مواد پر جائیں

باب ۱۰ از ۲۲صفحات ۱۱۵–۱۲۷

بدعت

حضرت مجدد الف ثانی قدس سرہ کے کلام میں شدت کے ساتھ اتباع سنت اور اجتناب از بدعت کا حکم ملےگا بدعت ظاہر ہے کہ ایک نہایت قبیح اور بری شے ہے جس کا سید عالمﷺ نے خوب خوب رد فرمایا ہے عام طور پر بزرگوں نے بدعت کی تقسیم حسنہ اور سیئہ کی طرف کی ہے، حسنہ کی آڑ لے کر حضرت مجدد قدس سرہ کے مبارک دور میں خام صوفیوں نے بڑی بڑی غلط چیزیں ایجاد کر رکھی تھیں جن کا عقائد و اعمال پر برا اثر پڑ رہا تھا۔ حضرت مجدد قدس سرہ کی بالغ نظر نے بھانپ لیا اور یہ چور دروازہ ہی بند کر دیا بعض مقامات پر اس تقسیم ہی کا رد فرما دیا ایک جگہ فرماتے ہیں۔

علما نے کہا ہے کہ بدعت دو قسم ہے حسنہ و سیئہ۔ حسنہ اس عمل نیک کو کہتے ہیں کہ سرکار علیہ السلام اور خلفاے راشدین رضی اللہ عنہم کے زمانے کے بعد پیدا ہوا ہو اور سنت کا رفع نہ کرے اور سیئہ وہ کہ رافع سنت ہو یہ فقیر ان بدعتوں میں سے کسی بھی بدعت میں حسن و نورانیت مشاہدہ نہیں کرتا ہے اور ظلمت و کدورت کے علاوہ کچھ محسوس نہیں کرتا ہے۔ (مکتوب: ۱۸۶، دفتر اول)

مکتوبات شریف کے حاشیہ میں اسی مقام پر اس سلسلے میں بڑی نفیس بحث

درج ہے جس سے حضرت مجدد قدس سرہ کی بدعت سے صحیح مراد معلوم ہو جاتی ہے کہ کیا ہے محشی فرماتے ہیں۔ حضرت امام ربّانی قدس سرہ نے بدعت میں بڑی تشدید سے کام لیا، مکتوبات میں کتنی ہی جگہ (ایسا کیا) اور ان کو یہ حق تھا، اگر یہ نہ ہوتا تو بدعت کی تاریکیاں تمام بلاد ہند و ماوراء النہر کو گھیر لیتیں۔ حضرت مجدد کا قول اس سلسلے میں علماے اسلاف کے مخالف نہیں جنھوں نے بدعت کی حسنہ و سیئہ تقسیم کی ہے اور حسنہ سے ان کی مراد وہ ہے جس کی اصل صدر اول میں ہو اگرچہ اشارۃً صحیح ہو جیسے مینار و مدارس و خانقاہیں بنانا اور کتابوں کی تدوین دلائل کی ترتیب وغیرہ اور سیئہ وہ ہے جس کی اصل صدر اول میں بالکل نہ ہو۔ پس امام قدس سرہ قسم اول پر بدعت کا اطلاق نہیں کرتےکیوں کہ اس کی اصل صدر اول میں موجود ہے لہٰذا وہ مبتدع و محدث نہیں ہوگا بلکہ بدعت کا اطلاق صرف قسم دوم کے ساتھ خاص کرتے ہیں کیوں کہ وہی در حقیقت مبتدع و محدث ہے اور اس لیے کہ سرکار علیہ السلام نے فرمایا ہے: ہر بدعت گمراہی ہے، پس نزاع لفظی یعنی اول پر بدعت کے اطلاق اور عدم اطلاق میں سیدی محمد مظہر قدس سرہ نے مقامات سعیدہ میں فرمایا کہ میرے والد (خواجہ احمد سعید صاحب) ‌رضی اللہ عنہ فرماتے تھے کہ بدعت حسنہ امام ربّانی قدس سرہ کے نزدیک سنت میں داخل ہے ان کے نزدیک وہ بدعت ہی نہیں۔

