باب ۷ از ۸صفحات ۷۳–۸۲
چند احادیث
لوگوں سے دوری، اجتناب اور ان کی صحبتوں سے بچنا یعنی عزلت کی کس زمانے میں ضرورت ہے؟ اس کو خود احادیث کریمہ سے بہ آسانی جانا جاسکتا ہے۔ چند ارشادات ملاحظہ ہوں۔
۱۔‘’جب تم دیکھو کہ انکے عہد ختم ہوگئے (وفاچلی گئی) اور ان کی امانتیں ہلکی ہو گئیں اور وہ ایسے ہو گئے ،تشبیک فرمائی یعنی ایک ہاتھ کی انگلیاں دوسرے میں ڈالیں۔ حضرت عبد اللہ بن عمرو بن العاص نے آپ ﷺ سے عرض کیا: یا رسول اللہ! اللہ تعالیٰ مجھ کو آپ پر فدا کرے اس وقت ہم کیا کریں؟ فرمایا: اپنے گھر کو لازم کر لینا ،اپنی زبان اپنے آپ پر روکنا، جو دین تم پہنچانتے ہو اسے پکڑنا جو دین سے نہ لگے اسے چھوڑ دینا اور تم پر لازم ہے خاص کا معاملہ اور امر عوام کو چھوڑ دینا۔
۲۔ ایک روایت میں فرمایا کہ ایسا وقت ہوگا جب کہ مرد اپنے ہم نشین سے امان میں نہ ہوگا ‘‘حین لا یأ من الرجل جلیسہ’’ ایک دوسری حدیث میں فرمایا کہ یہ وہ وقت ہوگا جب کہ خطیب و مقرر بہت ہوں گے، ان کے علماء کم ہوں گے مانگنے والے زیادہ ہوں گے اور ان کو دینے والے کم۔ ہر علم کے قائد خواہش کے پیرو کار ہوں گے، آپ علیہ الصلوٰۃ والسلام سے عرض کیا گیا کہ ایسا کب ہوگا؟ فرمایا جب نمازیں مردہ کردی جائیں یعنی نہ پڑھی جائیں یا وقت گذار کر پڑھی جائیں اور رشوتیں قبول کی جائیں اور دین کو دنیا کے تھوڑے سے سامان کے بدلے بیجا جائے، پس نجات طلب کرنا! افسوس! نجات طلب کرنا ۔
جو کچھ احادیث میں فرمایا گیا اس کے تعلق سے حضرت سید بکری مکی قدس سرہٗ فرماتے
......................
۔ کفایۃالاتقیاء ص:۳۸
۔ کفایۃص:۳۹
۔ کفایۃ الاتقیاء ص:۳۹
ہیں کہ ان سب کو اس زمانے میں ماتھے کی آنکھوں سے دیکھ لو! (ایضا)
حضرت سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ ‘‘إن فی العزلۃ راحۃ من خلطاء السوء’’ بروں کے ساتھ اختلاط اور میل ملاپ سے تنہائی میں راحت ہے۔(ایضا)
حضرت سفیان ثوری قدس سرہٗ نے اپنے زمانے میں فرمایا کہ خدا کی قسم اس زمانے میں عزلت حلال ہو گئی۔(ایضا)
حضرت امام غزالی قدس سرہٗ فرماتے ہیں کہ اگر سفیان کے زمانے میں عزلت حلال ہو گئی تھی تو ہمارے زمانے میں واجب و فرض ہو گئی۔(ایضا)
حضرت سفیان بن عیینہ نے حضرت سفیان ثوری رضی اللہ عنہما سے کہا کہ آپ ہمیں کچھ وصیت کریں! فرمایا: ‘‘لوگوں سے جان پہچان کم کرو؛ کیوں کہ ان سے چھٹکارا سخت ہے۔’’
حضرت فضیل قدس سرہٗ نے فرمایا کہ یہ وہ وقت ہے کہ تم اپنی زبان کی حفاظت کرو اور اپنی جگہ چھپا کر رکھو اور قلب کا علاج کرو، جن امور کو جانتے ہو کہ دین سے ہیں انھیں لو (عمل کرو) اور جن کا دین سے ہونا معلوم نہیں انھیں چھوڑ دو۔ مزید تفصیل کے لیے دیکھیے کفایۃ الاتقیاء وغیرہ۔
