باب ۱۹ از ۲۲صفحات ۲۱۷–۲۲۸
ولایت علیا
جب انسان ولایت کبریٰ کے دائرے کو تمام کر لیتا ہے تو اسے ولایت علیا کا دائرہ مشہود ہوتا ہے یہ چوتھا دائرہ ہے اس دائرہ میں اسم الباطن میں سیر ہوتی ہے جیسا کہ اس سے پہلے اسم الظاہر میں سیر تھی،حضرت مجدد الف ثانی قدس سرہ اپنے فرزند اکبر سیدنا خواجہ محمد صادق قدس سرہ کو مکتوب ۲۶۰ میں اس سیر کا حال ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
‘‘اے فرزند!سیر اسم الباطن کے بارے میں کیا لکھے کہ اس سیر کے بارے میں حال استتا ر و تبطن ہے،اس قدر اس مقام سے ظاہر کرتا ہوں کہ اسم الظاہر میں سیر صفات میں سیر ہے بغیر اس کے کہ ان صفات کے ضمن میں ذات تعالیٰ ملحوظ ہو،اور اسم الباطن میں سیر بھی ہر چند اسما میں سیر ہے لیکن ان کے ضمن میں ذات تعالیٰ ملحوظ ہے اور وہ اسما ڈھالوں کے مثل ہیں جو کہ حضرت ذات تعالیٰ وتقدس کے لیے روپوش بن گئے مثال کے طور پر صفت العلم میں ذات تعالیٰ بالکل ملحوظ نہیں ہے اور اسم العلیم میں ذات تعالیٰ ملحوظ ہے صفت کے پس پردہ ذات تعالیٰ ملحوظ ہے کیونکہ علیم اس ذات کو کہتے ہیں جس کو علم ہے پس علم میں سیر اسم الظاہر میں سیر ہے اور علیم میں سیر اسم باطن میں سیر ہے،اسی پر باقی اسما اور صفات کو
اور یہ اسما جو کہ اسم الباطن سے تعلق رکھتے ہیں ملأ اعلیٰ کہ ملائکہ کے مبادیِ تعینات ہیں علیٰ نبینا وعلیم الصلوات والتحیات،ان اسما میں سیر شروع کرنا ولایت علیا میں قدم رکھنا ہے جو کہ ملأ اعلیٰ کی ولایت ہے،اسم الظاہر اور اسم الباطن کے بیان میں علم اور علیم کے درمیان میں جو فرق ہے اس فرق کو تھوڑا خیال نہ کریں اور نہ کہو کہ علم سے علیم تک تھوڑا راستہ ہے،نہیں! بلکہ جو فرق مرکز خاک اور محدب (قبہ) عرش کے درمیان ہے اس فرق کی نسبت دریائے محیط کی نسبت قطرہ کا حکم رکھتا ہے کہنے میں قریب ہے اور حاصل ہو نے میں دور۔
اور اسی قبیل سے ہے ان مقامات کا ذکر جن کا ذکر اجمالا ہوا مثلا کہا گیا ہے کہ عالم امر کے پنجگانہ کو طے کر کے ان کے اصول میں سیر کرے تاکہ دائرۂ امکان تمام ہو جائے،اس عبارت میں پوری سیر الیٰ اللہ ذکر کر دی گئی اور اس سیر کے حصول کو پچاس ہزار سال کی مدت کے ساتھ مقرر کیا ہے،ہاں! یہ ہو سکتا ہے کہ عنایت خداوندی کی کشش سے قریب ہے کہ اس لمبی مدت کے کام کو پلک جھپکتے میسر کردے؏
با کریماں کارہا دشوار نیست
