مواد پر جائیں

Allama Afaque Ahmad Mujaddidiخصائصِ نقشبندیہنسبت نقشبندیہ کے فرائض

باب ۱۲ از ۲۲صفحات ۱۴۱–۱۵۲

نسبت نقشبندیہ کے فرائض

گذشتہ بیان سے آپ نے سمجھ لیا ہوگا کہ نقشبندی نسبت کا حاصل دوام حضور و آگاہی اور دل سے خطرات کا گم ہوجانا ہے۔ حضرت شاہ غلام علی دہلوی مجددی قدس سرہ فرماتے ہیں کہ میرے نزدیک خطرات کا کم ہو جانا گم ہو جانے کے منزلہ میں ہے۔ ایک مرتبہ آپ سے سوال کیا گیا کہ نقشبندیہ میں کیا چیز فرض ہے؟ آپ نے فرمایا: دو چیزیں فرض ہیں؛ ایک وقوف قلبی، دوم نگہداشت خواطر۔ ایک مقام پر آپ نے فرمایا کہ آیت کریمہ:

رِجَالٌ ۙ لَّا تُلْہِیۡہِمْ تِجَارَۃٌ وَّ لَا بَیۡعٌ عَنۡ ذِکْرِ اللہِ

میں دوام ذکر قلبی کی طرف اشارہ ہے اور دوسری آیت:

فَاذْکُرُوا اللہَ قِیٰمًا وَّقُعُوۡدًا وَّعَلٰی جُنُوۡبِکُمْ

سے بھی یہی ذکر قلبی مفہوم ہوتا ہے کیوں کہ ذکر قلبی ہر وقت ہو سکتا ہے اور ذکر لسانی علی الدوام مشکل ہے۔

چار چیزوں کا نام نسبت نقشبندیہ ہے:

حضرت شاہ غلام علی دہلوی قدس سرہ فرماتے ہیں کہ طریقہ عالیہ نقشبندیہ چار چیزوں کا نام ہے؛ ایک بے خطرگی، دوم دوام حضور، سوم جذبات، چہارم واردات۔ ایک دوسرے مقام پر فرماتے ہیں کہ اس طریقہ شریفہ میں مدار کار پانچ چیزوں پر رکھا گیا ہے؛ ایک سالک کی توجہ دل کی جانب، دوم دل کا خالق کی طرف متوجہ رہنا، سوم خطرات سے غافل رہنا، چہارم ذکر میں مشغول رہنا، پنجم قلب میں یہ معنی ملحوظ رکھنا کہ خداوند میرا مقصود تو ہی اور تیری رضا مطلوب۔ (در المعارف)

حضور دو قسم پر ہے:

جامع کمالات احمدی حضرت سیدنا شاہ غلام علی قدس سرہ ارشاد فرماتے ہیں کہ حضور دو قسم پر ہے؛ ایک حضور ذکر ہے ، اول حال میں کہ لطائف ذاکر ہو جاتے ہیں، ان کی حفاظت و نگہداشت کرنی چاہیے، دوم حضور مع اللہ کہ اس کو ہمارے طریقہ میں یادداشت، توجہ اور آگاہی در حضور کہتے ہیں اور دیگر طریقوں میں شہود نام ہے یہ حق سبحانہ کی جانب دل کی بینائی ہے جب یہ حاصل ہو جائے تو اس کی نگہداشت ضروری ہے یہاں تک کہ ملکۂ دل ہو جائے اور حضور دائمی ہو جائے اور غفلت راہ نہ پائے اگرچہ ظاہر میں معاملہ دنیا میں مصروف ہو لیکن باطن میں حق سبحانہ کے ساتھ مالوف جیسا کہ کہا گیا ہے کہ ‘‘دل بیار و دست بکار’’۔

یہ حضور دائمی حضرت شیخ محی الدین ابن عربی کے نزدیک اس وقت میسر آتا ہے جب کہ خواب (سونے) میں بھی حضرت رب العزت سے غفلت نہ آئے اور ہمارے نزدیک اس وقت جب کہ نیند سے بیدار ہو تو دل کو آگاہ پائے اور حضرت

......................

