باب ۸ از ۲۲صفحات ۸۸–۱۰۰
توسط کے دو معنی
تمام قسم کے فیوضات و برکات آقاے کائناتﷺ کے ذریعہ اور واسطہ سے مخلوق کو پہنچتے ہیں؟ یا آپ واسطہ نہیں مشائخ طریقت نے اس میں اختلاف کیا۔
ایک جماعت اس بات کی قائل ہے کہ سرکار علیہ السلام توسط ہیں اور ایک کا کہنا ہے کہ نہیں حضرت مجدد قدس سرہ کی اس سلسلے میں ایک انوکھی تحقیق ہے جو آپ سے پہلے کوئی بھی شیخ طریقت نہ کر سکا ۔ قدم قدم پر جو ادب ملحوظ رکھا ہے اور سید الرسل کی مقدس بارگاہ کے لائق جو کلام کیا ہے بڑے بڑے علما ظاہر بھی وہاں تک نہ پہنچ سکے ارشاد گرامی کا خلاصہ یہ ہے ‘‘سرکار دو عالمﷺ کا توسط یعنی واسطہ ہونا دو معنی کر ہو سکتا ہے۔ ایک یہ کہ آپﷺ سالک اور مطلوب کے درمیان حائل و حاجب ہوں۔ دوم یہ کہ سالک آپ کے طفیل اور آپ کی تبعیت و متابعت کے واسطہ سے مطلوب تک پہنچے۔
کوئی کم فہم انسان کہہ سکتا تھا کہ یہ رسالت مآبﷺ کی بارگاہ میں قصور اور نقص ہوگا۔ یہ کہنا کہ اس صورت میں توسط صرف معنی دوم کے اعتبار سے ہے لہٰذا کمال یہی ہے کہ آپ دو معنی کر متوسط ہوں۔ حضرت مجدد قدس سرہ کی بلند نظر میں یہ کمال نہیں بلکہ نقص ہے۔ کمال یہی ہے کہ حقیقۃ الحقائق تک وصول کے بعد توسط معنی دوم کے اعتبار سے ہو، آپ فرماتے ہیں:
اس مقام میں معنی اول کے اعتبار سے توسط سرکار علیہ الصلاۃ و السلام کے کمال کو مستلزم ہے، قصور کو نہیں، بلکہ قصور اس وقت ہے جب کہ توسط مانا جائے کیوں کہ متبوع کا کمال یہ ہے کہ تابع اس کی تبعیت و طفیل میں تمام درجات کمال کو پہنچے اور کوئی دقیقہ نہ چھوٹے۔
اور جب تک توسط و حیلولت ہے اس وقت تک شہود بے پردہ نہیں ہوگا کیوں کہ یہ حیلولت حاجب ہے، بے پردہ شہود اسی صورت میں ہوگا جب کہ توسط و حیلولت معنی اول کے اعتبار سے نہ ہو درجات کمال کا منتہی نہیں ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ کمال متبوع عدم توسط میں ہے توسط میں نہیں بلکہ توسط میں متبوع کا
قصور ہے کیوں کہ مخدوم کی عظمت و شوکت اس بات سے ظاہر ہوتی ہے کہ اس کا خادم کسی بھی مقام میں اس کے پیچھے نہ رہے اور اس کی تبعیت میں خدام اس کے ہمسروں کے شریک ہو جائیں یہی وجہ ہے کہ سرکار دو عالمﷺ نے فرمایا ہے کہ علماء امتی کأنبیاء نبی اسرائیل علیہ و علیہم الصلوات و التسلیمات۔ اس کے علاوہ اور دیگر چیزیں ہیں جو عدم توسط پر دلالت کرتی ہیں، آپ دیکھیے آخرت میں رویت کسی امر کی حیلولت و توسط کے بغیر ہوگی نیز حدیث شریف میں آیا ہے کہ بندہ جب نماز میں داخل ہوتا ہے تو جو حجاب خدا اور بندہ کے درمیان ہے وہ اٹھ جاتا ہے اسی لیے نماز مومن کی معراج قرار پائی۔
