باب ۱ از ۲۲صفحات ۱۲–۲۳
عرض مرتب
سلسلۂ نقشبندیہ طریقت کے چار اہم اور مشہور سلاسل میں سے ایک ہے جس کا چشمۂ فیض حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کی ذات ہے۔ بلکہ یہ واحد سلسلہ ہے جو امیر المومنین حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے واسطے حضور ختم المرسلین ﷺ تک پہنچتا ہے۔ مگر خواجۂ بزرگ حضرت سیدنا بہاء الدین نقش بند بخاری قدس سرہ کے بعد سے یہ سلسلہ آپ سے منسوب ہو کر نقشبندیہ کہلایا۔
حضرت خواجہ بزرگ اور ان کے مشائخ سلسلہ کے دم قدم سے یہ سلسلہ بہت جلد دنیا کے بیشتر ممالک میں پھیل گیا۔اور آج بھی ترکی ، چین ہندوپاک اور افغانستان وغیرہ میں ایک بڑے صوفی سلسلہ کی حیثیت سے متعارف ہے۔
اس سلسلہ کے عروج و ارتقا کے بہت سے اسباب ہیں ۔ مگر دو سبب سب سے اہم ہیں : ایک یہ کہ اس میں سالکین کو بدن سوز مجاہدات و ریاضات سے دو چار نہیں ہونا پڑتا ہے بلکہ شیخ کی صحبت و محبت ہی ریاضتوں اور مجاہدوں سے کہیں زیادہ باطنی تربیت کردیتی ہے۔ دوسرے یہ کہ اتباع سنت ہی اس سلسلے کا اصل مجاہدہ ہے۔
اس سلسلہ نےعوام ، امرا ، وزرا اور ارباب سلطنت کو یکساں فائدہ پہنچایا۔ ہندوستان کےمغل حکمرانوں نے اس سلسلہ سے خوب ارتباط پیداکیا ۔ چنانچہ مغلیہ سلطنت کا بانی ظہیر الدین محمد بابر ، حضرت خواجہ عبید اللہ احرار نقشبندی قدس سرہ کا زبردست عقیدت مند رہا اوراس نے ان کی سوانح پر ایک کتاب بھی قلم بند کیا ۔
بعد میں جب حضرت مجدد الف ثانی قدس سرہ نے سلسلہ نقشبندیہ کو اس کے اوج کمال تک پہنچایا پھرتو جہانگیر سےلے کر اورنگ زیب رحمہ اللہ اور ان کی اولاد اس در کی گداگری کو سرمایۂ افتخار سمجھتی رہی ۔
یہ خدا تعالیٰ کا فضل رہا کہ جب بھی اس سلسلہ کی تابانی میں کچھ بھی کمی آئی تو اس نے کسی شہباز کو بھیج کر افاضہ و استفاضہ کومزید دو چند کردیا ۔ اس وقت ہندوستان میں نقشبندیت و مجددیت کے اہم امین شہر قنوج کی عظیم روحانی شخصیت بحرالعرفان حضرت مفتی آفاق احمد مجددی کی ذات ہے جو نہ صرف سلسلے کی نسبتوں کے امین ہیں بلکہ ان کو تقسیم بھی کر رہے ہیں،آپ کی صحبت کے فیض یافتگان ولایت صغریٰ وکبریٰ وغیرہ کی منزلیں طے کرکے اپنے اپنے حلقوں میں تصوف وروحانیت کاکام بڑے اخلاص کے ساتھ کر رہے ہیں۔
آپ اپنے مریدین و مسترشدین کی تربیت اپنی صحبت سے تو کرتے ہی ہیں مزید ان کی روحانی تشنگی بجھانے کے لیے وقتاً فوقتاً اہم اہم موضوعات پر معارف و حقائق سے لبریز کتب ورسائل لکھتے رہتے ہیں جن میں زیادہ تر حضرت مجدد الف ثانی قدس سرہ کی تحریرات خاص کر مکتوبات شریف سے ماخوذ ہو تے ہیں۔
خصائص نقشبندیہ:
بحر العرفان کی یہ کتاب دو حصوں پر مشتمل ہے جو سلسلہ نقشبندیہ کے معارف و حقائق اور خصوصیات کا گنجینہ ہے،یہ کتاب ۱۴۱۱ھ میں یعنی تقریباً ۲۹؍سال پہلے لکھی گئی تھی،راقم کو جب اس پر اطلاع ملی تو دلی مسرت ہوئی اور اپنی بے بضاعتی اور کم علمی کے با وجود اللہ کی ذات پر بھروسہ کرتے ہوئے اس کی ایڈیٹنگ اوراشاعت میں لگ گیاجو بحمدہٖ تعالیٰ انجام تک پہنچا۔حتیٰ المقدور غلطیوں سے پاک کرنے کی کوشش کی گئی ہے مگر پھر بھی قارئین کرام کو جہاں کہیں بھی کوئی غلطی نظر آئے تو مطلع کرکے ممنون فرمائیں!
