مواد پر جائیں

Allama Afaque Ahmad Mujaddidiخصائصِ نقشبندیہسلاسل اربعہ کی حقانیت

باب ۷ از ۲۲صفحات ۷۸–۸۸

سلاسل اربعہ کی حقانیت

اب ایسے بھی نرے عقل و خرد کے دیوانے بلکہ عقل و خرد سے بیگانے پیدا ہو گئے جن کی نظر میں اسلام صرف اور صرف ظاہری احکام و مسائل کا نام ہے،مروجہ سلاسل پیری مریدی، اکتساب فیض اور ذکر و مراقبہ وغیرہ اولیاے کرام و علماے

حق کے معمولات اسلام سے خارج ان کے مجاہدات و ریاضات ایسی رہبانیت پر مشتمل جس کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں بلکہ یہ سب کچھ جاہلیت اولیٰ میں داخل ہے۔ ان ہوشمندوں کو اپنی اس سمجھ پر کتنا گھمنڈ ہے۔ ابلیس لعین نے ان کو ایسی جہالت میں مبتلا کر دیا جس کی وجہ سے وہ ان اصفیا و اتقیا وغیرہ سب کو اسلام سے ناآشنا سمجھ بیٹھے اور وہ افراد جن پر دین کا مدار ہے ان کو جاہل تصور کر بیٹھے۔ میں چند نقشبندی بزرگ خاص کر حضرت مجدد قدس سرہ کے چند اقوال جو اس بحث کے مختلف گوشوں سے متعلق ہے عرض کرتا ہوں ان حق پرستوں کی تسلی خاطر کے لیے جواب بھی اسلاف کا دامن تھامے ہوئے ہیں۔

صاحب تذکرہ مشائخ نقشبندیہ سلاسل اربعہ کی حقانیت کے بارے میں حضرت توکل شاہ صاحب انبالوی قدس سرہ کا ایک کشف بیان فرماتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں: ‘‘ایک دفعہ زیارت سید المرسلینﷺ کی ہوئی، دیکھا کہ میں آپ کے حضور میں بیٹھا ہوں اور آپ کے سینہ مبارک سے چار نہریں نکلی ہیں اور تمام عالم میں جاری ہیں۔’’

سلاسل کی عظمت و نورانیت:

پروردہ نعمت خوان احمدی حضرت خواجہ بدر الدین سرہندی قدس سرہ حضرت مجدد قدس سرہ کے بارے میں مکاشفہ ۵ میں فرماتے ہیں:

ایک روز آپ صبح کے حلقے میں بیٹھے تھے اور استغراق، توجہ اور مراقبے میں تھے کہ یکایک شاہ سکندر (قادری قدس سرہ) تشریف لے آئے اور حضرت شاہ کمال کیتھلی قدس سرہ کا خرقہ مبارک آپ کے کندھے پر ڈال دیا۔ آپ نے آنکھ کھولی اور شاہ سکندر کو دیکھ کر کھڑے ہو گئے اور نہایت تواضع کے ساتھ معانقہ کیا، شاہ سکندر نے فرمایا کہ میرے دادا حضرت شاہ کمال کیتھلی‌رحمۃ اللہ علیہ نے اپنے وصال کے

وقت یہ جبہ میرے سپرد کیا تھا کہ بطور امانت تم کو دیتا ہوں اور جس کسی کو میں کہوں تم اسے پہنچا دینا۔ اب چند مرتبہ حضرت نے واقعے میں مجھے حکم دیا کہ میں یہ جبہ آپ کو پہنچا دوں مجھ پر بہت شاق گذرا کہ اپنے دادا کا خرقہ مبارکہ اور اپنے گھر کی نعمت باہر کیوں دے دوں، لیکن چوں کہ سخت تاکید اور تہدید سے حکم دیا گیا ہے اس لیے ناچار لے کر آیا ہوں۔

آپ نے وہ جبہ مبارکہ زیب تن کیا، کھڑے ہو گئے اور تنہائی میں تشریف لے گئے، فرماتے تھے کہ اس وقت مجھے یہ خیال گذرا کہ مشائخ کا ایک طریقہ ہے کہ کسی کو جامہ پہنا کر اپنا خلیفہ بناتے ہیں اس لیے چاہیے تو یہ تھا کہ پہلے خلعت معنوی پہناتے اور احوال و کمال کا آب زلال پلاتے پھر اپنا خلیفہ بناتے۔

