باب ۱۸ از ۲۲صفحات ۲۰۶–۲۱۷
لطائف عالم خلق کے حالات
حضرت مجدد قدس سرہ فرماتے ہیں:‘‘عقل معاد پر ایک زمانہ ایسا آتا ہے کہ نفس مطمئنہ کے ساتھ مجاورت اور اتصال کا شوق اس پر غالب آتا ہے اور اس حد تک کہ یہ شوق عقل معاد کو نفس مطمئنہ کے مقام تک پہنچا دیتا ہے اس وقت تعقل و تذکر بھی مضغۂ قلب کے ساتھ متعلق ہوجاتا ہے اس وقت قلب خود اپنا ترجمان ہوتا ہے اور عارف کا معاملہ قالب کے ساتھ متعلق ہوجاتا ہے اور وہ عنصر نار جس کی فطرت سے ‘‘انا خیر’’ کی آواز نکلی تھی اس کا رخ بھی اطاعت کی طرف ہوجاتا ہے اور
آہستہ آہستہ اسلام حقیقی کے شرف سے مشرف ہوجاتا ہے اور نفس مطمئنہ کےاصلی مقام تک پہنچا کر اس کا قائم مقام کردیا جاتا ہے۔
خلاصہ یہ کہ قالب میں قلب حقیقی کا نائب مضغہ ہوا اور نفس مطمئنہ کا قائم مقام جزو ناری،اور ہوائی جزو روح کے ساتھ مناسبت رکھتا ہے لہٰذا سالک عروج و وصول کے مقام میں کبھی اس جز کو بعنوان حقانیت جانتا ہے اور اس کا گرفتار ہوجاتا ہے،چنانچہ مقام روح میں یہی شہود حاصل ہوتا ہے اور سالک گرفتار رہتا ہے ۔
بعض مشائخ نے فرمایا ہے کہ تیس سال تک روح کو خدائی کے ساتھ میں پوجا ہے اور جب اس مقام سے گذارا اور حق باطل سے جدا ہوا،یہ ہوائی جز اس قالب میں مقام روحی کے ساتھ مناسبت کی وجہ سے روح کے قائم مقام ہو جاتا ہے اور بعض امور میں روح کا حکم اختیار کر لیتا ہے۔
اور جزء آبی جامعۂ قلبیہ کی حقیقت سے مناسبت رکھتا ہے اسی لیے اس کا فیض تمام اشیاء کو پہنچتا ہے،ارشاد ربانی ہے: وَجَعَلْنَا مِنَ الْمَآءِ کُلَّ شَیۡءٍ حَیٍّ’’اس کا بھی باز گشت مضغۂ قلبیہ ہے۔
اور جزء ارضی(خاکی)جو کہ قالب کا جزو اعظم ہے دنائت و خست جو کہ اس کے ذاتی صفات سے ہے کی تلویث سے پاک ہونے کے بعد اسی قالب میں اس کا غالب و حاکم ہو جاتا ہے اور جو کچھ قالب میں ہے اس کا حکم پیدا کر لیتا ہے اسی کے رنگ سے رنگین ہو جاتا ہے یہ اس کی جامعیت تامہ کی وجہ سے ہے،قالب کے جمیع اجزا دراصل اس کے اجزا ہیں اسی لیے کرۂ ارض عناصر و افلاک کا مرکز ہوا اور اس کا مرکز مرکز عالم،اسی وقت قالب کا معاملہ بھی انجام کو پہنچتا ہے اور عروج و نزول کی انتہا متحقق ہو جاتی ہے اور کمال و تکمیل حاصل ہو جاتی ہے یہ ہے وہ نہایت جو بدایت کے ساتھ رجوع ر کھتی ہے۔
