باب ۵ از ۲۲صفحات ۵۶–۶۷
تقلید شخصی کا فائدہ
ایک روز تقلید شخصی کا فائدہ بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ حضرت امام اعظم علیہ الرحمۃ کا استنباط اور آپ کا زہد و تقویٰ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں منظور و مقبول ہو چکا ہے۔ مسائل شرعیہ بنفس ذاتہا تو خوب صورت تھے ہی اب حضرت امام اعظمرحمۃ اللہ علیہ کے خلوص کی وجہ سے یہ عنایت اللہ تعالیٰ نے حضرت امام اعظم علیہ الرحمۃ پر فرمائی کہ جو کوئی آپ کے استنباط پر عمل کرے اس کے کسب و عمل میں بھی یہ طاقت آجاتی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں منظوری و قبولیت کے لائق ہو جاتے ہیں ہر شخص کی ذاتی تحقیق میں یہ طاقت نہیں ہو سکتی ہے کہ بارگاہ خداوندی میں منظور و مقبول ہو سکے اس لیے حضرت امام اعظمرحمۃ اللہ علیہ کے استنباط اور طریقہ پر عمل کرنا ضروری ہے۔
عرس:
اولیاے کرام و بزرگان دین کے اعراس بھی اہل سنت و جماعت کے نزدیک جائز و مستحسن ہیں اور حصول فیض کا ذریعہ ہیں اہل حق کے نزدیک عرس سے مراد وہ نہیں ہیں جن میں قوالیاں ناجائز طریقے سے ہوں اور دیگر ناجائز و حرام امور پر مشتمل ہوں بلکہ وہی اعراس جائز ہیں جو مباح اور جائز امور پر مشتمل ہوں۔ اہل باطل کے یہاں یہ بھی شرک و بدعت کی حدود میں داخل ہے۔ میں چند نقشبندی بزرگوں کے اقوال قلم بند کر رہا ہوں، توجہ سے مطالعہ فرمائیں:
۱۔حضرت مجدد قدس سرہ در ایام عرس حضرت خواجہ جیو قدس سرہ بحضرت
دہلی رسید بخاطر داشت کہ در ملازمت علیہ نیز بر مسند دریں اثنا خبر کوچ منتشر گشت بضرورت توقف نمودہ بچند کلمہ نامربوط تصدیع دہ گشت اگر در حضور است و اگر در غیبت بہمگی ہمت خواہاں سلامتی ایشاں است از آنچہ نباید و نشاید۔’’ (مکتوب: ۲۳۳، دفتر اول)
یعنی حضرت خواجہ جیو (خواجہ باقی باللہ قدس سرہ) کے عرس کے دنوں میں دہلی حاضر ہو کر ارادہ تھا کہ آپ کی خدمت میں بھی پہنچے، اسی اثنا میں روانگی کی خبر پھیل گئی، اس لیے توقف کرکے چند نامربوط کلمات سے آپ کو تکلیف دی ہے، فقیر خواہ حضور میں ہو یا غائب ہردم آپ کے لیے دعا گو ہے کہ اللہ تعالیٰ آپ کو ہر نامناسب اور نالائق امر سے سلامت رکھے۔’’
حضرت مجدد قدس سرہ کے کلام سے روشن ہے کہ حضرت خواجہ باقی باللہ قدس سرہ کا عرس ہوتا تھا اور حضرت مجدد صاحب قدس سرہ اس میں شرکت کرکے اکتساب فیض کرتے تھے۔ سرہند سے دہلی تک کافی دور ہے، پھر اس زمانے کی بات ہو رہی ہے جب کہ سفر بہت دشوار ہوتے تھے نہ ٹرینیں تھیں نہ بسیں اگر عرس برکات و انوار کا حامل نہیں تھا بلکہ خلاف سنت تھا تو حضرت مجدد جیسے متبع سنت انسان سے شرکت کی توقع کیسے ہو سکتی تھی۔
