مواد پر جائیں

Allama Afaque Ahmad Mujaddidiخصائصِ نقشبندیہجسم اقدس کا سایہ نہیں تھا

باب ۴ از ۲۲صفحات ۴۵–۵۶

جسم اقدس کا سایہ نہیں تھا

اہل سنت کے نزدیک سرکار علیہ الصلاۃ و السلام کے فضائل میں سے یہ بات بھی ہے کہ آپ کا سایہ نہیں تھا اس کا تعلق در اصل اس بات سے ہے کہ اہل سنت و جماعت کے نزدیک سرکار علیہ السلام محض بشر نہیں بلکہ نور بھی ہیں منکرین جو کہ

اپنی طرح بشریت عین ایمان سمجھتے ہیں ان کے نزدیک ہر بشر کا سایہ ہوتا ہے لہٰذا آپ کا بھی سایہ تھا حضرت مجدد قدس سرہ کا مبارک کلام پڑھیے صرف یہی صراحت نہیں کہ آپ کا سایہ نہیں تھا بلکہ سایہ کیوں نہیں تھا اس کی وجہ بھی بیان فرما دی، ارشاد ہے:

و بکشف صریح معلوم گشتہ است کہ خلقت آں سرور علیہ و علیٰ آلہ الصلوات و التسلیمات ناشی ازیں امکان است کہ بصفات اضافیہ تعلق دارد نہ امکانیکہ در سائر ممکنات عالم کائن است و ہر چند بدقت نظر صحیفہ ممکنات عالم را مطالعہ نمودہ می آید وجود آں سرور آنجا مشہود نمی گردد بلکہ منشاے خلقت و امکان او علیہ و علیٰ آلہ الصلاۃ و السلام وجود صفات اضافیہ و امکان شان محسوس میگردد و چوں وجود آں سرور علیہ و علیٰ آلہ الصلاۃ و السلام در عالم ممکنات نباشد بلکہ فوق ایں عالم باشد ناچار او را سایہ نبود و نیز در عالم شہادت سایۂ شخص از شخص لطیف تر ست و چوں لطیف تر ازوے در عالم نباشد او را سایہ چہ صورت دارد علیہ و علیٰ آلہ الصلوات و التسلیمات۔(مکتوب: ۱۰۰، دفتر سوم)

یعنی کشف صریح سے معلوم ہو گیا ہے کہ سرکار علیہ الصلاۃ و السلام کی پیدائش اس امکان سے ناشی (پیدا) ہے جو صفات اضافیہ سے تعلق رکھتا ہے نہ کہ اس امکان سے جو کہ عالم تمام ممکنات میں ثابت ہے کتنی ہی دقیق نظر سے ممکنات عالم کی کتاب کا مطالعہ کیا جائے سرکار علیہ الصلاۃ و السلام کا وجود اس جگہ دکھائی نہیں دیتا ہے بلکہ آپﷺ کی پیدائش کا منشا اور امکان صفات اضافیہ کا وجود اور شان کا امکان محسوس ہوتا ہے اور جب سرکار علیہ الصلاۃ و السلام کا وجود عالم ممکنات میں نہیں ہوگا بلکہ اس عالم کے اوپر ہوگا اس لیے لامحالہ اس کا سایہ نہیں ہوگا۔ نیز عالم شہادت میں شخص کا سایہ شخص سے لطیف تر ہوتا ہے اور جب آپﷺ سے لطیف تر عالم میں نہیں ہوگا تو آپ کا سایہ کیا صورت رکھتا ہے۔

حضرت مجدد قدس سرہ کا کلام بالکل واضح ہے سمجھانے کی ضرورت نہیں ہے۔ آپ ذرا سوچیں تو سہی کہ وہ لوگ جرم کی کس منزل پر فائز ہیں جو اپنی بشریت کی طرح آپ کی بشریت اور اپنے امکان کی طرح آپﷺ کا امکان ثابت کر کے وہ تمام امور ثابت کر بیٹھے جو آپ کی بلندی اور اعلیٰ شان کے لائق نہیں تھے۔

