باب ۹ از ۲۲صفحات ۱۰۰–۱۱۵
اتباع سنت
دوسری چیز جس پر سلسلہ نقشبندیہ کی بنیاد ہے وہ ہے سرور کون و مکاںﷺ
کی اتباع و پیروی ظاہر ہے خدا کی مخلوق میں سب سے قریب تر خداوند قدوس کے نبی آخر الزماںﷺ ہیں تو خدا کی قربت کا سبب بھی آپ کی اتباع و پیروی ہوگی۔ اس اتباع سنت میں جو جتنا آگے ہوگا قربت میں بھی وہ اتنا آگے ہوگا۔ حضرت شیخ عبد الحق محدث دہلوی قدس سرہ اشعۃ اللمعات میں ایک مقام پر فرماتے ہیں کہ خداوند قدوس کے انوار و تجلیات سب کے سب قلب مصطفیٰﷺ پر برستے ہیں۔ اب جو شخص بھی آپ کی سنتوں کا جتنا زیادہ متبع ہوگا وہ اتنا ہی آپ سے قریب ہوگا اور باعتبار قربت ہی انوار و تجلیات سے حصہ پائےگا جیسے کہیں پانی کی دھار اگر رہا ہو تو جو جتنا قریب ہوگا اتنا ہی زیادہ پانی کا چھینٹیں اس پر گریں گی۔
نقشبندیوں کے یہاں جو کچھ بھی ریاضت و مجاہدہ ہے سب اتباع سنت ہی ہے۔ تمام افعال و اقوال اور جملہ حرکات و سکنات میں سنت کی رعایت یہی سب سے بڑا مجاہدہ اور یہی سب سے بڑی ریاضت ہے۔ اس رعایت سنت اور آداب شریعت کی وجہ سے ان بزرگوں نے وہ پایا جو بڑی بڑی اربعینات سے لوگ حاصل نہ کر سکے۔ اگر سچ پوچھا جائے تو نقشبندی اصولوں پر عمل سنتوں پر عمل کادوسرا نام ہے، اس کا فروغ سنتوں کا فروغ ہے،اس کی تحریک احیاے سنت کی تحریک ہے۔ خواجۂ خواجگاں ، مرہم دل دردمنداں سیدنا محمد بہاء الدین نقشبند قدس سرہ فرماتے ہیں: ‘‘ہمارا طریقہ نوادر سے ہے اور محکم دستاویز ہے اور سنت مصطفیٰﷺ کے دامن کو پکڑنا اور آپ کے صحابہ کرام کے آثار کی پیروی کرنا ہے۔ اس راہ میں ہمیں بفضل الٰہی لایا گیا ہے، اول سے آخر تک ہم نے یہی فضل الٰہی مشاہدہ کیا ہے نہ کہ اپنا عمل اس طریقہ میں تھوڑے سے عمل سے بہت فتوح حاصل ہوتی ہیں مگر سنت کی متابعت کی رعایت بڑا کام ہے۔
ایک دوسرے مقام پر فرماتے ہیں: ‘‘طریقہ سب ادب ہی ادب ہے، طلب راہ
کی ایک شرط ادب ہے، ایک ادب حق سبحانہ کی نسبت ہے اور ایک ادب پیغمبرﷺ کی نسبت ہے اور ایک ادب مشائخ طریقت کی نسبت ہے، حق تعالیٰ کی نسبت ادب یہ ہے کہ ظاہر و باطن میں بشرط کمال بندگی اس کے کلموں کو بجا لائے اور ماسوا سے بالکل منہ پھیر لے۔ پیغمبرﷺ کی نسبت ادب یہ ہے کہ اپنے تئیں ہمہ تن آپ کی اتباع و پیروی کے مقام میں رکھے اور تمام حالات میں آپ کی خدمت واجب کو نگاہ میں رکھے اور آپ کو تمام موجودات اور حق سبحانہ کے درمیان واسطہ سمجھے جو کوئی ہے اور جو کچھ ہے سب کا سر آپ کے آستان عزت پر ہے۔ جو ادب مشائخ کی نسبت طالبوں پر لازم و واجب ہے وہ اس جہت سے ہے کہ مشائخ سنت پیغمبرﷺ کی پیروی کے سبب سے اس مقام پر پہنچ گئے ہیں کہ لوگوں کو حق کی طرف بلائیں۔ پس درویش کو چاہیے کہ غیبت و حضور میں ان کا ادب ملحوظ رکھے۔ (تذکرہ مشائخ نقشبندیہ)
حضرت مجدد صاحب اور ان کے فرزندوں اور خلفا نے کمال اتباع کے سبب جو بلند اور اعلیٰ کمالات حاصل فرمائے تاریخ کبھی اسے فراموش نہیں کر سکتی ہے۔ یہ ساری بلندیاں اور مقامات قرب حق میں اتنی اونچی پروازیں سب اتباع سنت ہی کی مرہون منت ہیں۔ میں چند شہادتیں ہدیہ ناظرین کرتا ہوں جس سے بخوبی اندازہ ہو جائےگا کہ احمدی فرزندوں کو اتباع سنت کا کتنا زبردست جذبہ تھا اور عمل بر سنت سے احیاے سنت کا کتنا بڑا کام کر کے سرکار دو جہاںﷺ سے قلبی محبت کا کتنا اہم ثبوت پیش کیا۔ حضرت مجدد اور ان کے فرزندوں نے گویا اپنے آپ کو مکمل طور پر آقاے دو جہاںﷺ کے حوالے کر دیا تھا جس کی وجہ سے ایک جہاں کو سنتوں کے انوار سے طویل مدت تک پرنور رکھا۔ خداوند قدوس ہم غلاموں کو بھی ان سرکاروں کے طفیل جملہ افعال و اقوال میں اتباع کی دولت ارزاں