۲۔حضرت مجدد صاحب قدس سرہ کا بھی عرس ہوتا تھا اور آج بھی ہوتا ہے۔ حضرت مجدد صاحب قدس سرہ کا عرس پہلے آپ کے جانشین و خلیفہ اور اتباع سنت میں حضرت مجدد صاحب کے قدم بقدم چلنے والے یعنی حامل لوائے احمدی سیدنا خواجہ محمد معصوم سرہندی قدس سرہ کیا کرتے تھے، مکتوبات معصومیہ کے شروع میں جو حالات حضرت خواجہ معصوم صاحب قدس سرہ کے درج ہیں۔ ذکر ارتحال میں یہ تحریر ہے:
آوردہ اند کہ در ایام عرس جناب حضرت مجدد الف ثانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہ بجہت نیاز عرس ایشاں طعام تیار میکردند و جناب حضرت عروۃ الوثقیٰ در شدت مرض بودند چہ عرس جناب حضرت مجدد الف ثانی بیست ہشتم شہر صفر المظفر واقع است الیٰ آخرہ۔
یعنی بیان کیا جاتا ہے کہ جناب حضرت مجدد الف ثانی قدس سرہ کے عرس کے دنوں میں آپ کے عرس کی نیاز کے لیے حضرت خواجہ کھانا تیار کیا کرتے تھے اور حضرت خواجہ محمد معصوم مرض کی شدت میں تھے کیوں کہ حضرت مجدد صاحب قدس سرہ کا عرس ماہ صفر کی اٹھائیس تاریخ کو ہوتا ہے اور حضرت معصوم قدس سرہ کا وصال ماہ ربیع الاول شریف کی ۹ تاریخ کو ہوا (عرس و وصال کے) درمیان میں گیارہ روز سے زیادہ فاصلہ نہیں تھا اور حضرت خواجہ محمد معصوم شدت مرض کی کثرت کی وجہ سے طعام کی تقسیم کے وقت میں حاضر نہیں ہو سکتے تھے اس لیے حکم دیا کہ بلائے گئے مردوں کو کھانا دیں جب طعام باہر لائے اور لوگوں کے پاس رکھا اور لوگ کھانے میں مشغول ہو گئے حضرت عروۃ الوثقیٰ قدس سرہ اپنی پالکی میں بیٹھے اور مجلس میں تشریف لائے لیکن کثرت ضعف کی وجہ سے پالکی سے باہر نہیں آسکتے تھے اس لیے اسی میں بیٹھے رہے اور پرہیزی کھانا جو آپ کے لیے تیار کیا گیا تھا لوگ حاضر لائے آپ بھی ان لوگوں کے ساتھ جن کو دعوت دی گئی تھی پرہیزی کھانے میں مصروف ہوئے۔’’ (منتخبات از مکتوبات معصومیہ، ص: ۲۷، ۲۸)
مقامات مظہریہ میں حضرت وارث علوم سید المرسلین خواجہ غلام علی دہلوی مجددی قدس سرہ خلیفہ و جانشین حضرت قیم طریقہ احمدیہ خواجہ مرزا مظہر جان جاناں شہید قدس سرہ اپنے مرشد کا ایک کشف یہ نقل کرتے ہیں:
حضرت مرزا مظہر جان جاناں فرماتے تھے کہ خواب میں میں نے دیکھا کہ وسیع صحرا میں ایک بڑا چبوترہ ہے، بہت سے اولیاے کرام اس جگہ بصورت حلقہ مراقب ہیں اور وسط میں حضرت خواجہ بہاء الدین نقشبند قدس سرہ دو زانو اور حضرت خواجہ جنید قدس سرہ محتبیٰ بیٹھے ہیں اور ماسوا سے استغنا کے آثار اور فنا کے حالات و کیفیات سید الطائفہ حضرت جنید بغدادی قدس سرہ پر ظاہر ہیں، تمام لوگ اس جگہ سے اٹھے، میں نے کہا کہاں جا رہے ہیں، کسی نے کہا حضرت امیر المؤمنین علی کرم اللہ وجہہ کے استقبال میں گئے۔ پس حضرت علیرضی اللہ عنہ تشریف فرما ہوئے۔ ایک شخص گدڑی اوڑھے سر اور پیر برہنہ ہیں، بال بکھرے ہوئے حضرت علیرضی اللہ عنہ کے ساتھ ظاہر ہوئے۔ حضرت علی اس شخص کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں کمال تواضع و تعظیم کے ساتھ پکڑے ہوئے ہیں۔ میں نے کہا یہ کون ہیں، کسی نے کہا خیر التابعین حضرت اویس قرنی ہیں، پھر اس جگہ ایک بہت صاف ستھرا حجرہ جو غایت درجہ نورانی تھا ظاہر ہوا، تمام لوگ اس حجرہ میں چلے گئے، میں نے کہا کہاں گئے، کسی نے کہا آج حضرت غوث الثقلین قدس سرہ کا عرس ہے، عرس کی تقریب میں تشریف لے گئے۔ اصل الفاظ یہ ہیں:
امروز عرس حضرت غوث الثقلین است بتقریب عرس تشریف بروند۔ (مقامات مظہریہ، ص: ۶۰)
یہ مقامات اور مکشوفات اگرچہ کسی حکم کے لیے حجت نہیں بن سکتے ہیں مگر جب کسی شے کے جواز و استحسان پر دلائل قائم ہو جائیں تو ایسے اولیاے کرام کے مکشوفات موجب اطمینان قلب ضرور ہوتے ہیں۔
ایصال ثواب:
اہل سنت و جماعت کے یہاں ایصال ثواب کی جو کثیر و متعدد صورتیں ہیں
ان میں سے ایک یہ بھی ہے کہ طعام پر یا شیرنی پر چند سورتیں تلاوت کرکے ایصال ثواب کرتے ہیں منکرین میں مختلف طرح کے لوگ ہیں۔ کوئی نفس ایصال ثواب ہی کا منکر ہے اور کوئی ایصال ثواب کا منکر تو نہیں مگر یہ کہتا ہے کہ طعام پر سورتیں پڑھنے کی کیا ضرورت، کوئی کہتا ہے طعام سامنے رکھ کر ایصال ثواب کرنا بدعت، کوئی کہتا ہے یہ کھانا وغیرہ سے کیا پہنچتا ہے؟ کوئی کہتا ہے جب ایصال ثواب کرایا گیا تو اسے صرف غربا ہی کھا سکتے ہیں مگر ہمیں یہاں صرف حضرت مجدد صاحب اور عقیدت مندوں قدس اسرارہم کے معتقدات اور معمولات دکھانا ہے، قارئین سمجھ لیں گے کہ حضرت مجدد صاحب وغیرہ طعام وغیرہ پر ایصال ثواب کرتے تھے اور جس کے نام ایصال ثواب کیا جاتا ہے اس کو پہنچتا ہے۔
عبادات نافلہ کا ثواب دوسروں کو بخش دینا بہتر ہے:
حضرت مجدد صاحب قدس سرہ فرماتے ہیں:
‘‘ایضاً پرسیدہ بودند کہ ختم کلام اللہ کردن و نماز نفل گزاردن و تسبیح و تہلیل کردن و ثواب آنرا بوالدین یا باستاد یا باخوان دادن بہتر است یا بکسے ندادن بہتر، بدانند کہ دادن بہتر است کہ ہم نفع بغیر است و ہم نفع بخود و در نادادن نفع مخصوص بخود ست و نیز شاید بطفیل دیگراں آں عمل را قبول فرمایند والسلام۔ (مکتوب: ۷۷، دفتر دوم)
ترجمہ: نیز پوچھا تھا کہ کلام اللہ کا ختم اور نماز نفل پڑھنا اور تسبیح و تہلیل کرنا اور اس کا ثواب ماں باپ یا استاد یا بھائیوں کو بخشنا بہتر ہے یا نہیں، معلوم ہو کہ ثواب بخشنا بہتر ہے کیوں کہ اس میں غیر (ماں باپ وغیرہ) کا بھی نفع ہے اور اپنا بھی نفع ہے اور نہ بخشنے میں نفع اپنے ساتھ مخصوص ہے نیز ہو سکتا ہے کہ دوسروں کے طفیل اس عمل کو اللہ تعالیٰ قبول فرما لے۔’’
حضرت مجدد صاحب قدس سرہ نے اپنی اس عبارت سے ایصال ثواب کے دو
اہم فائدے بیان فرما دیے؛ ایک تو دوسروں کو نفع پہنچانا، دوم ہو سکتا ہے انھی کے طفیل قبول ہو جائے۔ کتنے اہم فائدے ہیں، اسی بنا پر بہت سے اہل سنت کثرت سے ایصال ثواب کرتے ہیں۔
کھانا وغیرہ پہنچنا:
مکتوب: ۳۶، دفتر دوم میں بیان فرماتے ہیں کہ چند (سال) پہلے فقیر کا طریقہ تھا کہ اگر کھانا پکاتا تو اس کا ثواب اہل عبا کی ارواح پاک کو خاص کر نذر کر دیا جاتا جس میں سرکار علیہ السلام اور حضرت علی و حضرت فاطمہ و حضرات امام حسن و امام حسینرضی اللہ عنہم کو شامل کر لیتا۔ ایک رات خواب میں دیکھا کہ سرکار علیہ و علیٰ آلہ الصلاۃ و السلام تشریف فرما ہیں، فقیر نے سلام عرض کیا تو آپﷺ فقیر کی طرف متوجہ نہ ہوئے اور رخ انور دوسری جانب پھیر لیا، اسی اثنا میں فقیر سے فرمایا کہ میں عائشہ (رضی اللہ عنہا) کے گھر میں کھانا کھاتا ہوں جو کوئی مجھے کھانا بھیجے تو عائشہ کے گھر بھیجے، اس وقت فقیر کو معلوم ہوا کہ سرکار علیہ السلام کے توجہ نہ فرمانے کا سبب یہ تھا کہ میں حضرت عائشہ صدیقہرضی اللہ عنہا کو اس طعام میں شریک نہیں کرتا تھا، اس کے بعد حضرت عائشہ صدیقہ بلکہ تمام ازواج مطہرات کو کہ سب اہل بیت ہیں شریک کرتا اور تمام اہل بیت کو اپنے لیے وسیلہ بناتا۔
آپ کے اصل الفاظ حفظ کے لائق ہیں:
دریں اثنا بفقیر فرمودند کہ من طعام در خانۂ عائشہ می خورم ہر کہ مرا طعام فرستد در خانہ عائشہ فرستد۔
اور اخیر کا جملہ یہ ہے: بلکہ سائر ازواج مطہرات را کہ ہمہ اہل بیت اند شریک می ساخت و بجمیع اہل بیت توسل می نمود۔’’
حضرت مجدد قدس سرہ کے اس مبارک کلام سے جہاں یہ معلوم ہوا کہ جس
چیز پر فاتحہ ہوگی وہ اس کو پہنچےگی جس کے نام فاتحہ ہوگی وہیں ایک نیا فائدہ یہ بھی معلوم ہوا کہ بزرگوں کو ایصال ثواب کرنے میں در اصل اپنی حاجات و مشکلات کو حل کرنے میں بزرگوں کو وسیلہ بنانا ہے ، یہ بڑی بہترین نشان دہی ہے۔
حل مشکلات کے لیے بزرگوں کی امداد لینے کا بہت عمدہ طریقہ ہے جب پہلے ان کی روحانیت کو ایصال ثواب ہوگا یقیناً ان کی روحانی توجہ زیادہ ہوگی حضرت سیدنا غوث اعظم دستگیر یا حضرت سیدنا خواجہ بہاء الدین نقشبند مشکل کشا رضی اللہ تعالیٰ عنہما وغیرہ کے نام پر ڈیگیں پکتی ہیں اسی مقصد سے پکتی ہیں۔ خداوند قدوس شرک کی رٹ لگانے والوں کو سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے، آمین۔
ایصال ثواب کے بارے میں کشف:
۱۔حضرات القدس میں ہے کہ ایک مرتبہ آپ (حضرت مجدد صاحب) نے اپنے ان صاحب زادوں کی فاتحہ کے لیے کھانا تیار کرایا جو آپ کے سامنے وفات پا چکے تھے۔ آپ فرماتے تھے کہ توجہ کثیر کے بعد وہ کھانا مقبول ہوا اور ایسا مکشوف ہوا کہ ملائکہ کھانے کے خوان لا رہے ہیں اور ان کی قبروں پر پہنچا رہے ہیں اور بہشت کے ایک چمن میں اس کو جمع کر رہے ہیں، جب وہ سب کھانا وہاں جمع ہو گیا تو میں نے دیکھا کہ میرے فرزند اس کھانے کے پاس گئے اور وہ تمام کھانا ان کے پیٹ میں پہنچ گیا۔ اس کے بعد دیکھا کہ ان میں اوپر جانے کی استعداد پیدا ہوئی اور وہ عروج میں مصروف ہو گئے اور جب وہ بہت اوپر گئے تو ایک بہشت ظاہر ہوئی جس میں انتہائی رفعت منزلت تازگی اور طراوت تھی۔ پس وہ سب اس بہشت میں داخل ہو گئے۔
