مواد پر جائیں

Allama Afaque Ahmad Mujaddidiخصائصِ نقشبندیہکمالات نبوت کا حصول و ہبی ہے

باب ۲۰ از ۲۲صفحات ۲۲۸–۲۳۸

کمالات نبوت کا حصول و ہبی ہے

حضرت مجدد ولف ثانی قدس سرہ فرماتے ہیں:‘‘اے فرزند! کمالات نبوت کا حصول محض بخشش سے وابستہ اور خالص عطا سے مربوط ہےکسب و تعمل کو اس دولت عظمیٰ کے حصول میں کچھ بھی دخل نہیں ہے،کیونکہ کون سا عمل و کسب ہے جو اس دولت عظمیٰ کا نتیجہ دے گا،اور کون سی ریاضت و مجاہدہ ہے جو کہ اس نعمت اعلیٰ کا ثمرہ دے گا؟ بخلاف کمالات ولایت کے کہ اس کے مبادی و مقدمات کسبی ہیں اور اس کا حصول ریاضت و مجاہدہ سے مربوط ہے،اگرچہ جائز ہے کہ بعض کو کسب وعمل کی محنت کے بغیر بھی اس دولت کی ہدایت عطا فرمائیں اور فنا و بقا کہ ولایت اسی کا نام ہے،نیز وہبی ہیں کہ مقدمات کے کسب کے فضل و کرم سے جسے چاہتے ہیں دولت فنا و بقا سے مشرف کرتے ہیں ۔

اور سرور کونین ﷺ کے ریاضات و مجاہدات بعثت سے قبل اور بعثت کے بعد اس دولت کی تحصیل کے واسطے نہیں تھے بلکہ دوسرے فوائد ومنافع مثلاً قلت حساب،کفارۂ زلات بشریت،ارتفاع درجات،صحبت فرشتۂ مرسل کی مراعات کہ کھانے پینے سے پاک ہے اورخوارق کی کثرت ظہور جو کہ مقام نبوت کے مناسب ہے اور اس طرح کی دیگر چیزیں منظور و ملحوظ تھیں۔

معلوم ہونا چاہیے کہ اس موہبت و عطا کا حصول انبیاء کرام علیہم الصلوات و

التسلیمات کے حق میں بے توسط ہے اور انبیاء علیہم الصلوات و التسلیمات کے اصحاب جو کہ تبعیت و وراثت کی وجہ سے اس دولت سے مشرف ہوتے ہیں کے حق میں انبیاء کرام کے توسط سے ہے انبیاء کرام علیہم الصلوات و التسلیمات اور ان کے اصحاب علیہم الرضوان کے بعد کم ہی کوئی اس دولت سے مشرف ہوا ہے اگر چہ جائز ہے کہ دوسروں کو بھی تبعیت و وراثت کی وجہ سے اس دولت سے واصل کریں۔

میں سمجھتا ہوں کہ اس دولت نے کبار تابعین میں بھی پرتو ڈالا ہے اور اکابر تبع تابعین میں بھی سایہ افگن رہی ہے اس کے بعد پوشیدگی کی طرف رخ ہو گیا یہاں تک کہ حضور ﷺ کی بعثت سے ہزار دوم تک نوبت پہنچی اس دور میں پھر وہ دولت تبعیت و وراثت کی وجہ سے منصۂ ظہور پر آئی اور آخر کو اول کے مشابہ بنادیا۔’’(ہٰذا کلہ ما خوذ من المکتوبات القدسیہ)

دائرۂ کمالات نبوت:

واضح ہو کہ تجلیِ ذاتی دائمی کے تین مرتبے ہیں،پہلا مرتبہ کمالات نبوت کا تیسرا کمالات رسالت کااور تیسرا کمالات اولوالعزم کا یہ تینوں دائرے مثل ابرہ و استر( ) اور مثل محیط و مرکز کے مشہود ہوتے ہیں،جب بفضل الٰہی دائرۂ کمالات نبوت کے مرکز میں پہنچتے ہیں تو وہ مرکز بصورت دائرہ ظاہر ہوتا ہے اور وہ دائرہ کمالات رسالت کا ہے جب دوسرے دائرے کے مرکز میں پہنچتے ہیں تو وہ مرکز بھی بصورت دائرہ ظاہر ہوتا ہے جو دائرۂ کمالات اولوالعزم ہے(تذکرہ)

ان کمالات کا حصول انبیاے کرام علیہم الصلوات و التسلیمات کے ساتھ مخصوص ہے اور مقام نبوت سے ناشی ہے،انبیاء کرام علیہم الصلوات و التسلیمات

........................

