مواد پر جائیں

باب ۶ از ۲۲صفحات ۶۷–۷۸

محبت اولیاے کرام

حضرت مجدد صاحب قدس سرہ فرماتے ہیں: محبان ایں طائفہ را بشارت المرء مع من أحبّ کافی است و جلیسان ایں طائفہ را نوید ھم قوم لا یشقیٰ جلیسھم إلی آخرہ (مکتوب: ۷۸، دفتر دوم)

یعنی درویشوں سے محبت کرنے والوں کو المرء مع من أحبّ (آدمی اس کے ساتھ ہوگا جس سے محبت کرتا ہے) کی خوش خبری کافی ہے اور اس طبقہ کے ہم نشینوں کو ھم قوم لا یشقیٰ جلیسھم (وہ قوم ہے کہ اس کا ہم نشیں بد بخت نہیں ہوتا) کی نوید بہت ہے۔ (آگے فرماتے ہیں)

جب اللہ سبحانہ کی عنایت سے یہ محبت غلبہ پیدا کر لیتی ہے اس طور پر کہ اس محبت کے غیر کو دل میں نہیں چھوڑتی ہے اور دوسری گرفتاریاں (دل کے

تعلقات) بالکلیہ دل سے کوچ کر جاتی ہیں اور محبت کے لوازم کہ محبوب کی اطاعت ہے اور اس کی مراد پر قائم رہنا ہے اور مطلوب کے اخلاق و اوصاف کے ساتھ آراستہ ہونا ظاہر ہوتا ہے کہ اس وقت محبوب میں فنا حاصل ہو جاتی ہے، فنا فی الشیخ کے مشابہ کہ اس راہ میں پہلا زینہ ہے اور یہ فنا فی الشیخ ثانیاً فنا فی اللہ کا وسیلہ ہوتی ہے کہ بقا باللہ اسی پر مرتب ہوتی ہے جو ولایت کی محصل ہے۔

محبت فقرا اور اولیاے کرام کے بارے میں مکتوب: ۲۳۵، دفتر اول میں تحریر فرماتے ہیں:

اس محبت کو دنیوی اور اخروی سعادات کا سرمایہ جانتے ہوئے حق تعالیٰ سے اس پر ثبات و استقامت مانگنا چاہیے۔ احکام شرعیہ کو بجا لانا اسی محبت کا نتیجہ ہے اور جمعیت باطن کی تحصیل اسی الفت کا ثمرہ ہے۔ اگر عالم عالم (یعنی بہت) ظلمتیں اور کدورتیں باطن میں ڈال دی جائیں اور اس محبت کو قائم رکھیں تو غم نہیں کرنا چاہیے بلکہ امیدوار رہنا چاہیے اور اگر کوہ کوہ (بہت) انوار و احوال کو باطن میں افاضہ کریں اور ایک بال برابر بھی یہ محبت کم ہے تو علاوہ خرابی کے کچھ نہیں جاننا چاہیے اور استدراج شمار کرنا چاہیے۔

اخیر کے الفاظ یہ ہیں: و اگر کوہ کوہ انوار و احوال در باطن افاضہ کنند و سر موئے ازیں محبت بردارند جز خرابی ہیچ نباید دانست و استدراج باید شمرد۔

کتنا عبرت کا مقام ہے، جن کے دلوں میں انوار و احوال کا ساون برس رہا ہو حضرت مجدد صاحب ان کو آگاہ فرما رہے ہیں کہ اگر محبت اولیا میں کمی ہے تو یہ انوار و احوال مقبولیت کی علامت نہیں بلکہ استدراج ہیں ۔ اب ان لوگوں کے بارے کیا کہا جائے جن کے پاس نہ انوار ہیں نہ احوال بلکہ چند چلّے ہیں جو بجائے چہرے پر تابانی کے سیاہی بڑھاتے ہیں اور کچھ سجدوں کے داغ ہیں جن کے غرور نے انھیں یہ

احساس دلا دیا ہے کہ تم بھی کسی ولی سے کم مرتبہ نہیں ہو جن کے یہاں مزارات اولیاے کرام مٹی کا ڈھیر ہیں وہاں کی حاضری خداوند قدوس کی توحید میں مخل ہے جن کے یہاں بزرگوں کے یہاں حاضری دینے والے قبر پُجّے ہیں۔

