اور ظلال کے انوار سے پر نور ہونے کے بعد جب تجلیات صفات سے کچھ مناسبت پیدا کر لیتے ہیں اور قوت پرواز حاصل ہو جاتی ہے اس وقت تجلیات صفات کے پردوں تک پہنچ جاتے ہیں۔

عالم امر و خلق کی وجہ تسمیہ:

عالم خلق در اصل اس کو کہتے ہیں جس کی تخلیق اور پیدائش کا تعلق علتوں اور اسباب سے اور مدت و زمانے سے ہو اور نشأ و نما ایک قانون کے تحت ظاہر ہو اور اس دائرہ کا نصف سافل ایسا ہی ہے اس لیے اسے عالم خلق کہتے ہیں اس کے برخلاف جو عالم امر ہے اس کے ظہور اور تخلیق میں مادہ و اسباب وغیرہ کو دخل نہیں ہوتا ہے بلکہ محض اللہ تعالیٰ کے امر یعنی حکم سے موجود ہو جاتا ہے اس کے ظہور کے لیے کوئی مدت بھی نہیں ہوتی ہے بلکہ جوں ہی امر ہوا فوراً وہ شے ظاہر ہو گئی دائرہ کے نصف عالی کی یہی کیفیت ہے اسی لیے عالم امر کہتے ہیں، یہ دونوں لفظ صوفیہ کرام نے حق سبحانہ کے قول الا لہ الامر والخلق سے لیے ہیں دائرہ امکان کی شکل یہ ہے۔

امر و خلق کے کمالات:

عالم امر و خلق کے اجزا کے جدا جدا کمالات و اوصاف ہیں کمالات کے تعین میں کسی کی نظر کہیں تک پہنچی کسی کی کہیں تک یہی وجہ ہے کہ صوفیہ کرام میں اس سلسلے میں اختلاف ہو گیا کہ آیا عالم امر کے اجزا افضل ہیں یا عالم خلق کے ۔ عام طور پر صوفیہ کرام اول کی افضلیت کے قائل ہیں میری نظر میں اس اختلاف کا خاص سبب یہ ہے کہ اجزاے عالم خلق کے کمالات در اصل اس وقت نظر آتے ہیں جب سالک ولایت کے تنگ کوچوں سے نکل کر کمالات نبوت کی شاہراہ پر گامزن ہوتا ہے یا ولایت کے نقطہ عروج پر پہنچ جاتا ہے اکثر بزرگوں کی رسائی ولایات کے

حدود میں رہی ہے باہر قدم نہیں نکالا اس لیے ان کی نظر میں عالم امر کی نورانیت وغیرہ رہی اور اجزاے عالم خلق کے کمالات نظروں سے بالکل اوجھل رہے اس لیے عالم امر کو افضل قرار دیا۔

حضرت مجدد قدس سرہ جیسے بلند نظر عظیم قوت پرواز رکھنے والے بزرگوں نے خلق و امر دونوں کے کمالات کو تفصیل سے دیکھا تو کمالات عالم خلق کی برتری ان کی نظر میں کئی وجوہ سے ثابت ہوگئی۔

افضلیت کے چار وجوہ:

اجزاے عالم خلق اجزاے عالم امر سے افضل ہیں اس کی چار وجوہ حضرت مجدد قدس سرہ کے مکتوبات سے نقل کرتا ہوں؛ ایک وجہ یہ کہ عالم کے پنج گانہ لطائف و مراتب کا عروج دائرہ اسما و شیونات تک ہے اس کے بعد متعدد دائرے رہ جاتے ہیں جن کی سیر کرنے کے بعد اسم الظاہر کی سیر مکمل ہوتی ہے پھر اسم الباطن کی سیر پیش آتی ہے اس کے جو ترقیات و عروج واقع ہوتا ہے وہ ترقیات اصالت کے طور پر عنصر ناری، ہوائی، آبی کی نصیب ہیں پھر بہت آگے جا کر جب وہ کمالات حاصل ہوتے ہیں جو مقام نبوت سے ناشی ہوتے ہیں اور انبیاے کرام کے کامل تابعداروں کو ان کمالات سے حصہ ملتا ہے اس مقام میں بالاصالت یہ کمالات عنصر خاکی کو عطا ہوتے ہیں باقی تمام اجزاے انسانی خواہ وہ عالم امر سے ہوں یا خلق سے اس مقام میں اس عنصر پاک کے تابع ہیں اور اس کے طفیل اس دولت سے مشرف ہوتے ہیں اور یہ عنصر چوں کہ بشر کے ساتھ مخصوص ہے اس لیے خواص بشر خواص ملک سے افضل ہوگئے۔ اس بیان سے دو باتیں ثابت ہوئیں؛ ایک تو یہ کہ اجزاے خلق افضل ہیں اجزاے امر سے، دوم خود اجزاے خلق میں سب پر عنصر خاک کو برتری حاصل ہے۔