سید نور عالم مصباحی
ریسرچ اسکالر شعبۂ فارسی ،علی گڑھ مسلم یونیورسٹی،علی گڑھ
E-mail:nooralammisbahi@gmail.com
نحمدہ و نصلی و نسلم علیٰ رسولہ الکریم
پہلا باب
نقشبندیت کی بنیاد دو چیزوں پر ہے:
سلسلہ عالیہ نقشبندیہ کے بارے میں کیا کہا جا سکتا ہے کہ اس کی اصل بنیاد دو چیزوں پر ہے۔ اول اہل سنت و جماعت کی آرا کے مطابق اعتقاد۔ دوم سنت سنیہ کی اتباع و پیروی۔ نقشبندی بزرگوں کے تمام انوار و تجلیات کا حصول بنیادی طور پرانھی پر موقوف ہے۔ مسائل اعتقادیہ میں علماے اہل سنت کی راے کے خلاف یکسر مو بھی تجاوز کو وہ زہر قاتل سمجھتے ہیں۔ نجات ابدی کا دار و مدار انھی اعتقاد حقہ پر مبنی قرار دیتے ہیں۔ اگر یہ نہیں تو کچھ بھی نہیں۔ اس سلسلے میں اگر ان بزرگوں کے اقوال اور تاکیدات کو جمع کیا جائے تو بڑی ضخیم کتاب تیار ہو سکتی ہے۔ حضرت مجدد قدس سرہ کے چند ارشادات ہدیۂ قارئین ہیں، آپ فرماتے ہیں:
آدمی کو تین چیزوں سے چارہ نہیں تاکہ نجات ابدی میسر ہو؛ علم، عمل، اخلاص۔ علم کی دو قسمیں ہیں؛ ایک وہ جس سے مقصود عمل ہے کہ اس کا متکفل علم فقہ ہے اور دوسرے وہ علم ہے جس سے مقصود محض اعتقاد اور یقین قلبی ہے کہ علم کلام میں بالتفصیل ذکر کیا گیا ہے۔ بمقتضاے آراے صائبہ اہل سنت و جماعت جو کہ فرقۂ ناجیہ ہیں ان بزرگواروں کی اتباع کے بغیر نجات کا تصور نہیں کیا جا سکتا ہے۔ اگر ایک بال برابر بھی مخالفت ہے تو خطر در خطر ہے۔ یہ بات کشف صحیح اور الہام صریح کے ذریعہ بھی یقین سے پیوستہ ہےکہ تخلف کا احتمال نہیں رکھتی ہے۔ پس خوش خبری ہے اس کے لیے جسے اہل سنت و جماعت کی اتباع کی توفیق دی گئی اور ان کی تقلید سے مشرف کیا گیا۔ (مکتوب:۵۹، دفتر اول)
ایک دوسرے مقام پر فرماتے ہیں: فرقۂ ناجیہ اہل سنت و جماعت رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین جو کہ سواد اعظم اور جمّ غفیر ہیں کی آرا کے مطابق عقائد صحیح کرنا ہر حال میں ضروری ہے تاکہ فلاح اور اخروی نجات مقصود ہو سکے اور اعتقاد کی گندگی کہ اہل سنت و جماعت کے اعتقادات کی مخالفت ہے، زہر قاتل ہے جو کہ ابدی مدت اور دائمی عذاب تک پہنچاتی ہے۔ عمل میں سستی و کاہلی کرنے سے امید مغفرت ہے لیکن اعتقاد کی مداہنت (سستی) مغفرت کی گنجائش نہیں رکھتی ہے۔
اِنَّ اللہَ لَا یَغْفِرُ اَنۡ یُّشْرَکَ بِہٖ وَیَغْفِرُ مَا دُوۡنَ ذٰلِکَ لِمَنۡ یَّشَآءُ (النساء: ۴؍۴۸)