جو کچھ ملا اتباع سنت کے ذریعہ ملا:
سرمست بادہ احمدی حضرت مولانا محمد ہاشم کشمی رحمہ اللہ تعالیٰ برکات احمدیہ کی فصل ششم میں فرماتے ہیں کہ میں نے بارہا حضرت مجدد قدس سرہ کی زبان مبارک سے سنا ہے، آپ فرماتے تھے کہ میں اور میرا عمل کیا ہے، جو کچھ مجھ کو عطا کیا ہے محض کرم اور خالص فضل ہے۔ اگر کوئی چیز کرم کا بہانہ بنی ہے تو وہ سید الاولین و الآخرینﷺ کی متابعت کہ اپنے کام کا مدار میں اسی پر جانتا ہوں۔ جزئی اور کلی طور پر جو کچھ مجھ کو دیا ہے اسی اتباع کی وجہ سے دیا ہے اور جو نہیں دیا ہے اس وجہ سے نہیں دیا ہے کہ مکمل اتباع میں ہم سے کچھ کمی بحکم بشریت رہی ہوگی اس تقریب میں ایک دفعہ ارشاد فرمایا:
‘‘ایک دفعہ بھولے سے بیت الخلا میں بجائے بائیں پیر رکھنے کے داہنا رکھ دیا اس روز کافی احوال کا مجھ پر بست رہا۔’’
عدد طاق کی رعایت:
ایک دن مولانا صالح ختلانیرحمۃ اللہ علیہ سے فرمایا کہ تھیلی میں سے چند کالی مرچ کے دانے لے آؤ،وہ چھ دانے لے آئے، آپ کو جلال آگیا، فرمایا ہمارے اس صوفی نے اتنا بھی نہیں سنا کہ اللہُ وترٌ یحبُّ الوترَ (اللہ تعالیٰ طاق ہے طاق کو پسند کرتا ہے) عدد طاق کی رعایت مستحبات سے ہے۔
مستحب کی اہمیت:
فرماتے ہیں: مستحب کو لوگ کیا جانتے ہیں، مستحب اللہ تعالیٰ کا محبوب ہے، اگر دنیا و آخرت کو ایک ایسے عمل کے عوض دیں جو کہ اللہ تعالیٰ کا محبوب ہے تو بھی کچھ نہیں دیا۔
کمال اتباع:
اور فرمایا کہ ہم استحباب کی رعایت میں اس قدر توجہ کرتے ہیں کہ چہرہ دھوتے وقت قصد یہ ہوتا ہے کہ پہلے پانی داہنے رخسار پر پڑے۔ حضرت مجدد قدس سرہ کو ہر لمحہ اتباع سنت کا خیال رہتا حتّیٰ کہ وہ گھڑی جس وقت انسان اپنے و بیگانے سے بے خبر ہوتا ہے، موت کا وقت کوئی معمولی مشکلات کا نہیں مگر اس عاشق رسالت مآبﷺ کو اس وقت بھی اگر خیال ہے تو سنت کا جس رات کی صبح کو وصال فرمایا ایک تہائی رات باقی تھی، آپ اٹھے اور وضو فرمایا اور کھڑے ہوکر نماز تہجد ادا کی، پھر فرمایا یہ تہجد کی آخری نماز ہے، وفات سے کچھ پہلے آپ پر بے خودی کی کیفیت طاری ہونے لگی، آپ کے فرزند دوم حضرت خواجہ محمد سعید صاحب نے عرض کیا:
یہ بے خودی کمزوری اور ضعف کی وجہ سے ہے یا ستغراق کی وجہ سے، آپ نے فرمایا: بعض عظیم معاملات در پیش ہیں اور میں ان کی طرف متوجہ ہوں تاکہ وہ مکشوف اور ظاہر ہو جائیں، آپ کو اس حال سے جب بھی افاقہ ہوتا تھا اتباع سنت اور اجتناب از بدعت اور ذکر و مراقبہ کی تاکید فرماتے۔’’
پھر اشراق کے وقت آپ نے پیشاب کے لیے برتن طلب فرمایا، جب برتن آیا تو اس میں ریت نہ تھی، فرمایا چھینٹ اڑنے کا اندیشہ ہے لہٰذا برتن لے جاؤ اور مجھ کو لٹا دو، جب آپ کو لٹایا گیا تو مسنون طریقہ پر داہنے ہاتھ کو رخسار پر رکھا اور ذکر شریف میں مصروف ہو گئے۔
سب سے بڑا مجاہدہ سنت پر عمل ہے:
حضرت مجدد قدس سرہ سے ایک مرتبہ پوچھا گیا کہ سنا ہے کہ سلسلہ نقشبندیہ میں ریاضت و مجاہدات سے منع کیا جاتا ہے اس وجہ سے کہ ان کی وجہ سے صورتوں