آپ کسی ایسی جگہ رہتے ہوں جہاں اسلام اور سنیت کے لیے خطرہ ہو مثلاً اس جگہ وہابیوں، قادیانیوں وغیرہ کا غلبہ ہے اور خطرہ ہے کہ خود آپ، آپ کی اولاد اور احباب وغیرہ ان سے اختلاط کی صورت میں متأثر ہو سکتے ہیں اور ان کے دام فریب میں آسکتے ہیں تو اگر ہو سکے تو جگہ ہی چھوڑ دیں ورنہ ہر حال میں ان کی صحبتوں سے بچیں اور فارغ اوقات کو گھر میں کتب دینیہ کے مطالعہ وغیرہ میں بسر کریں اور برا بر اپنے اہل و عیال اور احباب کو فرق باطلہ کی صحبتوں اور ان سے اختلاط کے نقصانات سے آگاہ کریں اور عقائد حقہ کا پابند بنا رہنے پر زور دیں اور اس کی اہمیت سے آگاہ کرتے رہیں۔ اسی طرح جن اشخاص سے اسلام اور سنیت کے لیے خطرہ نہیں مگر ان کی صحبتیں بد
عملی کا باعث ہو سکتی ہیں تب بھی ان کی صحبتوں سے ہر حال میں خود دکو بچائیں بوقت ضرورت و حاجت بیٹھنا پڑے تو اتنی دیر بیٹھیں جتنی ضرورت ہے باقی اپنے عزلت اور تنہا ئی کے اوقات کو اہل و عیال میں بسر کریں اختلاط کی صورت میں ہر گز ہر گز کبھی ان کی بری بات سے متأثر نہ ہوں اگر ہو سکے تو آپ انھیں راہ راست پر لانے کی کوشش کریں ورنہ دور رہیں، مذکورہ صورتوں میں عزلت ہی درکار ہے۔
بزرگوں نے فرمایا کہ اسی طرح جب ایسا دور آجائے کہ اختلاط کی صورت میں وہ مال حرام یا مشتبہ میں واقع ہو سکتا ہے تب بھی عزلت ہی اولیٰ ہے۔
۹۔ حفظ اولاوقات:
وصایا تسعہ میں سے نہایت اہم وصیت اوقات زندگی کی حفاظت ہے، زندگی کا لمحہ لمحہ بیش قیمت ہے، یہ دنیا و آخرت کی کھیتی ہے، یہاں جو بو ؤگے وہی کاٹو گے، کوئی لمحہ گذرنے کے بعد واپس نہیں آتا۔ لہٰذا ہمیں چاہیے کہ ہم ہر لمحہ طاعت میں صرف کریں طاعت میں صرف کرنے کی چند آسان اور بہت اہم صورتیں یہ ہیں:
۱۔ عقائد اہل سنت کے مطابق درست کریں ذرہ برابر کہیں کمی نہ ہو۔
۲۔ دل میں اچھے جذبات، نیک خواہشات اور عمدہ نیتیں رکھیں اور سرو رعالم ﷺ اور ان کے اللہ عزو جل کی محبت بے پناہ، سب سے زیادہ پیدا کریں اور قلب و نفس کو خوب خوب تمام برائیوں، کینہ، حسد ، بغض، باہمی عداوت و نفرت اور حب دنیا وغیرہ سے پاک و صاف کریں غرضیکہ رفتہ رفتہ ہی سہی باطن کی پاکی و طہارت حاصل کریں۔
۳۔ ظاہر کو ہمیشہ شریعت مطہرہ کا پابند رکھیں ہر قول و عمل میں کوشش کریں کہ سنت کے مطابق گذرے فرائض و واجبات اور سنن کی ادائیگی میں نہایت اہتمام سے کام لیں اور سرکا ر علیہ الصلوٰۃ والسلام کے قول و فعل و حال جن میں بھی اقتدا کی جاسکتی ہے کریں۔
..................
