مواد پر جائیں

باب ۸ از ۸صفحات ۸۲–۱۱۲

۱۔ تلاوت قرآن

اسی صفت کی جو بزرگوں نے تحریرکی۔ ان میں ایک یہ ہے کہ تدبر کے ساتھ ہو۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اس عبادت میں کوئی خیر نہیں جو سمجھ کے ساتھ نہ

..................

۔ کفایۃ الاتقیاء ص:۴۷

ہو نہ اور اس قرأت میں کوئی بھلائی نہیں جس میں تدبر نہ ہو۔ ؂

دوسرا ادب یہ بھی ملحوظ رکھے کہ دوران تلاوت اعضاء کو عبث کاموں سے بچائے، نیز طہارت کے ساتھ ہو، قبلہ رخ بیٹھا ہو، بہترین پاکیزہ کپڑے پہنے ہو، عمامہ باندھے، نفسانی خیالات سے خود کو پاک رکھے، خشوع کے ساتھ گویا یہ اللہ تعالیٰ سے پڑھ رہا ہے، اللہ اسے دیکھ رہا ہے اور اس سے سن رہا ہے یا گویا اللہ تعالیٰ اس سے کلام کر رہا ہے اور اپنے انعام و احسان سے مخاطب کر رہا ہے۔ مشائخ فرماتے ہیں تلاوت سے انشراح قلب حاصل ہوتا اور باطن منور ہوتا اور خشیت و خوف میسر آتا ہے۔ جب کہ آداب مذکورہ کی رعایت کے ساتھ تلاوت ہو۔

حضرت وہب بن ورد فرماتے ہیں کہ ہم نے ان احادیث و مواعظ میں نظر کی تو ہم نے دلوں کو سب سے زیادہ نرم کرنے والا اور غم کو کھینچنے والا تدبرکے ساتھ تلاوت قرآن کوپایا۔ ؂

بھوک کی فضیلت:

اخلاء البطن (خالی پیٹ رہنا)بہت پیاری خصلت ہے اور یہ بھی امر اض قلبیہ کی دواؤں سے ہے اس لیے کہ اس میں قلب کی راحت ہے کہ اسے سرکشی اور اترانے سے باز رکھتی ہے عبادت کے لیے بدن کو ہلکا کرتی ہے نیز امراض کو دفع کرتی ہے جب کہ پیٹ بھرنے میں اس کے خلاف صفات پیدا ہوتی ہیں، بھوک اختیار کرنے کے سلسلے میں کافی احادیث مبارکہ آئی ہیں جن کو امام سیوطی قدس سرہٗ نے ‘لباب الحدیث’ میں ذکر کیا، اسی سے چند یہ ہیں: (۱)‘‘سید العمل الجوع’’ عمل کا سردار بھوک ہے۔ (۲) ‘‘الجوع مخُّ العبادۃ’’ بھوک عبادت کا مغز ہے۔ (۳) ‘‘احیواقلو بکم بقلۃ الضحک و قلۃ الشبع و طہروہابا لجوع تصفووترق’’ کم ہنس کر اور کم کھا کر اپنے دلوں کو زندہ کرو اور بھوک کے ذریعہ انھیں پاک کرو کہ وہ صاف ہوں اور نرم ہوں (۴) ‘‘أقربکم منی یوم القیامۃ اکثرکم جو عاو تفکرا’’ قیامت کے دن تم میں سب سے میرے

......................

۔ کفایۃ الاتقیاء ص:۴۹

۔ کفایۃ الاتقیاء ص:۵۰

قریب زیادہ وہ ہوگا جو سب سے زیادہ بھوک اور فکر والا ہے (۵) ‘‘من کثر طعامہ کثر عذابہ’’ جس کا کھانا زیادہ عذاب زیادہ (۶) ‘‘لا صحۃ مع کثرۃ النوم ولا صحۃ مع کثرۃ الاکل ولا شفاء بحرام’’ زیادہ نیند کے ساتھ صحت نہیں نہ زیادہ کھانے کے ساتھ اور نہ حرام میں شفا ہے۔ (۷) ‘‘ثلاثہ تورثُ قسوۃ القلب حب النوم و حب الراحۃ و حب الاکل’’ تین چیزیں دل کو سخت کرتی ہیں نیند سے محبت، راحت سے محبت اور کھانے سے محبت۔ (۸) ‘‘من شبع فی الدنیا جاع یوم القیامۃ ومن جاع فی الدنیا شبع یوم القیامۃ’’ جس نے دنیا میں پیٹ بھرا وہ قیامت کے دن بھوکا ہوگا اور جو دنیا میں بھوکا رہا وہ قیامت کے دن پیٹ بھرے گا۔ ؂

پیٹ بھر کھانا ظاہر و باطن جسم و جان اور قلب و قالب سب کے لیے مضر ہے بزرگوں نے اس کی بہت قباحتیں تجربات کی روشنی میں بھی بیان کی ہیں مذکورہ بالا مرویات سے بہت عبرت حاصل کی جاسکتی ہے۔ علم روحانیت کے انحطاط و فقدان میں زیادہ کھانے کو بھی بہت زیادہ دخل ہے بلکہ اکثریت جو محروم ہوئی وہ اسی وجہ سے ہے۔ آج کھانوں میں تکلفات نے حرام و حلال کی پرواہ کیے بغیر روحانیت و نور باطن کو ختم کرڈالا ،عام تو عام خاص لوگ اور بھی زیادہ لذائذ کے شوقین ہوتے جارہے ہیں، پیٹ بھرا ہے مگر پھر بھی کھاتے رہتے ہیں اسی طرح ہر وقت کچھ نہ کچھ منہ میں پان مسالہ وغیرہ ڈالے رکھتے ہیں۔ اس تنعم و تعیش نے لوگوں کو برکات رحمانی سے محروم کردیا اور نعمت سلوک و تصوف ختم ہو گئی۔

۳۔ قیام اللیل:

امراض قلب کی دواؤں میں تیسری دوا قیام اللیل ہے قیام اللیل سے مرادرات میں عبادت کرنا ہے خواہ نماز کے ذریعہ یا کسی اور فعل کے ذریعہ۔

حضرت الحبیب عبد اللہ حداد قدس سرہٗ نے نصائح میں فرمایا کہ نفس پر سب سے بھاری چیز قیام لیل ہے خاص کر سونے کے بعد اٹھنا ہاں! جب بندہ اس کی عادت بنا لیتا ہے ، مداومت

>>>>>>>>>>

۔ کفایۃ الاتقیاء ص:۵۰

اور پابندی کرتاہے نیزمشقت پر صبر اور آغاز میں مجاہدے سے کام لیتا ہے تو اس کے بعد پھر اللہ تعالیٰ کے ساتھ، انس، حلاوت، مناجات اور اس کے ساتھ لذت خلوت کا دروازہ کھل جاتا ہے۔ اس منزل پر پہنچ کر قیام لیل سے بندہ کا پیٹ ہی نہیں بھرتا کجا یہ کہ قیام لیل گراں گذرے یا اس سے کاہلی کرے۔ جیسا کہ صالحین کے لیے ایسا واقع ہوا۔ ایک بزرگ فرماتے ہیں: اگر اہل جنت اسی طرح ہو جائیں جس طرح ہم قیام لیل میں ہیں تو وہ ضرور پاکیزہ عیش میں ہوں گے۔’’

ایک دوسرے بزرگ فرماتے ہیں: چالیس سال سے مجھے غمگین نہیں کیا مگر فجر کے طلوع نے۔’’

ایک تیسرے بزرگ فرماتے ہیں: قیام لیل والے اپنی لیل میں زیادہ لذت والے ہیں اہل لہو سے جو لہو میں ہیں۔’’

ایک چوتھے بزرگ فرماتے ہیں: اگر قیام لیل اور اللہ کی خاطر بھائیوں سے ملاقات نہ ہوتی تو میں دنیا میں باقی رہنا پسند نہ کرتا۔’’

مشائخ فرماتے ہیں: انسان کو کچھ نہ کچھ دیر قیام لیل ضرور کرنا چاہیے زیادہ نہیں تو تھوڑا ہی سہی۔ اسلاف میں سے ایک جماعت نے عشاء کے وضو سے فجر پڑھی نیز فرماتے ہیں کہ کیا ہی بہتر ہے کہ انسان تھوڑا تھوڑا قرآن روز قیام لیل میں پڑھے تاکہ قیام لیل میں ختم قرآن کی نعمت نصیب ہو خواہ ایک ماہ میں یا چالیس دن میں یا اس سے کم اور زیادہ میں۔ ؂

۴۔ تضرع فی السحر:

بوقت سحر بارگاہ خداوندی میں ندامت کے آنسو بہانا، اس کی محبت میں رونا اور آہ و فغاں کرنا امراض قلب کی زبردست دوا ہے کیوں کہ یہ مناجات الہٰی کا وقت ہے اور اس میں دعا قبولیت کے زیادہ قریب ہے۔ حدیث شریف میں ہے۔ رب تعالیٰ ہر رات آسمان دنیا پر نزول فرماتا ہے جب کہ رات کا آخری تہائی حصہ بچ رہتا ہے اللہ عزو جل فرماتا ہے: من یدعونی فاستجیب لہ؟

.........................