اسی طرح کہا گیا ہے کہ دائرۂ اسما و صفات و شیون و اعتبارات کو طے کر کے ان کے اصول میں سیر کرے،جمیع اسما وصفات و شیون و اعتبارات کہنے میں آسان ہیں اور طے کرنے میں بہت مشکل ہیں،اس طے کی دشواری کی وجہ سے مشائخ نے فرمایا ہے‘‘منازل الوصول لا تنقطع ابد الاٰ بدین’’یعنی وصول کی منزلیں کبھی بھی ختم نہیں ہوتی ہیں،اور ان مراتب کی پوری سیر کو منع فرمایا ہے۔’’(مکتوب ۲۶۰ مع اختصار)
ولایت علیا کے کمالات:
حضرت سیدنا شاہ غلام علی دہلوی قدس سرہ اس ولایت کے کمالات کے بارے میں فرماتے ہیں:‘‘اس ولایت میں سوائے عنصر خاک کے باقی تین عناصر(آگ،ہوا،پانی) سے کام پڑتا ہے،اس جگہ اس ذات کا مراقبہ کرتے ہیں جو کہ مسمّی ہے ھوالباطن کی،ذکر تہلیلی اور نماز اس جگہ ترقی بخشتے ہیں اور توجہ و حضور و عروج و نزول عناصر ثلاثہ کو حاصل ہو تے ہیں،کبھی بدن ایک چشم نگراں کے محسوس ہوتا ہے اور سلطان الاذکار کے وقت میں کہ مبتدیوں کو حاصل ہوتا ہے اور بدن کو صفائی دیتا ہے وہ صفائی دوسری ہے اور یہ عناصر کا تصفیہ دوسرا ہے،حالات و کیفیات اس جگہ لطافت و نزاکت کے ساتھ ہیں۔
عجیب وسعت و کشادگی باطن میں پیدا ہوتی ہےاور ملأ اعلیٰ کے ساتھ مناسبت حاصل ہوتی ہے،ہو سکتا ہے کہ ملائکۂ کرام ظاہر ہونا شروع کریں اور جو اسرار چھپانے کے لائق ہیں معلوم ہوں۔
اس مقام میں رخصت پر عمل اچھا نہیں ہے کیونکہ رخصت پر عمل آدمی کو بشریت کی طرف کھینچتا ہے اور عزیمت پر عمل ملکیّت کے ساتھ مناسبت پیدا کرتا ہے پس جس قدر ملکیت کے ساتھ مناسبت زیادہ ہوگی اسی قدر اس ولایت میں جلد ترقی حاصل ہو گی۔’’
آپ گذشتہ اوراق میں پڑھ چکے ہیں کہ حضرت مجدد قدس سرہ کے نزدیک عالم خلق کو عالم امر پر فضیلت حاصل ہے،ان تینوں ولایات کی تفصیلات پڑھنے سے یہ بات اچھی طرح ذہن نشین ہو گئی ہو گی کہ عالم امر کے لطائف سے ولایت صغریٰ تک کام پڑتا ہے اس کے بعد ولایت کبریٰ میں بھی در اصل مورد فیض لطیفۂ نفس ہوتا ہے اور اس ولایت میں کام عناصر سے پڑتا ہے،اس سے ظاہر ہوا کہ طریقۂ
نقشبندیہ میں جو عالم امر سے آغاز کر کے عالم خلق کی طرف آتے ہیں اس میں ترتیب طبعی یعنی ادنیٰ سے اعلیٰ کی طرف ترقی ملحوظ ہے۔
ولایت سہ گانہ میں وجوہ فرق:
مذکورہ بالا تقریر سے آپ نے تینوں ولایتوں کو سمجھ لیا ہوگا کہ ولایت صغری کی جہاں انتہا ہو تی ہے وہاں سے ولایت کبریٰ کا آغاز ہو تا ہے اور جہاں اور جس جگہ سے ولایت کبریٰ کی انتہا ہوتی ہے اس جگہ سے ولایت علیا کا آغاز ہوتا ہے،پس خداوند قدوس کے نزدیک تر ولایت علیا ہے پھر ولایت کبریٰ اور پھر ولایت صغریٰ۔