ترجمہ: بے شک اللہ اسے نہیں بخشتا کہ اس کے ساتھ کفر کیا جائے اور کفر سے نیچے جو کچھ ہے جسے چاہے معاف فرمادیتا ہے۔’’ (مکتوب:۶۷، دفتر اول)
طریق سالک کے لیے جو امور ضروری ہیں ان میں ایک اعتقاد صحیح ہے کہ علماے اہل سنت نے اس اعتقاد کو کتاب و سنت کے اقوال سے استنباط فرمایاہے۔ یہ بھی ضروری ہے کہ کتاب و سنت کو انھی معانی پر محمول رکھا جائے کہ جمہور علماے اہل حق یعنی اہل سنت و جماعت نے جن معانی کو اس کتاب و سنت سے سمجھا ہے اور اگر بالفرض ان معانی کے خلاف جو کہ کشف و الہام سے سمجھے گئے ہیں، کوئی امر ظاہر ہوتا ہے تو اس کا اعتبار نہیں کرنا چاہیے اور اس سے اللہ تعالیٰ کی پناہ چاہنی چاہیے۔(مکتوب: ۲۸۶، دفتر اول)
رشد و ہدایت کے متلاشی کے لیے حضرت مجدد قدس سرہ جیسے برہان حق کے یہ ارشادات بہت کافی ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ حضرت مجدد جن کو اہل سنت اور فرقۂ ناجیہ قرار دے رہے ہیں اس کے مصداق وہ لوگ جو حیات انبیا و توسل و امداد و علم
غیب وغیرہا مسائل کے جواز کا اعتقاد رکھتے ہیں یا ان کے منکر ہیں۔ ہم اختصار کے ساتھ یہ قارئین کو دکھا دیں گے کہ حضرت مجدد صاحب قدس سرہ اور ان کے مجددی سلوک سے خدا تک پہنچنے والوں کے نزدیک اہل سنت و جماعت یا فرقۂ ناجیہ کے مصداق اس زمانے میں وہی لوگ ہیں جنھیں آج بھی اہل سنت یا سنی یا بریلوی کہا جاتا ہے۔ وہ ہرگز اس کے مصداق نہیں جو وہابی، دیوبندی، نیچری و غیر مقلد وغیرہ دیگر اسما کے ساتھ موسوم ہیں۔
بہت سے وہ لوگ جو حضرت مجدد قدس سرہ کے کمالات کو تسلیم کرتے اور ان کو اپنا مقتدا ورہنما مانتے ہیں مگر پھر بھی اہل سنت و جماعت کے بہت سے مسائل میں اختلاف کرتے ہیں یہ لوگ بزعم خویش اپنے آپ کو اہل سنت میں تصور کرتے ہیں جب کہ تنقیص انبیاے کرام علیہم الصلوات و التسلیمات اور توہین اولیاے عظام قدس اسرارہم ہی کو انھوں نے اپنا شیوہ بنا لیا ہے۔ آج موجودہ فرق باطلہ سے اہل سنت و جماعت جن امور و مسائل کے ساتھ ممتاز ہیں ان کے منکر ہیں۔’’
موجودہ دور میں اہل حق یعنی اہل سنت و جماعت جو لوگ ہیں ان کے معروف عقائد میں یہ ہے کہ ذات خداوندی پر امکان کذب کو جائز نہیں سمجھتے ہیں، اللہ تعالیٰ کے مقرب بندوں انبیاے کرام و اولیاے عظام کے لیے علم غیب اور توسل و امداد وغیرہم امور کو جائز مانتے ہیں۔ جو لوگ ان امور کے انکار ہی کو اساس دین اور فلاح دارین سمجھتے ہیں پھر بھی اہل سنت و جماعت میں سے اپنے آپ کو گنتے ہیں بلکہ در اصل اس کا مستحق اپنے آپ کو ہی تصور کرتے ہیں جب ان سے کہا جاتا ہے کہ آپ تو وہابی غیر مقلد دیوبندی وغیرہ القاب سے معروف ہیں، اہل سنت سے نہیں، ایسے موقع کے لیے شیطان نے ان کے ذہن میں ایک عجیب تاویل بٹھال دی ہے جس