۔ کفایۃ الاتقیاء ص:۵۰

من یسأ لنی فاعطیہ؟ من یستغفرنی فاغفر لہ؟ کون ہے جو دعا مانگے کہ میں اس کی دعا قبول کروں؟ کون ہے جو مجھ سے سوال کرے کہ میں اسے عطا کروں؟ کون ہے جو مجھ سے مغفرت طلب کرے کہ میں اسے بخش دوں۔ معلوم رہے کہ یہ تصرع فی السحر بھی قیام اللیل ہی کا ایک حصہ ہے کیوں کہ یہ بقیہ اجزاء لیل سے اشرف ہے نیز اس میں عبادت نفس پر زیادہ گراں اور نفس کو اس میں صفا زیادہ حاصل ہوتی ہے اس لیے اسے علیحٰدہ ذکر کیا۔؂

۵۔ مجالست صالحین:

صالح حضرات اور نیکوں کے ساتھ بیٹھنا اور ان سے فوائد صحبت حاصل کرنا بڑی دواء ہے اس لیے کہ اس طرح کی مجالست کا فیضان یہ ہوتا ہے کہ اقوال و افعال و احوال میں ان بزرگوں کی اقتداء اورپیروی کرتا ہے پھر رفتہ رفتہ چاہتا ہے کہ ہم انھیں جیسے ہو جائیں اور بھلے کاموں میں ان سے کم نہ رہیں۔ معلوم رہے صالح بندہ وہ ہے جو حقوق الہٰی بھی ادا کرے اور حقوق العباد بھی جب ان کی صحبت میں بندہ بیٹھے گا تو ضرور اس میں صلاح اترے گی۔ ؂

اوصاف حمیدہ:

اللہ تعالیٰ تمام اوصاف حمیدہ و کمالات محمودہ کا جامع ہے وہ جس بندے کو جتنا چاہتا ہے اپنے قریب کرتا ہے اور اپنی صفات کا مظہر اور آئینہ بناتا ہے۔ بزرگوں کی اصطلاح میں اسی کو ‘‘تخلق باخلاق اللہ’’ یعنی اللہ تعالیٰ کے اخلاق و عادات سے آراستہ ہونا ہے۔ یہ بڑا کمال ، نعمت عظمیٰ اور منتہاے سلوک ہے، تزکیہ و تصفیہ کا خاص مقصد ا سی منزل کو حاصل کرنا ہے۔ مخلوق میں کمالات و اوصاف الہٰیہ کے سب سے بڑے مظہر اور جامع حضور جان ایمان، روح اسلامﷺ ہیں۔ آپ ﷺ نے اپنے تصرف و تاثیر سے صحابہ کرام علیہم الرضوان میں اخلاق و اوصاف حمیدہ پیدا کیے انھوں نے تابعین میں، اسی طرح یہ سلسلہ چلتا رہا۔ خیر القرون کے بعد تبدیلی

...................

۔ کفایۃ الاتقیاء ص:۵۰،۵۱

۔ کفایۃ الاتقیاء ص:۵۱

اوصاف و اخلاق میں سب سے زیادہ دخل صوفیہ و اولیا علیہم الرضوان کی تاثیر و صحبت کو رہا۔ قرآن و سنت کا گہرائی سے مطالعہ کرنے والوں پر عیاں ہے کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولﷺ سب سے زیادہ تاکید اسی کی فرماتے ہیں کہ بندے اچھے اور اعلیٰ اوصاف و اخلاق کے مالک ہوں۔ اور عبادات کے مقابل یہ تبدیلی اوصاف کٹھن اور دشوار چیز ہے۔ بزرگوں نے اس کے لیے بڑا حکیمانہ طریقہ وضع کیا جسے تصوف و سلوک کہا جاتا ہے اور جتنے بھی اللہ والے بعد کی صدیوں میں اعلیٰ اخلاق کے مالک ہوئے ہیں وہ انھیں طریقوں پر چل کر اور فیضان صحبت سے ہوئے اور آج یہی مفقود ہے جس کا نتیجہ آپ دیکھ رہے ہیں کہ آج انسان کا معیار کس قدر گر چکا ہے اور اس نے (اپنے آپ کو) کس گڈھے میں ڈال دیا ہے ۔ حیوانیت اور ظلم و ستم، بغض و حسد، حب دنیا وغیرہ اور اتباع شہوات وغیرہ کے اثرات بد سے دنیا پریشان ہے اور اوصاف انسانیت سے آراستہ اور اخلاق حسنہ سے پیراستہ انسانوں کو آنکھیں تلاش کرتے کرتے تھک چکی ہیں۔

ہم چند اوصاف حمیدہ سپرد قلم کرتے ہیں جن کی اللہ والوں نے وصیت کی ہے۔ زہد و غیرہ جن کو نو وصیتوں کے تحت بیان کیا گیا سب اخلاق حمیدہ میں آتے ہیں، اسی طرح دنیا کی پرواہ نہ کرنا نیز اہل دنیا سے بھی بے پرواہ رہنا جیسا کہ گذر چکا اس کے علاوہ مکارم اخلاق میں سخاوت اور جود ہے۔ جمیع امور میں اللہ تعالیٰ پر توکل و اعتماد، اللہ تعالیٰ کے ساتھ حسن ظن، خوف، رجا، معاملہ انصاف، مجادلہ میں رفق و نرمی، احکام میں عدل، خلوت وجلوت میں احسان، تنگی میں ایثار، تکلیفوں کو برداشت کرنا، خوشروی، خندہ پیشانی اور طلاقت وجہ کے ساتھ لوگوں سے ملنا، حلم و بردباری ، صبر و شکر، گھٹیا پیشوں سے دوری، طمانیت و وقار، ورع، خشوع، اللہ اور اس کے رسولﷺ اور علماے عارفین کے لیے تواضع و انکساری۔ ؂

مکارم اخلاق اور اچھی عادتوں سے یہ بھی ہے کہ مونچھیں پست رکھی جائیں، ڈاڑھی مبارک کو اچھا بنا کر رکھے، ناخن کتروالے اسی طرح بغل، زیر ناف وغیرہ منڈوائے اور سب کو سنت کے

....................

۔ کفایۃ الاتقیاء ص:۵۱

مطابق و موافق رکھے، جسم سے بدبو دور رکھنا، بدن اور کپڑوں کو میل کچیل سے صاف رکھنا، ناپسند کپڑے نہ پہننا، ہنسی اور مذاق سے دور رہنا اسی طرح ، عجب، حسد، ریا سے سخت اجتناب، تحقیر و تذلیل سے کوسوں دور رہنا وغیرہ وغیرہ۔ ؂

علماے اعلام اور مشائخ عظام رحمہم اللہ تعالیٰ نے بہت زور دیا ہے کہ علما و مشائخ اور حفاظ و قراء اہل دین ان امور پر خصوصی دھیان دیں اور خود کو مکارم اخلاق سے آراستہ کریں، خیال رہے کہ قرآن و سنت سے اخلاق حسنہ و اخلاق سیۂ کی طویل فہرست مرتب کی جاسکتی ہے۔ ہم نے کفایۃ الاتقیاء وغیرہ سے یہ چند نقل کردیے۔ ان اچھے اور برے اخلاق سے ہم کتاب ‘تصوف اور اس کے فوائد’ میں تفصیل سے آگاہ کر چکے ہیں۔

ربنا تقل منا إنک انت السمیع العلیم

وما علینا الا البلاغ

آفاق احمد مجددی

۲۷؍ رمضان المبارک ۱۴۳۶ھ مطابق۱۵ ؍جولائی ۲۰۱۵ء بروز چہار شنبہ بوقت ظہر

......................

۔ ملخص از کفایۃ الاتقیاء ص:۵۱تا۵۴

قصیدۃ

ھدایۃ الأذکیاء إلیٰ طریق الأولیاء

للشیخ زین الدین ملیباری

ترجمہ

سید نور عالم مصباحی

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

یہ نظم شیخ زین الدین بن علی بن احمد الشافعی ملیباری کی ہے۔ موصوف ملیبار (Malyabar) کیرلا، ہند کے کوچن (Coachin) نامی شہر میں۱۲؍شعبان ۸۷۱ یا ۸۷۲ھ میں پیدا ہوئے۔ ابھی آپ صغیر السن ہی تھے کہ آپ کے چچاقاضی زین الدین بن احمد پونانی (Ponanat) لے گئے جہاں زندگی کی ۶۵ یا ۶۶؍ بہاریں گزار کر ۱۶؍ شعبان المعظم شب جمعہ ۹۲۸ھ مطابق ۱۵۲۱ء میں جان شیریں جاں آفریں کے حوالے کر دیا۔

تصانیف:

تحفۃ الأحباء، ارشادالقاصدین فی اختصار منھاج العابدین،علامہ سید نور الدین ایجی کی فارسی زبان میں مختصر شعب الایمان کا عربی ترجمہ وغیرہ۔

اسباب نظم:

شیخ زین الدین کو فقہ اور تصوف میں سے کسی ایک کی تحصیل میں بڑا تردد تھا کہ ۲۴؍ شعبان ۹۱۴ھ کو منگل کی شب خواب دیکھتے ہیں کہ ایک کہنے والا کہہ رہا ہے کہ تصوف کی تحصیل زیادہ مناسب ہے؛ اس لیے کہ بہتے ہوئے دریا میں اگرکوئی اس پار سے اس پار جانا چاہے تو اسے پانی کا رخ دیکھ کر جانب بالا میں تیرنا چاہیے؛ اس لیے کہ اگر صرف چوڑائی (عرض) میں تیرے گاتو منزل مقصود تک پہنچنا تو در کنار مزید دور ہو جائے گا۔

اس خواب سے موصوف نے یہ اشارہ لیا کہ علم تصوف ہی سے منزل حقیقی تک رسائی مل سکتی ہے۔ پھر درج ذیل اشعار نظم کرنا شروع کیا۔ یہ کل ایک سو اٹھاسی (۱۸۸) اشعار ہیں جو بحرِ کامل (متفاعلن) میں نظم کیے گئے ہیں جن کے ارکان چھ ہیں یعنی بحر کامل مسدس۔ ؂

......................

