مواد پر جائیں

باب ۳ از ۲۲صفحات ۳۵–۴۵

بشریت

ستم کی بات یہ ہے کہ قُلْ اِنَّمَاۤ اَنَا بَشَرٌ مِّثْلُکُمْ ہر چلّہ دیے ہوئے (جماعتی) کو یاد ہے مگر قَدْ جَآءَکُمۡ مِّنَ اللہِ نُوۡرٌ وَّکِتٰبٌ مُّبِیۡنٌ کسی کو یاد نہیں قُل لاأدری ما یُفعلُ بی ہر بوریا بستر باندھے تبلیغی کی زبان زد ہے مگر عَسٰۤی اَنۡ یَّبْعَثَکَ رَبُّکَ مَقَامًا مَّحْمُوۡدًا سے نامعلوم کیوں۔ نظروں میں حجابات ہیں، اسی طرح عام مسائل میں بزعم خویش داناؤں کا یہ طرز ستم ہے، تاریخ کبھی بھی ایسی آنکھوں کو معاف نہیں کرےگی جنھوں نے صرف اس حسین و جمیل مطلق کے متعلق انھی نصوص کو دیکھنے کی کوشش کی جن سے ان کے خبث باطنی کا ان کے گمان میں تسلی کا سامان فراہم ہو سکتا تھا۔ خداوند کریم کسی دشمن کو بھی ایسی نظر نہ دے جو اسے ابدی سزاؤں کا مستحق بنا دے۔

حضرت مجدد قدس سرہ کا مسئلہ بشریت میں مبنی بر حقیقت نظر ہے اگر اب بھی آنکھیں نہ کھلیں تو اسے شقاوت مادری کے علاوہ اور کیا کہا جا سکتا ہے۔ آپ عارف تام المعرفت کو بیان کرتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں:

عارف کامل تام المعرفت کو بقاے ذات کے بعد جب صفات اور اخلاق کاملہ عنایت فرماتے ہیں تو اس وقت ہر صفت سے ان صفات میں سے متصف بعنوان کلیت ذات ہو جاتی ہے۔

(بلکہ اس کی ذات) مثلاً بتمامہ علم ہوگی اور بتمامہ بصر اور بتمامہ سمع جیسا کہ محققین صوفیہ نے صفات واجبی کے بارے میں کہا ہے کہ اللہ کی تمام ذات علم ہے اور تمام قدرت تمام سمع تمام بصر (کچھ آگے فرماتے ہیں) اسی طرح عارف کے لطائف میں سے ہر لطیفہ اس وقت میں اس کی کلیت کے رنگ میں ظاہر ہوتا ہے اور عارف بتمامہ لطیفہ روح ہو جاتا ہے اور بتمامہ لطیفہ قلب۔ اسی قیاس پر باقی لطائف نفس ناطقہ، سر، خفی، اخفیٰ،اسی طرح اس کے اجزا میں سے ہر جز اور عناصر میں سے ہر عنصر کل کا حکم پیدا کر لیتا ہے مثلاً عارف اپنےآپ کو بتمامہ عنصر خاک پاتا ہے اسی طرح بتمامہ عنصر آب دیکھتا ہے۔

اور جب لطیفہ قلب جو کہ حقیقت جامعہ ہے کل کے رنگ سے رنگین ہو جاتا ہے اور اس کا مضغہ قلبیہ کے ساتھ تعلق زائل ہو جاتا ہے، مضغہ اس وقت خالی رہتا اور جسم بے روح کی طرح دکھائی دیتا ہے اور ایسا متصور ہوتا ہے کہ اس آمد و رفت (فنا و بقا) میں اس راہ کی گرد بھی اس کو نہیں لگی ہے اور وہ اپنی اصل صرافت ہے۔ (مکتوب: ۶۵)

