مواد پر جائیں

باب ۴ از ۸صفحات ۳۸–۴۸

فضائل و فوائد

زہد کے فضائل اور فوائد ان گنت اور لا تعداد ہیں رسول پاک ﷺ نے ارشاد فرمایا: کوئی بندہ دنیا میں زہد اختیار نہیں کرتا ہے مگر اللہ تعالیٰ اس کے دل میں حکمت پیدا کردیتا ہے اور اس کی زبان حکیمانہ باتیں کرتی ہے ایسے شخص کو اللہ تعالیٰ دنیا کا عیب اس کی بیماری اور دوادکھادیتا ہے اور دنیا سے اسے صحیح و سالم دار آخرت کی طرف لے جاتا ہے۔ ؂

دوسری حدیث میں ہے ‘‘زہد دنیا میں قلب و بدن کی راحت ہے اور دنیا کی رغبت، فکر اور غم کو بڑھاتی ہے اور طاعت الہٰی میں کوئی بندہ کمی نہیں کرے گا مگر اللہ تعالیٰ اسے غم میں مبتلا کرے

...................

۔ سلالم الفضلاءعلیٰ ھامشۃ کفایۃالاتقیاء،ص:۲۰

۔ بیہقی، شعب الایمان ۷؍۳۴۶رقم:۱۰۵۳۲

گا۔’’ (امام احمد) نیز روایتوں میں آیا ہے کہ‘‘جو چاہتا ہے کہ اللہ تعالیٰ بغیر سیکھے اسے علم دے اور بغیر طلب ہدایت کے اسے ہدایت دے تو اسے چاہیے کہ دنیا میں بے رغبت ہو جائے یعنی زاہد ہو جائے۔’’ نیز سرکار مدینہﷺ کا فرمان عالی شان ہے کہ جسے تم دیکھو کہ اسے دنیا میں زہد اور کم بولنا دیا گیا تو تم اس کے قریب ہو جاؤ کیوں کہ وہ حکمت ڈالتا ہے یعنی ان دقائق اشارات کی تعلیم دیتا ہے جو امراض قلب کے لیے شفا اور اتباع خواہش نفس سے مانع ہیں۔

علماے کرام فرماتے ہیں مال کا نہ ہونا زہد نہیں ہے بلکہ مال سے تعلق قلبی ختم ہو جانا زہد ہے۔ حضرت سلیمان علیہ السلام بظاہر بے شمار مال و متاع رکھتے تھے، لیکن دل کا عزت و دولت سے کوئی تعلق نہ تھا آپ خود جو کی روٹی کھاتے اور دوسروں کو بہترین کھانا کھلاتے تھے تو ان کی مالداری کی وجہ سے یہ نہیں کہا جائے گا کہ وہ زاہد نہ تھے بلکہ بڑے زاہد تھے اسی طرح اس امت کے اغنیاء صحابہ کرام اور اغنیاء اولیاء کرام علیہم الرضوان یہ سب بظاہر مال رکھ کر بھی مال سے بے تعلق تھے اس کے لیے قلب میں جگہ نہ تھی۔

محبوبیت کا سبب:

جو بندہ اپنے قلب کو اللہ تعالیٰ کے لیے دنیا و مافیہا سے پاک و صاف اور بے تعلق کر لیتا ہے اللہ تعالیٰ اسے اپنا محبوب بنا لیتا ہے، حدیث شریف میں ہے ‘‘إزہدفی الدنیا یحبک اللہ و ازھد فیما عند الناس یحبک الناس’’ یعنی دنیا سے بے رغبت ہو جاؤ اللہ تعالیٰ تمھیں محبوب بنا لے گا اور جو لوگوں کے پاس (عزت و دولت) ہے اس سے بے رغبت ہو جاؤ تو لوگ تم سے محبت کریں گے۔ ؂

لوگ اس سے عداوت کرتے ہیں جو ان کے حصول دنیا میں سد راہ ہوتا ہے جب یہ کسی کی دنیا کے لیے ضرری نہیں ہوگا تو لوگ کیوں عداوت کریں گے ؟بلکہ تارک الدینا حضرات سے محبت کرتے ہیں۔

......................