۔ وہ استر جو صدری وغیرہ میں لگایا جاتا ہے۔

کے کامل تابعین کو بھی تبعیت کی وجہ سے ان کمالات سے حصہ ملا ہے اور لطائف انسانی میں حظ وافر ان کمالات سے بالاصالۃ عنصر خاک کے لیے ہے اور باقی انسانی اجزا خواہ عالم امر کے ہوں یا عالم خلق کے سب اس مقام میں اس عنصر پاک کے تابع ہیں اور اسی کے طفیل اس دولت سے مشرف ہیں،اور چونکہ یہ عنصر بشر کے ساتھ مخصوص ہے تو ناچار خواص بشر خواص ملک سے افضل ہو ئے کیونکہ جو کچھ اس عنصر کو میسر ہوا ہے دنوٌّ کے تدلّیِ کی حقیقت اس محل میں ظاہر ہوتی ہےاور ‘‘قاب قوسین او ادنیٰ’’ کے اسرار اسی جگہ انکشاف پاتے ہیں۔

اسی سیر میں معلوم ہوتا ہے کہ تمام ولایتوں خواہ صغریٰ ہو یا کبریٰ یا پھر علیا کے کمالات سب کمالات نبوت کے ظلال ہیں اور وہ کمالات ان کمالات کی حقیقت کے لیے شبح و مثال ہیں۔

اور واضح ہوتا ہے کہ ایک نقظہ جو اس سیر کے ضمن میں طے ہوتا ہے وہ مقام ولایت کے تمام کمالات سے زیادہ ہے،پس سوچنا چاہیے کہ ان تمام کمالات کو پہلے والے تمام کمالات کے ساتھ کیا نسبت ہو گی؟ دریائے محیط کو تو بھی قطرہ کے ساتھ ایک نسبت ہے لیکن اس جگہ تو وہ نسبت بھی مفقود ہے مگر میں کہتا ہوں کہ مقام نبوت کو مقامِ ولایت سے غیر متناہی کو متناہی کے ساتھ نسبت کے مثل ہے۔

سبحان اللہ! اس بھید سے جو جاہل ہے وہ کہتا ہے کہ ولایت نبوت سے افضل ہے جبکہ دوسرا اس مقام سے عدمِ آگاہی کی وجہ سے اس کی توجیہ میں کہتا ہے کہ نبی کی ولایت نبی کی نبوت سے افضل ہے!کبر کلمۃ تخرج من افواہہم۔

کمالات نبوت:

غوث العالم حضرت سیدنا شاہ غلام علی دہلوی قدس سرہ فرماتے ہیں کہ کمالات نبوت سے مراد اس تجلیِ ذاتی کا دوام ہے جو اسما و صفات کے پردوں کے بغیر

ہو،اس عظیم مقام میں ایک نقطہ قطع کرنا اس جگہ تمام مقام ولایت سے بہتر ہے، یہاں حضور بے جہت ہوجا تا ہے اور نگرانی اور پہلے والی توجہات،تپش طلب و بے تابیِ شوق زائل ہو جاتی ہے اور یقین کی ٹھنڈک ہاتھ آتی ہے،دست حال و مقام و معرفت اس جگہ کوتاہ ہے‘‘لا تدرکہ الابصار’’ حال کی سچائی پر گواہ ہے،اس جگہ یافت و ادراک نا رسائی کی علامت ہے۔

