تصوف
خصائصِ نقشبندیہ
از Allama Afaque Ahmad Mujaddidi عليه الرحمة والرضوان
سلسلہ نقشبندیہ کی بنیادیں، عقائد اہل سنت، اولیاے کرام کی عظمت، لطائف خمسہ اور سیر و سلوک (حصہ اول و دوم)
۲۵۵ صفحات۲۲ ابواب
ابواب
۲۲- ۱عرض مرتبصفحات ۱۲–۲۳
- ۲ہر نعمت کا وسیلہصفحات ۲۳–۳۵
- ۳بشریتصفحات ۳۵–۴۵
- ۴جسم اقدس کا سایہ نہیں تھاصفحات ۴۵–۵۶
- ۵تقلید شخصی کا فائدہصفحات ۵۶–۶۷
- ۶محبت اولیاے کرامصفحات ۶۷–۷۸
- ۷سلاسل اربعہ کی حقانیتصفحات ۷۸–۸۸
- ۸توسط کے دو معنیصفحات ۸۸–۱۰۰
- ۹اتباع سنتصفحات ۱۰۰–۱۱۵
- ۱۰بدعتصفحات ۱۱۵–۱۲۷
- ۱۱نسبت نقشبندیہ فوق ہمہ نسبتہا استصفحات ۱۲۷–۱۴۱
- ۱۲نسبت نقشبندیہ کے فرائضصفحات ۱۴۱–۱۵۲
- ۱۳وصول الی اللہ کے چار طریقےصفحات ۱۵۲–۱۶۴
- ۱۴طریقۂ مراقبہصفحات ۱۶۴–۱۷۵
- ۱۵ہوش در دمصفحات ۱۷۵–۱۸۵
- ۱۶لطائف کی تفصیلصفحات ۱۸۵–۱۹۶
- ۱۷فائدہصفحات ۱۹۶–۲۰۶
- ۱۸لطائف عالم خلق کے حالاتصفحات ۲۰۶–۲۱۷
- ۱۹ولایت علیاصفحات ۲۱۷–۲۲۸
- ۲۰کمالات نبوت کا حصول و ہبی ہےصفحات ۲۲۸–۲۳۸
- ۲۱حقیقت ابراہیمیصفحات ۲۳۸–۲۴۹
- ۲۲صباحت و ملاحتصفحات ۲۴۹–۲۵۵
مکمل فہرست مضامین
۱۷۷- عرض مرتب۱۲
- پہلا باب۱۴
- نقشبندیت کی بنیاد دو چیزوں پر ہے۱۴
- حیات انبیاے کرام علیہم الصلوات و التسلیمات۱۷
- ایک وقت میں متعدد مقامات پر جلوہ گر ہونا۱۹
- ہر نعمت کا وسیلہ۲۳
- امداد کرنا۲۵
- کائنات حضورﷺ کے نور سے پیدا ہوئی۲۸
- حسن محمدی منزہ عن الشریک ہے۳۰
- بے مثل شان محبوبی۳۳
- بشریت۳۵
- جملہ حقائق کی اصل۳۹
- علم غیب۴۲
- جسم اقدس کا سایہ نہیں تھا۴۵
- تقلید کا وجوب۴۷
- امام اعظم کی شان اجتہاد کی بلندی۴۹
- مذہب حنفی کی نورانیت۵۰
- تقلید شخصی کا فائدہ۵۶
- عرس۵۶
- ایصال ثواب۶۰
- عبادات نافلہ کا ثواب دوسروں کو بخش دینا بہتر ہے۶۰
- کھانا وغیرہ پہنچانا۶۱
- ایصال ثواب کے بارے میں کشف۶۲
- ایصال ثواب میں ادب۶۳
- عظمت اولیاے کرام۶۶
- محبت اولیاے کرام۶۷
- کعبہ اولیاے کرام کی زیارت کے لیے آتا ہے۶۹
- صحبت اولیا کی اہمیت۷۰
- اولیاے کرام کی وسعت نظر۷۰
- دفع عذاب۷۱
- بزرگوں سے مدد مانگنا۷۳
- اولیاے کرام کے تبرکات۷۴
- سادات کرام کی عظمت و محبت۷۷
