باب ۱۴ از ۲۲صفحات ۱۶۴–۱۷۵
طریقۂ مراقبہ
بعض بزرگوں نے فرمایا ہے کہ مراقبہ کا طریقہ یہ ہے کہ اول ناف کے نیچے تھوڑی دیر کے لیے سانس روکے پھر اپنے جمیع حواس مدرکہ سے اس معنی بسیط کی طرف متوجہ ہو جس کو ہر شخص اللہ کا نام بولنے کے وقت تصور کرتا ہے مگر ایسے لوگ کم ہیں جو اس معنی بسیط کو لفظ سے خالی کر سکیں۔ بہر حال طالب کو چاہیے کہ اس بات کی کوشش کرے کہ وہ معنی بسیط لفظ سے خالی ہو جائیں اور اس کی طرف خطرات کی مزاحمت اور ماسوا اللہ کے التفات کے بغیر متوجہ ہو مگر بعض لوگ اس قسم کے ادراک پر قادر ہو نہیں پاتے ہیں لہٰذا ایسے اشخاص کے لیے بعض مشائخ اس قسم کے مفہوم کے لیے دعائیں تجویز فرمائیں ہیں حضور سیدی و مرشدی دام ظلہ العالی جو بڑا شجرہ عنایت فرماتے ہیں اس میں بھی اسی قسم کی دعائیں تحریر ہیں جو عام مریدوں کو بھی نماز پنج گانہ کے بعد پڑھنے کی تاکید فرماتے ہیں۔
بعض مشائخ ایسے اشخاص کے بارے میں یہ بھی فرماتے ہیں کہ وہ خلاے مجرد
اور نور بسیط کی طرف اور جہت کا تصور کرے اس تخیل سے طالب آہستہ آہستہ توجہ مذکورہ تک پہنچ جاتا ہے ۔ خلاے مجرد سے مراد یہ ہے کہ تمام عالم کی جگہوں کو جمیع اقسام سے خالی تصور کرے اور نور بسیط سے مراد سادہ روشنی ہے۔
فوائد مراقبہ:
ذکر نفی و اثبات بھی افضل و اعلیٰ مراقبہ ہے اور وصول الی اللہ کا یہ مستقل طریقہ ہے۔ یہ جذبہ سے قریب تر ہے دوام مراقبہ سے مرتبہ وزارت تک پہنچا جا سکتا ہے، دلوں کے خطرات پر اطلاع اور ملک و ملکوت میں تصرف مراقبہ ہی سے حاصل ہوتا ہے۔ خیال رہے کہ مراقبہ کا ملکہ کثرت ذکر اور ارباب جمعیت کی صحبت کے بغیر دشوار ہے۔
معلوم ہونا چاہیے کہ یہ اس مراقبہ کا بیان تھا جو وصول کا مستقل طریق ہے ورنہ مقامات سلوک میں ہر ہر مقام کے مراقبہ کی کیفیت اور طریقہ جدا جدا ہے جس کا بیان سلوک مجددی میں تفصیل سے آئےگا۔
صحبت شیخ کامل:
علامہ نور بخش توکلی فرماتے ہیں: صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم نے حضور سید المرسلینﷺ کی اول صحبت میں وہ کمال حاصل کیا جو اولیاے امت میں سے کسی کو انتہا میں بھی حاصل نہیں ہوا۔ اس آفتاب رسالت بابی ھو و امی کے ایک ہی پرتو سے ان کے لطائف سے کدورتوں کے پردے دور ہو کر وصل بے چون حاصل ہوگیا اسی طریق انعکاسی کو حضرات نقشبندیہ رحمہم اللہ تعالیٰ نے اختیار کیا ہے۔ ان کا طریق عین طریق صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم کا ہے اس میں افادہ و استفادہ انصباغی و انعکاسی ہے یعنی سالکین کے دل صحبت کی برکت سے واصلین کے دلوں کے معارف کے انوار سے رنگے جاتے ہیں اور واصلین کے دلوں کے آئینوں سے
