باب ۲۱ از ۲۲صفحات ۲۳۸–۲۴۹
حقیقت ابراہیمی
یہ مقام بہت با عظمت اور کثیر بر کتوں والا ہے انبیاء کرام علیہم الصلوات والتسلیمات اس مقام میں حضرت ابراہیم علیٰ نبینا وعلیہ الصلوٰۃ والسلام کے تابع ہیں اللہ تعالیٰ نے سید الانبیاء ﷺ تک کو اسی لیے ملت ابراہیمی کی پیروی کا حکم دیا ہے یہی وجہ ہے کہ درود ابراہیمی جو نماز میں پڑھا جاتا ہے،میں سید عالم ﷺ نے جن صلوات و برکات کو اپنے لیے طلب فرمایا ہے، ان کو حضرت ابراہیم علیٰ نبینا و علیہ الصلوٰۃ و السلام کی صلوات و برکات سے تشبیہ دی ہے اس مقام کی خیر وبرکت کا اندازہ درود ابراہیمی سے بخوبی کیا جا سکتا ہے،کثرت سے درودِ پاک پڑھنا اس مقام میں موجب ترقی ہے،سالک کو ایک خاص انس اور خلوت مختصہ حضرت حق سبحانہ کے ساتھ اس جگہ حاصل ہوتی ہے اور صفاتِ محبوبیت جو کی عالمِ مجاز میں محبوب کے خد و خال اور قد و عارض وغیرہ کی محبوبیت کا نام ہے اس مقام میں جلوہ گر ہوتی ہے۔(انہار اربعہ)
حقیقت موسوی:
مذکورہ بالا مقام کی سیر تمام ہو جانے کے بعد سیر سالک کی ابتدا دائرۂ حقیقت مو سوی میں ہوتی ہے جو کہ محبت صرفہ ذاتیہ سے کنا یہ ہےاس مقام میں ایک عجیب کیفیت پوری قوت سے ظاہر ہوتی ہے اور محبت ذات اپنی ذات کے لیے جلوہ گر ہوتی ہے اور محبت ذاتی کے ظہور کے باوجود شان استغنا و بے نیازی بھی خوب آشکارا ہوتی ہے یہی وجہ ہے کہ بعض اوقات حضرت موسیٰ علیٰ نبینا و علیہ الصلوٰۃ والتسلیم سے بارگاہِ الوہیت میں ایسے کلمات صادر ہو ئے ہیں کہ جن کے ظاہر سے سوء ادبی مفہوم ہوتی ہے۔
بہت سے انبیاء کرام علیہ السلام حضرت کلیم اللہ علیٰ نبینا و علیہ الصلوٰۃ والسلام کی اتباع و پیروی سے اس مقام تک پہنچے ہیں اور قرب و معیت میں ممتاز ہوئے۔
حقیقت محمدی:
حقیقت موسوی کے مقام کے اوپر حقیقۃ الحقائق کا مرتبہ ہے جس کا نام حقیقت محمدی ہے علیٰ صاحبہا الصلاۃ والسلام اس مقام میں اس ذات کا مراقبہ کیا جاتا ہے جو کی محب خود ہے اور محبوب خود ہے گویا لفظِ محمد کے دونوں میم اسی محبیت اور محبوبیت کی طرف اشارہ فرما رہے ہیں،اس مقام میں ایک مخصوص طرز کی فنا و بقا ظاہر ہوتی ہے اور اس سرور دین صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے ایک خاص اتحاد حاصل ہوجاتا ہے،اکابرین اولیاء اللہ نے جو فرمایا ہے کہ درمیان سے واسطہ مرتفع ہو جاتا ہے در اصل اس کی حقیقت اسی مقام پر معلوم ہوتی ہے۔
یہاں تابع متبوع کے ساتھ ایسی مشابہت اختیار کر لیتا ہے کہ گویا تبعیت کا نام ہی درمیان سے اٹھ گیا اور ایسا محسوس و متوہم ہوتا ہے کہ تابع متبوع سے جو بھی اخذ فیوض کر رہا ہے وہ اصل سے کر رہا ہے گویا دونوں ایک چشمہ سے پانی پی رہے ہیں اور دونوں باہم شیر وشکر کی طرح معلوم ہو تے ہیں اس کے با وجود سید کائنات ﷺ کے ساتھ ایسی الفت و محبت خاص اس مقام میں حاصل ہوتی ہے،جس سے حضرت مجدد قدس سرہ کے اس قول‘‘خدائے عز وجل را برائے آں دوست می دارم کہ رب محمد ﷺ است ’’ کی حقیقت ہویدا ہوجاتی ہے۔