۔دل یار میں اور ہاتھ کام میں۔

مولانا جامی قدس سرہ کے نزدیک اس وقت جب کہ دل کی طرف متوجہ ہو تو دل کو ذات کے مشاہدہ میں پائے۔ (درالمعارف)

طریقہ کی درویشی دو چیزوں سے مشروط ہے:

طریقہ نقشبندیہ مجددیہ میں درویشی دو چیزوں کا نام ہے؛ ایک دوام حضور و آگاہی اور دوم محبت مشائخ جو کہ محبت الٰہی کا ظل ہے جلّ ذکرہ اس کی شرط دو چیزیں ہیں؛ ایک دوام صحبت، دوم اتباع سنت علیٰ صاحبہا الصلاۃ و السلام۔

جہاں تک کشف کا تعلق ہے تو وہ طریقہ کا رکن ہے اور نہ شرط اور نہ ہی اس کے لیے لازم و ضروری ہے۔ حضرت خواجہ مرزا جان جاناں شہید دہلوی قدس سرہ نے فرمایا ہے کہ حضرت خواجہ خواجگان محمد بہاءالدین نقشبند قدس سرہ نے کشف کو طریقہ سے بالکل اٹھا دیا جیسا کہ حضرت باقی باللہ قدس سرہ کے ملفوظات میں تحریر ہے کہ جو لوگ اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ ہیں ان کو کشف کی کوئی ضرورت نہیں ہے کیوں کہ کشف کی دو قسمیں ہیں۔

کشف کی دو قسمیں ہیں:

ایک دنیوی یعنی دنیا کے امور میں سے کسی کا مکشوف ہونا کشف کی یہ قسم بالکل کارآمد نہیں اور دوم اخروی کشف جس کا تعلق امور آخرت سے ہوتا ہے یہ کشف کتاب و سنت میں اچھی طرح بیان کر دیا گیا ہے اور ہمارے لیے وہی کافی ہے اس کے برابر کوئی کشف نہیں ہو سکتا ہے نیز حضرت خواجہ محمد باقی باللہ قدس سرہ فرماتے ہیں۔

طریقت کے اکابرین نے اپنے طریقوں میں ریاضات و مجاہدات کو ایسے طور پر اختیار کیا ہے جس کی وجہ سے اشیا کا کشف ہوتا ہے اور واقعات وغیرہ ظاہر ہوتے ہیں نیز سلوک کو بھی بالترتیب شرط قرار دیا ہے ان بزرگوں کی سلوک میں رفتار

بطریق کشف ہوتی ہے ان کے یہاں ہر ہر قدم پر چاہیے کہ وہ چیز دیکھے جو انھوں نے مقرر کی ہے اگر وہ ساری چیزیں جن کا جس مقام سے تعلق ہے نظر نہیں آتی ہیں تو یہ ان کے یہاں نقصان کی علامت ہے۔

اور ہمارے مشائخ قدس اللہ تعالیٰ اسرارہم نے اپنا طریقہ ایسے طور پر اختیار کیا ہے کہ مکاشفات و واقعات پیدا ہی نہ ہوں اس کی دو وجہیں ہیں؛ ایک یہ کہ سالکین عموماً کشف کے دلدادہ ہوتے ہیں ایسی صورت میں حالات و واقعات کے ظہور سے سالک ان میں گرفتار ہو کر مانوس ہو جاتا ہے جس کی وجہ سے مدارج قرب میں اس ترقی سے رک جاتا ہے جو کہ عین جمعیت میں استہلاک و اضمحلال ہے جب کہ مقصود و مطلوب صرف اور صرف حق سبحانہ ہونا چاہیے اور حالات و واقعات وغیرہ کو غیر اور زائد جاننا چاہیے۔

