باب ۱۱ از ۲۲صفحات ۱۲۷–۱۴۱
نسبت نقشبندیہ فوق ہمہ نسبتہا است
مشائخ نقشبندیہ کی کتب میں اکابرین کا یہ قول (نسبت نقشبندیہ فوق ہمہ نسبتہا است) مذکور ہے یعنی ہماری نسبت تمام نسبتوں کے اوپر ہے۔’’ اس کی وجہ یہ ہے کہ نسبت نقشبندیہ حضور و آگاہی کا خاص نام ہے اور یہی حضور و نسبت حضرت ابو بکر صدیقرضی اللہ عنہ کی ہے اور اس طریقہ عالیہ کے سر حلقہ حضرت ابو بکر صدیقرضی اللہ عنہ ہیں جو
کہ بعد انبیا علیہم السلام تمام بنی آدم سے بہتر ہیں اس لیے ان کی نسبت اور حضور بھی سب سے زیادہ اور اعلیٰ ہوگا۔
ابتدا میں حلاوت و وجدان اور انتہا میں بے مزگی و فقدان:
نقشبندیہ کے خصائص میں سے یہ ہے کہ اس میں آغاز اور ابتدا میں سالک کو حلاوت و چاشنی اور وجدان نصیب ہوتا ہے اور انتہا میں بےمزگی اور فقدان ہے جو کہ یاس اور ناامیدی کے لوازم سے ہے اس کے برخلاف دیگر طریقوں میں ابتدا میں بے مزگی اور فقدان ہے اور انتہا میں حلاوت و وجدان اسی طرح اس طریقہ میں ابتدا میں قرب و شہود ہے اور انتہا میں بعد و حرمان۔ دیگر طریقوں کے مشائخ کے یہاں اس کا برعکس ہے۔ حضرت مجدد قدس سرہ فرماتے ہیں اس بات سے اس سلسلہ اور دیگر سلسلوں میں فرق محسوس کرنا چاہیے اور اس سلسلہ عالیہ کی بزرگی و بلندی شان کا اندازہ لگانا چاہیے کیوں کہ قرب و شہود اور حلاوت و وجدان دوری اور مہجوری کی خبر دیتا ہے اور بعد و حرمان اور بے حلاوتی و فقدان نہایت قرب کی خبر دیتا ہے فھِم من فھِم
اس راز کی شرح یہ ہے کہ کوئی شخص اپنے نفس سے زیادہ اپنے سے قریب تر کسی چیز کو نہیں رکھتا ہے جب کہ نسبت قرب و شہود اور حلاوت و وجدان خود اس کے نفس کے حق میں مفقود ہے اور اپنے سے غیر کی بنسبت یہ نسبتیں موجود ہیں عاقل کے لیے اشارہ کافی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس سلسلے کے اکابرین نے احوال و مواجید کو ہمیشہ احکام شرعیہ کا تابع رکھا اور اذواق و معارف کو علوم دینیہ کا خادم تصور کیا شریعت کے نفیس جواہر کو بچوں کی طرح وجد و حال کے عوض کبھی نہیں بیچا اور صوفیہ کرام کے کلمات سکریہ سے کبھی مغرور نہیں ہوئے۔ شرعی ممنوعات کے ارتکاب سے جو احوال حاصل ہوئے انھیں کبھی قبول نہیں فرمایا اور نہ چاہا، یہی وجہ
ہے کہ سماع و رقص کو کبھی جائز قرار نہیں دیا اور ذکر جہری کی طرف متوجہ نہیں ہوئے، ان کا حال دائم، ان کا وقت ہمیشہ، وہ تجلی ذاتی جو دوسروں کے لیے برق کی طرح ہے ان کے لیے دائمی ہے جس حضور میں غیبت کی دسترس ہو اس کا ان کے یہاں کوئی اعتبار نہیں بلکہ ان بزرگوں کا کارخانہ حضور و تجلی سے بھی بلند تر ہے۔ (خلاصہ مکتوب ۲۲۱)
اندراج نہایت در بدایت:
طریقہ نقشبندیہ کے خصائص میں سے اندراج نہایت در بدایت بھی ہے۔ حضرت خواجہ نقشبند قدس سرہ نے فرمایا کہ ہم انتہا کو ابتدا میں درج کرتے ہیں۔ اس عبارت کی حقیقت تک نہ پہنچنے کے سبب سے ذہن طرح طرح کے شبہات کا شکار ہوتا ہے مثلاً جب دوسروں کی انتہا ان کی ابتدا میں درج ہے تو ان کی انتہا کیا ہوگی؟ نیز دوسروں کی انتہا جب کہ وصول بحق ہے تو ان کی سیر حق سے کہاں ہوگی؟ نیز یہ بھی لازم آتا ہے کہ نقشبندی مبتدی دیگر سلاسل کے منتہی کے برابر ہو جو کہ اس سے مناسبت رکھتا ہے اس لیے اس کی وضاحت ضروری ہے اس کی مختلف توجیہات ہیں:
پہلی توجیہ:
ایک یہ کہ اس طریقہ میں ابتدا سیر عالم امر سے ہوتی ہے، عالم خلق سے نہیں، اس کے برخلاف دیگر طریقوں میں یہی ابتدا عالم خلق سے ہے۔ نقشبندی حضرات معارج جذبہ کو طے کرتے وقت منازل سلوک بھی اس کے ضمن میں طے کر لیتے ہیں اور عالم خلق کی سیر عالم امر میں میسر آجاتی ہے۔
خلاصہ یہ کہ دوسروں کا آغاز عالم خلق سے ہوتا ہے اور انتہا عالم پر اس کے برخلاف سلسلہ نقشبندیہ میں ابتدا عالم امر سے ہے اسی لیے یہ اقرب ہے اور دوسروں
کی انتہا ان کی ابتدا میں درج ہے۔
اس سے معلوم ہوا کہ ابتدائی سیر یعنی آفاقی اور منازل سلوک کا قطع اس طریقہ میں انتہائی سیر یعنی سیر انفسی اور معارج جذبہ کے طے کرنے میں مندرج ہے، یہ مطلب نہیں انتہا سے ابتدا کی سیر کے لیے نیچے آتے ہیں اور سیر نہایت کو تمام کرنے کے بعد پھر سیر بدایت بھی سیر کرتے ہیں۔ (مکتوب۲۲۱، دفتر اول)
دوسری توجیہ:
حضرت مجدد قدس سرہ فرماتے ہیں کہ نقشبندی مشائخ قدس اللہ اسرارہم کا اس عبارت سے مقصود یہ ہے (کہ چوں کہ نسبت نقشبندیہ انعکاسی و انصباغی ہے اس لیے) اس طریقہ کا شیخ منتہی اپنے تصرف اور توجہ سے اپنی دولت نہایت کی چاشنی سے بطریق انعکاس مبتدی رشید کو عطا فرماتا ہے اور اس کی ابتدا میں انتہا کا نمک ملا دیتا ہے۔ اس سے واضح ہو گیا کہ مبتدی کی مساوات منتہی سے ہرگز لازم نہیں آتی ہے۔
نقشبندی مبتدی اور دیگر مبتدی میں فرق:
حضرت مجدد قدس سرہ فرماتے ہیں کہ بدایت میں اندراج نہایت بہت عظیم دولت ہے، اس طریقہ کا مبتدی اگرچہ علم منتہی کا حکم نہیں رکھتا ہے لیکن دولت نہایت سےبے نصیب بھی نہیں ہے۔ بالغرض اگر اس مبتدی کو قطع طریق وصول اور اس کے منازل طے کرنے کی فرصت نہیں ملتی ہے تو بھی دولت نہایت سے بے نصیب نہیں جائےگا اور وہ نمک کا ذرہ اس کی کلیت کو ملیح و نمکین بنا دےگا۔ اس کے بر خلاف دیگر طریقوں کے مبتدی کیوں کہ وہ حضرات نہایت سے دور ہیں اور قطع منازل اور مسافتیں طے کرنے سے قاصر ہیں۔ اس تقریر سے اس طریق کے مبتدی اور دیگر طریق کے مبتدیوں کے درمیان فرق واضح ہو گیا۔
نقشبندی منتہی اور دیگر طریق کے منتہی میں فرق:
اب آپ منتہی کا فرق سماعت فرمائیں۔ آپ قدس سرہ فرماتے ہیں: اس طریق اور دیگر کے منتہی حضرات میں بھی اسی قدر فرق ہے۔ اس طریق کے منتہی کو دیگر منتہیوں پر اسی قدر فضیلت حاصل ہے بلکہ طریقہ عالیہ نقشبندیہ کی نہایت دیگر تمام طریقوں کے نہایتوں کے وراء الوراء ہے۔ میری اس بات کا یقین کریں یا نہ اگر انصاف سے کام لیں تو شاید یقین کر لیں۔ وہ نہایت جس کی بدایت نہایت آمیز ہوگی دیگر نہایتوں سے ضرور ممتاز ہوگی، لامحالہ (ایسی صورت میں) نہایتوں کی نہایت ہوگی، سلاسل دیگر کا متعصب گروہ ہم سے کہتا ہے کہ ہماری نہایت وصول بحق سبحانہ ہے اور تم اسے اپنی بدایت کہتے ہو تو حق سے کہاں جاتے ہو اور تمھاری نہایت حق کے سوا کہاں ہوگی۔
میں کہتا ہوں کہ ہم حق سے حق تک جاتے ہیں اور ظلیت کے شائبہ سے بھاگ کر اصل الاصل سے پیوستہ ہوتے ہیں اور تجلیات سے اعراض کر کے متجلّی کو ڈھونڈتے ہیں اور ظہورات کو واپس چھوڑ کر ظاہر کو ابطن بطون میں چاہتے ہیں اور چوں کہ ابطنیت میں مختلف مراتب ہیں اس لیے ایک ابطنیت سے دوسری ابطنیت تک جاتے ہیں اور اس دوسری ابطنیت سے تیسری ابطنیت میں قدم رکھتے ہیں، پھر جہاں اللہ تعالیٰ چاہے۔
خلاصہ یہ کہ انتہا انتہا میں فرق ہوتا ہے۔ آپ دیکھیے ایک انتہا وہ ہے جو اولیاے کرام کو حاصل ہوتی ہے، ایک وہ ہے جو انبیاے کرام علیہم الصلوات و التسلیمات کو حاصل ہے، کیا کوئی کہہ سکتا ہے کہ اولیاے کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم کی انتہا انبیاے کرام علیہم السلام کی انتہا سے متحد ہے بلکہ خود تمام منتہی اولیاے کرام کی انتہا برابر اور مساوی نہیں مانی جا سکتی ہے اگر ایسا ہوتا تو تمام اولیاے کرام
برابر درجہ کے ہوتے۔ لہٰذا معلوم ہوا کہ سب کی نہایت حق تعالیٰ ہے مگر باہم درجات کے مطابق فرق بہر حال ہے۔ (خلاصہ مکتوب سوم، دفتر دوم)
اس تقریر سے مذکورہ بالا دونوں اعتراض ختم ہو گئے۔
نسبت نقشبندیہ کی انتہا:
اس طریقہ عالیہ کی انتہا اگر میسر آجائے تو وصل عریانی ہے جس کے حصول کی علامت مطلوب سے یاس و نامیدی کا حصول ہے، وصل عریانی کی تفسیر حضرت مجدد قدس سرہ کے الفاظ میں جو ہے اس کا ترجمہ یہ ہے:
وصل عریانی سے ہماری مراد تمام حجابات اور جملہ موانع کا مرتفع ہو جانا ہے اور چوں کہ حجابات میں سب سے عظیم اور قوی حجاب نوع نوع کی تجلیات اور مختلف ظہورات ہیں۔ پس ضروری ہے کہ وہ تمام تجلیات اور ظہورات پورے ہو جائیں خواہ وہ تجلی و ظہور امکانی آئینوں میں ہو یا وجوبی محلوں میں کیوں کہ یہ دونوں نفس حجب اور منع میں برابر ہیں اگرچہ شرف اور رتبہ کے اعتبار سے ان دونوں میں فرق ہے مگر یہ نظر طالب سے خارج ہے۔ (مکتوب ۲۲۱، دفتر اول)
تیسری توجیہ:
اندراج نہایت در بدایت کے ایک معنی یہ بھی ہیں کہ جو انجذاب و محبت منتہی حضرات کو انتہا میں نصیب ہوتا ہے وہ طریقہ نقشبندیہ کے اس انجذاب و محبت میں درج ہے جو اس کے آغاز اور ابتدا میں پیدا ہوتا ہے کیوں کہ منتہی کا انجذاب روحی ہے اور مبتدی کا جذب قلبی اور قلب چوں کہ روح اور نفس کے درمیان ایک برزخ کی حیثیت رکھتا ہے تو جذب قلبی کے ضمن میں جذب روحی بھی داخل ہوگا۔
