باب ۱۶ از ۲۲صفحات ۱۸۵–۱۹۶
لطائف کی تفصیل
آپ پہلے پڑھ چکے ہیں کہ کائنات کے مجموعہ کو عالم کبیر کہتے ہیں خلق ہو یا امر، جس طرح لطائف عالم خلق کے اصول عالم کبیر میں عرش کے نیچے موجود ہیں اسی طرح عالم امر کے لطائف کے اصول عالم کبیر میں عرش کے اوپر موجود ہیں۔
خداوند قدوس نے جب ارادہ فرمایا کہ بار خلافت انسان پر ڈالا جائے تو انسان اپنی کمزوری و ضعیفی کے سبب اس عظیم بار کا متحمل نہ ہو سکتا تھا لہٰذا عالم خلق و امر کے اجزا سے ملا کر انسان کی ترکیب فرمائی اور اس کو ظاہر و باطن اور امر و خلق کا جامع بنایا اسی وجہ سے انسان اشرف المخلوقات ہو گیا۔
اور انسانی بدن کی چند جگہوں سے عالم امر کے لطائف کو محبت و عشق بخشا چوں کہ یہ لطائف انوار مجردہ تھے، اس انسانی ظلمت کدہ میں آکر اپنے آپ کو اور اپنی اصل کو فراموش کر بیٹھے اور کدورت کی وجہ سے قریب ہونے کے باوجود اللہ عز وجل سے دور جا پڑے۔ مشائخ نقشبندیہ اسی لیے ان لطائف امر پر توجہ ڈالتے ہیں نیز اذکار و اوراد کی بھی تلقین کرتے رہتے ہیں تاکہ یہ لطائف اپنے اصول یاد کرکے پھر ان کی طرف عروج کریں اور فنا و بقا حاصل کریں۔
لطیفہ قلب:
لطیفہ قلب کا محل بائیں پستان سے دو انگل نیچے مائل بہ پہلو ایک گوشت کا لوتھڑا ہے جس کو قلب صنوبری کہتے ہیں صنوبر ایک پھل کو کہتے ہیں چوں کہ صنوبر
کی طرح اس کی شکل اوندھی ہوتی ہے اور قلب بھی عربی میں الٹے ہوئے کو کہتے ہیں، اس لطیفہ کا نور زرد ہے۔
قلب کے دو اطلاق:
حضرت مجدد قدس سرہ فرماتے کہ ارباب ولایت قلب بول کر انسان کی حقیقت جامعہ مراد لیتے ہیں جو عالم امر سے ہے اس معنی کر یہ ایک لطیفہ غیبیہ ہے جس کی تجلی گاہ وہی قلب بمعنی پارہ گوشت ہے جس کی تفصیل سطور بالا میں مذکور ہوئی۔
اور بزبان نبوت قلب اس پارۂ گوشت کو کہتے ہیں جس کی درستگی کے ساتھ بدن انسان کی درستگی اور اس کے فساد سے بدن کا فساد وابستہ ہے یہ عالم خلق سے ہے اطلاق اول کے اعتبار سے جو ظہور قلب سے متعلق ہے عرش کے ظہور تام کی بنسبت صرف ایک پرتو ہے اس مقام میں فضل کلی صرف عرش کے لیے اور وہ وسعت و فراخی جو اس حدیث قدسی:
لایسعنی ارضی و لا سمائی و لٰکن یسعنی قلب عبدی المومن
میری گنجائش نہ میری زمین رکھتی ہے نہ آسمان لیکن میرے مومن بندے کا قلب رکھتا ہے۔’’
میں بیان ہوئی ہے اس کا تعلق پارۂ گوشت سے ہے اس اطلاق کے اعتبار سے قلب میں عرش کی بنسبت ظہور اتم ہے اسی اعتبار سے وہ احدیت مجردہ کا آئینہ بنا ہے، عرش کے لیے اگرچہ ظہور تام یعنی ظہور اصل سے وافر حصہ ہے لیکن اس مقام میں صفات کی آمیزش ہے اور صفات چوں کہ حضرت ذات کے ظلال ہیں اس لیے یہ ظہور ظلیت کی آمیزش سے خالی نہیں۔