اسی اثنا حضرت غوث الثقلین قدس سرہ کو دیکھا کہ اپنے خلفاے سلسلہ (تا شاہ کمال) کے ساتھ تشریف لے آئے اور میرے معاملے میں تصرف فرمایا اور میرے دل کو اپنے تصرف میں لے لیا اور اپنی خاص نسبتوں کے اسرار و انوار عطا فرمائے اور میں دریاے انوار میں غرق ہو کر اس سمندر میں غوّاصی کرنے لگا۔ جب اس طرح ایک ساعت گذر گئی تو ٹھیک انھی غلبات احوال میں مجھے خیال آیا کہ تم تو اکابر نقشبندیہ کے تربیت یافتہ ہو ایسی صورت اب کیوں پیدا ہوئی ہے؟

اس خیال کے آتے ہی میں نے دیکھا کہ سلسلہ نقشبندیہ کے مشائخ حضرت خواجہ عبد الخالق غجدوانی سے لے کر حضرت خواجہ باقی باللہ (قدس اللہ اسرارہم) تک سب کے سب تشریف لے آئے اور حضرت خواجہ بہاء الدین نقشبند بخاری قدس سرہ تو حضرت عبد القادر جیلانی قدس سرہ کے پہلو میں بیٹھ گئے، بیٹھنے کے بعد اکابر نقشبندیہ نے فرمایا کہ یہ تو ہمارے تربیت یافتہ ہیں اور ہماری تربیت سے کمال و اکمال کے مقام کو پہنچے ہیں۔ آپ حضرات کو ان سے کیا واسطہ؟ اکابر قادریہ

نے فرمایا کہ ان کے بچپن ہی سے ان پر ہماری نظر رہی ہے اور انھوں نے ہمارے خوان نعمت سے چاشنی حاصل کی ہے اور ابھی ہمارا خرقہ بھی پہنا ہے۔ ابھی یہ بحث ہو رہی تھی کہ کبرویہ اور چشتیہ کی ایک جماعت اور بہت سے مشائخ بھی آگئے اور ایسا اجتماع ہو گیا کہ اس شہر کے جنگل و بیابان بھی ان سے بھر گئے، پھر تو دن کے آخر میں یہ فیصلہ ہوا کہ چوں کہ یہ تربیت تقشبند سے درجہ کمال و تکمیل کو پہنچے ہیں اور اعتبار تکمیل کا ہوا کرتا ہے اس لیے ان کو اسی طریقے پر شرف حاصل ہوگا اور اسی طریقے میں وہ رشد و ہدایت فرمائیں گے تاہم طریقہ قادریہ میں بھی ہدایت اور تکمیل فرمائیں گے۔ (حضرات القدس، ص: ۱۰۳)

مشائخ سلاسل کی بلندی شان:

یہی حضرت خواجہ بدر الدین‌رحمۃ اللہ علیہ حضرت مجدد قدس سرہ کے درجات کے بیان میں درجہ ۷ کے تحت حضرت مجدد قدس سرہ کا یہ ارشاد نقل فرماتے ہیں ‘‘پھر اس فقیر کو نزول کے وقت جسے سیر عن اللہ باللہ سے تعبیر کیا جاتا ہے دوسرے سلسلوں کے مشائخ کے مقامات پر بھی عبور حاصل ہوا اور ہر مقام سے کامل حصہ پایا اور وہ مشائخ میرے کام میں میرے مددگار ثابت ہوئے اور اپنی اپنی نسبتوں کے چیدہ چیدہ حصے عطا فرمائے۔

سب سے پہلے مجھے اکابر چشتیہ (قدس اللہ تعالیٰ اسرارہم) کے مقامات پر عبور ہوا اور ان مقامات سے وافر حصہ مجھے ملا اور ان مشائخ عظام میں سے حضرت خواجہ قطب الدین (بختیار کاکی)‌رحمۃ اللہ علیہ کی روحانیت نے دوسرے بزرگوں سے کہیں زیادہ میری امداد فرمائی اور سچ تو یہ ہے کہ یہ بزرگ اس مقام میں بڑی شان والے ہیں اور اس مقام کے سردار ہیں اس کے بعد مشائخ کبرویہ (قدس اللہ تعالیٰ اسرارہم) کے مقام پر گذر ہوا یہ دونوں مقام (یعنی چشتیہ اور کبرویہ) عروج کے

