مواد پر جائیں

باب ۵ از ۸صفحات ۴۸–۶۲

فرائض و نوافل

حضور مقتداے عالمﷺ کی جن امورمیں متابعت و پیروی کی جاتی ہے ان میں بعض

فرائض ہیں اور بعض نوافل ان دونوں سے جدا جدا قرب وابستہ ہے، حضرت مجدد الف ثانی اور ان کے فرزندوں نے متعدد مکتوبات میں اس قرب کو تفصیل سے بیان فرمایا۔ اس فقیر مجددی عفی عنہ نے بھی ان بزرگوں سے نقل کر کے کتاب ‘‘نبوت و ولایت’’ میں قدرے تفصیل بیان کی ہے۔ حاصل یہ ہے کہ فرائض اس قدر اہم ہیں کہ جو قرب ان سے وابستہ ہے وہ قرب ذات ہے اور نوافل سے وابستہ قرب صفات ہے ان دونوں میں وہی نسبت ہے جو ایک قطرہ کو سمندر سے، معروف و مشہور حدیث قدسی جسے حضرت امام بخاری قدس سرہٗ نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے بایں الفاظ بیان فرمایا:

‘‘إن اللہ تعالیٰ قال من عادلی و لیا فقداٰ ذنتہ بالحرب و ماتقرب إلی عبدی بشیء احب إلی مما افترضت علیہ ولا یزال عبدی یتقرب الی بالنوافل حتی احبہ فاذا احببتہ کنت سمعہ الذی یسمع بہ و بصرہٗ الذی یبصر بہ و یدہ التی یبطش بہا ورجلہ الذی یمشی بہا وإن سألنی لأ عطیتہ و إن استعاذ نی لا عیذنہ’’

جس نے میرے ولی سے عدوات کی میں اس سے جنگ کا اعلان کرتا ہوں اور میرا بندہ کسی ایسی شئے کے ذریعہ قریب نہیں جو مجھ کو اس سے زیادہ محبوب ہو جو میں نے اس پر فرض کی اور نوافل کے ذریعہ میرا بندہ برابر میرے قریب ہوتا رہتا ہے حتی کہ میں اسے محبوب بنا لیتا ہوں پس جب محبوب بنا لیتا ہوں تو میں اس کے کان بن جاتا ہوں جس سے وہ سنتا ہے اور اس کی آنکھ ہو جاتا ہوں جس سے وہ دیکھتا ہے اور اس کا ہاتھ بن جاتا ہوں جس کے ذریعہ پکڑ تا ہے اور اس کا پیر ہو جاتا ہوں جس کے ذریعہ وہ چلتا ہے اگر میرا بندہ مجھ سے مانگے تو میں اسے ضرور دوں گا اور اگر مجھ سے پناہ چاہے گا تو میں پناہ دوں گا۔’’

حدیث مذکور پر سر سری نظر ڈالنے سے یہ چند امور سامنے آتے ہیں:

۱۔ ولی کی عظمت و رفعت اور خدا رسیدگی۔ اس کی مخالفت و عداوت میں ہلا کت ہے۔

۲۔ قرب دو قسم کا ہے ایک وہ جو فرائض کی ادائیگی سے بندے کو حاصل ہوتا ہے دوم وہ جو نوافل کے ذریعہ میسر آتا ہے۔

۳۔ سب سے زیادہ محبوب قرب ‘‘قرب فرائض’’ ہے۔

۴۔ قرب نوافل کے ذریعہ بندہ اللہ تعالیٰ کا محبوب بن جاتا ہے اور مقام محبوبیت حاصل کر لیتا ہے۔