اہل باطل یعنی فرقہ وہابیہ وغیرہا نے دیکھا کہ حضرت مجدد بدعت کے زبردست مخالف ہیں انھوں نے اس سے یہ تاثیر لیا کہ حضرت مجدد صاحب عقائد و اعمال میں ہمارے ساتھ متفق ہیں چوں کہ یہ لوگ اپنے مخصوص نظریات جو کہ سراسر قرآن و احادیث کے مخالف ہیں، کے مخالف کو بدعتی سمجھتے ہیں میری سمجھ میں آج تک نہیں آسکا کہ بدمذہب لوگ اہل حق کو کس بنیاد پر بدعتی تصور کرتے ہیں اگر بدعت

کے معنی یہ لیتے ہیں کہ ہر نئی چیز جو سرکار علیہ السلام کے بعد ایجاد ہوئی ہو تو اس معنی کر وہ خود بہت بڑے بدعتی ہیں اس معنی کے اعتبار سے تو امت کی اکثریت بدعتی قرار پائےگی۔

بڑے بڑے الیاے کرام اور علماے عظام بھی پکے بدعتی قرار پائیں گے خود حضرت مجدد الف ثانی قدس سرہ جو بدعت کے بہت بڑے مخالف ہیں وہ بھی بدعت سے پاک نہیں رہ سکیں گے پہلے صفحات میں آپ پڑھ چکے فاتحہ و عرس وغیرہ حضرت مجدد قدس سرہ کیا کرتے تھے، بڑے فرزند حضرت خواجہ محمد صادق‌رحمۃ اللہ علیہ کے مزار مقدس پر آپ نے قبہ بنایا غرضیکہ امور بدعت کی ایک طویل فہرست ہوگی جو حضرت مجدد قدس سرہ پر چسپاں ہو سکے گی۔ کیا یہ حضرات حضرت مجدد قدس سرہ کو بدعتی کہنے کے لیے آمادہ و تیار ہوں گے۔ ایک مرتبہ کہہ کر تو دیکھیں معلوم ہو جائےگا خلق و خالق کی طرف سے کتنی لعنتوں کی بوچھار ہوتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ بدعت کی کوئی ایسی تعریف اس فرقہ کا بڑا سے بڑا مولوی بھی نہیں کر سکتا ہے جس کی بنیاد پر حضرت مجدد کو بدعتی ہونے سے بچا لیا جائے اور تمام سنیوں بریلویوں کو اس گڑھے میں ڈھکیل دیا جائے۔ میں بدعت کے سلسلے میں علامہ سید محمد فاروق القادری کی ایک تحریر نقل کر رہا ہوں جس سے بدعت کی صحیح تعریف اور حضرت مجدد قدس سرہ کی مراد اچھی طرح ذہن نشین ہو جائےگی۔ مولانا موصوف بدعت پر ایک نفیس کلام کے بعد تحریر فرماتے ہیں:

بدعت کے بارے میں امام ربّانی مجدد الف ثانی‌رضی اللہ عنہ کے مسلک حقہ کو عموماً غلط رنگ دینے کی کوشش کی جاتی ہے اس کی وضاحت کے لیے ہم آپ کے خانوادہ عالیہ کے ایک جلیل القدر عالم دین اور نامور بزرگ شیخ الشیوخ حضرت محمد حسن خاں مجددی‌رحمۃ اللہ علیہ کی تحریر سے اقتباس نقل کرتے ہیں جس سے بدعت کے

بارے میں حضرت مجدد الف ثانی علیہ الرحمہ کے مسلک کی پوری وضاحت ہو جاتی ہے، آپ لکھتے ہیں:

جاننا چاہیے کہ بدعت لغت میں ہر اس نوپید چیز کو کہتے ہیں جس کی کوئی نظیر پہلے نہ ہو اس کو باری تعالیٰ نے یوں فرمایا ہے بدیع السمٰوات و الارض اور شرع میں بدعت اس چیز کو کہتے ہیں کہ جو امور دین میں نوپیدا کردہ ہو یعنی جس کا وجود حضورﷺ کے زمانہ مبارک میں نہ ہو اور وہ سنت کے مخالف اور معارض ہو، سنت کے مخالف یا معارض ہونے کی قید ہم نے اس لیے لگائی کہ آنحضورﷺ کے بعد اتنے نئے امور پیدا ہوئے ہیں اور وہ اس زمانے میں بھی اور اس سے پہلے بھی اس قدر عام اور شائع ہو گئے ہیں کہ ان سے نہ مقلد نہ بچ سکتا ہے نہ غیر مقلد یہاں تک کہ خیر القرون کا آخری حصہ بھی ان امور کی زد سے نہ بچ سکا جس پر تاریخ کی کتابیں شاہد ہیں۔