اب یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہ کیفیت تو تمام جذبات میں ہےپھر اس اندراج کو طریقہ نقشبندیہ کے ساتھ کیا خصوصیت ہے ؟اس کا جواب یہ ہے کہ یہ
اندراج اس کے ساتھ خاص اس لیے ہے کہ اس سلسلے کے اکابرین نے اس کے لیے ایک خاص طریقہ وضع کیا ہے، ایک مخصوص راستہ ہے اس مطلب تک پہنچنے اور واصل ہونے کے لیے اور دیگر سلاسل کے بزرگوں کو یہ دولت اتفاقاً اور نادراً حاصل ہوتی ہے کوئی خاص طریقہ اس کی تحصیل کا ان کے پاس نہیں ہے۔
سفر در وطن:
طریقہ نقشبندیہ کے خصائص میں سے سفر در وطن ہے جس سے مراد سیر انفسی ہے اگرچہ یہ سیر جملہ مشائخ کے طریقوں میں ثابت ہے لیکن ان طریقوں میں یہ سیر انتہا میں میسر ہوتی ہے، سیر آفاقی کی حدیں طے کرنے کے بعد اور نقشبندیہ میں ابتدا ہی اسی سیر سے ہے۔ اس سلسلے کے مشائخ سیر انفسی کے ضمن میں سیر آفاقی بھی طے کر لیتے ہیں۔ یہی چیز در اصل اندراج نہایت در بدایت کا منشا و مبدأ بن گئی۔
خلوت در انجمن:
بھی اس طریقہ عالیہ کا خاصہ ہے جو کہ سفر در وطن پر متفرع ہوتی ہے جب سفر در وطن کی دولت سے سالک مالا مال ہو جاتا ہے اس وقت انجمن میں تفرقہ بھی وطن کی تنہائیوں اور خلوت خانوں میں سفر کر جاتا ہے اور آفاق کا تفرقہ انفسی کے حجرے میں راہ نہیں پاتا ہے یہ خلوت در انجمن اگرچہ دیگر سلاسل کے منتہی حضرات کو بھی میسر ہوتی ہے لیکن نقشبندیہ میں چوں کہ ابتداءً ہی یہ دولت ہاتھ آجاتی ہے اس لیے اس کا خاصہ قرار پائی ان چیزوں کا مفصل بیان آگے آئےگا۔
تقدم جذبہ:
سلوک پر جذبہ کا تقدم بھی اس طریقہ عالیہ کا خاصہ ہے اس کی سیر کی ابتدا عالم امر سے ہے عالم خلق سے نہیں اور منازل سلوک کا قطع معارج جذبہ کو طے کرنے کے ضمن میں ہو جاتا ہے اس کے بر خلاف دیگر طرق جیسا کہ گذر چکا۔
نقشبندیہ میں پیری و مریدی شجرہ و کلاہ پر موقوف نہیں ہے جیسا کہ اکثر طریقوں میں ہے بلکہ اس کا دار و مدار تعلیم طریقہ کے تعلیم و تعلم سے ہے۔
احکام شرعیہ پر عمل نفس کے ساتھ بڑا جہاد ہے:
طریقہ عالیہ نقشبندیہ کا یہ بھی خاصہ ہے کہ ان مشائخ کے یہاں نفس کے ساتھ سب سے بڑا مجاہد ریاضت احکام شرعیہ کو بجا لانا اور سنت نبویہ علیٰ صاحبہا الصلاۃ و السلام کی اتباع و پیروی کو لازم کر لینا ہے کیوں کہ رسولوں کو بھیجنے اور کتابیں نازل کرنے کا اہم مقصد نفس امارہ کی خواہشات کو ختم کرنا ہے جو کہ اللہ تعالیٰ کا دشمن ہے لہٰذا نفس کی خواہشات کا رفع احکام شرعیہ کو بجا لانے سے ہوگا، انسان جس قدر شریعت میں مضبوط تر ہوگا اتنا ہی خواہشات سے بعید تر ہوگا۔
پس معلوم ہوا کہ کوئی چیز نفس امارہ پر اتنی شاق اور گراں نہیں ہے جتنا کہ اوامر و نواہی شرع کو بجا لانا گراں ہے نفس کی خرابی و بربادی کا تصور اتباع شریعت سے ہی ہو سکتا ہے۔
تسلیک طالب مربوط بتصرف شیخ مقتدا:
منازل سلوک طے کرانا اس طریقہ کے شیخ مقتدا کے تصرف پر موقوف ہے بغیر اس کے تصرف کے اس کے دروازے کشادہ نہیں ہوتے ہیں کیوں کہ اندراج نہایت در بدایت اس کی توجہ کا اثر ہے۔ معنی بے چونی اور بے چگونی کا حصول اس کے کمال تصرف کا نتیجہ ہے۔ بے خودی کی کیفیت جس کو مشائخ نے راہ مخفی اعتبار کیا ہے اس کا حصول مبتدی کے اختیار میں نہیں ہے اور وہ توجہ جو کہ شش جہت سے خالی ہو اس کا وجود طالب کے لائق نہیں، بزرگان نقشبندیہ جس طرح اعطاے نسبت پر قدرت کاملہ رکھتے ہیں اور تھوڑے سے وقت میں حضور و آگاہی
طالب صادق کو عطا کر دیتے ہیں اسی طرح اس نسبت کے سلب پر بھی پوری پوری قدرت رکھتے ہیں اور ایک بے التفاتی و بے رخی کی وجہ سے صاحب نسبت کو مفلس کر دیتے ہیں۔
افادہ و استفادہ خاموشی سے ہے:
طریقہ عالیہ نقشبندیہ میں افادہ اور استفادہ دونوں ہی زیادہ تر سکوت اور خاموشی سے ہے مشائخ قدس اللہ تعالیٰ اسرارہم نے فرمایا ہے: جو شخص ہمارے سکوت سے نفع نہ حاصل کرےگا وہ ہمارے کلام سے بھی منتفع نہیں ہو سکتا ہے اور ان کی خاموشی بتکلف نہیں ہوتی ہے بلکہ اس طریقہ کے لوازم سے ہے کیوں کہ ان بزرگوں کی توجہ کا آغاز احدیت مجردہ سے ہوتا ہے یعنی ایسی احدیت جو اسم و صفت سے خالی ہو یہ بزرگوار سواے ذات کے اور کچھ نہیں چاہتے ہیں اور معلوم ہے کہ اس توجہ کے مناسب اور اس مقام کے لائق خاموشی ہے‘‘من عرف اللّٰہ کلّ لسانہ’’ (یہ مضامین زیادہ تر میں نے مکتوب ۲۲۱، دفتر اول سے لیے ہیں)
طریقہ نقشبندیہ شیطانی وساوس سے محفوظ ہے:
سلسلہ عالیہ نقشبندیہ شیطان کے وسوسوں سے مامون و محفوظ ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ اس سلسلہ کے اکابرین نے طریقہ کی بنیاد حضور و آگاہی اور جمعیت پر رکھی ہے، انوار کا کشف اور خوابوں کا دیکھنا وغیرہ ان کے لائق اعتبار نہیں ہے اس کے برخلاف دیگر طرق کہ ان کی بنیاد انوار و اسرار پر ہے۔ (در المعارف)
نسبت نقشبندیہ:
معلوم ہونا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ کا شہود یا تو صورت کے آئینے میں ہوتا ہے یا معنی کے آئینہ میں یا صورت و معنی دونوں سے ماورا اس بے پردہ شہود کو شہود برقی کہتے ہیں یعنی اس شہود کا حصول بجلی کی مانند ہوتا ہے، پھر پردوں میں روپوش ہو
جاتا ہے۔ یہی شہود اگر محض فضل خداوندی سے دوام پذیر ہو جائے اور مکمل طور پر پردوں کی تنگی سے باہر آجائے تو اسے یادداشت اور حضور بے غیبت کہتے ہیں۔ یہی حضور نقشبندی بزرگوں کا حضور ہے اور اس کو نسبت نقشبندیہ سے تعبیر کرتے ہیں۔
خیال رہے کہ نقشبندی طریق کی ایک خصوصیت یہ بھی ہے کہ اس میں جذبہ سلوک پر مقدم ہوتا ہے نقشبندی بزرگوں کا جذبہ دو قسم پر ہے؛ قسم اول وہ جذبہ ہے جو حضرت ابو بکر صدیقرضی اللہ عنہ سے پہنچا ہے۔ قسم دوم کاوہ جذبہ ہے جس کے ظہور کا مبدأ اس سلسلہ عالیہ میں خواجہ خواجگان محمد بہاء الدین نقشبند قدس اللہ اسرارہ ہیں۔
سلسلہ نقشبندیہ حضرت ابو بکر صدیقرضی اللہ عنہ سے منسوب ہونے کی وجہ:
آپ نے ابھی ابھی پڑھا کہ قسم اول کا جذبہ حضرت ابو بکر صدیقرضی اللہ عنہ سے پہنچا ہے اور اس اعتبار سےان مشائخ نقشبندیہ کا طریقہ حضرت ابو بکر سے منسوب ہے اس جذبہ کا حصول ایک مخصوص طریقہ سے توجہ کرنے پر موقوف ہے یہ جذبہ تمام موجودات کا قیوم ہے، فنا و اضمحلال اسی میں نصیب ہوتا ہے۔
حضرت خواجہ نقشبند قدس سرہ سے منسوب ہونے کی وجہ:
ابھی آپ نے پڑھا کہ قسم دوم کا جذبہ حضرت خواجہ بہاء الدین نقشبندیرضی اللہ عنہ سے پہنچتا ہے اسی وجہ سے سلسلہ آپ کی ذات بابرکات کی طرف منسوب ہوا یہ جذبہ معیت ذاتیہ کی راہ سے ابھرتا ہے اور یہ جذبہ حضرت خواجہ سے ان کے خلیفہ اول حضرت خواجہ علاء الدین عطار قدس سرہ کو حاصل ہوا۔ حضرت خواجہ علاء الدینرحمۃ اللہ علیہ چوں کہ اپنے وقت کے قطب الارشاد تھے اس لیے آپ نے بھی جذبہ کی اس نوع کی تحصیل کے لیے ایک طریقہ وضع کیا وہ طریقہ آپ کے خانوادے کے خلفا میں طریقہ علائیہ کے نام سے موسوم ہے۔
ان حضرات نے لکھا ہے کہ تمام طریقوں سے اقرب طریقہ طریقہ علائیہ ہے
اگرچہ اس جذبہ کی تحصیل کا طریقہ حضرت خواجہ علاء الدین قدس سرہ کے ساتھ ہے۔ بلاشبہہ یہ طریقہ کثیر البرکت ہے، اس طریقہ کا تھوڑا حصہ بھی بہت سے طریقوں سے زیادہ نفع بخش ہے۔
حضرت خواجہ عبید اللہ احرار قدس سرہ کو اس جذبہ کی دولت حضرت مولانا یعقوب چرخیرحمۃ اللہ علیہ سے پہنچی۔
جذبہ کی نوع اول جو حضرت ابو بکر صدیقرضی اللہ عنہ کی طرف منسوب ہے اس کی تحصیل کے لیے ایک جداگانہ طریقہ مقرر ہے، یہ وقوف عددی کا راستہ ہے اور وہ سلوک جو اس جذبہ کی تحصیل کے لیے ہوتا ہے وہ بھی دو قسم بلکہ کئی قسم کا ہے؛ ایک قسم تو وہ ہے کہ حضرت ابو بکر صدیقرضی اللہ عنہ اس طریقہ سے مقصود تک پہنچے اور حضرت رسالت خاتمیت علیٰ صاحبہا الصلاۃ و السلام بھی جذبہ کے اسی خانہ سے اسی طریقہ سے واصل ہوئے ہیں۔
حضرت ابو بکر صدیقرضی اللہ عنہ اس کمال اخلاص کی جہت سے جو آپ نبی علیہ الصلاۃ و السلام سے رکھتے تھے اور آپ میں فانی تھے تمام صحابہ کرامرضی اللہ عنہم کے درمیان اس راستے کی خصوصیت کے ساتھ مخصوص ہوئے ہیں اور یہی نسبت جذبہ و سلوک حضرت امام جعفر صادقرضی اللہ عنہ تک اسی خصوصیت کے ساتھ پہنچی۔
حضرت امام جعفر صادقرضی اللہ عنہ کی والدہ ماجدہ حضرت صدیق اکبر کی اولاد کرام سے تھیں تو حضرت جعفر کو حضرت ابو بکر سے ایک ولادت صوری اور دوسری ولادت معنوی حاصل تھی اس لیے آپ نے فرمایا: ولدنی ابو بکر مرتین۔
حضرت امام جعفر صادقرضی اللہ عنہ نے چوں کہ اپنے آباے کرامرضی اللہ عنہم سے بھی ایک الگ نسبت حاصل کی تھی لہٰذا آپ دونوں طریقوں کے جامع ہوئے اور اس جذبہ کو اپنے اس سلوک کے ساتھ جمع فرمایا اور اس سلوک سے مقصود تک پہنچے۔
الحاصل حضرت امام جعفر صادقرضی اللہ عنہ کو دو بزرگوں کا سلوک حاصل ہوا؛ ایک حضرت ابو بکر صدیق اور دوم حضرت علیرضی اللہ عنہما کا۔ آپ کی ذات عالیہ ان دونوں کی مجمع البحرین ہوئی۔