۔ کفایۃ الاتقیاء ص:۴۱
۴۔ مباحات میں کوشش کریں کہ حسن نیت سے ادا ہوں ہمارے نبی ﷺ کے عظیم احسانات سے ہے کہ انھوں نے ہماری دنیا کو دین بنا دیا، آپ ﷺ کے ارشاد کا حاصل یہ ہے کہ مومن کو ہر حسن نیت سے ہر عمل پر اجر ملتا ہے حتی کہ اس لقمہ پر بھی جو وہ اپنی بیوی کے منہ میں رکھتا ہے۔ اگر ہمارا کھانا، پینا، سونا ، جاگنا اور بولنا چالنا وغیرہ سب حسن نیت سے ہو تو سب پر ثواب ہے اور سب طاعت میں داخل ہیں۔ تجارت و کسب، اہل و عیال کی خدمت، احباب کی اعانت ، نیک مشورہ دینا، خندہ روئی سے ملنا، کمالات علمیہ و عملیہ کی تحصیل پھر ان کی تعلیم و تدریس اور اشاعت و ترویج، و عظ و نصیحت اور تقریر و تحریر غرضیکہ ہر جائز و مباح چیز حسن نیت سے حسن ہو جاتی ہے۔
فائدہ:
علماے کرام رحمہم اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ ایک ہی عمل متعدد نیتیں کر لینے سے چند گناہو جاتا ہے مثال کے طور پر آپ نے مسجد میں بیٹھتے وقت اعتکاف، نماز کے انتظار کی، شوا غل قلب سے خلوت و تنہائی کی، لوگوں سے عزلت کی، ذکر کی، قرآن کی تلاوت کی، لا یعنی باتوں سے رکنے کی آنکھ، کان اور زبان کی حفاظت کی اور ذکر کے ذریعہ مسجد کو آباد رکھنے کی نیت کر لی تو ایک ہی عمل سے ان سب نیتوں کے متعدد ثواب ملیں گے اور ایسا شخص اس کی طرح نہیں ہے جس نے ایک نیت کی یہ بڑی اہم چیز ہے اس سے غفلت نے ہزاروں نیکیوں سے محروم کردیا۔
۵۔ لایعنی کاموں اور لا یعنی باتوں سے بچے ان سب کو جان لینے سے بہت کچھ نیکیال حاصل کی جاسکتی ہے اور زندگی کا لمحہ لمحہ طاعت میں گذر سکتا ہے۔
چند احادیث و حکایات:
۱۔ رسول اکرم ﷺ ارشاد فرماتے ہیں ‘‘انما الاعمال بالنیات’’ اعمال کا ثواب صرف نیتوں سے ہے (بخاری)
۲۔’’من حسن اسلام المرء ترکہ ما لا یعنیہ’’ مرد کے اسلام کی اچھای لا یعنی باتوں کو
۳۔ حکایت کی گئی کہ بروز قیامت ایک بندہ آئے گا اور اس کے پاس پہاڑوں کی مثل نیکیاں ہو ں گی، ندا کرنے والا ندا کرے گا : جس کا فلاں پر حق ہے وہ آئے اور اپنا حق لے لے ’’ پس لوگ آئیں گے اور اس کی نیکیاں لے لیں گے حتی کہ ایک نیکی بھی باقی نہ رہے گی تو یہ حیران ہو گا، اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ اے بندے! تیرے لیے میرے پاس خزانہ ہے جس پر میری خلق کا کوئی آگاہ نہیں’’ بندہ عرض کرے گا: وہ کیا ہے؟ فرمائے گا: تیری وہ نیتیں جن کے ذریعہ تو بھلائی کیا کرتا تھا میں نے ان کو تیرے لیے ستر گنا زیادہ لکھ دیا۔ (کفایہ)