حضرت خواجۂ خواجگاں مرہم دل دردمنداں سید محمد بہاء الدین نقشبند قدس سرہ سے لوگوں نے احوال و مکاشفات کے بارے میں پوچھا تو آپ نے فرمایا سب کی کلمہ لا کے تحت ہم نے نفی کی ہے۔ دوسری وجہ یہ کہ ہر وہ تجلی جس کے ساتھ رحمٰن جل جلالہ متجلی ہوتا ہے شیطان رجیم کو بھی قوت دی گئی ہے کہ اسی تجلی سے متجلی ہو سکے اور تجلیات رحمانی اور تجلیات شیطانی کے درمیان فرق اور تمیز بہت دشوار ہے اس وجہ سے مشائخ نقشبندیہ نے ایسا طریقہ اختیار کیا ہے کہ مذکورہ بالا امور میں سے کچھ بھی ظاہر نہ ہو اور یقین سے جان لیا ہے کہ مقصود حقیقی یہی ہے کہ تمام چیزوں سے بیزار ہو کر حق سبحانہ کے ساتھ اس طرح مشغول ہو جائے کہ ہر چند حضور و آگاہی کو اپنے سے دور کرنا چاہے مگر دور نہ ہو سکے۔

مذکورہ بالا بیان سے آپ نے اچھی طرح سمجھ لیا ہوگا کہ نقشبندی بزرگوں کی ہمت کتنی بلند ہے وہ صرف اور صرف توجہ الی اللہ کی تاکید کرتے ہیں سالکین کو

ہمیشہ یہی تنبیہ فرماتے ہیں کہ مطلوب و مقصود صرف ایک ذات خداوندی ہو اس کے علاوہ دل میں کسی چیز کی طلب نہ ہو، خداوند قدوس عنایت بھی فرمائے تو بھی احوال و واقعات سے ذرا بھی لگاو نہ ہو، نقشبندی سالکوں کو اگر راہ سلوک میں کوئی کشف نہ ہو تو کبھی بد دل نہیں ہونا چاہیے یہ تو ان کے طریقہ کا مزاج ہی ہے، ہاں کف افسوس اس وقت ملنا چاہیے جب کہ سنتیں ترک ہو رہی ہوں اور پھر کشف ہوتا رہے۔

کتنا افسوس ہوتا ہے ان نقشبندیوں کو دیکھ کر جن کو سنت پر عمل کی کوئی فکر نہیں،خود بھی اور مریدوں کو کشف میں الجھائے رہتے ہیں۔ بڑا افسوس یہ دیکھ کر ہوتا ہے کہ ترک سنت کے باوجود جب کسی چیز کا کشف ہوتا ہے تو اسے اپنی مقبولیت کی دلیل تصور کر لیتے اور ترک سنت کی وجہ سے جو نقصان لاحق ہوتا ہے اس کی فکر نہیں کرتے ہیں۔ میں ایسے لوگوں کے لیے حضرت مجدد قدس سرہ کے ایک فرمان کو نقل کرتا ہوں جس کا ہر ہر جملہ قابل حفظ ہے جس سے بخوبی اندازہ ہو جائےگا کہ کشف وقائع کی نقشبندی بزرگوں کے یہاں کیا گنتی ہے، آپ فرماتے ہیں: موت کے آنے سے پہلے اپنا کام کرناچاہیے اور یا شوق کہتے ہوئے مرنا چاہیے، اول اعتقاد کی درستی سے چارہ نہیں اور جو کچھ بطریق ضرورت اور تواتر دین سے معلوم ہے اس کی تصدیق ضروری ہے۔ دوم جاننا اور عمل کرنا اس پر جو علم فقہ سے متعلق ہے نیز ضروری ہے۔ سوم سلوک صوفیہ بھی درکار ہے نہ اس غرض کے لیے کہ غیبی صورتوں اور شکلوں کا مشاہدہ کریں اور انوار اور رنگوں کو دیکھیں یہ خود لہو و لعب میں داخل ہے، صور و انوار حسّی میں کیا نقصان ہے کہ کوئی ان کو چھوڑ کر ریاضات و مجاہدات سے صور و انوار غیبی کا لالچ کرے صور و انوار غیبی اور حسّی دونوں حق سبحانہ کی مخلوق ہیں اور اس کے صانع ہونے پر دلالت کرنے والی نشانیوں سے

ہیں، سورج اور چاند کا نور جو عالم شہادت سے ہے کئی طرح ان انوار پر فضیلت رکھتا ہے جو عالم مثال میں دیکھتے ہیں لیکن چوں کہ یہ دید دائمی ہے اور خواص و عوام اس میں شریک ہیں اس لیے نظر اعتبار سے ساقط کر کے انوار غیبی کا لالچ کرتے ہیں، ہاں ؏