یہ خلاصہ ہے اس کا جو مکتوب: ۱۲۱، دفتر سوم میں مفصلاً مذکور ہے اس تحقیق کا دار و مدار صرف دلائل پر نہیں بلکہ آپ اس دولت عظمیٰ سے مالامال بھی ہیں جب آپ کی دور بیں نظروں نے مشاہدہ کر لیا تب فرمایا حضرت مجدد قدس سرہ کے اس مبارک کلام پر جو بھی غور کرےگا سرکار علیہ السلام کے کمالات کا اسے ایک حسین گلشن نظر آئےگا اس سے بخوبی پتا لگایا جا سکتا ہے کہ حضرت مجدد کی نظر میں سرکار دو عالمﷺ ذات مقدس کیا ہے اور قدم قدم پر کتنا کمال ادب ملحوظ ہے خداے کریم حضرت مجدد کے طفیل ادب کی انھیں بھی توفیق دے جو بات بات پر گستاخ جملے بول کر اہل ایمان کے دلوں کر مجروح کرتے رہتے ہیں۔
معراج جسمانی:
حضرت مجدد قدس سرہ فرماتے ہیں:
حضرت موسیٰ علیٰ نبینا و علیہ الصلاۃ و السلام بعد از طلب رویۃ زخم لن ترانی خورد و بیہوش افتاد و ازاں طلب تائب گشت و محمد رسول اللہﷺ کہ محبوب رب العالمین است و بہترین موجودات اولین و آخرین باوجود آنکہ بدولت معراج بدنی مشرف از عرش و کرسی در گذشت و از مکان و زمان بالا رفت۔ (مکتوب: ۲۷۲)
حضرت موسیٰ علیہ الصلاۃ و السلام دیدار طلب کرنے کے بعد لن ترانی کا زخم کھا کر بے ہوش ہو گئے اور اس طلب سے تائب ہوئے اور حضرت محمد رسول اللہﷺ جو رب العالمین کے محبوب اور تمام اولین و آخرین کے موجودات میں بہترین باوجود اس کے کہ جسمانی معراج کی نعمت سے مشرف ہوئے بلکہ عرش و کرسی سے گذر کر زمان و مکان سے بھی آگے گئے۔
تصور شیخ:
گمراہان زمانہ نے جو شرک و بدعت کی آندھی چلائی اس کے تیز و تند جھونکوں سے جہاں اسلام کے اہم اہم مسائل محفوظ نہ رہ سکے وہیں یہ مسئلہ بھی اس کی نذر ہو گیا انسان جب دل کی بینائی کھو بیٹھتا ہے تو وہ جو بھی کہہ دے کم ہے ظاہر ہے کہ ایسے مسائل سمجھنے کے لیے دل بینا چاہیے۔ حضرت مجدد قدس سرہ کی صراحت آپ پڑھ چکے کہ سالک کے شہود میں ہر شیخ حائل و حاجب ہوتا ہے ابتداءً رب العالمین کی مقدس بارگاہ سے فیض حاصل کرنے کی صلاحیت نہیں ہوتی ہے مشائخ کے اس پاک بارگاہ تک لوگوں کو پہنچانے کے لیے وہاں سے مناسبت پیدا کرنے کے لیے یہ مبارک طریقہ مقرر فرمایا ہزاروں نہیں لاکھوں کا وصول اس سے ہوا انصاف تو یہ کہتا تھا کہ خوف اگر بصیرت نہیں ہے تو اہل بصیرت کی طرف رجوع کیا جاتا کتنا بڑا ستم ہے کہ اپنے تمام دنیوی حوائج میں اہل دنیا کی طرف توجہ کی جائے اگر ہم اہل معرفت کی طرف تحصیل معارف کے لیے توجہ کریں تو یہ شرک ہو جائے۔ در اصل شرک و بدعت ان لوگوں کی خود ساختہ مشین ہے جس کو چاہا اسے اس میں ڈھال لیا۔ حضرت مجدد قدس سرہ جیسے بلند نظر صاحب بصیرت انسان کا کلام اس موضوع پر بھی ہدیہ ناظرین ہے اگر ان کے یہاں امت کے یہ بلند و بالا انسان بھی شرک کی زد میں ہیں تو ہماری کیا حقیقت ہے، فرماتے ہیں:
اگر در وقت ذکر گفتن صورت پیر بے تکلف ظاہر شود آنرا نیز بقلب باید برد و در قلب نگاہ داشتہ ذکر باید گفت کہ پیر کیست پیر آنکس ست کہ ازو طریق وصول بجناب قدس یابی مجرد کلاہ دامنے و شجرہ کہ عرف شدہ است در حقیقت از پیری و مریدی خارج است و داخل رسوم و عادات مگر آنکہ جامد تبرک از شیخ کامل و مکمل بدست آدمی و باعتقاد و اخلاص با زندگانی نمائی احتمال ثمرات و نتائج دریں صورت نیز قوی است۔ (مکتوب: ۱۶، دفتر اول)
اگر بوقت ذکر شیخ کا تصور بے تکلف ظاہر ہو تو اس کو بھی قلب کی طرف لے جانا چاہیے اور قلب پر نگاہ رکھ کر ذکر کرنا چاہیے ۔ پیر کون ہے ، پیر وہ شخص ہے کہ اس سے حق سبحانہ کی مقدس بارگاہ تک پہنچنے کا راستہ حاصل کرو اور اس راہ میں اس سے مدد اور اعانتیں حاصل کرو۔ کلاہ و دامن اور شجرہ پر نظر رکھنا جو آج کل معروف ہے پیری و مریدی کی حقیقت سے خارج ہے البتہ یہ رسم و عادت میں داخل ہے، ہاں اگر شیخ کامل سے کوئی کپڑا بطور تبرک مل جائے تو اعتقاد و اخلاص کے ساتھ اسے پہن کر زندگی بسر کرنی چاہیے ایسی صورت میں بے شمار فوائد و ثمرات کے حاصل ہونے کی قوی توقع ہے۔
حالت نماز میں تصور:
حضرت مجدد قدس سرہ فرماتے ہیں: خواجہ محمد اشرف ورزش نسبت رابطہ نوشتہ بودند کہ بہ حدی استیلا یافتہ است کہ در صلاۃ آنرا مسجود خود میداند و می بیند و اگر فرضاً نفی میکنند منتفی نمی گردد۔ محبت اطورا ایں دولت متمناے طلاب ست از ہزراں یکے را مگر بدہند صاحب ایں معاملہ مستعد تام المناسبت است یحتمل کہ باندک صحبت شیخ مقتدا جمیع کمالات او را جذب نماید رابطہ را چرا نفی کنند کہ او مسجود الیہ نہ مسجود لہ چرا محاریب و مساجد را نفی نکنند۔ ظہور ایں قسم دولت سعادت منداں را
میسر است تا در جمیع احوال صاحب رابطہ را متوسط خود دانند و در جمیع اوقات متوجہ او باشد نہ در رنگ جماعہ بیدولت کہ خود را مستغنی دانند و قبلہ توجہ را از شیخ خود منحرف سازند و معامل خود را برزنند۔ (مکتوب: ۳۰، دفتر دوم)