۴۔ بعض فضلاے صوفیہ رحمہم اللہ تعالیٰ نے بیان کیا ہے کہ وہ مریض تھے، بعض اشخاص ان کی عبادت کے لیے داخل ہو ئے تو ان صوفی فاضل بزرگ نے فرمایا: تم مجھے حج کرانے کی نیت کرلو، خانقاہ بنوانے کی نیت کر لو وغیرہ وغیرہ۔ انھیں اس طرح کے مختلف نیک کام بتائے، ان لوگوں نے کہا: یہ کیسے ہو گا جب کہ آپ کی حالت یہ ہے؟ تو انھوں نے فرمایا: اگر ہم زندہ رہے تو ان نیتوں کو پورا کریں گے اوراگر مر گئے تو ہمیں نیت کا اجر حاصل ہوگا۔
۵۔ اس طرح بعض فاضل صوفیہ رحمہم اللہ تعالیٰ کو بعد انتقال خواب میں دیکھا گیا، ان سے کہا گیا۔ اللہ تعالیٰ نے اپ کے ساتھ کیا معاملہ کیا؟ کہا: مجھے بخش دیا اور میرے درجات بلند کردیے’’ کہا: کس عمل کی وجہ سے؟ انھوں نے فرمایا: ھہنا یعا ملون بالجود لا بالرکوع والسجود و یعطون بالنیۃ لا بالخدمۃ و یغفرلہم بالفضل لا بالفعل’’ یعنی اس جگہ معاملہ جو دو بخشش سے ہوتا ہے نہ کہ رکوع و سجود سے اور نیت سے دیتے ہیں نہ کہ خدمت سے اور لوگوں کو فضل سے بخشتے ہیں نہ کہ عمل سے۔
تقسیم اوقات:
چوں کہ کمال یہ ہے کہ جملہ اوقات کو طاعات و عبادات میں صرف کرے جب کہ نفس فطری طور پر ایک حال پر اور ایک طرز پر نہیں رہ پاتا ہے، اس لیے مختلف احکام شرعیہ میں یہ
حکمت ہے کہ نفس ملال میں نہ پڑے اور بوجھل نہ ہو، مختلف اوراد و وظائف اور طاعات و عبادات کو بزرگوں نے اسی لیے مختلف اوقات پر تقسیم کیا، معلوم رہے کہ انسان کے مختلف ادوار ہوتے ہیں ایک زمانہ ہوتا ہے تحصیل کمالات کا جیسے علما سے علوم دینیہ کی مشائخ سے علوم طریقت و معارف و حقیقت کی تحصیل اور منازل سلوک و جذب طے کرنا، اکتساب کمالات کر کے بلند مقامات حاصل کرنا اگرچہ علوم ظاہرہ و باطنہ کی کوئی حد و نہایت نہیں، نہ ان کے عشاق کا آخری وقت تک ان سے پیٹ بھرتا ہے مگر پھر بھی ان میں تکمیل کی ایک حد ایسی ہے جہاں پہنچ کر ان علمی و روحانی فوائد و فیوض سے دوسروں کو نواز سکتا ہے۔ اسی طرح ایک زمانہ ہوتا ہے استفادہ اور استفاضہ کا اور ایک زمانہ ہوتا ہے افادہ و افاضہ کا اور یہ سارے نیک، اہم اور آخرت کے لیے مفید تر کام ہیں کہ اس میں دوسروں کی بھلائی و نفع ہے۔ بزرگوں نے فرمایا: علم حاصل کرنا اور مجالس علمیہ میں حاضر ہونا اوراد و نوافل سے افضل ہے اسی طرح طلباء وغیرہ کا تعلیم و تدریس میں اشتغال فرائض و سنن کے بعد سب سے افضل ہے۔ علوم ظاہرہ میں اشتغال کا جب یہ عالم ہے تو باطن کی تعمیر و تکمیل کر کے اخلاق رذیلہ کو پاک کرنا اور اخلاق حسنہ سے آراستہ کرنا اور قرب خداوندی کی اعلیٰ فضاؤں میں پرواز کے لیے تیار کرنا کس قدر فضیلت کا باعث ہے۔ غرضیکہ ہر بندے کو چاہیے کہ وہ اپنی عزیز حیات کی قدر کرے اور ایسا نظام بنائے کہ کوئی لمحہ ضائع نہ جائے، استفادہ و استفاضہ کے زمانے میں علوم شریعت و طریقت کی خوب تحصیل کرے اور جو کچھ صلاحیت و استعداد پیدا کر سکتا ہے کرے اور ان امور کو ملحوذ رکھے جو ابھی ہم اوپر بیان کر آئے کہ طاعات میں کس طرح مستغرق رہ سکتا ہے۔