کاش کبھی راہ حق پر چلنے کی توفیق مانگی ہوتی، کبھی انصاف کی نظر سے اولیاے کرام کی عظمتوں کے صحیفے مطالعہ کیے ہوتے تو ان نفوس قدسیہ کو بتوں کے مقام پر رکھ کر ابدی سعادتوں سے اس قدر محرومی نہ ہوتی۔ جس بارگاہ میں کامیابی کے لیے یہ شب و روز سجدے ہو رہے ہیں ان مقدس و پاکیزہ بندوں کے نقش قدم پر نہ چل کر یہی سجدے ناکامیابی کا سبب بنیں گے۔

کعبہ اولیاے کرام کی زیارت کے لیے آتا ہے:

حضرات القدس میں حضرت مولانا بدر الدین سرہندی فرماتے ہیں کہ آپ کا یہ دستور تھا کہ فجر کی نماز کے بعد جماعت کی طرف متوجہ ہو کر بیٹھتے تھے اور دعا کے بعد مراقبے میں مشغول ہو جاتے تھے۔ ایک مرتبہ عرفہ کی صبح کو فجر کی نماز کا سلام پھیرنے کے بعد آپ قبلہ رو ہی بیٹھے رہے یہاں تک کہ آفتاب بلند ہو گیا۔ اس کے بعد آپ نے مراقبہ سے سر اٹھایا اور (اپنے محرمان اسرار سے) فرمایا کہ آج مجھے زیارت کعبہ کا شوق پیدا ہوا اور حرم پاک کا اشتیاق ہوا تو میں نے دیکھا کہ یکایک خود کعبہ میرے طواف کے لیے آیا اور میرے گرد گھومنے لگا، تعجب ہے کہ ارباب کشف اس واقعے سے غافل رہے ورنہ وہ خود میرے گرد گھومتے اور میرا طواف کرتے۔ (حضرات القدس، ص: ۱۱۶)

صحبت اولیا کی اہمیت:

صحبت اولیا ے کرام کتنی اہم چیز ہے ، اس کا اندازاہ آپ اس واقعے سے

لگالیں گے ،جس کو حضرت مجدد صاحب قدس سرہ نے مکتوب: ۷۰، دفتر سوم میں درج فرمایا ،ارشاد فرماتےہیں کہ حضرت خواجہ عبید اللہ احرار قدس سرہ فرماتے ہیں کہ درویشوں کی ایک جماعت کے درمیان اس مسئلے پر گفتگو ہو رہی تھی جمعہ کی وہ گھڑی جس کے بارے میں حدیث شریف میں آیا ہے کہ اس ساعت میں جو بھی جائز چیز مانگی جاتی ہے ،خدا وند قدوس عطا فرماتا ہے ،اگر وہ ساعت میسر آجائے تو خداوند تعالیٰ سے کیا چیز طلب کی جائے ؟ جو درویش وہاں تھے ،سب نے کچھ نہ کچھ اپنی فہم و ذوق کےمطابق کہا جب میری باری آئی تو میں نے کہا : ارباب جمعیت کی صحبت طلب کرنا چاہیے ؛کہ اس کے ضمن میں تمام سعادتیں میسر ہیں۔مبدأو معاد میں قلب کے مراتب بیان کرنے کے لیے فرماتے ہیں ،وہ عارف جو معرفت میں اتم اور شہود میں اکمل ہے،جب اس مقام پر پہنچتا ہے جس کاوجود عزیزاور رتبہ شریف ہے ،تمام عالموں اور جملہ ظہورات کے لیے قلب بن جاتا ہے ، یہی وہ عارف ہے جو ولایت محمدیہ سے متحقق اور دعوات مصطفویہ سے مشرف ہے ۔

اولیاے کرام کی وسعت نظر:

شب برأت کی صبح تڑکے آپ پر یہ منکشف ہوا کہ شیخ طاہر لاہوری جو آپ کے خاص مریدوں میں سے تھے ،وہ نیکوں کی فہرست سے خارج کر دیے گئے ، اور بدبختوں کی فہرست میں ڈال دیے گئے ۔ حضرت مجدد بارگاہ الٰہی میں متوجہ ہوئے اور اس واقعے کی دفعیہ کے یے کوشش فرمائی ، معلوم ہوا کہ اس معاملے کو لوح محفوظ میں قضاے مبرم قرار دیا گیاہے ،آپ حیران ہوئے اسی اثنا میں آپ کو غوث الثقلین شیخ عبد القادر جیلانی قدس سرہ‘ کا یہ قول یاد آیا کہ قضاے مبرم میں میرے سواے میرے کسی کو دست تصرف حاصل نہیں ،پس آپ نے بارگاہ الٰہی میں التجا ،تضرع اور مناجات عرض کی کہ الٰہی جب تو نے ایک برگزیدہ بندے کو وہ دست

تصرف والی دولت عطا فرمائی ہے،تو اس فقیر کو بھی اس دولت سے سرفراز فرما دےتو تیرے کرم سے دور نہیں ۔آپ کی یہ دعا قبول ہوئی اور آپ کو معلوم ہوا کہ لوح محفوظ میں قضا کی ایک قسم مبرم ہے اور اللہ کے نزدیک وہ معلق ہے کسی شفاعت یا دیگر امر کے ساتھ ،اور اس قضاے مبرم میں خاص الخاص بزرگوں کو دست تصرف عطا کیا جاتا ہے ، اور جو اللہ کے نزدیک مبرم ہے اس میں کسی طرح کا تغیر و تبدل نہیں ہے و ما یبدّل القول لدی (از حضرات القدس مترجم )

یہ واقعہ اس بات کی بڑی شہادت دے رہا ہے کہ اولیا ے کرام کی نظریں بھی لوح محفوظ دیکھ لیتی ہیں ،لیکن بعض وہ امور جو علم الٰہی میں ثابت ہیں ولی ان کو جان لیتا ہے ،نیز معلوم ہوا کہ اولیاے کرام کی وجہ سےشقاوت ،سعادت سے بدل جاتی ہے ۔

دفع عذاب:

اللہ تعالیٰ کے نیک اور صالح بندوں کی وجہ سے عذاب ڈل جاتا ہے ، اس سلسلے میں اگر واقعات کو تفصیل سے جمع کیا جائے تو کلام طویل ہوجائے گا ،میں یہاں صرف دو واقعے ہد یہ ناظرین کرتا ہوں ۔

ایک رات خود حضرت مجدد اپنے عالی درجات اصحاب اور بلند مقامات مریدوں کے ساتھ حضرت امام رافع الدین کے مزار پر انوار کی زیارت کے لیے تشریف لے گئے ، امام صاحب آپ کے اجداد اکبار میں سے تھے ، اور حضرت سید جلال الدین مخدوم جہاں گیر کے خلفا میں سے تھے ۔ آپ بہت دیر تک امام صاحب کی قبر کے قریب ٹھہرے رہے اور مراقبے میں رہے ،اس مزار سے رجوع کے بعد آپ نے اصحاب اسرار سے فرمایا کہ جب میں امام صاحب کے مزار کے مقابل کھڑا ہوا تو میں نے بارگاہ الٰہی جلت عظمتہ میں توجہ کی اور عرض کیا کہ ان مزارت والوں پر

رحم فرما اور ان قبروں سے عذاب دور فرما، حکم ہوا تمہاری التماس کی وجہ سے ایک ہفتے کے لیے اس قبرستان والوں سے عذاب اٹھا لیا گیا، میں نے عرض کیا خدایا تیری رحمت کی انتہا نہیں ہے ،ان کی مغفرت میں اضافہ فرمادے تو حکم ہوا کہ تمہاری التماس پراب ایک ماہ کے لیے ان قبروں پرسے ہم نے عذاب دور کر دیا ،پھر میں نے بیش از بیش التجا کی تو جواب ملا کہ چوں کہ تم نے اس جماعت سے رفع عذاب کے لیے ہماری بارگاہ میں مکرر التماس کی ہے ؛اس لیے ہم نے ان کو بخش دیا۔