جو پانی تیرے دروازے کے آگے جاری ہے وہ گدلا معلوم ہوتا ہے

بلکہ طریق صوفیہ کے سلوک سے مقصود اعتقادیات شرعیہ میں یقین کی زیادتی حاصل کرنا ہے تاکہ استدلال کی تنگ جگہ سے کشف کی فراخ زمین میں آجائیں اور اجمال سے تفصیل کی طرف آجائیں۔ (مکتوب۲۱۰، جلد اول)

وَلایت اور وِلایت:

حضرت سیدنا و غوثنا خواجہ محمد باقی باللہ قدس سرہ ارشاد فرماتے ہیں وَلایت (واو کے زبر کے ساتھ) بندہ کے قرب کو کہتے ہیں جو وہ حق سبحانہ سے رکھتا ہے اور وِلایت (واو کے زیر کے ساتھ) اس چیز کو کہتے ہیں جو خلق میں مقبول ہونے کا سبب ہے اور اہل عالم اس کی طرف گرویدہ ہوتے ہیں اور کمال مخلوقات سے تعلق رکھتا ہے خوارق و تصرفات دوسری قسم میں داخل ہیں، حاضرین میں سے ایک شخص نے سوال کیا کہ جو برکتیں صاحبان استعداد کو پہنچتی ہیں وہ کس قسم میں داخل ہیں؟ آپ نے جواب میں فرمایا کہ وہ وَلایت (واو کے زبر کے ساتھ) کا اثر ہیں۔ اس بیان کے اثنا میں آپ نے طالبوں کے استفادہ کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ جس وقت طالب کا آئینہ مرشد کے آئینہ کے مقابل ہوتا ہے تو جو کچھ مرشد کے آئینہ میں ہوتا ہے وہ طالب کے آئینہ پر بقدر مناسبت اپنا پرتو ڈالتا ہے اسی موقع پر آپ نے فرمایا کہ بعض کو ولایت ان دونوں قسموں میں سے ایک حاصل ہوتی ہے اور بعض کو دونوں قسموں سے کافی حصہ ملتا ہے یا کسی کو دونوں میں سے ایک سے زیادہ

اور دوسری سے کم حصہ ملتا ہے۔

مشائخ نقشبندیہ رحمہم اللہ تعالیٰ میں ہمیشہ ولایت (واو کے زبر کے ساتھ) وِلایت (واو کے زیر کے ساتھ) پر غالب رہی ہے۔ آپ نے یہ بھی فرمایا کہ جب کوئی مقتدا اس جہاں سے انتقال کر جاتا ہے تو ولایت (بکسر واو) اپنے کسی مخلص کے حوالے کر جاتا ہے اور وَلایت (بفتح واو) اپنے ساتھ لے جاتا ہے۔ (تذکرہ مشائخ نقشبندیہ)

نسبت نقشبندیہ انعکاسی اور حُبیّ ہے:

مظہر تجلیات رحمانی حضرت مجدد الف ثانی قدس سرہ مولانا محب علی کو تحریر فرماتے ہیں: اے مخدوم! شرعی وضعوں میں سے کسی بھی وضع پر ہوں محل مضائقہ نہیں ہے اس شرط کے ساتھ کہ اس محبت کا رشتہ کمزور نہ پڑے بلکہ روز بروز قوت پیدا کرے اور اس اشتیاق کی آہ سرد نہ ہو ساعت بساعت شعلہ زنی میں زیادتی پیدا کرے کیوں کہ ہمارا ارتباط حُبّی ہے اور ہماری نسبت انعکاسی اور انصباغی ہے قرب و بعد میں تفاوت نہیں رکھتی ہے۔