سے وہ اپنے قلوب کو بھی مطمئن کیے رہتے ہیں اور دوسروں کو بھی تسکین دینے کی کوشش کرتے ہیں، کہتے ہیں کہ اہل سنت و جماعت کی اصطلاح در اصل اعتزال اور رفض و خروج کے مقابل میں وضع ہوئی ہے لہٰذا جو معتزلہ روافض و خوارج میں سے نہیں ہے وہ اہل سنت ہے۔ اس لحاظ سے ہم بھی اہل سنت سے ہیں۔ میں ان لوگوں سے پوچھنا چاہتا ہوں کہ اگر اہل سنت کا یہی مطلب ہے تو مرزائی، نیچری، چکڑالوی وغیرہ سبھی اہل سنت ہوئے پھر ان پر گمراہ اور کافر ہونے کے فتوے کیوں جڑتے ہیں؟ یہ بھی معتزلہ و روافض و خوارج سے نہیں ہیں۔
ہم چاہتے ہیں کہ قدرے تفصیل سے حضرت مجدد اور ان کے متوسلین و منتسبین کے اقوال نقل کردیں تاکہ اہل زمانہ دیکھ لیں کہ یہ حضرات جنھیں اہل سنت قرار دیتے ہیں اس کے مصداق در اصل وہی اہل حق ہیں جو آج بھی اہل سنت یا سنی یا بریلوی کے نام سے معروف و مشہور ہیں۔ خداوند قدوس اتباع حق کی توفیق عطا فرمائے، آمین۔
حیات انبیاے کرام علیہم الصلوات و التسلیمات:
حضرت مجدد قدس سرہ برزخ صغریٰ یعنی قبر میں انبیاے کرام کی ترقی بیان کرتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں:
برزخ صغریٰ چوں از یک وجہ مواطن دنیوی است گنجائش ترقی دارد و احوال ایں موطن نظر باشخاص متفاوتہ تفاوت فاحش دارد الانبیاءُ یُصلّونَ فی القبورِ شنیدہ باشند و حضرت پیغمبر ما علیہ و علیٰ آلہ الصلاۃ و السلام شب معراج چوں بر قبر حضرت کلیم علیٰ نبینا و علیہ الصلاۃ و السلام گزشتند، دیدند کہ در قبر نماز میگزارند و ہماں لحظہ چوں بآسمان رسیدند حضرت کلیم را آنجا یافتند۔ قبر چوں کہ ایک جہت سے دنیوی مواطن سے ہے (اس لیے) ترقی کی گنجائش رکھتی ہے اس محل کے احوال مختلف اشخاص کی طرف نظر کرتے ہوئے بہت تفاوت رکھتے ہیں، آپ نے سنا ہوگا انبیاے کرام علیہم الصلاۃ و السلام قبروں میں نماز پڑھتے ہیں اور ہمارے نبی علیہ و علیٰ آلہ الصلاۃ و السلام معراج کی رات جب حضرت کلیم علیٰ نبینا و علیہ الصلاۃ و السلام کی قبر پر گذرے دیکھا کہ حضرت کلیم قبر میں نماز پڑھ رہے ہیں اور اسی لحظہ جب آسمان پر پہنچے حضرت کلیم کو اس جگہ پایا۔