۔ سلالم الفضلاء، حاشیہ کفایۃ الاتقیاء، ص:۴ از: محمد نووی الجاوی

۔ صور التشبیہ فی کتاب ‘‘ھدایۃ الاذکیاء’’ ص: ۱۱

ترجمۃ أشعارہ

حمداً یوافی برہ المتکاملا

الحمد للہ الموافق للعلا۱

حمد ہے اللہ کی جو بلند درجات کی توفیق دینے والا ہے، ایسی حمد جو اس کی کامل عطیات کے مطابق ہو۔

و الآل مع صحب و تباع ولا

ثم الصلاۃ علی الرسول المصطفیٰ۲

اور درود نازل ہو رسول اکرم مصطفیٰ جانِ رحمتﷺ پر، آپ کے آل و اصحاب اور قیامت تک کے متبعین پر۔

و تباع اھوی رأس شر خبائلا

تقوی الإلٰہ مدار کل سعادۃ۳

تقویٰ ہی ہر سعادت کا دار و مدار ہے جب کہ خواہشات کی پیروی تمام شرور و قبائح کی جڑ ہے۔

و حقیقیۃ فاسمع لھا ما مثّلا

إن الطریق شریعۃ و طریقۃ۴

اللہ تک پہنچنے کے تین راستے ہیں: (۱) شریعت (۲) طریقت اور (۳) حقیقت جنھیں ذیل کی مثالوں سے سمجھیں:

کالبحر ثم حقیقۃ درّ غلا

فشریعۃ کسفینۃ و طریقۃ۵

شریعت کشتی ہے، طریقت سمندر ہے جب کہ حقیقت در نایاب ہے۔

(یعنی جسے اپنے دامن کو گوہر مراد سے بھرنا ہے اس کے لیے پہلے کشتی پر سوار ہونا پھر سمندر میں غواصی ناگزیر ہے۔ پتا چلا کہ حقیقت تک پہنچنے کے لیے شریعت و طریقت کا پابند ہونا ضروری ہے)

و قیامہ بالأمر و النھی أنجلا

فشریعۃ أخذ بدین الخالق۶

شریعت دین کو مان کر اس کے اوامر و نواہی کو بجا لانے کا نام ہے (یعنی استقامت کا) جب کہ

و عزیمۃ کریاضۃ متبتلا

و طریقۃ أخذ بأحوط کالورع۷

طریقت احوط اختیار کرنے اور عزیمت پر عمل کرنے کو کہتے ہیں ۔

پہلے کی مثال جیسے ورع اختیار کرنا یعنی شبہات سے بچنا۔ دوسرے کی مثال جیسے سارے جہان سے کٹ کر صرف اللہ کے لیے ریاضت و مجاہدہ کرنا۔

و مشاھد نور التجلّی بأنجلی

و حقیقۃ لوصولہ للمقصد۸

حقیقت میں شریعت و طریقت کا سالک منزل مقصود تک پہنچ جاتا ہے اور نورِ تجلی کا کاملاًمشاہدہ کرتا ہے۔

و یغوص بحرا ثم درّا حصّلا

من رام درّ السفینۃ یرکب۹

گوہر کا تمنائی پہلے کشتی میں سوار ہوتا ہے پھر دریا میں غواصی کرتا ہے تب جاکر اسے گوہر حاصل ہوتا ہے۔

من غیر فعل شریعۃ لن تحصلا

و کذا الطریقۃ و الحقیقۃ یا أخی۱۰

برادرم! یہی حال طریقت و حقیقت کا ہےکہ شریعت کے بغیر ان کا حصول محال ہے۔

بشریعۃ لینور قلب مجتلا

فعلیہ تزیین لظاھرہ الجلی۱۱

لطریقۃ فی قلبہ أن تنزلا

و تزول عنہ ظلمۃ کی یمکنا۱۲

لہٰذا سالک کے لیے ضروری ہے کہ سب سے پہلے وہ اپنے ظاہر کو شریعت سے مزین کرے تاکہ اس کے دل سے تاریکیاں دور ہو کردل منور و مجلیٰ ہو اور پھر اس کے دل میں طریقت جلوہ گر ہو۔

یختارہ فیکون من ذا واصلا

و لکل واحدھم طریق من طرق۱۳

و ککثرۃ الأوراد کالصوم الصلا

کجلوسہ بین الأنام مربّیا۱۴

لتصدّق بمحصل متموّلا

و کخدمۃ للناس و الحمل الحطب۱۵

اللہ تک واصل ہونے کے مشائخ کے الگ الگ راستے ہیں۔ کوئی مخلوق کی تربیت کے لیے نششت گاہ لگاتا ہے، کوئی ذکر و اذکار اور صوم و صلاۃ کی کثرت کرتا ہے تو کوئی خدمت خلق کرنے کے لیے جنگل سے لکڑیاں کاٹتا ہے اور انھیں بیچ کر روپیہ صدقہ کر دیتا ہے۔

فلیحفظن ھذی الوصایا عاملا

من رام ان یسلک طریق الأولیاء۱۶

اولیاے کرا م کے نقش قدم پر چلنے کے تمنائیوں کو ذیل کی وصیتوں کو اپنے لیے دستور العمل بنا لینا چاہیے۔ (اب ناظم نو وصیتیں بیان کر رہے ہیں)

و یعزم ترک الذنب فیما استقبلا

أطلب متابا بالندامۃ مقلعا۱۷

و ھٰذہ الارکان فارع و کمّلا

و براءۃ من کلّ حق الا دمی۱۸

(پہلی وصیت) سچی توبہ کریں وہ اس طرح کہ (۱) ماضی کے گناہوں پر سچے دل سے نادم ہوں (۲) حال میں اگر کر رہے ہوں تو کلی طور پر رک جائیں (۳) آئندہ نہ کرنے کا پختہ عزم کریں (۴) اور جس کسی کا بھی حق چھینا ہے اسے واپس کریں۔ یہ چاروں توبہ کے ارکان ہیں لہٰذا ان پرمکمل طور سے جمے رہنا چاہیے۔

تنھاک تقصیرا جری و تساھلا

و قہ دواما بالمحاسبۃ التی۱۹

اور ہمیشہ توبہ کی حفاظت کرتے رہیں محاسبہ کے ذریعہ یعنی جو تقصیرات ہوئی ہیں ان پر نفس کا محاسبہ کریں تاکہ آئندہ نہ ہونے پائیں۔

ـأعضا جمیعا فاجھدن لا تکسلا

و بحفظ عین و اللسان و سائر ال۲۰

آنکھ، زبان اور تمام اعضا پر کڑی نظر رکھیں اور ذرہ بھر بھی سستی روا نہ رکھیں۔

و أساس کلّ الخیر أجمع أشملا

فالتوب مفتاح کل عبادۃ۲۱

توبہ ہر عبادت کی کنجی اور ہر چیز کی اساس ہے۔ لہٰذا

فی مجلس فتدارکنّ مھرولا

فإن ابتلیت بغفلۃ أو صحبۃ۲۲

اگر غفلت یا برے ہم نشیں کی وجہ سے گناہوں میں پڑ جائیں تو فوراً اس کا تدارک کر ڈالیں۔

من مطعم و ملابس و منازلا

واقنع بترک المشتھی و الفاجر۲۳

(دوسری وصیت) قناعت اختیار کریں وہ اس طرح کہ لذیذ کھانے اور فخریہ مکان و لباس چھوڑ دیں۔

فات الذی یعنیہ من غیر ائتلا

من یطلبن ما لیس یعنیہ فقد۲۴

جو بھی لایعنی (غیر ضروری) چیزوں میں پڑا تو یقیناً اس نے (مایعنی) کام کی چیزوں کو چھوڑ دیا۔

بالمال فقد لہ تک أعقلا

و ازھد و ذا فقد علاقۃ قلبکا۲۵

(تیسری وصیت) زہد اختیار کرو اور زہد کی تعریف یہ ہے کہ دل دنیا اور اسباب دنیا سے بے رغبت ہو جائے؛ لہٰذا اسے اچھی طرح سمجھ لیں۔

و بہ ینال مقام ارباب العلا

والزھد أحسن منصب بعد التقی۲۶

تقویٰ کے بعد زہد سب سے عمدہ منصب ہے، زہد ہی سے اہل کما ل کے مقامات کو پایا جا سکتا ہے۔

این الخلاص کمسکر شرب الطِّلا

و محبّ دنیا قائل این الطریق۲۷

دنیا کا عاشق ایک دن ضرور کہےگا ہاے رب! کہاں جائیں ؟ کیسے چھٹکارا حاصل کریں؟ بالکل ویسے جیسے نشے میں دھت شرابی کہتا ہے۔

فی طاعۃ و اختر عزوبا فاضلا

و اترک من الازواج من ما ساعدت۲۸

جو بیوی طاعت میں مددگار نہ ہو (بے نمازی ہو) اس سے قطع تعلق کر لو اور تنہائی و فرصت کی زندگی اپنا لو۔

غفر لجھل القوم منعک تجھلا

لسلامۃ الدنیا خصال أربع۲۹

و لسیِّب نفسک للاناسی باذلا

و تکون من سیِّب الاناسی آیسا۳۰

دنیا میں سلامتی کے چار راز ہیں؛ (۱) لوگوں کی ایذ رسانی پر صبر کرو(۲) اہل دنیا کو تکلیف نہ دو (۳) ان کی عطیات کی آس نہ لگاؤ (۴) اور انھیں اپنی عطیات دو۔

و عقیدۃ و مزکّی القلب اصقلا

و تعلّمن علما یصحّح طاعۃ۳۱

(چوتھی وصیت) وہ علم ضرور حاصل کرو جس سے (۱) عقیدہ و (۲) عمل کی درستگی ہو اور(۳) قلب مصفیّٰ و مزکیّٰ ہو۔

واعمل بھا تحصل نجاۃ و اعتلا

ھذی الثلاثۃ فرض عین فاعرفن۳۲

مذکورہ تینوں علوم حاصل کرنا فرض عین ہے۔ لہٰذا انھیں حاصل کرکے ان پر عامل ہو جاؤ اخروی نجات مل جائےگی۔