حضرت امام ربانی کی مذکورہ بالا تعریف سے آپ اندازہ لگائیے کہ عارف تام المعرفت کی جب بلندی شان کا یہ حال ہے تو سید العارفینﷺ کی بصر و سمع و قدرت و علم کا کیا عالم ہوگا۔

مکتوب: ۶۴ میں فناے اتم کے بارے میں تحریر فرماتے ہیں کہ فناے اتم اسی وقت حاصل ہوتی ہےجب کہ فانی سے عین و اثر کا زوال ہو جائے اور اس کا کوئی

نام و نشان باقی نہ رہے۔ ایک طویل تقریر فرمانے کے بعد ارشاد فرماتے ہیں:

معلوم ہونا چاہیے کہ اس مقام میں ایک شبہہ پیدا ہوتا ہے وہ یہ کہ سرکار پرنورﷺ کی شان میں آیا ہے قُلْ اِنَّمَاۤ اَنَا بَشَرٌ مِّثْلُکُمْ یُوۡحٰۤی اِلَیَّ اور حدیث شریف میں ہے اِنَّمَاۤ اَنَا بَشَرٌ مِّثْلُکُمْ أغْضبُ کما یغضبُ البشرُ اب ظاہر ہے بشریت و انسانیت کا اثر باقی رہنے ہی کی وجہ سے یہ فرمایا گیا تو یہ کہنا کیسے صحیح ہو سکتا ہے کہ عارف سے عین و اثر زائل ہو جاتے ہیں اس کا جواب یہ ہے کہ آیت و حدیث کی دلالت بقاے اثر پر نہیں ہے، ہاں اتنا ضرور ہے کہ فنا و بقا کے بعد جب انسان کامل کو عالم اور دعوت خلق کی طرف رجوع کیا جاتا ہے تو اس وقت صفات بشریہ اور خصائص انسانیہ زائلہ کی سورَت اور تیزی توڑنے کے بعد ان صفات کے ساتھ عارف کی ترکیب کر دی جاتی ہے تاکہ اس عارف اور عالم کے درمیان مناسبت پیدا ہو جائے جو کہ زائل ہو چکی ہے اور اس مناسبت کی وجہ سے اللہ تعالیٰ افادہ و استفادہ کا دروازہ کھولتا ہے نیز صفات بشریہ زائلہ کے الحاق اور اتصاف میں یہ حکمت بھی ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ بندوں کو آزماتا ہے اور خبیث کو طیب سے اور مکذّب کو مصدق سے ممتاز و جدا کر دیتا ہے، ان صفات کو لوٹانے کے بعد پھر عارف کا معاملہ مستور و مخفی ہو جاتا ہے لہٰذا جو لوگ اس کی تصدیق کرتے ہیں انھیں ایمان بالغیب کی دولت ملتی ہے جس پر کہ آخرت کی جملہ کامیابیوں کا دار و مدار ہے، قرآنی ارشاد ہے:

وَلَوْ جَعَلْنٰہُ مَلَکًا لَّجَعَلْنٰہُ رَجُلًا وَّلَلَبَسْنَا عَلَیۡہِمۡ مَّا یَلْبِسُوۡنَ (الانعام: ۶؍۹)

ترجمہ: اور اگرہم نبی کو فرشتہ کرتے جب بھی اسے مرد ہی بناتے اور ان پر وہی شبہہ رکھتے جس میں اب پڑے ہیں۔’’

قُلْ اِنَّمَاۤ اَنَا بَشَرٌ مِّثْلُکُمْ کے حافظ اس مقتداےشریعت و طریقت کے یہ ارشادات دیکھیں اور اپنے ایمان تولیں، سچ فرمایا، لباس بشریت سے لاکھوں نے دھوکا کھا کر متاع ایمان لٹادی، عقل و دانش سے کورے اور جہالت و نادانی کے پتلوں نے کبھی بھی اس رحمت خداوندی کی قدر نہیں کی کہ اگر لباس بشریت میں سید عالمﷺ تشریف نہ لاتے تو انسان کو نور ایمان کی روشنی کیسے میسر آتی۔’’