نسبت کی نکارت و جہالت اور وصل عریانی حاصل ہو تا ہے،وصول ہے حصول نہیں ہے،صفائے دقت و حقیقت،اطمینان اور اتباع ہویٰ لما جاء بہ المصظفےٰ ﷺ اور نسبت باطن میں کمالِ وسعت اور بے کیفی و یاس و حرمان اس جگہ میسر آتے ہیں حقائق اس جگہ شرائع ہیں اور بس۔

کہ یہ مقامات انبیاے کرام علیہم الصلوات و التسلیمات اور اتباع کرنے والوں کو تبعیت و وراثت کے سبب حاصل ہوتے ہیں،توحید و جودی و شہودی جو کہ معارف ولایت سے تھے،راہ میں رہ جاتی ہے لیکن عروج و نزول و جذبات بالاصالۃ عنصر خاک کو اور بہ تبعیت عناصر ثلاثہ کو میسر ہوتے ہیں،مورد فیض اس جگہ در اصل لطیفۂ خاک ہے اور بہ تبعیت تمام بدن۔

کمالات رسالت کمالات نبوت سے افضل ہیں،جس طرح نبی ورسول میں فرق مراتب ہے اسی طرح قرب حق میں ان کمالات کا اس مقام میں ذات بحت کا فیضان لطائف عشرہ کی مجموعی قوت پر وارد ہوتا ہے،اس مقام میں ترقی قرآن مجید کی کثرت تلاوت اور نماز با طول قرأت اور اتباع سنت سے ہوتی ہے۔

اور کمالات اولوالعزم کا مقام کمات رسالت سے بھی قوی تر اور ذات بحت سے قریب تر ہے اور قرب کے لحاظ ہی سے فیضان،انوار،اسرار اور انعام و اکرام ہوتا ہے جو جتنا قریب تر ہے اتنا ہی ربانی عطاؤں سے مستفیض ہے۔

فائدہ:

کمالات اولوالعزم کے بعد(وصول الیَ اللہ)قربِ حق کے دو راستے ہیں ایک حقائق انبیاے کرام علیہم الصلوات و التسلیمات کی طرف دوم حقائق الٰہیہ کی طرف، مرشد کامل کو اختیار ہے جس راہ پر چاہے سالک کو ڈالے ہم دونوں قسموں کے حقائق سپرد قلم کر رہے ہیں اگرچہ اس مادیت کے دور میں عملاً ان حقائق کے کمالات سے مشرف ہونے والے کتنے ہیں؟مگر اپنے اسلاف کے بیان کردہ حقائق سے ان کی عظمت شان کا پتہ لگایا جا سکتا ہے۔

چوتھی خصوصیت

یہ ہے کہ آپ کے طریقہ کے سالکین کو سات حقیقتوں کے انوار وتجلیات اور فیوض و برکات حاصل ہو تے ہیں جن کو حقائق سبعہ کہا جاتا ہے یعنی حقیقت کعبہ،حقیقت قرآن،حقیقت صلوٰۃ،حقیقت ابراہیمی،حقیقت موسوی،حقیقت محمدی،حقیقت احمدی۔

حقیقت کعبہ:

ذاتِ الٰہی کی عظمت وکبریائی کے سر اوقات کے ظہور کا نام حقیقت کعبہ ہے۔(مکتوبات شاہ غلام علی دہلوی قدس سرہ)

حضرت مجدد قدس سرہ کے مبارک کلام سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت ذات میں مرتبۂ علم کے فوق میں ایک مرتبہ ہے اس مرتبہ میں جس طرح باقی شیون کی گنجائش نہیں ہے اسی طرح اس میں شان العلم کی بھی گنجائش نہیں ہے،اس جگہ سب نور ہے اور بے چون بے چگون ہے،اور کمالات خواہ وجوبی ہوں یا امکانی سب نور کے ظلال ہیں اور نور ہی سے قائم ہیں،وجود بھی نور سے وجود ہو کر مبدأ آثار ہوا یہ مرتبہ نورِ صرف(خالص) ہے اور لا تعین سے متعین اس کو ذات بحت اور احدیت مجردہ دوسروں کی طرح خیال نہ کریں کیونکہ یہ مرتبہ بھی نورانیت صرف کے حجابوں