حضرت علامہ نو وی رحمہ اللہ تعالیٰ ‘سلالم الفضلاء’ میں فرماتے ہیں: مناسب یہ ہے کہ اپنا وقت لوگوں کو علمی نفع پہنچانے میں صرف کرو یعنی تدریس و تعلیم اور مطالعہ کتب میں صرف کرو اگر عالم اور اگر متعلم ہو تو دین میں علم نافع کی طلب میں مشغول ہو جاؤ پھر تم باقی اوقات کو وظائف و عبادات جیسے نفلی نمازیں، تلاوت قرآن، ذکر اور تسبیح میں اور مسلمانوں کی امداد و اعانت
کرکے ان کے دلوں کو خوش کرے پھر باقی کو کمائی میں تلاوت قرآن یا ذکر و تسبیح کے ساتھ اس نیت سے کہ جو بچے گا صدقہ دیں گے یہ حلال کمانا ذکر کے ساتھ تنہا ذکر سے افضل ہے کیوں کہ اس نیت سے کمانا تمھارے لیے فی نفسہ عبادت ہے تم کو اللہ تعالیٰ سے قریب کرے گا اور مسلمانوں کی امداد و اعانت کی وجہ سے اجر چند گنا ہو گا کیوں کہ مباح بھی اچھی نیت سے طاعت ہو جاتا ہے جیسا کہ طاعت بری نیت سے معصیت ہو جاتی ہے۔
صاحب کفایۃ الاتقیاء فرماتے ہیں: اپنے اوقات کو تقسیم کرو ، ہروقت کو ایک معین طاعت میں صرف کرو۔ اور اد و وظائف کو خود پر معین کرو اور ہر وقت کے لیے ایسا شغل معین کرو کہ جس سے تجاوز نہ ہو ۔ طاعات کے لیے تقسیم اوقات کا حکم دینے کا سبب یہ ہے کہ نفس جب طاعات کے ایک نہج پر رہتا ہے ملال میں مبتلا ہو تا ہے اور بوجھل ہوتا ہے کیوں کہ ملال پر مجبول و مخلوق ہوا ہے، لہٰذا لطف و مہربانی یہ ہے کہ وہ ایک قسم کے فعل و عمل سے دوسرے کی طرف منتقل ہو وقت کے اعتبار سے تاکہ اس کی لذت میں اضافہ ہو اور لذت کی وجہ سے رغبت بڑھے اور رغبت کے دوام سے اعمال میں مواظبت اور ہمیشگی پیدا ہو گی اس لیے اوراد کو مختلف طرح سے تقسیم کیا جاتا ہے اور ذکر و فکر کے لیے مناسب ہے کہ جمیع اوقات یا اکثر مستغرق ہوں کیوں کہ نفس بالطبع لذائذ دنیا کی طرف مائل ہے۔ حضرت امام غزالی قدس سرہٗ احیاء العلوم میں فرماتے ہیں: جو بغیر حساب جنت میں داخل ہونا چاہتا ہے اسے چاہیے کہ اپنے جمیع اوقات کو طاعت میں مصروف رکھے اور جو چاہتاہے کہ اس کی نیکیوں کا پلہ بھاری ہو اور اس کی بھلائیاں میزان پر ثقیل ہوں تو اکثر اوقات کو طاعت میں مستغرق رکھے اگر کچھ برے عمل اچھے کے ساتھ مخلوط ہوں تو اس کے معاملہ پر نظر ہے لیکن معافی کی امید ہے ہوسکتا ہے اللہ تعالیٰ اپنے جود و کرم سے بخش دے۔
فائدہ:
اس فقیر مجددی عفی عنہ کے رسالہ ‘سلسلۂ نقش بندیہ اور اس کا سلوک’ میں مریدوں کے
