باب ۲ از ۲۲صفحات ۲۳–۳۵
ہر نعمت کا وسیلہ
حضرت سیدی محمد معصوم قدس سرہ جب حرمین شریفین کی زیارت سے مشرف ہوئے وہاں جو واقعات و حالات پیش آئے کچھ اس میں سے آپ کے فرزند دوم مروّج شریعت حضرت خواجہ عبید اللہرحمۃ اللہ علیہ نے ایک رسالے میں قلم بند فرمائے ہیں جس کا نام ‘‘یاقوت احمر’’ ہے صاحب تذکرہ مشائخ نقشبندیہ ناقل، فرمایا کہ محسوس ہوتا ہے کہ حضرت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا وجود مقدس مرکز جمیع عالمیاں ہے عرش سے فرش تک تمام مخلوقات آپ کی محتاج ہے اور آپ سے فیض یاب ہے اگرچہ وہاب مطلق اللہ تعالیٰ ہے لیکن افاضہ آپ کے توسل شریف سے ہوتا ہے اور مہمات ملک و ملکوت آپ کے اہتمام سے سر انجام پاتی ہیں، شب و روز کافہ مخلوقات پر روضہ مطہرہ سے انعام فائض ہوتا رہتا ہے اور کیوں نہ ہو کہ آپ
وَمَاۤ اَرْسَلْنٰکَ اِلَّا رَحْمَۃً لِّلْعٰلَمِیۡنَ
کے مصداق ہیں باوجود اس عموم رحمت کے، استغنا جو مقام محبوبیت کو لازم ہے بوجہ اتم و اکمل پایا جاتا ہے۔ اسی وجہ سے آپ کے حضور میں عرض حاجت کے واسطے توسل کی ضرورت ہوتی ہے اور بلا توسل مشکل معلوم ہوتی ہے۔ (تذکرہ مشائخ نقشبندیہ، ص:۲۷۰)
بات بات پر شرک و بدعت کا ایٹم بم مارنے والوں اور کمالات انبیاے کرام و اولیاے عظام کے انکار کرنے والوں اور توہین و تنقیص ہی کو بزعم خویش توحید پرستی قرار دینے والوں سے میری عرض ہے کہ حضرت مجدد کے اس فرزند ارجمند کا ایک ایک حرف خاص کر خط کشیدہ جملوں کو بار بار پڑھیں اور دیکھیں کہ یہ مبارک کلام ان کے خرمن شرک و بدعت کے لیے کیسا برق خاطف ہے۔
کیا عبرت کا مقام ہے! اگر یہی سب کچھ رسول اکرمﷺ کے سچے نائب و عاشق امام احمد رضا خاں صاحب فاضل بریلوی قدس سرہ فرما دیں تو سب کچھ عین شرک قرار پائے اور جب خانوادہ احمدیہ سے انھی عقائد کا نور چمکے تو اندھے ہو جائیں، سچ فرمایا؎
آنکھ والا ترے جوبن کا تماشا دیکھے
دیدۂ کور کو کیا آئے نظر کیا دیکھے
تمام مخلوقات کا آپﷺ کا محتاج ہونا اور ہر قسم کے فیض کے لیے آپ کی ذات مقدسہ کا وسیلہ و واسطہ ہونا، مہمات ملک و ملکوت کا آپ کے وسیلے اور ذریعے سے سرانجام پانا یہ تمام باتیں حضرت خواجہ معصوم قدس سرہ کے کلام مبارک سے صاف عیاں ہیں۔ پھر حرف استدلال و نظر پر ہی ان کی بنیاد دینی رکھی ہے بلکہ کشف صادق اس کا مؤید ہے نیز مقام محبوبیت کے استغنا کی وجہ سے آپ کی بارگاہ تک پہنچنے کے لیے ضروری ہے کہ آپ کی امت کے اولیا کو وسیلہ بنانے کی ضرورت ہے بلا ان کو وسیلہ بنائے ہوئے بہت مشکل ہے۔ وہ لوگ اس کو بار بار پڑھیں جو بلا