مأثورۃ عن خیر من جا مرسلا

حافظ علیٰ سنن و آداب اتت۳۳

(پانچویں وصیت) سنتوں کی محافظت کرو اور ان آداب کی بھی جوخیر الرسلﷺ سے منقول ہیں۔

و من العوارف فاطلبنہ و عوِّلا

إن التصوّف کلّہ لھو الادب۳۴

اس لیے کہ تصوف پورا کا پورا ادب کا ہی نام ہے۔ لہٰذا آداب کو حضرت شیخ شہاب الدین سہروردی رحمۃ اللہ علیہ کی کتاب ‘عوارف المعارف’ سے اخذ کریں اور اس پر اعتماد کریں۔

إلاّ متابعۃ الرسول المکمّلا

اذ لا دلیل علی الطریق إلی الإلٰہ۳۵

فتتّبعنّ و تابعن لاتعدلا

فی حالہ و فعالہ و مقالہ۳۶

صراط مستقیم کی سچی رہ نمائی صرف رسول اکرمﷺ کے اقوال و افعال اور احوال میں آپﷺ کی کامل پیروی سےحاصل ہوتی ہے۔ لہٰذا احادیث کو تلاشو، ان پر عمل کرو اور ان سے تجاوز نہ کرو۔

بکتاب ربّی و الحدیث تأصّلا

و طریق کلّ مشایخ قد قیِّدت۳۷

مشائخ کرام کے سبھی سلاسل قرآن و سنت سے مقید ہیں۔

ما فیہ تظفر بالسعادۃ و اعملا

طالع ریاض الصّالحین و احکمن۳۸

‘‘ریاض الصالحین’’ کا مطالعہ کریں اور سمجھ کر اس پر عمل کریں نیک بختی قدم چومےگی۔

من ذی العطاء بمثل ذٰلک أکملا

و ا ھتمّ بالفرض الّذی لا یقرب۳۹

فرائض پر بہت زیادہ دھیان دیں اس لیے کہ فرائض سے جو قرب حاصل ہوتا ہے وہ نوافل کے قرب سے بہت اعلیٰ ہے (جب کہ نوافل سے درج ذیل قرب حاصل ہوتا ہےتو پھر فرض کا کیا کہنا)

حتّیٰ أکون لہ یدا و الأرجلا

مازال عبد بالنّوافل یقرب۴۰

ای مثل ذلک فی المطالب ھروَلا

والسمع منہ ثم عینا باصرۃ۴۱

حدیث قدسی میں ہےاللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ بندہ نوافل کے ذریعہ قرب پاتا رہتا ہے یہاں تک کہ میں اس کا ہاتھ، پیر، کان اور آنکھ بن جاتا ہوں۔ (یعنی اللہ تبارک و تعالیٰ محبوب

بندے کی حاجتوں کو ان مذکورہ چار اعضا سے بھی زیادہ سرعت کے ساتھ پورا فرماتا ہے)

ثقۃ بوعد الرّبِّ اکرم مفضّلا

و توکّلن متجرّدا فی رزقک۴۲

(چھٹی وصیت) اگر تو اہل و عیال والا نہیں ہےتو رزق کے سلسلے میں اللہ ہی پر توکل رکھ (یعنی کسب چھوڑ دے) اور اپنے رب کے وعدے:

وَمَا مِنۡ دَآبَّۃٍ فِی الۡاَرْضِ اِلَّا عَلَی اللہِ رِزْقُہَا وَیَعْلَمُ مُسْتَقَرَّہَا وَ مُسْتَوْدَعَہَا کُلٌّ فِیۡ کِتٰبٍ مُّبِیۡنٍ (سورۃ ہود: ۱۱؍۶)

ترجمہ: اور زمین پر چلنے والا کوئی ایسا نہیں جس کا رزق اللہ کے ذمّۂ کرم پر نہ ہو اور جانتا ہے کہ کہاں ٹھہرے گا اور کہاں سپرد ہوگا سب کچھ ایک صاف بیان کرنے والی کتاب میں ہے۔’’ پر بھروسا رکھو اس لیے کہ وہ اکرم و افضل ہے۔

عن مکسب لعیالہ متوکّلا

امّا المعیل فلا یجوز قعودہ۴۳

مگر عیال دار کو یہ اجازت نہیں کہ اہل و عیال کے لیے کمانا چھوڑ دے اور ہاتھ پر ہاتھ دھرے متوکل بنا بیٹھا رہے۔

فی ما لھم أو جاھھم متذلّلا

لا تبذلن للناس عرضک طامعا۴۴

لوگوں کے مال و منصب کی لالچ میں اپنی عزت و وقار کو داو پر نہ لگاؤ۔

الاّ تقرّب من اِلٰھک ذی الکلا

أخلص و ذا ان لا ترید بطاعۃ۴۵

کثنائھم أو نحو ذٰک توصُّلا

لا تقصدن معہ إلیٰ عرض الدّنا۴۶

(ساتویں وصیت) اخلاص پیدا کر وہ اس طرح کہ طاعت و عبادت کا مقصد صرف اور صرف خداے نگہبان کا تقرب مقصود ہو، تقرب کے ساتھ کوئی اور دنیاوی غرض مثلاً دنیا داروں کی تعریف و توصیف اوران کی محبت مقصود نہ ہو۔

و انظر إلیٰ نظر العلیم فتکملا

و احذر ریاء محبطا لعبادۃٍ۴۷

ریا سے بچیں اس لیے کہ ریا سے سبھی کیا دھرا اکارت ہو جاتا ہے اور ہمیشہ دھیان میں رکھیں کہ اللہ جو دلوں کے وسوسے اور خیالات سے بھی واقف ہے وہ دیکھ رہا ہے، اگر یہ کیفیت دوام پا گگئی تو کامل بن جاؤگے۔

لا تبرزنّ لینکروک رذائلا

لا تطھرن فضیلۃ کی تعتقد۴۸

لوگوں کو اپنا معتقد بنانے کے لیے ان کے سامنے اپنی طاعت و عبادت کو ظاہر نہ کرو اور نہ ہی ان سے اپنے پوشیدہ گناہوں کو بیان کرو تاکہ وہ تم سے کترانے لگیں۔

حتّیٰ یریٰ ناسا بإیبل مثِّلا

ایمان مرء لا یکون تکاملا۴۹

لم یخش لومۃ لائم فی ذی العلا

فیکون مدحھم و ذمّھم سوا۵۰

ایمان اس وقت تک کامل نہیں ہوتا ہے جب تک کہ بندے کے اس اعتقاد میں یہ جم نہ جائے کہ اس کے عمل کا لوگوں سے کوئی سرو کار نہیں، بلکہ اس کے عمل کو چاہے لوگ دیکھیں یا اونٹ دیکھیں سب برابر رہے، جب یہ کیفیت پیدا ہو جائےگی تو لوگوں کا اچھا یا برا کہنا برابر ہوگا اور سالک اپنی عبادت میں ملامت کرنے والے کی ملامت کا خوف نہیں رکھےگا۔

للناس ذاک ھو الرّیاء سبھْلُلا

عمل لاجل الناس شرک ترکہ۵۱

لوگوں کو دکھانے کے لیے عمل کرنا شرک ہے، ایسے ہی لوگوں کی وجہ سے ترک کر دینا ریا ہے اور ایسا شخص بڑا لا پرواہ ہے۔

إن کنت تطلب عند ناس منزلا

لا تطلبن عند المھیمن منزلۃ۵۲

اگر تجھے لوگوں سے قدر و منزلت کی آس ہے تو پھر اللہ تبارک و تعالیٰ سے منزلت کی آس چھوڑ دے۔

و تساھل فی الدین ذاک ھو البلا

لا تصحبن من کان اھل بطالۃ۵۳

(آٹھویں وصیت) اے طالب آخرت! بدعملوں اور دین میں نرمی برتنے والوں کی صحبت سے دور رہ اس لیے کہ ان کی صحبت بلا ہے۔

أو خاف من فتن بدین مبتلی

و العزلۃ الاولیٰ إذا فسد الزمن۵۴

أو فی حرام أو لذالک مماثلا

و کذا إذا خاف الوقوع بشبھۃ۵۵

فساد زمانہ، دین میں فتنہ پڑنے کے اندیشے کے وقت اور جب یہ خوف ہو کہ حرام یا شبہہ میں

میں گرفتار ہوگا تو تیرے لیے عزلت یعنی گوشہ نشینی بہتر ہے۔

و جماعۃ أو نحو ذلک فضِّلا

و الإختلاط بنا سیا فی جمعھم۵۶

و عن المناکر قد نھی متحمِّلا

ھٰذا لمن بالعرف یقدر یأمرا۵۷

فی ظنہ عصیانہ بمحافلا

صبرا علیٰ کل الأذیٰ لا یغلب۵۸

جمعہ، جماعت وغیرہ (عیادت و جنازہ) میں شرکت کے لیے لوگوں سے اختلاط رکھنا گوشہ نشینی سے افضل ہے۔ یہ افضلیت ان لوگوں کے لیے ہے جو امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا فریضہ ادا کر سکتے ہیں اور اس سلسلے میں جو مصائب و آلام آئیں انھیں برداشت کر سکتے ہوں اور انھیں ظن غالب ہو کہ عوام الناس کی محفلوں میں ارتکاب معصیت نہیں کریں گے۔

ـفضلاء عزلۃ ذا الزمان مفضلا

لٰکن یقول البعض من متأخر ال۵۹

عن حوبۃ فانظر لنفسک عاقلا

إذ نادر حقا خلوّ محافلا۶۰

أو نحو ذٰلک بإختلاطک حصلا

کل المعاصی کالرّیاء و کغیبۃ۶۱

لیکن بعض متأخرین فضلا، (سفیان ثوری، ابراھیم بن ادھم وغیرھما رحمہما اللہ ) نے فرمایا ہے کہ اس زمانے میں عزلت ہی افضل ہے اس لیے کہ عوام الناس کی محفلوں میں بیٹھیں اور گناہ نہ ہو ایسا شاذ و نادر ہی ہوتا ہے جب کہ اگر اپنے گریبان میں جھانک کر دیکھیں تو پتا چلےگا کہ ریا اور غیبت وغیرہ جیسے گناہ کا ارتکاب عوام الناس کی محفلوں میں ضرور ہوتا ہے۔