اسی لیے کہاگیا ہے کہ عرش کو ظہور انسانی سے جو کہ اصل صرف سے تعلق
رکھتا ہے بہت سی امیدیں وابستہ ہیں اور اس معاملہ کا مرکز بھی انسان ہے۔ حضرت مجدد قدس سرہ فرماتے ہیں کہ قلب اس معنی کر تنگ بھی بہت ہے اور وسیع بھی بہت، تنگ تو اتنا ہے کہ جزء لا یتجزّیٰ جو بہت حقیر جز ہے، اس قلب کے مقابلے میں بعض اوقات آسمانوں اور زمینوں کے طبقات کی طرح عظیم دکھائی دیتا ہے اس کی یہ تنگی اس وجہ سے ہے کہ حق سبحانہ کے ماسوا کی اس میں گنجائش نہیں اور وسیع اتنا کہ کہ ارض و سما اس کے مقابل کچھ حیثیت نہیں رکھتے یہ وسعت اس کی وجہ سے ہے کہ اس میں انوار قدم کا ظہور بالجملہ قلب عالم خلق سے ہونے کے لحاظ سے اس قلب سے افضل ہے جو عالم امر سے ہے جس سے حقیقت جامعہ مراد ہے کیوں کہ آپ پڑھ چکے ہیں کہ حضرت مجدد قدس رہ کے نزدیک عالم خلق عالم امر سے افضل ہے، آپ فرماتے ہیں:
اس پارۂ گوشت کی حقیقت مجھ سے سنو، عوام کا تو یہ پارۂ گوشت عناصر اربعہ کی حقیقت سے بنا ہے اور خواص بلکہ اخص خواص کا یہ پارۂ گوشت وہ ہے جو سلوک و جذبہ، تصفیہ و تزکیہ، تمکین قلب، اطمینان نفس کے بعد بلکہ محض فضل خداوندی سے اجزا عشرہ سے ترکیب پاکر ایک مخصوص صورت میں بنا ہے۔
اجزاے مذکورہ اگرچہ آپس میں متضاد و متبائن ہیں لیکن اللہ تعالیٰ کی قدرت کاملہ سے ان کا آپسی تضاد زائل ہوگیا اور سب کے اجتماع سے ایک وحدانی حیثیت و صورت حاصل کر لی ہے اس معاملے میں جزو اعظم عنصر خاک ہے یہ وحدانی صورت و ہیئت بھی جزو خاکی کے رنگ میں ظاہر ہوئی ہے اور خاک ہی سے قرار پایا۔
حضرت ابراہیم خلیل اللہ علیٰ نبینا و علیہ الصلاۃ والسلام نے جس اطمینان قلبی کا سوال کیا تھا وہ یہی پارۂ گوشت ہے نیز حضور سرور کون و مکاںﷺ نے بعض دعاؤں میں جس قلب کا ثبات طلب کیا ہے وہ یہی ہے۔
دونوں میں وجوہ فرق:
قلب کے ان دونوں اطلاق میں کئی وجوہ سے فرق ہے اول یہ کہ حقیقت جامعہ جو کہ عالم امر سے ہے اس کو تصفیہ و تزکیہ کے بعد تمکین تام میسر آجاتی ہے اس کے برخلاف پارۂ گوشت کہ اس کا اطمینان ادراک حواس سے وابستہ ہے جب تک کسی شے کو حواس سے ادراک نہ کرے بے قراری رہتی ہے۔