خیال رہے کہ روح اپنے مراتب و توابع کے ساتھ اگر چہ حمل قرار میں بطریق عروج پہنچ گئی ہو لیکن چونکہ قالب کی تربیت ابھی در پیش ہوتی ہے لہٰذا اس عالم کی طرف توجہ ضروری ہے اور جب قالب کا معاملہ انجام کو پہنچ گیا تو روح،سِر،خفی،اخفیٰ،قلب اور نفس عقل کے ساتھ بارگاہ قدس کی طرف متوجہ ہو گئی اور ا س قالب سے بالکلیہ اعراض حاصل ہو گیا اور قالب بھی مکمل طور پر مقام عبودیت کی طرف متوجہ ہ ہو گیا ۔
ایسی صورت میں روح اپنے مراتب کے ساتھ مقام شہود وحضور میں متمکن ہو جاتی ہے اور ماسوا کی دید ودانش سے بالکلیہ اعراض کرتی ہے اور تمام قالب مقام طاعت و بندگی کے ساتھ راسخ ہو جاتا ہے،فرق بعد الجمع کا مقام یہی ہے،خیال رہے کہ لطائف کے سلسلے میں زیادہ تر معلومات میں نے حضرت مجدد قدس سرہ کی کتاب‘‘مبدأ و معاد’’سے فراہم کی ہیں۔
طریقہ احمدیہ کی دوسری خصوصیت:
مجددی طریق کے سالکین پر تین ولایات منکشف ہوتی ہیں (۱)ولایت صغریٰ (۲)ولایت کبریٰ (۳)ولایت علیا، اول کو ولایت اولیاء دوم کو ولایت انبیاء اور سوم کو ولایت ملأ اعلیٰ بھی کہتے ہیں۔
ولایت صغریٰ:
معلوم ہونا چاہیے کہ سالک جب دائرۂ امکان قطع(طے)کر لیتا ہے تو اسے اسما و صفات کے ظلال کا دائرہ مشہود ہوتا ہے یہ ولایت صغریٰ کا دائرہ ہے تمام ممکنات کے مبادیِ تعینات کا دائرہ یہی ہے،انبیائے کرام اور ملائکہ کرام کے علاوہ کیونکہ ان بزرگواروں کے مبادیِ تعینات اسماء وصفات ہیں جیسا کہ عنقریب آئے گا۔
ظلال:
ظلال ظل کی جمع ہے جس کے معنیٰ سایہ کے ہیں لیکن یہاں ظلال سے مراد مخلوق کے لطائف ہیں جن کو حق سبحانہ کے اسما و صفات سے مناسبت تامہ حاصل ہے،اسی مناسبت کی وجہ سے یہ ظلال وجود اور توابع وجود کی فیض رسانی کا واسطہ بن گئے۔
اللہ تعالیٰ غنیِ مطلق ہے اسے مخلوق سے کسی طرح کی کوئی مناسبت نہیں ہے مخلوقات کو فیض انھیں اسما و صفات اور ان کے ظلال کے واسطے سے پہنچتا ہے،فیض خواہ وجود کا ہو یا توابع وجود کا ،پس ہر شخص کا تعین یا تو اس کے وجود کی فرع ہے یا عین وجود غرضیکہ ہر شخص کا مبدأ تعین یا عین ثابتہ یا اس کی حقیقت وہی ظل ہے جس کے ذریعہ اسے فیض پہنچتا ہے۔
معلوم رہے کہ جس طرح حق سبحانہ کی صفات غیر متناہی ہیں اسی طرح ان صفات کے ظلال بھی غیر متناہی ہیں لہٰذا اگر ولایت صغریٰ میں کوئی سالک مراتب ظلال میں سیر کرتا ہے تو کبھی بھی یہ سیر منقطع نہیں ہو گی لیکن ہر شخص مراتب ظلال میں اسی قدر سیر کرتا ہے جتنی کہ اس کے حق میں مقدر ہے۔
