مواد پر جائیں

باب ۱۷ از ۲۲صفحات ۱۹۶–۲۰۶

فائدہ

سیر قلبی میں بندوں سے افعال کی نسبت مسلوب ہو جاتی ہے اور ان کی نسبت حضرت حق سبحانہ سے ہوتی ہے اور لطیفہ نفس کی سیر میں سالک صفات کو حق تعالیٰ سے منسوب پاتا ہے۔ ان دونوں لطیفوں کا کمال یہی ہے ، ان کے علاوہ دیگر لطائف میں اسرار و معارف جدا جدا ظاہر ہوتے ہیں اگر یہ تمام ظاہر ہوں تو بہت خوب ورنہ جناب الٰہی میں التجا کرے کہ قلب اور نفس میں ایسی توجہ تام پیدا ہو جائے کہ خطرات اس کے مزحم نہ ہوں۔

مدت تسلیک:

قیم طریقہ احمدیہ حضرت سیدنا خواجہ مظہر جان جاناں شہید دہلوی قدس سرہ کا مبارک طریقہ اس سلسلہ میں یہ تھا کہ جمیع مقامات کی تسلیک دس سال میں کرتے بایں طور کہ دو سال کی مدت میں لطیفہ قلب کی تسلیک مکمل فرماتے تھے اور لطیفہ نفس کی ایک سال میں اور دو سال میں باقی دیگر لطائف کی تسلیک فرماتے تھے اور کمالات تک پہنچاتے جن کا بیان آگے آئےگا اور پانچ سال میں کمالات سے لے کر باقی مقامات کی تسلیک فرماتے۔

حضور سیدنا و غوثنا شاہ غلام علی دہلوی قدس سرہ جو کہ اپنے زمانے کے مجدد تھے آپ کی توجہ اور فیضان انوار کا یہ عالم تھا کہ ایک سال سے کم میں ہی لطیفہ قلب طے ہو جاتا تھا، بعض خدام بارگاہ کے عرض کرنے پر فرمایا کہ میں حیران ہوں کہ میرے یہاں معاملہ طویل نہیں ہوتا ہے، یہ عنایت ایزدی ہے کہ راہ دور کو مجھ پر نزدیک کر دیا ہے۔ اس کے بعد فرمایا کہ تمام مسافت کا طے ہونا اسی مدت سے وابستہ ہے جو مذکور ہوئی اگرچہ ہر مقام کا رنگ توجہ کی کثرت اور مشائخ کی عنایتوں سے قلیل ایام میں حاصل ہو جائے۔

غرضیکہ جو تسلیک عجلت پر مبنی ہوتی ہے اس میں قرار و ثبات نہیں ہوتا ہے۔ حضرت شہید قدس سرہ اسی وجہ سے جب تک ایک مقام میں طول و عرض پیدا نہیں ہو جاتا تھا دوسرے مقام کی طرف متوجہ نہیں ہوتے تھے اور اسی وجہ سے آپ نے دس سال مقرر فرمائے۔ ھٰذا کلہ ماخوذ من کلام سیدنا و سندنا الشاہ غلام علی قدس سرہ الدھلوی۔

لطائف کی تہذیب:

لطائف کی تہذیب کے معنی یہ ہیں کہ لطائف اپنی پہلے والی کیفیات اور احوال کو پہنچ جائیں اور اپنی نورانیت حاصل کر لیں، باطن کا کارخانہ نئے سرے سے تازہ و روشن ہو جائے، اس کی ابتدا لطیفہ قلب سے ہوتی ہے۔ جب یہ لطیفہ اپنی اصل سے آگاہ ہو جاتا ہے تو اس میں آتش شوق بھڑک اٹھتی ہے اور وہ اپنے اصل مقام کی طرف پرواز کرتا ہے تاکہ اپنی اصل سے جا ملے، انتہاے شوق سے ایک شعلہ سا نکلتا محسوس ہوتا ہے جس کو مشائخ ‘فتح باب’ کہتے ہیں۔ رفتہ رفتہ یہ شعلہ قوی تر اور بلند تر ہوتا جاتا ہے یہاں تک کہ قفس عنصری سے نکل آتا ہے، یہی مراد ہوتی ہے جب کہا جاتا ہے کہ لطیفہ قالب سے باہر آگیا اس وقت لطیفے سے لے کر اس کے اصل مقام تک جو عرش کے اوپر ہے نور سے کشادہ راہ دکھائی دیتی ہے اور بعض کو نور کا ایک منارہ سا معولم ہوتا ہے تاکہ اپنی اصل سے جا ملے۔