ولایت صغریٰ ولایت ظلی ہے اور کبریٰ اصلی اول میں تجلیِ برقی ظاہر ہوتی ہے اور دوم میں تجلی دائمی کیونکہ انفس و آفاق کے آئینوں میں جو بھی ظاہر ہوتا ہے وہ سب داغ ظلیت سے داغدار ہے لہٰذا لائق ِ نفی ہے تاکہ اصل کا اثبات ہو سکے اور جب معاملہ انفس و آفاق سے اوپر جاتا ہے تب ظلیت سے چھٹکارا حاصل ہوتا ہے۔
دائرۂ ظلیت انفس کی انتہا سے منتہی ہو جاتا ہے پس آفاق و انفس میں جو بھی ظاہر ہوگا وہ ظلی ہو گا و لہٰذا جو تجلی بھی وہاں ظاہر ہوگی وہ ظلی ہو گی اگر چہ اسے کوئی فعل وصفت کی تجلی سمجھے مگر در حقیقت اس کا تعلق فعل و صفت کے ظلال سے ہوگا،خیال رہے تجلیِ برقی بھی ان لوگوں کو میسر آتی ہے جو دائرۂ ظل کی انتہا پر ہوتے ہیں،نہایت کمال ولایت ظلی یعنی صغریٰ میں تجلی برقی ہے اور یہی تجلیِ برقی ولایت کبریٰ کے بھی قدم اول میں شمار ہوتی ہے،اور جب مکمل طور پر ظلیت سے چھٹکارا حاصل ہو جاتا ہے اور اصل تک رسائی حاصل ہو جاتی ہے تو یہی تجلیِ مذکور ان کے لیے دائمی ہو جاتی ہے۔
حضرت مجدد قدس سرہ فرماتے ہیں:‘‘یہ فقیر اتنا جانتا ہے کہ نسبت و حضور
نقشبندیہ جب کمال کو پہنچتا ہے تو ولایت کبریٰ سے پیوست ہوجاتا ہے اور اس ولایت سے حظ وافر حاصل کرتا ہے،اس کے برخلاف دیگر طریقوں میں کہ نہایت کمال تجلیِ برقی تک ہے۔’’
ولایت صغریٰ اور کبریٰ میں ایک فرق یہ بھی ہے کہ سالک جب تک دائرۂ ظل میں رہتا ہے وہم و خیال سے چھٹکارا حاصل نہیں ہو پاتا ہے اور جب اس سے نکل گیا تو وہم و خیال سے نجات حاصل ہو گئی۔
حضرت مجدد قدس سرہ ارشاد فرماتے ہیں:‘‘جاننا چاہیے کہ جو سیر آفاق و انفس کے سیر کے بعد میسر ہوتی ہے وہ حق تعالیٰ کی اقربیت میں سیر ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کا فعل ہم سے خود ہم سے نزدیک تر ہے یعنی جتنا کہ ہم خود اپنے آپ سے قریب ہیں اس ست زیادہ قربت فعل حق کو ہم سے ہے،اسی طرح حق تعالیٰ کی صفت ہم سے اور فعل حق خود ہم سے اقرب ہے اور اس کی ذات خود ہم سے اور اس کے فعل و صفت سے قریب تر ہے،پس ان مراتب میں سیر،اقربیت میں سیر ہے۔
تجلیِ فعل،تجلیِ صفت،تجلیِ ذات اس مقام میں ثابت ہوتی ہیں اور غلبۂ وہم و خیال سے اس جگہ نجات حاصل ہو جاتی ہے کیونکہ وہم و خیال کے غلبہ کو دائرۂ آفاق و انفس کے باہر سلطنت حاصل نہیں،وہم کی انتہا ظل کی انتہا تک ہے،جس جگہ ظل نہ ہوگا وہم نہ ہوگا پس لامحالہ قید وہم سے چھٹکارا ولایت ظلی میں موت کے بعد میسر ہوگا کہ وہم کا رخ عدم کی طرف ہوجاتا ہے،اور ولایت اصلی میں کہ ولایت کبریٰ ہے وہم و خیال کی قید سے خلاصی اسی دنیا میں میسر آجاتی ہے،وہم کے موجود ہوتے ہوئے وہم سے آزادی ہوتی ہے جو کچھ پہلے گروہ کو آخرت میں ہے دوسرے کو اسی جگہ میسر ہے،ولایت ظلی میں اس دنیا میں مطلوب کا حصول وہم و خِیال کی گردش کے علاوہ نہیں ہے اور ولایت اصلی میں مطلوب گردشِ وہم کی علت سے منزہ اور مبرا