چوں کہ آپ نے ایصال ثواب میں تمام مومنین، مومنات اور ملائکہ کو بھی شامل کر لیا تھا اس لیے آپ فرماتے تھے کہ میں نے کسی مومن اور مومنہ کی قبر کو
نہیں دیکھا جہاں وہ کھانا نہ پہنچا ہو اور کوئی بہشت ایسی نظر نہیں آئی جو اس کھانے سے خالی ہو اور میں نے یہ بھی دیکھا کہ ملائکہ میں بھی مختلف خوان بھیجے گئے اور ان کے ثواب میں کوئی کمی نہیں کی گئی۔ اسی طرح جب کبھی آپ مردوں کی روحانیت کے لیے ایصال ثواب فرماتے تھے تو اس طرح مکاشفات و معائنات ہوتے تھے۔ (حضرات القدس مترجم، ص: ۱۱۹، مطبوعہ مکتبہ نعمانیہ سیالکوٹ)
نرے ان پڑھ لوگ کہہ دیتے ہیں کہ سنی لوگ اولیاء اللہ کو گنہ گار سمجھتے ہیں جبھی تو ثواب پہنچاتے ہیں۔ حضرت مجدد صاحب کا یہ کشف اور طرز عمل گویا اس کا جواب ہے۔ ایصال ثواب سے جہاں گنہ گاروں کے گناہ معاف ہوتے ہیں وہیں گناہوں سے محفوظ حضرات کے درجات بلند ہوتے ہیں۔ وہابیت کی بنا ہی گستاخی و بے ادبی پر قائم ہوئی ہے۔ اللہ تعالیٰ کے مقدس اور پاک بندوں کی بارگاہ میں جو نازیبا کلمات و حرکات اس فرقے سے صادر ہوئیں وہ آج تک کسی سے نہیں ہوئیں۔ نمازوں کے غرور نے ان کو نامعلوم کتنا دریدہ دہن بنا دیا کہ کبھی ادب سے پُر بات زبان پر آتی ہی نہیں۔ سچ پوچھیے تو اسلام کو جتنا نقصان اس باطل فرقے سے پہنچا وہ آج تک کسی سے نہیں پہنچا۔
ایصال ثواب میں ادب:
حضرت عروۃ الوثقیٰ خواجہ محمد معصوم سرہندی قد سرہ نے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے فرمایا کہ صدقہ سب سے پہلے آقاے دو جہاںﷺ کی بارگاہ میں نذر کرے اور میت کو آپ کا طفیل بنائے،یہ بہتر طریقہ ہے، اس میں قبولیت کی امید زیادہ ہے نیز میت کے نام ثواب بخشنا ہے۔ اس کے علاوہ دیگر مومنین و مومنات کی ارواح کو بخش دے۔ ثواب کو جملہ اہل ایمان میں عام کر دینے سے کسی کے ثواب میں کمی نہیں آتی ہے جیساکہ مذکورہ بالا کشف سے بھی ظاہر ہے۔
۲۔ جناب مولوی محبوب عالم صاحب کا بیان ہے کہ ایک روز میں نے عرض کیا کہ حضور ایک شخص نے آج مجھ سے سوال کیا تھا کہ یہ جو ایصال ثواب ہے کہ کھانا وغیرہ پکا کر اللہ تعالیٰ کے واسطے کھلاتے ہیں یہ کھانا پانی وغیرہ کھانے والوں کے پیٹ میں چلا جاتا ہے پھر میت کو کیا چیز پہنچتی ہے اور اگر پہنچتی ہے تو کس طریقہ سے؟ فرمایا ہم کچھ پڑھے ہوئے تو ہیں نہیں مگر اس کے بارے میں جو بات ہم کو معلوم ہوئی وہ اس طرح ہے کہ ایک دفعہ ہم نے اپنے خواجہ صاحبرحمۃ اللہ علیہ کا ختم دلایا اور رکابیوں میں کھانا ڈال کر اور سب کے آگے چن کر ان پر فاتحہ کہلائی بحالت مکاشفہ یہ کیفیت دیکھی کہ ان رکابیوں کی نوری شکل بن گئی ہے، طعام سے بھری ہوئی اور وہ نوری شکل کی رکابیاں طعام کی بھری ہوئی آسمان پر چڑھ رہی ہیں پھر تھوڑی دیر کے بعد دیکھا کہ آسمان سے وہی نوری شکل کی رکابیاں اتر کر حضرت خواجہ صاحبرحمۃ اللہ علیہ کی قبر میں جا رہی ہیں اور آپ ان میں سے کھا رہے ہیں اس وقت ہماری سمجھ میں آیا کہ جس طرح اس بدن کی غذا یہ دنیاوی چیزیں ہیں اور بدن ان کو کھا کر مضبوط ہوتا ہے اسی طرح روح کی غذا نور ہے اور روح اسے کھا کر تقویت حاصل کرتی ہے۔ مرنے کے بعد بدن کو تو غذا کی ضرورت نہیں رہتی ہے کیوں کہ وہ فنا ہو جاتا ہے البتہ روح کو غذا کی ضرورت باقی رہتی ہے چوں کہ یہ دنیاوی کھانے روح کی غذا نہیں بن سکتے اس لیے ضروری ہوا کہ ان کھانوں کو نور سے بدلا جائے تاکہ روح کھا سکے اور نور سے بدلنے کا یہ طریقہ ہے کہ یہ طعام اللہ تعالیٰ کے واسطے اس کے بندوں کو کھلا دیا جائے پھر اللہ تعالیٰ منظور فرما کر کھلانے والوں کو اس کے بدلے نوری کھانا جیسا کہ جنت میں جنتیوں کو ملتا ہے اسی طعام کی مثل دے دیتا ہے مثلاً اگر کسی نے اللہ کے واسطے دودھ دیا تو اللہ تعالیٰ کی اس کے بدلے دودھ ہی دیتا مگر نور کا ایسے ہی کسی نے روٹی دی تو اللہ تعالیٰ اس کے بدلے دیتا تو روٹی ہی ہے مگر ہوتی
ہے وہ روٹی نور کی جیسا کہ جنتیوں کو جنت میں کھانے ملتے ہیں مگر وہ نوری کھانے ہوتے ہیں اور یہ نوری کھانا کھلانے والے کا ملک اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہوتا ہے اسی نوری بدلے کا نام اجر و ثواب ہے۔ اب اس کھلانے والے کو اختیار ہے کہ اس نوری بدلے کو اپنی ہی ملک میں رہنے دے یا کسی میت کو بخش دے اگر اپنی ہی ملک میں رکھے گا تو قیامت کے دن خود اس کے کام آئےگا اور اگر کسی میت کو بخشنا ہو تو لامحالہ ایک ایسی ذات کی ضرورت ہے جو یہاں بھی ہو اور وہاں بھی اور ایسی ذات فقط اللہ تعالیٰ ہی کی ہے جو ہر جگہ ہر وقت میں یکساں موجود ہے اسی واسطے اللہ تعالیٰ کے واسطے کھانا وغیرہ کھلا دیا جاتا ہے کیوں کہ یہ طعام جو لوگوں نے کھا ہے یہ تو ان کے پیٹ میں چلا گیا اس کا اجر و ثواب جو اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں منظور ہو چکنے کے بعد ہماری ملک ہوتا ہے ہم اس اجر ثواب کو اللہ تعالیٰ کے حوالے کر دیتے ہیں، خداوند! رسول اللہﷺ کے طفیل سے اس چیز کا ثواب جس طریقہ سے تو پہنچایا کرتا ہے فلاں شخص کی روح کو پہنچا دے تو اس صورت میں بلا شبہہ ثواب پہنچ جاتا ہے لیکن اس بات کا ضرور خیال رکھنا چاہیے کہ طعام کھلانے میں خالص اللہ تعالیٰ کی خوشنودی اور رضا مندی مد نظر ہو اس میں کسی قسم کی ریا شرک نام آوری اور فخر و بڑائی کا دخل نہ ہو اور حرمت و نجاست سے بھی بری ہو کیوں کہ اللہ تعالیٰ پاک ہے اور پاک ہی لوگوں کی نیکیاں قبول فرماتا ہے۔ چناں چہ قرآن شریف میں ہم نےایک آیت سنی تھی کہ اِنَّمَا یَتَقَبَّلُ اللہُ مِنَ الْمُتَّقِیۡنَ (المائدۃ: ۵؍۲۷)
یعنی اللہ تعالیٰ پرہیزگاروں کے ہی صدقے اور قربانیاں قبول کرتا ہے۔