یہ بھی دھیان رہے کہ ظل کا بھی ظل ہوتا ہے پھر ظلِ ظل کا بھی ظل ہوتا ہے مرتبۂ ثانیہ،ثالثہ یا رابعہ میں الیٰ ماشاء اللہ تعالیٰ،پس سالک مراتب ترقی میں عروج کرتا ہے یہاں تک کہ اپنی اصل کے ساتھ واصل ہوجاتا ہے اور اسی میں فانی پھر وہاں سے ترقی کرکے اسی اصل مذکور کے اصل سے واصل ہوتا ہے اسی طرح مراتب ظلال کو یکے بعد دیگرے طے کرتا ہے یہاں تک کہ اس دائرۂ ظلال کو طے کر لیتا ہے پھر اگر عنایت الٰہی سالک کے شامل حال ہے تو اسما و صفات کے دائرہ میں دخول میسر آجاتا ہے جو کہ دائرۂ ظلال یعنی دائرۂ ولایت صغریٰ کی اصل ہے۔
بہت سے اولیاے کرام ہیں کہ جب ان کی سیر اس دائرہ ظلال میں واقع ہوتی
ہے تو وہ ان ظلال کو صفات تصور کر بیٹھتے ہیں اور صفات کو عین حق سمجھ لیتے ہیں اور بحالت سکر طرح طرح کے کلمات ان کی زبان سے نکلتے ہیں اور جب اپنے مبدأ تعین سے ترقی کرکے اصل ظل تک پہنچتے ہیں تب حقیقت منکشف ہوتی ہے۔
معلوم ہونا چاہیے کہ عوام اور اولیاء کرام و انبیاے عظام و ملائکۂ کرام کے مبادئِ تعینات اور ان بزرگواروں میں باہمی تفاوت اور اس سے متعلق باتیں میں نے اپنی زیر ترتیب کتاب‘‘کنزالعرفان’’میں تفصیل سے بیان کی ہیں من شاء فلیرجع الیہ۔
کمالات ولایت صغریٰ:
مظہر کمالات احمدی سیدنا شاہ غلام علی دہلوی قدس سرہ فرماتے ہیں کہ اس ولایت میں سیر اسماء الٰہی کے ظلال میں ہوتی ہے یہ جذبہ کے حصول کا مقام ہے اسی جگہ نسبت کے جذبات و غلبات،تپش وشوق،نعرہ و آہ،رقت و گریہ،ذوق و وصول،مقصود کی یافت،بندوں سے افعال کی نسبت کا سلب ہونا،توحید فعلی،تجلیِ برقی،کثرت میں وحدت کا شہود اور دیگر حالات انس و وحشت اور ہیجان و حیرت نقد وقت ہوتے ہیں (حاصل ہوتے ہیں)۔
اگر دل بینا ہے تو معیت و احاطہ کا بھید بھی ظاہر ہوتا ہے ورنہ اپنے وجدان سے حق سبحانہ کی معیت کا ادراک ہوتا ہے،استغراق سکر و مستی،علمی و حبی قطع تعلق،ماسوائے حق سے جہل و نسیان ،خطرات سےقلب کی سلامتی اس حد تک کہ کوئی بھی خطرہ دل میں نفوذ نہ کرے یہ سب اسی مقام میں حاصل ہوتا ہے،فناے قلبی جس کے معنیٰ ہیں ما سوا ے حق سے دائمی طور پر بے شعوری حاصل ہوجانا اسی جگہ میسر آتی ہے۔
اقسام فنا:
فنا کی چار قسمیں ہیں (۱)فناے خلق کہ ما سوا اللہ سے امید و بیم منتفی ہو جائے (۲)فناے ھوا کہ دل میں اللہ تعالیٰ کی آرزو کے سوا کچھ باقی نہ رہے (۳)فنائے ارادہ کہ بایست و خواست کی صفت سالک سے زائل ہو جائے جس طرح مُردوں سے زائل ہو جاتی ہے (۴)فنائے فعل کہ بی یبصر، بی یسمع،بی ینطق،بی یبطش،بی یمشی،بی یعقل نقد وقت ہوجائے۔