ایک دوسرے مکتوب میں ارشاد فرماتے ہیں: افادہ و استفادہ انعکاسی و انصباغی ہے مرید اس رابطۂ محبت کی وجہ سے جو وہ شیخ مقتدا سے رکھتا ہے گھڑی گھڑی اس کے رنگ سے رنگین ہوتا ہے اور بطریق انعکاس اس کے انوار سے منور ہوتا ہے اس صورت میں افادہ اور استفادہ میں علم درکار نہیں، خربوزہ سورج کی شعاع سے دھیرے دھیرے پکتا ہے اور دنوں کے گذرنے سے پک جاتا ہے کیا درکار ہے کہ اس کو اپنے پکنے کا علم ہو یا سورج کو علم ہو کہ اس کو پکا رہا ہے، ہاں اختیاری تسلیک و سلوک جو کہ دوسرے سلسلوں میں ہوتا ہے اس میں علم درکار ہے اور ہمارے طریقہ میں کہ صحابہ کرام کا طریقہ ہے علیہم الرضوان سلوک و تسلیک کا علم کچھ بھی درکار

نہیں ہے اگرچہ شیخ مقتدا کہ بانی طریقہ کے مثل ہے کمال علم اور وفور معرفت سے تحقق رکھتا ہے تو لامحالہ اس طریق عالی میں وصول کے حق میں زندہ و مردہ، بچے بوڑھے، جوان و شیوخ سب برابر ہیں کہ رابطۂ محبت یا صاحب دولت کی توجہ کی وجہ سے مقاصد کی انتہا پر پہنچتے ہیں۔ (مکتوب ۲۶۱۔۲۶۲)

خلاصہ یہ کہ نقشبندی نسبت کی بنیاد انعکاس و انصباغ کی ہے مرید کو جتنی زیادہ شیخ سے محبت ہوگی اور جتنا زیادہ وہ شیخ کا متبع ہوگا اتنی ہی زیادہ اسے شیخ سے مناسبت ہوگی۔ ایسی صورت میں شیخ کے کمالات منعکس ہو کر مرید پر اپنا پرتو ڈالیں گے جب دار و مدار انعکاس پر ہے تو یہ بھی ضروری نہیں کہ مرید کو یا پیر کو اپنے مقام و منزل کا علم ہو ہاں جو سلوک اختیاری ہے جیساکہ دیگر سلاسل میں وہاں علم ضروردرکار ہے اس کی مزید وضاحت آگے آئےگی۔

فائدہ:

خواجۂ خواجگاں امام طریقت سیدنا محمد بہاء الدین نقشبند قدس سرہ کو مولانا یعقوب چرخی قدس سرہ کے بیان کے مطابق تصوف میں چار طریقے سے نسبت حاصل ہے؛ ایک بطریق اویسیت حضرت خضر علیہ السلام سے۔

دوم حضرت سید الطائفہ جنید بغدادی قدس سرہ سے اس کی تفصیل یہ ہے کہ حضرت خواجہ بزرگ قدس سرہ کو حضرت خواجہ سید امیر کلال سے ان کو حضرت خواجہ محمد بابا سماسی سے ان کو خواجہ عزیزاں علی رامیتنی سے ان کو خواجہ محمود انجیر فغنوی سے ان کو خواجہ محمد عارف دیوگری سے ان کو خواجہ عبد الخالق غجددانی سے ان کو خواجہ یوسف ہمدانی سے ان کو خواجہ بو علی فارمدی سے ان کو خواجہ امام ابو القاسم قشیری سے ان کو خواجہ ابو علی دقاق سے ان کو خواجہ ابو القاسم نصیرآبادی سے ان کو خواجہ ابو بکر شبلی سے ان کو سید الطائفہ حضرت خواجہ جنید بغدادی سے قدس اللہ تعالیٰ

اسرارہم و افاض علینا من برکاتہم۔

حضرت خواجہ کی یہ نسبت حضرت امیر المؤمنین علی مرتضیٰ کرم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم تک پہنچتی ہے۔

تیسری نسبت وہ ہے جو حضرت بایزید بسطامی کے توسط سے امیر المؤمنین سیدنا ابو بکر صدیق‌رضی اللہ عنہ تک منتہی ہوتی ہے اور

چہارم وہ ہے جو حضرت بسطامی قدس سرہ کے توسط سے حضرت علی مرتضیٰ‌رضی اللہ عنہ تک منتہی ہوتی ہے۔