کے کشف کا ظہور ہوتا ہے، تعجب ہے کہ اتباع سنت میں احتمال ضرر کیسے متصور ہو سکتا ہے حالاں کہ اس کی بنا اتباع سنت پر ہے اور سرکار علیہ الصلاۃ و السلام سے بڑے شدید مجاہدات اور فاقہ کشی اختیار فرمائی ہے، آپ نے جو جواب دیا وہ بڑی مفید معلومات پر مشتمل ہے،اس لیے آپ کے سامنے پیش کر رہا ہوں، فرماتے ہیں:
آپ نے کہاں سے سن لیا کہ اس سلسلہ میں ریاضات و مجاہدات ممنوع اور مضر ہیں اس طریقہ میں محافظت نسبت کا دوام، متابعت سنت علیٰ صاحبہا الصلاۃ و السلام و التحیۃ کا التزام ستر احوال میں سعی و کوشش کرنا بلکہ توسط حال اختیار کرنا اور ماکولات و ملبوسات میں میانہ روی و حد اعتدال کی رعایت رکھنا ریاضات شاقہ اور مجاہدات شدیدہ سے ہے زیادہ سے زیادہ یہ کہا جا سکتا ہے کہ عوام کالانعام ان امور کو ریاضت نہ سمجھیں اور مجاہدات تصور نہ کریں، عوام کے یہاں تو ریاضت و مجاہدہ صرف بھوکے رہنے کا نام ہے، کثرت جوع ان کی نظر میں بڑی قدر کی چیز ہے کیوں کہ ان چوپایہ صفت لوگوں کی نظر میں کھانا بہت اہم کام اور سب سے بڑا مقصد ہے تو لامحالہ اس کا ترک بڑی ریاضت اور سخت مجاہدہ ہوگا اس کے برخلاف محافظت نسبت کا دوام متابعت سنت علیٰ صاحبہا الصلاۃ و التحیۃ کا التزام وغیرہ کی، نظر عوام میں نہ کوئی قدر ہے نہ شمار تاکہ ان کے ترک کو برا سمجھیں اور ان امور کی تحصیل ریاضت سمجھیں۔
پس اس طریقہ کے اکابر کو چاہیے کہ ستر احوال میں کوشاں رہیں اور وہ ریاضت چھوڑیں جو نظر عوام میں عظیم القدر ہے جو مخلوق میں مقبولیت کا سبب اور شہرت کو مستلزم ہے جو کہ آفت پر مشتمل اور شرارت کی مفید ہے۔ سرکار دو عالمﷺ نے فرمایا: آدمی کی بدی کے لیے دنیا یا دین میں یہی کافی ہے کہ اس کی طرف انگلیوں
سے اشارہ کیا جائے مگر جس کو اللہ تعالیٰ محفوظ رکھے۔
بحسب امرء من الشر ان یُشارَ الیہ بالاصابع فی دین او دنیا إلا من عصمہ اللہ
فقیر کے نزدیک ماکولات میں حد اعتدال کی رعایت کرنے کی بنسبت فاقہ کشی اور بہت بھوکا رہنا بہت ہلکا اور بڑی آسانی رکھتا ہے اور رعایت توسط حال کی ریاضت کثرت بھوک کی ریاضت سے زیادہ ہے حضرت والد ماجد قدس سرہ فرماتے تھے کہ میں نے علم سلوک میں ایک رسالہ دیکھا ہے کہ ماکولات میں اعتدال کی رعایت رکھنا اور درمیانی حد کا خیال رکھنا مطلوب تک وصول میں کافی ہے اس رعایت کے ساتھ کسی ذکر و فکر کی حاجت نہیں حق یہ کہ مطعومات (کھانے کی اشیا) اور ملبوسات (پہننے کے کپڑے) بلکہ تمام امور میں توسط حال اور میانہ روی بہت عمدہ چیز ہے؎
نہ چنداں بخور کز دہانت بر آید
نہ چندانکہ از ضعف جانت بر آید
رہ گیا سرکار علیہ السلام کا معاملہ تو آپ کو اللہ تعالیٰ نے چالیس مردوں کی قوت عطا فرمائی تھی اسی وجہ سے آپ اتنے بڑے بڑے فاقے جھیل لے جاتے تھے، صحابہ کرام بھی اولاً آپ کی صحبت بابرکت سے اس بار کو اٹھا لے گئے اور کوئی فتور و خلل ان حضرات کے اعمال و افعال میں واقع نہیں ہوا، اس فاقہ کشی کے باوجود دشمنان اسلام کے ساتھ جنگ کی اس قدر قدرت رکھتے تھے کہ شکم سیر اس کا دسواں حصہ بھی نہیں رکھتے ہیں اسی وجہ سے صابرین میں سے بیس دو سو کفار پر اور سو ایک ہزار پر غالب تھے ان حضرات کے علاوہ دیگر لوگ اگر اتنی زبردست فاقہ کشی کریں
..........