ایک روز آپ اپنے والد خواجہ عبد الاحد کی قبر کی زیارت کے لیے تشریف لے گئے ،وہاں خیال آیا کہ حدیث نبوی (علی مصدرہ الصلوۃ و السلام) میں آیا ہے کہ جب کو ئی عالم کسی مقبرے سے گذرتا ہے تو اہل مقبرہ سے چالیس روز کے لیے عذاب اٹھا لیا جاتاہے ،اسی وقت الہام ہوا کہ تمہارے آنے سے قیامت تک کے لیے اس مقبرے والوں سے ہم نے عذاب اٹھا لیا۔ (حضرات القدس ،ص:1۰1 )

اہل قبر سے عذاب کا دفع ہو جانا کتنا بڑا دفع ِ بلا ہے ، مگر ان ذہن کیوں اس بات کو قبول کریں گے ، جن کے یہاں انبیاے کرام بلکہ سید الانبیا علیہم الصلوات و التسلیم بھی دافعِ بلا نہیں ہیں ،درود تاج اس لیے پڑھنا غلط ہے کہ اس میں آپ ﷺ کو دافع البلاء و الوباء کہا گیا ہے ۔

اس موضوع پر آپ سیر حاصل گفتگو دیکھنا چاہیں تو مجدد دین و ملت سیدنا امام احمد رضا قدس سرہ‘ کا رسالہ مبارکہ الامن و العلیٰ دیکھیے ، حق کے دریا لہراتے نظر آئیں گے ۔ اگر شقاوت کی مہر نہیں لگی ہے تو ان شا اللہ ہدایت کے نور سے قلب پر نور ہو جائےگا اور اگر صفت یقن ہے تو کامل یقین حاصل ہو گا ۔

بزرگوں سے مدد مانگنا:

یہ بڑا اہم مسئلہ ہے کسی زمانے میں بلا اختلاف سب کا معمول تھا اولیاے کرام سے مدد طلب کرنا اور مانگنا اور ان کی ہمت و توجہ کا طالب ہونا اور اپنی مشکلات کو حل کر نا ،ایک ایسی چیز ہے جس پر اہل حق ہمیشہ سے متفق رہے ،مگر کچھ عرصے سے چند سرپھروں نے شرک و بدعت کی آندھی چلائی تو یہ معروف و مشہور مسلّمہ بھی زد سے محفوظ نہ رہ سکا امام اہل سنت قدس سرہ ‘ کتنی عمدہ اور مضبوط بات فرما تے ہیں؎

حاکم،حکیم ،داد و دو ا دیں یہ کچھ نہ دیں

مردود یہ مراد کس آیت خبر کی ہے

اس سلسلے میں حضرت مجدد الف ثانی کے یہ چند فقرے ایمان کو روشن کرنے کے لیے بہت کافی ہیں:

درویشانے کہ قدم راسخ در شریعت دارند و از عالم حقیقت نیک شناسا انداز ایشاں ہمتے باید طلب نمود و مددے باید جست تا عنایت حق سبحانہ از دریچہ ایشاں ظاہر شدہ تمام بجانب جناب قدس خود تعالیٰ جذب نماید و مخالفت را در وے گنجائش نماند تا سر موتے راں مخالفت شریعت کشادہ است محل نظر ست تمام سبل مخالفت را باید مسدود ساخت ۔

محال است سعدی کہ راہ صفا

تواں رفت جز درپے مصطفیٰ

یعنی وہ درویش جو شریعت میں مضبوط قدم رکھتے ہیں اور عالم حقیقت سے اچھی طرح واقف ہیں ،ان سے ہمت (مدد) طلب کرنا چاہیے ؛ تاکہ حق سبحانہ کی عنایت ان درویشوں کے دریچے سے ظاہر ہو کر اللہ تعالیٰ کی بارگاہ کی طرف کھینچ لے اور اس میں کسی مخالفت کی گنجائش نہ رہے ،جب تک شریعت کی مخالفت کا راستہ بال برابر کھلا رہے اس وقت تک خطرہ کا مقام ہے ، مخالفت کے تمام راستوں کو بند کرنا چاہیے ۔ اے سعدی ! مصطفیٰﷺ کے بغیر ، راہ صفا طے کرنا محال ہے ۔(مکتوب