یعنی خواجہ محمد اشرف نے لکھا تھا کہ نسبت و رابطہ کی مشق یہاں تک غالب ہو گئی ہے کہ نماز میں اسے مسجود جانتا اور دیکھتا ہوں اور اگربالفرض اسے دور کرنا چاہوں تو دور نہیں ہوتا ہے۔ اے محب! طالبان حق اسی دولت کی تمنا کرتے ہیں ہزاروں میں کسی ایک کو شاید عطا کریں ایسے حال والا شخص پوری پوری مناسبت کی استعداد رکھتا ہے اور ہو سکتا ہے کہ شیخ مقتدا کی تھوڑی صحبت اس کے تمام کمالات کو جذب کر لے رابطہ (تصور شیخ) کی نفی کیوں کرتے ہو، رابطہ مسجود الیہ ہے نہ مسجود لہ محرابوں اور مسجدوں کی نفی کیوں نہیں کرتے اس قسم کی دولت سعادت مندوں کو میسر ہوتی ہے تاکہ تمام احوال میں صاحب رابطہ کو اپنا وسیلہ سمجھیں اور تمام اوقات اسی طرف متوجہ ہوں نہ ان بدبخت لوگوں کی طرح جو اپنے آپ کو مستغنی جانتے ہیں اور توجہ کے مرکز کو اپنے شیخ کی طرف سے پھیر لیتے ہیں اور اپنے معاملے کو برہم کر دیتے ہیں۔
اہل حق کے لیے اتنی صراحت کافی ہے، آپ پڑھ چکے ہیں کہ رابطہ مشائخ کے نزدیک مستقل وصول الی اللہ کا طریقہ ہے جس کے ذریعہ لاکھوں کو وصول ہوا ہو اس میں شرک کی بو سمجھنا انھی کا حصہ ہے۔
تیجہ، دسواں، بیسواں، چالیسواں وغیرہ:
حامل اسرار خفی و جلی حضرت مولانا رضا علی فاروقی قدس سرہ جو کہ اس دیار میں قطب بنارس کے خطاب سے مشہور و معروف ہیں آپ اپنے وقت کے علوم نقلیہ و عقلیہ میں ید طولیٰ کے مالک تھے۔ میں نے ایک مستقل تحریر بھی آپ کے مختصر
میں حالات قلمبند کیا ہے۔ آپ نے ایصال ثواب کی ان مختلف صورتوں اور تعین اوقات کے سلسلے میں کافی طویل کلام فرمایا ہے۔ اپنے مرشد اعظم حضرت شاہ احمد سعید قدس سرہ کی کتاب تحقیق الحق المبین جو کہ مولوی اسحاق صاحب کی کتاب مسائل الاربعین کے رد میں لکھی گئی اہل سنت و جماعت کے انھی معمولات کا جن میں وہابی و دیوبندی اختلاف کرتے ہیں، اثبات بڑے اچھے دلائل سے کیا اور مخالف کے سارے تار و پود بکھیر کر رکھ دیا ہے۔
اس کتاب سے ایک طویل اقتباس حضرت قطب بنارس قدس سرہ نے نقل فرمایا اس کے بعد حضرت شاہ ولی اللہ اور ان کے فرزندان گرامی شاہ عبد العزیز صاحب، شاہ رفیع الدین صاحب رحمۃ اللہ علیہم اجمعین کے ارشادات گرامی بھی نقل فرمائے۔ بدعت کی رٹ لگانے والوں کی آپ نے اچھی طرح خبر لی ہے، ان بزرگوں کے ارشادات و فرمودات نقل کرنے کے بعد نتائج اخذ کرتے ہوئے تحریر فرماتے ہیں:
ان حضرات کے جوابات سے چند چیزیں مستفاد ہوئیں؛ ایک بزرگوں کی زیارت کے واسطے ان کی قبور پر سال کے ہیئت کذائیہ کے اجتماع کا جواز ، دوم ختم قرآن کا جواز، سوم شیرینی و طعام پر فاتحہ پڑھنے اور اس کو تقسیم کرنے کا جواز (چند سطر بعد فرماتے ہیں) نیز معلوم ہوا کہ بزرگوں کے عرس اور ان کی وفات کے دن کھانا کھلانا اور شیرینی وغیرہ پر فاتحہ دینا بزرگوں کی ارواح کی رضا کا سبب ہے، دلائل شرعیہ سے قطع نظر کرتے ہوئے بزرگوں کے مکاشفات بھی اس پر گواہ ہیں کہ بزرگوں کی ارواح کا اجتماع عالم برزخ میں ایسے دنوں میں ہوتا ہے۔