حاصل کلام یہ کہ مراد بدعت سے حدیث میں وہ بدعت ہے جس کو سیئہ (بری) کہا جاتا ہے اور جو سنت کے مخالف اور مقابل ہے لیکن وہ نوپید امور جو سنت کے معارض اور مقابل نہیں وہ مباحات شرعیہ میں داخل ہیں۔

اس لیے کہ ہمارے مذہب میں سب اشیا در اصل مباح ہیں (حرمت نص شارع سے ثابت ہوتی ہے) یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ حدیث میں کل بدعۃ ضلالۃ کا لفظ آیا ہے یعنی ہر بدعت گمراہی ہے مگر ہم نے بعض بدعات کو مباحات قرار دیا اس کا جواب یہ ہے کہ شارع علیہ السلام کی مراد لفظ کل فرمانے سے یہ نہیں کہ سب اقسام بدعت کے مطلقاً حسنہ ہوں یا سیئہ سب ضلالت اور گمراہی ہیں بلکہ لفظ کل سے مراد ہے کہ بدعت سیئہ کے سارے اقسام جو سنت سے ٹکر کھائیں اور مخالف ہوں گمراہی ہیں اس بات پر حضورﷺ ہی کا وہ قول دلیل ہے جو صحاح میں وارد

ہو چکا ہے کہ ‘‘میری سنت کو اور میرے خلفاے راشدین کی سنت کو جو میرے بعد ہیں اپنے اوپر لازم پکڑو۔’’

خلفاے راشدین کی سنت عین سنت نبیﷺ تو ہو ہی نہیں سکتی اس لیے کہ عطف مغایرت چاہتا ہے تو اگر کل کا لفظ علی الاطلاق لیا جائے تو سنت خلفاے راشدین کی اتباع کا کوئی موقع ہی نہیں رہتا اور حضرت سیدنا فاروق‌رضی اللہ عنہ کے اس قول کا کہ بیس تراویح بڑی اچھی بدعت ہے کوئی محل نہیں نکلتا۔ علماے کرام کہتے ہیں کہ بدعت کی بہت سی قسمیں ہیں۔

بعض ان میں سے تو اس زمانے میں واجب ہیں مثلاً علوم کی اشاعت کرنا مدرسے اور مسافر خانے بنانا وغیرہ، اور بعض سنت حسنہ ہیں جیسے بیس رکعت تراویح پڑھنا اور حکومت کے لیے دفتر اور کچہریاں بنانا اور مساجد کو منقش پتھروں اور ساگوان کی لکڑی سے تعمیر کرنا اور قرآن مجید کو مصحف میں جمع کرنا اور باغیوں سے جنگ کرنا وغیرہ اور بعض بدعتیں مستحب یا مباح ہیں جسے آج کل کے زمانے کے اکثر اوضاع اور رسوم پس مشائخ کے اطوار و اذکار مرتبہ اور مراقبات موقتہ اس بدعت حسنہ میں داخل ہیں جن کو نامور اور جید علماے کرام نے قبول کیا ہے اور ان کو اچھا سمجھا ہے۔

اور لوگوں کو ان باتوں کی طرف ترغیب دی ہے اور ان کاموں میں خود مصروف رہے ہیں اور نہ صرف یہ کہ وہ ان امور کو بدعت نہیں سمجھتے بلکہ اس بات پر رضامند ہی نہیں کہ ان امور پر بدعت کا لفظ استعمال کیا جائے جیسا کہ ہمارے مرشد اعظم امام ربّانی مجدد الف ثانی‌رحمۃ اللہ علیہ کا مشرب ہے۔ (فاضل بریلوی اور امور بدعت)

میں حضرت مجدد الف ثانی قدس سرہ کے عقیدت مندوں سے مخلصانہ اپیل کروں گا کہ اپنے اس رہبر اعظم کے کلام کو سمجھنے کی کوشش کریں اور ہر اس

شخص کے بہکاوے میں آکر اپنے ایمان اور عقائد حقہ سے ہاتھ نہ دھو بیٹھیں جو بظاہر تو حضرت مجدد قدس سرہ کا نام لیتا ہے مگر در حقیقت آپ اور جملہ اولیاے کرام کی عظمت و رفعت کا سخت منکر ہے۔ حضرت مجدد قدس سرہ کا صحیح مسلک وہی ہے جس کی نشان دہی ہمارے اسلاف نے اور اس زمانے میں بالخصوص امام اہل سنت اعلیٰ حضرت قدس سرہ نے فرمائی ہے۔