دوم یہ کہ حقیقت جامعہ ذکر کا اثر قبول کرتی ہے اور جب ذکر تک پہنچتی ہے تو ذکر کے ساتھ متحد ہو جاتی ہے اور ذکر کے ساتھ قائم ہو جاتی ہے اس مقام کو صاحب عوارف قدس سرہ نے روشن تر مقام کہا ہے اور قلب کے اس مقام کو ذکر ذات سے تعبیر کیا ہے اس کے برخلاف پارۂ گوشت کہ ذکر کے لیے اس کی طرف کوئی راہ نہیں ہے ذکر سے اثر پذیر ہونا اور ذکر کے ساتھ قائم ہونا تو بعد کی بات ہے، ہاں اس پارۂ گوشت میں بالاصالت مذکور جلوہ فرما ہے اور ظاہر ہے ظلیت کا وہاں شائبہ نہیں اور ذکر کے عروج کی انتہا مذکور کی دہلیز ہے۔
سوم یہ کہ حقیقت جامعہ جب نہایۃ النہایۃ تک پہنچتی ہے اور ولایت خاصہ سے وافر حصہ حاصل کر لیتی ہے ایسی صورت میں اگر مطلوب کی آئینہ دار بن جائے تو ظاہر اس میں مطلوب کا ظل ہوگا عین مطلوب ظاہر نہ ہوگا جیسے آئینے میں شخص کی مثال ظاہر ہوتی ہے عین شخص ظاہر نہیں ہوتا ہے بخلاف پارۂ گوشت کے اس میں جو کچھ ظاہر ہوتا ہے عین مطلوب ہے ظل نہیں اس لیے حدیث میں یہ الفاط فرمائے گئے یسعنی قلب عبدی المومن یہ معاملہ نظر و فکر سے بلند ہے۔
چہارم یہ کہ حقیقت جامعہ کی وسعت اس اعتبار سے ہے کہ اس میں اشیا کی صورتوں کا ظہور ہے اور پارۂ گوشت کی وسعت جو اس کی تنگی کے بعد سامنے آتی ہے مطوب کی گنجائش کے اعتبار سے ہے جو لامحدود اور غیر متناہی ہے اور وہ تنگی در اصل
اس کی تنگ دہلیز ہے جس کی وجہ سے حق کے ماسوا کو گھسنے کی گنجائش نہیں ملتی حتیّٰ کہ ذکر کو بھی نہیں چھوڑتی کہ مذکور کے پردہ میں داخل ہو نہ ہی شائبہ ظلیت کو اس خانہ مقدس کے گرد گھومنے دے غرضیکہ یہ پارۂ گوشت کوئی معمولی چیز نہیں بلکہ نہایت قیمتی جوہر ہے جس میں عالم خلق کے خزانے اور اسرار ودیعت رکھے گئے ہیں اور عالم امر کے دفینے اور مخفی امور بھی مدفون ہیں اس کے علاوہ وہ اشیا بھی جو عالم امر و خلق میں جدا جدا موجود ہیں یہ اس کے معاملات خاصہ ہیں جو اس کی وحدانی ہیئت سے تعلق رکھتے ہیں۔
خیال رہے کہ یہ تمام کمالات جو پارۂ گوشت میں پائے جاتے ہیں مقام قاب و قوسین میں ہیں (مذکورہ امور کی تفصیل کے لیے مکتوب ۲۱، دفتر دوم ملاحظہ ہو)
قلب شش جہت:
حضرت خواجہ بزرگ سید محمد بہاء الدین نقشبند قدس سرہ نے فرمایا ہے : مشائخ میں سے ہر ایک کے آئینے کی دو جہتیں ہیں اور میرے آئینے کی چھ۔’’
اس قول سے کیا مراد ہے؟ اس کو سب سے پہلے حضرت امام ربّانی مجدد الف ثانی قدس سرہ نے بیان کیا، مبدأ و معاد میں آپ فرماتے ہیں کہ آئینہ سے مراد عارف کا قلب ہے جو کہ روح، نفس کے درمیان برزخ ہے اور دو جہت سے مراد جہت روح اور جہت نفس ہے۔ پس مشائخ کو مقام قلب میں وصول کے بعد قلب کی دو جہتیں منکشف ہوتی ہیں اور ان دونوں مقاموں کے وہ علوم و معارف جو قلب کے مناسب ہیں فائض ہوتے ہیں۔