سے ایک حجاب ہے،کہا جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے لیے نور و ظلمت کے ستر حجاب ہیں۔

اس مرتبہ میں اگر چہ تعین نہیں ہے لیکن مطلوب حقیقی کا یہ مر تبہ حجاب ضرور ہے،یہ ہو سکتا ہے کہ یہ نور کا آخری پردہ ہو اور اللہ تعالیٰ وراء الوراء ہے یہ نورِ صرف چونکہ دائرۂ لا تعین میں داخل نہیں ہے لہٰذا عدم کی ظلمت سے منزہ و مبرا ہے،وللہ المثل الاعلیٰ،اس نور کی مثال نور آفتاب کی کرنوں کی اور شعاؤں کی طرح ہے جو کہ قرصِ آفتاب کے لیے پردہ بن گئیں اور اس کے عین قرص سے منتشر ہو کر اس کا حجاب ہو گئی ہیں،حدیث شریف میں ہے‘‘حجابہ النور’’۔

یہ بلند مرتبہ تجلیات ذاتیہ کے بھی اوپر ہے فعل و صفت کی تجلیات تو کجا رہیں،چونکہ تجلی تعین کی ملاوٹ کے بغیر متصور نہیں ہے اور یہ مقام تمام تعینات کے اوپر ہے اس لیے تجلیات سے بھی اوپر ہوا ،ہاں! ان تجلیاتِ ذاتیہ کا منشأ یہی نورِ صرف ہے اور تجلی اس کے واسطے سے متصور ہو سکتی ہے اگر یہ نہ ہوتا تو تجلی کا حصول نہ ہوتا،حضرت مجدد قدس سرہ کی نظر میں حقیقت کعبۂ ربانی یہی نورِ صِرف ہے جو کہ تمام کا مسجود اور جمیع تعینات کی اصل ہوا ہے۔

یہ نورِ صرف جبکہ تمام تجلیاتِ ذاتیہ کی جائے پناہ اور ملجأ ہوا تو دوسروں کا مسجود ہونا تو بطریقِ اولیٰ ثابت ہوا،جب اللہ تعالیٰ کی عنایت اور فضل ہزاروں میں سے کسی ایک عارف کو اس دولت تک وصول سے مشرف کرتا ہے اور اس محل میں فنا وبقا سے سرفراز فرماتا ہے تو ہو سکتا ہے کہ اس نور سے بقا پا کر اس کے فوق اور فوق الفوق سے کامل حصہ پائے اور نور سے نور تک گزر کر اصل نور تک پہنچ جائے۔

یہ معارف جس طرح نظر وفکر سے ماورا ہیں اسی طرح کشف و شہود کے طور سے بھی وراء ہیں نیز اربابِ کشف و شہود اس معلوم کے سمجھنے میں اصحاب علم و عقل کی

مانند ہیں اس کے سمجھنے کے لیے فراستِ نبوت کا نور چاہیے۔(خلاصہ مکتوب ۷۶ دفترِ سوم)

حقیقتِ قرآن:

حضرت ذات حق کی بے چونی کے مبدأ وسعت کا نام حقیقت قرآن ہے(مکتوبات شاہ غلام علی قدس سرہ)حضرت مجدد قدس سرہ فرماتے ہیں کہ اس بلند مقام، نورِ خالص جس کو اس فقیر نے کعبۂ ربانی کی حقیقت قرار دیا ہے کے بعد ایک اور بہت بلند مرتبہ ہے جو حقیقتِ قرآن ہے کعبۂ معظمہ بحکم قرآن مجید قبلۂ آفاق ہے اور سب کی مسجودیت کی دولت سے مشرف ہوا،یوں کہیے کہ قرآن امام ہے اور مقتدی پیش قدم کعبۂ معظمہ۔