عام طور پر نقشبندیہ میں بالخصوص نقشبندیہ مجددیہ جو نسبت جلوہ فرما ہے اور جس پر نقشبندیہ کو اتنے بلند کمالات اور درجات حاصل ہوئے وہ وہی نسبت ہے جو حضرت ابو بکر سے سلمان فارسی کو اور ان سے حضرت امام قاسم کو اور ان سے امام جعفر صادق کو اور ان سے بطریق اویسیت حضرت سلطان بایزید بسطامی کو اور ان سے اسی طرح حضرت خواجہ ابو الحسن خرقانی کو اور ان سے حضرت خواجہ بو علی فارمدی رضی اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین کو حاصل ہوئی باقی وہی سلسلہ ہے جو نسبت جنیدیہ میں مذکور ہوا۔

القاب نسبت:

معلوم ہونا چاہیے کہ ہمارے مشائخ کے یہاں جو مشہور نسبت ہے وہ وہی ہے جو حضرت سیدنا ابو بکر صدیق‌رضی اللہ عنہ سے ہے کما مرّ (جس کا ابھی ذکر ہوا)۔ اس نسبت عالیہ کے زمانے کے اختلاف کے اعتبار سے مختلف نام رہے ہیں پس حضرت ابو بکر صدیق‌رضی اللہ عنہ سے حضرت سلطان العارفین طیفور ابن عیسیٰ المشہور بہ بایزید بسطامی اس نسبت کو صدیقیہ کہا جاتا تھا اور حضرت بایزید بسطامی سے لے کر حضرت خواجہ عبد الخالق غجددانی قدس اسراہم تک اس کا نام طیفوریہ تھا اور آپ سے لے کر حضرت

خواجہ بزرگ محمد بہاء الدین نقشبند قدس سرہ تک اس کو خواجگانیہ کہا جاتا رہا اور حضرت خواجہ بزرگ قدس سرہ کے زمانۂ مبارک سے اس کا نام نقشبندیہ قرار پایا جو ابھی تک چل رہا ہے۔

بعض کتابوں سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت خواجہ عبید اللہ احرار قدس سرہ کی ذات سے جب یہ نسبت ایک مخصوص نور سے پرنور ہوئی تو اس وقت سے حضرت امام ربّانی مجدد الف ثانی قدس سرہ تک اس کو احرار یہ کہا گیا، جو نسبت نقشبندیہ حضرت مجدد الف ثانی قدس سرہ کے توسط سے لوگوں کو میسر آئی چوں کہ حضرت مجدد قدس سرہ سے اس کو ایک نئی تازگی اور روشنی ملی آپ کی بلند اور ارفع ذات نے اس کو بلندیوں اور رفعتوں کی ان حدوں تک پہنچا دیا کہ رفعت عرش بھی محو حیرت ہو کر رہ گئی اسی وقت سے مستقل نقشبندیہ مجددیہ فیضان الٰہی کی ایک عظیم شاہراہ ہو گئی بلکہ جب سے حضرت مجدد قدس سرہ کا ظہور ہوا اور مجددی انوار سے یہ نسبت معمور ہوئی اس وقت سے زیادہ شہرت اور مقبولیت نقشبندیہ کی اسی شاخ کو ہوئی اور اس نے جہان کو منور کر دیا اسی وقت سے یہ نسبت نقشبندیہ مجددیہ کے نام سے مشہور ہوئی پھر یہی نسبت جن لوگوں کو حضرت شمس الدین حبیب اللہ مرزا جان جاناں شہید دہلوی قدس سرہ کے توسط سے ملی ان کے یہاں اس کے ساتھ مظہریہ کے لفظ کا اور اضافہ ہو گیا پھر یہ نسبت جن حضرات کو حضرت قطب الاقطاب علامہ مفتی رضا علی صاحب بنارسی قدس سرہ کے ذریعہ سے ملی اس وقت سے لفظ رضویہ کا اضافہ ہو گیا۔

حضرت مولانا رضا علی قدس سرہ چوں کہ علم و فضل اور بزرگی میں ایک عظیم منزل کے حامل ہوئے اور بنارس کے دیار میں آپ کا فیضان بہت عام ہوا آپ کے متعدد خلفا ہوئے جنھوں نے اس نسبت کی خوب اشاعت کی سب سے زیادہ حضرت