سالک کو اس مقام میں اپنے دینی و دنیوی جملہ حرکات و سکنات میں محبوبِ رب العٰلمین ﷺ کی اتباع کمال درجہ مرغوب ہو تی ہے،کثرت درود شریف اس مقام میں مفید ترقی ہے،خیال رہے حقیقت محمدی علیٰ صاحبہا الصلوٰۃ والسلام جو کہ ظہور اول ہے،حقیقۃ الحقائق ہے بایں معنیٰ کہ دیگر جملہ حقائق خواہ حقائق انبیاء کرام ہوں یا حقائق ملائکہ عظام و غیرہ علیہ و علیہم الصلوٰۃ والسلام سب آپ کی حقیقت کے مقابل
.......................
۔اللہ عز وجل سے اس لیے محبت ہو کہ وہ حضرت محمد مصطفیٰﷺ کا رب ہے۔
حقیقت احمدی:
حقیقت محمدی کے بعد سالک کا وصول حقیقتِ احمدی علیٰ صاحبہا الصلوٰۃ والسلام کے دائرے میں ہوتا ہے اس مقام میں اس ذات کا مراقبہ کیا جاتا ہےجو کہ محبوب خود ہے،نسبت بلند انوار کی عظیم شعاؤں کے ساتھ اس مقام میں ظہور کرتی ہے اور ایسی عجیب و غریب کیفیت حاصل ہو تی ہے جسے تقریر و تحریر کے ذریعہ بیان نہیں کیا جاسکتا ہے،اس بلند مقام میں محبوبیت ذاتیہ کا انکشاف ہوتا ہے یعنی اس محبت کا ظہور ہوتا ہے جو بنظر ذات ہو صفات جمیلہ، خد وخال،قدورخسار وغیرہ سے قطع نظر کرتے ہوئے جس کا خلت میں بیان ہو چکا ہے ذات محبوب میں ایسی چیز ہوتی ہے جو کہ محب کے تعشق کا سبب بنتی ہے اور ایسا ذوقی امر ہوتا ہے کہ جب تک ذوق نہ ہو اس کا مزہ پایا نہیں جا سکتا ہے۔
حقائق مذکورہ بالا سے متعلق حضرت مجدد قدس سرہ کے مکتوبات قدسی آیات سے چند باتیں نقل کرکے سپرد قلم کرتا ہوں جس سے مذکورہ امور کی وضاحت بھی مقصود ہے اور انبیاء عظام کے مراتب عالیہ سے غافل انسانوں کو خبردار کرنا بھی ہے تاکہ ان نفوس قدسیہ کی عظمتیں پہچانیں اور توہین و تنقیص کا شکار ہو کر نارِ جحیم (جہنم) میں ابدی ٹھکانہ نہ بنائیں۔
اسرارِ خلت:
حضرت مجدد قدس سرہ فرماتے ہیں:‘‘خلت بہت بلند اور کثیر البرکت مقام ہے عالم مجاز میں جس شخص کو بھی دوسرے سے انس و الفت اور سکون و آرام ہے سب مقام خلت کے ظلال سے ہے،باپ کو جو الفت بیٹے سے اور بھائی کو بھائی سے اور شوہر کر بیوی سے ہے یہ سب خلت کی جنس ہے،اگر درمیان میں خلت اور انس و
الفت نہ ہوتی تو کوئی مرکب وجود میں نہ آتا اور مرکب کا کوئی جز خاص طور پر وہ اجزا جن میں تضاد ہے دوسرے سے منضم اور پیوست نہ ہوتا بلکہ کوئی وجود اپنی ماہیت سے انضمام اختیار نہ کرتا بلکہ کوئی عالم واجب تعالیٰ کی ایجاد کے تحت داخل نہ ہوتا کیونکہ وہ محبت ہی ہے جو ایجاد کے سلسلے کو حرکت میں لائی ہے اور اشیاء کے وجود کی باعث ہوئی۔