صور انوار الٰہیہ طالبوں کے دلوں کے آئینوں کی طرف منعکس ہوتی ہیں مگر اس کے ساتھ آداب صحبت کی رعایت ضروری ہے مثلاً تمام حرکات و سکنات اور عبادات و عادات و معاملات میں سنت سنیہ کا کمال اتباع کرنا، پیر سے نہایت محبت رکھنا ظاہر و باطن میں اس کی فرماں برداری کرنا، اس کے کسی فعل پر اعتراض نہ کرنا اور اپنے تئیں اسی طرح اس کے حوالے کرنا جیسا کہ مردہ غسّال کے ہاتھ میں ہوتا ہے۔ میرے پیر دستگیر قدس سرہ فرمایا کرتے تھے کہ وصول الی اللہ کے لیے جلوہ کی نسبت توجہ کا راستہ بہت ہی قریب ہے۔
آنکہ بہ تبریز یافت یک نظر شمس دیں
سخرہ کند بر دہہ طعنہ زند بر چلہ
واصلین کی صحبت کی تاثیر محتاج بیان نہیں، عارف رومی فرماتے ہیں؎
یک زمانہ صحبت با اولیا
بہتر از صد سالہ عبادت بے ریا
گر تو صخرہ سنگ یا مرمرشوی
چوں بصاحب دل رسی گوہر شوی
حضرت خواجہ احرار قدس سرہ اسی طرح فرماتے ہیں؎
نماز را بحقیقت قضا بود لیکن
نماز صحبت مارا قضا نخواہد بود
حضرت خواجہ یوسف ہمدانی قدس سرہ کا رشاد ہے کہ اللہ تعالیٰ کی صحبت میں رہو اگر تم ایسا نہیں کر سکتے تو اس بزرگ کی صحبت میں رہو جو اللہ تعالیٰ کی صحبت میں رہتا ہےانتہیٰ (بات مکمل ہوئی) کیوں کہ اس کی صحبت کی برکت تم کو اللہ تعالیٰ کی صحبت تک پہنچا دےگی۔ حضرت مولانا روم قدس سرہ فرماتے ہیں ؎
ہر کہ خواہد ہم نشینی باخدا
گونشیند در حضور اولیا
اس زمانہ پر آشوب میں پیر کامل مکمل کا ملنا بہت دشوار ہے اگر یہی حال رہا تو شاید وہ وقت دور نہیں کہ نام کی پیری مریدی رہ جائےگی۔ (تذکرہ مشائخ نقشبندیہ)
سفر در وطن:
عرف عام میں ایک شہر سے دوسرے شہر کی طرف جانے کا نام سفر ہے اور
وطن سے مراد وہ نگر یا شہر ہے جس میں وہ شخص رہتا ہے اور اہل سلوک کے نزدیک سفر در وطن سے مرادیہ ہے کہ سالک کا سفر عالم خلق سے جناب حق تعالیٰ کی طرف چاہیے جیسا کہ حضرت ابراہیم خلیل اللہ علیٰ نبینا و علیہ الصلاۃ و السلام نے اپنے قول
اِنِّیۡ ذَاہِبٌ اِلٰی رَبِّیۡ سَیَہۡدِیۡنِ (الصافات: ۹۹، ترجمہ: میں اپنے رب کی طرف جانے والا ہوں اب وہ مجھے راہ دے گا)
میں خبر دی ہے یا معنی یہ ہیں کہ ایک حال سے دوسرے ایسے حال کی طرف جو اول سے بہتر ہو یا ایک مقام سے دوسرے اعلیٰ مقام کی طرف سفر ہو۔ (البہجۃ السنیہ)