۵۔ مقام محبوبیت پر فائز ہونے کے بعد اس کی کیا شان ہو جاتی ہے کہ خدائے تعالیٰ اس کا کان آنکھ وغیرہ ہو جاتا ہے۔ معلوم ہو کہ آ نکھ کان وغیرہ ہو جانے کی بزرگوں نے چند تفسیریں فرمائی ہیں :ایک یہ کہ جس طرح بندہ اپنی حاجات انھیں کے ذریعہ پورا کرتا ہے یعنی جس طرح آنکھ سے کسی کو دیکھنے کی حاجت ہو تی ہے تو ارادہ کرتے ہی آنکھ اٹھ جاتی ہے اور دیکھ لیتی ہے۔ اسی طرح کان سے کسی چیز کو سننے کا ارادہ کرتا ہے تو کان فوراً سن لیتا ہے اسی طرح جو بندہ نوافل میں مشغول رہتا ہے اور مقام محبوبیت پر فائز ہو جاتا ہے تو وہ چاہتا ہے اور اللہ تعالیٰ اس کی حاجت ان اعضاء سے تیز پوری کر دیتا ہے۔ دوسری تفسیر یہ بیان کی گئی کہ مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ان اعضا کا محافظ ہو جاتا ہے لہٰذا ایسی منزل پر بندہ کان سے صرف وہی سنتا ہے جس کا سننا حلال ہے آنکھ سے صرف وہی دیکھتا ہے جس کا دیکھنا حلال ہے، ہاتھ سے صرف وہی پکڑتا ہے جس کا پکڑنا حلال ہے، پیر سے صرف اسی کی طرف چلتا ہے جس تک جانا حلال ہے، مقصود یہ کہ ایسا بندہ خواہشات و شہوات سے منقطع اور لا تعلق ہو جاتا ہے، طاعات میں مستغرق رہتا ہے اوراپنے اعضا و جوارح صرف ان میں استعمال کرتا ہے جن کے لیے انھیں پیدا کیا گیا، بزرگوں نے فرمایا کہ حدیث میں اشارہ ہے کہ محبت الہٰی کا دروازہ تقرب بالنوافل ہے۔

فقیر مجددی عفی عنہ عرض کرتا ہے کہ حدیث مذکور میں ایک اس تاویل کی بھی گنجائش ہے کہ مراد یہ ہے کہ بندہ جب خاص قرب حاصل کر لیتا ہے اور یہ اعضا و جوارح جب تجلیات الہٰیہ کا مرکز ہیں تو ان کی قوتیں اس قدر ہو جاتی ہیں کہ ہزاروں کوس دور کان سن لیتے ہیں ہزاروں میل دور آنکھ دیکھ لیتی ہے پل میں ولی بطریق ‘‘طیّ ارض’’ کہیں سے کہیں پہنچ جاتا ہے، جو زبان سے نکل جاتا ہے اللہ تعالیٰ اسے پورا فرما دیتا ہے، نگاہ قہر و غضب پڑ جاتی ہے تو اشاروں میں بستیاں کی

کی بستیاں الٹ جاتی ہیں، اللہ والوں خاص کر متقدمین بزرگوں کے تصرفات و کرامات پڑھیے تو حیرت ہوتی ہے کہ ان کے اعضا و جوارح میں کس قدر قدرت الہٰیہ کی تجلیات موجزن ہو جاتی ہیں کہ پل میں وہ کر گذرے ہیں کہ عقلیں حیران رہ جاتی ہیں۔ واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب۔

۶۔ توکل:

اہل اللہ نے جن امور کی خصوصیت سے وصیت کی ہے انھیں میں سے توکل بھی ہے قرآن و سنت میں توکل کی مختلف مواقع پر تاکید فرمائی گئی ہے اور اللہ عزو جل نے حکم فرمایا کہ مومنوں کو چاہیے کہ وہ اللہ تعالیٰ ہی پر بھروسہ اور توکل کریں نیز ارشاد باری تعالی ہے ‘‘وَ مَنۡ یَّتَوَکَّلْ عَلَی اللہِ فَہُوَ حَسْبُہٗ’’ ؂ جو اللہ پر بھروسہ کرتا ہے اللہ تعالیٰ اسے کافی ہے، نیز ارشاد ربانی ہے ‘‘فَاِذَا عَزَمْتَ فَتَوَکَّلْ عَلَی اللہِ’’ ؂ جب تم پختہ ارادہ کر لو تو اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کرو۔’’