حدیث قدسی میں ہے: ‘‘کنت کنزا مخفیا فأجببت ان اعرف فخلقت الخلق’’ یعنی میں ایک پوشیدہ خزانہ تھا پس میں نے چاہا کہ پہچا نا جاؤں تو میں نے مخلوق کو پیدا کیا،اور حب خلت کا کامل فرد ہے خلت اور محبت کے درمیان عموم و خصوص کی نسبت ہے کیونکہ انس و والفت کے حد سے گزرنے اور بڑھ جانے کا نام محبت ہے جو کہ گرفتاری کا باعث ہو تی ہے اور بے قراری اور بے آرامی لاتی ہے،اور خلت سراسر انس و الفت و آرام کا نام ہے،وہ محبت ہے جس نے گرفتاری کی دنیا بنائی اور خلت کے دیگر افراد سے ممتاز ہو ئی گویا کہ یہ جنسِ دیگر ہو گئی ہے۔
خلت کے افراد سے ممتاز ہو کر محبت نے جو ہنر پیدا کیا ہے وہ درد و حزن ہے جبکہ نفس خلت ہمہ عیش ہی عیش،فرح در فرح،انس در انس ہے،ہو سکتا ہے اسی وجہ سے حضرت حق سبحانہ نے اپنے خلیل علیٰ نبینا و علیہ الصلاۃ و السلام کو دنیا میں بھی جو کہ مشقتوں کا گھر ہے عمل کا اجر کرامت فرمایا ہے اور آخرت میں بھی جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے:
وَ اٰتَیۡنٰہُ اَجْرَہٗ فِی الدُّنْیَا ۚ وَ اِنَّہٗ فِی الْاٰخِرَۃِ لَمِنَ الصّٰلِحِیۡنَ (اور ہم نے دنیا میں اس کا ثواب اسے عطا فرمایا اور بیشک آخرت میں وہ ہمارے قرب ِخاص کے سزاواروں میں ہے)
اور محبت چونکہ درد و حزن کا منشأ ہوئی لہٰذا ہر وہ فرد جس میں محبت غالب ہو گی
درد و حزن زیادہ ہو گا،اسی وجہ سے سید عا لم ﷺ کی کیفیت کے بارے میں متواصل الحزن اور دائم الفکر کے الفاظ آئے ہیں یعنی آپ ﷺ ہمیشہ غمگین اور فکر مند رہا کرتے تھے،نیز آپ ﷺ نے فرمایا ہے: ‘‘ما اوذی نبیٌّ مثل ما اوذیت’’ یعنی کسی نبی کو اتنی ایذا نہیں دی گئی جتنا کہ مجھے دی گئی کیونکہ آپ ﷺ افراد انسانی میں محبت کے حصول میں فرد کامل تھے،آپ ﷺ ہر چند محبوب ہیں لیکن چونکہ نسبت محبت درمیان میں آگئی تو محبوب بھی محب کی طرح شیفتہ و گرفتار ہو ئے۔
غرضیکہ یہ ساری جلوہ گری خلت ہی کی ہے اگر خلت نہ ہوتی تو کوئی چیز موجود نہ ہوتی اور کوئی شخص دوسرے کے ساتھ جمع نہ ہوتا اور نہ ہی الفت کرتا،عالم کا وجود اور اس کا نظام دونوں خلت سے وابستہ ہیں اگر خلت نہ ہوتی تو نظام بھی وجود کی طرح مفقود ہوتا،لہٰذا خلت ہی ایجاد کی اصل ہو ئی جانب مو جد میں بھی اور جانب وجود میں بھی،کیونکہ خلت ہی ہے جس نے ممکن کو قبول و جود کے ساتھ مانوس کیا ہے اور قید ایجاد میں لائی ہے بلکہ عدم نے بھی اپنے خلوت خانہ میں دولت خلت سے آرام پایا ہے اور اپنی نیستی کے ساتھ بنایا(با نیستیِ خود ساختہ)بلکہ اپنی نقیض یعنی وجود کے ساتھ بھی انس حاصل کر کے اس کے کمالات کا آئینہ ہوا ہے اور وجود ممکنات کا واسطہ بنا پس خلت تمام اشیا سے مبارک تر ثابت ہوئی اور اس کے برکات موجود و معدوم کو شامل ہوئے۔’’
مقام خلت کے دقیق معارف اور عموم برکات جب آپ اچھی طرح جان چکے نیز یہ بھی معلوم ہو گیا کہ یہ مقام خلت بالاصالت حضرت ابراہیم خلیل اللہ علیٰ نبینا و علیہ الصلاۃ والسلام کے ساتھ مخصوص ہے اور اس کی ولایت ولایت ابراہیمی ہے تو آپ
........................