۔ ابن ماجہ،مسند شہاب للقضاعی۱ ؍۳۷۳

صوفیہ کرام نے تقویٰ کے بعد سب سے اعلیٰ مقام زہد کو بتایا ہے زہد چوں کہ اللہ کی محبت کا سبب ہے تو بھلا اور اس سے بڑھ کر اور کون سی اعلیٰ نعمت ہے! معلوم رہے کہ حق تعالیٰ کی خاطر ماسوائے حق کو چھوڑ دینا اور سب سے رخ پھیر کر اسی خالق و مالک جل و علا کی طرف کامل طور پر متوجہ ہو جانا یہ ہر کس و ناکس کا کام نہیں اور نہ بغیر توفیق الہٰی کے یہ ہوسکتا ہے، ایسے زاہد بندے بہت کم پیدا ہوتے ہیں ان کی قدر کرنی چاہیے آج بہت سے شعراء زاہدوں کا مذاق اڑاتے ہیں اور زہد پر تنقید کرتے ہیں اور خود کو محبت و الفت کا حامل بتاتے ہیں اگر سچے زاہد وں کا کوئی مذاق اڑاتا ہے تو بڑی قبیح و شنیع بات ہے، صوفیہ کرام کے مقامات سلوک سے بہت بڑے اعلیٰ مقام کا نام زہد ہے، بعض بزرگوں کے کلام میں بھی اس طرح کی تنقید ہوتی ہے مگر ان کی کیفیت کچھ اور ہوتی ہے اور مقصد کچھ اور۔

رغبت دنیا:

جسے زہد حاصل نہیں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ دنیا و مافیہا کی محبت کا رسیا ہے ایسے شخص کی مثال علما فرماتے ہیں کہ نشہ والا (سکران) اور ڈوبنے والا (غریق) کی طرح ہے جو کبھی راہ تک نہیں پہنچ پاتا ہے بلکہ ہمیشہ یہی کہتا ہے ’’این الطریق’’ راستہ کہاں ہے؟ ‘‘این الخلاص’’ چھٹکارا کہاں؟ اس لیے اس کا ظاہر دنیا کی طلب میں مشغول اور باطن اس کے ارادے میں کیوں کہ اس کا ارادہ جب دل میں راسخ ہوجاتا ہے تو اس کا اثر اعضاء و جوارح پر ظاہر ہوتا ہے کہ ہر محنت و تکلیف اٹھا کر حاصل کرتا ہے کیوں کہ اس کے حصول کے لیے قتال و جدال تک کرتا ہے، ایسے لوگوں سے اللہ لذت قناعت چھین لیتا ہے اور زاہدوں کی سیاست قلب و نفس سے یہ ممنوع ہوجاتا ہے کیوں کہ دل جب نعمت قناعت سے محروم ہو گیا تو وہ کبھی سیر نہیں ہوتا ہے نہ کبھی اس کا پیٹ بھرتا ہے اگر چہ ساری دنیا مل جائے تو ایسی صورت میں طاعت کی توفیق کس طرح حاصل ہو سکتی ہے؟

زہد کی علامت:

حضرت امام محمد غزالی قدس سرہٗ فرماتے ہیں ’’زہد دنیا’’ مقامات سالکین سے بزرگ مقام ہے یہ تین امور علم، حال اور عمل سے مل کر بنتا ہے جیسا کہ باقی مقامات بھی انھیں تین امور سے مرکب ہوتے ہیں کیوں کہ ایمان کے جملہ دروازے قلب اور قول و عمل کی طرف راجع ہوتے ہیں زاہد کو چاہیے کہ باطن میں تین علامتوں پر اعتماد کرے؛ اول یہ کہ موجود پر خوش نہ ہو اور مفقود پر غمزدہ نہ ہو بلکہ زاہد کو چاہیے کہ وہ ان دونوں کی ضد پر ہو یعنی وجود سے غمگین ہو اور اس کے عدم پر خوش ہو۔