لیے ذکر و عبادت کا جامع نظام الاوقات آغاز میں ذکر کردیا ہے اور آخر میں اشخاص کے اقسام اور ان کی قدرے تربیت بھی ذکر کردی ہے اور اسی کتاب میں نقشبندی اشغال و اوراد ذکر کر دیے اس کے علاوہ کتاب ‘اشغال طریقت’ میں بقیہ تینوں سلاسل قادریہ، چشتیہ اور سہروردیہ کے اشغال و اذکار سپرد قلم کر دیے ہیں، بزرگوں نے وصیت کی ہے کہ مختلف نمازوں کے مختلف اذکار اختیار کرے۔ مذکورہ دونوں کتابیں وہ ہیں جن میں چاروں مشہور سلاسل کے اذکار و اشغال طریقت بہ آسانی معلوم ہو جائیں گے ان کے علاوہ عام اذکار اور مسنون ادعیہ و اذکار پر مشتمل کتاب ‘ذکر و فکر’ بے پناہ مفید ہے۔
اہم تنبیہ:
نماز با جماعت حضور قلب کے ساتھ اور نہایت خشوع و خضوع سے ادا کریں اور ہر قول و عمل میں اخلاص اور رضاے الہٰی کی نیت ہو نیزصرف اتباع سنت میں کریں اور مرشد کامل کی توجہات حاصل کرتے رہیں، پاک و حلال لقمہ کھائیں اور دائمی ذکر کی کوشش کریں ترقی کے لیے کافی ہے۔
اب کچھ متفرق امور سپرد قلم کرتے ہیں جو ہر سالک کے لیے مفید ہیں خواہ وہ کسی سلسلہ کا ہو۔
وقت صبح کی فضیلت:
حضرت امام غزالی قدس سرہٗ فرماتے ہیں کہ طلوع فجر تا طلوع شمس نفیس وشریف وقت ہے جن کے شرف و فضل پر اللہ تعالیٰ کی قسمیں دلالت کرتی ہیں اللہ تعالیٰ نے قسم کھاتے ہوئے فرمایا: (۱) ‘‘وَالصُّبْحِ إِذَا تَنَفَّسَ’’ صبح کی قسم جب وہ روشن ہو جائے۔ (۲) نیز اللہ تعالیٰ نے اپنی مدح میں فرمایا: ‘‘فَالِقُ الْإِصْبَاح’’ صبح کو چیرنے والا۔ (۳) بندوں کی رہنمائی فرمائی کہ وقت صبح میں اللہ تعالیٰ کی پاکی اور تسبیح بیان کرو، ارشاد ہے : ‘‘وَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّکَ قَبْلَ طُلُوۡعِ الشَّمْسِ وَ قَبْلَ غُرُوۡبِہَا’’ اپنے رب کی پاکی حمد کے ساتھ کرو سورج کے طلوع سے قبل اور غروب
سے پہلے (۴) ارشاد باری تعالی ہے: ‘‘وَ مِنْ اٰنَآیِٔ الَّیۡلِ فَسَبِّحْ وَ اَطْرَافَ النَّہَارِ لَعَلَّکَ تَرْضٰی’’ اور رات کی گھڑیوں میں اس کی پاکی بولو اور دن کے کناروں پر اس امید پر کہ تم راضی ہو (۵) اللہ جل و علا فرماتا ہے: ‘‘وَ اذْکُرِ اسْمَ رَبِّکَ بُکْرَۃً وَّاَصِیۡلًا’’ اپنے رب کا نام ذکر کرو صبح اور شام۔
آیت نمبر ۳ سے غروب سے قبل وقت کی فضیلت معلوم ہوئی، حدیث میں ہے کہ جو عصر سے مغرب ذکر میں مشغول رہا اسے چار غلام آزاد کرنے کا ثواب ملے گا۔ اور فجر تا اشراق کا تو بہت ثواب احادیث کریمہ میں منقول ہے، اسی طرح آغاز ظہر کو تہجد کے مثل قرار دیا گیا ہے، اللہ والے اکثر آغاز وقت ظہر ہی عبادت میں مصروف ہو جاتے اور اس سے پہلے کچھ کھا کر قیلو لہ فرما لیتے ہیں غرضیکہ یہ سب نہایت مبارک و مسعود اوقات ہیں پھر تہجد کا تو کہناہی کیا؟ کچھ فضائل ہم کتاب ‘سلسلۂ نقش بندیہ اور اس کا سلوک’ میں بیان کر چکے ہیں۔