۔ہمیشہ غمگین رہنے والا۔ 1
۔ہمیشہ فکر مند رہنے والا۔2
یہ جان لیجیے کہ حضرت مجدد قدس سرہ فرماتے ہیں:‘‘جان کو! اب اس فقیر پر ان معارف کے برکات کے توسل سے ظاہر کیا ہے کہ تعینِ اول حضرت ذات کا تعین ہے حضرت وجود سے اور وہ تعین اول وجودی حضرت خلیل کا رب ہے علیٰ نبینا و علیہ و علیٰ جمیع الانبیاء الصلوٰۃ والتحیۃ و البرکۃ والسلام اسی لیے آپ سب کے امام ہو ئے(ارشاد ربانی ہے)
‘‘اِنِّیۡ جَاعِلُکَ لِلنَّاسِ اِمَامًا’’اور سید البشر کو آپ کی ملت کی متابعت کا حکم دیا گیا‘‘وَّ اتَّبَعَ مِلَّۃَ اِبْرٰہِیۡمَ حَنِیۡفًا’’علیٰ نبینا وعلیہ الصلوٰۃ و السلام اور باقی تعینات اسی تعینات وجودی کے ضمن میں داخل ہیں اگر تعین علمی اجمالی ہے تو بھی اسی کے ضمن میں اور اگر تفصیلی ہے تب بھی اسی کے ضمن میں مندرج ہے،ہو سکتا ہے اسی وجہ سے ہمارے پیغمبر ﷺ حضرت ابراہیم علیہ السلام کو ابوّۃ (باپ) سے یاد کرتے تھے اور باقی انبیاء کرام کو اخوّۃ (بھائی) سے علیٰ اجمعہم الصلوات و التسلیمات۔’’
ایک دوسرے مکتوب میں فرماتے ہیں:‘‘اور وہ جو آخر کار کرم وفضل سے مکشوف کیا گیا ہے وہ یہ ہے کہ حضرت ذاتِ تعالیٰ و تقدس کا تعین اول تعین وجود ہے جو کہ تمام اشیا کو محیط ہے اور تمام اضداد کا جامع اور خیر محض و بہت بابرکت ہے حتیٰ کہ اکثر مشائخ نے اسے عین ذات اور ذات پر وجود کی زیادتی منع کی ہے یہ غایت درجہ دقت و لطافت رکھتا ہے ہر شخص کی نظر اس کو دریافت نہیں کر سکتی ہے اور نہ ہی اصل سے جدا کر سکتی ہے لہٰذا اس کا تعین اس مدت میں پو شیدہ رہا اور متعین سے ممتاز نہ ہو سکا۔
ایک جم غفیر اس کو خدا سمجھ کر پوجتا رہا اور معبود و مطلوب کو اس کے ماوراء طلب نہیں کیا ،آثارِ خارجی کا مبدأ اسی کو جانا اور حوادث یومیہ کا موجد اسی کو سمجھا،حق
کو غیر حق سے ممتاز کرنے کی دولت اس مسکین پس ماندہ کے لیے ذخیرہ کی گئی تھی اور معبود کی غیر معبود سے مشارکت کی نفی انبیاء کرام علیہم الصلوات و التسلیمات کا وہ پس خوردہ تھی جو اس خادم کے واسطے محفوظ رکھی گئی تھی۔’’
نیز مکشوف کیا ہے کہ یہ تعین اول وجودی خلیل الرحمٰن کا رب ہے علیٰ نبینا و علیہ الصلوات والتسلیمات اور یہی آپ کا اور آپ کی خلت کا مبدأ تعین ہے۔
خلیل و حبیب علیہما السلام کے مراتب کا فرق:
حضرت مجدد قدس سرہ فرماتے ہیں:‘‘نیز یہ مکشوف ہوا ہے کہ اس تعین(وجودی)کا مرکز جو کہ اس کا جزء اشرف ہے اور دیگر اجزاء میں اصل سے قریب ہونے کی نسبت رکھتا ہےخلیل اللہ کا رب ہے اور آپ کی محبت کی تعین کا مبدأ بھی علیہ الصلاۃوالسلام۔’’
یہاں پر ایک سوال یہ پیدا ہو سکتا تھا کہ جب تعین اول حضرت خلیل کا رب ہے تو ہمارے رسول علیہ و علیٰ خلیل الرحمٰن الصلاۃ والسلام کے فرمان:‘‘اول ما خلق اللہ نوری’’(سب سے پہلے اللہ تعالیٰ نے میرا نور پیدا فرمایا) کا کیا مطلب ہے؟
حضرت مجدد قدس سرہ جواباً فرماتے ہیں:‘‘دائرہ کا مرکز دائرہ کے تمام اجزا میں اسبَقْ(سابق تر)ہوتا ہے نیز جز کو کل پر تقدم حاصل ہے پس لا محالہ سرکار ﷺ کا مبدأ تعین جس کی تعبیر آپ نے نور سے فرمائی ہے سب سے اسبق ہوگا علیہ و علیٰ آلہٖ الصلاۃ والسلام،مرکز دائرہ اگرچہ جزو دائرہ ہے اور دائرہ اس کا کامل ہے لیکن وہ (مرکز)ایسا جزء ہے کہ باقی تمام اجزا اسی سے ناشی ہوئے ہیں کیونکہ محیط دائرہ دائرہ کے تمام اجزا اس جز کے ظلال ہیں جو اس دائرہ کا مرکز ہے اگر وہ جز نہ ہوتا تو دائرہ کا نام و نشان نہ ہوتا۔
تو واضح ہو گیا کہ حضرت خلیل کا رب اور مبدأ تعین تعین اول ہے اور اس تعینِ اول کا منشأ جو کہ مرکز کا جز ہے اور اس کے تمام اجزا میں شرف ہے حضرت خاتم الرسل علیہ و علیہم الصلوات و التسلیمات کا رب اور مبدأ تعین ہے لہٰذا سب سے اسبق خاتم نبوت ﷺ کی حقیقت ہو ئی اور سب کے ظہور کا منشأ بھی آپ ہی ہیں،علیہ و علیٰ جمیع الانبیاء الصلوات و البرکات،اسی لیے حدیث قدسی میں آیا ہے؛اگر آپ نہ ہوتے تو میں آسمان پیدا نہ کرتا اور ربوبیت ظاہر نہ کرتا۔’’
اور چونکہ حضرت خاتم الرسل ﷺ کا مبدأ تعین،تعینِ اول کے دائرے کا مرکز ہے جو تعین اول کہ رب خلیل ہے علیٰ نبینا و علیہ الصلاۃ والسلام اسی لیے لا محالہ ولایت محمدی جس کا منشأ محبت ہے اس ولایت خلیل کا مرکز ہو گی جس کا منشأ خلت ہے علیٰ صاحبہا الصلاۃ والسلام اور ولایت خلیل اولیت کے با وجود ولایت محمدی اور حضرت ذات تعالیٰ و تقدس کے درمیان حاجز و حائل نہیں ہو گی کیونکہ مرکز دائرہ دائرہ سے سبقت ذاتی رکھتا ہے لہٰذا خلف حائل سلف نہیں ہوگا بلکہ معاملہ اس کے بر عکس ہے۔