معلوم ہونا چاہیے کہ مقام ولایت تک وصول اسی وقت متصور ہو سکتا ہے جبکہ مقامات عشرہ مشہورہ یعنی توبہ،انابت،زہد،قناعت،ورع،شکر،صبر،توکل،تسلیم اور رضا کا حصول ہوجائے ہاں! اتنا ضرور ہے کہ اگرچہ ان مقامات میں سالک کو قدم راسخ نہ حاصل ہو پائے مگر ایک بار ان مقامات سے گذرنا ضروری ہے،اتنی آسانی بھی اسی سلسلۂ عالیہ میں ہے کیونکہ اس کی نسبت جذبی اور اجمالی ہے اس کے برخلاف دیگر سلاسل میں ان مقامات کی تفصیلی تحصیل ضروری ہے کیونکہ ان میں سیر تفصیلی اور سلوکی ہے۔
اجازت کی لیا قت:
معلوم ہونا چاہیے کہ اس سلسلہ شریفہ کے اکابر متقدمین کے کلام سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ کمال یہ ہے کہ ملکۂ حضور راسخ ہو جائے اور فنا و بقا حاصل ہو جائیں ،فرماتے ہیں آخر کار انتظار ہے پس اگر طالب دوام حضور اور نسبت قلبی کی وسعت سے مشرف ہو جائے اور حضور جہات ستہ کا احاطہ کر لے اور بے کیف توجہ ہو جائے اور اسی پر اکتفا کر کے اس کی مشق کرتا رہے تو جن درجات حضور کا بیان ہوا ان تک ضرور پہنچ جائے گا اور خدا کے دوستوں میں شمار ہوگا،دریائے وحدت میں مستغرق ہوگا اور اجازت طریقہ کے لائق ہو جائے گا۔
مگر طریقۂ عالیہ مجددیہ میں جب تک سالک فناء نفس اور ولایت کبریٰ کے
کمالات تک نہ پہنچ جائے اس وقت تک وہ اجازت مطلقہ کے لائق نہیں ہوتا ہے،خیال رہے کہ فناء قلبی میں وہ خطرہ بند ہوجاتا ہے جس کا تعلق دل سے ہے لیکن وہ خطرات جن کا تعلق دماغ سے ہے وہ فنائے نفس کے بعد ختم ہو تے ہیں،قلبی و نفسی فنا کے بعد خطرات کہاں سے پیدا ہو تے ہیں یہ محل حیرت ہے،یہ بھی دھیان رہے کہ دل و دماغ سے خطرات کا دور ہوجانا ارباب عقل کے ادراک سے باہر ہے اس کے لیے کوئی دوسری عقل چاہیے خدا کے دوستوں اولیا کا طریقہ عقل و نظر سے ماورا ہے۔
فائدہ:
مقام قلب کا مکمل طور پر علم کشف و معرفت والوں کے لیے آسان ہے،ہاں! جن کو صرف وجدان و ذوق حاصل ہے ان کے لیے ذرا مشکل ہے انہیں یا تو بارگاہِ الٰہی سے الہام و القا ہو یا مشائخ قدس اللہ اسرارہم بتادیں تو معلوم ہوگا اور کوئی راستہ نہیں۔
ہاں! یہ ہو سکتا ہے کہ اس کے آثار ظاہر ہو جائیں جس سے معلوم ہو جائے مثلا انوار نسبت میں وسعت و کشادگی حاصل ہو اور ایسا محسوس ہو کہ گویا سینہ انوار سے اس طرح پر ہے جیسا پیالہ پانی سے لبریز ہو اور جہت فوق کہ توجہ نگرانی میں متوہم ہوتی ہے مخفی ہو جائے اور حضور میں بساطت پیدا ہو جائے۔
لطائف کی فنا بقا:
علامہ نور بخش توکلی فرماتے ہیں‘‘لطائف عالم امر کو دس دائرۂ ظلال میں فنا و بقا حاصل ہو تی ہے چناں چہ سالک جب اس سیر میں اس ظل پر پہنچے گا جو اس کا مبدأ
.......................................