حضرت مجدد کا کلام فیصلہ کن کلام ہے۔ جب آپ کا وجود عالم ممکنات سے الگ الگ ہے۔ لہٰذا جو عالم ممکنات کے لیے ثابت ہوگا وہی سب کچھ آپﷺ کے لیے کیسے ثابت ہو سکےگا سرکار علیہ السلام کے فضائل میں یہ ایک زبر دست کلام ہے اگر غائر نظر سے دیکھا جائے تو اسی سے ایمان کی وہ نوری راہیں کھلتی ہیں جن پر چل کر انسان خدا تک پہنچ سکتا ہے اور سید عالمﷺ کے سلسلے میں ہر مقام پر ادب و احترام کا دامن ہاتھ میں رہ سکتا ہے ورنہ ہلاکت خیز وادیوں کے سوا اور کچھ نہیں ہے۔

تقلید کا وجوب:

مسلمان کہلانے والوں میں ایک ایسا فرقہ پیدا ہو گیا ہے جن کے یہاں کسی مذہب معین کی تقلید بھی شرک و بدعت کی آندھیوں سے نہ بچ سکی۔ یہ فرقہ اتنا دریدہ دہن اور گستاخ ہے کہ جن ائمہ کرام کی جلالت شان اور امامت و اجتہاد پر اہل اسلام کا اتفاق ہو چکا ہے ان کی تنقیص و توہین کار ثواب سمجھ رکھا ہے خاص کر امام اعظم ابو حنیفہ قدس سرہ کی ذات اقدس کے بارے میں تو ہم نے دیکھا ہے ان میں جتنا زیادہ جاہل ہے اتنا ہی گستاخ ہے۔

مجھے تقلید کے سلسلے میں سر دست کوئی بحث و تحقیق نہیں کرنی ہے۔ حضرت مجدد قدس سرہ کے مبارک کلام سے چند امور اپنے ان اسلامی بھائیوں کے گوش گزار کرنا چاہتا ہوں جن میں تلاش و جستجو کا اور قبول حق کا مادہ باقی ہے ان میں

سے ایک یہ کہ تمام قسم کے احکام ہر شخص نہیں سمجھ سکتا ہے بلکہ احکام کی ایک قسم ایسی ہے جس کی فہم مجتہدین کے ساتھ خاص ہے۔ دوم امام اعظم قدس سرہ کی شان اجتہاد کی بلندی۔ سوم مذہب حنفی کی نورانیت۔

حضرت مجدد قد سرہ نے احکام قرآنی کی تین قسمیں بیان فرمائیں؛ پہلی قسم میں وہ احکام ہیں جو عبارۃ النص و اشارۃ النص، دلالۃ النص، اقتضاء النص سے مفہوم ہوتے ہیں ان کے بارے میں فرمایا کہ اہل لغت کے عوام و خواص برابر ہیں۔

دوسری قسم میں وہ احکام ہیں جو کہ استنباط و اجتہاد کے توسط سے مفہوم ہوتے ہیں۔ یہ فہم اور سمجھ ائمہ مجتہدین کے ساتھ مخصوص ہے۔ آپ کے الفاظ یہ ہیں:

قسم دیگر از احکام ازاں قبیل اند کہ بتوسط اجتہاد و استنباط مفہوم میگرد نہ ایں فہم مخصوص بائمہ مجتہدین است۔