اس مرکز کے (اصل سے)قریب ہونے اور سابق ہونے کی دوسری وجہ سنو!جب اللہ سبحانہ کی عنایت سے اس مرکز میں دور دور جایا جاتا ہے تو اسی نقطہ سے جس کا حامل محبت ہے اور محب و محبوب ممتاز ہوتے ہیں،ایک دائرہ کی صورت پیدا ہوتی ہے جس کا مرکز محبوبیت ہے اور اس کا محیط مُحِبّیت اور یہ محبیت ولایت موسوی کا مبدأ ہے علیٰ نبینا و علیہ الصلاۃ والسلام،اس دائرہ کی محبوبیت ولایت محمدی علیٰ صاحبہا الصلاۃ والسلام تو یہ مرکز محبوبیت اس مرکز محبیت سے جو کہ دائرہ ہو گئی ہے پیش قدم اور حضرت ذات تعالیٰ سے نزدیک تر ہوا کیونکہ مرکز کو وہ سبقت و قرب ہے جو دائرہ کو نہیں ہے۔
اسی طرح اس مرکز کو محیط دائرہ کی بنسبت نیز وہ قرب و سبقت ہے جو کہ محیط کو نہیں ہے،پس ولایت موسوی سے بھی ولایت محمدی سابق تر اور قریب تر ہوئی علیٰ صاحبہا الصلاۃ والسلام۔
ولایت محمدی کے قرب و سبقت کی دوسری وجہ اور بھی سنیے!جب اللہ سبحانہ کے فضل سے اس مرکز محبوبیت میں دور دور جایا جاتا ہے تو وہ مرکز بھی بصورت دائرہ ظاہر ہوتا ہے جس کا مرکز محبوبیت صِرف(خالص) محسوس ہوتی ہے،اور اس کا محیط وہ محبوبیت ظاہر ہوتی ہے جو مخلوط بہ مُحبیت جو کہ آپ کے افراد امت میں سے ایک کا نصیب ہے۔
آپ ﷺ کی تبعیت بلکہ ولایت موسوی کی تبعیت سے بھی (اعلیٰ ہے) علیٰ نبینا و علیہ الصلاۃ والسلام جو کہ محیط دائرہ کے مناسب ہے،اسی وجہ سے منقول ہوا ہے کہ ولایت محمدی ہمہ وقت مرکز ہے اور محبیت کا منشأ بھی اسی ولایت کے برکات سے ہے کہ مُحبیت کے اختلاط کی وجہ سے دائرہ کا مرکز ثانی ہو گئی ہے،حضرت مجدد قدس سرہ کے اصل الفاظ یہ ہیں‘‘آں مر کز ثانی دائرہ گشتہ است’’ اور دوسرا مرکز اس سے پیدا ہوا،معلوم ہونا چاہیے کہ اس تیسری مر کزیت کے سامنے کام بہت آیا اور نزدیکتر سے نزدیک تر بنادیا۔
ایک مقام پر ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے فرماتے ہیں کہ ذات تک وصول بھی تجلیِ ذات تعالیٰ و تقدس کی طرح دو قسم پر ہے ایک وصول بہ اعتبار نظر ہے صاحب نظر نہیں اور دوم بہ اعتبار قدم، اول صورت میں ذات تعالیٰ سے واصل صرف نظر ہے صاحبِ نظر نہیں اور دوم میں ناظر یعنی خود صاحب نظر واصل ہے۔
وصول کی پہلی قسم یعنی نظری بالاصالت حضرت خلیل علیٰ نبینا و علیہ الصلاۃ والسلام کا نصیب ہے کیونکہ حضرت ذات تعالیٰ سے تعینات میں قریب تر تعین اول
ہے جو کی حضرت خلیل علیٰ نبینا و علیہ الصلاۃ والسلام کا رب ہے جب تک اس تعین تک نہیں پہنچتا ہے اس کے ماوراء تک نظر نفوذ نہیں کرتی ہے۔