دوم یہ کہ اس کی مدح و ذم کرنے والا اس کی نظر میں برابر ہوپس پہلی چیز ‘‘زہد فی المال’’ کی علامت ہے اور دوم ‘‘زہد فی الجاہ’’ کی اور سوم یہ کہ اس کے قلب کا انس و محبت اللہ تعالیٰ کے ساتھ ہو اور اس کے قلب پر حلاوت طاعت و غالب ہو۔

علما کے لیے زہد:

روایتوں میں ہے کہ جس نے علم زیادہ حاصل کیا اور دنیا سے زہد زیادہ نہ کیا تو اللہ تعالیٰ سے دوری کے سوا اسے کچھ حاصل نہیں۔ امام دیلمی نے حضرت علی کرم اللہ وجہہ سے روایت کیا کہ علما بہ نسبت غیر ‘‘زہد فی الدنیا’’ کے زیادہ حقدار ہیں، کسی نے کہا ہے۔؏

’’چوں کفر از کعبہ بر خیز د کجا ماند مسلمانی‘‘

جب کعبہ سے کفر نکلے گا تو مسلمانی کہاں رہے گی؟ جب علما ہی دنیا کے دل دادہ ہو جائیں، انھیں کے لبوں پر ہر وقت دنیا ہو اور وہ اپنی ساری خدمتیں دنیا کے معاوضہ میں کرنے لگیں تو عوام کے بارے میں کیا پوچھنا؟ مشائخ جن کا کام ہی دلوں سے حب دنیا کو محو کرنا اور طلب آخرت پھر طلب مولیٰ پیدا کرنا تھا جب وہی مختلف حیلوں سے ہر وقت دنیا بٹورنے میں لگے ہیں تو مریدوں کے بارے میں کیا عرض کیا جائے؟ مرید تو پھر بھی غنیمت ہے کہ کما کما کر خدا کو راضی کرنے کے لیے پیر صاحب کو نذرانہ دیتا ہے، حب دنیا نے یکسر پانسہ پلٹ دیا اب دنیا کے بغیر کوئی

خدمت نہیں اسی لیے علماء و مشائخ کا دلوں سے لگاو نکل گیا۔

اسباب سلامت:

زہد کے لوازم سے ہے کہ جو کچھ لوگوں کے پاس دنیا کا جاہ و مال و متاع ہے اس سے امید ختم کر دے اور جو اس کے پاس ہے وہ لوگوں پر خرچ کردے لہٰذازہدبھی سلامتی کے اسباب سے ہے۔

حضرت امام احمد بن حنبل رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضرت حاتم اصم رضی اللہ عنہ سے پوچھا دنیا سے سلامتی کا طریقہ کیا ہے؟ فرمایا: چار خصلتیں اختیار کرلو۔

۱۔ قوم کے جہل کو معاف کرو یعنی بر بنائے جہالت لوگ جو تمھیں ایذا دیں تم معاف کردو۔

۲۔ ان کے تعلق سے تم جہالت سے کام نہ لو یعنی تم کسی کی عزت کے پیچھے نہ پڑو کہ تم اسے ایذا دو۔

۳۔ تم لوگوں کی عطاؤں سے مایوس ہو جاؤ۔

۴۔ جو تم سے ہو سکے ان پر خرچ کرو۔

معلو رہے کہ بزرگوں نے فرمایا اور تجربہ شاہد ہے کہ یہ چاروں خصلتیں انسان کو خلق کا محبوب بناتی ہیں جو انسان بجائے ضررکے لوگوں کو نفع پہنچائے گا لا محالہ لوگ اسے چاہیں گے۔

دعوت کے لیے مفید کام:

دعوت کے لیے سب سے مفید و مؤثر زندگی نفع رساں زندگی ہے اللہ تعالیٰ کے لیے لوگوں کی خدمت بے پناہ اجر و ثواب کا باعث ہے ،احادیث صحیحہ سے ثابت ہے کہ کتے کو پانی پلانے پر اللہ تعالیٰ نے بخش دیا اور بلی کو باندھے رکھا نہ کھلایا نہ چھوڑا یہاں تک کہ وہ تڑپ تڑپ کر مر گئی تو اللہ تعالیٰ نے ظالمہ عورت کو دوزخ میں ڈال دیا۔