۷۸ دفتر اول )اولیاے کرام سے ہمت و مدد طلب کرنے کے جواز میں حضرت مجددکا کلام اتنا صریح ہے کہ اس میں کسی وضاحت کی ضرورت نہیں ، یہی نہیں بلکہ حضرت کا کلام ایک توجہ دلا رہا ہے کہ اگر کوئی شخص چاہتا ہے کہ سرور کائنات ﷺ کی اتباع و پیروی اوراطاعت شریعت کی دولت سے مالا مال ہو تو وہ اولیاے کرام کو وسیلہ بنائے ، ان کی روحانیت سے ملتجی ہو ۔عنایت حق انہی کی توجہات عالیہ سے نصیب ہوتی ہے، صحیح طور پر خدا تک پہنچنا ہے تو انہی کی عنایت سے ہوگا۔

اولیاے کرام کے تبرکات:

ایک دن اجمیر شریف میں آپ قطب الاقطاب حضرت معین الدین چشتی قدس سرہ‘ کے مزار اقدس کی زیارت کے لیے تشریف لے گئے ، اور بہت دیر تک اس بدر الاولیا کی خدمت میں مراقب رہے ، جب باہر نکلے تو اپنے قریب والوں سے فرمایا کہ حضرت خواجہ قدس سرہ نے بہت لطف و کرم فرمایا اور اپنی خاص برکات سے ضیافت فرمائی ،اور رموز و اسرار بھی بیان فرمائے پھر لشکر کی رفاقت سے خلاصی کے لیے جولوگ میرے لیے کوشش کر رہے تھے ،اس سے منع فرمایا اور اسے اللہ تعالیٰ کی رضا پر چھوڑ دینے کا حکم فرمایا۔

اسی اثنامیں یہ ہوا کہ حضرت خواجہ قدس سرہ‘ کے مزار کی چادر جو ہر سال تازہ ڈالی جاتی ہے اور پرانی چادر کسی بڑے بزرگ کو بھیجی جاتی ہے ،بادشاہ وقت کو پیش کی جاتی ہے اور باد شاہ اس کو لعل کی طرح صندوق میں ادب و تعظیم کے ساتھ رکھتے ہیں حضرت مجدد کی خدمت میں بطور تحفہ پیش کی گئی اورمجاوروں نے کہا آپ سے زیادہ اس تبرک کا مستحق کون ہو سکتا ہے ،آپ نے پورے ادب و تعظیم کے ساتھ اسے قبول کیا اور فرمایا کہ حضرت خواجہ کے اس متبرک کپڑےکو میرے کفن کے لیے محفوظ رکھا جائے کہ اس وقت حضرت خواجہ نے لباس کی بجائے یہی چادر

عنایت فرما دی ہے۔(حضرات القدس، ص: ۱۱۴) تبرکات کے ادب و احترام او ر تعظیم و تکریم کے سلسلے میں یہ واقعہ زبردست دلیل ہے ،آج کل جہلا جسے حرام و ناجائز کہنا توحید سمجھ رہے ہیں ،حضرت مجدد اس کے بارے میں تاکید فرما رہے ہیں کہ اسے میرے کفن کے لیے محفوظ رکھا جائے۔

آج کل کے سنیوں کے اس طرح کے اقوال پر چاہے حرام ہونے کا حکم جڑیے یا شرک توپ چلائیے ، حضرت مجدد جیسے بزرگوں پر کوئی حکم لگا کر دیکھیے تو معلوم ہو جائے گا کہ ان جہالتوں کی وجہ سے دنیا میں ذلت و رسوائی اور آخرت میں حبط اعمال (اعمال برباد ہونا) کے سوا اور کچھ ہاتھ نہیں لگتا ۔اس سے یہ معلوم ہوا کہ چادر پوشی کا روا ج بہت پرانہ ہے ، اگر ادنی سی بھی قباحت کہ اس کے اندر ہوتی تو حضرت مجدد جیسا حق گو انسان کبھی بھی اس فعل پر خاموش نہیں رہتا ۔