۔اتنا نہ کھاؤ کہ منہ سے باہر نکلنے لگے اور نہ اتنا کم کہ کمزوری سے جان نکل جائے۔
تو آداب و سنن کی بجاآوری میں عاجز ہوں گے جب کہ بہت ممکن ہے کہ فرائض کی ادائگی سے بمشکل سبکدوشی حاصل کر پائیں گے لہٰذا بلا طاقت اس معاملہ میں صحابہ کرام کی تقلید کرنا یہ در اصل سنن و فرائض کے ادا کرنے میں اپنے آپ کو عاجز کرنا ہے۔
منقول ہے کہ حضرت ابو بکر صدیقرضی اللہ عنہ نے سرکار علیہ السلام کی تقلید میں صوم وصال رکھنا شروع کر دیا، کمزوری اور ناتوانی کی وجہ سے زمین پر گر پڑے، سرکار علیہ السلام نے بطور اعتراض فرمایا تم میں ہماری مثل کون ہے، میں اپنے پروردگار کے پاس رات گذارتا ہوں اور اس جگہ سے کھاتا پیتا ہوں۔ لہٰذا آپﷺ نے بغیر طاقت تقلید کرنے کو اچھا نہیں سمجھا نیز صحابہ کرام خیر الانامﷺ کی برکت صحبت کی وجہ سے جوع و فاقہ کشی کی پوشیدہ مضرتوں سے مامون و محفوظ تھے دیگر لوگوں کو یہ حفظ و امن میسر نہیں ہے اس کا بیان یہ ہے کہ کثرت جوع (بہت بھوکا رہنا) بہر حال صفائی بخشتی ہے۔
یہ صفائی دو طرح کی ہے؛ صفاے قلب اور نفس، کسی کو صفاے قلب حاصل ہوتی ہے اور کسی کو صفاے نفس۔ اول ہدایت افزا اور نور بخش ہے اور دوم ضلالت نما اور ظلمت افزاہے، یونان کے فلاسفہ اور ہند کے برہمنوں اور جوگیوں کو ریاضت بھوک نے صفاے نفس بخشی اور ضلالت وخسارہ کی راہ دکھائی، بے عقل افلاطون نے اپنے نفس کی صفا پر اعتماد کر لیا اور اپنی صور کشفیہ خیالیہ کو اپنا رہنما بنایا جس کی وجہ سے عُجب میں مبتلا ہو گیا اور حضرت عیسیٰ روح اللہ علیٰ نبینا و علیہ الصلاۃ و السلام کہ اس وقت میں مبعوث تھے کی اطاعت نہیں کی اور کہا کہ نحن قوم مھدیون
(کئی سطر بعد فرماتے ہیں) چوں کہ یہ ضرر و نقصان جوع کی سرشت میں پوشیدہ ہے اس لیے طریقت نقشبندیہ کے اکابرین قدس اللہ تعالیٰ اسرارہم نے ریاضت جوع کو ترک کرکے مطعومات میں ریاضت اعتدال اور توسط حال کا مجاہدہ اختیار فرمایا اور جوع کے منافع کو اس ضرر عظیم الخطر کے احتمال کی وجہ سے ترک کر دیا اور دیگر حضرات نے منافع جوع کو ملاحظہ فرمایا اور اس کے نقصانات سے چشم پوشی کی اس لیے جوع کا حکم دیا عقلا کا قول ہے کہ احتمال ضرر کی وجہ سے کثیر منافع کو چھوڑا جا سکتا ہے۔ (مزید تفصیل، مکتوب:۳۱۳، دفتر اول میں دیکھیں)
ہر عمل میں صرف اتباع سنت کی نیت:
مبدأ و معاد میں ایک کشف بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں ‘‘نماز وتر کو یہ فقیر کبھی اول شب میں اور کبھی آخر شب میں ادا کرتا تھا، ایک شب دکھایا گیا کہ نماز وتر کو مؤخر کرکے جب نمازی یہ نیت کرکے سوتا ہے کہ آخر شب میں وتر ادا کروں گا تو اس کے نیکیاں لکھنے والے فرشتے تمام رات اس کے نام نیکیاں لکھتے رہتے ہیں جب تک کہ وہ وتر ادا کر لے لہٰذا وتر کو جتنی زیادہ تاخیر کے ساتھ ادا کرےگا بہتر ہوگا۔