لا تترکن وقتا سدی متساھلا

و اصرف إلی الطاعات وقتک کلّہ۶۲

(نویں وصیت) (حفظ الاوقات)اپنے تمام اوقات طاعت و عبادت میں اور کوئی بھی وقت ضائع نہ کرو۔

مصروفۃ فی الخیر فاصح بلا ائتلا

و تصیر أوقات المباح بنیۃ۶۳

مباح اوقات میں اگر یہ نیت کر لی جائے کہ اسے نیک کاموں میں خرچ کریں گے تو وہ بھی طاعت میں شمار ہوتے ہیں۔ لہٰذا جاننے کے بعد اب ہوشیار رہنااور اچھی نیتیں کرتے رہنا۔

کلا بما ھو لائق متبتّلا

وزع بعون اللہ وقتک و اصرفن۶۴

اللہ کی مدد سے اپنے اوقات الگ الگ حصوں میں بانٹ لو اور ہر حصے کے لیے مناسب اوراد و وظائف مقرر کر کے اللہ سے لو لگا لو۔

متدبّرا القراءۃ و مکمّلا

فإذا بدا فجر فصلّ تخشّعا۶۵

جب فجر کا وقت ہو تو خشوع و خضوع اور فرائض و آداب کے ساتھ فجر ادا کرو اس طرح کہ تلاوت تدبر کے ساتھ ہو۔

جھدا بلیغا کی تنال فضائلا

و اجھد لتحضر فی صلاتک قلبک۶۶

پوری کوشش ہو کہ نماز میں دل حاضر رہے تاکہ نماز کی فضیلتیں ملیں۔

و حضورہ و شھودہ لک فإیجلا

لا تنس أن اللہ ناظر قلبک۶۷

یہ مت بھولو کہ تمھارا رب تمھارے دل کو دیکھ رہا ہے، بلکہ وہ تمھارے پاس ہے اور تمھیں دیکھ رہا ہے اس لیے تم اس بات سے ڈرو کہ رب کے سامنے ہوکر بھی تمھارا دل کہیں اور ہو۔

بالسبع و العشرین من فضل علا

لا تترکن¬ّ جماعۃ قد فضّلت۶۸

فی مثل ھٰذا الرّبح أخسر أجھلا

و لم التعلّم أن تکن تتساھلا۶۹

ہرگز ہرگز جماعت ترک نہ کرو؛ اس لیے کہ جماعت سے ادا کی گئی نماز تنہا نماز سے ۲۷؍ درجہ افضل ہے۔ اب یہ فائدہ معلوم ہونے کے بعد بھی اگر آپ نادانی کریں اور گھاٹے میں رہیں (جماعت چھوڑ کر) تو پھر علم حاصل ہی کیوں کرتے ہیں؟

مستقبلا و مراقبا و مھلّلا

ثمّ اشتغل بالورد لا تتکلّمن۷۰

لتریٰ بھا نارا و نورا حاصلا

بطریقۃ معھودۃ لمشایخ۷۱

و یصیر مذموم الطبائع زائلا

فیضیء وجہ القلب بالنّور الجلی۷۲

ھی نعمۃ عظمیٰ فصر متأھلا

فتصیر أھلا للمشاھدۃ التی۷۳

نماز فجر کے بعد کسی سے بات چیت نہ کریں، قبلہ رو ہو جائیں اور اپنے اپنے مشائخ کے مطابق ذکر و مراقبہ میں مصروف ہو جائیں۔ ایسا کرتے رہنے سے ایسا نور حاصل ہوگا جس سے قلب جگمگا اٹھے گا اور ایسی آگ ملےگی جو بری خصلتوں کو جلا کر خاکستر کر دےگی (یعنی تصفیہ و تزکیہ کی دولت مل جائےگی) تصفیہ و تزکیہ کے بعد آپ تجلیات حق کا مشاہدہ کرنے ل

لگیں گے جو کہ بہت عظیم نعمت ہے۔ لہٰذایہ نعمت عظمیٰ حاصل کرنے کے لیے کمرِ ہمت کس لیں۔

صلّی الإشراق و قرآنا تلا

حتّیٰ إذا شمس بدت کرمیحنا۷۴

و حضور قلب خاشعا و مرتلا

حزبا فأکثر باتّعاظ مع أدب۷۵

پھر جب سورج ایک نیزہ بلند ہو جائے (یعنی ۲۰؍منٹ ہوجائیں) تو نماز اشراق پڑھیں اور عادت کے مطابق بتدبر ، حضورِ قلب اور خشوع و خضوع کے ساتھ قرآن پاک کی تلاوت کریں۔

بتدبّر المعنیٰ و للبطن الخلا

و دواء قلب خمسۃ فتلاوۃ۷۶

و مجالسات الصالحین الفضلا

و قیام لیل و التضرّع بالسحر۷۷

دل کا علاج پانچ چیزیں ہیں: (۱) غور و فکر سے قرآن پاک کی تلاوت (۲) بھوکا رہنا (۳) قیام اللیل (۴) صبح کے وقت آہ و زاری (۵) صالحین کی مجالست(یعنی اٹھنا بیٹھنا)

بمحاسن الشیم الرّضیّۃ مکمّلا

و لقارئ و لحافظ یتخلّق۷۸

قراّ اور حفاظ کے لیے ضروری ہے وہ (قرآن و سنت کے بیان کردہ ) اچھی اور پسندیدہ خصلتوں سے کامل طور پر متصف ہوں۔

لاۃ بھا و بأھلھا متقلّلا

کزھادۃ الدنیا کذا ترک مبا۷۹

(وہ خصلتیں یہ ہیں) (۱) دنیا کی محبت دل سے نکال کر دنیا اور اہل دنیا سے الگ ہو جاؤ اور دنیا سے کم سے کم پر قناعت کرو ۔

ـأخلاق ثمّ طلاقۃ لا خاتلا

و کذا السخا و الجود ثمّ مکارلم ال۸۰

(۲) جود و سخا (۳) اچھے اخلاق (۴) خندہ روئی ایسی کہ اس میں دکھاوا نہ ہو۔

عمّا دنا من مکسب متحمّلا

و الحلم ثمّ الصبر ثمّ تنزّہ۸۱

(۵) حلم اور بردباری (۶) صبر (۷) تمام گھٹیا پیشوں سے مکمل اجتناب۔

و خشوعہ و تواضع متکمّلا

و ملازمات للسّکینۃ و الورع۸۲

(۸) طمانیت، ورع، انکساری اور تواضع اپنانا۔

و إزالۃ ظفرا و إبطا فافعلا

و لقصّ شاربہ و تسریح اللّحی۸۳

(۹) مونچھیں پست کرنا (۱۰) داڑھی رکھنا (۱۱) ناخن تراشنا (۱۲) بغل کے بال صاف کرنا۔

و ملابس مکروھۃ فتکمّلا

و إزالۃ الریح الکریھۃ و الوسخ۸۴

(۱۳) بدبو دور کرنا (۱۴) میل کچیل صاف کرنا (۱۵) ناپسندیدہ کپڑوں سے پرہیز کرنا۔

و کذاک إکثارا مزاحا زیِّلا

و کذا اجتنابا للمضاحک لازمن۸۵

(۱۶) بہت زیادہ ہنسنے سے بچنا (۱۷) زیادہ ہنسی مذاق سے پرہیز ۔

و الإحتقار لغیرہ بالإعتلا

و لیحذرن عجبا ریاء و الحسد۸۶

(۱۸) عجب (۱۹) ریا (۲۰) حسد (۲۱) متکبرانہ دوسروں کو حقیر سمجھنے سے بچنا۔

و کذاک تسبیح و تھلیل جلا

و استعمل المأثور من ذکر الدعاء۸۷

و علی الإلٰہ بکلّ أمر عوِّلا

و یراقب المولیٰ بسرّ و العلن۸۸

(۲۲) حدیث پاک میں وارد دعاؤں اور تسبیح و تہلیل کی عادت بناؤ (۲۳)سراًّ اور علناً اللہ ہی کی طرف توجہ ہو اور سارے امور میں اسی پر بھروسا ہو۔

باق من التّبیان وانح مکمّلا

ذا بعض أدب لقار و اطلبا۸۹

قراّ و حفاظ کے لیے یہ چند آداب بتائے گئے باقی ‘‘تبیان’’ سے اخذ کریں اور مکمل طور سے عامل بن جائیں۔

بھجوم موت و التحسّر و البلا

ثمّ الضحیٰ صلّ و لا تدع الفکر۹۰

و بذکرھا حقا کضرب معاولا

عمل بلا ذکر المنیّۃ لا أثر۹۱

پھر چاشت کی نماز پڑھیں اور ہمیشہ موت، عمر برباد کردہ اور قبر و حشر کی آزمائشوں کے بارے میں سوچتے رہیں، اس لیے کہ موت کو یاد کیے بغیر کسی عمل کا کوئی اثر نہیں اور جس عمل میں موت کی یاد شامل ہو وہ ایسے ہے جیسے اس پر پھاوڑا مار دیا گیا ہو (یعنی قبول ہو جاتا ہے)