عظمت اولیاے کرام:
اولیاے کرام کی عظمت و بزرگی اور خداوند قدوس کی بارگاہ عالی سے ان کا تعلق
آپ خاص حضرت مجدد صاحب قدس سرہ زبانی سنیے پھر آپ اندازہ لگائیے ان دریدہ دہنوں کا اور گستاخوں کا جن کی نظر میں اولیا تو اولیا انبیاے کرام بھی بڑے بھائی کی حیثیت رکھتے ہیں نروں (بہتوں) کو تو ہم نے دیکھا ہے کہ اولیاے کرام کے متعلق ایسے نازیبا کلمات استعمال کر جاتے ہیں کہ کلیجہ کانپ اٹھتا ہے حضرت عارف رومی قدس سرہ نے سچ فرمایا:
چوں خدا خواہد کہ پردہ کس درد
میلش اندر طعنہ پاکاں کند
مولیٰ تعالیٰ ہر ایک کی منزل پہچاننے اور ان کی عظمت کے لحاظ سے احترام کرنے توفیق عطا فرمائے، حضرت مجدد صاحب قدس سرہ فرماتے ہیں: بر محبت ایں طائفہ استقامت کرامت فرماید و بایشاں محشور دارد
و ھم قومٌ لا یشقیٰ جلیسھم ولا یحرم انیسُھم ولا یُخیَّبُ مسیسھم، و ھم جلساء اللہ و ھم اذا رُأو ذُکر اللہُ و ھم من عرفھم وجد اللہَ، نظرھم دواء و کلامھم شفاءٌ و صحبتھم ضیاء و بھاء، ھم من رأی ظاھرھم خابَ و خسِر و من رأی باطنھم نجیٰ و افلح
خوش گفت آنکہ گفت الٰہی چیست اینکہ دوستان خود را کردی کہ ہر کہ ایشاں را شناخت ترا یافت و تا ترا نیافت ایشاں را نشناخت یعنی شناخت ایشاں و یافت تو از یک دیگر منفک نیستند تقدم ذاتی بیک اعتبار شناخت راست و بیک اعتبار یافت و مختار قائل تقدم آں طرف است لأنہ البدأ فمنہ البدایۃ أولیٰ و أحریٰ (مکتوب: ۵۲، دفتر دوم)
خداوند قدوس اس جماعت کی محبت پر استقامت نصیب فرمائے اور انھی کے ساتھ قیامت میں اٹھائے، یہ وہ پاک لوگ ہیں جن کے ساتھ بیٹھنے والا بدقسمت نہیں
..........
۔جب اللہ کسی کی پردہ دری کا ارادہ فرماتا ہے تو اس شخص کو پاک حضرات کی نکتہ چینی میں لگا دیتا ہے۔
رہتا، ان سے محبت رکھنے والا محروم نہیں رہتا، ان سے میل جول رکھنے والا بے مراد نہیں رہتا۔ یہی لوگ اللہ تعالیٰ کے جلیس ہیں، جب ان کی نگاہ پڑتی ہے تو خدا یاد آتا ہے، یہ وہ لوگ ہیں کہ جو ان کو پہچان لے وہ اللہ تعالیٰ کو پا لیتا ہے ان کی نظر دوا ہے، ان کی گفتگو شفا اور ان کی صحبت نور اور رونق ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں کہ جس نے صرف ان کے ظاہر کو دیکھا وہ نامراد ہوا اور گھاٹے میں پڑا اور جس نے ان کے باطن پر نگاہ رکھی وہ نجات پا گیا اور کامیاب ہوا، جس نے کہا ہے کیا خوب کہا ہے کہ اے خداوند تو نے اپنے دوستوں کو کیسے بنا دیا کہ جس نے ان کو پہچان لیا اس نے تجھے پا لیا اور جس نے تجھے نہ پایا ان کو نہ پہچانا یعنی ان کا پہچان لینا اور تجھے پا لینا ایک دوسرے سے جدا نہیں ہو سکتے تقدم ذاتی کس طرف سے ہے ایک لحاظ سے تو شناخت کو ہے اور ایک لحاظ سے پا لینے کو اور ترجیح اس قول کو ہے خداے تعالیٰ کی شناخت پہلے ہے کیوں کہ وہی پہلے ہے اور ابتدا اسی سے زیادہ اچھی اور بہتر ہے۔