خیال رہے کہ مذکورہ بالا تمام واقعات اس بات کی دلیل ہیں کہ حضرت زیارت قبور کے لیے تشریف لے جایا کرتے تھے۔ یہ تو بڑی واضح اور روشن بات ہے اس لیے اس کے لیے ہم نے کوئی مستقل عنوان قائم نہیں کیا۔ کتنا عجیب مقام ہے کہ جو سنت رسول اللہﷺ ہو، متعدد احادیث سے ثابت ہو اب اس پر بھی عمل کرنا یہ قبر کو پوجنا ہے۔ توحید کے نام پر کسی نے اس طرح ایمان نہیں لوٹا جس طرح کہ محمد ابن عبد الوہاب کے پس خوردہ استعمال کرنے والوں (وہابیوں اور دیوبندیوں) نے لوٹا ہے۔ آج اگر سب سے زیادہ گلشن اسلام کو نقصان پہنچ رہا ہے تو اسی وہابی فرقے کی باد سموم سے۔

ایک واقعہ خود حضرت مجدد قدس سرہ کے پیراہن سے متعلق اور سماعت فرما لیں جس کو آپ کے خلیفہ خاص حضرت مولانا محمد ہاشم صاحب‌رحمۃ اللہ علیہ نے برکات احمدیہ میں بیان فرمایا۔ اس سے قارئین اچھی طرح سمجھ لیں گے کہ حضرت مجدد

قدس سرہ کی نظر میں ان کپڑوں کی کیا اہمیت تھی جو حضرات اولیاے کرام کے بدن سے مس ہو جائیں اس سے اچھی طرح سمجھا جا سکتا ہے کہ جب اولیاے کرام کے برکات کا یہ عالم ہے تو انبیاے کرام علیہم الصلوات و التسلیمات کے تبرکات کا کیا درجہ ہوگا، فرماتے ہیں:

مولانا محمد امین نامی ایک بزرگ خواجہ دیوانہ سورتی‌رحمۃ اللہ علیہ کے مریدوں میں سے تھے۔ ایک سخت بیماری کا شکار ہو گئے اور طویل عرصہ گذر گیا، فقرا سے دعا بھی کرائی اور اور اطبا کا علاج بھی مگر کوئی سود مند نہیں ہوا جب حضرت مجدد قدس سرہ کی عظمت و رفعت کی صدا ان کے کانوں تک پہنچی تو نیاز مندی تمام کے ساتھ ایک عریضہ انھوں نے حضرت قدس سرہ کی بارگاہ میں ارسال کی جس میں ایسی توجہ طلب کی جو شفا بخش ہو نیز یہ بھی کہ کوئی تبرک بھی عنایت فرما دیا جائے۔

حضرت قدس سرہ کو بہت رحم آیا، آپ نے ایک عنایت نامہ (خط) ایک پیراہن مبارک کے ساتھ ارسال فرمایا۔ یہ خط چند نصائح پر مشتمل ہے اور پیراہن کے بارے میں فرماتے ہیں : ظاہر کی کمزوری کی فکر نہ کریں، قوی امید ہے کہ صحت عافیت سے بدل جائےگی، جامہ فقرا طلب کیا تھا بھیجا جا رہا ہے، آپ پہنیں اور اس کے نتائج و ثمرات کے منتظر رہیں کہ بہت برکت والا ہے۔

جو شخص اسے افسانہ تصور کرے اس کے لیے افسانہ ہے اور جس نے اسے نقد دیکھا وہی مردانہ ہے۔ حضرت مولانا نے اس پیراہن شریف کو پہنا تو اس لمبے مرض سے چھٹکارا مل گیا۔ آپ آئے اور حضرت کے مرید ہو گئے، اصل الفاظ یہ ہیں:

دیگر از ممر ضعف ظاہر اندیشہ نکند، ان شاء اللہ تعالیٰ بصحت و عافیت تبدل خواہد یافت خاطر ایں جانب ازیں رہ گذر جمع است جامہ فقرا کہ طلب داشتہ بودند پیراہن فرستادہ شد بپوشند و مترصد نتائج و ثمرات آں باشند کہ کثیر البرکت ست؎

ہر کس افسانہ بخواند افسانہ است

و آنکہ دیدش نقد خود مردانہ است

والسلام علی من اتبع الھدی و التزم متابعۃ المصطفیٰ علیہ و علیٰ آلہ من الصلوات اکملھا و آں پیراہن را در پوشید و ازاں مرض چندیں سالہ رہید و آمدہ از مریداں گشت۔ (برکات احمدیہ، ص: ۲۷۲۔۲۷۳)