خیال رہے کہ لطائف کے قالب سے باہر آنے اور اصول سے واصل ہونے اور اپنے مواطن میں قیام کرنے کے زمانے میں سالک لطائف کے انوار کو سینہ سے مشاہدہ کرتا ہے، اس کو مشائخ سیر آفاقی کہتے ہیں۔ اور لطائف اصول تک پہنچنے کے بعد جب وہاں قیام کر لیتے ہیں تو اس وقت سیر انفسی شروع ہوتی ہے، اس وقت سالک جو بھی انوار و اسرار دیکھتا ہے وہ اپنے سینے کے اندر دیکھتا ہے، اس آیت:

‘‘سَنُرِیۡہِمْ اٰیٰتِنَا فِی الْاٰفَاقِ وَ فِیۡۤ اَنۡفُسِہِمْ’’ کا رازاسی وقت کھلتا ہے۔

خصائصِ نقشبندیہ

حصّہ دوم

تالیف

بحر العرفان حضرت علامہ مفتی آفاق احمد مجددی نقش بندی دام ظلہ

ناشر

فروغ تصوف فاؤنڈیشن، الجامعۃ الاحمدیہ، قنوج

محمدی المشرب اور دیگر میں فرق:

محمدی المشرب کی سیری تربیت لطیفۂ قلب سے لطیفۂ روح،روح سے سِر،اس سے خفی،اس سے اخفیٰ اور اخفیٰ سے حق سبحانہ وتعالیٰ کی ذات اقدس تک ایک مستقیم شاہراہ پر ہوتی ہے،وہ سارے لطائف کو ترتیب و تفصیل سے طے کرتا ہے اسی طرح ان کے اصول اور اصول الاصول میں بھی ترتیب مذکور کے مطابق سیر کرتا ہے۔

دیگر مشارب والے اس طرح کا کوئی کام انجام نہیں دے پاتے ہیں،ان کا حال یوں ہوتا ہے گویا ہر درجہ میں نقب یعنی سوراخ کرکے اللہ تعالیٰ تک پہنچتے ہیں،آپ پڑھ چکے کہ لطیفۂ قلب کا تعلق تجلیات افعال سے ،روح کا صفات سے،سِر کا شیونات سے اور خفی کا تنزیہات کی تجلیات سے ہوتا ہے اور یہ سب حق تعالیٰ کی ذات سے جدا نہیں ہیں لہٰذا کسی بھی لطیفہ سے وصول ہو بہر حال تجلیات ذات سے کچھ نہ کچھ حصہ ضرور ملتا ہے لیکن صاحب اخفیٰ یعنی محمدی المشرب کی شان ہی جدا ہے۔

پہلا فائدہ:

لطائف خمسہ میں سے کسی بھی ایک لطیفہ سے وصول کے یہ معنیٰ ہیں کہ فیض کا ورود اس لطیفہ پر زیادہ ہے اور لذت و حلاوت اور سکون و طمانیت اسی لطیفہ میں محسوس ہو تی ہے دوسرے میں نہیں۔

دوسرا فائدہ:

حضرت مجدد قدس سرہ فرماتے ہیں کہ قلب عالم امر سے ہے،عالم خلق نے اسے تعلق و لگاؤ بخش کر اس عالم میں اتارا اور گوشت کے اس لوتھڑے سے جو بائیں جانب ہے ایک خصوصی ربط عطا فرمایا یہ ایسا ہی ہے جیسے کسی مہتر سے بادشاہ کو عشق وتعلق پیدا ہو جائے جس کی وجہ سے وہ مہتر کے گھر میں نزول کرےاور روح جو کہ

قلب سے لطیف تر ہے اسے اصحاب یمین سے بنایا اور سر،خفی اور اخفیٰ جو کہ خیرالامور اوسطہا کے شرف سے مشرف ہیں اور قلب و روح سے لطیف تر ہیں اسی لیے وسط(بیچ)ان کے لیے مناسب ہے اسی لیے وسط سینہ ان کے لیے مقرر ہوا فرق یہ ہے کہ سِر اور خفی، اخفیٰ کے دونوں طرف یعنی ایک دائیں اور دوسرابائیں طرف ہے۔اور لطیفۂ نفس جو کہ حواس سے متصل ہے اس کا تعلق دماغ سے ہے۔

تیسرا فائدہ:

قلب کی ترقی اس وقت ہوتی ہے جب وہ مقام روح اور اس کے ما فوق مقام سے واصل ہو جائے،روح کی اس وقت جب وہ اپنے ما فوق سے واصل ہو جائے اور سِر وغیرہ کی اپنے ما فوق سے وصول کی صورت میں یعنی ہر لطیفہ کی ترقی اپنے سے اوپر والے لطیفے سے وصول کی صورت میں ہے اور نفس کی ترقی اس وقت ہو تی ہے جب کہ وہ مقام قلب میں آجائے اور آخر کار یہ سب لطائف مقام اخفیٰ میں آجاتے ہیں اور ایک ساتھ مل کر عالم قدس میں پرواز کا قصد کرتے ہیں اور لطیفۂ قالب کو خالی چھوڑ دیتے ہیں لیکن یہ دھیان رہے کہ لطائف کی ترقی اور سب کا ایک ساتھ پرواز کرنا اولاً بطریق احوال اور ثانیاً بطریق قیام ہوتا ہے یعنی ابتدا میں قرار و ثبات نہیں ہوتا ہے بلکہ انتہا میں ہوتا ہے اور اسی وقت فنا حاصل ہوجاتی ہے۔

نیز خیال رہے کہ یہ ضروری نہیں کہ سارے لطائف ایک ساتھ مل کر ایک ہی مقام میں جمع ہو کر وہاں سے پرواز کریں بلکہ کبھی ایسا ہوتا ہے کہ قلب و روح ایک ساتھ ہی یہ کام کرتے ہیں اور کبھی تینوں اور کبھی چاروں مگر جو پہلے مذکور ہوا وہ اتم و اکمل ہے۔

چوتھافائدہ:

جب لطائف ستہ عالم امر میں عروج کرتے ہیں اور اس عالم سے ان کی جدائی کے

بعد ان کا خلیفہ بدن انسانی یعنی قالب رہ جاتا ہے اور وہی ان سب کا کام کرتا ہے،اس صورت میں اگر الہام ہے تو اسی مضغۂ قلب پر جو کہ جامعۂ قلبیہ کی حقیقت کا خلیفہ ہے،حدیث شریف میں ہے‘‘من اخلص للہ اربعین صباحاً ظہر ینابیع الحکمۃ من قلبہٖ علیٰ لسانہٖ’’یعنی جس نے چالیس صبحیں اللہ کے لیے خالص کر لیں تو اس کے قلب سے حکمتوں کے چشمے اس کی زبان پر ظاہر ہوتے ہیں،اسی طرح کی دیگر روایتیں بھی ہیں ان سب سے مراد یہی مضغۂ قلب ہے۔

پانچواں فائدہ:

لطائف ستہ جب قالب سے جدا ہو گئے اور مقام قدس میں وصول حاصل کر لیا اور اس کے رنگ میں رنگ گیے اس کے بعد پھر اگر قالب کی طرف ان کا رجوع ہوا ور حبی تعلق کے علاوہ دیگر تعلق پیدا کر لیں اور قالب کا حکم اختیار کر لیں اور امتزاج کے بعد ایک قسم کا فنا اختیار کر لیں اور معیت کے حکم میں ہو جائیں ایسے وقت میں ان پر تجلیِ خاص کا ورود ہوتا ہے اور نئے سرے سے زندگی پاتے ہیں اور بقا باللہ کے مقام سے متحقق ہو جاتے ہیں اور تخلق باخلاق الٰہی کی دولت بے بہا سے مالامال ہو تے ہیں اس موقع پر اگر اسے خلعت دے کر عالم کی طرف ان کا رجوع کریں تو مرتبۂ ‘‘دنو’’یعنی قربت سے تدلیّٰ یعنی رجوع تک پہنچے گا اور یہ چیز تکمیل کا مقدمہ ہو گی اور اگر عالم کی طرف رجوع نہ ہوا اور دنو سے تدلیّٰ کی طرف واپس نہ ہو تو ایسا شخص اولیاے عزلت میں سے ہوگا،طالبین حق کی تربیت اور ناقصین کی تکمیل اس سے نہ ہو سکے گی۔

رجوع کی فضیلت:

حضرت مجدد قدس سرہ فرماتے ہیں کہ مذکورہ بالا رجوع یعنی واصل کا رجوع جو کلیت سے واقع ہو تا ہے دعوت الی اللہ کے کامل ترین مقامات سے

ہے(مخلوق کی دعوت کے لیے جو عالم کی طرف رجوع ہوتا ہے اس میں ایک گونہ غفلت ہو تی ہے) یہ غفلت جمع کثیر کی وجہ سے ہے جو لوگ حقیقت کی تہہ تک نہیں پہنچے وہ اس غفلت سے غافل ہیں اور صاحبان حضور اس رجعت سے نا واقف ہیں یہ مدح بصورت قدح ہے۔

ہر تنگ خیال کی سوجھ بوجھ یہاں تک نہیں پہنچتی اگر اس غفلت کے کمالات کو بیان کروں تو کوئی بھی حضوری کی آرزو نہ کرے یہ وہ غفلت ہے جس نے خواص بشر کو خواص ملک پر فضیلت دی ہے،یہی وہ غفلت ہے جس نے سرورعالمﷺ کو تمام جہان کے لیے رحمت بنا یا ہے،یہی وہ غفلت ہے جو ولایت سے نبوت تک پہنچاتی ہے،نبوت سے رسالت تک پہنچاتی ہے،یہی وہ غفلت ہے جس نے اولیائے عشرت کو اولیائے عزلت پر فضیلت بخشی،اسی غفلت نے سرور عالم ﷺ کو صدیق اکبر پر سبقت دی۔

یہی وہ غفلت ہے کہ صحو کو سکر پر فضیلت دیتی ہے،اسی نے نبوت کو ولایت پر فضیلت بخشی اسی غفلت کے سبب قطبِ ابدال پر قطب ِ ارشاد کو افضلیت حاصل ہو تی ہے یہی وہ غفلت ہے کہ حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ‘‘’یا لیتنی صحو محمد’’ کے متمنی تھے،یہی وہ غفلت ہے کہ وہ وصول اس کے حصول کا مقدمہ ہے یہ وہ غفلت ہے جو ظاہر میں تنزل اور باطن میں رفعت،یہ وہ غفلت ہے کہ خواص کو عوام کے ساتھ مشتبہ بنا دیتی ہے اور ان کے کمالات کا قبہ ہو جاتی ہے اگر اس کی تشریح کرنے لگوں تو بے حساب ہو جائے گی۔

بعد رجوع لطائف کی کیفیت:

نہایۃ النہایۃ تک جو لوگ واصل ہو جاتے ہیں پھر رجعت قہقری کے وقت ان کا نزول اسفل غایات ہوتا ہے،نہایۃ النہایۃ کے واصلین کے وصول کا مصداق