واسطہ خداوند قدوس تک پہنچنا چاہتے ہیں۔ آپ ذرا دیکھیں تو وہ مبارک بندے جو سید عالمﷺ کو صحیح مقام دیتے ہیں ان پر شرک و کفر کے فتوے لگا کر اس طوفان کفر و شرک میں اس امت کے مسلم الثبوت اکابرین کو کس طرح کھینچا گیا اور کس طرح دین سے خارج کرنے کی مذموم کوشش کی گئی۔ اگر حضرت معصوم قدس سرہ جیسے لوگ بھی ایمان کی میزان پر پورے نہیں اترتے ہیں تو نامعلوم ایمان کس چیز کا نام ہے۔
امداد کرنا:
متعدد جگہوں میں ایک وقت میں اولیاے کرام قدس اللہ تعالیٰ اسرارہم کا حضور بیان کرنے کے بعد حضرت مجدد قدس سرہ فرماتے ہیں:
و ہم چنیں ارباب حاجات از اعزہ احیا و اموات در مخاوف و مہالک مددہا طلب مینمایند و می بینند کہ صور آں اعزّہ حاضر شدہ و دفع بلیّہ ازینہا نمودہ است گاہ ہست کہ آں اعزہ را از دفع بلیہ اطلاع بود و گاہ نبود؏
از ما و شما بہانہ بر ساختہ اند
ایں نیز تشکل لطائف آں اعزہ است و ایں تشکل گاہ در عالم شہادت بودہ و گاہ در عالم مثال چنانچہ در یک شب ہزار کس آں سرور را علیہ و علیٰ آلہ الصلاۃ و السلام بصور مختلفہ در خواب می بینند و استفادہا می نمایند ایں ہمہ تشکل صفات و لطائف اوست علیہ و علیٰ آلہ الصلاۃ و السلام بصورتہا مثالی و ہم چنیں مریداں از صور مثالی پیراں استفادہا می نمایند و حل مشکلات می فرمایند۔
یعنی اور اسی طرح حاجت مند لوگ اولیاء اللہ خواہ دنیا میں ہوں یا وصال فرما چکے ہوں، سے خوف اور ہلاکتوں کی جگہوں میں مددیں طلب کرتے ہیں اور یہ حاجت مند لوگ دیکھتے ہیں کہ ان اولیاے کرام کی صورتیں حاضر ہوئیں اور ان
لوگوں سے بلا کو دفع کر دیا ہے کبھی ان اولیا کو اس بلا کے دفع کی اطلاع ہوتی ہے اور کبھی نہیں۔
از ما و شما بہانہ بر ساختہ اند
یہ بھی ان اولیاے کرام کے لطائف کا تشکل ہے اور یہ تشکل کبھی عالم شہادت میں ہوتا ہے اور کبھی عالم مثال میں جس طرح کہ ایک رات میں ہزار شخص سرکار دو عالم علیہ و علیٰ آلہ الصلاۃ و السلام کو مختلف صورتوں میں خواب دیکھتے ہیں اور فائدے حاصل کرتے ہیں۔ یہ سب آپﷺ کی صفات اور لطائف کا تشکل ہے مثالی صورتوں کے ساتھ۔ اسی طرح مرید حضرات پیروں کی مثالی صورتوں سے فائدے حاصل کرتے ہیں اور مشکلات کو حل کرتے ہیں۔’’ (مکتوب: ۵۸)
حضرت خواجہ مرزا جان جاناں شہید دہلوی مجددی قدس سرہ فرماتے ہیں:
حضرت خواجہ نقشبند بحال معتقدان خود معروف است مغلاں در صحرا یا در وقت خواب اسباب و اسپان خود بحمایت حضرت خواجہ می سپارند و تائیدات از غیب ہمراہ ایشاں می شود دریں باب حکایات بسیار است تحریر آں باطالت میرساند۔ (ملفوظات، حاشیہ مکتوبات)