سادات کرام کی عظمت و محبت:

حضرت مجدد قدس سرہ فرماتے ہیں: سادات کثیر البرکات بواسطہ جزئیت آں سرور دین و دنیا علیہ و علیٰ آلہ الصلوات و التحیات ازاں برتر است کہ بزبان قاصر بیان منقبت و مَحْمَدَت آں تواں کرد مگر آنرا وسیلہ سعادت خود دانستہ دریں باب جرأت نماید بلکہ خود را بتوسل آں می ستاید و اظہار مودت ایشاں کہ بآں مامور است می نماید اللھم اجعلنا من محبیھم بحرمۃ سید المرسلین علیہ و علیٰ آلہ و علیھم الصلاۃ و السلام

کثیر برکتوں والے سادات سرور دین و دنیاﷺ سے جزئیت (نسبی تعلق) کی بنا پر اس سے بلند تر ہیں کہ یہ فقیر زبان قاصر سے ان کی فضیلت اور صفت و ثنا کرے مگراپنی سعادت کا ذریعہ جانتے ہوئے اس معاملے میں جرأت کرتا ہے بلکہ اس وسیلے سے اپنی ستائش کرتا ہے اور ان کے ساتھ دوستی کا اظہار کرتا ہے جس کا مامور ہے۔ اے اللہ! ہمیں بطفیل سید عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ و علیٰ آلہ و سلم سادات کرام سے محبت کرنے والوں میں کر۔ (مکتوب: ۵۶)

محبت کے سلسلے میں فرماتے ہیں: و بایں محبت کہ نسبت بقرباء آنحضرت علیہ الصلاۃ و السلام و التحیۃ پیدا شدہ است رشتہ امیدواری تمام بدست آوردہ است حق سبحانہ و تعالیٰ بر محبت ایشاں استقامت ارزانی فرماید بحرمۃ سید البشر علیہ و علیٰ آلہ الصلاۃ و السلام۔ (مکتوب: ۵۵، دفتر اول)

اس محبت کے سبب جو حضورﷺ کے اقربا (سادات) سے پیدا ہو چکی ہے امیدواری کا رشتہ پورے طور پر ہاتھ میں لا چکا ہے۔ حق تعالیٰ ان حضرات کی محبت پر استقامت عطا فرمائے سید البشر علیہ و علیٰ آلہ الصلاۃ و السلام کے طفیل میں۔’’

حضرت مجدد قدس سرہ کی نظر میں سادات کی محبت و عظمت کیا تھی اس سے بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ مکتوب ۵۵، دفتر اول میں فرماتے ہیں:

و اہل بیت الرسول مثلہ کمثل سفینۃ نوح من رکبھا نجا و من تخلف عنھا ھلک، قال بعض العارفین ان رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ و علیٰ آلہ و اصحابہ و سلم جعل اصحابہ کالنجوم و بالنجوم ھم یھتدون و شبّہ اھل بیتہ بسفینۃ نوح اشارۃً الیٰ أن راکب السفینۃ لابد لہ من رعایۃ النجوم لیأمن من الھلاک و بدون رعایۃ النجوم النجاۃ ممتنعۃ قطعاً

اور رسول علیہ السلام کے اہل بیت کا حال حضرت نوح کی کشتی کی طرح ہے جو اس پر سوار ہوا نجات پاگیا اور جو اس سے دور رہا ہلاک ہو گیا۔ بعض عارفین کا قول ہے کہ رسول علیہ و علیٰ آلہ و اصحابہ الصلاۃ و السلام نے اپنے ارشاد میں صحابہ کرام کو ستارے قرار دیا اور ستاروں ہی سے لوگ راہ پاتے ہیں اور اپنے اہل بیت کو سفینہ نوح علیہ السلام سے تشبیہ دی اس طرف اشارہ کرنے کے لیے کہ کشتی پر سوار ہونے والے کے لیے ستاروں کی رعایت ضروری ہے تاکہ ہلاکت سے بچا رہے، ستاروں کی رعایت کے بغیر اس کے لیے نجات ناممکن ہے۔