پھر بدعت کے معنی مرادی اور اس سے متعلق چند اصولوں کی تقریر کے بعد فرماتے ہیں کہ شرح تحفہ محمدیہ میں نقل کیا ہے کہ ساتواں دن اہل حرمین نے
مقرر کیا ہے میت کی فاتحہ اور کھانا کھلانے اور بدنی و مالی ثواب پہنچانے کے لیے کیوں کہ وہ دن میت کے لیے اپنے مکان سے آمد و رفت کی رخصتی کا ہے اور اس کی سند حدیث سے ہے (پھر وہ حدیث ذکر فرمائی، پھر فرماتے ہیں)
اور اہل ہند نے چہلم کا دن فاتحہ کے واسطے مقرر کیا ہے کیوں کہ وہ دن بھی بعض روایات کے مطابق وداع کا دن ہے، پھر قطب بنارس قدس سرہ نے تیجہ، دسواں وغیرہ سب کے بارے میں بڑا مفید کلام کیا ہے۔
قبلہ عالم حضرت خواجہ احمد سعید قدس سرہ:
شیخ الاسلام و المسلمین وارث علوم سید المرسلینﷺ قبلہ عالم حضرت خواجہ احمد سعید مہاجر مدنی قدس سرہ آپ کا سلسلہ نسب چھ واسطوں سے حضرت امام ربانی مجدد الف ثانی قدس سرہ تک پہنچتا ہے اس لیے آپ نسباً اور مشرباً دونوں طرح مجددی ہیں۔ آپ کی ولادت مبارکہ یکم ربیع الثانی ۱۲۱۷ھ کو شہر رامپور میں ہوئی اور بروز شنبہ ظہر و عصر کے مابین بتاریخ ۲۰؍ ربیع الاول ۱۲۷۷ھ کو مدینہ طیبہ میں وصال فرمایا۔
آپ کی علوم نقلیہ و فنون عقلیہ میں مہارت تامہ سے ہر پڑھا لکھا انسان واقف ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ علوم باطنی اور کمالات احمدی میں اوج کمال کو پہنچے ہوئے تھے۔ آپ کی ولایت و بزرگی پر دنیا متفق ہے۔ آپ کے چشمہ ظاہر وباطن سے بڑے بڑوں نے سیراب ہوکر اہل عالم کی تشنگی بجھائی ہے۔ بڑے بڑے علما اور وقت کے عظیم فضلا آپ کے خوان نعمت کے خوشہ چین ہیں۔ آپ کے عظیم مناقب و فضائل اگر دیکھنا ہو تو مناقب احمدیہ اور مقامات سعیدیہ دیکھیے جو آپ کے فرزند اصغر حضرت مولانا شاہ محمد مظہر صاحب نے تحریر کی ہے۔ حضرت قبلہ عالم قدس سرہ کا دور وہ تھا جب کہ وہابیت ہندوستان میں اچھی طرح پنپنے لگی تھی۔ حضرت قبلہ
عالم قدس سرہ نے اچھی طرح سے اس کے مضر اثرات کو بھانپ لیا تھا ایمان کے لیے یہ تحریک کتنی خطرناک تھی یہ آپ اچھی طرح جان چکے تھے اس وہابیت سے جو آپ نے نتائج اخذ کیے تھے وہ کتنے بصیرت افروز ہیں آپ کے فرزند حضرت شاہ محمد مظہر تحریر فرماتے ہیں:
و کان قدس سرہ یقول ادنی ضرر صحبتھم ان محبۃ النبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ و سلم التی ھی من اعظم ارکان الایمان تنقص ساعۃً فساعۃً حتّی لایبقیٰ منھا غیر الاسم و الرسم، فکیف یکون اعلاہ فالحذر فالحذرمن صحبتھم ثم الحذر الحذر عن رویتھم