یہ مرتبہ اللہ تعالیٰ کی ذات بے چونی کی وسعت کا مبدأ ہے اور بے چونی و بے چگونی کے امتیاز کا بھی مبدأ ہے،وہ ایک ایسا بلند درجہ ہے کہ اس درجۂ مقدسہ میں وسعت،درازیِ طول و فراخی عرض کی وجہ سے نہیں ہے کیونکہ یہ نقص و امکان کی علامات سے یہ ایک ایسا امر ہے کہ جب تک اس سے متصف نہ ہو نہیں معلوم ہو سکتا ہے۔

اور اسی طرح امتیاز اس مرتبۂ مقدسہ میں مزایلت ومباینت کہ وجہ سے نہیں ہے کیونکہ یہ تبعض و تجزی کو مستلزم ہے جو کہ جسم اور جسمانی کےعوارض سے ہے تعالیٰ اللہ عن ذٰلک،اس محل میں فرض شئ غیر شئ متصور نہیں ہے کیونکہ غیریت مغایرت و اثنینیت کی خبر دیتی ہے۔

بلکہ فرض بھی گنجائش نہیں رکھتا اس لیے کہ(فرض بھی)فرض محال کے قبیل سے ہے،جس نے نہیں چکھا نہیں جانا،اس محل میں جو شئ بھی فرض کی جائے اگر چہ فرضِ محال کے طور پر اور اس شئ میں ہر چند دور دور تک جایا جائے اگر چہ کچھ

بھی جایا نہیں جا سکتا ہے ہر گز کوئی امر ایسا ظاہر نہیں ہوتا ہے جو کہ اس شئ سے اختصاص رکھتا ہو اور دوسری شئ میں مفروض پایا نہ جائے،اور اس کے باوجود امتیاز ان دو مفروض چیزوں میں موجود اور ظاہر ہے اور ایک کے احکام دوسرے سے ممتاز اور جدا ہیں۔(تفصیل کے لیے دیکھیے مکتوب ۷۷ دفتر سوم)

حقیقتِ صلوٰۃ:

حضرت ذات حق کی وسعت بے چونی کے کمال کا نام حقیقتِ صلوٰۃ ہے(مکتوبات شاہ غلام علی قدس سرہ)حضرت مجدد قدس سرہ ارشاد فرماتے ہیں کہ اس مرتبۂ مقدسہ (حقیقتِ قرآن)کے اوپر ایک اور نہایت بلند مرتبہ ہے جو کہ حقیقت صلوٰۃ ہے کہ عالم شہادت میں اس کی صورت و مثال نمازیانِ اربابِ نہایت سے قائم ہے، ہو سکتا ہے وہ اسی معراج کی حقیقت کی طرف اشارہ ہو جو قصۂ معراج میں آیا ہےکہ‘‘قف یا محمد فانَّ اللہ یصلی’’ ہاں! وہ عبادت جو مرتبۂ تجرد وتنزہ کے لائق ہے مراتب وجوب ہی سے صادر ہو تی ہے اور قِدم کے طریقوں سے ظاہر ہوتی ہے،پس وہ عبادت جو حق سبحانہ کی مقدس بارگاہ کے لائق ہو وہی ہے جو مراتب وجوب سے صادر ہو نہ کہ کسی اور سے تو وہی عابد ہے اور وہی معبود۔’’

اس مرتبۂ مقدسہ میں کمالِ وسعت اور بے چون امتیاز ہے کہ اگر حقیقت کعبہ ہے تو اس کا جز ہے اور اگر حقیقت قرآن ہے تو بھی اس کا بعض ہے کہ نماز مراتب عبادات کے تمام کمالات کی جامع ہے اور درک بہ نسبت اصل الاصل کے ثابت ہے کیونکہ معبودیت صِرف(خالص) اسی کے لیے ثابت ہے۔

حقیقت صلاۃ (۳)

اور حقیقت صلاۃ کہ تمام عبادت کی جامع ہے اس مرتبہ میں اس مرتبۂ مقدسہ کے لیے عبادت ہے جو کہ اس کے اوپر ہے کیونکہ معبودیت صِرف کا استحقاق اس اوپر والے مرتبے کے لیے ہے جو کہ کل کی اصل ہے اور سب کی جائے پناہ ہے،اس