ولایات سہ گانہ میں مزید فرق آئندہ تحریرات میں واضح ہو جائے گا۔
تیسری خصوصیت:
مجددی طریق کی ایک خصوصیت یہ بھی ہے کہ اس کے بلند پرواز سالکین پر تین قسم کے کمالات منکشف ہوتے ہیں(۱)کمالات نبوت(۲)کمالات رسالت(۳)کمالات اولوالعزم،ہم اس سلسلے میں تفصیل سپرد قلم کرنا چاہتے ہیں تاکہ آپ کے ذہن میں قرب ولایت،قرب نبوت اور ان کے کمالات اچھی طرح ذہن نشین ہو جائیں جس سے راہِ سلوک کے مسافرین بہت سارے اقوال و ارشادات کا محل اور مقام نبوت و رسالت کی بلندیِ شان اور ان کے کمالات کے حاملین اولیاء کرام کی عظمت ورفعت کے سلسلے میں دھوکہ نہ کھائیں۔
قرب نبوت اور قرب ولایت:
ولایت دراصل اس قرب الٰہی کا نام ہے جو ظلیت کی آمیزش کے بغیر متصور نہیں ہو سکتا ہے اور حجابات کے حائل ہوئے بغیر حصول قبول نہیں کرتا ہے کیونکہ اگر ولایت اولیا ہے تو وہ داغ ظلیت سے داغدار اور اگر ولایت انبیاء علیہم الصلوات والتسلیمات ہے تو یہ اگر چہ ظلیت کے دائرہ سے باہر ہے لیکن اس میں بھی اسما و صفات کے حجابات حائل ہو تے ہیں بغیر اس حیلولت کے اس ولایت کا تحقق نہیں ہو سکتا ہے اور ولایت ملأ اعلیٰ علیٰ نبینا و علیہم الصلوات والتسلیمات اگر چہ اسما وصفات کے حجابات سے بلند ہے لیکن شیون و اعتبارات ذاتیہ کے پردے یہاں بھی موجود ہیں غرضیکہ اس ولایت میں بھی ان کے بغیر چارہ نہیں۔
جبکہ نبوت اس قرب اصلی کا نام ہے جو ظلیت کا شائبہ اور آمیزش نہ رکھتا ہو اور صفات و اعتبارات کے حجابات کو راہ میں چھوڑ دیا ہو،اس کے عروج کا رخ حق کی
طرف ہوتا ہے اور نزول کا خلق کی طرف یہ قرب بالاصالۃ انبیاء کرام علیہم الصلوات و التسلیمات کا نصیب ہے اور یہ منصب انھیں بزرگوں کے ساتھ مخصوص ہے،اس منصب کے خاتم سید البشر ﷺ ہیں اسی لیے حضرت عیسیٰ روح اللہ علیٰ نبینا وعلیہ الصلاۃ والسلام نزول کے بعد آپ کی شریعت کی اتباع کریں گے۔
ہاں! مگراتباع کرنے والوں اور خادموں کو صاحبان دولت حضرات کے ٹکڑے اور ان کے خوردہ کا باقی ماندہ مل جاتاہے لہٰذا انبیاء کرام علیہم الصلوات والتسلیمات کے کامل تابعین کو بھی حصہ ملتا ہے اور اس مقام کے علوم و معارف اور کمالات بطریق وراثت ان کے متبعین کا بھی نصیب ہوتے ہیں،اس سے آپ نے یہ سمجھ لیا ہوگا کہ کمالات نبوت کا وصول بطریق وراثت و تبعیت تابعین کو خاتم الرسل ﷺ کی بعثت کے بعد آپ کی خاتمیت کے منافی نہیں ہے۔