۔قلب، روح، سر، خفی اور اخفیٰ۔
تعین ہے تو اس کو تجلیِ فعل حق(یعنی تکوین جو کہ حضرت آدم علیہ السلام کا مبدأ تعین ہے)کے ظہور سے فنا حاصل ہو جائے گی پھر اسی تجلی سے بقا حاصل ہو گی جو کہ برزخ اور حقیقت جامعہ ہے حق سبحانہ کی صفات اضافیہ(فعل و تکوین) سے جو کہ وجوب و امکان کے درمیان مثل برزخ کے ہیں،ان میں مناسبت تامہ ہے اسی واسطے جب قلب پر فعل حق کی تجلی کا ظہور ہوگا تو قلب کو فنا حاصل ہوگی اسی فنا میں سالک کا فعل منفی ہو گا اور وہ اپنے تئیں مسلوب الفعل پائے گا بعد ازاں فعل حق ہی سے باقی ہوگا اور وہ اپنے فعل کو فعل حق پا ئے گا ۔
فنائے قلب کی علا مت یہ ہے کہ غیر حق سے تعلق علمی و حبی نہ رہے یعنی قلب ما سوا کو ایسا فراموش کر دے کہ اگر سالوں بتکلف غیر کو یاد کرے تو نہ کر سکے،اس وقت جب علم اشیاء اس سے زائل ہو جاتا ہے تو محبت اشیاء بطریق اولیٰ جا تی رہتی ہے،جب سالک فناے قلب سے مشرف ہو جاتا ہے تو جماعت اولیا میں داخل ہو جا تا ہے،ولایت کے تمام کمالات فناے قلب پر متفرع ہیں۔
فناے قلب کے بعد لطیفۂ روح کی فنا ہے لطیفۂ روح قلب کی نسبت زیادہ لطیف ہے اس کی فنا حق سبحانہ و تعالیٰ کی صفات ثبوتیہ(جو فعل کی نسبت ایک قدم حضرت ذات سبحانہ کے نزدیک تر ہیں)کی تجلی کے ظہور سے ہو تی ہے پھر ان ہی صفات سے بقا ہو تی ہے اس مقام پر سالک اپنی صفات کو اپنے آپ سے اور ساری مخلوقات کی صفات کو ان سے مسلوب پائے گا بلکہ جناب قدس سے منسوب جا نے گا۔
اس لطیفہ کے بعد لطیفۂ سِر کی فنا ہے جو کہ لطیفۂ روح سے زیادہ لطیف ہے اس کی فنا حق سبحانہ و تعالیٰ کی شیونات ذاتیہ(جو صفات ثبوتیہ کی نسبت ایک قدم حضرت ذات سبحانہ کے نزدیک تر ہیں) کی تجلی کے ظہور سے ہوتی ہے پھر انھیں شیونات سے بقا ہو تی ہے اسی مقام پر سالک اپنی ذات کو حق سبحانہ کی ذات میں مضمحل پاتا
اس کے بعد لطیفۂ خفی کی فنا ہے جو لطیفۂ سِر کی بہ نسبت زیادہ لطیف ہے،اس کی فنا حق سبحانہ کی صفات تنزیہیہ(جو شیونات ذاتیہ کے فوق ہیں)کی تجلی کے ظہور سے ہو تی ہے پھر ان ہی صفات سے اس کی بقا ہو تی ہے،اس مقام پر سالک ذات حق کی تجرید تمام مظاہر سے پاتا ہے۔