حضرت ابو بکر اور حضرت علی کے سلوک میں فرق:
حضرت ابو بکر اور حضرت علی کے سلوک کے درمیان فرق یہ ہے کہ حضرت علیرضی اللہ عنہ کا سلوک سیر آفاقی سے طے ہوتا ہے اور حضرت ابو بکر صدیقرضی اللہ عنہ کا سلوک سیر آفاقی سے کوئی خاص تعلق نہیں رکھتا ہے، یوں دکھائی دیتا ہے کہ حضرت صدیق نے جذبہ کے مکان میں سوراخ کیا اور مطلوب تک پہنچ گئے۔ حضرت علی کے سلوک میں معارف حاصل ہوتے ہیں اور حضرت صدیق اکبر کے سلوک میں محبت کا غلبہ ہوتا ہے۔ اسی بنا پر حضرت علی لازماً شہر علم کے باب (دروازہ) قرار پائے اور حضرت ابو بکر نے حضور سرکار دو عالمﷺ کے ساتھ دوستی اور خلوت کی قابلیت پیدا کی، سرکار دو عالمﷺ کا ارشاد ہے:
لو کنتُ متخذاً احداً خلیلاً لاتخذتُ ابا بکر خلیلاً
اگر مجھے کسی کو اپنا خالص دوست بنانا ہوتا تو ابو بکر صدیق کو بناتا۔
حضرت امام جعفر صادقرضی اللہ عنہ جہت جذبہ کی جامعیت کے اعتبار سے جس کا مبنیٰ محبت ہے اور سلوک آفاقی کی جہت سے جو علوم و معارف کا منشا ہے محبت و معرفت سے وافر حصہ حاصل کیا اس کے بعد امام موصوف نے اس نسبت مرکبہ کو بطور امانت حضرت بایزید بسطامی قدس سرہ کے سپرد کیا۔ حضرت بایزید قدس سرہ نے گویا یہ امانت اپنی پشت پر اٹھائے رکھا یہاں تک کہ یہ امانت بتدریج امانت کے اہل تک پہنچائی۔ حضرت بایزید قدس سرہ کی توجہ کا رخ اس بار امانت کو اٹھانے سے قبل دوسری جانب تھا اس نسبت کے ساتھ مناسبت نہیں رکھتے تھے۔
اس نسبت کے اٹھانے میں بہت سی حکمتیں ہیں اگرچہ اٹھانے والوں نے اس نسبت سے بہت کم حصہ حاصل کیا لیکن اس نسبت کو ان بزرگوں کے انوار سے کافی حصہ ملا ہے مثلاً سکر کی ایک قسم جو اس نسبت میں ملی ہوئی ہے سلطان العارفین بایزیدرضی اللہ عنہ کے انوار کے نشانات میں سے ہے یہ سکر مبتدیوں سے حس غائب کر دیتا ہے اور ہوش کو لے جاتا ہے اس کے بعد آہستہ آہستہ یہ سکر پوشیدہ ہو جاتا ہے اور صحو کے غلبہ کے سبب سے وہ نسبت مراتب صحو میں مخلوط ہو جاتی ہے ظاہر میں صحو ہوتا ہے اور باطن میں سکر۔
علیٰ ھذا القیاس یہ نسبت ہر بزرگ سے نور حاصل کر کے اس کے اپنے اہل تک پہنچی وہ عارف ربّانی حضرت خواجہ عبد الخالق غجد دانی ہیں جو حضرات خواجگان کے سر حلقہ ہیں اس وقت میں اس نسبت نے پھر سے تازگی پائی اور میدان ظہور میں آئی حضرت خواجہ قد س سرہ کے بعد اس سلسلے میں سلوک آفاقی کا پہلو پھر پوشیدہ ہو گیا۔