یعنی خواجہ خواجگاں محمد بہاء الدین نقشبند قدس سرہ کی توجہ اپنے معتقدین کے حال کی طرف معروف ہے مغل لوگ جنگل میں یا سونےکے وقت میں اپنا ساز و سامان اور گھوڑے حضرت خواجہ کی حمایت میں سونپ دیتے ہیں غیب سے ان لوگوں کے ساتھ تائیدیں ہوتی ہیں اس باب میں حکایتیں بہت ہیں جن کی تحریر طول تک پہنچائےگی۔’’
اگر اس مسئلے پر نقشبندی بزرگوں کے ارشادات و واقعات تفصیل کے ساتھ تحریر کیے جائیں تو بات بہت لمبی ہو جائےگی۔ حق کے متلاشی کے لیے اتنا نشان
بہت ہے ورنہ دفتر کے دفتر بھی بے کار ہیں۔ ہمیں افسوس صرف اس بات پر ہوتا ہے کہ اگر رد بدعت کا معاملہ ہوتا ہے تو حضرت مجدد بار بار یاد آتے ہیں مگر ان مسائل پر آپ کی تحریرات نظر سے کیوں اوجھل ہو جاتی ہیں۔ آپ غور سے پڑھیے کہ ارباب حاجات کا خداوند قدوس کو چھوڑ کر اللہ تعالیٰ کے مقدس بندوں کی طرف رجوع کرنا پھر ان بزرگوں کا ان کی مدد فرمانا اور بلائیں دفع کرنا پھر شیوخ کی مثالی صورتوں سے فوائد حاصل کرنا پھر اگلا جملہ کتنا بھاری ہے یعنی ‘‘حل مشکلات می فرمایند’’۔
یہ ساری ہی باتیں آج موضوع بحث بنی رہتی ہیں۔ بریلوی انھی باتوں کو کتنےہی دلائل سے ثابت کریں مگر وہ شرک کی حدوں سے باہر نہیں ہو سکتی ہیں۔ سارے دلائل پر یہ کہہ کر پانی پھیر دیا جاتا ہے کہ یہ تو بریلوی کی بات ہے، آخر ان بزرگوں کی بات کیا کہہ کر ٹالی جائےگی۔ خداوند قدوس ایمان و شرک میں فرق جاننے کی توفیق عطا فرمائے۔ قلب کو کتنی تکلیف ہوتی ہے جب ان چیزوں پر وہ حضرات تبصرہ و تنقید کرتے ہیں جو تین یا گیارہ یا اکیس یا چالیس دن کے دو ایک چلے دے کر علم و فضل اور تقویٰ و طہارت کی مضبوط پگڑی باندھ لیتے ہیں۔
مزید اطمینان کے لیے چند واقعات اور ہدیہ ناظرین ہیں۔ سید جمال الدین صاحب جو حضرت مجدد صاحب کے مقبولوں سے تھےبیان کرتے ہیں کہ ایک جنگل میں اچانک ایک شیر میرے آگے آیا ، تنہائی کی وحشت اور اس درندے کی ہیبت سے میں سخت ہراساں ہوا، بھاگ جانا بھی ممکن نہ تھا، ناچار میں نے حضرت شیخ کی طرف توجہ کی کہ بچائیے، میں نے اسی وقت معاملے میں دیکھا کہ حضرت عصا ہاتھ میں لیے دوڑے آرہے ہیں۔ آپ نے آتے ہی نہایت زور سے عصا اس شیر کے منہ پر مارا۔ جب اس معاملہ سے میری آنکھ کھلی تو میں نے نہ حضرت کو دیکھا
اور نہ جنگل میں شیر کا کوئی نشان پایا۔ (برکات احمدیہ، تذکرہ مشائخ)