یعنی حضرت والد ماجد قدس سرہ فرمایا کرتے تھے کہ وہابیوں سے میل جول کا معمولی نقصان یہ ہے کہ سرکار مصطفیٰﷺ کی محبت جو ایمان کا رکن اعظم ہے وہ (مسلمان کے دل سے) دھیرے دھیرے گھٹتی جاتی ہے یہاں تک کہ محبت نبوی تو ختم ہو جاتی ہے صرف نام و نمود کا اسلام رہ جاتا ہے (جب معمولی نقصان کا حال یہ ہے) تو پھر بڑے نقصان کا عالم کیا ہوگا لہٰذا (اے سنی مسلمانو) وہابیوں کے میل جول سے بچو، دور بھاگو بلکہ ان کی صورت دیکھنے سے پرہیز کرو، دور رہو۔’’ (سوانح اعلیٰ حضرت)
اسے حضرت خواجہ احمد سعید قدس سرہ کی کمال درجہ کی بصیرت ہی کہا جائےگا کہ ہندوستان میں جب وہابیت کا آغاز تھا اور یہ سخت عیاری کے لباس سے ملبوس ہو کر اپنا جل پھیلا رہی تھی آپ کی دور بیں نظروں نے صحیح تجزیہ کر لیا۔ آج ہر منصف مزاج وہابیت سے آشنا انسان جانتا ہے کہ ان کی صحبت کا ادنیٰ اثر یہی ہے جو آپ نے ذکر فرمایا، سچ فرمایا جب ادنیٰ کا یہ عالم ہے تو اعلیٰ کا کیا ہوگا، پھر اخیر کے جملوں کا تیور ہر وہ انسان جانتا ہے جس کو عربیت سے تھوڑا سا بھی لگاو ہے۔
کتنی تحذیر فرما رہے ہیں، بار بار تنبیہ فرما رہے ہیں کہ ان کے جبہ و قبہ اور تسبیح و مصلیٰ کے دام فریب میں پھنس نہ جانا، یہ کتنا ہی تقویٰ و طہارت کا لبادہ اوڑھیں ان کی جھولی میں سواے ایمان لوٹنے کے ہے اور کچھ نہیں لہٰذا ان کی صحبت تو صحبت رہی ان کی طرف تھوکنا بھی نہیں۔’’
حضرت قبلہ عالم قدس سرہ نے صرف یہی نہیں کیا کہ کبھی کبھار رد کر دیا ہو بلکہ وہابیت کے کفریہ بدعت کی باد سموم سے اہل ایمان کے ایمان کو محفوظ کرنے کے لیے آپ نے مجاہد آزادی علامہ فضل حق خیرآبادی و مفتی صدر الدین صاحب دہلوی و علامہ فضل رسول صاحب بدایونی وغیرہ کے ساتھ مل کر تحریر و تقریر وغیرہ سے جتنی بھی اس کی قباحتیں اور شناعتیں بیان کی جا سکتی تھیں بیان کیں اور لوگوں کو اس عظیم فتنہ سے بچانے کی ہر ممکن سعی فرمائی۔
علامہ فضل رسول بدایونیرحمۃ اللہ علیہ نے عربی زبان میں المعتقد المنتقد علم کلام کے طرز پر تحریر فرمائی جس میں وہابی نجدی عقائد کا خوب جم کر رد فرمایا۔ اس وقت کے چند مستند اور نامور علما کی تقریظات اس کتاب کے اول میں چھپی ہیں۔ تیسری تقریظ آپ کی ہے، تقریظ کے چند جملے یہ ہیں:
فوجدتہ مشتملاً علیٰ عقائد اھل السنۃ و الجماعۃ بأوضح بیان فی ضمن فصول ھی للدین قواعد و اصول لدفع اھل البدع و البطلان قامع رأس اھل الھویٰ قرن الشیطان