پہلے کے لوگ اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ نعمتوں میں دوسروں کا بھی حق سمجھتے تھے اب ہر ایک لینے کے چکر میں ہے، مگر وہ بندے جو دوسروں کو دیتے ہیں لوگ آج بھی ان سے محبت کرتے ہیں:

۔تعلم علم شرعی:

وصایا تسعہ سے چوتھی وصیت علوم شرعیہ کا سیکھنا ہے ان کے نزدیک علم شرع وہ ہے جس سے عقیدہ صحیح ہو یعنی اہل سنت و جماعت کے مطابق عقائد ہوں دوسرے وہ علم جس کا تعلق طاعت و عبادت سے ہے۔

تیسرا وہ علم جس کے ذریعہ نفس کا تزکیہ و قلب کا تصفیہ حاصل ہو اور انسان برے اخلاق، کبر و حسد اور بغض وغیرہ سے بچ جائے اور اخلاق حسنہ سے آراستہ ہو جائے یہ وہ علوم ہیں جودنیا و آخرت کے لیے ضروری اور دونوں جہاں میں کار آمد، مفید اور انسان کی ابدی تعمیر حیات انھیں پر موقوف ہے۔ آج لوگ دنیا کے لیے نا معلوم کیا کیا پڑھا رہے ہیں، پڑھ رہے ہیں مگر مذکورہ علوم سے غافل ہیں، خود علماء و حفاظ و قرا اور مشائخ یعنی جو دینی رہبر کہلاتے ہیں انھیں پر واہ نہیں نہ انھیں مکمل اعتقادیات کا علم ہے نہ عملیات کا اور نہ اخلاق کا، عمل کی طرف تو کوئی رغبت ہی نہیں حیرت کی بات یہ کہ مدارس و جامعات سے بہت سے لوگ علوم عربیہ کے ماہر بن کر نکل رہے ہیں مگر علم الاخلاق سے بالکل کورے۔ انسان طبعی و پیدائشی طور پر بری صفات یعنی اوصاف ذمیمہ و اخلاق رذیلہ کی طرف مائل ہوتا ہے کیوں کہ نفس امارہ جو منبع شرو فساد ہے وہ ساتھ لگا ہوا ہے ان بری صفات کو خود سے دور کرنا اور ان کی جگہ اخلاق حسنہ و اوصاف حمیدہ پیدا کرنا اور خود کو ان سے آراستہ کرنا نہایت دشوار کام ہے اس کے لیے ضروری ہے کہ اچھے برے اوصاف و اخلاق کا علم حاصل کرے اور پھر بروں کے ازالے کے طریقے سے واقفیت بھی حاصل کرے اور یہ بھی جانے کہ ہم ان کی جگہ اچھے اخلاق کیسے پیدا کرسکتے ہیں ؟در اصل تصوف کا سب سے اہم کام یہی ہوتا ہے کہ وہ برے اخلاق و اوصاف کا ازالہ کر کے اس کی جگہ اچھے اوصاف و اخلاق پیدا کرے، احادیث کریمہ میں اچھے اخلاق پر بہت زیادہ زور دیاگیا ہے۔

معلوم ہو کہ علماے کرام نے ان تینوں قسموں کے علوم کو فرض عین رکھا ہے یعنی ان کا سیکھنا ہر مرد و عورت عاقل و بالغ پر فرض ہے اور یہی در اصل علوم نافعہ ہیں۔

فوائد علم نافع:

جو انھیں سیکھے اور ان پر عمل کرے اسے دنیا و آخرت میں بلندی حاصل ہوگی۔

ارشاد باری تعالی ہے:

یَرْفَعِ اللہُ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا مِنۡکُمْ وَ الَّذِیۡنَ اُوۡتُوا الْعِلْمَ دَرَجٰتٍ ؂

ترجمہ: تم میں جو ایمان لائے اور جنھیں علم دیا گیا اللہ تعالیٰ انھیں درجوں بلند فرمائےگا۔’’