اس کے باوجود اس فقیر کو اول شب اور آخر شب ادا کرنے میں سید البشر علیہ و علیٰ آلہ الصلوات و التسلیمات کی متابعت کے علاوہ کچھ بھی منظور نہیں ہے اور کوئی فضیلت متابعت کے برابر نہیں ہو سکتی ہے (پس چوں کہ) سرکار علیہ السلام نے وتر کو کبھی اول شب میں ادا فرمایا ہے یعنی سونے سے قبل اور کبھی آخر شب یعنی سونے کے بعد تہجد کے وقت اسی وجہ سے میں بھی ایسا ہی کر لیتا ہوں۔
..................
۔ہم ہدایت یافتہ لوگ ہیں، ہمیں کسی رہنما کی ضرورت نہیں۔
یہ فقیر اپنی سعادت اسی میں جانتا ہے کہ کوئی بھی امر ہو ہر امر میں سرور کونین صلی اللہ تعالیٰ علیہ و علیٰ آلہ و سلم کے ساتھ تشبہ کر لے، اگرچہ یہ تشبہ صورت کے اعتبار سے ہو، لوگ بعض سنتوں میں احیاے لیل (شب بیداری) اور اس جیسی دیگر چیزوں کی نیت کو دخل دیتے ہیں، تعجب ہوتا ہے ان لوگوں کی کم اندیشی پر، ہزار احیاے لیالی (شب بیداریاں) کو متابعت کے نیم جو کے ساتھ بھی ہم نہیں خریدتے۔ ماہ رمضان کے عشرہ اخیرہ کے اعتکاف کے عالم میں ہم نے دوستوں کو جمع کر کے کہا کہ متابعت کے علاوہ دوسری نیت نہ کرو، ہمارا تبتل و انقطاع کیا، سو گرفتاری کو ایک متابعت کے حصول کے ساتھ قبول کرتے ہیں اور ہزار تبتل و انقطاع کو متابعت کے وسیلہ کے بغیر ہم قبول نہیں رکھتے ہیں۔
تنبیہ:
سنت کی اتنی بلند منزل پر فائز ہوتے ہوئے بھی حضرت مجدد قدس سرہ غیر مقلد نہ تھے۔ حضرت امام الائمہ ابو حنیفہ قدس سرہ اور ان کے مذہب کی عظمت و نورانیت سے حضرت مجدد کا ریشہ ریشہ پرنور تھا جیسا کہ پچھلے اوراق میں آپ پڑھ چکے۔ مذہب حنفی کی حقانیت ان کی نظر میں صرف استدلالی نہیں بلکہ کشفی تھی بات در اصل یہ تھی کہ اپنے وقت کا شریعت و طریقت کا یہ عظیم امام حضرت امام اعظم قدس سرہ کو بہت قریب سے جانتا تھا، یک سر مو بھی امام اعظم کو وہ خلاف سنت نہ سمجھتے تھے بلکہ ہر عامل بر سنت سے بڑھ کر امام اعظم کو عامل بر سنت خیال کرتا تھا ان کے مذہب پر عمل بھی در اصل سنت پر عمل تھا غیر مقلدیت کے پس پردہ در اصل جو ذہنیت ہے وہ یہ کہ ائمہ میں سے کوئی بھی سنتوں کا پابند نہ تھا اور نہ وہ سنتوں کو جانتے تھے اس لیے ان کے مذاہب کے احکام سنت کے مطابق نہیں ہیں، نعوذ باللہ من ذٰلک۔
برا ہو اس مذہب کا جس میں امت کے یہ عظیم رہنما بھی متبع سنت نہ ہوں ان جہلا (جاہلوں) کے یہاں چند مسائل ہیں؛ رفع دین، قراءۃ خلف الامام وغیرہ ان ہی کو پورا اسلام سمجھتے ہیں اور بزعم خویش ہدایت کے ٹھکیدار بن بیٹھے اور باقی سب کو گمراہ تصور کر لیا۔ میں واقعات نقل کرتا ہوں قارئین اچھی طرح سمجھ لیں گے کہ حضرت مجدد قدس سرہ جیسے عظیم عامل بر سنت کے قلب میں مسائل فقہیہ کی کیا اہمیت تھی اور مذہب حنفی سے کتنا عشق تھا۔