یہی غایۃ الغایۃ تک نزول اس خصوصیت کے ساتھ واقع ہو تا ہے تو صاحب رجوع پو ری توجہ کے ساتھ عالم اسباب کی طرف متوجہ ہو جاتا ہے۔

ایسا نہیں ہے کہ اس کا بعض تو حق سبحانہ کی طرف متوجہ ہو اور بعض خلق کی طرف،کیونکہ یہ کیفیت اس بات کی دلیل ہے کہ ایسے شخص کا نہ تو نہایۃ النہایۃ تک وصول ہوا ہے اور نہ ہی غایۃ الغایۃ تک نزول۔

غایۃ الغایۃ کے واصلین جب پوری توجہ کے ساتھ عالم اسباب کی طرف متوجہ ہو جاتے ہیں تو ان کی کیفیت یہ ہو تی ہے کہ صرف نماز میں جو کہ معراج مو منین ہے ان صاحبان رجوع کے لطائف کو جناب حق سبحانہ کی طرف توجہ خاص حاصل ہو جاتی ہے اور بعد ادائے نماز پھر بالکلیہ خلق کی طرف متوجہ ہو تے ہیں،لطائف کی توجہ صرف نماز کی ادا تک منحصر رہتی ہے۔

لیکن یہ معلوم رہے کہ فرائض و سنن کی ادائیگی کے وقت لطائف ستہ متوجہ ہوتے ہیں اور نوافل کی ادائیگی کے وقت وہ لطیفہ جو سب سے لطیف تر ہے متوجہ ہوتا ہے ہو سکتا ہے حدیث:

‘‘لی مع اللہ وقت لا یسعنی فیہ ملک مقرب ولا نبی مرسل’’ (میرا اللہ کے پاس ایسا وقت ہوتا ہے جس میں نہ تو کوئی مقرب فرشتہ ہوتا ہے اور نہ ہی کوئی نبی مرسل)

بھی اسی وقت خاص کی طرف اشارہ ہو جو کہ نماز کے ساتھ مخصوص ہے اور اس اشارہ کے تعین پر حدیث:

‘‘قرۃ عینی فی الصلاۃ’’ (میری آنکھوں کی ٹھنڈک نماز میں ہے) ہے، حضرت مجدد قدس سرہ فرماتے ہیں کہ اس قرینہ کے علاوہ کشف صحیح اور الہام صریح بھی اس مراد پر دال ہے اور فرمایا یہ معرفت فقیر کے معارف مخصوصہ میں سے ہے۔

روح کی تفصیلات:

روح چونکہ ایک لا مکانی چیز ہے لہٰذا لا مکانیت اس کے لیے ثابت و متحقق ہے،ہاں! اسی روح کی نسبت جب حق سبحانہ کی طرف ہوگی تو یہ عین چون قرار پائے گی اور اس کی لا مکانیت لا مکانی حقیقی یعنی اللہ تعالیٰ کی طرف نسبت کرتے ہو ئے عین مکانی ہو گی گویا عالم ارواح اس عالم اور مرتبۂ بے چونی کے درمیان برزخ ہے لہٰذا دونوں کا رنگ رکھتی ہے اور دونوں اعتبار بے چون اور چون اس میں صحیح ہیں۔

بہت سے صوفیہ کرام رحمۃ اللہ علیہم اجمعین ہیں جو روحی تنزیہ کے مقام تک پہنچے اور اسے فوق العرش پا یا اسی تنزیہ کو انھوں نے تنزیہ الٰہی متصور کر لیا اور اس مقام میں جو علوم و معارف ان پر منکشف ہو ئے انھیں علوم دقیقہ میں شمار کیا اور استوا (جو کہ آیت کریمہ ‘‘الرحمٰن علی العرش استویٰ’’ میں مذکور ہے) کے سلسلے میں بتا یا کہ وہ اسی مقام میں حاصل ہوتا ہے،حالانکہ حق یہ ہے کہ یہاں جو بھی منکشف ہوتا ہے وہ روح کا نور ہے اور روح چونکہ لا مکانی چیز ہے اور بے چونی و بے چگونی کی صورت پر پیدا ہو تی ہے اسی لیے اس طرح کے اشتباہ کا سبب بن جا تی ہے۔