مرتبہ میں وسعت بھی کوتا ہی کرتی ہے اور امتیاز بھی راہ میں رہ جاتا ہے اگرچہ وہ وسعت و امتیاز بے مثل و بے کیف ہو۔

کامل انبیاء کرام علیہم الصلوات و التسلیمات اور اکابر اولیاء عظام رحمہم اللہ اولاً و آخراً کے قدموں کی انتہا حقیقت صلوٰۃ کے مقام کی انتہا تک ہے جو کہ عابدوں کی عبادت کا آخری مرتبہ ہے اور اس سے اوپر معبودیتِ صِرفہ کا مقام ہے کہ اس دولت میں کسی کو بھی کسی طرح کی شرکت نہیں ہے تاکہ وہ اس سے اوپر قدم رکھ سکے کیونکہ ہر وہ مقام کہ جس میں عبادت و عابدیت کی آمیزش ہے وہاں تک نظر کی طرح قدم کو گنجائش ہے اور معاملہ جب معبودیت صرفہ تک پہنچا تو قدم کوتا ہی کرتا ہے اور سیر انجام کو پہنچ جاتی ہے لیکن الحمد للہ سبحانہ کہ نظر کو اس جگہ سے منع نہیں فرمایا ہے اور اس کو استعداد کے مطابق گنجائش دی ہے۔؎

بلا بودے اگر ایں ہم نبودے

ہو سکتا ہے کہ ‘‘قف یا محمد’’کے صیغۂ امر میں اسی کوتاہیِ قدم کی طرف اشارہ کیا گیا ہو یعنی اے محمد!(ﷺ)ٹھہر جا اور قدم آگے نہ رکھ کہ مرتبۂ صلاۃ جو کہ مرتبۂ وجوب سے صادر ہے کے اوپر حضرت ذات تعالیٰ و تقدس کے تجرد و تنزہ کا مرتبہ ہے اس جگہ قدم کی جولان گاہ نہیں ہے اور نہ گنجائش ہے۔

کلمۂ طیبہ لا اِلٰہ الااللہ کی حقیقت اس مقام میں متحقق ہوتی ہے اور غیر مستحق آلہہ کی عبادت کی نفی اس جگہ صورت باندھتی ہے اور معبود حقیقی کا اثبات کہ اس کے علاوہ کو ئی مستحق عبادت نہیں اس مقام میں حاصل ہوتا ہے اور عابدیت و معبودیت کے درمیان مکمل امتیاز اس جگہ ظاہر ہوتا ہے،عابد کما حقہ اس جگہ معبود سے جدا ہو جاتا ہے اور معلوم ہوتا ہے کہ لا الٰہ الا اللہ کے معنیٰ منتہی کے حال کی نسبت لا معبود الااللہ ہیں جیسا کہ شرع میں اس کے معنیٰ مقرر ہو چکے ہیں اور لا موجود،لاوجود اور لا

مقصود کہنا ابتدا و توسط کی نسبت سے ہے اور لا مقصود کا رتبہ لا مو جود کے رتبے سے بلند ہے کیونکہ لا مقصود لا معبود الااللہ کا دریچہ ہے۔

معلوم ہونا چاہیے کہ اس مقام میں نظر میں ترقی اور بصارت میں تیزی عبادت نماز سے وابستہ ہے جو کہ منتہی حضرات کا کام ہے دوسری عبادتیں شاید کہ نماز کی تکمیل میں مدد دیتی ہیں اور شاید کہ اس کے نقصان کی تلافی کریں اسی وجہ سے شاید علما نے نماز کو حسن لذاتہٖ کہا ہے جیسا کہ ایمان کو کہا ہے جب کہ دوسری عبادتوں کو حسن لذاتہٖ کا رتبہ حاصل نہیں۔