خواجہ محمد ہاشم کشمیرحمۃ اللہ علیہ رقم طراز ہیں کہ حضرت مجدد قدس سرہ کو مسائل فقہ پر استحضار تمام اور اصول فقہ پر مہارت فراواں حاصل تھی لیکن بنا بر غایت احتیاط اکثر مسائل میں فقہ کی معتبر کتابوں پر اعتماد تھا اور سفر و حضر میں فقہ کی بعض معتبر کتب اپنے ساتھ رکھتے اور ہمیشہ یہ لگن رہتی کہ مفتیٰ بہ اور کبار فقہا کے مختار مذہب پر عمل ہو اور بعض وہ احکام جن میں جواز اور عدم جواز اور حل و حرمت کے سلسلے میں فقہا کے مابین اختلاف ہوتا تو آپ عدم جواز اور جانب حرمت کو ترجیح دیتے اور اگر کسی مسئلے میں کراہت اور عدم کراہت کا اختلاف ہوتا تو کراہت کو ترجیح دیتے یعنی اس کام کو نہ کرتے جس کو بعض فقہا نے حلال اور بعض نے حرام فرمایا ہو یا بعض نے مکروہ قرار دیا ہو۔
اگرچہ اکثر آپ کا عمل مفتیٰ بہ قول پر ہوتا خواہ وہ امام اعظم قدس سرہ کا قول ہوتا یا صاحبین کا لیکن اگر کسی مسئلہ میں امام صاحب قدس سرہ ایک جانب ہوتے اور صاحبین دوسری جانب اور فتویٰ صاحبین کے قول پر ہوتا تو حضرت مجدد قدس سرہ اکثر عمل تو مفتیٰ بہ پر کرتے لیکن امام اعظم قدس سرہ کے احترام کی وجہ سے امام صاحب کے قول غیر مفتیٰ بہ پر بھی عمل کرتے۔’’
حضرت مجدد قدس سرہ کا مسلک جمع بین المذاہب تھا یعنی آپ کی کوشش
یہ ہوتی کہ عمل ایسے طور پر ہو کہ ائمہ مجتہدین میں سے کسی کے مذہب کے خلاف نہ ہو۔
مثلاً ظہر کا وقت حضرت امام اعظم قدس سرہ کے نزدیک سایۂ اصلی کے علاوہ دو مثل سایہ تک ہے اور امام شافعی وغیرہ کا ایک مثل تک تو حضرت مجدد قدس سرہ نماز ظہر ایسے وقت میں پڑھتے کہ وہ وقت امام اعظم کے نزدیک بھی ظہر کا ہوتا اور امام شافعی وغیرہ کے نزدیک بھی۔ یہی وجہ ہے کہ حضرت مجدد قدس سرہ عموماً امامت خود فرماتے۔
حضرت خواجہ محمد ہاشمرحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ میرے دل میں خیال آیا کہ آخر امامت میں کیا حکمت ہے تو آپ نے فرمایا کہ شافعیہ و مالکیہ اس بات پر ہیں کہ سورۂ فاتحہ کے بغیر نماز نہیں ہوتی اس لیے امام کے پیچھے وہ سورۂ فاتحہ پڑھتے ہیں اور احادیث صحیحہ بھی اس پر دلالت کرتی ہیں لیکن ہمارے امام امام ابو حنیفہرضی اللہ عنہ نے امام کے سورۂ فاتحہ پڑھ لینے کو مقتدی کا پڑھ لینا قرار دیا ہے اس لیے امام کے پیچھے سورۂ فاتحہ جائز نہیں سمجھتے ہیں۔ جمہور فقہا، حنفیہ اسی پر ہیں مگر احناف کی بعض روایات مرجوحہ امام کے پیچھے جواز فاتحہ پر ہیں۔ میری جد و جہد چوں کہ ایک ممکن حد تک یہ ہوتی ہے کہ متفق علیہ مذہب پر (عمل) ہو اس لیے اتفاق کی صورت یہی دیکھی کہ میں خود امامت کروں۔
حضرت مجدد قدس سرہ کی یہ کوشش اسی وقت تک ہوتی جب تک مذہب حنفی کا دامن ہاتھ سے نہ چھوٹتا اگر ایسی صورت سامنے آتی جس میں جمع مذاہب کی صورت نہ بنتی تو اس وقت صرف مذہب حنفی پر عمل ہوتا اگرچہ سارے ائمہ ایک طرف اور تنہا امام اعظم ایک طرف ہوتے۔ مذہب حنفی حضرت مجدد قدس سرہ کی نظر میں کتنا حقانیت کے اصولوں پر مبنی تھا اس کا اندازہ آپ اس
