باب ۱۳ از ۲۲صفحات ۱۵۲–۱۶۴
وصول الی اللہ کے چار طریقے
نقشبندی بزرگوں کے یہاں وصول الی اللہ کے چار طریقے ہیں؛ ذکر، رابطہ، مراقبہ، صحبت شیخ کامل۔
ذکر کی اہمیت:
مظہر کمالات احمدی حضرت خواجہ محمد معصوم سرہندی قدس سرہ فرماتے ہیں: ‘‘آدمی جب تک غیر حق کے ساتھ گرفتار ہے اور اس کا سینہ غیر اللہ کے نقوش سے پاک و صاف نہیں ہے اس وقت تک مرض باطن میں گرفتار ہے اور حق سبحانہ
کے قرب سے دور اور مہجور ہے اس تھوڑی فرصت میں اس مرض کو زائل کرنا سب سے اہم کام ہے اور اس مہلت قلیل میں اس معنوی بیماری کا علاج سب سے بڑا مقصد ہے اس مرض کا ازالہ ذکر کثیر سے متعلق قرار دیا گیا ہے اور ماسوا کی گندگی سے باطن کی طہارت و پاکی اللہ تعالیٰ کی یاد سے مربوط ہے۔
یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا اذْکُرُوا اللہَ ذِکْرًا کَثِیۡرًاوَّ سَبِّحُوۡہُ بُکْرَۃً وَّ اَصِیۡلًا
ذکر کثیر اس وقت متحقق ہوتا ہے جب کہ اس کے بعد غفلت نہ ہو جو کہ اس راہ میں زہر قاتل ہے اور مرض باطن کی مددگار ، ایک بزرگ کا قول ہے:
لمْ اقبلْ مُقبلٌ علی اللہ مدّۃَ عمرہ ثم اعرضَ عنہ لحظۃً فکان مافاتہ اکثر ممّا نالہ
یعنی اگر پوری عمر کوئی خداے تعالیٰ کی طرف متوجہ رہا پھر ایک لحظہ کے لیے غافل ہو گیا تو جو فوت ہو گیا (ایک لحظہ غفلت میں) اس سے زیادہ ہوگا جو اس نے (پوری عمر ذکر میں بسر کرنے سے) پایا۔’’
اس ذکر کا کمال اس وقت میسر آتا ہے جب کہ مذکور کا ماسوا سینے سے کوچ کر جائے اور تمام تعلقات سے پاک و صاف ہو جائے نہ دنیا کی خوشی سے شاداں ہو اور نہ اس کے غم سے غمگین اس حد تک کہ اگر ماسوا کو بتکلف بھی حاضر کرے تو میسر نہ آئے اس نسیان کی وجہ سے جو کہ باطن کو ماسواے حق سے حاصل ہو گئی ہے جب تک اس طرح کی فراموشی اور نسیان نہیں اس وقت تک اللہ تعالیٰ کا ذکر ماسوا کی یاد کے ساتھ مخلوط ہے اور جس یاد میں غیر حق شریک ہے وہ اس پاک بارگاہ کے لائق نہیں ہے۔
اَلَا لِلہِ الدِّیۡنُ الْخَالِصُ
اور اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: وَاذْکُرۡ رَّبَّکَ اِذَا نَسِیۡتَ
ذکر کی قسمیں:
معلوم ہونا چاہیے کہ ذکر زبان سے بھی ہوتا ہے اور قلب سے بھی۔ افضل وہ ہے جو بیک وقت زبان و قلب دونوں سے ہو اور اگر ایک پر اقتصار کرے تو ذکر قلب افضل ہے۔ ذکر لسانی اور قلبی دونوں ہی اہل طریقت میں رائج ہیں مگر مشائخ نقشبندیہ کے یہاں معتبر ذکر خفی قلبی ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ معمولات طریقہ کی حیثیت سے یہ ذکر معتبر ہے ورنہ مسنون دعائیں وغیرہ یہ بزرگوار بھی زبان سے ہی پڑھتے ہیں۔
ذکر خفی قلبی و سری و جہری:
بعض کتابوں میں میں نے دیکھا ہے کہ ذکر خفی قلبی وہ ہے جسے وہ فرشتے بھی نہ سن پائیں جو ہمیشہ ساتھ رہتے ہیں۔ حضرت خواجہ نقشبند قدس سرہ فرماتے ہیں کہ ذکر خفی کی حقیقت وقوف قلبی سے میسر ہو سکتی ہے اور وہ مقام حاصل ہوتا کہ خود دل بھی نہیں جانتا ہے کہ وہ ذکر میں مشغول ہے، اکابر طریقت کا ارشاد ہے کہ قلب کو اگر اس کا علم باقی رہے کہ وہ ذکر کر رہا ہے (یعنی محجوب نہ ہو) تو جان لے کہ وہ ابھی غافل ہے۔
خیال رہے کہ ذکر قلبی ہمیشہ خفی یعنی غیر جہری ہوگا اور ذکر آہستہ اور پست آواز میں کیا جائے تو ذکر سرّی کہلاتا ہے اور اگر بلند آواز سے ہو تو ذکر جہری ہے۔
حضرت خواجہ عبد الخالق غجددانی قدس سرہ سے قبل اس سلسلے کے مشائخ ذکر جہری کرتے تھے۔ حضرت خواجہ قدس سرہ کو حضرت خضر علیہ السلام نے ذکر خفی کی تعلیم دی۔ حضرت خواجہ قدس سرہ کے بعد اس سلسلے میں ذکر خفی ہی رہا یہاں تک کہ حضرت خواجہ محمود فغنوی قدس سرہ نے بعض مصلحتوں کی رو سے طالبین کو ذکر جہری کا حکم دیا۔
حضرت خواجہ محمود قدس سرہ پر بعض لوگوں نے اعتراض بھی کیا کہ آپ اپنے شیخ کے مطابق ذکر نہیں کرتے ہیں تو آپ نے جواباً فرمایا کہ میرے شیخ محمد عارف دیوگری قدس سرہ نے اخیر وقت میں ذکر جہر کی اجازت عطا فرما دی تھی۔ علماے وقت کی ایک جماعت نے آپ سے پوچھا کہ آپ ذکر جہری کیوں کرتے ہیں؟ آپ منے فرمایا کہ سویا بیدار ہو، غافل ہوشیار ہو اور راستہ پر آجائے اور شریعت و طریقت کی استقامت حاصل کر لے اور توبہ و انابت کی حقیقت کی طرف جوہر ایک نیکی اور نیک بختی کی اصل ہے، رغبت کرے۔’’
حضرت خواجہ محمود قدس سرہ کے بعد مشائخ سلسلہ ذکر خفی کے ساتھ ساتھ ذکر جہری بھی کرتے تھے یہاں تک کہ امام طریقت خواجہ بزرگ حضرت بہاء الدین نقشبند قدس اللہ تعالیٰ اسرارہ عالم ظہور میں جلوہ گر ہوئے۔ آپ چوں کہ معاملات میں حضرت خواجہ عبد الخالق غجددانی قدس سرہ کی طرف سے عزیمت پر عمل کرنے کے مامور تھے لہٰذا آپ نے ذکر خفی اختیار فرمایا اور آج تک وہی معمول ہے۔
ذکر قلبی:
محقق علی الاطلاق حضرت شیخ عبد الحق محدث دہلوی قدس سرہ شرح سفر السعادت میں فرماتے ہیں ذکر قلبی سے مراد حق جل جلالہ کی طرف توجہ اور حضور ہے ذکر سے تلفظ کے بغیر اور اس کا تخیل اس طور پر کہ اس کے صحیفہ سے اغیار کے نقوش یکسر مٹ جائیں اور باطن کا قبلہ سواے احدیت حق کے اور کچھ نہ رہے۔ صوفیہ کرام نے جس کو ذکر حقیقی اور صافی کہا ہے وہ یہی ہے اسی کو سلسلہ عالیہ نقشبندیہ میں ذکر خفی، وقوف قلبی توجہ بوجہ خاص اور شہود، وصول، وجود کہتے ہیں (آگے فرماتے ہیں) جب یہ نسبت حاصل ہوتی ہے پس اگر ایک لمحہ اور گھڑی بھر کے لیے ہو جب
کہ بندہ غیر حق سے منقطع ہے یعنی ابتدائی مرحلوں میں ہو تو ایسی صورت میں جب وہ کیفیت حاصل ہوگی تو اس وقت میں وہ خدا سے واصل ہے اور جب یہی نسبت ملکہ کی صورت اختیار کر لیتی ہے اور دوام پذیر ہو جاتی ہے تو سالک منزل فنا میں پہنچ جاتا ہے۔