سفر در وطن کے یہ معنی بھی بیان کیے ہیں کہ سالک کو چاہیے کہ رذیل اور گھٹیا بشری صفات سے ملکی صفات فاضلہ کی طرف انتقال کرے۔ لہٰذا سالک پر واجب ہے کہ اپنے احوال میں غور و فکر کرے کہ آیا اس میں کچھ مخلوق کی محبت باقی ہے یا نہیں، اگر ہے تو از سر نو توبہ کرے اور یہ سمجھے کہ یہ میرا بت ہے کیوں کہ جو چیز خدا سے دور رکھے در اصل وہ تیرا بت ہے پھر لا الٰہ الا اللہ کہے اور لا الٰہ سے ارادہ کرے کہ میں فلاں کی محبت کو ختم کرتا ہوں اور اس کی نفی کرتا ہوں اور الا اللہ سے قصد کرے کہ اللہ تعالیٰ کی محبت اس مقام پر ثابت کی اس کی وجہ یہ ہے کہ غیر اللہ کی محبت کی رگیں دل کے اندرونی حصہ میں بہت چھپی ہوئی ہوتی ہیں جن کا نکالنا بغیر تفحص کامل کے بہت مشکل ہے۔ اسی طرح اور برائیاں حسد وغیرہ ان کو مذکورہ بالا طریقہ سے زائل کرے۔ حضرت مجدد صاحب قدس سرہ فرماتے ہیں کہ سفر در وطن سے مراد انفس میں سیر ہے جو نہایت میں بدایت درج ہونے کا منشا ہے اور جو اس بلند طریقے کے ساتھ مخصوص ہے۔
خلوت در انجمن:
صوفیہ کرام کے یہاں خلوت اس جگہ کو کہتے ہیں جس میں اہل سلوک عبادت
کے لیے تنہائی اختیار کریں اور انجمن سے مراد لوگوں کا اجتماع ہے۔
مرادی معنی یہ ہیں کہ سالک کو چاہیے کہ اپنے تمام حالات تعلیم و تدریس وعظ و تقریر کھانے پینے بولنے چالنے اٹھنے بیٹھنے چلنے پھرنے وغیرہ تمام کاموں میں دل سے خدا کے ساتھ مشغول رہے۔ لہٰذا ضروری ہے کہ ذکر کا ملکہ حاصل کرے اس طور پر کہ قلب سالک اللہ تعالیٰ کے ساتھ حاضر رہے اور لوگوں کے درمیان رہتے ہوئے بھی لوگوں سے غائب رہے۔ حضرت خواجہ بزرگ قدس سرہ فرماتے ہیں؛ آیت کریمہ:
رِجَالٌ ۙ لَّا تُلْہِیۡہِمْ تِجَارَۃٌ وَّ لَا بَیۡعٌ عَنۡ ذِکْرِ اللہِ (النور: ۳۷، ترجمہ: وہ مرد جنہیں غافل نہیں کرتا کوئی سودا اور نہ خرید و فروخت اللہ کی یاد سے)
میں اسی کی طرف اشارہ ہے، کلمہ مذکورہ اس معنی کی تقدیر پر مراقبہ کے ہم معنی ہو جائےگا۔
اس کلمہ کے یہ معنی بھی ہو سکتے ہیں کہ قلب اس طرح حق کے ساتھ گفتگو میں مشغول رہے کہ لوگوں کے درمیان ہوتے ہوئے بھی لوگ مطلع نہ ہو پائیں اور یہ معنی بھی بیان کیے گئے ہیں کہ سالک ذاکر ذکر قلبی میں اسی طرح مستغرق رہے کہ اگر بازار میں بھی داخل ہو تو غلبہ ذکر کی وجہ سے لوگوں کی آوازیں نہ سن پائے نیز کہا گیا ہے کہ یہ کلمہ نسبت نقشبندیہ سے کنایہ ہے کیوں کہ خلق کی معیت اس کے منافی نہیں اور نہ لوگوں سے معاملہ اس کے لیے نقصان دہ۔
فائدہ:
خلوت دو قسم پر ہے؛ایک ظاہری، دوم باطنی، اول یہ کہ سالک کسی ایسی جگہ جو لوگوں سے خالی ہو تنہائی اختیار کرے تاکہ عالم ملکوت میں اطلاع اور عالم جبروت میں مشاہدہ حاصل ہو کیوں کہ حواس ظاہرہ جب اپنے احکام سے معطل و بیکار ہو
جاتے ہیں تو آیت ملکوت کے مشاہدہ میں حواس باطنہ کے مطابق ہو جاتے ہیں۔
خلوت باطنی یہ ہے کہ باطن مشاہدہ اسرار حق میں ہو اور ظاہر معاملہ خلق میں اس طور پر کہ ظاہر کا معاملہ باطن کے مشاہدہ سے روک نہ بنے۔ یہ دوسری قسم کی خلوت طریقہ نقشبندیہ کے ساتھ خاص ہے۔ نقشبندی بزرگ خلوت ظاہری اختیار نہیں کرتے ہیں، ان حضرات نے یہ چیز بھی حضورﷺ کی اتباع میں اختیار کی کیوں کہ آپ نے فرمایا ہے :
‘‘وہ مومن جو لوگوں سے ملا جلا رہتا ہے اور ان کی تکلیف دہ باتوں پر صبر اختیار کرتا ہے وہ اس مومن سے بہتر ہے جو لوگوں سے نہیں ملتا جلتا ہے۔’’
یاد کرد:
یاد کرد میں لفظ یاد کے معنی ظاہر ہیں یعنی ذکر اور کرد اصل میں کردن مصدر ہے، نون براے تخفیف حذف ہو گیا۔ اس سے مراد یا تو یہ ہے کہ مراقبہ کی منزل پر پہنچنے کے بعد بھی سالک کو چاہیے کہ ذکر شریف میں لگا رہے، ذکر عام ہے اسم ذات ہو یا نفی اثبات، قلبی ہو یا لسانی کسی قسم کا ہو حالت خواب ہو یا بیداری باتوں میں ہو یا خاموش حرکت میں ہو یا سکون میں غرض کسی حال میں ذکر بند نہ ہونا چاہیے۔
بعض حضرات نے فرمایا ہے کہ مراد یہ ہے کہ ذکر نفی و اثبات زبان سے کرتے رہنا چاہیے کیوں کہ قلب کا تعلق عناصر سے ہے اس لیے عناصر کی زنگ سے زنگ آلود ہو جاتا ہے۔ پس زبان سے ذکر نفی و اثبات کرےگا تو اس کا سینہ روشن و متجلی ہو جائےگا اور مراقبہ میں یہاں تک ترقی کرےگا کہ مرتبہ مشاہدہ تک پہنچ جائےگا۔
یہ معنی بھی ہو سکتے ہیں کہ جب ذکر سے نسیان و غفلت واقع ہو جائے اور ذکر
کرنا بھول جائے تو جب یاد آئے ذکر میں مشغول ہو جائے اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
وَاذْکُرۡ رَّبَّکَ اِذَا نَسِیۡتَ (الکہف: ۲۴، ترجمہ: اور اپنے رب کی یاد کر جب تو بھول جائے)
باز گشت:
جیسے وہاں کردن سے کرد رہ گیا تھا ویسے یہاں گشتن سے گشت رہ گیا۔ اس سے مراد یہ ہے کہ سالک کو چاہیے کہ نفی و اثبات کے ذکر کے وقت جب سانس چھوڑے تو اس کلمہ الٰہی انت مقصودی و رضاك مطلوبی کے خیال کی طرف رجوع کرے یعنی اے رب توہی میرا مقصود ہے دنیا و آخرت کو میں نے تیرے واسطے ترک کیا، ہم پر اپنی نعمت پوری فرما اور وصال عطا فرما۔’’