برزخ صغریٰ چوں از یک وجہ مواطن دنیوی است گنجائش ترقی دارد و احوال ایں موطن نظر باشخاص متفاوتہ تفاوت فاحش دارد الانبیاءُ یُصلّونَ فی القبورِ شنیدہ باشند و حضرت پیغمبر ما علیہ و علیٰ آلہ الصلاۃ و السلام شب معراج چوں بر قبر حضرت کلیم علیٰ نبینا و علیہ الصلاۃ و السلام گزشتند، دیدند کہ در قبر نماز میگزارند و ہماں لحظہ چوں بآسمان رسیدند حضرت کلیم را آنجا یافتند۔ قبر چوں کہ ایک جہت سے دنیوی مواطن سے ہے (اس لیے) ترقی کی گنجائش رکھتی ہے اس محل کے احوال مختلف اشخاص کی طرف نظر کرتے ہوئے بہت تفاوت رکھتے ہیں، آپ نے سنا ہوگا انبیاے کرام علیہم الصلاۃ و السلام قبروں میں نماز پڑھتے ہیں اور ہمارے نبی علیہ و علیٰ آلہ الصلاۃ و السلام معراج کی رات جب حضرت کلیم علیٰ نبینا و علیہ الصلاۃ و السلام کی قبر پر گذرے دیکھا کہ حضرت کلیم قبر میں نماز پڑھ رہے ہیں اور اسی لحظہ جب آسمان پر پہنچے حضرت کلیم کو اس جگہ پایا۔
(آگے فرماتے ہیں) اس جگہ کا معاملہ عجائب و غرائب رکھتا ہے۔ آج کل فرزند اعظم مرحوم (خواجہ محمد صادق قدس سرہ) کی تقریب پر اس مقام کی طرف بہت نظر کی جاتی ہے اس لیے اسرار غریبہ ظاہر ہوتے ہیں اگر ان کا تھوڑا سا بھی حال بیان کیا جائے تو فتنوں کا سبب ہوگا ہر چند جنت کی چھت عرش مجید ہے لیکن قبر بھی جنت کے باغیچوں میں سے ایک باغیچہ ہے۔ اگرچہ عقل کوتاہ اندیش ان باتوں کے تصور سے عاجز ہے وہ اور ہی آنکھ ہے جو اس قسم کے عجائب کو دیکھتی ہے۔ (مکتوب:۱۶، حصہ ششم، دفتر دوم)
حامل لواے مجددی مظہر کمالات احمدی حضرت خواجہ محمد معصوم سرہندی ابن مجدد الف ثانی قدس اللہ اسرارہما سے سوال کیا گیا کہ انبیاے کرام علیہم الصلوات والتسلیمات قبروں میں حیات رکھتے ہیں یا نہیں اور اگر رکھتے ہیں تو اس جیسی حیات کہ دنیا میں رکھتے تھے یا دیگر طور پر آپ فرماتے ہیں۔
حیات دارند اَلَاۤ اِنَّ اَوْلِیَآءَ اللہِ لا یَموتونَ و لٰکنْ ینْتقِلون مِن دارٍ إلیٰ دارٍ لیکن نہ مثل حیات دنیوی کہ از دنیا انتقال کردہ بآخرت پیوستہ اند و در درجات قرب ملتذ و خرسند الانبیاءُ یُصلّونَ فی قبورِھم شنودہ باشندو ہر جا کہ اطلاق موت بریں بزرگواراں آمدہ است باعتبار انتقال شاں ازیں دار فانی۔