دونوں قربوں میں وجوہ کا فرق:
جب سالک ولایت علیا کا دائرہ تمام کر لیتا ہے پس اگر عنایت خداوندی شامل حال ہے تو دائرۂ کمالات نبوت میں سیر میسر آتی ہے لہٰذا یہ راہ خداوند قدوس سے قریب تر ہوئی ولایت کی بہ نسبت اس لیے کہ ولایت میں شائبۂ ظلیت ہوتا ہے یا دیگر حجابات جیسا کہ آپ پڑھ چکے ہیں جبکہ نبوت میں کوئی چیز حائل نہیں ہوتی ہے تو نبوت ولایت سے افضل ہو ئی اور نبوت کا قرب اصلی اور ذاتی ہوا۔
اس سے معلوم ہوا کہ نبوت میں وصول ہوتا ہے اور ولایت میں حصول کیونکہ حصول ظلیت کے ملاحظہ کے بغیر کو ئی صورت نہیں رکھتا ہے اس کے بر خلاف وصول کیوں کہ اس میں ملاحظہ کچھ بھی درکار نہیں ۔
سوم یہ کہ کمال حصول میں رفع اثنینیت ہے یعنی دوئی کا زوال ہو جاتا ہے اور کمال وصول میں بقاء اثنینیت ہے پس دوئی کا زوال مقام ولایت کے مناسب ہے
پس سکر لا محالہ مقام ولایت کو لازم ہو گا اور مرتبۂ نبوت میں دوئی کی بقا رہتی ہے اس لیے صحو اس مرتبہ کے خواص سے ہوگا۔
چہارم تجلیات کا حصول خواہ صور و اشکال کے لباس میں ہو یا خواہ الوان و انوار کے پردوں میں سب مقام ولایت میں اور اس کے مقدمات و مبادی طے کرنے میں ہے اس کے برخلاف مرتبۂ نبوت میں واصل کے ساتھ وصول ہوتا ہے اور تجلیات و ظہورات سے استغنا کیونکہ یہ امور اس اصل کے ظلال ہیں اور جب اصل سے وصول ہے تو ظل سے کیا تعلق؟
خیال رہے جس طرح مرتبۂ نبوت میں تجلیات و ظہورات کی کچھ حاجت نہیں اسی طرح اس کے مقدمات و مبادی طے کرنے میں بھی ان کی احتیاج نہیں ہے،ہاں! اگر عروج راہ ولایت سے واقع ہو تو اس ولایت کی وجہ سے ان تجلیات کا حصول ہوگا،راہِ وصول نبوت کی مسافت طے کرنے کی وجہ سے نہیں۔
خلاصہ یہ کہ تجلیات و ظہورات سب ظلال کی خبر دیتے ہیں جو ظلال کی گرفتاری سے آزاد ہو گیا وہ تجلیات سے چھٹکارا پا گیا،‘‘مازاغ البصر’’ کا بھید اسی جگہ ظاہر ہوتا ہے۔
معلوم ہونا چاہیے کہ محبت کی شورش اور عشق کا ولولہ،شوق انگیز نعرے،درد آمیز آہیں،وجد و تواجداور رقص و رقاصی سب مقامات ظلال اور ظہورات و تجلیات ظلیہ کے اوقات میں ہے،اصل سے وصول کے بعد ان امور کا حصول متصور نہیں ہے اس محل میں محبت بمعنیٰ ارادہ طاعت ہے جیسا کہ علما نے فرمایا ہے،ارادۂ طاعت سے زائد کوئی معنیٰ مراد نہیں جو کہ شوق و ذوق کا منشأ ہوں جیسا کہ بعض صوفیہ نے سمجھا ہے۔
فائدہ:
آپ پڑھ چکے کہ مقام ولایت میں چونکہ دوئی کا زوال مطلوب ہوتا ہےاس لیے ناچار اولیاء کرام زوال ارادہ کی کوشش کرتے ہیں حضرت سلطان العارفین بایزید بسطامی قدس سرہ فرماتے ہیں:‘‘ارید ان لا ارید ’’ اور مرتبۂ نبوت میں چونکہ دوئی کا زوال درکار نہیں ہوتا ہے اسی لیے نفس ارادہ کا زوال بھی مطلوب نہیں۔
اسی طرح مقام ولایت میں تمام صفات بشری کی نفی کی کوشش کرتے ہیں اور مرتبۂ نبوت میں اصلِ صفات کی نفی نہیں کرتے ہیں بلکہ برے متعلقات کی نفی کرتے ہیں،ہاں! یہ دھیان رہے کہ صفات بشریت کی نفی ولایت ظلی یعنی ولایت صغریٰ میں ہوتی ہے مگر جب سالک ولایت کبریٰ کی حدوں میں داخل ہو جاتا ہے تو ظلیت سے نجات پا جاتا ہے لہٰذا وہاں نفس صفات کی نفی نہیں ہوتی ہے۔
پنجم فرق یہ ہے کہ مقام ولایت میں دنیا اور آخرت دونون سے ہاتھ دھونا پڑتا ہے اور آخرت کی گرفتاری کو دنیا کی گرفتاری کی طرح شمار کیا جاتا ہے،درد آخرت کو درد دنیا کی طرح اچھا نہیں سمجھا جاتا ہ،حاصل یہ کہ فنا جو کہ حق کے ماسوا کو بھول جانے اور فراموش کر دینے کا نام ہے وہ دنیا اور آخرت دونوں کو شامل ہے اور فنا و بقا دونوں ولایت کے جز ہیں پس ولایت میں آخرت کا نسیان ضروری ہے۔
اور مرتبۂ نبوت میں آخرت کی گرفتاری محمود ،درد آخرت پسندیدہ و مقبول ہے بلکہ اس محل میں درد درد آخرت ہے اور گرفتاری آخرت کی گرفتاری ہے ان بزرگواروں کا گریہ و نالہ احوال آخرت یاد کرنے کے سبب ہے ان کا رنج و غم احوال قیامت کے ڈر کی وجہ سے ہے،یہ ہمیشہ فتنۂ قبر سے پناہ چاہتے ہیں اور عذاب نار سے
............................
۔میں چاہتا ہوں کہ میرا ارادہ ختم ہو جائے۔
چھٹکارے کے جویاں رہتے ہیں اور اس کے لیے گڑ گڑاتے ہیں،حق سبحانہ کا درد ان کے یہاں درد آخرت ہے اور ان کا شوق و محبت آخرت کا شوق و محبت ہے۔
اس کی وجہ یہ ہے کہ اگر لقا ہے تو آخرت کے وعدے پر اور اگر رضا ہے تو اس کا کمال بھی آخرت پر موقوف ہے اس لیے کہ دنیا اللہ تعالیٰ کی مبغوض ہے اور آخرت اس کی مرضی و پسندیدہ،مبغوض کو مرضی (پسندیدہ) کے ساتھ کسی چیز میں برابر نہیں کر سکتے ہیں کیونکہ مبغوض قابل اعراض ہے جبکہ مرضی لائق اقبال و توجہ،مرضی سے اعراض کرنا عین کفر ہے اور اللہ تعالیٰ کے مدعو و مرضیٰ کے خلاف،اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:‘‘واللہ یدعو الیٰ دار السلام’’
خیال رہے کہ جن بزرگوں نے ترک آخرت کے لیے فرمایا ہے ان کے سب ارشادات مقام ولایت سے ناشی ہیں اس کی قدرے تفصیل دیکھنا ہو تو مکتوب ۳۰۲ دفتر اول ملاحظہ کیجیے،نیز دھیان رہے کہ توسط احوال میں مقام فنا میں دنیا و آخرت کا نسیان میسر آتا ہے اور آخرت کی گرفتاری کو دنیا کی طرح جانتا ہے لیکن جب سالک بقا سے مشرف ہوتا ہے اور کام انجام پذیر ہوتا ہے اور کمالات نبوت اپنا پرتو دالتے ہیں اس وقت سب درد آخرت ہوتا ہے۔