جب اس طرح کا تخیل ہوگا تو یہ نفی و اثبات کے معنی کو مضبوط کرےگا اور قلب میں توحید حقیقی کا بھید پیدا کرےگا یہاں تک کہ اس کے قلب سے تمام مخلوق کا وجود فنا ہو جائےگا اور واحد مطلق کا وجود مظاہر میں ظاہر ہوگا خواجگان نقشبندیہ اس لیے اس کلمہ کا حکم فرماتے ہیں تاکہ مریدین اس پر مداومت کر کے اس کے مضمون سے متصف ہو جائیں غرضیکہ اس کلمہ کی تاثیر و خاصیت سرِّ توحید کا ظہور اور تجرید و تفرید کی حقیقت کا انکشاف ہے۔
بعض حضرات نے فرمایا کہ یہ بازگشت کنایہ ہے اس بات سے کہ ذاکر بوقت ذکر اللہ تعالیٰ کی جانب رجوع کرے اور ذکر میں عجز و تقصیر ظاہر کرے کیوں کہ کوئی شخص کما حقہ ذکر پر قادر نہیں ہو سکتا ہے مگر اللہ تعالیٰ کی خصوصی عنایت اور اعانت سے۔
سالک کو چاہیے کہ ذکر شدہ مفہوم کو اچھی طرح ذہن نشین کر لے۔ حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ میں نے والد ماجد (شاہ عبد
الرحیم) قدس سرہ کو فرماتے سنا ہے کہ میں نے جو پایا ہے اسی کلمہ مبارکہ کی برکت سے پایا ہے۔
نگاہ داشت:
داشتن سے داشت رہ گیا ہے۔ اس کے مرادی معنی یا تو یہ ہیں کہ ذکر نفی و اثبات کے وقت قلب کی طرف نگاہ رکھے اور حفاظت کرے کہ کوئی خطرہ وسوسہ اس میں داخل نہ ہونے پائے ورنہ ذکر کا نتیجہ (مذکور کے ساتھ حضور قلب) حاصل نہ ہو سکےگا۔
یا یہ معنی ہیں کہ خطرات و احادیث نفس کو قلب سے دورکرتا رہے۔ سالک کو چاہیے کہ ہمیشہ بیدار اور ہوشیار رہے کسی خیال و خطرہ کو دل میں جگہ نہ دے۔ حضرت خواجہ نقشبند قدس سرہ فرماتے ہیں کہ سالک کو چاہیے کہ خطرہ کو آغاز ظہور میں ہی روک دے کیوں کہ جب ظاہر ہو جائےگا تو نفس اس کی طرف مائل اور اس سے متاثر ہوگا ایسی صورت میں دور کرنا مشکل ہو جائےگا۔
خطرات کے دخول سے قلب کی حفاظت بڑی اہم چیز ہے جو شخص اس پر قادر ہو گیا در حقیقت اسے تصوف آگیا کیوں کہ تصوف کی روح در حقیقت تمام خطرات و خیالات اور افکار سے دل کو پاک و صاف رکھنا ہے جس نے اس پر قدرت پائی اس نے قلب کی حقیقت پہچان لی اور بحکم من عرف نفسہ فقد عرف ربّہ معرفت قلب سے معرفت رب حاصل ہوگئی۔ حضرت شیخ ابو بکر کتانی قدس سرہ فرماتے ہیں کہ میں قلب کے دروازہ پر چالیس سال دربان بن کر رہا تو میرا قلب ایسا ہی ہو گیا کہ غیر اللہ کو پہچانتا ہی نہیں ہے۔
یادداشت:
واجب الوجود کی اس حقیقت کی طرف کامل اور خالص توجہ کا ہونا جو الفاظ اور
تخیلات سے خالی ہو اور دائمی طور پر اللہ تعالیٰ کے ساتھ ہر حال میں قلب کو حضور حاصل ہو جانے کا نام یادداشت ہے۔