تیسری قسم میں وہ احکام ہیں کہ ان کی سمجھ سے طاقت بشری عاجز ہے احکام سمجھے نہیں جا سکتے ہیں۔ یہ مخصوص اطلاع نبی علیہ السلام کے ساتھ خاص ہے۔ یہ وہ احکام ہیں جن کا نام سنت ہے۔ حضرت مجدد قدس سرہ کی اس تقسیم سے صاف ظاہر ہے قرآن شریف کے دوسری قسم کے احکام سواے مجتہدین اور کوئی نہیں سمجھ سکتا ہے حتیٰ کہ قسم اول کے احکام میں بھی خاص و عام اس وقت برابر ہیں جب کہ اہل لغت سے ہوں ورنہ صرف قرآن کا ترجمہ دیکھ کر احکام قرآن سمجھے نہیں جا سکتے ہیں۔ غیر مقلدحضرات میں ہر جاہل سے جاہل انسان بھی احکام کی سمجھ رکھتا ہے، تمام جاہلوں کو دعویٰ ہے کہ ہم بلا واسطہ احکام کی سمجھ رکھتے ہیں ہم آج تک سمجھ ہی نہ پائے کہ یہ کیا سمجھ رکھتے ہیں۔ اس فرقہ کا ظہور بھی خروج دجال کے قرب کی علامت ہے، یہ اپنے مذہب کی کامیابی ائمہ مجتہدین کو برا کہنے میں اور ان کی شان گھٹانے میں سمجھتے ہیں۔ ظاہر ہے جب تک اپنی طرح ان کو بے علم نہیں ثابت

کریں گے تو اپنے اجتہاد و استنباط کی اہمیت و قدر ان مجتہدین کے اجتہاد و استنباط کی طرح کیسے ہو پائےگی ان کا مقصد یہی ہے کہ جیسے ہم بے علم ہیں ایسے ہی وہ بھی تھے جب ان کا اجتہاد مقبول ہے تو ہمارا بھی ہونا چاہیے۔’’

یہ خیالی پلاو خیالی ہی رہےگا، ایسا خواب کبھی بھی شرمندۂ تعبیر نہ ہو سکے گا۔

امام اعظم کی شان اجتہاد کی بلندی:

اسی مکتوب میں اجتہاد کی بحث کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ ہمارے سرکار علیہ السلام کی سنت لاحق سنت سابق کی ناسخ ہو سکتی ہے اور حضرت عیسیٰ علیٰ نبینا و علیہ الصلاۃ و السلام کہ نزول کے بعد اسی شریعت کی متابعت فرمائیں گے حضور سرور کائناتﷺ کی سنت کی بھی اتباع فرمائیں گے کیوں کہ اس شریعت کا منسوخ ہونا جائز نہیں ہے نزدیک ہے کہ علماے ظواہر حضرت عیسیٰ علیٰ نبینا و علیہ الصلاۃ و السلام کے مجتہدات (اجتہادی مسائل) کے ماخذ کا کمال دقت (باریکی) اور پوشیدگی کی وجہ سے انکار کریں اور کتاب و سنت کے مخالف جانیں۔

حضرت روح اللہ (علیہ السلام) کا حال امام اعظم کوفی کے حال کی طرح ہے رحمۃ اللہ علیہ کہ ورع و تقویٰ کی برکت اور متابعت سنت کی دولت سے اجتہاد و استنباط میں بلند درجہ پایا ہے کہ دوسرے اس کے سمجھنے میں عاجز و قاصر ہیں اور آپ کے مجتہدات کو معانی کی باریکی کی وجہ سے کتاب و سنت کا مخالف جانتے ہیں اور آپ کے اصحاب راے سمجھتے ہیں یہ سب کچھ آپ کے علم و ادراک کی تہ تک نہ پہنچنے اور آپ کی فہم پر اطلاع نہ ہونے کے سبب سے ہے۔

امام شافعی کی دانائی نے امام اعظم کی فقاہت کی باریکی ادنیٰ سی معلوم کر لی تو کہا تمام فقہا ابو حنیفہ کی اولاد ہیں۔ افسوس ہے ان کوتاہ نظروں کی جرأت سے کہ اپنے قصور کو دوسروں کی طرف منسوب کرتے ہیں۔ آپ کے الفاظ یہ ہیں:

مثل روح اللہ امام اعظم کوفی است رحمۃ اللہ علیہ کہ ببرکت ورع و تقویٰ و بدولت متابعت سنت درجہ علیا در اجتہاد و استنباط یافتہ است کہ دیگراں در فہم آں عاجز و قاصر اند و مجتہدات او را بواسطہ دقت معانی مخالف کتاب و سنت دانند و او را و اصحاب او را اصحاب راے پندارند کل ذلک بعدم الوصول الی حقیقۃ علمہ و درایتہ و عدم الاطلاع علیٰ فھمہ و فراست امام شافعی بکرشمہ از دقت فقاہت او علیہ الرضوان دریافت کہ گفت الفقھاء کلھم عیال ابی حنیفۃ وائے از جرأتہاے قاصر نظراں کہ قصور خود را بدیگرے نسبت نمایند۔