اس جذبہ کے حصول کے بعد مشائخ دوسرے راستوں (پر چل) پڑے اور عروج حاصل کیا یہاں تک کہ حضرت خواجہ نقشبند قدس سرہ عالم ظہور میں جلوہ گر ہوئے تو وہ نسبت اس جذبے اور سلوک آفاقی کے ساتھ پھر ظاہر ہوئی اور ان دونوں جہتوں کی وجہ سے آپ معرفت و محبت کے کمال کے جامع ہوگئے اس جامعیت کے باوجود جذبے کی ایک دوسری قسم آپ کو عطا فرمائی گئی جو معیت کی راہ سے سامنے آتی ہے نیز آپ کے خلیفہ ارشد حضرت خواجہ علاء الدین عطار قدس سرہ جذبہ و سلوک آفاقی کی دونوں دولتوں سے مشرف ہوئے اسی طرح حضرت خواجہ محمد پارسا قدس سرہ نے بھی آپ کے کمالات سے کامل حصہ پایا۔ حضرت خواجہ پارسا نے ان کمالات کے باوجود نسبت فردیت مولانا عارف (دیک گرانی) سے پائی اور نسبت
کا یہی غلبہ آپ کے لیے مرشد بننے اور طالبوں کی تکمیل کرنے سے رکاوٹ بن گیا۔ حضرت خواجہ نقشبند قدس سرہ کے خلفا کے بعد اس بزرگ خاندان کے چراغ حضرت خواجہ عبید اللہ احرار تھے، آپ خواجگان کے جذبے کو مکمل طور پر طے کرنے کے بعد سیر آفاقی کی طرف متوجہ ہوئے اور اس سیر کو اسم تک پہنچایا اور اس میں استہلاک و فنا حاصل کی اور پھر جذبہ کے گھر میں آئے اور اس جہت میں آپ نے خاص استہلاک و اضمحلال پیدا کیا اور اس جہت میں بقا بھی پائی۔
مختصر یہ کہ آپ اس جہت میں شان عظیم رکھتے تھے اور وہ علوم و معارف جو فنا و بقا میں میسر آتے ہیں آپ کو اسی مقام میں میسر آگئے اگرچہ دونوں جہتوں کے تغایر کے واسطے سے علوم میں فرق موجود ہے ان میں سے ایک فرق توحید وجودی کا اثبات اور اس کا عدم ہے، اسی طرح ان امور کا اثبات ہے جو توحید وجودی کے مناسب ہیں جیسے احاطہ، سریان، معیت ذاتیہ اور کثرت کے بالکلیہ پوشیدہ ہو جانے کے باوجود وحدت کا کثرت میں شہود۔ اس طرح کے سالک کا اپنے اوپر کلمہ انا کا اطلاق نہ کر پانا اور اسی طرح کے دیگر امور ہیں۔
اس کے برخلاف وہ امور جو بقا پر مرتب ہوتے ہیں جو فنا مطلق کے بعد ہے کیوں کہ جو علوم بقا پر مرتب ہوتے ہیں ایسے مذکورہ بالا امور کی طرح نہیں ہیں بلکہ شریعت حقہ کے بالکل مطابق ہیں۔
مختصر یہ کہ جو بقا جہت جذبہ میں ہے جذبہ خواہ کسی قسم کا ہو ایسی سکر سے باہر نہیں لا سکتی ہے اور صحو میں داخل نہیں کر سکتی ہے۔
جذبہ میں محبت کا غلبہ ہے اور غلبۂ محبت کے لیے سکر لازم غرض کسی طرح سکر اس سے جدا نہیں ہو سکتا ہے اس لیے لازمی طور پر اس کے علوم سکر آمیز ہوتے ہیں جیسے وحدت الوجود کا قائل ہونا کیوں کہ وحدت الوجود کا مبنیٰ سکر اور غلبہ محبت ہے
اس طور پر کہ اس کی نظر میں محبوب کے سوا کچھ باقی نہیں رہتا ہے لہٰذا وہ ماسوا کی نفی کا حکم لگاتا ہے اگر ایسا شخص صحو کی طرف آتا تو محبوب کا شہود اس کے لیے ماسوا کے شہود کے لیے مانع نہ ہوتا اور وحدت وجود کا حکم نہ لگاتا۔
اور وہ بقا جو فناے مطلق اور نہایت سلوک کے بعد ہوتی ہے صحو کا منشا اور معرفت کا مبدأ ہے سکر کا اس جگہ کوئی دخل نہیں حالت فنا میں علوم و معارف سے جو کچھ مفقود ہو گیا تھا وہ کچھ رجوع کر آتا ہے لیکن اصل کے رنگ سے رنگین ہوتا ہے بقا باللہ سے یہی مراد ہے اس لیے لازماً ان کے علوم میں سکر کی کوئی گنجائش نہیں ہوتی ہے۔ پس ان کے علوم انبیاے کرام علیہم الصلوات و التسلیمات کے علوم کے مطابق ہوتے ہیں۔