اور وصول کی وہ قسم جو بہ اعتبار قدم ہے بالاصالت حضرت حبیب ﷺ سے مخصوص ہے جو کہ محبوب رب العٰلمین ہیں،محبوبوں کو اس جگہ لے جاتے ہیں کہ خلیل علیٰ نبینا و علیہ الصلاۃ والسلام اس جگہ سے عاجز ہیں،مگر حبیب ﷺ کی تبعیت میں خلیلوں کے لے جاتے ہیں،کوئی خلیل چاہیے کہ اس کی نظر محبوبوں کے سردار ﷺ کے وصول کے مقام تک پہنچے اور راہ میں کوتا ہی نہ کرے۔
خلاصہ یہ کہ تجلیِ ذات بیک وجہ در اصل حضرت خلیل علیٰ نبینا و علیہ الصلاۃ والسلام سے مخصوص ہے اور دوسرے آپ کے تابع ہیں اور دوسری وجہ کے لحاظ سے بالاصالت وہ تجلی حضرت خاتم الرسل ﷺ سے مخصوص ہے اور دیگر حضرات آپ ﷺ کے تا بع ہیں اور چونکہ وجہ دوم قوی تر اور زیادہ دخیل ہے مراتب قرب میں اس لیے لا محالہ تجلی ذات کو زیادہ تر مناسبت حضرت خاتم الرسل ﷺ کے ساتھ ہوئی اور آپ ﷺ کے ساتھ اس نے تخصیص پیدا کرلی، اور آپ ﷺ اورحضرت خلیل علیٰ نبینا و علیہ الصلاۃ والسلام باقی تمام انبیاء کرام علیہ و علیہم الصلوات والتسلیمات والتحیات سے افضل ہو ئے۔
پس انبیا کے درمیان فضلی کلی انھیں دونوں حضرات کا نصیب ہے اگر چہ ان میں ایک(حضرت حبیب ﷺ)دوسرے(حضرت خلیل علیٰ نبینا و علیہ الصلاۃ والسلام) سے افضل ہو ئے۔
اور حضرت موسیٰ علیٰ نبینا و علیہ الصلاۃ والسلام چونکہ محبین کے سردار ہیں جس طرح ہمارے پیغمبرﷺ محبوبوں کے سردار ہیں اس لیے ناچار حضرت موسیٰ علیٰ نبینا و علیہ الصلاۃ والسلام کو بحکم المرء مع من احب حضرت ذات تعالیٰ کے ساتھ
ایک ایسی معیت ہے جو دوسروں کو نہیں،نیز اس میں انھیں ایسی قدمگاہ حاصل ہے صرف اسی محبت کے طفیل جو دوسروں کو اس جگہ کو ئی دخل نہیں ہے لیکن یہ فضل جزئی کی طرف راجع ہے،کہا جاتا ہے کہ یہ کلی کے برابر ہے کیونکہ انبیاء کرام علیہم السلام کا ایک کثیر گروہ اس مقام میں آپ کے تابع ہے اس کے باوجود فضل کلی وہی ہے جو کہ حضرت خلیل و حبیب کا نصیب ہے علیہما الصلوات والتحیات۔
ایک مقام پر حضرت خلیل علیٰ نبینا و علیہ الصلاۃ والسلام کے فضائل بیان کرتے ہوئے حضرت مجدد قدس سرہ فرماتے ہیں:‘‘لیکن وہ محبوبیت جو کہ حضرت خاتم الرسل ﷺ کا نصیب ہے قرب کے تمام مراتب و فضائل پر غالب اور راجح ہو ئی اور سب سے پیش قدم بنادیا،ہزار مراتب قرب ایک نسبت محبوبیت کے برابر نہیں ہو سکتے ہیں،محب اپنے محبوب کو اپنے سے بھی زیادہ عزیز تر رکھتا اور چاہتا ہے دوسروں کو کیا حق ہے کہ آپ سے مشارکت چاہیں۔’’