مولانا رضا علی قدس سرہ کے فیضان کو جس نے عام کیا وہ ہیں آپ کے خلیفہ ارشد حضرت مولانا سید عبد الحلیم صاحب سیوانی اور ان کے فرزند ارجمند قطب عالم مولانا سید ابو الخیرات صاحب قدس اسرارہما حضرت مولانا سید ابو الخیرات قدس سرہ کی قوت فیض کی وجہ سے آج بھی یہ نسبت اپنی پوری آپ و تاب کے ساتھ جلوہ گر ہے آپ کے زمانے سے اس میں لفظ خیریہ کا اور اضافہ ہو گیا۔

حضرت مولانا ابو الخیرات قدس سرہ کے متعدد باکمال خلفا تھے مگر آج آپ کی نسبت اپنی انھی رفعتوں کے ساتھ جن کے پاس موجود ہے وہ ملی ہے آپ کے خلیفہ اجل شیخ المشائخ حضرت مولانا غلام محمد خاں صاحب کمالپوری قدس سرہ کو اور ان کے اوصاف کے حامل اور کمالات کے جامع اور آپ کے فرزند دلبند حضرت سیدی و سندی آقائی و مرشدی مولانا شاہ احمد رضا خان صاحب متع اللہ المسلمین بطول بقاءہ و افاض علیّ و علیٰ جمیع اخوتی دائماً ابداً ہیں۔ اب یہ نسبت آپ کے شجرہ میں یوں ہے نقشبندیہ مجددیہ مظہریہ خیریہ رضویہ لفظ رضویہ، خیریہ کے بعد آپ ہی کی نسبت سے لایا گیا۔

نسبت نقشبندیہ اور مجددیہ میں فرق:

نسبت نقشبندیہ آپ تفصیل سے پڑھ چکے اور نسبت احمدیہ مجددیہ یہ ہے کہ لطائف سبعہ (ساتوں لطیفوں) میں سے ہر لطیفہ میں اس طرح توجہ پیدا ہو جائے کہ پھر یہ توجہ زائل ہو جائے اور اللہ تعالیٰ کا حضور اس طرح ہو جائے جس طرح سالک کا نفس خود سالک کے پاس حضور رکھتا ہے اور ذوق و شوق و توجہ کچھ باقی نہ رہے اور لطائف عالم خلق میں نسبت کے انوار میں وسعت و فراخی اور لطافت احوال حاصل ہو جائے اس کا نام نسبت احمدیہ مجددیہ ہے۔ (مکتوبات حضرت شاہ غلام علی دہلوی قدس سرہ)

حضرت شاہ غلام علی مجددی قدس سرہ ‘‘ایضاح الطریقہ’’ میں ارشاد فرماتے ہیں جان لو کہ طریقہ مجددیہ نقشبندیہ کے اصول پر مبنی ہے اور وہ وقوف قلبی و توجہ بمبدأ فیاض و نگہداشت خواطر و دوام ذکر و اعتصام بصحبت شیخ مقتدا ہیں ہر مقام میں لحاظ معہود اور فیض اور اس کا ماخذ (ملحوظ) رکھے اور اسی طریقہ کے اذکار و اشغال پر مواظبت اختیار کرے لیکن مقامات بلند اور اصطلاحات ارجمند ان بزرگواروں کے چیزے دیگر ہیں (دو سطر بعد فرماتے ہیں) اس طریقہ شریفہ کا حامل دوام حضور اور دوام آگاہی ہے۔

حضرت ذات الٰہی سبحانہ کے ساتھ اہل سنت و جماعت کے موافق عقیدہ صحیحہ کے التزام کے ساتھ اور سنت نبویہﷺ کی اتباع کے التزام کے ساتھ اور جو شخص ان تین (دوام حضور، عقیدہ صحیحہ کا التزام و اتباع سنت) امور میں سے کسی ایک کو نہیں رکھتا ہے وہ طریقہ سے نکل جاتا ہے نعوذ باللہ منہا اس حالت کو صحابہ رضی اللہ عنہم کے طریقہ میں احسان کہتے تھے اور صوفیہ کی اصطلاح میں شہود و مشاہدہ و یادداشت اور عین الیقین کہتے ہیں یہ دولت جو کہ عبودیت کا سرمایہ ہے اس کے حصول کے واسطے چار طریقے مقرر کیے ہیں۔