ذکر کی دو قسمیں:
نقشبندی سادات میں جو ذکر معمول ہے وہ دو قسم پر ہے؛ اول ذکر اسم ذات، دوم ذکر نفی و اثبات، سلوک مجددیہ میں ان کی تفصیل آئےگی۔
ذکر قلبی سے ابتدا کی وجہ:
معلوم ہونا چاہیے کہ اکثر صوفیہ کرام رحمہم اللہ تعالیٰ کے نزدیک سالک جب تک علمی مسافت کو سلوک اور جذبہ کی دونوں راہوں سے طے نہ کر لے مرتبہ کمال و تکمیل کو نہیں پہنچتا ہے۔ سلوک کے معنی ہیں جانا اور جذبہ کے معنی کھینچنا اور سلوک سالک کا محل ہے اور جذبہ شیخ کا سلوک سے قالب کا تصفیہ ہوتا ہے اور جذبہ سے قلب اور دیگر لطائف کی تنویر ہوتی ہے۔ نقشبندیہ طریقہ میں چوں کہ جذب مقدم ہے سلوک پر جیسا کہ گذر چکا اور دیگر طریقوں میں جذبہ پر سلوک مقدم ہے اسی لیے نقشبندی سادات ذکر کا آغاز قلب اور دیگر لطائف سے کرتے ہیں جو کہ عالم امر سے ہیں اور لسان (زبان) چوں کہ اجزاے قالب سے ہے اس لیے جن طرق میں سلوک مقدم ہے ان کے یہاں ذکر لسانی ذکر قلبی پر مقدم ہے جذبہ کا منشا حضرت ابو بکر صدیقرضی اللہ عنہ ہیں اور سلوک کا حضرت علیرضی اللہ عنہ۔
رابطہ:
یعنی شیخ کامل کے ساتھ اپنے قلب کو مربوط کرنا اور کامل اعتقاد ہونا۔ رابطہ کی شرط یہ ہے کہ شیخ ایسا کامل اور بلند درجہ والا ہو کہ مقام مشاہدہ سے واصل اور تجلیات
ذاتیہ سے نورانی نیز نہایت قوی توجہ رکھتا ہو اور یادداشت کی دائمی مشق رکھتا ہو جس کے دیکھنے سے ذکر کا فائدہ حاصل ہو۔ جب ایسے شیخ کی صحبت نصیب ہو تو اس کو بہت غنیمت سمجھے اور مرید کو چاہیے کہ اپنی ذات کو ہر چیز کے تصور و خیال سے خالی کر ڈالے سواے صحبت شیخ کے، اور اس فیض کا منتظر رہے جو شیخ کی جانب سے آرہا ہے ، آنکھیں خواہ بند رکھے یا نہ، پھر جب کچھ حاصل ہو اس کی حفاظت کرے وصول الی اللہ کی یہ راہ سب راہوں سے قریب تر اور موصل تر اور ذکر و مراقبہ سے بہتر ہے کیوں کہ مذکورہ بالا اوصاف کے حامل شیخ کی صحبت میں مرید کا باطن ماسوا کے نقوش سے پاک و صاف اور شیخ کی ہمت سے دل جناب کبریا کی جانب متوجہ ہو جاتا ہے، ہاں تاثیر کا ظہور سعی و اخلاص کے مطابق ہوتا ہے۔
مرید کو چاہیے کہ اس سلسلہ میں اتنا ملکہ پیدا کرے کہ جب چاہے اور توجہ کرے شیخ کی صورت حاضر ہو جائے اسی طرح سے جب رابطہ کا غلبہ ہوتا ہے تو مرید اپنے آپ کو عین شیخ دیکھتا ہے اور اس کے لباس و صفت سے موصوف پاتا ہے، جدھر دیکھتا ہے شیخ ہی شیخ نظر آتا ہے اسی کا نام فنا فی الشیخ ہے۔
حضرت خواجہ محمد معصوم سرہندی قدس سرہ فرماتے ہیں کہ شیخ کی صورت جب جب اس طرح مرید کے ساتھ رہے تو اس کو نسبت رابطہ کہتے ہیں ہمارے بزرگوں کا قول ہے:
سایہ رہبر بہ است از ذکر حق
اس میں اسی نسبت کی جانب اشارہ ہے یعنی نسبت رابطہ کی حفاظت مطلب یہ ہے کہ طالب مبتدی کو چوں کہ حق سبحانہ کے ساتھ مناسبت زیادہ نہیں ہوتی ہے
..............