دوسرا باب

اسباب قرب الٰہی:

معلوم ہونا چاہیے کہ خداوند قدوس کے قرب اور اس کی نزدیکی کی اصل علت جذب ہے یعنی خداے تعالیٰ کا بندے کو اپنی طرف کھینچنا۔ یہ جذب کبھی بلا واسطہ ہوتا ہے، اس کو اجتبا کہتے ہیں۔ خداے تعالیٰ کا ارشاد ہے:

اَللہُ یَجْتَبِیۡۤ اِلَیۡہِ مَنۡ یَّشَآءُ (اور اللہ اپنے قریب کے لیے چُن لیتا ہے جسے چاہے)

اور اکثر کسی امر کے واسطے سے ہوتا ہے۔ تتبع و تلاش کے اعتبار سے واسطہ دو چیزوں کا ہوتا ہے؛ایک عبادت صحیحہ، دوم انسان کامل مکمل کی صحبت۔ پس وہ جذب جو عبادت کے واسطے سے ہوتا ہے اسے برکات عبادت کہتے ہیں اور جو صحبت کے توسط سے ہوتا ہے اس کا نام تاثیر شیخ ہے۔ یہ گفتگو ان امور میں ہے جو قرب الٰہی کے لیے علت فاعلی کی حیثیت رکھتے ہیں۔

قرب الٰہی میں انسانی استعداد کو بھی دخل ہوتا ہے، ہر انسان کی استعداد اور صلاحیت جدا جدا ہوتی ہے۔ سید عالمﷺ ارشاد فرماتے ہیں: الناس معادن کمعادن الذھب والفضۃ یعنی انسان کانیں ہیں جس طرح سونے چاندی کی کانیں ہوتی ہیں، کہیں سے سونا برآمد ہوتا ہے اور کسی زمین سے چاندی، کہیں سے لوہا تو کہیں سے پیتل وغیرہ۔ انسانی استعداد علت قابلی کی حیثیت رکھتی ہے۔

موانع قرب:

قرب الٰہی سے روکنے والے امور نفس کے رذائل اور عناصر کا خبث اور عالم امر

کے لطائف کی غفلت ہیں یہی وہ چیزیں ہیں جو قرب سے مانع ہوتی ہیں۔ انسان جب صحیح طریقے سے عبادت کرتا ہے اور شیخ کامل مکمل کی صحبت و خدمت اختیار کرتا ہے تو جس طرح ان چیزوں سے قرب الٰہی کے مدارج عالیہ طے کرتا ہے اسی طرح ان چیزوں سے قرب الٰہی کے موانع کو بھی دفع کرتا ہے۔

اس بیان سے آپ نے سمجھ لیا ہوگا کہ ناقص کے لیے ضروری ہے کہ وہ ان دو چیزوں کو اختیار کرے ایک تو کسب یعنی شیخ کی تجویز کے موافق عبادات و ریاضات اپنائے جس کی وجہ سے موانع قرب دفع ہوں نفس کا تزکیہ حاصل ہو عناصر کو رذائل اور بری خصلتوں سے پاکی و طہارت میسر آئے اور عالم امر کے لطائف کا تصفیہ ہو۔ دوسری چیز شیخ کامل مکمل کا جذب ہے جو کہ نسبت عطا کرے اور قرب حق کی منزلوں سے ہمکنار کرے اور خاک کی پستیوں سے نکال کر افلاک کی بلندیوں سے ہم آغوش کرے۔

اکثر سلاسل کے مشائخ نے سلوک کو جذب پر مقدم رکھا ہے انھوں نے یہ دیکھا کہ پہلے ان چیزوں کا رفع اور ازالہ ضروری ہے جو قرب سے مانع ہوتی ہیں پھر مقاصد کی تحصیل ہو اس لیے یہ حضرات مریدین کو اذکار و ریاضات کا حکم دیتے ہیں اور اپنی ہمت و توجہ ان کی طرف مبذول رکھتے ہیں تاکہ عالم امر و عالم خلق کے لطائف کو مزکّی و مطہر کیا جا سکے اور مریدین کے نفوس اخلاق حسنہ اور پسندیدہ اوصاف مثلاً توبہ و انابت، زہد و توکل، صبر و رضا اور دیگر اوصاف صدق و صفا اور مقامات عشرہ مشہورہ سے متصف ہو سکیں اور ان کے اندر قرب حق کی استعداد اور قابلیت پیدا ہو تاکہ بارگاہ الٰہی کی طرف اسے جذب کریں اور قرب الٰہی عطا کریں۔ چوں کہ یہ راہ بہت دور اور طویل ہے اور اس میں بڑی پرخار وادیوں سے گذرنا پڑتا ہے اس لیے