حضرت خواجہ محمد معصوم صاحب سرہندی قدس سرہ ایک روز خانقاہ شریف میں تشریف رکھتے تھے ناگاہ آپ کا دست مبارک اور آستین پانی سے تر ہو گئے، حاضرین تعجب کرنے لگے اور آپ سے سبب دریافت کیا، آپ نے فرمایا میرے ایک سوداگر مرید کا جہاز غرق ہونے لگا تھا،اس نے ہماری طرف توجہ کی اور اپنی نجات کے لیے مدد مانگی،میں نے اپنے ہاتھ سے اس کو غرقاب ہونے سے نکال کر ساحل نجات پر پہنچا دیا۔ ایک مدت کے بعد وہ سوداگر حاضر خدمت ہوا اور ایک رقم کثیر بطور نذر لایا اور جہاز کے غرق ہونے اور نجات پانے کا قصہ بیان کیا۔’’ (جامع کرامات اولیا و تذکرہ مشائخ نقشبندیہ)
کائنات حضور ﷺ کے نور سے پیدا ہوئی:
حضرت مجدد صاحب قدس سرہ حضرت یوسف علیہ الصلاۃ و السلام کا حسن وجمال بیان کرنے کے بعد ارشاد فرماتے ہیں:
‘‘خاتمہ حسنہ در بیان حسن و جمال محمدی علیٰ صاحبہا الصلاۃ و السلام کہ متعلق محبت پروردگارِ عالمیان گشتہ است جلّ شانہ و اوصلی اللہ علیہ و آلہ و سلم بآں جمال محبوب ربّ العٰلمین آمدہ حضرت یوسف ہر چند بصباحتے کہ داشت محبوب حضرت یعقوب بودہ است علیٰ نبینا و علیہما الصلوات و التسلیمات۔ امّا حضرت پیغمبر ما کہ خاتم الرسل ست بملاحتے کہ دارد محبوب خالق زمین و آسمان است علیہ و علیہم الصلوات و التسلیمات و التحیات و زمین و زماں را بطفیل او خلق فرمودہ است کما وَرَد۔
باید دانست کہ خلق محمدی در رنگ خلق سائر افراد انسانی نیست بلکہ بخلق ہیچ فردے از افراد عالم مناسبت ندارد کہ او صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم باوجود نشأ عنصری از نور حق جل و علا مخلوق گشتہ است کما قال علیہ و علیٰ آلہ الصلاۃ و السلام
‘‘خُلقتُ من نور اللہ’’ و دیگراں را ایں دولت میسر نشدہ است۔’’
یعنی اس مکتوب کا خاتمہ حسنہ محمدی حسن وجمال علیٰ صاحبہا الصلاۃ و السلام کے بیان میں جس سے کہ تمام عالم کے پروردگار جل شانہ کی محبت متعلق ہے۔ آپ اس جمال کی وجہ سے رب العٰلمین کے محبوب ہوئے ہیں۔ حضرت یوسف ہر چند اس صباحت کی وجہ سے جو وہ رکھتے ہیں حضرت یعقوب علیٰ نبینا و علیہما الصلوات و التسلیمات کے محبوب ہوئے لیکن ہمارے پیغمبر جو کہ رسولوں کے خاتم ہیں جو ملاحت رکھتے ہیں اس کی وجہ سے خالق زمین و آسمان کے محبوب ہوئے علیہ و علیہم الصلوات و التسلیمات و التحیات۔ زمین و آسمان کو آپ کے طفیل میں پیدا فرمایا ہے جیسا کہ وارد ہوا۔