۔رہبر کا سایہ ذکر سے بہتر ہے۔
اس لیے ذکر سے زیادہ مفید اس کے لیے تصور شیخ ہے، مرید کو تصور شیخ ذکر وغیرہ سے زیادہ مفید نفع بخش ہے اور اس کا دوام مرید کے لیے نعمت عظمیٰ ہے گویا مرید ہمہ وقت شیخ کے حضور میں ہے نسبت مذکورہ سے اخذ فیوض میں بڑی آسانی ہو جاتی ہے نیز اس کا حصول شیخ کے ساتھ مناسبت تامہ کی نشان دہی کرتا ہے۔
تاثیر (اثر قبول کرنے) کا ظہور مناسبت پر مبنی ہے جتنی مناسبت شیخ سے زیادہ ہوگی اتنی ہی تاثیر زیادہ ہوگی۔ خیال رہے کہ تاثیر میں جمعیت دل کا حصول معتبر ہے اور جناب الٰہی کی جانب توجہ اور انجذاب قلبی ہے، ہاں گرمی اور حرارت کا ظہور اگرچہ مفید اور ذوق افزا ہے مگر قرن اول میں نہیں تھا۔
خیال رہے کہ شیخ میزاب (پرنالہ) کی مثل ہے جس کے بحر محیط سے قلب مرید پر فیض نازل ہوتا ہے۔ لہٰذا اگر رابطہ میں کچھ کمی ہوگی تو وصول بہت مشکل ہے۔ حضرت خواجہ محمد معصوم قدس سرہ سے پوچھا گیا کہ فنا فی الشیخ کے بغیر فنا فی اللہ حاصل ہو سکتی ہے؟ آپ نے فرمایا: شیخ فیوض کا واسطہ ہے جب تک واسطہ درست نہ ہوگا مطلوب تک نہ پہنچےگا۔ لہٰذا فنا فی الشیخ کے بغیر فنا فی اللہ مشکل ہے۔
مرید کو چاہیے کہ اپنے ارادہ کو شیخ کے ارادوں کے تابع رکھے اور اپنےآپ کو مکمل طور پر اس طرح شیخ کے حوالے کر دے جس طرح مردہ غسّال کے حوالے ہوتا ہے اور یہ چیز تمام طرق خصوصاً نقشبندیہ میں اشد ضروری ہے کیوں کہ اس میں افادہ اور استفادہ انعکاسی اور انصباغی ہے اور مدار کار صحبت ہے۔ پس وجہ مناسبت شیخ مقتدا کے ساتھ جتنی زیادہ ہوگی اتنی ہی صحبت کی تاثیر زیادہ اور اخذ فیوض کی راہ کشادہ تر ہوگی۔
معلوم ہو نا چاہیے کہ صورت شیخ کے احضار (حاضر کرنے) کے وقت اگر سکر و غیبت طاری ہو تو صورت کی طرف التفات چھوڑ دے اور اسی حال کی طرف متوجہ ہو
استحضار رابطہ کے اقسام:
جاننا چاہیے کہ طریقہ نقشبندیہ میں اویسیت غالب ہے اس لیے سالک گھر بیٹھے بزرگوں سے استفادہ کر سکتا ہے خواہ شیخ اور وہ بزرگ جن سے فیض لے رہا ہے دنیا میں موجود ہوں یا وصال کر چکے ہوں۔ رابطہ کی متعدد صورتیں اور اقسام ہیں؛ ہر ایک سے فیض لینے کی تمام صورتیں براے نفع عام تفصیل سے درج کرتے ہیں:
پہلی قسم:
یہ ہے کہ مرید شیخ کامل کی صورت اپنی دونوں آنکھوں کے درمیان تصور کرے اور اس صورت میں شیخ کی روحانیت کی جانب متوجہ ہو، اسی حالت پر برابر قائم رہے یہاں تک کہ غیبت یا جذبہ کا اثر حاصل ہو جائے۔
دوسری قسم:
یہ ہے کہ صورت شیخ کا تصور مرید اپنے دائیں یا بائیں جانب کرے، پھر اس میں اس کی روحانیت کی طرف متوجہ ہو یہاں تک کہ مذکورہ بالا کیفیت حاصل ہو۔