حضرت خواجہ خواجگاں محمد بہاء الدین نقشبند قدس سرہ کو ایسا راستہ الہام فرمایا جس میں جذب سلوک پر مقدم ہے۔

نقشبندی حضرات پہلے لطائف عالم امر میں القاء ذکر کی طرف توجہ فرماتے ہیں اور اپنی عالی ہمتوں سے ان لطائف کو ذاکر کرتے ہیں گناہوں میں ملوث ہونے اور دنیا اور اہل دنیا کی صحبت بد کی وجہ سے لطائف چوں کہ اپنی اصل بھول چکے ہوتے ہیں اور خداوند قدوس کی یاد سے غافل ہوتے ہیں شیخ کامل اپنی توجہ سے نور کا القا کر کے ان خباثتوں اور گندگیوں سے لطائف کو پاک کرتا ہے اور لطائف کو ان کے اصول یاد دلاتا ہے حق تعالیٰ کے ذکر سے معمور و آباد کرتا ہے تاکہ اپنے اصول میں فانی اور مستہلک ہوں۔

خیال رہے کہ تصفیہ و تزکیہ میں زیادہ دخل شیخ کی توجہ کو ہے کیوں کہ برکاتِ عبادت کا معاملہ یہ ہے کہ جو انسان کامل ہے اس کی عبادت جو بھی قرب بخشےگی معتبر ہوگا لیکن ناقص کی عبادت سے جو قرب حاصل ہوتا ہے وہ قابل شمار نہیں کیوں کہ عبادت کا ثواب بھی مدارج کے لحاظ سے ملتا ہے جو ترقی اور زیادتی قرب کامل انسان کو عبادت بخشےگی وہ ناقص کو نہیں حتّٰی کہ کہا جاتا ہے کہ تمام عالم کی عبادت ولی کی عبادت کے مقابل ظل کی حیثیت رکھتی ہے۔ پس مرید کو صرف وہی چیزیں اختیار کرنی چاہیے جن کا شیخ حکم دے شیوخ مریدین کو ریاضت و مجاہدہ کا حکم بھی صرف اسی لیے کرتے ہیں تاکہ عناصر کو تصفیہ اور نفس کو تزکیہ حاصل ہو حصول قرب مقصود نہیں ہوتا ہے بلکہ عبادت و ریاضت سے تنہا تزکیہ و تصفیہ حاصل نہیں ہوتا ہے جب تک تاثیر شیخ حاصل نہ ہو۔

ایک وہم کا ازالہ:

بہت سے لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ ولایت اسی وقت حاصل ہو سکتی ہے جب کہ بڑے چلّے کیے جائیں، روزے پر روزے رکھے جائیں، انسان ہر اس چیز سے دست بردار ہو جائے جس کا تعلق دنیا سے ہے اس لیے لوگوں کی نظر میں ایسے لوگوں کی بہت اہمیت ہوتی ہے جو ہر ایک سے ترک تعلق کر کے گوشہ تنہائی میں تسبیح و تہلیل میں مشغول رہتے ہیں اور بڑی بڑی ریاضتیں اور مجاہدات اختیار کرتے ہیں۔

اس کے بر خلاف جو اشخاص ان چیزوں کو بظاہر نہیں اپناتے ہیں بلکہ کوشش کرتے ہیں کہ ہمارا ہر قول و فعل سنت کے مطابق ہو، یہ حضرات لاکھ بلندیوں پر فائز ہوں مگر ان کی کوئی اہمیت نہیں۔ یہ چیز بہت بڑی جہالت اور نادانی پر مشتمل ہے، اس کی وجہ سے نامعلوم کتنے ولیوں کی ولایت سے انکار اور کتنے غیر ولی حضرات کو ولایت کا تاجدار سمجھ لیا جاتا ہے اور ظاہر ہے ان دونوں ہی چیزوں سے محرومیوں اور برائیوں کے دروازے کھلتے ہیں۔ اصل ریاضت اور سب سے بڑا مجاہد اتباع سنت اور شیخ کامل کی صحبت ہے، نقشبندی بزرگوں کے بلند مدارج سے عام طور پر لوگ اس لیے ناواقف رہے اس لیے کہ ان کے یہاں اتباع سنت اور صحبت شیخ یہی دو چیزیں حصول ترقیات کے لیے لازم ہیں جو عوام کی نظر میں اس لائق نہیں کہ ان سے بلند درجات حاصل ہو سکیں۔