- سلاسل اربعہ کی حقانیت۷۹
- سلاسل کی عظمت و نورانیت۷۹
- مشائخ سلاسل کی بلند شان۸۱
- نسبت معنوی بدعت نہیں۸۳
- اولیاے کرام کی چشم کرم سے تقدیر بدل جاتی ہے۸۴
- لوح محفوظ است پیش اولیا۸۶
- سبھی حضورﷺ کے محتاج ہیں۸۷
- سردار محبوباں۸۸
- توسط کے دو معنی۸۹
- معراج جسمانی۹۰
- تصور شیخ۹۱
- حالت نماز میں تصور۹۲
- تیجہ، دسواں، چالیسواں وغیرہ۹۴
- قبلۂ عالم حضرت خواجہ احمد سعید قدس سرہ۹۵
- اتباع سنت۱۰۱
- جو کچھ ملا اتباع سنت کے ذریعہ ملا۱۰۳
- عدد طاق کی رعایت۱۰۳
- کمال اتباع۱۰۴
- سب سے بڑا مجاہدہ سنت پر عمل ہے۱۰۵
- ہر عمل میں صرف اتباع سنت کی نیت۱۰۸
- بدعت۱۱۵
- دوسرا باب۱۲۱
- اسباب قرب الٰہی۱۲۱
- موانع قرب۱۲۱
- ایک وہم کا ازالہ۱۲۳
- اقرب طرق۱۲۵
- یہ طریقہ البتہ (یقیناً) موصل ہے۱۲۷
- نسبت نقشبندیہ فوق ہمہ نسبتہا است۱۲۷
- ابتدا میں حلاوت و وجدان اور انتہا میں بے مزگی و فقدان۱۲۸
- انداراج نہایت در بدایت۱۲۹
- نقشبندی مبتدی اور دیگر مبتدی میں فرق۱۳۰
- نقشبندی منتہی اور دیگر طریق کے منتہی میں فرق۱۳۱
- نسبت نقشبندیہ کی انتہا۱۳۲
- تیسری توجیہ۱۳۲
- سفر در وطن۱۳۳
- خلوت در انجمن۱۳۳
- تقدم جذبہ۱۳۳
- پیری مریدی بتعلیم و تعلم۱۳۴
- احکام شرعیہ پر عمل نفس کے ساتھ بڑا جہاد ہے۱۳۴
- تسلیک طالب مربوط بہ تصرف شیخ مقتدا۱۳۴
- افادہ و استفادہ خاموشی سے ہے۱۳۵
- طریقہ نقشبندیہ وساوس سے محفوظ ہے۱۳۵
- نسبت نقشبندیہ۱۳۵
- حضرت ابو بکر صدیقرضی اللہ عنہ سے منسوب ہونے کی وجہ۱۳۶
- حضرت خواجہ نقشبند قدس سرہ سے منسوب ہونے کی وجہ۱۳۶
- نسبت نقشبندیہ کے فرائض۱۴۱
- چار چیزوں کا نام نسبت نقشبندیہ ہے۱۴۲
- حضور دو قسم پر ہے۱۴۲
- طریقہ کی درویشی دو چیزوں سے مشروط ہے۱۴۳
- کشف کی دو قسمیں ہیں۱۴۳
- وَلایت اور وِلایت۱۴۶
- نسبت نقشبندیہ انعکاسی اور حبی ہے۱۴۷
- القاب نسبت۱۴۹
- نسبت نقشبندیہ اور مجددیہ میں فرق۱۵۱
- وصول الی اللہ کے چار طریقے۱۵۲
- ذکر کی اہمیت۱۵۲
- ذکر کی قسمیں۱۵۴
- ذکر خفی قلبی و سری و جہری۱۵۴
- ذکر کی دو قسمیں۱۵۶
- ذکر قلبی سے ابتدا کی وجہ۱۵۶
- رابطہ۱۵۶
- استحضار رابطہ کے چھ اقسام۱۵۹