رابطہ کی مذکورہ دونوں قسموں میں غیبت یا اثر جذبہ حاصل ہونے کے بعد رابطہ ترک کر دے اور اسی حال کی طرف متوجہ ہو جائے جو حاصل ہوا ہے یعنی غیبت اور اثر جذبہ۔ اور جب جب یہ رابطہ سے حاصل شدہ امر زائل ہو پھر رابطہ میں مشغول ہو جائے یہاں تک کہ وہی حال پھر واپس آجائے اسی طرح رابطہ پر مداومت کرتا رہے یہاں تک کہ اپنی ذات و صفات کو صورت شیخ میں فنا کر دے جب یہ دولت حاصل ہو جائے گی تو روحانیت شیخ کو اس کے کمالات کے ساتھ اس صورت میں مشاہدہ کرےگا کیوں کہ کمالات روحانیت سے جدا نہیں ہوتے ہیں۔ پس روحانیت شیخ کی تربیت اس کو اللہ تعالیٰ سے واصل کر دےگی اور یہ واصلین کاملین سے ہو
جائےگا۔ رابطہ سے مرید شیخ سے تربیت پاتا رہےگا اگرچہ شیخ مغرب میں اور یہ مشرق میں ہو۔
تیسری قسم:
استحضار رابطہ کی تیسری صورت یہ ہے کہ صورت شیخ کا تصور اپنی پیشانی میں خیال کرے اور صورت کو وسط پیشانی میں ثابت کرے، یہ قسم پہلی دو قسموں کی بنسبت خیالات کے وضع میں زیادہ قوی اور مفید ہے۔
چوتھی قسم:
یہ ہے کہ شیخ کی صورت وسط قلب میں تصور کرے۔ یہ طریقہ قلبی خطرات کے دفع کرنے میں زیادہ مفید ہے۔
پانچویں قسم:
چاہیے کہ یہی صورت شیخ کو اپنی پیشانی میں خیال کرے، پھر صورت کے وسط قلب میں نزول کرے اور یہ تصور کرے کہ ہمارا قلب ایک وسیع دہلیز ہے جہاں تک ہو سکے خطرات یکسر ختم کرے۔ مذکورہ بالا تمام اقسام سے زیادہ مفید اور نفع بخش یہ صورت ہے اور سخت بھی۔
چھٹی قسم:
یہ ہے کہ مرید اپنی نفی کرے اور شیخ کو ثابت کرے۔ یہ قسم بلیات کے دفع کے لیے بہت مفید ہے۔
وصال یافتہ بزرگوں کے ساتھ رابطہ کی کیفیت:
حضور سیدی و سندی مرشدی مولائی حضرت مولانا احمد رضا خاں صاحب متع اللہ المسلمین بطول بقائہ کا طریقہ یہ ہے کہ جب کسی بزرگ کی روحانیت سے استفادہ کرتے
ہیں تو پہلے چند مرتبہ سورۂ اخلاص شریف مع اول و آخر درود شریف پڑھ کر ان بزرگ کی بارگاہ میں ایصال ثواب کرتے ہیں، پھر متوجہ ہوتے ہیں۔ اس کا طریقہ یہ ہے کہ سالک کو چاہیے کہ اپنے آپ کو تمام طبعی اور جسمانی علائق سے خالی کرے اور اپنےقلب کو جمیع خطرات اور علوم و نقوش سے پاک کرے، پھر ان بزرگ کی روحانیت کا تصور کرے بایں طور کہ وہ ایسا نور ہے جو کیفیات محسوسہ سے مجرد ہے، پھر اس نور کو قلب میں محفوظ کر لے یہاں تک کہ ان بزرگ کے فیوضات سے کوئی فیض حاصل ہو یا احوال میں سے کوئی حال کیوں کہ کاملین کی روحانیت منبع فیوضات ہے تو جو شخص منبع کو قلب میں داخل کرےگا لامحالہ فیض پائےگا۔