اعتبار سے مساوی ہیں لیکن یہ مقام (کبرویہ) فوق سے نزول کرتے وقت اس شاہراہ کی دائیں جانب ہوتا ہے اور وہ مقام (چشتیہ) اس صراط مستقیم کی بائیں جانب ہے اور یہ شاہراہ (صراط مستقیم) وہ راستہ ہے کہ اقطاب ارشاد میں سے بعض اکابر اسی راستے سے فردیت کے مقام تک پہنچے ہیں اور آخری انتہا تک رسائی حاصل کر لیتے ہیں۔ افراد تنہا (بلا قطبیت) کا راستہ دوسرا ہے ، بغیر قطبیت کے اس راستے سے گذرنا ممکن نہیں مقام صفات اور اس شاہراہ کے درمیان یہ مقام واقع ہوا ہے گویا ان دونوں مقاموں کے درمیان ایک برزخ ہے جسے دونوں طرف سے حصہ ملتا ہے اور پہلا مقام تو اس شاہراہ کی دوسری جانبط واقع ہے جو صفات سے کم مناسبت رکھتا ہے۔

اس ولی کے بعد اکابر سہروردیہ کے مقام پر عبور حاصل ہوا جو شیخ شہاب الدین قدس اللہ سرہ کی طرف منسوب ہیں۔ یہ مقام اتباع سنت (علیٰ مصدرہا الصلاۃ و السلام) کے نور سے روشن ہے اور مشاہدہ فوق الفوق کی نورانیت سے زینت حاصل کیے ہوئے ہے اور عبادتوں کی توفیق اس مقام کی رفیق ہے (یعنی اس مقام والوں کو حاصل ہے) بعض سالکوں کو جو ابھی تک اس مقام پر فائز نہیں ہوئے ہیں لیکن عبادات نافعہ میں مشغول ہیں اور اسی میں آرام حاصل کیے ہوئے ہیں۔ اس مقام کی مناسبت سے اس مقام کا کچھ حصہ حاصل ہے کیوں کہ عبادات نافلہ سے بلا واسطہ اس مقام کو مناسبت ہے اور دوسروں کو خواہ وہ مبتدی یا منتہی اسی واسطے سے اس مقام کے ساتھ مناسبت ہے اور یہ مقام بہت عجیب ہے کیوں کہ جو نورانیت اس مقام میں ظاہر ہوتی ہے وہ دوسرے مقامات میں کم ہے اور اس مقام کے مشائخ کمال اتباع کی وجہ سے عظیم الشان اور رفیع المکان ہیں اور اپنے ابناے جنس میں امتیازی خصوصیت رکھتے ہیں۔ اس کے بعد مجھے مقام جذبہ میں لے آئے اور یہ مقام بے شمار جذبات کو لیے ہوئے ہے، پھر اس مقام کے نیچے بھی نزول ہوا مراتب نزول کی انتہا

مقام قلب پر ہوتی ہے جو ایک حقیقت جامعہ ہے اور ارشاد و تکمیل کا تعلق اس مقام تک نزول ہونے پر ہے۔ چناں چہ مجھے اس مقام پر نزول حاصل ہوا لیکن قبل اس کے کہ مجھے اس مقام میں تمکین حاصل ہو پھر عروج واقع ہوا اور اس مرتبہ میں ظل کی طرح اصل کو بھی پیچھے چھوڑ دیا اور اسی عروج میں جو قلب کے مقام میں واقع ہوا مجھے تمکین اور پختگی حاصل ہوئی۔ (حضرات القدس، ص: ۷۹)

نسبت معنوی بدعت نہیں:

مظہر کمالات احمدی، حامل لواے مجددی حضرت خواجہ محمد معصوم سرہندی قدس سرہ سلال کی نسبتوں اور مراقبات وغیرہ کی نسبت ثابت کرنے کے بعد ارشاد فرماتے ہیں:

: فالسلاسل کلھا منسوبۃ إلیہ منتھیۃ لدیہ، فالمشائخ و أھل السلاسل أخذوا بتوسط شیوخھم النسبۃ المعنویہ منہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ و سلم فلیس نسبتھم من مخترعاتھم

اسی مکتوب میں کچھ آگے فرماتے ہیں:

ولا نسلم ان التوجہ الی الاحدیۃ الصرفۃ و النفی و الإثبات والمراقبۃ لم تکن فی زمانہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ و سلم ولا فی زمان اصحابہ بل الظاھر ان سکوتہ علیہ الصلاۃ والسلام لم یکن خالیاً عن ھذہ الامور و ان لم تکن مسماۃ بھذہ الاسامی الخ