خدا جو کرتا ہے اچھا ہی کرتا ہے اگر یہی اس کی حکمت نہ ہوتی تو قلب کا اخلاص و نفاق کیسے ظاہر ہوتا ، خبیث کو طیب سے کیسے چھانٹا جاتا۔ دعوت حق کے قبول کا جذبہ رکھنے والوں کے لیے مجدد الف ثانی کا قول بہت کافی ہے مگر شقاوت ازلی کو کون سی طاقت میٹ (مٹا) سکتی ہے۔ اپنی طرح بشر کہنے والوں کے لیے ہم حضرت مجدد قدس سرہ کا ایک اور ارشاد نقل کیے دیتے ہیں جس سے صاف طور پر قارئین سمجھ لیں گے کہ وہ آپ کی نظر میں کیا ہیں، فرماتے ہیں:

محجوباں کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ و علیٰ آلہ و سلم را بشر گفتند و در رنگ سائر بشر تصور نمودند ناچار منکر آمدند و صاحب دولتاں کہ او را علیہ الصلاۃ و السلام بعنوان رسالت و رحمت عالمیاں دانستند و از سائر ناس ممتاز دیدند بدولت ایمان مشرف گشتند و از اہل نجات آمدند۔(مکتوب:۶۴،دفتر سوم)

جن عقل کے اندھوں نے حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ و علیٰ آلہ و سلم کو بشر کہا اور دوسرے انسانوں کی طرح تصور کیاوہ بالآخر منکر ہو گئے اور جن صاحب دولت انسانوں نے آپ علیہ الصلاۃ و السلام کو رسالت اور عالموں کے لیے رحمت کے طور پر جانا اور تمام لوگوں سے ممتاز دیکھا وہ ایمان کی دولت سے مشرف ہوگئے اور نجات پانے والوں میں سے ہو گئے۔’’

حضرت مجدد قدس سرہ کا یہ بڑا صاف و صریح اور فیصلہ کن کلام ہے کہ جن

لوگوں نے اپنی طرح بشر کہا وہ حق سے دور اور محجوب ہیں اور منکر ہیں ، ان کے پاس ایمان نہیں، انھیں نجات نہیں ملےگی اور جنھوں نے اپنی طرح بشر نہیں دیکھا بلکہ سب سے ممتاز جانا وہ صاحب دولت ہیں، ایمان والے ہیں، فرقہ ناجیہ (نجات پانے والے لوگ) ہیں۔ راہ حق اور ایمان کے متلاشیوں کے لیے اتنا بہت کچھ ہے اب بھی نہ سمجھ میں آئے تو اس کا کوئی علاج نہیں۔ ازل میں ہی نور کی تجلی جن روحوں پر پڑ گئی تھی دنیا میں ایمان انھی کو ملےگا جب ابلیس نے نار جہنم کے بھڑکتے ہوئے شعلے دیکھ کر بھی خداوند قدوس کے حکم کو ٹھکرا دیا تو یہ تو سید الانبیا صلی اللہ تعالیٰ علیہ و علیہم و سلم کے ایک امتی کا اظہار حقیقت ہے جس چیز کا قلب صلاحیتیں کھو چکا تو اسے زبردستی کیسے بلایا جا سکتا ہے۔ (مکتوب: ۴۴، دفتر اول)

محمد عربی آبروی ہر دوسرا استکسیکہ خاک درش نیست خاک بر سر او

یعنی محمد عربیﷺ دو جہاں کی آبرو ہیں اس شخص کے سر پر خاک ہو جو ان کے در کی خاک نہیں ہے۔

جملہ حقائق کی اصل:

سید عالمﷺ کی حقیقت تمام حقیقت کی اصل ہے۔ حضرت مجدد صاحب قدس سرہ ارشاد فرماتے ہیں: حقیقت محمدی علیہ من الصلوات افضلھا و من التسلیمات اکملھا کہ ظہور اول است و حقیقت الحقائق ست بآں معنی کہ حقائق دیگر چہ حقائق انبیای کرام و چہ حقائق ملائکہ علیہ و علیہم الصلاۃ و السلام کالظلال اند مر او را، و او اصل حقائق است۔

قال علیہ الصلاۃ و السلام: أول ما خلق اللہ نوری و قال علیہ و علیٰ آلہ الصلاۃ و السلام: خُلقتُ من نور اللہ و المؤمنون من نوری۔

پس ناچار ایں حقیقت واسطہ بود درمیان سائر حقائق و درمیان حق جل و علا و

وصول بمطلوب احدے را بی توسط او علیہ و علیٰ آلہ الصلاۃ و السلام محال باشد فھو نبی الانبیاء والمرسلین و ارسالہ رحمۃ للعالمین علیہ و علیہم الصلوات و التسلیمات ازیں جا است کہ انبیاے اولو العزم باوجود اصالت تبعیت او میخواہند بآرزو داخل امتان او میگردند کما ورد علیہ و علیہم الصلوات و التسلیمات و التحیات۔ (مکتوب:۱۲۲، دفتر سوم)

حقیقت محمدیﷺ جو کہ ظہور اول ہے اور ساری حقیقتوں کی حقیقت بایں معنی کہ دیگر حقائق خواہ انبیاے کرام کے حقائق، خواہ فرشتوں کے حقائق سب حقیقت محمدی کے لیے ظلال کی طرح ہیں اور وہ تمام حقائق کی اصل ہے، آپﷺ نے فرمایا ہے: پہلی وہ چیز جس کو اللہ تعالیٰ نے پیدا فرمایا میرا نور ہے اور آپﷺ نے فرمایا ہے: میں اللہ تعالیٰ کے نور سے پیدا کیا گیا اور اہل ایمان میرے نور سے۔

پس لا محالہ حقیقت محمدی حق تعالیٰ اور دیگر حقائق کے مابین واسطہ ہوگی اور مطلوب (اللہ تعالیٰ) تک کسی کا بھی بغیر آپ کے واسطے کے پہنچنا محال ہوگا۔ پس آپ نبیوں اور رسولوں کے نبی ہیں اور آپ کو بھیجا جانا تمام جہان کے لیے رحمت ہوگا یہی وجہ ہے کہ اولو العزم رسل اصالت کے باوجود آپ کی اتباع چاہتے ہیں اور آپ کے امتی ہونے کی آرزو کرتے ہیں جیسا کہ وارد ہوا ہے۔

حضرت مجدد قدس سرہ نے اس مختصر عبارت میں بڑے واضح الفاظ میں یہ چند چیزیں بیان فرما دیں اول یہ کہ آپ تمام کی حقائق کی اصل ہیں خواہ انبیاے کرام ہوں یا ملائکہ عظام جب ان کی اصل ہیں تو دیگر کا کہنا ہی کیا ہے۔ دوم آپ کا نور سب سے پہلے پیدا کیا گیا آپ اللہ تعالیٰ کے نور سے اور مومنین آپ کے نور سے۔ سوم آپ سب کے لیے واسطہ اور وسیلہ ہیں، آپ کے وسیلے کے بغیر کوئی خدا تک

نہیں پہنچ سکتا ہے لہٰذا آپ نبیوں کے نبی، رسولوں کے رسول ہیں نیز حضرت مجدد صاحب قدس سرہ کے کلام سے صاف عیاں ہے کہ آپ تمام عالموں کے لیے رحمت ہیں صرف مکلفین کے لیے نہیں بلکہ آپ کا امتی اور متبع ہونے کے اولو العزم رسول تمنا و آرزو کرتے ہیں۔ یہی ہم اہل سنت کے عقائد ہیں۔