مفسرین نے فرمایا کہ ایمان والوں کو ایک درجہ بلند فرمائے گا اور جنھیں ایمان کے ساتھ علم دیا گیا انھیں درجات کثیر ہ عطا فرمائے گا۔

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ بروز قیامت عام مومنین پر اللہ تعالیٰ علماے کرام کو سات سو درجہ بلند فرمائے گا اور ہر دو درجہ کے درمیان پانچ سو برس کی راہ کا فاصلہ ہوگا۔ ؂

قرآن و حدیث نے علم اور علماے دین کے بے شمار درجات بیان فرمائے ہیں کہ ‘‘علم کی طلب جنت تک پہنچاتی ہے’’ اور ‘‘ملائکہ کرام طالب علم کی تعظیم کرتے ہیں’’ اکرام علم کی وجہ سے فرشتے اس کی تعظیم کرتے ہیں جو ملکوت سمٰوٰت میں معظم و مکرم ہوتا ہے۔ ؂

نیز نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ عالم کے لیے زمین اور آسمان والے دعاے مغفرت کرتے ہیں ؂ وغیرہ وغیرہ علماے کرام نے اس تعلق سے متعدد کتابیں تصنیف کردی ہیں جو عام طور پر بازاروں میں پائی جاتی ہے فقیر مجددی عفی عنہ کی بھی کچھ منتشر تحریریں اس تعلق سے ہیں۔

۵۔ محافظت سنت:

.................

۔ سورۃ المجادلہ: ۵۸؍۱۱

۔ کفایۃ الاتقیاء ص:۲۴

۔ ایضا ص:۲۴

۔ ایضاص:۲۴

درست راستے کو لغت میں سنت کہتے ہیں۔ فقہاء کے نزدیک سنت وہ ہے جس کے کرنے پر ثواب دیا جائے اور ترک پر عقاب و سزا نہ ہو۔

محدثین کے نزدیک رسول پاک ﷺ کے افعال و اقوال اور احوال کو سنت کہتے ہیں۔ بزرگوں نے فرمایا جو رضاے الہٰی کا طالب ہے اس کے لیے ضرروی ہے کہ وہ ان آداب و سنن کی محافظت کرے جو رسول پاک ﷺ سے مروی و ماثور ہیں؛ کیوں کہ دل کو روشن کرنے اور باطن کی تعمیر میں اتباع سنت کو بہت دخل ہے، سنت کی قدرو منزلت در اصل وہ لوگ اچھی طرح جانتے ہیں جن پر کمالات سنت منکشف ہوئے۔ حضرت مجدد الف ثانی قدس سرہٗ فرماتے ہیں کہ انوار الہٰیہ مجھ پر موسلا دھار بارش کی طرح برستے ہیں مگر میری تمنا ہے کہ سرکار علیہ الصلاۃ والسلام کی سنتوں سے کوئی سنت زندہ کرلے جاؤں، محققین ارباب کشف صوفیہ نے سب سے بڑا مجاہدہ ہر حال میں سنت کی پیروی کو قرار دیا ہے سنت کی اہمیت و عظمت اور افادیت کو اگر دیکھنا ہے تو حضرت مجدد اور ان کے فرزندان گرامی قدس اللہ تعالیٰ اسرارہم العالیہ کے مکتوبات، ارشادات اور عمل سنت پڑھیے۔

حضور قطب الطرائق سیدنا خواجہ بہاء الدین نقشبند قدس سرہٗ کے طریقے کی بنیاد ہی اتباع سنت پر ہے اور ان کی بدولت جس قدر ان کے سالکین بلند مقامات پر جلد پہنچتے ہیں دیگر لوگ دیکھ کر محو حیرت ہوتے ہیں اور تعجب کرتے ہیں کہ اس قدر بلندیاں کیونکر نصیب ہوئیں؟

التصوف کلہ لھو الادب:

حضرت زین الدین قدس سرہٗ تصوف کے ادب ہونے کے متعلق فرماتے ہیں کہ محافظت سنن و آداب میں سب سے زیادہ نفع اندوز (اور پیش رو) اور ظاہر و باطن میں اخلاق نبوی سے سب سے زیادہ متخلق اور آراستہ ہونے والے صوفیہ کرام ہیں اور انھوں نے اس کے ذریعہ بلند مراتب اور عظیم مقامات پائے تو انھوں نے ان سنن و آداب کو تصوف کار کن اعظم جانا اور فرمایا ‘‘التصوف کلہ لھو الادب’’ یہ ایسا ہی ہے جیسا حدیث میں فرمایا ‘‘الحج عرفۃ’’ یعنی حج کا سب

سے بڑا رکن عرفات کی حاضری ہے اسی طرح تصوف کا سب سے بڑا رکن سنن کے آداب کی محافظت ہے۔ ؂

حضرت ابو حفص حدادقدس سرہ فرماتے ہیں کہ سارا تصوف ادب ہے، ہر وقت کے لیے ادب ہے، ہر حال کے لیے ادب ہے، ہر مقام کے لیے ادب ہے، پس جس نے اوقات کے آداب کا لحاظ رکھا مردوں (کا ملین) کی منزل پر پہنچ گیا اور جس نے آداب ضائع کیے وہ اس جگہ سے ہی دور ہے جسے قرب گمان کیا جاتا ہے اور اس جگہ سے مردود ہے جس جگہ قبول کی امید ہے۔ ؂

آداب الاوقات:

بزرگوں کے یہاں اوقات کے آداب سے مراد وہ حقوق ہوتے ہیں جو ان اوقات کے ذریعہ ثابت ہوتے ہیں، یعنی وظائف، عبادات ظاہر، نماز روزہ وغیرہما اور معاملات با طنہ جن کا تقاضہ بندے کے احوال کرتے ہیں، حضرت سیدی ابو العباس مرسی رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں بندے کے اوقات صرف چار ہیں: (۱) نعمت (۲) بلا (۳) طاعت (۴) معصیت۔ اللہ تعالیٰ کا ہر بندے پر ہر وقت میں عبودیت کا ایک حصہ ہے بحکم ربوبیت یعنی وہ ہر گھڑی پالتا ہے لہٰذا یہ پرورش کرنا بندے پر عبودیت کو ثابت کرتا ہے کہ بندے پر حق ہے کہ وہ اس کی بندگی کرے؛ لہٰذا جس کا وقت بندگی میں گذرتا ہے اس بندے کو چاہیے کہ اس کے قلب و ذہن میں بسا رہے کہ اللہ تعالیٰ کا احسان ہے کہ اس نے طاعت کی ہدایت اور توفیق دی اور جس کا وقت گناہ اور معصیت میں گذرے تو حق اللہ کا تقاضہ ہے کہ بندہ استغفار کرے اور ندامت کے آنسو بہائے اور جس کا وقت نعمت میں گذرے اس کا تقاضہ شکریہ اور اللہ تعالیٰ سے بندے کے دل کا خوش ہوناہے اور جس کا وقت بلا اور آزمائش میں گذرے تو اس کا راستہ یہ ہے کہ بندہ اللہ تعالیٰ کے

...............

۔ کفایۃ الاتقیاء ص:۲۵

۔ ایضاص:۲۵

فیصلوں پر راضی رہے یعنی رضا بالقضا اور صبر۔ ؂

حدیث شریف میں ہے ‘‘جسے نعمت ملی اس نے شکر کیا، جو مبتلاے آلام ہوا اس نے صبر کیا اور جس پر ظلم ہوا اس نے معاف کردیا یا ظلم کیا تو مغفرت طلب کی۔ اتنا فرما کر سر کار علیہ السلام خاموش ہو گئے، لوگوں نے عرض کیا: ایسے اشخاص کے لیے کیا ہے؟ فرمایا ان کے لیے امن ہے اور وہ ہدایت یافتہ ہیں۔’’ ؂

ہادی کل ﷺ:

حضرت سرور عالم ﷺ ہی راہ خدا کے ہادی ہیں آپ کے سنن و آداب کی اتباع ہی اللہ عزوجل تک پہنچاتی ہے چناں چہ بزرگوں نے سخت تاکید فرمائی ہے کہ نبوی شمائل و فضائل اور سنن و آداب کا تفصیل سے علم حاصل کیا جائے اور مکمل پیروی کی جائے، حضرت شیخ زین الدین رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:

’’ولاتعدل عن متابعتہ بأن تترک شیئا من الآدب والسنن من غیر عذر لماعلمت أن متابعتہٗ أصل کل خیر و سعادۃِ’’ ؂ یعنی سرکار علیہ الصلاۃ والسلام کی متابعت سے اعراض نہ کرنا کہ تم بغیر عذر آداب و سنن میں سے کچھ چھوڑ دو کیوں کہ تم نے جان لیا کہ حضور جان جہاں ﷺ کی متابعت ہی ہر خیر و سعادت کی اصل اور جڑ ہے، آگے فرماتے ہیں عبد اللہ ابن مبارک رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ جس نے ادب میں سستی کی اسے سنتوں سے محرومی کی سزا دی گئی اور جس نے سنتوں میں سستی کی اسے فرائض سے محرومی کی سزا ملی اور جس نے فرائض میں سستی کی اسے معرفت سے محرومی کی سزا کا شکار ہونا پڑا۔ ؂

...............

۔ کفایۃ الاتقیاء ص:۲۶

۔ ایضاص:۲۶

۔ کفایۃالاتقیاء ص:۲۶

۔ ایضاص:۲۶

جملہ سلاسل کتاب و سنت سے مقید ہیں:

صوفیہ کرام علیہم الرضوان کے سلاسل اگرچہ اپنی بعض خصوصیات میں متعدد و متفرق ہیں جیسا کہ فقیر مجددی عفی عنہ نے اس کو تفصیل سے کتاب ‘‘اختلاف سلاسل کے اسباب’’ میں بیان کیا ہے لیکن اس کے باوجود سب کی اصل کتاب و سنت ہے کوئی بھی ان سے خارج نہیں بلکہ سب انھیں پر مرتب ۔ حضرت امام ابو القاسم نصرآبادی قدس سرہ سرہٗ فرماتے ہیں ‘‘اصل التصوف ملازمۃ الکتاب و السنۃ و ترک الاہواء والبدع و تعظیم حرمات المشائخ و الملازمۃ علی الاورادو ترک ارتکاب الر خص و التا ویلات’’ اصل تصوف کتاب اللہ اور سنت رسول ﷺ کو لازم رکھنا ، بدعات و خواہشات نفسانی کو چھوڑنا ،مشائخ کی حرمتوں کی تعظیم، اوراد و اشغال کی پابندی اور رخصتوں و تاویلات کے ارتکاب کا ترک کرنا ہے۔

حضرت خواجہ ابو الحسن نوری قدسرہٗ فرماتے ہیں: جس کو تم دیکھو کہ وہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ اچھی حالت کا دعویٰ کرتا ہے جو علم شرعی کی حد سے باہر ہے تو اس کے قریب نہ ہونا۔ حضرت غوث پاک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ‘‘اور شریعت کی اتباع دنیا اور آخرت کی سعادت اور نیک بختی ہے تم بچو کہ کہیں اس کے دائرے سے نکلو، اہل اتباع شرع کے اجتماع سے جدا ہونے سے خود کو بچاو’’ نیزآپ قدس سرہٗ فرماتے ہیں: ‘‘اللہ تعالیٰ کے سب سے زیادہ قریب راستہ قانون عبودیت کو لازم رکھنا اور شریعت کی رسی کو مضبوط تھامے رہنا اور جادۂ تقوی پر استقامت ہے، پس اللہ تعالیٰ کی محبت اور اس کے رسول ﷺ کی متابعت میں سب سے زیادہ لوگوں میں حصہ پانے والے صوفیہ کرام ہیں جس نے یہ سمجھا کہ وہ بغیر متابعت کے کسی نفع کو پہنچ سکتا ہے یا کسی مراد میں کامیاب ہو سکتا ہے تو وہ مطرو د ہے۔