أو بالمعیشۃ و اخترنّ الأفضلا

ثمّ اشتغل بالعم أو بعبادۃ۹۲

پھر علم، عبادت اور معیشت میں سے چاہے جس میں لگو مگر تینوں میں جو افضل ہو اسے چنو

فضل بدور علی الکوکب فی الجلا

فلعالم فضل علیٰ من یعبد۹۳

و الأرض حتّی الحوت مع نمل الفلا

إن الإلٰہ و أھل کلّ سمائہ۹۴

قد علم الخیر الأناس محصّلا

کلّ یصلّی یا حبیب علی الذی۹۵

(اور وہ علم ہے اس لیے کہ حدیث پاک میں ہے) عالم کی عابد پر فضیلت ایسی ہی ہے جیسے چودہویں کے چاند کی فضیلت تاروں پر۔ بیشک زمین و آسمان والے، بلکہ سمندر کی مچھلیاں اور جنگلوں میں شہد کی مکھیاں بھی اس شخص کے لیے دعا کرتی ہیں جو علم حاصل کرکے لوگوں کو خیر کی تعلیم دے۔

فالی الجنان لہ طریق سھلا

من فی طریق للتّعلّم یسلک۹۶

جو طلب علم کے لیے ایک قدم بھی چلتا ہے اس کے لیے جنت کا ایک قدم آسان کر دیا جاتا ہے۔

یسعیٰ رضا بمرامہ متقبّلا

و ملائک تضع الجناح لہ إذا۹۷

ملائکہ کرام خوشی میں اس شخص کے لیے اپنے پر بچھا دیتے ہیں جو علم سیکھنے کے لیے معلم کے پاس جاتا ہے۔

فضل علی مئۃ الرّکیعۃ نافلا

و تعلّم للباب من علم لہ۹۸

علم کا ایک باب پڑھنا سو رکعت نفل پڑھنے سے افضل ہے۔

بالعلم إلاّ فالھلاک تحصّلا

ھٰذا قصد الإلٰہ و آخرہ۹۹

مذکورہ فضیلتیں اس کے لیے ہیں کہ تحصیل علم سے جس کا مقصد رضاے الٰہی اور ثواب آخرت ہو، ورنہ اگر دوسری نیت ہو تو ہلاکت کے سوا کچھ نہیں۔

و لیسقطن فی درک نار نازلا

و لیحرمن عرف الجنان الفاخرۃ۱۰۰

تحصیل علم سے بری نیت رکھنے والا تو جنت کیا جنت کی خوشبو بھی نہیں پائےگا، بلکہ اسے تو دوزخ میں جھونک دیا جائےگا۔

فی النار تخرج منہ أمعاء جلا

رجل بہ یؤتی غدا یلقی بہ۱۰۱

برحاہ تطحن کالحصید تذللا

فبھا یدور کما یدور حمارنا۱۰۲

قد کنت تأمرنا و تنھیٰ مقبلا

فیجیء من فی النار یسألہ اما۱۰۳

ما کنت بالعلم المکرّم عاملا

فیقول یا قومی بلا لٰکننی۱۰۴

قیامت کے دن ایک ایسا شخص لایا جائےگا جس کی انتڑیاں باہر نکلی ہوں گی، انھیں گھسیٹتے ہوئے وہ جہنم میں ایسے چکر لگائےگا جیسے کولہو کا بیل چکر لگاتا ہے، اس کی یہ حالت دیکھ کر دوزخی اس کے پاس جمع ہو جائیں گے اور اس سے پوچھیں گے: کیا تو ہمیں نیکیوں کا حکم نہیں دیتا تھا اور برائیوں سے نہیں روکتا تھا؟ اس پر وہ کہےگا: کیوں نہیں، میں تمھیں امر بالمعروف اور نہی عن المنکر ضرور کرتا تھا، مگر خود علم مکرم پر عمل نہیں کرتا تھا۔

و ثواب أخری بالتعلّم غافلا

یعصی إمرء قد رام غیر إلٰھہ۱۰۵

تحصیل علم سے جس کا مقصد رضاے الٰہی یا ثواب آخرت نہ ہو تو وہ گنہگار اور فوائد علم سے غافل ہے۔

إلاّ بعلم نافع متشاغلا

حرم علیہ جرایۃ المتفقھہ۱۰۶

ایسا عالم کہ تحصیل علم سے جس کی نیت رضاے الٰہی نہ ہو اسے طلبہ کی تعلیم کے لیے اجرت دینا ناجائز ہے اور اسے لینا بھی ناجائز ہے، بلکہ اجرت اس کے لیے حلال ہے جس نے رضاے الٰہی کے لیے علم حاصل کیا ہو۔

إلاّ لعلم نافع لا جاھلا

و کذا یعصی من یعلّم ذلک۱۰۷

معلم کو اگر طالب علم کی بری نیت کا علم ہو (یعنی تحصیل علم سے اس کا مقصد رضاے الٰہی نہیں ہے) تو وہ بھی گنہگار ہوگا، مگر انجان ہے تو گنہگار نہیں ہوگا۔

الشّھوات متبعا ھواہ معاملا

فإذا رأی متعلّما یکبوا علی۱۰۸

من غیر منھاج مباح قائلا

متکلبا أیضا علیٰ روم الدنا۱۰۹

من قبل فرض العین علما و ابتلا

أو قد تعاطی علم فرض کفایۃ۱۱۰

قصد لغیر اللہ فیہ تغلغلا

فلقد تبیّن من قرائن حالہ۱۱۱

اگر طالب علم نفسانی خواہشات کا متبع، دنیا کا دل داہ اور اسے غیر شرعی طریقے سے حاصل کرنے والا، ضعیف الراے ہو اور وہ علوم جو فرض عین ہیں انھیں چھوڑ کر فرض کفایہ کی

تحصیل کرے یا اپنے علم پر عامل نہ ہو تو سمجھ لو کہ وہ رضاے الٰہی کا طالب نہیں، بلکہ طالب دنیا ہے۔

من غیر عذر بل بأن یتکاسلا

و کذا إذا ترک الصلاۃ جماعۃ۱۱۲

اگر بلا عذر شرعی محض سستی کی بنا پر جماعت ترک کرے تب بھی وہ طالب آخرت نہیں ، بلکہ طالب دنیا ہی ہے۔

و إن أکدت فاعلمہ و اصح تبتّلا

و کذاک ترک للرواتب والسنن۱۱۳

ایسے ہی اگر رواتب اور سنت مؤکدہ کا تارک ہو تب بھی وہ طالب دنیا ہے۔ پس اے طالب علم! ان علامتوں میں سے اگر کوئی علامت تیرے اندر ہے تو اسے چھوڑ دے اور اللہ کی طرف لو لگاے۔

لا یطلب الدنیا بعلم مسائلا

و لعالم الاخری علامۃ تریٰ۱۱۴

أن لا یخالف قولہ ما یفعلا

و لذٰلک آیات تکون کثیرۃ۱۱۵

و عن الذی ینھیٰ تجتنب أولا

و یکون بالمأمور أول عامل۱۱۶

عالم آخرت کی چند علامتیں ہیں: (۱) اپنے علم کے ذریعہ دنیا طلب نہ کرے۔

(۲) اس کا قول اس کے فعل کے مخالف نہ ہو یعنی جو حکم دے پہلے خود اس پر عمل کرے اور جس سے منع کرے پہلے خود اس سے رکے۔

فی طاعۃ ناھ عن الدنیا اجتلا

و یکون معتنیا بعلم أرغبا۱۷

قیلا و قالا و الجدال المسولا

متوقیا علما یکون مکثرا۱۱۸

(۳) اس علم کی طرف متوجہ ہو جو طاعت کی ترغیب دے اور طلب دنیا سے روکے اور اس علم سے بچے جس میں بہت زیادہ قیل و قال ہو ( یعنی فضول باتیں ہوں) اسی طرح اس علم سے بھی بچے جو جدال و قتال کا سبب ہو۔

و بمسکن و اثاث ذاک تجملا

و یکون مجتنبا ترفّہ مطعم۱۱۹

و إلی القناعۃ و التقلل مائلا

و تنعّما و تزینا بلباسہ۱۲۰

(۴) کھان پان، رہن سہن اور مال و دولت میں عیش پسند نہ ہو اور پہننے اوڑھنے میں ناز و

نخرے اور زیب و زینت سے احتراز کرکے قناعت اور کم سے کم پر اکتفا کرنے والا ہو۔

أن لا یکون علیہ یوما داخلا

و یکون منقبضا عن السلطان ذا۱۲۱

أو للشفاعۃ فی المراضی فادخلا

إلاّ لنصح أو لدفع مظالم۱۲۲

(۵) سلطان اور اہل اقتدار کے پاس جانے سے احتراز کرے، مگر جب کہ نصیحت کرنے، ظلم کا سد باب کرنے یا کسی کی جائز سفارش کی غرض سے جائے تو جائز ہے۔

و یقول أسأل من یکون تأھّلا

و إلی الفتاویٰ لا یکون مسارعا۱۲۳

و یقول لاأدری إذا لم یسھلا

و أبی إجتھادا لا یکون تعیّنا۱۲۴

(۶) فتویٰ دینے میں جلدی نہ کرے، بلکہ یہ کہہ دے کہ کسی اور سے پوچھ لیں جو اہل ہیں، اگر مسئلہ ٹھیک سے پتا نہیں اور دوسرے مفتی کو پتا ہے تو اجتھاد نہ کرے اور اگر معلوم نہیں ہے تو لاأدری کہہ دے یعنی میں نہیں جانتا۔

لسعادۃ العقبیٰ العظیمۃ نائلا

و یکون یقصد بالعلوم و جودہ۱۲۵

و رقاب قلب للسیاسۃ فاعلا

فیکون مھتما بعلم الباطن۱۲۶

مما یکون من المجاھدۃ انجلا

متوقعا لطریق علم الآخرۃ۱۲۷

(۷) وہ علوم حاصل کرے جن سے آخرت کی سعادت ملے (یعنی علم باطن) علم باطن کی تحصیل کا خوب اہتمام کرے اور دل کی تربیت کے لیے مراقبہ کرے اور مجاہدات کے ذریعہ آخرت کے راستوں کے کھلنے کی امید رکھے اس لیے کہ مجاہدہ مکاشفہ تک پہنچاتا ہے۔