جاننا چاہیے کہ محمدی پیدائش تمام افراد انسان کی پیدائش کی طرح نہیں ہے بلکہ افراد عالم ہی سے کسی فرد کے کے ساتھ کوئی مناسبت نہیں رکھتی ہے کیوں کہ آپ عنصری پیدائش کے باوجود حق سبحانہ کے نور سے پیدا کیے گئے ہیں جیسا کہ آپ نے فرمایا کہ میں اللہ تعالیٰ کے نور سے پیدا کیا گیا۔’’ اور دوسروں کو یہ دولت میسر نہیں ہوئی ہے۔ (مکتوب: ۱۰۰، دفتر سوم)
حضرت مجدد قدس سرہ کا یہ مکتوب گرامی ایک اہم سوال کے جواب میں تحریر فرمایا گیا ہے جس کا خلاصہ یہ ہے کہ حضرت یعقوب علیہ الصلاۃ و السلام کو حضرت یوسف علیہ السلام سے اس قدر محبت کیوں تھی جب کہ مقربین و کاملین کے قلوب صرف اور صرف محبت الٰہی کے لیے وقف ہوتے ہیں اس کے جواب میں آپ نے حضرت یوسف علیہ السلام کے عجیب و غریب کمالات بیان فرما ئے اور آپ کے حسن و جمال کو ثابت فرمایا کہ وہ کس عالم سے تعلق رکھتا ہے۔ جو حضرات مزاج عشق سے باخبر ہیں وہ جانتے ہیں کہ ایک عاشق صادق اپنے محبوب کے حسن
وجمال کے برابر کسی کا حسن و جمال نہیں سمجھتا ہے۔ بات جب ان کے حسن و جمال کی کہنی پڑی توحضرت مجدد میں عشق رسول کی غیرت کے شعلے بھڑک اٹھے اور اپنے محبوب کے حسن و جمال کو بیان کرنے کے لیے دل تڑپ اٹھا اور مبارک قلم سے ایسے پرنور جملے ارشاد فرمائے کہ حسن محمدی کے مقابل میں حسن یوسف کی جو حقیقت ہے وہ سب پر عیاں ہو گئی۔
حضرت مجدد کے بیان کردہ حسن یوسف کو پڑھنے کے بعد جب آپ اس خاتمہ حسنہ کوپڑھیں گے تو معلوم ہوگا کہ حضرت مجدد قدس سرہ کے لفظ لفظ سے عشق رسالت مآب صلی اللہ تعالیٰ علیہ و علیہم اجمعین کا عطر جاں فزا مہک رہا ہے۔
دونوں کا تقابل پڑھیے طبیعت جھوم اٹھےگی قلب پر مستی چھا جائےگی۔ حضرت مجدد قدس سرہ کے اس مبارک کلام سے صاف صاف معلوم ہوا کہ آپﷺ اپنے حسن میں یکتا ہیں۔ زمین و زمان آپ کے طفیل میں پیدا ہوئے۔ آپ کی پیدائش و خلقت میں آپ کا کوئی شریک نہیں ہے۔ آپ نور حق سے پیدا کیے گئے دوسروں کو یہ دولت میسر نہیں۔ پھر صرف دعویٰ ہی پر اکتفا نہیں فرمایا اس کی دلیل بھی اسی مکتوب شریف میں مذکور ہے بڑی تفصیل کے ساتھ اپنے اس دعویٰ پر روشنی ڈالنے کے بعد آپ نے حسن محمدی کے بارے میں جو کچھ فرمایا ہے ہم چاہتے ہیں آپ کا یہ مبارک کلام گوش گزار کریں، مجھے امید ہے بڑے اہم گوشے قارئین کے سامنے آجائیں گے، عبارت چوں کہ طویل ہے لہٰذا ہم ترجمہ نقل کر رہے ہیں، اخیر کے کچھ فارسی جملے بھی درج کر دوں گا، آپ فرماتے ہیں۔
حسن محمدی منزہ عن الشریک ہے:
سنو سنو صفت علم صفات حقیقیہ سے ہے اور موجود خارجی کے دائرہ میں داخل ہے اور جب اس صفت کو اضافت عارض ہوتی ہے اور اضافت کے ساتھ تقسیم ہوتی