قبلۂ عالم حضرت خواجہ احمد سعید قدس سرہ فرماتے ہیں کہ اس مقام کے بارے میں کیا لب کشائی کی جائے کہ حقیقت قرآن مجید اس کا ایک جز ہے اور حقیقت کعبہ جزو دیگر،جو سالک اس حقیقت مقدسہ سے حصہ پاتا ہے وہ ادائے نماز کے وقت اس دارِ فانی سے نکل کر دارِ اخروی میں داخل ہو جاتا ہے اور حدیث شریف‘‘ان تعبد اللہ کانّک تراہ’’ اسی مقام میں مکمل طور پر ظاہر ہوتی ہے اور اسی حالت شریفہ کی طرف سیدالانام ﷺ نے اشارہ فرماتے ہوئے ارشاد فرمایا:‘‘الصلوٰۃ معراج المومنین’’ نیز فرمایا:‘‘اقرب مایکون العبد من الرب فی الصلوٰۃ’’

اگر نماز پڑھنا مقصود نہ ہوتا تو مقصود کے چہرے سے نقاب کون اٹھاتا اور طالب کو مطلوب کی راہ کون دکھاتا؟نماز ہے جو غمگساروں کو لذت بخشتی ہے،نماز ہے جو بیماروں کو راحت دیتی ہے‘‘ارحنی یا بلال’’اسی ماجرے کی طرف رمز ہے اور‘‘قرۃ عینی فی الصلاۃ’’اسی متمنّیٰ کی طرف اشارہ ہے حقیقت نماز سے آگاہ نہ ہونے کی وجہ سے صوفیہ کرام کے جم غفیر نے اپنے اضطراب کی تسکین نغمہ کے پردوں میں دیکھی اور اپنے مطلوب کو سماع و وجد و تواجد میں ڈھونڈا ہے اسی لیے لا

محالہ رقص و رقاصی کو اپنی عادت بنالیا اگر ذرا بھی کمالات نماز کی حقیقت ان پر منکشف ہوتی تو ہرگز سماع و نغمہ کا دم نہیں مارتے اور وجد و تواجد کو یاد نہ کرتے۔(انہار اربعہ)

حقائق انبیاے کرام:

معلوم ہونا چاہیے کہ اب تک جن حقائق کا تذکرہ ہوا یہ حقائق الٰہیہ کہلاتے ہیں اور حقائق الٰہیہ کی سیر دائرۂ معبودیت صِرفہ تک ہے جس کا ظہور دائرۂ حقیقت صلاۃ کے بعد ہوتا ہے،حضرت مجدد قدس سرہ کے کلام سے معلوم ہوتا ہے کہ معبودیت صِرفہ بے چونی صرف ذات کا نام ہے جس سے مقبول بندوں کو حصہ ملتا ہے اور اس پر دائرۂ قیومیت مرتب ہوتا ہے اور اس ذات سے کہ جملہ حقائق امکانی کا قیام اس سے ہو سکتا ہے،جو لوگ بہرہ ور ہوں مقامات عابدیت وسیر قدمی اور سلوک حقائق مذکورہ کی انتہا سےوہ تمام ہو جاتے ہیں۔ان حقائق میں ترقی خدا تعالیٰ کے فضل و کرم پر موقوف ہے۔

اب حقائق انبیاء علیہم الصلوات والتسلیمات عرض کرتا ہوں،ان حقائق میں ترقی سید الابرار ﷺ کی محبت پر موقوف ہے۔

جاننا چاہیے کہ حق سبحانہ جس طرح اپنی ذات سے محبت کرتا ہے اسی طرح اپنے افعال و صفات سے بھی محبت کرتا ہے،محبت کے ان افراد میں ہر فرد دو اعتبار رکھتا ہے ایک محبیت دوم محبوبیت،محبیت ذاتیہ کے کمالات کا ظہور حضرت موسیٰ کلیم اللہ اور کمالات صفاتی و محبوبیت اسما کا ظہور حضرت ابراہیم خلیل اللہ و دیگر انبیاء کرام علیہم الصلوات والتسلیمات میں ہوا سب سے پہلے سیر سالک کا آغاز کمالات صفاتیہ اور حقیقت ابراہیمہ میں ہوتا ہے مقامِ خلت اسی سے کنایہ ہے۔