اس کے برخلاف وہ طریقہ جس سے حضرت خواجہ قدس سرہ ممتاز ہیں اور نہایت اس محل میں بدایت میں مندرج ہے قلب کے آئینے کی اس میں چھ جہتیں ظاہر ہوتی ہیں اس کا بیان یہ ہے کہ اس بلند طریقہ کے اکابر پر منکشف کیا گیا ہے کہ
جس طرح پورے انسانی بدن میں چھ لطائف ثابت ہیں تنہا قلب میں بھی وہ چھ لطائف؛ نفس، قلب ، روح، سِر، خفی، اخفیٰ ثابت ہیں اور چھ جہت سے مراد یہی چھ لطائف ہیں۔ پس تمام مشائخ کی سیر ظاہر قلب پر ہے اور ان بزرگواروں کی باطن قلب میں اور اسی سیر سے ابطن بطون تک پہنچتے ہیں اور ان چھ لطائف کے علوم و معارف مقام قلب میں منکشف ہوتے ہیں وہ علوم و معارف نہیں جو اس مقام کے مناسب نہیں ہیں۔
قلبِ قلب کے کمالات:
حضرت خواجہ بزرگ قدس سرہ کے مذکورہ بالا مشکل قول کا حل بیان کرنے کے بعد حضرت مجدد قدس سرہ نے وہ اسرار اس مقام میں بیان فرمائے جن سے آپ کے رب نے خصوصیت کے ساتھ آپ کو نوازا اور آپ نے برائے نفع عام اور بطور تحدیث نعمت کے بیان فرمائے، فرماتے ہیں: معلوم ہونا چاہیے کہ قلبِ قلب بھی قلب کے قیاس پر لطائف کو متضمن ہے لیکن قلبِ قلب میں دائرہ کی تنگی یا کسی دوسرے بھید کے سبب لطائف ستہ (چھ) میں سے دو لطیفے ظاہر نہیں ہوتے ہیں، لطیفہ نفس اور لطیفہ اخفیٰ۔
اور یہی حال اس قلب میں ہے جو مرتبہ ثالثہ میں ہے مگر اس میں لطیفہ خفی بھی ظاہر نہیں ہوتا ہے اور ایسا ہی حال اس قلب میں ہے جو مرتبہ رابعہ میں ہے مگر اس میں لطیفہ سِر بھی ظاہر نہیں ہوتا ہے صرف قلب و روح کا ظہور ہوتا ہے اور مرتبہ خامسہ میں لطیفہ روح بھی ظاہر نہیں ہوتا ہے لہٰذا اس مرتبہ میں سواے قلب کے اور کچھ باقی نہیں رہا اور خالص بسیط کہ جس میں کسی اعتبار کی گنجائش نہیں۔
قلب کے یہ مراتب بیان کرنے کے بعد وہ علوم ارشاد فرماتے ہیں جن کو اس مقام سے مناسبت ہے۔ آپ کے ان اسرار سے ہر ذی علم سمجھ سکتا ہے کہ حضرت
مجدد کہ خداوند قدوس نے کیسے بلند کمالات سے نوازا تھا، فرماتے ہیں:
‘‘جو کچھ عالم کبیر میں تفصیلاً ظاہر ہوا وہ عالم صغیر میں اجمالاً، عالم صغیر سے میری مراد انسان ہے۔ پس جب عالم صغیر کو مانجھ لیا جائے اور چمک دار بنا لیا جائے تو اس میں آئینہ کے طور پر وہ تمام چیزیں ظاہر ہو جاتی ہیں جو عالم کبیر میں تفصیل کے ساتھ ہیں کیوں کہ مانجھنے اور صاف کرنے کی وجہ سے اس کا ظرف وسیع ہو گیا لہٰذا صِغر کا حکم زائل ہو گیا ایسا ہی حال اس قلب میں ہے جس کی نسبت عالم صغیر کے ساتھ ایسی ہے جیسے عالم صغیر کی عالم کبیر کے ساتھ اجمال اور تفصیل کے لحاظ سے تو جب عالم اصغر جو کہ عالم قلب ہے کو مانجھ لیا جائے اور اس ظلمت کو دور کر دیا جائے جو اس پر طاری ہے تو اس میں بھی مرآئیت (آئینہ داری) کی وجہ سے وہ سب کچھ ظاہر ہو جائےگا جو عالم صغیر میں تفصیلاً۔