مذہب حنفی کی نورانیت:

حضرت مجدد صاحب کی بلند نظر میں مذہب حنفی کو سنیے بے شائبہ تکلف و تعصب گفتہ میشود کہ نورانیت ایں مذہب حنفی بنظر کشفی در رنگ دریائے عظیم مینماید و سائر مذاہب در رنگ حیاض و جداول بنظر می آیند و بظاہر ہم کہ ملاحظہ نمودہ می آید سواد اعظم از اہل اسلام متابعان ابی حنیفہ اند علیہم الرضوان و ایں مذہب باوجود کثرت متابعان در اصول و فروع از سائر مذاہب متمیز است و در استنباط طریق علاحدہ دارد و ایں معنی مبنی از حقیقت است۔

تکلف و تعصب کے شائبہ کے بغیر کہا جا سکتا ہے کہ اس مذہب حنفی کی نورانیت نظر کشفی میں عظیم دریا کی طرح دکھائی دیتی ہے اور باقی مذاہب حوضوں اور چھوٹی چھوٹی نہروں کی طرح نظر آتے ہیں اور ظاہراً بھی ملاحظہ کیا جاتا ہے کہ اہل اسلام کا بڑا گروہ ابو حنیفہ کا متبع ہے کثرت متبعین کے باوجود یہ مذہب اصول و فروع میں دیگر مذاہب سے ممتاز ہے اور استنباط میں اپنا جدا راستہ رکھتا ہے یہ چیز حقیقت کی خبر دیتی ہے۔

حضرت مجدد قدس سرہ کی علوم ظاہری و باطنی میں کامل دسترس سے کون انکار

کر سکتا ہے، آپ کے مکشوفات و مشہودات کی صحت سے کسے انکار ہو سکتا ہے، معارف کونیہ و حقائق الٰہیہ میں آپ کی بلند پہنچ کا کون معترف نہیں، آپ کی زبان مبارک فرما رہی ہے کہ امام اعظم کے استنباط و اجتہاد کا ماخذ بہت دقیق اور غامض ہے، آپ کے مسائل اجتہادیہ بہت دقیق ہیں جہاں تک اکثر لوگوں کی پہنچ نہیں۔ مذہب حنفی کا نور، عظیم دریا ہے باقی مذاہب چھوٹی چھوٹی نہریں اور حوض ہیں اس کے اصول و فروع سب سے بلند اور ممتاز ہیں، خدا ہزاروں رحمتیں نازل فرمائے حضرت مجدد قدس سرہ کی تربت اطہر پر کہ ہم قاصروں اور ظاہر بینوں کو حقیقت کا پتا بتا دیا، ہمارے دلوں کو اطمینان عطا فرما دیا۔ کتنے مبارک ہیں وہ انسان جنھیں ایسے مذہب اور عظیم پیشوا کی دولت تقلید میسر آئی۔ خداوند قدوس کی اس نعمت عظمیٰ پر جتنا بھی شکر کیا جائے کم ہے۔ اب آئیے اہل زمانہ کا وہ ستم آپ کو دکھائیں جو اس امت مرحومہ کے عظیم رہنما و مقتدا کے ساتھ کیا گیا۔ حضرت مجدد فرماتے ہیں: عجیب معاملہ ہے امام ابو حنیفہ سنت کی پیروی میں سب سے آگے ہیں اور مرسل احادیث کو مسند کی طرح لائق متابعت جانتے ہیں اور اپنی راے پر مقدم رکھتے ہیں اور اسی طرح قول صحابی کو خیر البشر علیہ و علیہم الصلوات و التسلیمات کے شرف صحبت کی وجہ سے اپنی رائے پر مقدم رکھتے ہیں اور دیگر (ائمہ مجتہدین) ایسے نہیں ہیں اس کے باوجود مخالفین امام اعظم کو صاحب رائے جانتے ہیں اور جو الفاظ بے ادبی کے مشعر ہیں ان کی طرف منسوب کرتے ہیں۔ حالاں کہ تمام لوگ ان کے کمال علم، وفور ورع و تقویٰ کے معترف ہیں اللہ تعالیٰ ان کو توفیق دے کہ اصل دین اور اہل اسلام کے سردار کو آزار نہ دیں اور اہل اسلام کے بڑے گروہ کو اذیت نہ دیں۔