نعت نبی نجات اخروی کا ذریعہ ہے

سید الثقلین صلی اللہ تعالیٰ علیہ و علیٰ آلہ وسلم کی مدح و ثنا اور نعت نجات اخروی کا ذریعہ ہے۔ حضرت مجدد صاحب قدس سرہ شیخ سید فرید کو ایک مکتوب شریف تحریر فرماتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں۔ فقرہ چند بعبارت عربی ماثور در فضائل جد بزرگوار ایشاں کہ خیر العرب است بنویسد علیہ و علیٰ آلہ من الصلوات اتمھا و من التحیات اکملھا و آں سعادت نامہ را وسیلہ نجات اخروی خود سازد نہ آنکہ مداحی او علیہ الصلاۃ و التحیۃ نماید بلکہ مقولہ بآں ستاید۔

ما إنْ مدحتُ محمداً بمقالتیلٰکن مدحتُ مقالتی بمحمدٍ

یعنی چند فقرے عربی ماثور عبارت کے ساتھ ان کے جد بزرگوار جو کہ سارے عرب سے بہتر ہیں کے فضائل میں لکھتے ہیں اور اس سعادت نامہ کو اپنی نجات اخروی کا ذریعہ بنائیں نہ یہ کہ آپ علیہ الصلاۃ و السلام کی مدح کریں بلکہ اپنے قول کی تعریف کریں۔

میں نے نبی علیہ السلام کی مدح نہیں کی اپنی گفتگو سے لیکن اپنی گفتگو کی مدح کی آپ علیہ السلام کے ذریعہ۔

.....................

۔ترجمہ: میں نے اپنی باتوں سے محمدﷺ کی مدح نہیں کی ہے بلکہ میں نے ذکر رسول سے اپنی باتوں کو سراہا ہے۔

علم غیب:

اہل سنت کا عقیدہ ہے کہ خداوند قدوس اپنے بندوں کو خواہ وہ انبیاے کرام علیہم السلام ہوں یا اولیاے کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین علم غیب عطا فرماتا ہے جو چیز بھی حواس اور بداہت عقل سے معلوم نہ ہوسکے اسے جان لینا علم غیب کہلاتا ہے جیسا کہ بیضاوی شریف میں تشریح ہے۔ لہٰذا اس کے مطابق جو چیز بھی وحی و الہام و کشف وغیرہ کے ذریعہ معلوم ہوگی وہ سب علم غیب ہی کہلائےگی۔ بعض لوگ لفظ علم غیب کے اطلاق سے سخت نالاں رہتے ہیں۔ میرا موضوع چوں کہ اس وقت صرف مجدد اور ان کے مخلصین کے اقوال کا نقل کرنا ہے اس لیے اس پر بحث کرنے کے بجائے اور دیگر دلائل دینے کے بجائے صرف حضرت مجدد صاحب قدس سرہ کے کلام کے نقل پر اکتفا کرتا ہوں جس سے ناظرین بخوبی سمجھ لیں گے، مذکورہ بالا ساری چیزیں علم غیب میں داخل ہیں نیز انبیاے کرام علیہم الصلوات و التسلیمات کے علاوہ دیگر مقرب بندوں کو بھی علم غیب حاصل ہوتا ہے، آپ الہام پر بحث کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

پس جائز ہے کہ خواص اہل اللہ، اللہ تعالیٰ کی ذات و صفات و افعال میں بعض اسرار و حقائق (ایسے) جان لیں کہ ظاہر شریعت ان معارف سے خاموش ہے اور حرکات و سکنات میں اللہ تعالیٰ کی اجازت اور عدم اجازت پا لیں اور مرضی و غیر مرضی جان لیں بہت دفعہ ہوتا ہے کہ بعض اوقات میں بعض عبادات نافلہ کو غیر مرضی پائیں گے اور ان کے چھوڑنے پر ماذون ہوں کبھی نیند کو بیداری سے بہترسمجھیں احکام شرعیہ اوقات سے موقت ہیں اور احکام الہامیہ تمام اوقات میں ثابت ہیں چوں کہ ان بزرگواروں کے حرکات و سکنات اجازت سے وابستہ ہیں (اس لیے) لامحالہ دوسروں کے نوافل بھی ان کے فرائض ہوں گے مثال کے طور پر ایک فعل ایک