بات سے لگا سکتے ہیں کہ یہی مشہور مسئلہ قراءت فاتحہ خلف الامام (امام کے پیچھے سورۂ فاتحہ پڑھنا) والا جس کے بارے میں فرما رہے ہیں کہ احادیث صحیحہ بھی اس پر دلالت کرتی ہیں اور جس کی وجہ سے آپ کو خود امامت کرنا پڑتی اس کے سلسلے میں آپ کا ذکر کردہ ایک کشف جو آپ کی کتاب ‘‘مبدأ و معاد’’ میں مذکور ہے، عرض کرتا ہوں قارئین اچھی طرح سمجھ لیں گے کہ جب ایسے مسئلے میں یہ حال ہے تو دیگر بہت سارے وہ مسائل جن پر احادیث صحیحہ نہیں دلالت کرتی ہیں ان کا کیا حال ہوگا۔
آپ فرماتے ہیں: ایک مدت سے آرزو تھی کہ مذہب حنفی میں وجہ وجیہ ظاہر ہو جائے تاکہ امام کے پیچھے سورۂ فاتحہ پڑھ سکیں جب کہ قراءت نما ز میں فرض ہے تو قراءت حقیقی سے عدول کرنا اور قراءت حکمی قرار دینا عقل میں نہیں آتا ہےباوجودیکہ حدیث نبوی علیہ الصلاۃ و السلام میں آیا ہے ‘‘لاصلاۃ إلا بفاتحۃ الکتاب’’ لیکن مذہب کی رعایت کی وجہ سے بغیر اختیار قراءت چھوڑتا رہا اور اس چھوڑنے کو ریاضت و مجاہدہ کے قبیل سے شمار کرتا رہا آخر الامر حضرت حق سبحانہ و تعالیٰ نے رعایت مذہب کی برکت سے کہ نقل از مذہب الحاد ہے مذہب حنفی کی حقیقت مقتدی کے ترک قراءت کے سلسلے میں ظاہر فرما دی اور قراءت حکمی نظر بصیرت میں قراءت حقیقی سے زیادہ اچھی دکھائی دی (اس کی وجہ یہ کہ) امام و مقتدی سب کے سب باتفاق مقام مناجات میں کھڑے ہوتے ہیں ‘‘لاَنّ المصلی یُناجی ربّہ’’
اور امام کو اس معاملے میں پیشوا بناتے ہیں۔ پس امام جو کچھ پڑھتا ہے گویا قوم کی زبان میں پڑھتا ہے۔ اس کی مثال اس جماعت کی طرح ہے جو کہ عظیم الشان بادشاہ کے سامنے کسی حاجت کی لیے جائے اور ایک کو پیشوا بنا لے تاکہ وہ ان تمام کی
زبان سے عرض حاجت کرے اس صورت میں اگر دوسرے بھی پیشوا کے تکلم کے ساتھ تکلم کریں تو سوء ادب میں داخل ہے اور بادشاہ کی عدم رضا کا سبب ہے۔ پس اس جماعت کا تکلم حکمی جو پیشوا کی زبان سے ادا ہو رہا ہے ان سب کے تکلم حقیقی سے بہتر ہے۔ یہی حال ہے امام کی قراءت کے باوجود قوم کی قراءت کا جو کہ شغب (شور و غل) میں داخل ہے اور ادب سے دور اور تفرق کا سبب ہے جو کہ اجتماع کے منافی ہے۔ حنفی و شافعی کے اکثر اختلافی مسائل اسی قبیل سے ہیں کہ ظاہر و صورت میں امام شافعی کی جانب مرجح ہے اور باطن و حقیقت مذہب حنفی کا مؤیّد۔
اس فقیر پر ظاہر کیا ہے کہ علم کلام کے اختلافی مسائل میں حق جانب حنفی میں ہے، صفت تکوین کو صفات حقیقیہ میں سے جانتے ہیں، ہر چند رجوع قدرت و ارادہ کی طرف دکھائی دیتا ہے لیکن دقت نظر اور نور فراست سے معلوم ہوتا ہے کہ تکوین ایک علاحدہ صفت ہے علیٰ ھذا القیاس۔ اور فقہی خلافیات میں اکثر مسائل میں حق حنفی کی جانب متیقین ہے اور اقل میں متردد اور اس فقیر کو توسط احوال میں حضرت پیغمبر علیہ و علیٰ آلہ الصلاۃ و السلام نے واقعہ میں فرمایا کہ تو علم کلام کے مجتہدین سے ہے اس وقت سے مسائل کلامیہ کے ہر مسئلہ میں اس فقیر کی ایک خاص راے ہے اور مخصوص علم ہے۔