آپ ذرا سوچیں کہ اسلام ایک کامل مکمل دین ہے اور سارے درجات کا جامع سید کائناتﷺ کی اتباع سے اگر وہ سارے کمالات نہیں حاصل ہو سکتے ہیں جو عام بشر کے لیے ممکن ہیں تو ایسا شخص بالفاظ دیگر یہ سمجھتا ہے کہ آپ کی شریعت مقامات قرب الٰہی کی تحصیل کے لیے کافی نہیں ہے۔ نعوذ باللہ من ذٰلک

خداوند قدوس ایسے برے تصورات سے ہر ایک کو محفوظ رکھے، آمین۔ حصول

ترقیات کو کبھی بھی بڑے بڑے مجاہدات اور ایسی عظیم ریاضتوں پر موقوف نہیں سمجھنا چاہیے جن کا ثبوت سنت سے نہیں ہے۔

نیز اس کا بھی دھیان رکھنا چاہیے کہ مشائخ نے وقتی مصلحتوں کی وجہ سے جو ریاضات و مجاہدات مقرر فرمائے اسے ہم بدعت کہہ کر رد کریں ان بزرگوں کی طرح جن کے یہاں تنقیص اولیا ہی عبادت ہے (ریاضات و مجاہدات مقرر کرنے میں) ان لوگوں کے مقاصد نیک تھے ہرگز ہرگز زبان سے ایسی بات نہ نکالیں جس سے ان بزرگوں کی تنقیص لازم آئے۔

اقرب طرق:

خواجہ خوجگاں محمد بہاء الدین نقشبند قدس سرہ نے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں عرض کیا تھا کہ ایسا طریقہ عطا فرما جو قریب تر اور ہر حال میں موصل ہو آپ کی دعا شرف قبول سے مشرف ہوئی اور حکم ہوا کہ تمھارے طریق میں جذب سلوک پر مقدم رہےگا، دوسرے طریقوں میں سلوک کو جذب پر مقدم کرتے ہیں، یعنی پیر کامل اپنے مرید کو پہلے ریاضات (اربعین، بیداری و گرسنگی وغیرہ) کا حکم دیتا ہے اور ان ریاضتوں سے مرید کے عناصر و نفس کو مصفیّٰ کرتا ہے جب مرید اپنے نفس و عناصر کی طہارت اپنے سے باہر عالم مثال میں دیکھتا ہے مثلاً ستارہ یا ہلال یا ماہ ناقص یا بدر کامل یا آفتاب تو اسی وقت شیخ اس مرید کو فنا و تصفیۂ نفس و عناصرکی بشارت دیتا ہے اسے سلوک کہتے ہیں اور اس سیر کو سیر آفاقی کہتے ہیں۔

اس کے بعد شیخ محض اپنی توجہ سے مرید کے لطائف عالم امر کے تزکیہ میں مشغول ہوتا ہے یہاں تک کہ وہ فنا و بقا حاصل کرتے ہیں اسے جذب کہتے ہیں اور اس سیر کو سیر انفسی کہتے ہیں کیوں کہ اس سیر میں طالب جو کچھ (استنارت و ترقی و

وصول باصل و فنا) دیکھتا اپنے اندر دیکھتا ہے بنا بر توجیہ حضرت مجدد‌رضی اللہ عنہ اس سیر کو سیر انفسی اس واسطے کہتے ہیں کہ انفس، اسما و صفات باری تعالیٰ کے ظلال و عکوس کے آئینے ہو جاتے ہیں نہ یہ کہ سالک کی سیر نفس میں ہوتی ہے یہاں حقیقت میں ظلال اسما کی سیر ہے انفس کے آئینوں میں، طریقہ نقشبندیہ میں جذبہ کو سلوک پر مقدم کرتے ہیں اور ابتدا لطائف عالم امر سے کرتے ہیں سلوک، جذبہ کے ضمن میں اور سیر آفاقی، سیر انفسی کے ضمن میں طے ہو جاتی ہے۔