کمالات نبوت تک پہنچانے والے راستے:
کمالات نبوت تک پہنچانے والے راستے دو ہیں ایک یہ کہ مقام ولایت کے تمام کمالات بالتفصیل طے کیے جائیں،یہ راستہ تجلیات ظلیہ اور معارف سکریہ جو کہ مرتبۂ ولایت کے مناسب ہے کے حصول سے وابستہ ہے ان کمالات کو طے کرنے اور ان تجلیات کو حاصل کرنے کے بعد کمالات نبوت میں قدم رکھنا میسر آتا ہے اس مقام میں اصل کے ساتھ وصول میسر آتا ہے اور ظلیت کی طرف التفات گناہ شمار ہو تی ہے۔
دوسری راہ وہ ہے کہ ان کمالات ولایت کے واسطے کے بغیر کمالات نبوت تک وصول میسر آجائے یہ دوسرا راستہ شاہراہ کی حیثیت رکھتا ہے اور وصول میں اقرب ہے عام طور پر جو لوگ کمالات نبوت تک پہنچے ہیں وہ اسی راہ سے واصل ہوئے ہیں خواہ انبیاء کرام ہوں یا ان کی تبعیت و وراثت میں ان کے اصحاب کرام۔
پہلا راستہ بہت دور دراز ہے اور حصول کے لحاظ سے دشوار اور وصول کے لحاظ سے متعذر ،ہاں! یہ ہو سکتا ہے کہ کسی شخص کو پہلے راستے سے وصول حاصل ہو اور ولایت و نبوت کے تمام کمالات مفصلہ میسر آجائیں اور ان دونوں مقاموں کے کمالات میں مکمل امتیاز بھی حاصل کر لے اور ہر ایک کے عروج و نزول کو جدا کرلے،جو شخص ان دونوں مقاموں سے اور ان کے کمالات سے واقف ہوگا اس کی نظر میں نبی کی ولایت سے اس کی نبوت بہتر ہو گی۔
فائدہ:
جو شخص دوسری راہ سے مرتبۂ نبوت تک وصول حاصل کرے گا اسے ولایت کے تفصیلی کمالات اگر چہ حاصل نہ ہو سکیں گے لیکن ان کا خلاصہ بوجہِ احسن میسر آجاتا ہے بلکہ کہا جا سکتا ہے کہ اہل ولایت کو کمالات ولایت سے چھلکا حاصل ہوا اور اس (اس کمالات نبوت کے) واصل نے مغز حاصل کیا،ہاں! بعض علوم سکریہ اور ظہورات ظلیہ جو کہ ارباب ولایت کو حاصل ہو تے ہیں یہ واصل ان علوم وظہورات سے قلیل النصیب ہوتا ہے لیکن یہ چیز ارباب ولایت کے لیے اس واصل پر فضیلت کا سبب نہیں بن سکتی ہے بلکہ وہ واصل ان علوم و ظہورات سے قلیل النصیب ہوتا ہے لیکن یہ چیز ارباب ولایت کے لیے اس واصل پر فضیلت کا سبب نہیں بن سکتی ہے بلکہ وہ واصل ان علوم و ظہورات سے شرح کرتا ہے وہ ایسی جگہ پر ہوتا ہے کہ
ایسے علوم و ظہورات کو گناہ اور بے ادبی تصور کرتا ہے
کیونکہ جو اصل سے واصل ہو گا وہ اس اصل کے ظلال سے ہمیشہ گریزاں اور متنفر ہوگا،ظلال کے ساتھ گرفتاری اسی وقت تک ہے جب تک اصل سے وصول نہ ہو جب اصل سے وصول ہو گیا تو ظل بے فائدہ ہے اور ظل کی طرف توجہ بے ادبی۔