ہے مثلاً علم اجمالی یا علم تفصیلی تو یہ اس کی اقسام صفات اضافیہ سے ہوں گی اور ثبوت نفس الامری کے دائرہ میں داخل جو کہ صفات اضافیہ کا جائے قرار ہے جیسا کہ گذر گیا اور مشہود ہوتا ہے کہ علم اجمالی جو کہ صفات اضافیہ سے ہوا ہے وہ نور ہے کہ نشأ عنصری میں کثیر اصلاب (صلب کی جمع بمعنی پشت) سے کثیر ارحام (رحم کی جمع بچہ کی وہ جگہ جو ماں کے شکم میں ہوتی ہے) میں بکھیرنے کے بعد حکمتوں اور مصلحتوں کے مقتضا کی وجہ سے انسانی صورت میں جو کہ احسن تقویم ہے، ظاہر ہوا ہے اور محمد اور احمد کے نام سے موسوم ہوا ہے۔
اچھی طرح سننا چاہیے کہ اس قید اجمال نے اگرچہ علم مطلق کو مقید بنا دیا ہے اور حقیقت سے اضافت تک لے آئی ہے لیکن کوئی زیادتی مقسم میں پیدا نہیں کی ہے اور کسی چیز نے اس کو مقید نہیں کیا ہے کیوں کہ اجمال علم نفس علم کا نام ہے نہ امر زائد کا جو علم کے ساتھ منضم ہوا ہو اس کے برخلاف تفصیل علم جو کہ کثیر جزئیات کا تقاضا کرتا ہے تاکہ تفصیل کا تصور کیا جا سکے۔ عجیب قید ہے جو کہ اطلاق کی مظہر ہے اور کتنا اچھا مقید ہے کہ نفس مطلق ہے اسی قسم کی نازکی مطلق علم میں ذات عالم جل سلطانہ کی بنسبت ملاحظہ کرنا چاہیے۔
کہ علم نفس عالم اور نفس معلوم ہو سکتا ہے جیسا کہ علم حضوری میں ثابت ہے اس کے برخلاف دیگر صفات کہ یہ قابلیت و صلاحیت نہیں رکھتی ہیں نہیں کہا جا سکتا ہے کہ قدرت عین قادر اور عین مقدور ہے اور ارادہ وعین مرید اور عین مراد ہے۔۔۔ پس علم کو ذات عالم کے ساتھ وہ اتحاد اور اضمحلال ہے کہ اس کے غیر کو نہیں ہے اس جگہ سے احمد کا قرب احد سے دریافت کرنا چاہیے کیوں کہ واسطہ جو کہ درمیان میں رکھتا ہے اور وہ صفت علم ہے ایسا امر ہے کہ مطلوب کے ساتھ اتحاد رکھتا ہے پس حجابیت (پردہ ہونا) کی اس جگہ کیا گنجائش ہے۔
نیز علم کو حسن ہے جو ذاتی ہےکہ اس کے غیر کے لیے صفات میں سے کسی کے لیے یہ حسن ثابت نہیں ہے لہٰذا اس فقیر کی رائے کے مطابق صفات واجبی میں حق جل وعلا کے نزدیک محبوب ترین صفت العلم ہے اور چوں کہ اس کا حسن بے چونی کا شائبہ (ملاوٹ) رکھتا ہے لہٰذا قوت حاسہ اس کے ادراک میں قاصر ہے، پورا پورا ادراک اس حسن کا نشأ آخرت سے وابستہ ہے جو کہ رویت کا مقام ہے۔