اس کے بعد لطیفۂ اخفیٰ کی فنا ہے جو لطائف عالم امر میں سب سے الطف،احسن،اجمل اور حضرت اطلاق سے اقرب ہے اس لطیفہ کا مفنِی ایک مرتبۂ مقدسہ ہے جو مرتبۂ تنزیہیہ اور احدیت مجردہ ذات حق تعالیٰ کے درمیان مثل برزخ کے ہے اور اسی مرتبۂ مقدسہ سے اس کی بقا ہوتی ہے،اس مقام پر سالک متخلق باخلاق اللہ ہو تا ہے’’(تذکرہ مع اختصار) جب سالک اس مقام پر پہنچ جا تا ہے تو دائرۂ ولایت صغریٰ تمام ہو جاتا ہے۔
ولایت کبریٰ:
سالک جب ولایت صغریٰ کا دائرہ تمام کر لیتا ہےتو اسے ولایت کبریٰ کا دائرہ مشہود ہوتا ہے،یہ تیسرا دائرہ ہے اس دائرہ میں سالک کو تین دائرے اور ایک قوس مشہود ہو تی ہے تینوں دائروں میں سے پہلے کا نصف سافل اسما و صفات زائدہ کو متضمن ہے اور نصف عالی شیونات ذاتیہ کو،عالم امر کے لطائف کے عروج کی انتہا اسی دائرۂ اسما و شیونات کی انتہا تک ہے۔
دائرۂ اسما و شیونات کے اوپر داسرا دائرہ ہے جو کہ اسما و شیونات کے اصول پر مشتمل ہے اور تیسرا دائرہ ان اصول کے اصول پر اور قوس اصولِ اصول کے اصول پر مشتمل ہے،یہ دائرہ انبیاء کرام و ملائکۂ عظام کے مبادیِ تعینات کا دائرہ ہے،اسما وصفات میں دو اعتبار ہیں ایک ان کے وجود بذات خود کی جہت جسے ظہور کہتے ہیں
دوسرے حق تعالیٰ کی ذات کے ساتھ ان کے قیام کی جہت جسے بطون کہتے ہیں۔
پس اسما وصفات بحسب ظہور انبیاء کرام کے مبادیِ تعینات اور مربی ہیں، اسی مقام تک وصول ولایت کبریٰ اور ولایت انبیاء کہلاتا ہے اور یہی اسما وصفات بحسب بطون ملائکہ کے مربی و مبادیِ تعینات ہیں اس مقام تک وصول ولایت علیا و ولایت ملأ اعلیٰ کہلاتا ہے،اس تصریح سے معلوم ہوا کہ ملائکہ کی ولایت انبیاے کرام کی ولایت کے مقابلے میں اعلیٰ اور خدا کے قریب تر ہے،لیکن ملائکہ کے مقامات متعین ہیں ان سے آگے انھیں ترقی و عروج میسر نہیں ہو سکتا ہے،قرآن عظیم فرما رہا ہے:وما منا الا لہ مقام معلوم’’
اس کے بر خلاف انبیاے کرام علیہم الصلوات والتسلیمات کے لیے ترقیات ہیں ملائکہ کے مقابلہ میں بھی اور اس سے اوپر بھی جو کمالات نبوت و کمالات رسالت و کمالات اولوالعزم وغیرہ ہیں،اسی جہت سے انبیاے کرام ملائکۂ عظام سے افضل ہو گئے جیسا کہ اہل سنت کا عقیدہ ہے،غرضیکہ ولایت کبریٰ کی سیر اسم الظاہر کی سیر ہے۔
کمالات ولایت کبریٰ:
واقف اسرار جلی و خفی سیدنا شاہ غلام علی دہلوی قدس سرہ فرماتے ہیں:‘‘حضور و نگرانی اور عروج و نزول و جذبات جس طرح مقام قلب میں تھے اس جگہ بھی نقد ہوتے ہیں بلکہ تدریجا انجذاب پورے بدن کو گھیر لیتا ہے اور بدن کو انوار نسبت شامل ہو جاتے ہیں،مقام قلب کی بنسبت کیفیات و حالات یہاں بے مزہ اور کم چاشنی رکھتے ہیں لیکن جب اس نسبت میں قوت پیدا ہو جاتی ہے تو حالات سابقہ فراموش ہو جاتے ہیں۔