ان اکثر اختلافی مسائل میں جن میں ماتریدیہ اور اشاعرہ کا باہم تنازع ہے اس مسئلہ کے آغاز ظہور میں حقیقت اشاعرہ کی جانب مفہوم ہوتی تھی اور جب نور فراست اور دقت نظر سے کام لیا جاتا تھا تو واضح ہوتا تھا کہ حق ماتریدیہ کی جانب ہے۔
علم کلام کے جملہ اختلافی مسائل میں اس فقیر کی راے علماے ماتریدیہ کی آرا کے موافق ہے اور حق یہ ہے کہ سنت سنیہ علیٰ صاحبہا الصلاۃ و السلام کی اتباع کی وجہ سے ان بزرگوں کی شان عظیم ہے اور فلسفیات کے اختلاط کی وجہ سے ان کے مخالفین
کو وہ شان میسر نہیں ہے اگرچہ دونوں فریق اہل حق سے ہیں ان بزرگواروں کے بزرگ ترین امام، امام اجل، پیشواے اکمل ابو حنیفہ قدس سرہ کے علو شان کو، کوئی کیا لکھے کہ اعلم، اورع، اتقیٰ مجتہدین سے تھے وہ چاہے امام شافعی ہوں یا امام مالک یا امام احمد بن حنبل۔
امام شافعی فرماتے ہیں: الفقھاء کلھم عیال ابی حنیفۃ (سب فقہا ابو حنیفہ قدس سرہ کی اولاد ہیں) نقل کیا گیا ہے کہ امام شافعی جب امام اعظم کی قبر کی زیارت کے لیے گئے تو اپنا اجتہاد چھوڑ دیا اور اپنی راے پر عمل نہیں کیا اور فرمایا کہ شرم آتی ہے کہ ان کے حضور میں اپنی راے پر عمل کروں جو کہ ان کی راے کے مخالف ہو۔ قراءت فاتحہ خلف الامام ترک کر دی اور فجر کی نماز میں قنوت نہیں پڑھا (واقعی بات یہ ہے کہ) امام ابو حنیفہ کی شان کی بزرگی امام شافعی جانتے ہیں کل جب کہ حضرت عیسیٰ علیٰ نبینا و علیہ الصلاۃ و السلام نزول فرمائیں گے امام ابو حنیفہ کے مذہب پر عمل کریں گے جیسا کہ خواجہ محمد پارسا قدس سرہ نے اپنی کتاب اصول ستّہ میں فرمایا ہے، ان کی یہی بزرگی کافی ہے کہ پیغمبر اولوالعزم ان کے مذہب پر عمل کریں گے، دوسروں کی سو بزرگی اس بزرگی کے برابر نہیں ہو سکتی ہے۔’’
ہمارے خواجہ (باقی باللہ قدس سرہ) فرماتے تھے کہ چند دفعہ میں نے بھی امام کے پیچھے سورۂ فاتحہ پڑھی بالآخر ایک رات امام اعظم قدس سرہ کو خواب میں دیکھا کہ ایک روشن قصیدہ اپنی شان میں پڑھ رہے ہیں اور یہ مضمون مستفاد ہو رہا ہے کہ اتنے اولیا میرے مذہب میں ہوئے ہیں اس وقت سے سورۂ فاتحہ خلف الامام پڑھنا چھوڑ دیا۔ (مبدأ و معاد و کشف: ۲۸)
آپ کا یہ مبارک کشف چوں کہ بہت اہم تھا اس لیے مکمل نقل کر دیا، ہمارا
مقصود ان حضرات کو سمجھانا ہے جن کے قلب کے دریچے اب بھی قبول حق کے لیے کھلے ہوئے ہیں یقیناً ایسے عظیم پیشواؤں کے مکشوفات و ارشادات ان کے لیے مشعل راہ ہوں گے جو شکوک و شبہات کی تاریک راہوں میں بھٹک رہے ہیں ان سے کوئی شکوہ نہیں جن کی نظریں ہر طرف سے میں بند ہو چکی ہیں اور باطل کو شیطان نے مزین کر دیا ہے میں اپنے تمام مخلصین سے گزارش کروں گا کہ حضرت مجدد جیسے امام ربّانی کے ان مبارک اقوال کو پڑھیں اور عمل کریں۔