خیال رہے یہ طریقہ اس وقت ہے جب کہ ان بزرگ کی قبر سے دور ہو اور اگر صاحب قبر سے رابطہ قبر کے پاس ہو تو پہلے صاحب قبر کو سلام کرے، پھر قدموں کے پاس یا دائیں طرف باادب کھڑا ہو کر فاتحہ پڑھ کر ایصال ثواب کرے، اس کے بعد قبر سے تھوڑے فاصلے پر بیٹھ جائے، ہمارے حضرت دام ظلہ سینہ کے مقابل عموماً بیٹھتے ہیں، پھر صاحب قبر کی روحانیت کی طرف بایں طور متوجہ ہو کہ صاحب قبر سے فیض ہمارے قلب میں آرہا ہے مذکورہ بالا طریقے کے مطابق۔
الحاصل رابطہ فیوضات حاصل کرنے کا اتنا عمدہ طریقہ ہے کہ صاحب فیض کہیں ہو اور یہ کہیں ہر جگہ فیض یاب ہو سکتا ہے۔ پس کوئی شخص کہیں سے بھی اگر سرور کائناتﷺ کی طرف بطریق مذکور متوجہ ہوگا فیض پائےگا۔ اسی طرح اولیاے کرام سے بھی۔ پس رابطہ بغیر توجہ کے بھی استفاضہ میں کافی ہے اور اگر توجہ بھی ہو تو نورٌ علیٰ نور۔ ہاں مدار قوت رابطہ پر ہے، لہٰذا جو شخص اس پر دوام اختیار کرتا ہے اس کو تمام احوال طریقت اور کمالات حقیقت حاصل ہو جاتے ہیں اور جس کا رابطہ صحیح نہیں اس کے استفاضہ کا رشتہ منقطع رہےگا نہ اس کو سلوک حاصل ہوں
گے اور نہ ہی اسرار وصول ظاہر ہوں گے۔ (البہجۃ السنیہ)
آداب رابطہ:
یہ ہیں کہ مرید یہ اعتقاد رکھے کہ شیخ کے کمالات اس کی روحانیت سے جدا نہیں ہیں اور اس کی روحانیت کسی جگہ سے خاص نہیں ہیں۔ پس جس جگہ اس کا تصور کرےگا روحانیت حاضر ہوگی نیز یہ اعتقاد رکھے کہ شیخ کی روحانیت کے تصرفات در حقیقت حضرت حق تعالیٰ کے تصرفات ہیں اور صحبت شیخ کی حفاطت کرے اور اس کے آداب کی رعایت ہر حال میں رکھے نیز جب تک رابطہ کاملاً نہ ہو تو ایسی صورت میں اگر بعض احوال بھی ہو جائیں پھر بھی رابطہ ترک نہ کرے کیوں کہ اگر رابطہ ترک کرےگا تو وہ حال جدا ہو جائےگا کیوں کہ شیخ کا حال اس کے پاس گویا بطور عاریت ہے نیز تمام اوقات میں رابطہ پر مداومت بہت ضروری ہے ۔
تنبیہ:
یہ جاننا بہت ضروری ہے کہ جس شیخ کا رابطہ درست ہے وہ وہ ہے جس کو فنا اتم اور بقاے اکمل حاصل ہو اور اس زمانہ میں ایسے نادر الوجود بلکہ کالعدم ہیں چوں کہ سلسلہ نقشبندیہ میں نہایت بدایت میں درج ہے اس لیے بعض سالکین کو ابتدائی منزلوں میں فنا سے قبل وہ احوال حاصل ہو جاتے ہیں تو وہ انھی کو اعلیٰ درجہ کا کمال سمجھ لیتے ہیں اور اپنے مریدین کو رابطہ کا حکم دے دیتے ہیں اس میں پیر و مرید دونوں ہی کے لیے عظیم خطرہ ہے۔
فائدہ:
مرید رابطہ کا اس وقت محتاج ہے جب کہ بلاواسطہ اللہ تعالیٰ سے فیض حاصل کرنے پر قادر نہ ہو۔ پس اگر اس لائق ہو جائے تو رابطہ ترک کر دےگا کیوں کہ اس وقت رابطہ میں مشغول ہونا یہ ترقی سے تنزل کی طرف آنا ہے اور مرتبہ حجاب کو
شہود پر ترجیح دینا ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ سے اعراض ہے۔ ہاں شیخ کامل کی صحبت و نسبت ترک نہ کرے کیوں کہ حفظ صحبت و نسبت مشاہدہ کو زیادہ کرتا ہے اور مقام انس و محادثہ کے قریب کرتا ہے۔
مراقبہ:
لغوی اعتبار سے یہ لفظ یا تو رقابت بمعنی محافظت یا رقوبت بمعنی انتظار سے ماخوذ ہے۔ تمام حواس ظاہرہ و باطنہ کو جمع کرکے مطلوب کے انتظار میں بیٹھنے کا نام مراقبہ ہے، سلسلہ عالیہ نقشبندیہ میں اس کی ترکیب یوں ہے کہ آنکھیں بند کرکے لطائف عشرہ میں سے کسی لطیفہ کی طرف متوجہ ہو جائے اور مبدأ فیض سے اس لطیفہ پر فیض کے آنے کا انتظار کرے اور اسی میں مستغرق رہے۔
امام الہند حضرت شاہ ولی اللہ صاحب محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ کی تشریح کے مطابق مراقبہ کی ایسی تعریف جو اس کی تمام اقسام کو شامل ہو یہ ہے:
‘‘قوت دراکہ کے توسط سے اللہ تعالیٰ کی صفات کی جانب توجہ تام کے ساتھ متوجہ ہونا یا جسم سے روح کے فراق کی حالت کی جانب یا اس کے مثل یہاں تک کہ عقل و فہم و خیال و تمام حواس اسی توجہ کے تابع ہو جائیں اور جو چیز محسوس نہیں ہے وہ محسوس کے منزلہ میں ہو جائے۔’’
حضرت غوث عالم سیدنا شاہ غلام علی دہلوی قدس سرہ فرماتے ہیں: دل کے خطرات و وساوس سے نگہبانی کرنا اور ذکر اور رابطہ کے توسط کے بغیر فیض الٰہی کی نگرانی کرنے کا نام مراقبہ ہے۔ یہ کیفیت اس طور پر کہ بنیاد تام و شکست تمام کے ساتھ ذات الٰہی کی طرف متوجہ رہے یہاں تک کہ توجہ الی اللہ بغیر مزاحمت خواطر دل کا ملکہ ہو جائے۔’’
حضرت خواجہ جہاں محمد بہاء الدین نقشبند قدس سرہ فرماتے ہیں کہ مراقبہ
کے معنی ہیں نسیانُ رویۃ المخلوق بدوام النظر الی الخالق یعنی خالق کی طرف ہر وقت دیکھنے رہنے کی وجہ سے مخلوق کی دید کو بالکل بھول جانا۔ آپ فرماتے ہیں: مراقبہ پر مداومت نادر چیز ہے جس کو اس گروہ کے بہت کم لوگوں نے پایا ہے میں نے اس کا طریقہ معلوم کر لیا ہے اور وہ ہے نفس امارہ کی مخالفت اور سنت سنیہ کی اتباع کرنا۔
حضرت خواجہ قدس سرہ نے جو دوام مراقبہ کا طریقہ بتایا ہے یقیناً بڑی دقت نظر پر مبنی ہے اگر متامل (غور کرنے والا) غور کرے تو آپ کے اس کلام میں بڑی معنویت نظر آئے گی۔ بہر حال دوام توجہ اور مراقبہ اگر ہو سکتا ہے تو آقا علیہ السلام کی سنتوں پر عمل سے ہو سکتا ہے۔