اور اجمال و تفصیل کا یہی حال قلب القلب کا ہے، قلب کی طرف نسبت کرتے ہوئے اور اجمال کے بعد تفصیل کا ظہور تصفیہ و نورانیت کے سبب سے ہے اور اسی قیاس پر وہ قلب ہے جو مرتبہ ثالثہ میں ہے اور وہ قلب جو مرتبہ رابعہ میں ہے اور مراتب سابقہ میں تفصیل کا ظہور صقالت (منجھائی) و نورانیت کے سبب سے ہے یہی حال اس قلب کا ہے جو مرتبہ خامسہ میں ہے باوجودیکہ اس میں بساطت ہے اور کسی شے کا اعتبار نہیں ہے۔
اس مرتبہ خامسہ والے قلب میں کامل کی صفائی کے بعد وہ سب کچھ ظاہر ہو جاتا ہے جو تمام عالموں؛ عالم کبیر، صغیر، اصغر اور اس کے بعد عالموں میں ظاہر ہوتا ہے۔ پس یہ ضیّق اوسع اور بسیط البسیط اور اقل اکثر ہے، اشیا میں سے کوئی شے اس صفت پر پیدا نہیں کی گئی ہے اور صانع کے ساتھ اس سے زیادہ مناسبت والی چیز نہیں پائی گئی۔
تو لامحالہ اس قلب میں اس کے صانع کی آیات کے وہ عجائب ظاہر ہوں گے جو اس کی مخلوق میں کسی میں ظاہر نہیں ہوتے اس لیے فرمایا گیا لا یسعنی ارضی ولا سمائی ولکن یسعنی قلب عبدی المومن (مزید تفصیل مبدأ و معاد میں دیکھیے)
لطیفہ روح:
یہ ایک لامکانی شے اور غیبی لطیفہ ہے جس کا ظہور در اصل عرش کے اوپر لطیفہ قلب کے فوق ہے انسان کے بدن میں اس کا محل دائیں پستان سے دو انگل نیچے پہلو کی طرف دبا ہوا ہے اس کا نور سرخ رنگ کا ہے۔
لطیفہ سِر:
لطیفہ سِر کا ظہور در اصل روح کے مافوق ہے اور روح سے زیادہ لطیف ہے اس کا محل بائیں پستان سے دو انگل اوپر دائیں جانب کو جھکا ہوا ہے اس کا نور سفید رنگ کا ہے۔ حضرت خواجہ خواجگاں نقشبند قدس سرہ کی نسبت کی وسعت اسی لطیفہ میں زیادہ ہے۔
لطیفہ خفی:
یہ بھی ایک غیبی لطیفہ ہے جو سِر سے زیادہ لطیف ہے اس کا ظہور فوق العرش سِر کے اوپر ہے بدن انسان میں اس کا محل دائیں جانب پستان سے دو انگل اونچا درمیان کی طرف دبا ہوا ہے اس کے نور کا رنگ سیاہ ہے۔
لطیفہ اخفیٰ:
اس کا ظہور در اصل خفی سے بھی اوپر ہے سارے لطائف میں سب سے زیادہ لطیف ہے، بدن انسانی میں اس کا محل دونوں پستان کے درمیان ہے اس کے نور کا رنگ سبز ہے۔
ولایت کے پانچ درجات:
معلوم رہے کہ یہ پانچوں لطائف در اصل ولایت کے پانچ درجات ہیں اور ہر درجہ اللہ تعالیٰ کی مقدس ذات تک پہنچنے کا ایک راستہ ہے۔ ان لطائف کا عروج دائرہ اسما و شیونات تک ہے۔ خیال رہے کہ لطائف جس ترتیب سے مذکور ہیں اسی ترتیب سے ان کا عروج ہے۔ چوں کہ بندوں کا رشد اور ہدایت انبیاے کرام علیہم السلام پر منحصر ہے لہٰذا جو راستہ ان بزرگوں کا اختیار کردہ ہے وہ ہدایت کا ہے۔ یہ لطائف در اصل وہ پانچ راستے ہیں جن پر چل کر رسل اولو العزم مقام ولایت اور مقصود کو پہنچے ہیں چناں چہ لطیفہ قلب حضرت آدم علیہ السلام کے زیر قدم ہے کیوں کہ حضرت آدم کا وصول اسی راہ سے ہوا۔ آپ ہی اس کے پہلے سالک ہیں۔
اس راہ سے جو شخص بھی بارگاہ رب العالمین تک واصل ہوگا وہ آدمی المشرب کہلاتا ہے، ایسے شخص کو ولایت کے پانچ درجوں میں سے ایک درجہ کی سیر کی لیاقت ہو جاتی ہے۔ خیال رہے کہ اس لطیفہ کا تعلق و رابطہ صفت تکوین کی تجلی سے ہےجو کہ صفات اضافیہ سے ہے، فعل و خلق اور ایجاد و اختراع و احداث کا تعلق اسی سے ہے، تمام ممکنات اسی سے وجود میں آئے، عالم امر کے دیگر لطائف کی بنسبت قلب کو اصل قرار دیا گیا ہے، عالم خلق کے لطائف میں لطیفہ نفس کا تعلق و ارتباط اصل قلب کے ساتھ ہے لہٰذا لطیفہ نفس، عالم خلق کے لطائف کی بنسبت خلاصہ اور نچوڑ ہے۔
حضرت مجدد قدس سرہ تمام لطائف کی تسلیک اور تہذیب جدا جدا کیا کرتے تھے مگر آپ کے فرزندوں نے راہکو مختصر کرنے کے لیے تصفیہ قلب کے بعد تزکیہ نفس پر اکتفا کیا۔ ان حضرات کا کہنا یہ تھا کہ ان دونوں لطیفوں کی حیثیت اصالت کی ہے لہٰذا ان کی تہذیب و تصفیہ سے دوسروں کی بھی تہذیب و تصفیہ ہو
لطیفہ روح قلب کی بنسبت ایک درجہ حق سبحانہ سے اقرب ہے۔ اس لطیفہ سے حضرت نوح اور حضرت ابراہیم علیٰ نبینا و علیہما الصلاۃ و السلام کا وصول ہوا تھا لہٰذا جو سالک اس راہ سے واصل ہوگا وہ ابراہیمی المشرب کہلاتا ہے، ایسے شخص کو درجات ولایت سے دو درجے کے حصول کی صلاحیت و استعداد ہو جاتی ہے۔ خیال رہے کہ اس لطیفہ کا تعلق و ارتباط صفات ثبوتیہ کی تجلی سے ہے۔
لطیفہ سِر یہ روح کی بنسبت جناب حق سبحانہ سے ایک درجہ قریب تر ہے، سب سے پہلے حضرت موسیٰ علیٰ نبینا و علیہ السلام کا وصول اس راہ سے ہوا تھالہٰذا جو شخص اس راہ سے واصل ہوگا اس کو موسی المشرب کہتے ہیں۔ ایسے سالک کو درجات ولایت سے تین درجوں کے حصول کی صلاحیت و لیاقت ہو جاتی ہے۔ اس لطیفہ کا تعلق و ربط اللہ تعالیٰ کے شیونات ذاتیہ کی تجلیات سے ہوتا ہے جو کہ صفات ثبوتیہ کے مقابلے میں حضرت ذات سے قریب تر ہیں۔