یعنی تمام سلاسل سرکار علیہ السلام سے منسوب ہیں اور آپ تک پہنچتے ہیں۔ پس مشائخ اور سلسلے والوں نے اپنے شیوخ کے واسطے سے سرکار علیہ الصلاۃ و السلام سے نسبت معنویہ حاصل کی۔ پس ان کی نسبت گڑھی ہوئی نہیں ہے اور ہم نہیں مانتے کہ احدیت صرفہ اور نفی و اثبات اور مراقبہ آپﷺ کے زمانے میں نہیں تھے اور نہ آپ کے اصحاب کے زمانے میں بلکہ ظاہر یہ کہ آپﷺ کا سکوت ان امور سے خالی نہیں تھا۔’’

مشائخ کرام کے ہاتھوں پر بیعت کرنا اور نعمت باطنی حاصل کرنا اور ان کی توجہات عالیہ سے تزکیہ نفس و تصفیہ قلب کرکے قرب حق کے بلند تر درجات حاصل کرنا وغیرہ ایسے واضح اور معروف و روشن امور ہیں جن کے منکر سواے پاگل و مجنوں کے اور کوئی دوسرا لقب امت نہیں دے گی اس لیے مزید اس پر روشنی ڈالنے کی حاجت نہیں ہے تو ایسی چیز ہے کہ جس کی فہرست ہمارے سامنے ہے۔ اہل حق کا ہمیشہ اتفاق رہا ، جملہ اولیا قریب قریب اسی راہ سے خدا سے واصل ہوئے۔ آج جتنے بھی اولیاے کرام کی فہرست ہمارے سامنے ہے خاص کر وہ جن کی ولایت و بزرگی تمام لوگوں کے نزدیک مسلم ہو چکی ہے ۔ یہ سب کے سب ایسے ہیں جن کی جبین عقیدت کسی نہ کسی کے سامنے خم ہے، ان کی روحانیت کی زمام کسی کے ہاتھوں میں ہے۔

اولیاے کرام کی چشم کرم سے تقدیر بدل جاتی ہے:

حضرت مجدد قدس سرہ فرماتے ہیں:

حضرت قبلہ گاہی ام قدس سرہ فرمودند کہ حضرت سید محی الدین جیلانی قدس سرہ در بعضے از رسائل خود نوشتہ اند کہ در قضاے مبرم ہیچ کس را مجال نیست کہ تبدیل بدہد مگر مرا کہ اگر خواہم آنجا ہم تصرف بکنم و ازیں سخن تعجب بسیار می کردند و استبعاد می فرمودند و ایں نقل مدتہا در خزینہ ذہن ایں فقیر بود تا آنکہ حق سبحانہ و تعالیٰ بایں دولت عظمیٰ مشرف ساخت ۔ (مکتوب: ۲۱۷، دفتر اول)

میرے حضرت قبلہ گاہی قدس سرہ فرمایا کرتے تھے کہ حضرت غوث اعظم قدس سرہ نے اپنے بعض رسائل میں تحریر فرمایا ہے کہ قضاے مبرم میں کسی کو گنجائش نہیں کہ بدل دے مگر مجھ کو اگر چاہوں تو اس میں بھی تصرف کروں، میں اس بات پر بہت تعجب کیا کرتا تھا اور (فہم سے) بعید سمجھتا تھا۔ فقیر کے ذہن میں

حضرت غوث اعظم کا یہ قول بہت مدت تک رہا یہاں تک کہ حضرت حق تعالیٰ نے اس دولت سے مشرف فرمایا۔ اس مبارک کلام سے صرف یہی نہیں معلوم ہوا کہ میدان حقیقت کے ایک عظیم شہسوار سرکار غوث اعظم قدس سرہ نے چوں کہ فرمایا ہے کہ میں تقدیر بدل دیتا ہوں اس لیے مان لیا گیا کہ بزرگوں کی توجہ سے قضا بدل جاتی ہے بلکہ حضرت مجدد قدس سرہ کو خود بھی ان کے رب نے یہ مقام و مرتبہ عطا فرمایا کہ وہ تقدیر و قضا بدل سکتے ہیں بلکہ اس کا ظہور بھی حضرت شیخ ملا طاہر لاہوری‌رحمۃ اللہ علیہ کے سلسلے میں ہوا جس کی تفصیل یہ ہے۔