جب اللہ تعالیٰ کو دیکھیں گے جمال محمد کو پائیں گے اگرچہ اس دنیا میں دو تہائی حسن حضرت یوسف کو مسلم ہوا اور باقی تہائی سب کو تقسیم ہوا لیکن اُس نشأ (آخرت) میں حسن حسن محمدی ہے اور جمال جمال محمدی ہے علیہ الصلوات و التسلیمات جو کہ خداوند قدوس کے محبوب ہیں کسی طرح کسی دوسرے کا حسن آپ کے حسن کے ساتھ مشارکت نہیں رکھےگا کہ آپ کا حسن مطلوب کے ساتھ اتحاد کے واسطے سے عین مطلوب کا حسن ہے اور دوسرے کو چوں کہ اتحاد نہیں ہے اس لیے وہ حسن نہیں ہے۔
پس خلقت محمدی علیہ و علیٰ آلہ الصلاۃ و السلام باوجود حدوث، قدم ذات کے ساتھ مستند ہوئی اور اس کا امکان بھی وجوب ذات کی طرف منتہی ہوا اور اس کا حسن حسن ذات تعالیٰ ہوا کہ غیر حسن کا شائبہ اس میں ثابت نہیں ہے۔جب ایسا ہوا تو لا محالہ جمیل مطلق (اللہ تعالیٰ ) کی محبت کا متعلَّق ہوا اور اس کا محبوب فإن اللہَ جمیلٌ یحبُّ الجمالَ اخیر کے الفاظ یہ ہیں، چگونہ حسن دیگرے را باحسن او مشارکت بود کہ حسن او بواسطہ اتحادیت بمطلوب حسن عین مطلوب است و دیگرے را چوں اتحاد نیست آں حسن نیست پس خلقت محمدی علیہ و علیٰ آلہ الصلاۃ و السلام باوجود حدوث مستند بقدم ذات گشت تعالیٰ و امکان او نیز منتہی بوجوب ذات شد تعالیٰ و حسن او حسن ذات آمد تعالیٰ کہ شائبہ غیر حسن در وے کائن نیست چوں چنیں شد ناچار متعلق بمحبت جمیل
مطلق گشت و محبوب او آمد سبحانہ فإن اللہَ جمیلٌ یحبُّ الجمالَ
بے مثل شان محبوبی:
اس کے بعد حضرت مجدد صاحب قدس سرہ نے ایک سوال قائم فرمایا جس کا خلاصہ یہ ہے کہ آیت کریمہ فَسَوْفَ یَاۡتِی اللہُ بِقَوْمٍ یُّحِبُّہُمْ وَیُحِبُّوۡنَہٗۤ اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے محبوب صرف آپﷺ ہی نہیں بلکہ دوسرے بھی ہیں لہٰذا اس سلسلے میں آپ کی کیا تخصیص ہے حضرت مجدد قدس سرہ کے مبارک قلم سے جو اس کا جواب صادر ہوا ہے اسے دیکھنے کے بعد قارئین کو اندازہ ہو جائےگا کہ حضرت مجدد قدس سرہ کے قلب اطہر میں عظمت و رفعت رسالت مآبﷺ کے دریا کیسے موج زن ہیں۔ آپ کے جواب کا خلاصہ یہ ہے کہ محبت دو قسم کی ہے؛ ایک وہ جس کا تعلق محب کی ذات سے ہوتا ہے، یہ محبت ذاتی ہے جو کہ محبت کی اقسام میں سب سے بلند تر ہے کیوں کہ کوئی شخص کسی چیز سے اس قدر محبت نہیں کرتا ہے جتنا کہ خود سے کرتا ہے نیز محبت کی یہ قسم زیادہ محکم اور بہت مضبوط ہے جو کسی عارض کے عروض سے زائل نہیں ہوتی ہے اس محبت کا تعلق جس سے ہوتا ہے وہ خالص محبوب ہوتا ہے اور محبیّت کا شائبہ نہیں رکھتا ہے۔