مورد فیض بالاصالت اس جگہ لطیفۂ نفس ہے یہی وہ مقام ہے جہاں فنائے حقیقی
اور حقیقت اسلام و شرح صدر حاصل ہوتا ہے،دوام شکر اور رضا کی دولت بھی یہیں میسر آتی ہے بایں طور کہ احکام قضا وقدر میں چون و چرا بالکل ختم ہوجاتی ہے،تکلیفات شرعیہ کے قبول میں دلیل کی ضرورت بالکل بھی نہیں رہتی ہے،یہاں استدلالی بدیہی ہوجاتا ہے،مقام جذبہ کی شورشوں سے اطمینان حاصل ہوجاتا ہے،اللہ تعالیٰ کے وعدوں کے ساتھ قوت یقین بڑھ جاتی ہے اور استہلاک و اضمحلال اس طرح ہوتا ہے جیسے سورج کے سامنے برف پگھلتا ہے،وجود وتوابع وجود کو حق سبحانہ کے ساتھ منسوب کرتا ہے اور لفظ انا کا اطلاق اپنے اوپر بہت مشکل سے ہوتا ہے۔
اس مقام پر سالک پر دیدقصور (اپنے اعمال کو کم دیکھنا) کا اس قدر غلبہ ہوتا ہے کہ اپنے اندر شر وعیب کے علاوہ کچھ نظر نہیں آتا ہے،اپنی نیت میں اسے خلوص دکھائی نہیں دیتا ہے،تہذیب اخلاق جو کہ حاصل سلوک ہے اور رذائل جیسے حرص وبخل و حسد و حقد (کینہ) وکبر وحب جاہ و عجب وغیرہ سے تزکیہ اس بلند مقام میں میسر آتاہے۔’’
خیال رہےکہ دائرۂ ولایت کبریٰ کے تمام ہونے کی علامت یہ ہے کہ باطن کے فیض کے معاملےکا تعلق جو اب تک دماغ سے تھا اب سینہ سے متعلق ہو جاتا ہے پھر اس وقت شرح صدر حاصل ہوتا ہے جس کی علامت بطریق وجدان یہ ہے کہ قضا وقدر کے احکام میں چون وچرا بالکل اٹھ جاتی ہے۔
حضرت مجدد قدس سرہ فرماتے ہیں: اسما وصفات کے یہ اصول سہ گانہ کہ مذکور ہوئے حضرت حق سبحانہ میں محض اعتبارات ہیں کہ صفات و شیونات کے مبادی ہو گئے،ان اصول سہ گانہ کے کمالات کا حصول نفس مطمئنہ کے ساتھ مخصوص ہے،نفس کو اطمینان اسی مقام میں میسر آتا ہے اور اسی مقام میں شرح صدر
حاصل ہوتا ہے اور سالک اسلام حقیقی سے مشرف ہوتا ہے اور یہی جگہ ہے کہ مطمئنہ تختِ صدر پر جلوس فرماتا ہے اور مقام رضا تک ترقی کرتا ہے یہ محل ولایت کبریٰ کے منتہا کا ہے جو کہ ولایت انبیاء علیہم الصلوات والتسلیمات ہے،جب سیر کو اس جگہ تک پہنچایا تو وہم ہوا کہ شاید کام تمام ہوگیا ہوگا!ندا آئی کہ یہ سب اسم الظاہر کہ تفصیل تھی جو کہ پرواز کا ایک بازو ہے اور اسم الباطن ابھی در پیش ہے جو کہ عالم قدس میں پرواز کا دوسرا بازو ہے۔