یعنی میں نے اس کو اہل سنت و جماعت کے عقائد پر مشتمل پایا روشن تر بیان کے ساتھ فصلوں کے ضمن میں جو کہ دین کے قاعدے اور اہل بدعت و اہل بطلان کے دفع کے لیے اصول ہیں شیطانی جماعت اہل خواہش کے سر کو توڑنے والی۔’’.....آپ کے یہ جملے صاف ارشاد فرما رہے ہیں کہ وہابی لوگ بدعتی ہیں، اہل باطل
ہیں، اہل ہوا کے سردار ہیں، شیطان کی جماعت ہیں۔ یہ در اصل اخیر کا لفظ اس حدیث کی طرف اشارہ ہے جس میں فرمایا گیا کہ نجد سے قرن شیاطین (شیطان کی سینگ) نکلےگی۔
المعتقد کی تحریر سے ایک غرض یہ بھی تھی کہ پہلے زمانے میں معتزلہ وغیرہ فرق باطلہ تھے لہٰذا ہمارے متکلمین نے عقائد کی کتب میں ان کا رد کیا ان میں بعض داخل نصاب کیا تاکہ اچھی طرح ان باطل فرقوں کی برائیاں اساتذہ کرام کے توسط سے طلبہ سمجھ لیں۔ نجدیت کی پیداوار نے جدید علم کلام کی ترتیب کی دعوت دی تاکہ اس نئے فتنے سے ہمارے خواص اور ان کے توسط سے ہمارے عوام اچھی طرح واقف ہو جائیں۔ علامہ فضل رسول کی قبر اطہر پر لاکھوں رحمتوں کے پھول برسیں جنھوں نے وقت کے تقاضے کو پورا کیا اس پر ان بزرگوں نے اپنی تقریظات کے ذریعہ عملاً یہ ثابت کر دیا کہ ہم علامہ کے ساتھ ہیں، وہابیت کارد کرکے علامہ نے ہمیں اس فرض سے سبکدوش کر دیا۔
حضرت قبلہ عالم خواجہ احمد سعید قدس سرہ نے اتنا ہی نہیں فرمایا بلکہ حضرت علامہ فضل حق خیر آبادی کی تحقیق الفتویٰ جو کہ مولوی اسمٰعیل دہلوی کے کفریات کے رد میں لکھی گئی ہے اس پر بھی آپ نے مہر تصدیق ثبت فرمائی ہے۔ وہابیت کا فتنہ کتنا عظیم تھا آپ کی نظر میں اس کے کتنے مہلک اثرات تھے کم سخن ہونے کے باوجود وہابیت کے معاملے میں آپ کا حال یہ تھا کہ آپ کے فرزند رقم طراز ہیں:
و لم یذکر احداً بالسوء إلا الفرقۃ الضالۃ الوھابیۃ لتحذیر الناس من قباحۃ افعالھم و اقوالھم یعنی آپ کسی کا برائی کے ساتھ ذکر نہیں کرتے تھے مگر اس گمراہ فرقہ وہابیہ کی برائی بیان کرتے تھے تاکہ مسلمانوں کو وہابیوں کے برے اقوال اور افعال سے لوگوں کو بچائیں۔ (سوانح اعلیٰ حضرت)
وہابیوں کے رد میں باقاعدہ طور پر آپ نے کتنا بیں تحریر فرمائیں جن میں چند کے نام یہ ہیں:
تحقیق الحق المبین (فارسی) مولوی اسحاق کی مسائل اربعین کا رد، اثبات المولد و القیام، میلاد شریف اور قیام تعظیمی کا اثبات، سعید البیان فی مولد سید الانس و الجان، الذکر الشریف فی اثبات المولد المنیف، الفوائد الصاعقۃ فی اثبات الرابطۃ۔