محبت کی دوسری قسم وہ ہےجس کا تعلق غیر ذات سے ہوتا ہے، یہ محبت عارضی او زوال پذیر ہوتی ہے اس کا تعلق جس سے ہوتا ہے وہ اگرچہ ایک جہت سے محبوب ہوتا ہے مگر محبیت کے بھی متعدد وجوہ رکھتا ہے چوں کہ خاتم الرسل علیہ و علیہم الصلوات و التسلیمات کا حسن و جمال حضرت ذات واجب تعالیٰ سے مستند (منسوب) ہے جیسا کہ گذرا۔ پس لامحالہ پہلی قسم کی محبت جو کہ ذات واجب سے متعلق ہے آپﷺ سے متعلق ہوگی اور جس طرح اس محبت کے تعلق سے اللہ تعالیٰ کی ذات محبوب ہے اسی طرح آپﷺ بھی محبوب صرف (خالص) محبوب
ہوں گے، اور دوسروں کو چوں کہ یہ دولت میسر نہیں اور حسن ذات سے کم حصہ رکھتے ہیں اس لیے ان سے دوسری قسم کی محبت متعلق ہوگی اور ایک جہت سے ان کو محبوب بنائےگی۔
سید عالمﷺ اللہ تعالیٰ کے محبوب مطلق ہیں کہ ذات محب کی طرح ہمیشہ محبوب ہوں گے، ایسا محسوس ہوتا ہے کہ حضرت موسیٰ کلیم اللہ علیٰ نبینا و علیہ الصلاۃ و السلام کو جس فراوانی کے ساتھ اللہ تعالیٰ سے محبت ہے اور اس غلبہ محبت کی وجہ سے آپ تمام محبین کے رئیس اور سردار بن گئے۔ اسی طرح محبت کی فراوانی کے ساتھ اللہ تعالیٰ سید کائناتﷺ کو چاہتا ہے۔ (مکتوب: ۱۰۰)
سبحان اللہ کیا پیارا بیان ہے۔ امام اہل سنت قدس سرہ فرماتے ہیں؏
حسن تیرا سا نہ دیکھا نہ سنا
کہتے ہیں اگلے زمانے والے ایک اور مقام پر فرماتے ہیں جس کا تعلق اس سے پہلی والی تقریر ہے۔
ممکن میں یہ قدرت کہاں واجب میں عبدیت کہاں
حیراں ہوں یہ بھی ہے خطا یہ بھی نہیں وہ بھی نہیں
حق یہ کہ ہیں عبد الٰہ اور عالم امکاں کے شاہ
برزخ ہیں وہ سرِّ خدا یہ بھی نہیں وہ بھی نہیں
نقشبندیت کے اس روح رواں کے ارشادات کو بار بار پڑھیے اور سوچیے کہ سید الانبیاﷺ قرب حق کے کن منزلوں پر فائز ہیں۔ محب کی محبت کو کبھی بھی یہ گوارہ نہیں ہوتا ہے کہ اس کے محبوب کے دامن تقدس کو ادنیٰ سے بھی غبار توہین سے آلودہ کیا جا سکے محب اپنے سلسلے میں تو چشم پوشی سے کام لے لیتا ہے مگر محبوب کے سلسلے میں اس کی غیرت ادنیٰ سی بھی آنچ کو برداشت نہیں کر پاتی ہے، پ
پھر اس کا کیا حال ہوگا جو خالق جز و کل کا محبوب مطلق اور جمیل مطلق ہو، ان کے حسن و جمال ظاہری و باطنی پر معمولی سے معمولی دھول جھونکنے والوں کو ہمیشہ یہ سوچنا چاہیے کہ یہ اس تک جائےگی جس کے دعوی توحید کے نشے میں تم بوکھلائے ہوئے ہو یہ وہ بارگاہ نہیں جہاں زبان سے دعویٰ محبت کرنا کافی ہو سکے۔ یہاں محبت کے کھرے اصولوں پر پرکھا جاتا ہے، یہ محبت کا اصول نہیں ہے کہ محبوب کے محبوب کے ان اوصاف جمیلہ اور اخلاق حمیدہ کا آئے دن انکار کیا جائے جن کی واقعیت پر قرآن و حدیث ناطق ہوں۔ سچ فرمایا اعلیٰ حضرت قدس سرہ نے؎
عقل ہوتی تو خدا سے نہ لڑائی لیتےیہ گھٹائیں اسے منظور بڑھانا