صوفیہ کرام کا جو گروہ اس روح کے نور کو فوق العرش سے لے کر نزول کرتا ہے اور اس سے بقا حاصل کرتا ہے وہ اپنے آپ کو تشبیہ اور تنزیہ کا جامع تصور کرتا ہے اور اگر اس نور کو اپنے سے جدا پاتا ہےتو اسے فرق بعد الجمع کا مقام گمان کرتا ہے،اسی طرح کے مغالطات سالکین کو بڑی کثرت سے لاحق ہوتے رہتے ہیں۔

خیال رہے کہ جیسا کہ آپ پڑھ چکے کہ روح دونوں طرح کا رنگ رکھتی ہے عالم چون اسے بے چون جا نتا ہے اور مرتبۂ بے چونی کی طرف نظر کرتے ہو ئے وہ عین چون ہے ،روح کو اس برزخیت کا حصول فطرت اصلی کے اعتبار سے ہے۔

جب اس کا تعلق اس عنصری بدن اور ظلمانی ڈھانچے سے ہوتا ہے اور اس میں وہ گرفتار ہو تی ہے تو اس وقت برزخیت ختم ہو جا تی ہے اور مکمل طور پر وہ عالم چون میں نزول کر لیتی ہے اور بے چونی کا رنگ اس سے چھپ جا تا ہے پس اس کی مثال ہاروت وماروت جیسی ہے کہ بعض حکم و مصالح کی وجہ سے ملائکہ کی ارواح بشریت کی پستی میں نزول کر آتی ہیں کما قیل۔

پھر اگر خداوندی عنایت شامل ہو جائے اور اس سفر سے رجوع اور اس نزول سے عروج واقع ہو تو نفس ظلمانی اور بدن عنصری بھی اس کی متا بعت میں عروج کر تا ہے اور منازل طے کرتا ہے اور اس قفص عنصری میں روح کو نازل کرنے سے جو مقصود ہے وہ ظاہر ہوتا ہے ،نفس امارہ اطمینان سے پیوست ہو جا تا ہے اور ظلمانی نورانی سے تبدیل ہو جاتا ہے روح جب اس عروج کے سفر کو مکمل کر لیتی ہے تو پھر اصلی برزخیت حاصل کر لیتی ہے۔

قلب بھی چونکہ عالم ارواح سے ہے لہٰذا وہ بھی برزخیت کو وطن بنا لیتا ہے اور نفس مطمئنہ جو کہ عالم امر سے رنگ رکھتا ہے کیونکہ یہ قلب اور بدن کے درمیان برزخ ہے وہ بھی اس جگہ اقامت اختیار کرتا ہے اور بدن عنصری جو کہ عناصر اربعہ سے مرکب ہے عالم کون و مکان استقرار پاتا ہے اور طاعت و عبادت اختیار کرتا ہے اس کے بعد اگر کبھی کبھی سر کشی و مخالفت واقع ہو تو یہ عناصر کی طبیعتوں کی طرف منسوب ہو گی مثلا جزو ناری جو کہ بالذات سرکش اور مخالفت طلب ہے ابلیس لعین کے رنگ میں‘‘انا خیر’’ کی آواز نکالتا ہے۔

کیونکہ نفس مطمئنہ جب راضی و مرضی ہو چکا تو سر کشی مخالفت سے باز آچکا ہے ایسی صورت میں اگر اس قسم کی چیزوں کا ظہور ہوتا ہے تو لامحالہ قالب ہی سے ہوگا،سید عالم ﷺ کا یہ جو قول نقل کیا جاتا ہے‘‘رجعنا من الجہاد الاصغر الی