شخص کی طرف نسبت کرتے ہوئے بحکم شریعت نقل ہے اور وہی فعل دوسرے شخص کی طرف نسبت کرتے ہوئے بحکم الہام فرض ہے۔ پس دیگر لوگ کبھی نوافل ادا کرتے ہیں اور کبھی مباح امور کا ارتکاب کرتے ہیں اور یہ بزرگوار کام چوں کہ مولیٰ تعالیٰ کی اجازت اور حکم سے کرتے ہیں سب فرائض سے ادا ہوتا ہے دوسروں کا فرض و مستحب ان بزرگوں کا فرض ہے اس جگہ سے ان بزرگواروں کی شان کی برتری جاننا چاہیے۔

علماے ظاہر امور دینی میں غیبی خبروں کو پیغمبروں کی خبروں کے ساتھ مخصوص جانتے ہیں علیہم الصلوات و التسلیمات اور دوسروں کو ان چیزوں میں شرکت نہیں دیتے ہیں۔ یہ بات وراثت کے منافی ہے اور بہت سے ان علوم و معارف صحیحہ کی نفی ہے جو دین متین سے تعلق رکھتے ہیں۔

اخیر کے الفاظ یہ ہیں: علماے ظواہر در امور دین اخبار غیبیہ را مخصوص باخبار پیغمبراں میدانند علیہم الصلوات والتسلیمات و دیگراں را دراں اخبار شرکت نمی دہند ایں معنی منافی وراثت است و نفی است مر بسیاری از علوم و فنون و معارف صحیحہ را کہ بدین متین تعلق دارند۔ (مکتوب: ۵۵، دفتر سوم)

مکتوب شریف کی طویل عبارت کا ترجمہ میں نے صرف اس لیے نقل کر دیا تاکہ قارئین اچھی طرح غور کر لیں کہ حضرت مجدد قدس سرہ کی نظر میں علوم و معارف سب اخبار غیبیہ ہیں اب ظاہر ہے علم غیب اور کس چیز کا نام ہے۔ مذکورہ بالا بیان سے زیادہ صاف و صریح مسئلہ زیر بحث وہ عبارتیں ہیں جو آپ کے رسالہ اثبات النبوۃ میں موجود ہیں جو مذکورہ بالا مضمون تحریر کرنے کے بعد نظر میں آئیں اگر سب کو نقل کروں تو بات طویل ہو جائےگی، چند عبارتیں سپرد قلم ہیں۔

نبی کے سلسلے میں فلاسفہ کا مذہب بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ ان

کے نزدیک نبی کے تین خاصے ہیں جن سے نبی غیر نبی سے ممتاز ہوتا ہے۔ ایک یہ کہ موجودہ، گذشتہ، آئندہ کے مغیبات پر اطلاع ہو ان یکون لہ الاطلاع علی المغیبات لکائنۃ و الماضیۃ والآتیۃ پھر اس پر یوں عتراض کرتے ہیں: میں کہتا ہوں تمام مغیبات پر اطلاع نبی کے لیے واجب نہیں اس پر ہمارا تمھارا اتفاق ہے اور بعض پر اطلاع نبی کے ساتھ مختص نہیں جیسا کہ تم نے جائز قرار دیا ہے مرتاض و مرضی اور نائبین کے لیے (بھی ثابت ہے) پس امتیاز کہاں۔