حضرت مجدد قدس سرہ ایک مقام پر فرماتے ہیں: وہ کمالات جو عالم امر سے تعلق رکھتے ہیں ان کمالات کے لیے جو عالم خلق سے متعلق ہیں مقدمات اور زینوں کی طرح ہیں عالم امر کے کمالات ظلیت سے خالی نہیں ہیں اور مقامات ولایت سے مخصوص ہیں اور عالم خلق کے کمالات ظلیت کی آمیزش سے خالی ہو کر مقامات نبوت سے کامل حصہ پایا ہے اس نشأ دنیویہ کے ظہورات کے مناسب یہی ہے

وسری وجہ یہ کہ انبیاے کرام علیہم الصلوات و التسلیمات نے دعوت حق کو عالم خلق پر منحصر رکھا ہے اور چوں کہ قلب کو عالم خلق سے زیادہ مناسبت تھی اس لیے اس کی تصدیق کی بھی دعوت فرمائی اور قلب کے وقت ماسوا کی نسبت کچھ نہ فرمایا بلکہ اس کو مطروح فی الطریق کی طرح سمجھا، ہاں بہشت کی نعمتیں اور دوزخ کے رنج و الم اور دیدار کی دولت اور حرمان کی بدبختی سب عالم خلق سے وابستہ ہے عالم امر کے ساتھ ان کو کچھ تعلق نہیں لہٰذا انھیں تفصیل سے بیان فرمایا۔

تیسری وجہ یہ کہ جو عمل فرض و واجب و سنت ہیں ان کا بجالانا قالب سے تعلق رکھتا ہے جو کہ عالم خلق سے ہے اور نوافل عالم امر کا نصیب ہیں پس وہ قرب جو ان اعمال کو ادا کرنے کا ثمرہ اور نتیجہ سے اعمال کا اندازہ کے موافق ہوگا چوں کہ پس ناچار وہ قرب جو فرائض ادا کرنے کا ثمرہ ہے عالم خلق کا نصیب ہوگا اور جو اداے نوافل کا ثمرہ ہے وہ عالم امر کا نصیب اور شک نہیں کہ نفل فرض کے مقابلے کچھ بھی قابل شمار نہیں غرضیکہ نوافل و فرائض کے قرب میں اتنا فرق ہے تو یہ جس کے نصیب ہیں ان میں بھی بہت فرق ہوگا۔

چوتھی وجہ یہ ہے کہ عالم امر نے آج اس دنیا میں اپنا پورا حصہ لے لیا ہے اور مشاہدہ و معائنہ حاصل کیا ہے کل بہشت میں معاملہ عالم خلق سے متعلق ہوگا اور بلا کیف دیدار اسی کو میسر ہوگا نیز مشاہدہ کا جس سے تعلق ہوتا ہے وہ ظلال وجوب میں

سے ایک ظل ہے اور آخرت میں خود واجب الوجود کا دیدار ہوگا ظل کا نہیں۔ پس جس قدر رویت اور مشاہدہ کے مابین اور اصلیت و ظلیت کے درمیان فرق ہے اسی قدر فرق عالم خلق و امر کے درمیان ہے۔ خیال رہے مشاہدہ ولایت کا اور رویت نبوت کا ثمرہ ہے۔