- وصال یافتہ بزرگوں کے ساتھ رابطہ کی کیفیت۱۶۰
- آداب رابطہ۱۶۲
- مراقبہ۱۶۳
- طریقۂ مراقبہ۱۶۴
- فوائد مراقبہ۱۶۵
- صحبت شیخ کامل۱۶۵
- سفر در وطن۱۶۶
- خلوت در انجمن۱۶۷
- یاد کرد۱۶۹
- باز گشت۱۷۰
- نگاہ داشت۱۷۱
- یاد داشت۱۷۱
- وقوف زمانی۱۷۲
- وقوف عددی۱۷۳
- وقوف قلبی۱۷۳
- کلمات نقشبندیہ۱۷۴
- ہوش در دم۱۷۵
- نظر بر قدم۱۷۵
- نظر بر قدم کے معانی امام ربّانی کی زبانی۱۷۷
- سلوک مجددی۱۷۸
- خصائص طریقہ احمدیہ۱۷۹
- پہلی خصوصیت۱۷۹
- دائرہ امکان۱۸۰
- عالم امر و خلق کی وجہ تسمیہ۱۸۲
- امر و خلق کے کمالات۱۸۲
- افضلیت کے چار وجوہ۱۸۳
- لطائف کی تفصیل۱۸۵
- لطیفۂ قلب (۱)۱۸۵
- قلب کے دو اطلاق۱۸۶
- دونوں میں وجوہ فرق۱۸۸
- قلب شش جہت۱۸۹
- قلبِ قلب کے کمالات۱۹۰
- لطیفۂ روح (۲)۱۹۲
- لطیفۂ سِر (۳)۱۹۲
- لطیفۂ خفی (۴)۱۹۲
- لطیفۂ اخفیٰ (۵)۱۹۲
- ولایت کے پانچ درجات۱۹۳
- لطائف کی تسلیک۱۹۵
- فائدہ۱۹۶
- مدت تسلیک۱۹۶
- لطائف کی تہذیب۱۹۷
- محمدی المشرب اور دیگر میں فرق۱۹۹
- پانچ فائدے۱۹۹
- رجوع کی فضیلت۲۰۱
- بعد رجوع لطائف کی کیفیت۲۰۲
- روح کی تفصیلات۲۰۴
- ایک حدیث کا معنی۲۰۶
- سرکشی کی صورتیں۲۰۶
- سرکشی کی بقا سے فائدہ۲۰۶
- بعد عروج روح کی کیفیت۲۰۷
- لطائف عالم خلق کے حالات۲۰۷
- طریق احمدیہ کی دوسری خصوصیت۲۰۹
- (تین ولایتیں) ولایت صغریٰ (۱)۲۰۹
- ظلال۲۱۰
- کمالات ولایت صغریٰ۲۱۱
- اقسام فنا۲۱۲
- اجازت کی لیاقت۲۱۲
- لطائف کی فنا بقا۲۱۳
- ولایت کبریٰ(۲)۲۱۵
- کمالات ولایت کبریٰ۲۱۶
- ولایت علیا (۳)۲۱۸
- ولایت علیا کے کمالات۲۲۰
- ولایت سہ گانہ میں وجوہ فرق۲۲۱
- تیسری خصوصیت۲۲۳
- قرب نبوت اور قرب ولایت۲۲۳
- دونوں قربوں میں فرق۲۲۴
- کمالات نبوت تک پہنچانے والے راستے۲۲۷
- کمالات نبوت کا حصول وہبی ہے۲۲۹
- کمالات نبوت۲۳۱
- چوتھی خصوصیت۲۳۳
- حقیقت کعبہ (۱)۲۳۳
- حقیقت قرآن (۲)۲۳۵
- حقیقت صلاۃ (۳)۲۳۶
- حقائق انبیاے کرام۲۳۹
- حقیقت ابراہیمی (۴)۲۴۰
- حقیقت موسوی (۵)۲۴۰
- حقیقت محمدی (۶)۲۴۰
- حقیقت احمدی (۷)۲۴۲
- اسرار خلت۲۴۲
- خلیل و حبیب علیہما السلام کے مراتب کا فرق۲۴۶
- صباحت و ملاحت۲۵۰
- (حضورﷺ کے دو نام) محمد و احمد۲۵۳