لشریعۃ و علیٰ بصیرتہ الجلا

و یکون معتمدا علیٰ تقلیدہ۱۲۸

(۸) شریعت کی تقلید اور اپنی روشن بصیرت میں پر اعتماد ہو۔

کانوا علیٰ ستّ خصال کمّلا

و أئمۃ کالشافعی و نحوہ۱۲۹

بعلوم عقبیٰ نافعات للملا

زھد صلاح و العبادۃ علمھم۱۳۰

و واردۃ یتفقّہ ربّ العلا

و کذا الفقاھۃ فی مصالح دیننا۱۳۱

ائمۂ فقہ مثلاً امام اعظم ابو حنیفہ، امام شافعی، امام مالک ، امام احمد بن حنبل وغیرھم رحمہم اللہ میں درج ذیل چھ صفات کا ملاً پائی جاتی تھیں: (۱)زہد (۲)صلاح (۳)عبادت (۴)آخرت کا

علم جو خلق کے لیے نافع ہو (۵) خلق کے دنیاوی مسائل حل کرنے کا علم (۶) حصول علم کا مقصد رضاے الٰہی۔

لا غیر فاتبع للجمیع لتفضلا

فقھاءنا قد تابعوا فی فقھھم۱۳۲

ہمارے فقہا نے ائمہ کی صرف ایک چیز (فقہ) میں تقلید کی مگر آپ ان کی سبھی چیزوں میں پیروی کریں تاکہ دونوں جہاں کی فضیلت ہاتھ آئے۔

إن کنت تطلب ملک دارین اعتلا

فتعلّمن للہ علما نافعا۱۳۳

صرف اللہ کی رضا کے لیے علم نافع حاصل کرو ، اگر تمھیں دنیا و آخرت کی بھلائی درکار ہے۔

و خلافۃ و وراثۃ فتوسّلا

تعلیمہ للہ خیر عبادۃ۱۳۴

محض رضاے الٰہی کے لیےعلم نافع کی تعلیم دینا بہتر عبادت اور در اصل اللہ کی خلافت اور رسول اکرمﷺ کی وراثت کی پاسداری کرنا ہے۔ لہٰذا ایسے علم کو عام کرکے اللہ و رسولﷺ سے اپنا رشتہ مضبوط کر لو۔

و معلّما وقّر و لست مجادلا

وجّہ کلام القوم غیر مخطئ۱۳۵

جب صوفیہ کرام کی عبارتیں پڑھو تو ان کے کلام کی بہترین توجیہ کرو اور غلط کہنے سے بچو، بلکہ ان کی عبارتوں کی تعظیم و توقیر کرو اور ان پر اعتراض کرنے سے بچو (اس لیے کہ سوء خاتمہ کا اندیشہ ہے) استاذ کی تعظیم کرو، ان سے بحثیں نہ لڑاؤ۔

لبدیہ فھمک من کتاب واسألا

و استفسر الأستاذ و اترک مابدا۱۳۶

کسی کتاب میں اگر کوئی شبہ درپیش ہو تو استاذسے رجوع کرکے ان سے پوچھو اور اپنی سمجھ پر اکتفا نہ کرو۔

بصحیح کتب واضح قد عوّلا

قابل کتاب قبل وقت مطالعۃ۱۳۷

مطالعہ سے پہلے کتاب کو اس نسخہ سے ملا لو جو مستند علما کی تصحیح کے ساتھ شائع ہوئی ہو۔

ح فإنّہ أولیٰ و أحسن موئلا

طالع مرارا متنہ قبل الشرو۱۳۸

من عشر أسطر من شروح فاقبلا

و لفھم سطر من متون أحسن۱۳۹

شروحات پڑھنے سے پہلے اصل متن کا کئی بار مطالعہ کرو اور سمجھنے کی کوشش کرو؛ اس لیے کہ متن پڑھ کر خود ایک سطر سمجھ لینا شرح سے دس سطر سمجھنے سےے بہتر ہے۔ لہٰذا اس نصیحت کو گانٹھ بنا لو۔

ثمّ الکتاب فسنّۃ مترتّلا

و ابدأ بفرض العین ثمّ اعمل بہ۱۴۰

سب سے پہلےوہ علوم حاصل کریں جو فرض عین ہیں(جیسے علم عقائد اور حلال و حرام کا علم) پھر ان پر عمل کریں۔ اس کے بعد کتا ب و سنت کے وہ علوم جو فرض کفایہ ہیں درجہ بدرجہ حاصل کریں۔

ثمّ البواقی راع تدریجا بلا

و اتبع بعلم الفقہ ثمّ أصولہ۱۴۱

پھر علم فقہ، پھر اصول فقہ، اس کے بعد باقی علوم حاصل کریں،مگربتدریج یہ جانتے ہوئے کہ ان میں کون زیادہ اہم ہے اور کون کم اہم ہے۔

صرف و نحو والمعانی المفضلا

و علوم أدب ثمانیۃ لغۃ۱۴۲

و کذا عروض فاطلبنھا مجملا

و کذا بیان و البدیع و قافیۃ۱۴۳

و محاضرات والخطوط فأجملا

و فروعھا إنشاء نثر و النظام۱۴۴

(یہ باقی علوم کا بیان ہو رہا ہے) عربی ادب کے آٹھ ارکان ہیں: (۱)لغت (۲)علم صرف (۳)علم نحو (۴)علم معانی (۵) علم بیان (۶)علم بدیع (۷)علم قافیہ (۸)علم عروض۔

عربی ادب کے فروع میں: (۱)انشاے نثر (۲)انشاے نظم (۳)محاضرات (تاریخ دانی) (۴)انشا پردازی (خطوط نویسی) آتے ہیں لہٰذا ان کا اجمالی علم حاصل کرو۔

فی منطق ثمّ الکلام توغلا

لا تغترر بوقوع أھل زماننا۱۴۵

ہمارے معاصرین کی طرح (مناطقہ و فلاسفہ کی گمراہیوں سے مختلط) علم منطق و کلام حاصل کرکے اپنے آپ کو دھوکے میں نہ ڈالیں۔

فیہ الشّفا من کلّ داء أعضلا

طالع أخی إحیا غزالیِّ تنل۱۴۶

اے میرے بھائی! حجۃ الاسلام امام محمد غزالی رحمۃ اللہ علیہ کی احیاء العلوم کا مطالعہ کرتے رہیں اس میں آپ کو ہر لاعلاج بیماری کا شافی علاج ملے گا۔

مالا یذمّ الشرع ذٰلک حلّلا

کل بعد ذٰلک من حلال لا شبہ۱۴۷

(نماز چاشت پڑھنے کے بعد علم حاصل کرنے کی ترغیب دلائی اب رزق حلال کی ترغیب دلا رہے ہیں) اس کے بعد وہ حلال و طیب روزی کھائیں جس میں کوئی شبہہ نہ ہو، جان لو کہ شرع نے جس کو برا نہیں کہا وہ حلال ہے۔

و شرابہ للجسم و الدین اعتلا

لا شیء أنفع من تقلّل أکلہ۱۴۸

ـقلب الإزالۃ فطنۃ متململا

آفات شبع ثقل جسم قسوۃ ال۱۴۹

جلْب لنوم فاحذرنہ و عبھلا

تضعیف جسم عن عبادۃ ربہ۱۵۰

کم کھانا جسم اور دین دونوں کے لیے مفید ہے جب کہ زیادہ کھانے سے (۱)وزن بڑھتا ہے (۲)دل سخت ہوتا ہے (۳)ذہن کمزور ہوتا ہے (۴)حافظہ بگڑ جاتا ہے (۵)جسم عبادت اور علم کے قابل نہیں رہتا ہے (۶)نیند زیادہ آتی ہے۔

ثمّ انتبہ قبل الزوال تسلّلا

قل بعد ذٰلک للشھار لطالعۃ۱۵۱

ثمّ اشتغل بالخیر مما قد خلا

و الظھر صلّ جماعۃ مع سنۃ۱۵۲

پھر رات میں جاگ کر عبادت کرنے کی نیت سے قیلولہ کریں اور زوال سے ٹھیک پہلے بیدار ہو جائیں اور ظہر کی نمازباجماعت سنن و نوافل کی رعایت کے ساتھ ادا کریں۔ بعد ظہر عبادت و علم میں سے جس میں چاہیں مشغول ہوں۔

و لعابد صلّ تلا أو ھلّلا — فلطالب علما بعلم یشتغل — ۱۵۳

جدّا علیٰ ھٰذا و لا تک ذاھلا — و کذا إلیٰ وقت الرقاد فواظبن — ۱۵۴

و اعمل بما فیہ تنل خیرا جلا — و کتاب أذکار النووی طالعن — ۱۵۵

طالب علم تعلیم و تعلم میں اور عابد نماز، تلاوت اور اذکار و اوراد میں مصروف رہے۔ یہی نظام الاوقات سونے تک بنائے رہےاور اس پر بزور مداومت برتے۔ امام نووی رحمۃ اللہ علیہ کی کتاب ‘‘الاذکار’’ کا مطالعہ کریں اور اس پر عمل کریں؛ اس لیے کہ یہ باعث خیر و سعادت ہے۔

إلاّ علیٰ ذکر و طھر کاملا

لا تجلبن نوما و لا تک نائما۱۵۶

نیند آئے جبھی سوئیں اور جب بھی سوئیں طہارت پر سوئیں یعنی باوضو ہوکر اور اذکار و ادعیہ پڑھتے پڑھتے سوئیں۔