الجہاد الاکبر’’اس میں عام طور پر لوگ جہاد بالنفس مراد لیتے ہیں حالانکہ جسے آپ نے جہاد اکبر فرمایا ہے وہ اسی ابلیسی سر کشی کے ساتھ ہے جس کا منشأ جزو قالبی ہے۔

ایک حدیث کا معنیٰ:

سید عالم ﷺ کے ایک طویل فرمان کا ٹکڑا ہے‘‘اسلم شیطانی’’(میرا شیطان اسلام لے آیا)اس سے مراد یا تو وہ آفاقی شیطان ہے جو آپﷺ کا قرین ہے اور ہر ایک کا ایک شیطانی قرین ہو تا ہے اگر چہ اس کا بھی رعب و دبدبہ بھی ٹوٹ گیا اور تمرد و سرکشی سے باز آچکا ہے لیکن بالذات ذات سے جدا نہیں ہو سکتا۔؏

سیاہی از حبشی کہ رود کہ خود رنگ است

اور یا اس سے شیطان انفس مراد ہے لیکن اس تقدیر پر باوجود اسلام یہ لازم و ضروری نہیں ہے کہ سر کشی بالکلیہ منتفی ہو جائے۔

سرکشی کی صورتیں:

ایسا ہو سکتا ہے کہ عزیمت کو چھوڑ کر رخصت پر عمل کرے،یہ بھی ہو سکتا ہے کہ اس سے ایسا صغیرہ وجود میں آئے جس میں حسنہ نہ ہو جو کہا گیا ہے کہ حسنات الابرار سیئات المقربین یہ بھی اسی قبیل سے ہے یعنی اس درجہ قربیت کے لحاظ سے سیئہ ہو۔

سرکشی کی بقا سے فائدہ:

شیطان انفسی کے اسلام لانے کے با وجود مذکورہ بالاباتوں میں سرکشی باقی رہنے سے اصلاح وترقی ہوتی ہے کیونکہ مذکورہ بالا امور کے حصول کے بعد کہ ان میں انتہائے نقص ترک اولیٰ ہے اسی قدر ندامت و شرمندگی اور توبہ واستغفارحاصل

ہوتا ہے جو بے انتہا ترقیات کا سبب بن جاتا ہے۔

بعدعروج روح کی کیفیت:

معروف موت سے قبل جب روح موت کی وجہ سے بدن سے جدا ہوجاتی ہے تو عارف واصل اپنی روح کو نہ جسم میں پاتا ہے نہ خارج جسم میں،نہ ہی جسم کے ساتھ متصل پاتا ہے اور نہ ہی منفصل بلکہ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ روح کو جسم کے ساتھ جسم کی صلاح کے لیے تعلق ہے بلکہ ایسی غرض کے لیے کہ جس کا کمال بھی روح ہی کی طرف راجع ہے اور یہی تعلق جسم میں صلاح و خیر کا منشأ ہے اگر یہ تعلق نہ ہوتا تو جسم اپنے جمیع اجزا کے ساتھ شر اور نقصان ہوجاتا۔

معلوم رہے کہ جسم کے ساتھ جو روح کا تعلق ہوتا ہے اسی قسم کا تعلق اللہ تعالیٰ جل شانہ کو روح وغیرہ کے ساتھ ہے کیونکہ باری تعالیٰ نہ عالم میں داخل ہے نہ خارج اور نہ اس سے متصل ہے نہ منفصل بلکہ اللہ تعالیٰ کو عالم کے ساتھ تخلیق وابقا اور کمالات کے افاضہ اور نعمتوں و بھلائیوں کے اعطاء کا تعلق ہے،معلوم رہے کہ روح کے بارے میں اس طرح کی تقریر حضرت مجدد قدس سرہ ہی کا حصہ ہے،یہ ان علوم میں سے ہے جس کا بیان آپ کے خصائص میں سے ہے۔