اسی مکتوب میں فرماتے ہیں: ایک روز میں ایک بلا کے دفع کے درپے تھا جو کہ بعض دوستوں کے نامزد ہو گئی تھی اس وقت میں التجا و تضرع اور نیاز و خشوع تمام رکھتا تھا حق تعالیٰ کی جانب سے ظاہر ہوا کہ لوح محفوظ میں اس امر کی قضا کسی امر سے متعلق اور کسی شرط سے مشروط نہیں ہے (اس لیے) ایک قسم کی ناامیدی لاحق ہوئی اور حضرت سید محی الدین قدس سرہ کا قول یاد آیا دوبارہ پھر ملتجی اور متضرع ہوا اور عجز و نیاز کا راستہ پکڑ کر متوجہ ہوا محض فضل و کرم سے ظاہر کیا کہ قضاے معلق دو قسم پر ہے ایک قضا ہے کہ اس کی تعلیق لوح محفوظ میں ظاہر کردی گئی ہے اور فرشتوں کو اس پر اطلاع دے دی ہے اور دوم وہ قضا ہے کہ اس کی تعلیق خداوند قدوس کے نزدیک صرف معلق ہے (اور لوح محفوظ میں درج نہیں) اور لوح محفوظ ہی قضا مبرم کی صورت رکھتی ہے اور یہ قضاے معلق کی قسم پھر بھی تبدیلی کا احتمال رکھتی ہے قسم اول کی طرح۔

اس جگہ سے معلوم ہوا کہ حضرت غوث اعظم قدس سرہ کا کلام اسی قسم اخیر کی طرف مصروف ہے جو کہ قضاے مبرم کی صورت رکھتا ہے نہ کہ وہ قضا کہ حقیقتاً مبرم ہے کہ تصرف و تغیر اس میں شرعاً و عقلاً محال ہے جیسا کہ مخفی نہیں اور

حق یہ کہ کم کسی کو اس قضا کی حقیقت پر اطلاع ہے پس اس میں تصرف کس طرح ہو سکتا ہے اور وہ بلا جو اس دوست کی طرف متوجہ ہو گئی تھی اس قسم اخیر میں پائی اور معلوم ہوا کہ حضرت حق سبحانہ نے اس بلا کو دفع کر دیا۔

آپ کے اصل الفاظ شروع کے یہ ہیں: روزے در صددے دفع بلیہ بودم کہ بہ بعض از دوستاں نامزد شدہ بود الخ۔

اس مبارک کلام سے چند چیزیں معلوم ہوئیں؛ ایک یہ کہ اولیاے کرام کے تصرف سے قضا بدل جاتی ہے۔ دوم یہ کہ بزرگان دین دافع بلا ہیں۔ حضرت مجدد قدس سرہ کے اصل الفاظ کو دیکھیے کہ دفع بلا کو خود اپنی طرف منسوب فرمایا ہے۔ کتنا حیرت کا مقام ہے کہ اولیاے کرام کی تو یہ شان ہے اور کچھ لوگوں نے بر بناے (جہالت) سید الانبیا تک کے بارے میں دافع بلا ہونے کا انکار کر دیا اور اسی بنیاد پردرود تاج کو ناجائز کہہ دیا جس کے رد میں امام المسلمین اعلیٰ حضرت فاضل بریلوی قدس سرہ کو الامن و العلیٰ لناعتی المصطفیٰ بدافع البلاء تحریر فرمانا پڑی۔

ان جہالت کے پتلوں اور گمراہ گروں کو تاریخ کبھی معاف نہیں کرےگی۔ جس نبی کا کھائیں اسی پر یہ ستم اور اسی کا نام توحید خالص ہے؏

خرد کا نام جنوں رکھ دیا جنوں کا خرد

لوح محفوظ است پیش اولیا:

سوم، معلوم ہوا کہ اولیاے کرام کی بلند نظر لوح محفوظ کا بھی مطالعہ کر لیتی ہے۔ لوح محفوظ کیا علم الٰہی تک پہنچ جاتی ہے اسے وہ لوگ غور سے پڑھیں جن کے یہاں فخر موجوداتﷺ تک کو پیٹھ پیچھے کی خبر نہیں، نعوذ باللہ۔

اس سے زیادہ صاف و صریح اسی مکتوب کی وہ عبارت ہے جو ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے آپ نے تحریر فرمائی، سوال یہ پیدا ہوا کہ مکشوفات کونیہ جو