حضرت مجدد قدس سرہ اس کی توضیح و تشریح یوں فرماتے ہیں کہ سیر و سلوک اور جذبہ و تصفیہ سے مقصود نفس کو اخلاق ردیہ اور اوصاف رذیلہ سے پاک کرنا ہے، انفس کی گرفتاری اور مرادات نفس کا حصول سب سے بڑی برائی ہے آفاق کی گرفتاری انفس کی گرفتاری کے سبب سے ہے کیوں کہ جس چیز کو کوئی شخص دوست رکھتا ہے اپنی دوستی کے سبب سے دوست رکھتا ہے مثلاً اگر فرزند و مال کو دوست رکھتا ہے تو اپنے فائدے کے لیے دوست رکھتا ہے چوں کہ سیر انفسی میں محبت خدا تعالیٰ کے غلبہ کے سبب سے اپنی دوستی زائل ہو جاتی ہے اس لیے اس کے ضمن میں فرزند و مال کی دوستی بھی زائل ہو جاتی ہے اس طرح سیر انفسی کے ضمن میں سیر آفاقی بھی قطع (طے) ہو جاتی ہے اس صورت میں سیر آفاقی و سیر انفسی کے معنی بھی بلاتکلف درست رہتے ہیں کیوں کہ حقیقت میں سیر انفس میں بھی ہے اور آفاق میں بھی انفس کے تعلقات کا قطع بتدریج انفس میں سیر ہے اور آفاق کے تعلقات کا قطع جو سیر انفسی کے ضمن میں ہوتا ہے آفاق میں سیر ہے دیگر مشائخ نے ان دونوں کے جو معنی بیان کیے ہیں ان میں تکلف ہے پس طریقہ نقشبندیہ میں راہ اقرب ہوئی۔

طریقہ نقشبندیہ کے اقرب طرق ہونے کی ایک وجہ اور بھی ہے وہ یہ ہے کہ

حضرات نقشبندیہ کا وسیلہ حضور سرور انبیا علیہ و علیٰ آلہ الصلوات و التسلیمات کی جناب میں حضرت ابو بکر صدیق‌رضی اللہ عنہ ہیں، ظاہر ہے کہ وسیلہ جس قدر زیادہ قوی ہوگا راہ وصول اقرب ہوگی اور قطع منازل بہت جلدی ہو جائے گا وہ جو اس سلسلہ عالیہ کے اکابر کی عبارت میں واقع ہے کہ ہماری نسبت (یعنی دوام حضور یا دوام آگاہی) حضرت صدیق اکبر‌رضی اللہ عنہ کی سنت ہے جو پیغمبر کے بعد افضل البشر ہیں اور حضرت صدیق اکبر‌رضی اللہ عنہ کی آگاہی یقیناً سب آگاہیوں سے ارفع و اعلیٰ ہے۔(تذکرہ مشائخ نقشبندیہ)

یہ طریق البتہ موصل ہے:

طریقہ نقشبندیہ بہر حال موصل ہے، عدم وصول کا یہاں احتمال نہیں پایا جاتا ہے کیوں کہ اس راہ کا پہلا قدم جذبہ ہے جو وصول کی دہلیز ہے۔ سالک کے وصول کا مانع یا جذب محض ہے جس میں سلوک نہ ہو یا سلوک محض بغیر جذبہ کے اور یہاں یہ دونوں مانع نہیں پائے جاتے کیوں اس طریق میں نہ سلوک خالص ہے نہ جذبہ محض بلکہ جذبہ ہے متضمن سلوک لہٰذا اس سلسلہ عالیہ میں وصول سے مانع خود طالب کی سستی ہو سکتی ہے اور کوئی چیز مانع نہیں۔ طالب صادق اگر پیر کامل کی صحبت میں رہے اور طلب کے شرائط بجا لائے تو امید ہے کہ البتہ واصل ہوگا۔ اگر پیر ناقص سے کسی کا پالا پڑ جائے تو چوں کہ وہ خود واصل نہیں لہٰذا دوسرے کو کیسے واصل بنا سکتا ہے اس صورت میں قصور طریقہ کا نہیں۔ (مکتوب ۲۲۱ و تذکرہ)