لطیفہ خفی یہ سِر کی بنسبت جناب حق سے ایک درجہ قریب تر ہے۔ اس راہ کے سالک حضرت عیسیٰ روح اللہ علیٰ نبینا و علیہ الصلاۃ و السلام ہیں، یہ انھی کے زیر قدم کہلاتا ہے۔ اس راہ سے جو سالک واصل ہوتا ہے اسے درجات ولایت کے چار درجوں کے حصول کی لیاقت و صلاحیت ہوتی ہے۔ ایسے شخص کو عیسوی المشرب کہتے ہیں۔ اس لطیفہ کا تعلق و ارتباط حق تعالیٰ کی صفات سلبیہ تنزیہیہ کی تجلیات سے ہوتا ہے جو کہ شیونات ذاتیہ کی بنسبت قریب تر ہیں۔
لطیفہ اخفیٰ یہ تمام لطائف میں حضرت حق سے قریب تر ہے۔ باعث ایجاد عالم سیدنا و سندنا رسول اللہﷺ کا وصول اسی راہ سے ہوا ہے۔ جس سالک کو اس راہ سے وصول کی توفیق ملتی ہے اسے محمدی المشرب کہتے ہیں۔ ایسے سالک کو تمام
درجات ولایت کے حصول کی صلاحیت و لیاقت ہوتی ہے۔ خیال رہے اس مبارک لطیفہ کا تعلق و ارتباط شان جامع کی تجلی سے ہے جو کہ مرتبہ تنزیہیہ اور احدیت مجردہ کے درمیان برزخ کی حیثیت رکھتا ہے، تمام لطائف میں یہ لطیفہ شریفہ الطف و احسن و اجمل ہے۔ بہت کم بندے ہیں جن کو اس دولت لازوال سے حصہ ملتا ہے۔ خیال رہے اگر کسی نبی کے زیر قدم ہونے کا مطلب سمجھنا ہو نیز اس سلسلے میں مزید معلومات حاصل کرنا ہو تو ہماری کتاب ‘‘کنز العرفان’’ کا مطالعہ کریں۔ معلوم رہے کہ لوگوں میں چوں کہ صلاحیتیں اور استعدادیں برابر نہیں ہوتی ہیں اس لیے خداوند قدوس نے کمال کرم سے یہ مختلف مشرب عطا فرمائے تاکہ کم صلاحیت والے بھی کعبہ مقصود اور قبلۂ مطلوب تک پہنچ سکیں۔
لطائف کی تسلیک:
معلوم ہونا چاہیے کہ مقامات اور لطائف کا سلوک دو قسم پر ہے؛ ایک یہ کہ ہر لطیفہ کے مقام کی سیر مرشد کی توجہ سے ابتدا سے لے کر انتہا تک پہنچائے، اس کے بعد پھر دوسرے لطیفہ کی سیر شروع کرے، اس کو بھی انتہا تک پہنچائے، اسی طرح ہر ایک کو مکمل کرے، دوم یہ کہ مرشد جب چاہے کہ سالک کا کام بہت جلد انجام کو پہنچے تو یہ کرتا ہے کہ لطیفہ اول میں توجہ دیتا ہے اور ابھی لطیفہ اول کی سیر پوری نہیں ہو پاتی ہے کہ لطیفہ ثانی کے انوار اس میں القا کر دیتا ہے۔ اسی طرح لطیفہ ثانی کی مسافت ابھی پوری نہیں ہو پاتی ہے کہ لطیفہ ثالث پر توجہ فرماتا ہے۔ اسی طرح باقی لطائف میں کرتا ہے۔
غرضیکہ اپنی توجہ سے ہر مقام سے حصہ اور ہر جگہ کے انوار و فیوضات و کیفیات سالک کے باطن میں مرشد القا کرتا ہے۔ سلوک کی دوسری قسم کو سلوک بطور طفرہ کہتے ہیں، یہ سالک صاحب طفرہ گویا ہر مقام کو بطور اجمال دیکھتا ہے، اس کے بعد