بعض حضرات نے یہ معنی بیان فرمائے ہیں کہ تجلی ذات کے شہود پر قلب کی حفاظت کرنا، خیال رہے کہ جو حضور ذکر و مراقبہ اور محبت و رابطہ اور کلمہ یادداشت سے حاصل ہوتا ہے وہ باعتبار حقیقت متحد ہے کیوں کہ ذات احدیت کے انوار کے شہود کا نام حضور ہے، ہاں کیفیت میں مختلف ہے اختلاف کیفیت کو پہچاننا یہ خواص کا کام ہے۔ یہ بھی دھیان رہے کہ وہ حضور جو کلمہ مذکورہ سے مراد ہے فناے تام اور بقاے کامل کے بعد ہی میسر آسکتا ہے۔
وقوف زمانی:
یعنی وقوف و شہود جو زمانے کی طرف منسوب ہے اس سے مراد یہ ہے کہ سالک کو چاہیے کہ اپنی سانسوں کا دھیان رکھے اور اس بات کا خیال رکھے کہ ہماری سانسیں ذکر میں گذر رہی ہیں یا غفلت میں۔
اس کا مطلب یہ بھی ہو سکتا ہے کہ سالک کو چاہیے کہ ہر وقت اپنے احوال سے واقف رہے جب طاعت کرے شکر ادا کرے اور اگر گناہ سرزد ہو تو معذرت کرے غرضیکہ سالک کو روز و شب کے تمام لمحات کی فکر رکھنا چاہیے اور محاسبہ کرتے رہنا چاہیے ۔
حضرت مجدد قدس سرہ نے فرمایا ہے کہ سونے سے پہلے چند بار تسبیح و تحمید و تکبیر یعنی سبحان اللہ، الحمد للہ، اللہ اکبر کہہ لینا بھی ایک قسم کا محاسبہ ہے گویا بندہ کلمہ تسبیح کی تکرار سے گناہوں سے مغفرت طلب کرتا ہے اور خداوند قدوس کی بارگاہ میں جو قصور سرزد ہوا خدا کی تسبیح و تقدیس کرکے گناہوں کا خاتمہ چاہتا ہے اور استغفار میں گناہ کو چھپانے کی طلب ہوتی ہے۔
اس سے آپ نے سمجھ لیا ہوگا کہ تسبیح میں گناہوں کو جڑ سے اکھیڑا جاتا ہے اور ان کا استیصال ہوتا ہے، ظاہر ہے دونوں میں بڑا فرق ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ بہتر محاسبہ بجاے استغفار کے تسبیح سے ہے اور کلمہ تحمید کی تکرار سے بندہ شکر کرتا ہے اور کلمہ تکبیر کی تکرار گویا یہ ذہن دیتی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی ذات بہت بلند و بالا ہے لہٰذا شکر ہو یا معذرت دونوں بلند بارگاہ کے لائق ہوں۔
وقوف عددی:
اس کا یا تو یہ مطلب ہے کہ ذاکر کو چاہیے کہ عدد ذکر شمار رکھے یعنی ذکر نفی و اثبات بعدد طاق ہو، یا یہ مطلب ہے کہ ذکر خفی رعایت عدد کے ساتھ ہو، محض ذکر میں اگرچہ عدد مقصود نہیں اور نہ ہی کثرت عدد بلکہ ذکر اگرچہ قلیل ہو مگر حضور قلب کے ساتھ تاکہ ذکر کا فائدہ (کلمہ نفی کے وقت وجود بشری کی نفی اور اثبات کے ساتھ جذبات الٰہیہ کے آثار طلوع ہوں) اس پر مرتب ہو سکے اگر ذکر میں رعایت عدد ملحوظ ہوگی تو اس کا فائدہ یہ ہوگا کہ قلب خطرات اور تفرقہ سے محفوظ رہےگا۔
وقوف قلبی:
یعنی وہ وقوف و شعور جو قلب کی جانب منسوب ہے اس کے متعدد معنی ہو سکتے ہیں؛ ایک یہ کہ ذکر کے وقت حق سبحانہ کے ساتھ آگاہی اور ربط ہو دل اس سے واقف و آگاہ ہو، دوم یہ کہ ذاکر کو چاہیے اثناے ذکر میں قلب صنوبری کی طرف متوجہ رہے تاکہ یہ گوشت کا لوتھڑا ذکر کے مفہوم سے غافل نہ رہ جائے بلکہ اللہ تعالیٰ کی یاد میں مشغول رہے۔ حضرت خواجہ نقشبند قدس سرہ وقوف قلبی مذکورہ بالا دونوں معانی کی رعایت کے ساتھ وقوف عددی سے زیادہ اہم قرار دیتے تھے کیوں کہ ذکر سے مقصود دائمی حضور و آگاہی ہے جو اسی میں میسر ہے۔
سوم یہ کہ ذاکر کو چاہیے کہ دل کا نگراں رہے تاکہ تفرقہ اور غیر اللہ کے نقوش کا
دل میں گذر نہ ہو سکے۔ حضرت سیدنا و غوثنا شاہ غلام علی دہلوی قدس سرہ فرماتے ہیں کہ وقوف قلبی در اصل قلب کی طرف ایسی توجہ کرنے کا نام ہے کہ اس کی شکل صنوبری اسم ذات کے ساتھ تصور میں نہ آئے یہ توجہ اس ضرب کے قائم مقام ہے جو دیگر سلاسل کے ذکر میں مشہور و معروف ہے نیز ذات الٰہی کے ساتھ توجہ رکھنے میں اوپر کی طرف نگراں رہے کہ ادھر سے فیض ملنے کی امید ہے اور جانب فوق کی رعایت ادباً ہے کہ حق سبحانہ ہر شے سے فوق یعنی بالاتر ہے۔
غرضیکہ وقوف قلبی ذکر کا رکن ہے کیوں کہ حصول نسبت بغیر اس کے محال ہے۔ حضرت مجدد قدس سرہ نے فرمایا ہے کہ جس کو ذکر قلبی اثر نہ کرے اس کو ذکر سے روک کر خالص وقوف قلبی کا حکم دیں اور توجہ بھی دیتے رہیں یہاں تک کہ ذکر اثرانداز ہو جائے۔
کلمات نقشبندیہ:
نقشبندی سلوک کے یہ چند اشغال میں نے یہاں ذکر کر دیے باقی مقامات قرب کا بیان مجددی سلوک کے بیان کے ضمن میں آئےگا۔ اب ان کلمات کو عرض کرتے ہیں جن پر نقشبندی طریق کی بنا قائم ہے، ان کلمات میں سے بعض ایسے ہیں جو اشغال مذکورہ کی طرف اشارہ کرتے ہیں اور بعض تاثیر اشغال پر دلالت کرتے ہیں، یہ کل گیارہ کلمے ہیں جن میں آتھ حضرت خواجہ عبد الخالق غجدوانی سے اور تین حضرت خواجہ بہاء الدین نقشبند قدس اسرارہما سے منقول ہیں:
۱۔ہوش در دم، ۲۔نظر بر قدم، ۳۔سفر در وطن، ۴۔خلوت در انجمن، ۵۔یاد کرد، ۶۔بازگشت، ۷۔نگہداشت، ۸۔یادداشت اور حضرت خواجہ نقشبند قدس سرہ سے منقول کلمات یہ ہیں؛ ۱۔وقوف زمانی، ۲۔وقوف قلبی، ۳۔وقوف عددی۔
خیال رہے کہ طریقہ نقشبندیہ کا ظہور ماوراء النہر کے شہروں میں ہوا اور انھی
میں مشہور ہوا اور زیادہ تر ان بلاد میں فارسی زبان بولی جاتی تھی، لہٰذا اکثر ان کلمات میں سے فارسی زبان میں ہیں، ہم ان کے لغوی اور اصطلاحی معنی بالتفصیل عرض کرتے ہیں۔