بعض اذکار:
حضرت امام غزالی قدس سرہٗ فرماتے ہیں کہ جب وقت صبح کا فضل معلوم ہو گیا تو چاہیے کہ بندہ بیٹھے اور طلوع شمس تک گفتگو نہ کرے بلکہ طلوع شمس تک اس کا وظیفہ چار چیزیں ہوں (۱) دعائیں (۲) اذکار اور ان کی تسبیح کے ذریعہ تکرار کرے۔ (۳) تیسری چیز تلاوت قرآن اور (۴) چوتھی تفکر اور اس کی کیفیت دو فنوں کی طرف راجع ہوتی ہے ایک یہ کہ جو معاملہ اسے نفع دے اس میں غور کرے اسی طرح کہ ان تقصیرات میں اپنے نفس کا محاسبہ کرے جو اس سے ہو چکیں پھر موجودہ دن کا وظیفہ مرتب کرے اور توجہ إلی اللہ اور خیر میں جو امور مانع و مخل ہو سکتے ہیں ان کا دفاع سوچے، اپنی تقصیر یاد کرے اور اعمال میں جو خلل واقع ہوا، وہ بھی تاکہ اصلاح کر سکے اوراپنے دل میں نیک اور صالح نیتیں حاضر کرے جن کا تعلق ان اعمال سے ہو جو خاص اس کی ذات سے متعلق ہیں اور ان سے جو مسلمانوں سے وابستہ ہیں۔
دوم یہ کہ ان امور میں غور کرے جو علم مکاشفہ میں کام آئیں اس کی صورت یہ ہے کہ کبھی اللہ
>>>>>>>>>>>>
۔ کفایۃ الاتقیاء ص:۴۶
تعالیٰ کی نعمتوں میں غور کرے ، پھر متواتر طور پر ان کا بندوں تک پہنچنا نعمتیں خواہ ظاہرہ ہوں یا باطنہ اس تفکر سے نعتموں کے تعلق سے اس کی معرفت زیادہ ہو گی پھر ان پر کثرت سے شکر کرے، اور کبھی اللہ تعالیٰ کی سزاؤں اور عذابوں میں غور و فکر کرے تاکہ قدرت حق و استغناے حق کی معرفت میں اضافہ ہواور بندے پر خوف غالب ہو، جب تفکر میسر آئے تو یہ اشرف عبادت ہے کیوں کہ اس میں ذکر اللہ کے معنی بھی ہیں اور دوامر زائد بھی ہیں ایک معرفت کی زیادتی کیوں کہ فکر کشف و معرفت کی کنجی ہے، دوسرے محبت کی زیادتی کیوں کہ قلب صرف اس سے محبت کرتا ہے جس کی تعظیم کا مقید ہوتا ہے اور عظمت الہٰی کا انکشاف اللہ تعالیٰ کی صفات اور اس کی قدرت اور ان کے عجائب افعال کی معرفت سے ہوتا ہے چوں کہ فکر سے معرفت اور معرفت سے تعظیم اور تعظیم سے محبت میں اضافہ ہوتا ہے۔
ذکر و درود میں اشتغال کی کیفیت یہ ہے کہ وہ اس وقت بھی گفتگو نہ کرے قبلہ رو اور مراقب ہو یہاں مراقبہ سے یہ مراد ہے کہ قلب کو معلوم رہے کہ خدا وند قدوس ہمیں دیکھ رہا ہے بعض نے فرمایا قلب ہمیشہ یاد رکھے کہ خدا دیکھ رہا ہے باقی اذکار ہماری مذکورہ بالا کتابوں سے طلب کر سکتے ہیں یا مشائخ کی دیگر کتابوں سے۔
دواے قلب:
غیر اللہ کی محبت قلب کا سب سے بڑا مرض ہے بزرگوں نے صلاح قلب کے لیے، پانچ دوائیں لکھی ہیں: (۱)تلاوت قرآن (۲) پیٹ کو خالی رکھنا (اخلاء البطن) (۳) شب بیداری (۴) وقت سحر تضرح و زاری یعنی آہ و فغاں وغیرہ (۵) صالحین کی ہم نشینی اور صحبت و مجالست، بعض نے حلال کھانا بھی شمار کیا ہے۔