(مکتوب:۳۶، از مکتوبات معصومیہ) حیات رکھتے ہیں، خبردار، اللہ تعالیٰ کے اولیا مرتے نہیں ہیں لیکن ایک گھر سے دوسرے گھر کی طرف منتقل ہو جاتے ہیں لیکن دنیوی حیات کے مثل نہیں کہ دنیا سے منتقل ہو کر آخرت سے مل گئے ہیں اور قرب کے درجات میں لذتیں حاصل کر رہے ہیں اور خوش ہیں، آپ نے سنا ہوگا کہ انبیاے کرام اپنی قبروں میں نماز پڑھتے ہیں اور جس جگہ کہ لفظ موت کا اطلاق ان بزرگواروں پر آیا ہے وہ اس دار فانی سے انتقال کرنے کے اعتبار سے ہے۔
ادنیٰ سا بھی شعور رکھنے والا سمجھ سکتا ہے کہ انبیا تو انبیا آپ جملہ اولیاے کرام کے لیے حیات کا اثبات فرما رہے ہیں۔ ان حضرات کی موت موت نہیں ہوتی بلکہ دار فنا سے دار بقا کی طرف کوچ ہوتا ہے بلکہ اور ترقی در ترقی ہے۔ خیال رہے کہ آپ کے قول ‘‘لیکن نہ مثل حیات دنیوی’’ کا مطلب یہ نہیں ہے کہ وہ حیات اس سے کمزور ہوتی ہے بلکہ بعض وہ حوائج بشری جو دنیا میں رہنے والوں کو عارض ہوتے ہیں جیسے کھانا پینا، بول و براز، رنج و الم، حزن و غم و بیماری وغیرہ ان امور کی وہاں کوئی حاجت نہیں رہتی ہے۔ بس اتنا ہی فرق ہوتا ہے۔ غور کیا جائے تو معلوم ہوگا کہ یہ تو ایک قسم کی ترقی ہے۔
ایک وقت میں متعدد مقامات پر جلوہ گر ہونا:
انبیاے کرام علیہم الصلوات و التسلیمات اور اولیاے کرام قدس اللہ اسرارہم کا ایک وقت میں متعدد مقامات پر ظاہر ہونا اور تشریف لے جانا دنیوی حیات میں یا بعد وصال بلکہ دنیا میں آنے سے پہلے بھی حق اور ثابت ہے اہل حق کا عقیدہ یہی ہے۔ چناں چہ فتوحات مکیہ میں حضرت شیخ ابن عربی قدس سرہ کی ایک نقل سے
متعلق حضرت مجدد سے سوال کیا گیا اسی کا جواب دیتے ہوئے اور تناسخ کا رد کرتے ہوئے خود ہی ایک سوال فرماتے ہیں:
سوال: حضرت امیر کرم اللہ تعالیٰ وجہہ اور بعض دوسرے اولیاء اللہ سے بھی منقول ہے کہ بعض اعمال غریبہ اور افعال عجیبہ وجود عنصری (یعنی اس بدن سے جو عناصر سے مرکب ہے) سے طویل زمانے پہلے ان سے عالم شہادت میں واقع ہوئے اس نقل کا صحیح ہونا تناسخ کو جائز قرار دیے بغیر ہو سکتا ہے؟
جواب: ان اعمال و افعال کا صدور ان بزرگواروں کی روحوں سے ہے کہ اللہ تعالیٰ کی مشیت سے اپنے آپ اجسام سے متجسم ہوکر روحیں افعال عجیبہ سے مباشر ہوئیں (یعنی یہ کام کیے) کوئی دوسرا جسم نہیں تھا کہ جس سے تعلق پکڑا ہو۔ تناسخ یہ ہے کہ روح اس جسم کے ساتھ تعلق سے پہلے کسی ایسے دوسرے جسم کے ساتھ متعلق ہو جو کہ اس جسم کے مغایر و مبائن ہو اور چوں کہ خود جسم سے متجسم ہوتی ہیں تو تناسخ کیا ہوگا۔ جنات جو کہ مختلف شکلوں سے متشکل اور مختلف اجساد سے متجسد ہوتے ہیں اس حال میں اعمال عجیبہ جو کہ ان شکلوں اور جسموں کے مناسب ہیں ان سے واقع ہوتے ہیں۔ اس میں نہ کوئی تناسخ ہے اور نہ حلول جب کہ جنات کو اللہ سبحانہ کے قدرت دینے سے یہ قدرت حاصل ہے کہ مختلف شکلوں سے متشکل ہو کر اعمال غریبہ وقوع میں لائیں تو کاملین کی ارواح کو یہ قدرت عطا فرمائیں کیا محل تعجب ہے اور دوسرے بدن کی کیا حاجت اس کے بعد آپ کے الفاظ یہ ہیں۔
ازیں قبیل است آنچہ از بعضے اولیاء اللہ نقل میکنند کہ در یک آن در امکنہ متعددہ حاضر میگردند و افعال متبائنہ بوقوع می آرند اینجا نیز لطائف ایشاں متجسد باجساد مختلفہ اند و متشکل باشکال متبائنہ و ہم چنیں عزیزیکہ مثلاً در ہندوستان توطن دارد و ازاں دیار نہ برآمدہ است جمعے از حضرت مکہ معظمہ می آیند و میگویند کہ آں عزیز را در حرم کعبہ دیدہ ام و چناں و چنیں درمیان ما و آں عزیز گذشتہ است و جمعے دیگر نقل میکنند کہ ما اورا در روم دیدہ ایم و ہم جمعے دیگر در بغداد دیدہ اند ایں ہمہ تشکل لطائف آن عزیز است باشکال مختلفہ۔
(مکتوب:۵۸، دفتر دوم) اسی قبیل سے وہ واقعات ہیں جو بعض اولیاء اللہ سے نقل کرتے ہیں کہ ایک وقت میں وہ کئی جگہوں پرحاضر ہوتے ہیں اور ان سے مختلف افعال وقوع میں آتے ہیں، اس جگہ میں ان کے لطائف مختلف اجسام اور مختلف اشکال اختیار کر لیتے ہیں اور اسی طرح کے وہ واقعات ہیں کہ مثلاً کوئی عزیز ہندوستان میں اپنی رہائش رکھتا ہے اور اس جگہ سے کبھی باہر نہیں گیا ایک جماعت مکہ معظمہ سے آتی ہے کہتی ہے کہ اس عزیز کو ہم نے حرم کعبہ میں دیکھا ہے اور اس طرح کے واقعات ہمارے اور اس عزیز کے درمیان گذرے ہیں اور کچھ لوگ بیان کرتے ہیں کہ ہم نے اس کو روم میں دیکھا ہے دوسری جماعت نے بغداد میں دیکھا ہے، یہ سب کچھ اس عزیز کے لطائف کی شکلیں ہیں جو مختلف شکلوں میں ظاہر ہوئی ہیں۔
حضرت خواجہ محمد معصوم قدس سرہ سے ایک سائل نے سوال کیا کہ سید کائناتﷺ کی صحبت آپ کے دنیا سے تشریف لے جانے کے بعد بیداری میں واقع ہے یا نہیں، اگر واقع ہے تو لازم آئےگا کہ آپ کی قبر شریف آپ کے جسد مبارک سے خالی ہو اور یہ محال ہے۔ جواب میں آپ ارشاد فرماتے ہیں:
جواب اولاً آنکہ خلو ممنوع است چہ مشائخ امت در یک آن در امکنہ متعددہ حاضر شدہ اند۔ چنانچہ از حضرت خواجہ بزرگ منقول است کہ وقت افطار ہفت جا حاضر شد و ہمہ جا افطار نمودند و از شاہ کمال نیز نقل کنند کہ وقت نماز جائے کہ نششتہ بودند ہمانجا نششتہ ماندند تا آنکہ وقت نماز گذشت مردم خیال کردند کہ نماز نخواندند و ہماں وقت جائے دیگر مردم دیدند کہ نماز خواندند۔ ثانیاً آنکہ استحالت مذکور ممنوع است چہ بر تقدیر خلو از جسد مبارک حضور روحی در روضہ منورہ کائن است و تحقیق مقام آنست کہ خلو مذکور وقتی لازم آید کہ جسد مبارک در انتقال واقع شود و آنچہ واقع است واللہ سبحانہ اعلم بحقیقۃ الحال ملاقات روحانی است ہر چند بصورت جسد نماید و روح متجسد گردد۔’’ (مکتوب:۳۶)
پہلا جواب یہ ہے کہ قبر کا خالی ہونا ممنوع ہے کیوں کہ امت کے مشائخ ایک وقت میں متعدد جگہوں میں حاضر ہوتے ہیں۔ چناں چہ جیسا کہ حضرت خواجہ بہاء الدین نقشبند قدس سرہ افطار کے وقت میں سات جگہ حاضر ہوئے اور سب جگہ افطار فرمایا اور حضرت شاہ کمال کیتھلی قدس سرہ سے بھی نقل کرتے ہیں کہ نماز کے وقت جس جگہ بیٹھے تھے اسی جگہ بیٹھے رہے یہاں تک کہ نماز کا وقت گذر گیا لوگوں نے خیال کیا کہ آپ نے نماز نہیں پڑھی اور اسی وقت دوسری جگہ لوگوں نے دیکھا کہ نماز پڑھی۔ دوسرا جواب یہ ہے استحالہ مذکورہ ممنوع ہے کیوں کہ جسد مبارک سے خالی ہونے کی تقدیر پر روح مبارک کا روضہ منورہ میں حضور ثابت ہے اور مقام کی تحقیق یہ ہے کہ خلو مذکور اسی وقت لازم آئے گا جب کہ جسد مبارک کا انتقال واقع ہو اور جو واقع ہے حقیقت حال اللہ تعالیٰ زیادہ جانتا ہے، وہ روحانی ملاقات ہے ہر چند جسم کی صورت میں دکھائی دیتی ہے اور روح متجسد ہوتی ہے۔
اس سلسلے میں خانوادہ احمدیہ کی کرامات نقل کی جائیں تو بحث کافی طویل ہو
جائےگی۔ خود حضرت خواجہ محمد معصوم کا ایک تصرف سماعت فرمائیں۔ ایک روز آپ وضو فرما رہے تھے کہ ناگاہ خادم سے لوٹا لے کر دیوار پو مارا اور وہ لوٹا ٹوٹ گیا۔ آپ نے دوسرے لوٹے سے وضو فرمایا، حاضرین نے اس امر کو ذہن میں رکھا، مدت کے بعد ایک سوداگر آیا اس نے بیان کیا کہ ایک دفعہ میں بنگالہ کی طرف ایک صحرا میں تھا کیا دیکھتا ہوں کہ ایک شیر میری طرف غُرّاتا چلا آتا ہے، میں نہایت خوف زدہ ہوا، اچانک حضرت کو دیکھا کہ لوٹا لیے آتے ہیں، آپ نے وہ لوٹا اس شیر کی طرف زور سے پھینکا اس کے خوف سے شیر بھاگ گیا اور میں محفوظ رہا۔ (تذکرہ مشائخ نقشبندیہ)
واقعہ صریح ہے اس بات میں کہ خادم کے سامنے آپ وضو بھی فرماتے رہے اور صحراے بنگالہ میں اپنے متوسل کے سامنے جلوہ فرما ہوکر اس کی شیر سے جان بھی بچائی۔