یُرِیۡدُوۡنَ اَنۡ یُّطْفِـُٔوۡا نُوۡرَ اللہِ بِاَفْوَاہِہِمْ (التوبۃ: ۸؍۳۲)

ترجمہ: چاہتے ہیں کہ اللہ کا نوراپنے منہ سے بجھا دیں۔

جو لوگ کہ ان اکابر دین کو اصحاب رائے سمجھتے ہیں اگر یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ یہ لوگ اپنی راے سے حکم کرتے ہیں اور کتاب و سنت کی متابعت نہیں کرتے ہیں تو اہل اسلام کا سواد اعظم ان کے فاسد گمان کے اعتبار سے گمراہ اور بدعتی ہوگا بلکہ اہل اسلام کے گروہ سے باہر ہوں گے۔ یہ عقیدہ نہیں رکھےگا مگر جاہل جو کہ اپنے جہل سے بے خبر ہے یا زندیق کہ جس کا مقصد شطر (نصف) دین کو باطل کرنا ہے۔ چند ناقص لوگوں نے چند حدیثیں یاد کر لی ہیں اور احکام شریعت کو ان میں منحصر کر دیا ہے اور اپنے معلوم کے ماورا کی نفی کرتے ہیں اور جو ان کے نزدیک ثابت نہیں ہوا اسے منتفی کرتے ہیں؎

چوں آں کرمے کہ در سنگ نہاں استزمین و آسماں او ہمانست

افسوس ہزار افسوس ان ناقصوں کے بارد تعصبات اور ان کی فاسد نظروں سے، فقہ کے بانی ابو حنیفہ ہیں اور فقہ کا تین چوتھائی حصہ آپ کے لیے تسلیم کیا گیا ہے اور باقی چوتھائی میں آپ کے ساتھ تمام لوگ شرکت رکھتے ہیں ۔

فقہ میں صاحب خانہ آپ ہیں اور دوسرے تمام آپ کی اولاد ہیں اس مذہب حنفی کے التزام کے باوجود مجھ کو امام شافعی سے گویا ذاتی محبت ہے اور بزرگ جانتا ہوں اس لیے بعض اعمال نافلہ میں ان کے مذہب کی تقلید کر لیتا ہوں لیکن کیا کروں کہ دوسروں کو وفور علم اور کمال تقویٰ کے باوجود امام ابو حنیفہ کے پہلو میں بچوں کی طرح پاتا ہوں و الامر الی اللہ سبحانہ۔’’

بات چوں کہ طویل تھی اس لیے میں نے ترجمہ نقل کر دیا، اصل عبارت جسے دیکھنا ہو وہ مکتوب ۵۵، دفتر دوم ملاحظہ کرے جس میں یہ تمام بحثیں موجود ہیں۔

...........................

۔پتھروں کے اندر جو کپڑا ہوتا ہے اس کی زمین و آسمان سب وہی پتھر ہوتا ہے۔

حضرت مجدد قدس سرہ کا کلام بہت صاف اور واضح ہے کسی تفصیل و توضیح کا خواہاں نہیں۔آپ نے جو کچھ فرمایا اچھی طرح سے ایک معمولی انسان پڑھ کر یا سن کر سمجھ سکتا ہے۔ حضرت مجدد قدس سرہ نے آج سے تقریباً چار سو سال قبل جو کچھ فرمایا تھا آپ دیکھ لیجیے آج کے غیر مقلدین پر پورا پورا صادق آرہا ہے بلکہ آج کل کے غیر مقلد کوسوں آگے ہیں۔ حضرت مجدد کو جن سے شکوہ ہے ان کا ستم حضرت ابو حنیفہ اور ان کے مقلدین تک تھا موجودہ لوگوں کا تو اہانت رسول شعار ہو گیا ہے۔