فی غفلۃ و لا تلامس مسترسلا

لا بأس إن ضاجعت زوجک لم تصر۱۵۷

اگر بیوی کے ساتھ سوئیں اور طہارت باقی نہ رہے تو یہ غفلت و سستی میں شامل نہیں ہے۔

و استغفرن للمؤمنین و أعولا

إذا انتبھت بلیلۃ فتھجّدا۱۵۸

رات میں اٹھ کر نوافل پڑھیں، مسلمانوں کے لیے استغفار کریں اور توبہ و زاری کریں۔

کنز بدار الخلد أدوم انبلا — فلرکعتان من الصلاۃ بلیلۃ — ۱۵۹

تأتی علیک و لا نسیب و لاولا — فاستکثرن من الکنوز لفاقۃ — ۱۶۰

دو رکعت تہجد جنت کا دائمی اور اشرف ترین خزانہ ہے۔ لہٰذا اس خزانے کو خوب کھچا کھچ بھر لو، اس دن کے لیے جس دن تمھیں ضرورت پڑےگی اور کوئی بھی رشتہ دار یا عزیزکام نہیں آئےگا (یعنی قیامت کے دن کے لیے ذخیرہ کر لو)

مک و اشتغالک بالدّنا متغافلا

و یفوت ھٰذا بالکثیر من اھتما۱۶۱

و کذا بإتعاب الجوارح و امتلا

و حدیث دنیا ثمّ لغو و اللغط۱۶۲

تہجد کی نماز اکثر درج ذیل وجوہات کی بنا پر فوت ہوتی ہے:

(۱)دنیا داری میں مشغول ہونے (۲)آخرت سے غفلت برتنے (۳)دنیاوی باتوں میں پڑنے اور لغو و فضول بکنے سے اور (۴)دن میں مشقت کرکر کے جسم کو تھکا لینے سے۔

قبل الغروب مسبحا مستقیلا

و یعیّن تجدید الوضوء و ذکرکا۱۶۳

ترک الکلام بعد ذٰلک غافلا

و عبادۃ بین العشاء و المغرب۱۶۴

درج ذیل چیزیں اپنانے سے تہجد کی نماز مل جائےگی اور فوت نہیں ہوگی:

(۱)عشا کے بعد تازہ وضو کرنے (۲)غروب آفتاب سے پہلے قبلہ رو ہوکر تسبیح و استغفار پڑھنے (۳)مغرب و عشا کے مابین کا وقت عبادت میں گزارنے اور (۴)مذکورہ عبادت کے بعد کلام نہ کرنے سے۔

و اقصر الآمال و جاھد تنبلا

واظب علیٰ ھٰذا بقیۃ عمرکا۱۶۵

دن سے لے کر رات تک اس نظام الاوقات کے مطابق اپنی بقیہ زندگی بسر کریں (اگر اس پر مداومت دشوار ہو تو صبر کریں جیسے مریض دوا کی کڑواہٹ پر صبر کرتا ہے) اپنی آرزوئیں کم کرلیں اور نفس امارہ پر مجاہدہ کریں۔ اگر آپ نے ایسا کر لیا تو رفع درجات کے شرف سے مشرف ہوں گے۔

تذکرہ (نصیحت)

دنیا لھم ما بال ذٰلک یبطلا

من لا لہ شغل بدنیا تارکا۱۶۶

بصلاتہ و تلاوۃ متشاغلا

فبخدمۃ الرّب العلی تنعّما۱۶۷

فاتل القرآن برھبۃ متأملا

و إذا السامۃ فی الصلاۃ تعرضت۱۶۸

ذکر بقلب و اللسان مکمّلا

و إذا سئمت تلاوۃ فانزل إلیٰ۱۶۹

لا تشتغل بحدیث نفس مھملا

ثمّ اذکرن بالقلب ھو مراقبۃ۱۷۰

یقسوبہ قلب فلا تک غفلا

فحدیث نفس کالکلام بألسن۱۷۱

جو دنیا داری سے فارغ ہو اور اسے اہل دنیا کے حوالے کر چکا ہو اس کی شان یہ نہیں کہ عبادت گزار نہ ہو، بلکہ اسے چاہیے کہ نماز و تلاوت کے ذریعہ عبادت الٰہی کی نعمت سے اپنے نامۂ اعمال کو سجا لے۔جب نماز کی لذت کم محسوس ہونے لگے تو کچھ دیر غور و فکر کے ساتھ قرآن پاک کی تلاوت کر لو۔ پھر جب تلاوت کی لذت کم ہونے لگے تو قلب و لسان سے ذکر کرنے لگو، پھر مراقبہ کرو اور کبھی بھی اپنے نفس کے بہکاوے میں آکر عبادت نہ چھوڑو؛ اس لیے کہ نفس کی بات بالکل ویسے ہی ہے جیسے زبان کی بات، اس سے بھی دل سخت ہوتا ہے،لہٰذا حدیث نفس سے غافل نہ رہو۔

چند اہم باتیں

أنّ أفضل الطاعات للہ العلا

قد أجمع العرّاف جلّھم علیٰ۱۷۲

و دخولھا باللہ الملاء الخلا

حفظ لانفس یکون خروجھا۱۷۳

ق صفح لہ مع برزخ فاستکملا

بالشد ثمّ المدّ تحت ثمّ فو۱۷۴

من غیر تحریک الشفاہ تداولا

أو ذکر تھلیل و ذا الذکر الخفی۱۷۵

عرفا کا اس بات پر اجماع ہے کہ حفظ انفاس اللہ تبارک و تعالیٰ کی سب سے افضل عبادت ہے یعنی جلوت و خلوت میں کوئی بھی سانس ذکر الٰہی کے بغیر نہ ہو۔

حفظ انفاس کا طریقہ یہ ہےکہ لفظ‘اللہ’ شد و مد کے ساتھ اللہ کی صفات کے ساتھ کہ وہ بصیر ہے، قدیر ہے، مرید ہے، سمیع ہے ناف سے لے کر دماغ تک کھینچے اور برزخ شیخ کو بھی اس میں شامل رکھے اور ذکر کے تمام آداب ملحوظ رکھے۔

حفظ انفاس کا دوسرا طریقہ ذکر نفی و اثبات یعنی لا إلٰہ إلا اللہ کا بھی ہے۔ کثرت سے ذکر خفی کریں وہ اس طور پر کہ ہونٹ نہ ہلے۔

لم یبق من ھٰذہ الطریقۃ خردلا

من لم یکن فی بدء أمر جاھدا۱۷۶

جو سلوک کے ابتدائی مراحل میں اپنے نفس سے مجاہدہ نہیں کرےگا اسے تصوف و روحانیت سے رائی کے برابر بھی حصہ نہیں ملےگا۔

فی غالب من غیرھا لن تحصلا

و کذاک معرفۃ تخصّ علیّۃ۱۷۷

اس طرح معرفت علیا مخصوصہ بھی اغلب یہ ہے کہ مجاہدہ کے بغیر حاصل نہیں ہوتی ہے۔

ئلھا و تحلیۃ بنور فضائلا

و جھاد نفس أن تزکی من رذا۱۷۸

نفس سے مجاہدہ کرنے کا مطلب یہ ہے کہ نفس کو رذائل سے پاک کرکے فضائل کے نور سے مزین کردیں۔

من أھل فرع و الأصول تکمّلا

و العارفون بربّھم ھم أفضل۱۷۹

اہل معرفت اصول و فروع کا کامل علم رکھنے والے علما (فقہا و اصولیین) سے افضل ہیں۔

من الفھا من عالم فتقبّلا

فلرکعۃ من عارف ھی أفضل۱۸۰

عارفین کی ایک رکعت غیر عارفین علما کی ہزار رکعتوں سے افضل ہے؛ لہٰذا میری اس بات کو تسلیم کر لیں۔

و المقصد الاقصیٰ المشاھدۃ العلا

قال الإمام السھروردی قدّسا۱۸۱

حضرت امام شہاب الدین سہروردی قدس سرہ فرماتے ہیں کہ ریاضت و مجاہدہ کا اصل مقصد بصیرت سے رب کا مشاہدہ کرنا ہے۔

ذکرا بطیب کلمۃ متبتّلا

فلیکثر العبد التلاوۃ مکثرا۱۸۲

حتّیٰ یصیر بقلبہ متأصلا

و لیجتھد بوطاء قلب نطقہ۱۸۳

ر القلب للحال العلیۃ نائلا

و مزیلۃ لحدیث نفس کی ینو۱۸۴

بمحاسن الأعمال منہ تسوّلا

و یفیض نور القلب للقالب فذا۱۸۵

ھٰذہ المشاھدۃ الشریعۃ حصِّلا

و یصیر حقا ذکر ذات ذکرہ۱۸۶

تلاوت (۲)بغیر کسی فتور کے کلمہ طیبہ کا ورد جو اللہ کی یاد کے ساتھ ہو (۳)کلمہ طیبہ کو خوب دل پر زور دے کرنکالے تاکہ دل میں جڑ پکڑ لے (۴)حدیث نفس کو ختم کرے تاکہ منور ہو اور اعلیٰ کمالات کو جذب کر لے، پھر تو دل کا نور جسم پر پڑ کر جسم کو سنوارنے لگےگا اور سالک اعمال حسنہ کرنے لگےگا۔ اس منزل پرپہنچ کر صحیح معنوں میں بندے کا ذکر ذکر ذات بن جائےگا اور مشاہدہ کی دولت ہاتھ لگےگی۔

اللہ وفّقنا لہ متفضّلا

ھٰذا الذی أوصی الشیوخ الکمّل۱۸۷

مشائخ کاملین نے اپنے متبعین کو انھیں امور کی وصیت کی ہے، اللہ اپنے فضل سے ہمیں ان کی توفیق دے۔

أعلی الصلاۃ علی الرّسول محوقلا

و الحمد للباقی الرؤف مصلّیا۱۸۸

حمد ہے اللہ تعالیٰ کے لیے جو باقی اور رؤف ہے اور اعلیٰ درود رسول اکرمﷺ پر اور آخر میں لاحول ولا قوۃ إلا باللہ پڑھتے ہوئے یہ قصیدہ ختم کر رہا ہوں۔