اولیاء اللہ سے صادر ہوتے ہیں کبھی ان میں بر بناے کشف خطا واقع ہو جاتی ہے، مثلاً خبر دے دے کہ فلاں انسان ایک ماہ بعد مر جائےگا، وطن واپس آجائےگا مگر ہوا ان میں سے کچھ بھی نہیں۔

اس کے دو جواب دیے؛ اول یہ کہ اس مکشوف اور مخبر عنہ (جس کے بارے میں خبر دی ہے) کا حصول چند شرائط سے مشروط تھا اور اس صاحب کشف کو اس وقت ان شرائط کی تفصیل نہ ہو سکی لہٰذا اپنے مطلقاً اس چیز کے حصول کا حکم لگا دیا۔ اب چوں کہ شرائط نہیں پائے گئے لہٰذا حصول نہیں ہوا اور دوسرا جواب خود آپ کے اصل الفاظ میں سنیے:

یا آنکہ گویم حکمے از احکام لوح محفوظ بر عارفے ظاہر شدہ کہ آں حکم فی نفسہ قابل محو و اثبات است و از قبیل قضاے مطلق امّا آں عارف را از تعلیق و قابلیت محو و بے خبر نہ۔

یعنی یا کہ میں کہتا ہوں کوئی حکم لوح محفوظ کے احکام سے عارف پر ظاہر ہوا کہ وہ حکم بذات خود محو و اثبات کے قابل ہے اور قضا معلق کے قبیل سے لیکن اس عارف کو تعلیق اور اس کے محو کی قابلیت کی خبر ہے۔

سبھی حضورﷺ کے محتاج ہیں:

سرکار علیہ السلام سب کے محتاج الیہ (حاجت روا) ہیں، ساری کائنات آپ کی محتاج ہے۔ حضرت مجدد قدس سرہ فرماتے ہیں:

ناچار ہمہ محتاج او باشند و بتوسط او فیوض و برکات اخذ نمایند علیہ و علیٰ آلہ الصلاۃ و السلام و بایں معنی اگر ہمہ را آل او گویند گنجائش دارد علیہ و علیٰ آلہ الصلاۃ و السلام کہ ہمہ پس رو او یند و بے توسط او کمال اخذ نمی نمایند چہ ہر گاہ وجود شان بے توسط وجود او صورت نہ بند و کمالات دیر خود کہ تابع وجود اند بے توسط او چہ صورت دارند علیہ و علیٰ

آلہ الصلاۃ و السلام بے محبوب رب العالمین چنیں باید۔ (مکتوب: ۱۲۱ِ دفتر سوم)

یعنی لامحالہ سب آپ کے محتاج ہوں گے اور آپ کے طفیل فیوض و برکات حاصل کریں گے اور اس معنی کے اعتبار سے اگر سب کو آپ کی آل کہا جائے تو گنجائش ہے کیوں کہ سب ان کے پیچھے چلنے والے ہیں اور آپ کے وسیلہ کے بغیر کمال حاصل نہیں کر سکتے کیوں کہ جب ان کا وجود آپ کے وجود کے بغیر متصور نہیں ہو سکتا ہے تو ان کے دیگر کمالات جو کہ وجود کے تابع ہیں آپ کے واسطے کے بغیر کیسے متصور ہوں گے علیہ و علیٰ آلہ الصلاۃ و السلام، ہاں رب العالمین کا محبوب ایسا ہی ہونا چاہیے۔

سردار محبوباں:

حضرت مجدد قدس سرہ فرماتے ہیں: رأس مرداں و رئیس محبوباں محمد رسول اللہ است صلی اللہ تعالیٰ علیہ و علیٰ آلہ و سلم کہ مقصود ذاتی و مدعو اولی ازیں دعوت اوست علیہ و علیٰ آلہ الصلاۃ و السلام و دیگراں را طفیل او طلبیدہ اند مراداں باشند یا مریداں لولاہ لما خلق اللہ الخلقَ و لما اظھر الربوبیۃ کما ورد

یعنی مریدوں اور محبوبوں کے سردار محمد رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ و علیٰ آلہ و سلم ہیں کیوں کہ اس دعوت سے مقصود ذاتی اور مدعو اولی وہی ہیں علیہ و علیٰ آلہ الصلاۃ و السلام اور دوسروں کو آپ کے طفیل طلب کیا ہے خواہ وہ مراد ہوں یا مرید جیسا کہ وارد ہوا ہے ‘‘اگر وہ نہ ہوتے تو اللہ تعالیٰ مخلوق کو پیدا نہ کرتا اور اپنی ربوبیت کا اظہار نہ کرتا۔