ہر ایک اپنے مولوی سے حدیث کے ترجمے سن کر انھی چند روایتوں کا ناقص مفہوم یاد کر لیتا ہے جو اس کی خواہش نفس کے مطابق ہو جن پر عمل کرنے میں نفس کو ادنیٰ سی بھی تکلیف نہ ہو باقی اس کی نظر میں سب ضعیف ہیں۔ پھر بخاری و مسلم وغیرہ کے ترجمے ہو ہی گئے ہیں اگر اردو خواں ہے تو بس اتنا ہی اجتہاد کے لیے کافی ہے اپنے اس خبث باطنی کو مستور رکھنے کے لیے اپنے آپ کو اہل حدیث اور موحد مشہور کر رکھا ہے۔

لوگو، سچ اور حق راستہ وہی ہے جس پر چل کر لوگ ولی ہوئے، خدا سے واصل ہوئے ان کا وصول اس کی دلیل حقانیت ہے۔ حضرت مجدد جیسے خدا رسیدہ بزرگ اور امام کے ارشادات کے بعد پھر کسی دیگر کے فرمودات کی ضرورت نہیں رہتی ہے مگر مزید اطمینان کے لیے چند بزرگوں کے واقعات ناظرین کے نذر ہیں۔ یہ لوگ ایسے بزرگ ہیں جن کا ماننے والا اور نقش قدم پر چلنے والا بہکتا نہیں ہے امام اہل سنت اعلیٰ حضرت قدس سرہ فرماتے ہیں:

ترے غلاموں کا نقش قدم ہے راہ خدا

وہ کیا بہک سکے جو یہ سراغ لے کے چلے

۱۔ قطب الارشاد حضرت سیدنا خواجہ باقی باللہ قدس سرہ جو حضرت مجدد صاحب قدس سرہ کے مرشد گرامی ہیں فرماتے ہیں کہ امام کے پیچھے سورہ فاتحہ پڑھنے کا حکم ظاہراً چند روایتوں سے معلوم ہوتا ہے تو یہ سوچ کر کہ سنت پر عمل کا کوئی پہلو چھوٹ نہ جائے سوچا کہ کچھ دنوں سورہ فاتحہ امام کے پیچھے پڑھ لی جائے۔ ابھی چند دن ہوئے تھے کہ امام الائمہ سراج الامہ سیدنا امام اعظم ابو حنیفہ قدس سرہ کو واقعہ میں دیکھا کہ اپنی مدح میں ایک قصیدہ پڑھ رہے ہیں جس سے یہ سمجھ میں آرہا تھا کہ میرے مذہب میں بکثرت اولیاے کرام ہوئے ہیں جو امام کے پیچھے سورہ فاتحہ نہ پڑھتے تھے۔ اس واقعہ کے بعد امام کے پیچھے پھر کبھی سورہ فاتحہ نہیں پڑھی۔ (یہ واقعہ برکات احمدیہ میں تفصیل سے واقعہ موجود ہے)

۲۔ قطب زماں حضرت سائیں توکل شاہ انبالوی مجددی قدس سرہ (المتوفی ۱۳۱۵ھ) سلسلہ عالیہ نقشبندیہ مجددیہ کے چودھویں صدی کے ایک مشہور و معروف بزرگ ہیں بلند درجہ کے اعتبار سے کشف و مشاہدہ بھی بہت بلند پایا تھا ان کے چند مکشوفات عرض ہیں۔ زیر بحث مسئلہ سے متعلق علامہ نور بخش صاحب توکلی تذکرہ مشائخ نقشبندیہ میں تحریر فرماتے ہیں کہ کسی زمانہ میں غیر مقلدین انبالہ نے اہل سنت مقلدین سے بحث و مباحثہ شروع کر رکھا تھا نا اتفاقی زیادہ ہو گئی تھی حضرت سائیں صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے ان دنوں کا قصہ مجھ سے اس طرح فرمایا کہ مجھے یہ خیال آیا کہ غیر مقلدین جب حدیث رسول اللہﷺ پر عمل کرتے ہیں تو ان کی مخالفت کیوں کی جاتی ہے اور فکر میں تھا کہ اس کے متعلق مجھے جو حق ہو معلوم ہو جائے۔