حضرت خواجہ احمد سعید قدس سرہ کے بعد آپ کے خلفا نے بھی وہابیت کے رد میں حتّی الامکان حصہ لیا۔ چناں چہ آپ کے خلیفہ ارشد قطب الاقطاب حضرت علامہ مفتی رضا علی صاحب فاروقی مجددی بنارسی قدس سرہ نے اور ان کے تلامذہ نے اس معاملے میں نمایاں خدمات انجام دیں حضرت قطب بنارس قدس سرہ کے فتاویٰ کا مجموعہ جو فیوض الرضا کے نام سے موسوم ہے محرر سطور کے پاس موجود ہے جگہ جگہ اہل سنت کے عقائد حقہ کا اثبات اور وہابیوں غیر مقلدوں کے مذہب کا ابطال موجود ہے۔
مضمون کی طوالت کا خوف دامن گیر نہ ہوتا تو میں تفصیلاً ان بزرگوں کے اقوال رد وہابیت کے سلسلے میں نقل کرتا اور ناظرین کو دکھا دیتا کہ رد وہابیت میں نقشبندیوں مجددیوں کا کتنا زبردست ہاتھ رہا ہے اور آج بھی جو صحیح نقشبندی مجددی ہیں وہ وہابیت سے اتنا ہی محفوظ ہیں جتنا کہ ایک متصلب بریلوی ہو سکتا ہے۔
میری تمام برادران طریقت سے پر خلوص گذارش ہے کہ اگر حضرت مجدد الف ثانی یاا ن کے خلفا اور خلفا کے خلفا جو صاحب کمال ہوئے ہیں اگر ان بزرگوں کے اقوال و افعال میں ذرا بھی ان عقائد و اعمال کی گنجائش ہوتی جو وہابیوں کے ہیں تو حضرت خواجہ احمد سعید جیسے بزرگ جو نسباً اور مشرباً دونوں طرح مجددی ہیں جو
علوم ظاہری و باطنی کے مجمع البحرین ہیں بلند بصیرت کے حامل ہیں کبھی بھی وہابیت کے رد میں اتنا زبر دست حصہ نہ لیتے جتنا کہ لیا حضرت خواجہ احمد سعید قدس سرہ تعلیمات مجددیہ سے اچھی طرح واقف تھے۔ آپ خوب جانتے تھے کہ حضرت مجدد قدس سرہ کے پاک دامن میں اس ناپاک غبار کو قطعاً کوئی گنجائش نہیں ہے۔
نرے (بہت سے) نقشبندی مجددی ہیں، بڑی بڑی خانقاہوں کے مسند نشین ہیں، وہابی سیٹھوں سے چوں کہ ان کی روٹیاں اور ادارے چل رہے ہیں وہ اپنی ان روٹیوں کو بچانے کے لیے حضرت مجدد قدس سرہ کے اقوال سے وہابیت کی حمایت کی سندیں تلاش کرتے ہیں تاکہ وہابیوں سے تعلقات کا جواز قائم رہے حلقہ ارادت میں سیٹھوں کا داخلہ ہوتا رہے اور اپنی نسل کے لاکھوں روپے کی دولت بینک میں جمع رہے۔ افسوس صد افسوس دنیا کے چند ٹکوں کی خاطر ایمان کا سودا پھر حضرت مجدد جیسے مسلم الثبوت پیشوا کے اقوال سے اس کو عین ایمان ظاہر کرنا اور اس بہانے سے آپ کے محبین و معتقدین کا ایمان لوٹنا کیسا ستم بالاے ستم ہے۔ میری تمام بھائیوں سے گذارش ہے کہ حضرت قبلہ عالم خواجہ احمد سعید قدس سرہ کے اقوال کو اپنا پیشوا بنائیں اور اس معاملے میں انھی کی مانیں، دنیادار مجددیوں کی بات پر قطعاً کان نہ دھریں۔
الحمد للہ ہمارے نقشبندی بزرگوں کا دامن ان فرق باطلہ سے یکسر پاک اور صاف ہے۔ خدایا مشائخ نقشبندیہ مجددیہ کے طفیل ہم سب کو، ہمارے گلشن ایمان کو وہابیت کی باد سموم کے تیز و تند جھونکوں سے محفوظ فرما۔ آمین بجاہ سید المرسلین صلی اللہ تعالیٰ علیہ و علیٰ آلہ و اصحابہ اجمعین۔