خیال رہے یہ اعتراض صرف اس بات پر ہے کہ اطلاع علی الغیوب کے ذریعہ نبی غیر نبی سے ممتاز ہو جاتا ہے کما ھو واضح اس سوال کا جواب غور سے سننے کے لائق ہے، فرماتے ہیں:

میں کہتا ہوں شاید فلاسفہ نے اکثر غیوب پر اطلاع مراد لی ہے جو (حد) معتاد سے خارج عادت کی خارق ہو اور وہ مجہول نہیں بلکہ وہ عرفاً اور عادۃً معلوم ہے لیکن غیب پر اطلاع اور ایک دو مرتبہ خبر دے دینا اس تکرار کے جو حد اعجاز کو پہنچے تو وہ خارق عادت نہیں۔ پس اس وقت نبی غیر نبی سے ممتاز نہیں ہوگا۔

خلاصہ یہ کہ نبی کو جو علوم غیب عطا فرمائے جاتے ہیں وہ اتنے کثیر ہوتے ہیں جو معجزہ کی حد تک پہنچے ہوتے ہیں اور غیر نبی کو اتنے کثیر نہیں ہوتے ہیں جو خارق عادت کی حد تک ہوں، آگے فرماتے ہیں:

اعلم أن المتکلمین ایضاً معترفون بأن الانبیاء یعلمون الغیبَ باعلام اللہ سبحانہ إلاَّ ان الاشتراط بہ باطلٌ

یعنی تم جان لو کہ متکلمین بھی معترف ہیں اس بات کے کہ انبیاے کرام غیب جانتے ہیں اللہ سبحانہ کے مطلع کرنے سے مگر اس کی شرط باطل ہے۔

اتنے واضح ارشادات پڑھنے کے بعد بھی اگر ہدایت نصیب نہ ہو تو اسے شقاوت

ازلی کے علاوہ اور کیا کہا جا سکتا ہے۔ حضرت مجدد قدس سرہ اور ان کے ہم مشرب بزرگوں کے اقوال اگر تفصیل سے نقل کیے جائیں تو یہ مضمون ایک رسالے کی حیثیت اختیار کرلےگا۔ حق کی جستجو رکھنے والوں کے لیے اتنا بہت ہے۔بڑا افسوس ہوتا ہے اس انسانیت پر کہ رد بدعت میں حضرت مجدد ہر جگہ لوگوں کو نظر آجاتے ہیں اور ایسے مسائل میں حضرت مجدد کی تحریرات اور ان کے معتقدات کی ضیاباریاں اگرچہ آفتاب نصف النہار کی طرح کیوں نہ جلوہ گر ہوں ان میں کسی کو دکھائی نہیں دیتیں۔ بات در اصل یہ ہے کہ حق کی تلاش و جستجو اور اس کی اتباع مقصود نہیں بلکہ خبیث نفس نے جسے چاہا مان لیا اور جو فطری خباثت کے خلاف نظر آیا اس سے آنکھ بند کر لی یا بے جا تاویل کا سہارا لے کر تسلی دے لی۔

اخیر میں ایک عبارت اور سماعت کر لیجیے، ہو سکتا ہے بدعت و ضلالت کی تاریکیوں میں یہی مشعل ہدایت بن جائے، انسانی تخلیق کے اطوار بیان کرتے ہوئے حواس خمسہ ظاہرہ ، پھر عقل کو بیان کرنے کے بعد فرماتے ہیں:

و وراء العقل طورٌ آخر ینفتح فیہ عینٌ اخریٰ یبصر بھا الغیب و ما سیکون فی المستقبل و امورا اخریٰ العقل معزول عنھا

یعنی عقل کے بعد ایک دوسرا طور ہے جس میں دوسری آنکھ کھلتی ہے جس کے ذریعہ غیب اور جو عنقریب آئندہ ہونے والا ہے اور دوسرے امور کو دیکھا جاتا ہے عقل ان سے معزول ہے۔