آخر الامر ایک شب یہ خواب دیکھا کہ ایک احاطہ میں حضور رسول اکرمﷺ رونق افروز ہیں اس احاطہ کا صرف ایک دروازہ ہے، گرد آلود دیوار ہے، دیوار کے باہر

نصاریٰ بھی کھڑے ہیں مگر حضورﷺ کی طرف نصاریٰ کی پشت ہے اور غیر مقلدین بھی دیوار احاطہ کے باہر ہیں ان کا چہرہ تو حضورﷺ کی طرف ہے مگر اندر جانے کا دروازہ انھیں نہیں ملتا دیوار احاطہ کے باہر کھڑے ہیں اور اہل سنت و الجماعت، مقلدینِ حضرت امام اعظم‌رحمۃ اللہ علیہ بے تکلف دروازہ سے اندر جاتے ہیں اور حضور رسول اکرمﷺ کی خدمت میں حاضر ہوتے ہیں۔ شاہ صاحب‌رحمۃ اللہ علیہ کو یہ خواب دیکھ کر اطمینان ہو گیا کہ مقلدین امام اعظم و دیگر مقلدین ائمہ حق پر ہیں اور غیر مقلدین غلطی پر ہیں۔’’

وسعتِ علمِ امام اعظم کا حال بیان کرتے ہوئے شاہ صاحب نے فرمایا کہ ایک دفعہ ہم مراقبہ میں تھے، ہم نے دیکھا کہ ایک بہت بڑا حوض ہے جس کا پانی سبز رنگ کا ہے اور بہت ہی گہرا ہے۔ ہم نے بہت ہی غوطے لگائے اور بہت ہی زور مارا مگر اس کی تہ کا پتا بالکل نہ لگا، پھر ہم نے دیکھا کہ اس حوض میں سے کچھ نہریں نکلی ہوئی ہیں اور حوض کے کناروں پر بہت سی چرخیاں لگی ہوئی ہیں، پانی نہر کے ذریعہ سے بھی نکل رہا ہے اور چرخیوں کے ذریعہ سے بھی کھنچتے ہیں اور ان کے علاوہ اور بھی ہزارہا خلقت پانی کھنچ رہی ہے مگر پانی ختم ہونے میں نہیں آتا۔

ہم نے پوچھا یہ کس کا حوض ہے؟ کہا گیا کہ یہ حضرت امام اعظم‌رحمۃ اللہ علیہ کے علم کا حوض ہے، تمام عمر اسی طرح کھنچتا رہے تو بھی یہ کبھی ختم نہ ہوگا باقی حضرت امام شافعی اور حضرت امام احمد ابن حنبل اور حضرت امام مالک رحمۃ اللہ علیہم کے علم کے حوض بھی ہم نے دیکھے ہیں وہ پاس ہی تھے گو وہ اپنی مقدار کے لحاظ سے بہت بڑے ہیں مگر اس حوض کے مقابلے میں بہت چھوٹے نظر آتے ہیں اس روز سے ہم کو حضرت امام اعظم علیہ الرحمۃ سے اس قدر محبت ہو گئی ہے کہ کچھ کہہ نہیں سکتے نہروں کی بابت جو ہم نے پوچھا تو جواب ملا کہ یہ امام محمد کی نہر ہے، یہ امام ابو

یوسف کی ہے، یہ امام زفر کی ہے وغیرہ وغیرہ چوں کہ حوض کا پانی سبز رنگ کا تھا اس سے ہم نے سمجھ لیا کہ رسول اللہﷺ کی تمام شریعت کا نور ادھر ہی آگیا ہے۔