حضرت امام بخاری وغیرہ نے اپنی صحیح میں بیان فرمایا کہ جو ستر ہزار بلا حساب جنت میں جائیں گے وہ وہی ہوں گے جن کو اللہ تعالیٰ پر توکل حاصل ہے۔ (مزید تفصیل کے لیے دیکھیے کتب تفاسیر و احادیث و تصوف) مختلف بزرگوں نے توکل کے اپنے اپنے حال کے اعتبار سے متعدد معانی بیان فرمائے، حضرت ذو النون مصری قدس سرہ ٗ فرماتے ہیں: ‘‘تدبیر نفس کو چھوڑ دینا اور حول و قوۃ سے خالی ہو جانا کہ اللہ تعالیٰ کے سوا میں کوئی حول و قوۃ نہ جانے توکل ہے ، یعنی لا حول ولا قوۃ الا باللہ‘‘

حضرت ابو بکر دقاق قدس سرہٗ فرماتے ہیں: بس ایک دن جینے کا انتظام کر لینا اور کل کی فکر کو ترک کر دینا توکل ہے۔’’ بعض نے فرمایا: اللہ تعالیٰ پر اعتماد کرتے ہوئے کما نا ترک کر دینا توکل ہے۔’’ حضرت امام غزالی قدس سرہٗ کی تحقیق یہ ہے کہ ‘‘اعتماد القلب علی الوکیل

....................

۔ سورۃ الطلاق: ۶۵؍۳

۔ سورۃ آل عمران:۳؍۱۵۹

الحق وحدہ’’ ایک اللہ پر دل کا بھروسہ کر لینا توکل ہے۔ ؂

آج ہماری اکثر پریشانیوں اور مشکلات کا سبب عدم توکل ہے ہم اس عالم اسباب میں رہتے ہیں اور اکثر اشیا کو اسباب سے مربوط اور وابستہ پاتے ہیں، کھیت میں بیج ڈالتے ہیں، اگتا ہے فصل تیار ہوتی ہے اس طرح ہمیں اناج ہاتھ آتا ہے، بیمار ہوتے ہیں دوائیں استعمال کرتے ہیں مرض دور ہو جاتا ہے، اشیاء عام طور پر اسباب کے تحت وجود میں آتی ہیں مومن کی شان یہ ہے کہ وہ یقین رکھے کہ اللہ تعالیٰ ہی مسبب الاسباب ہے اسی نے دواؤں میں ازالہ مرض کی تاثیر رکھی ہے وہی اناج دیتا ہے وہی بارش برساتا ہے فاعل حقیقی وہی ہے اسی کی مشیت سے اسباب کے تحت اشیا وجود میں آتی ہیں اس نے جب چاہا حضرت آدم کو بلا ماں باپ پیدا فرما دیا جب چاہا حضرت عیسیٰ کو بلا باپ وجود بخش دیا علی نبینا وعلیہما الصلاۃ والسلام۔ دواؤں کی تاثیر اس کی مشیت سے ہے آخر کیا بات ہے کہ ایک ہی دوا کسی مرض سے شفا دیتی ہے اور وہی دوا اسی مرض میں کبھی ناکام ہوجاتی ہے؟ بیج بونے کے بعد بھی کبھی فصل نہیں اگتی اور کبھی بہت اچھی پیداوار ہوتی ہے؟ یہ کافرانہ و مشرکانہ نظریہ ہے کہ اسباب میں تاثیر حقیقی اعتقاد کر لی جائے؟ ایمانی تقاضہ یہ ہے کہ اسباب کے پیچھے مسبب الاسباب پر کامل نظر رکھے آج عام طور پر مسلمانوں کا اللہ تعالیٰ کی ذات پر اعتماد نہایت کمزور ہو گیا ہے، انھیں خدائے تعالیٰ کی رزاقیت پر کامل یقین نہیں اس لیے وہ اسباب پر اعتماد کرتے ہیں اور اب اس معاملہ میں حرام و حلال کی پرواہ ہی ختم ہو گئی ہے، حد تو یہ ہے کہ قوم کے دینی رہنمائی کے ٹھیکداربھی اب نیتاؤں، مالداروں اور حکمرانوں پر تو اعتماد کرتے ہیں لیکن خدائے کار ساز پر نہیں اسی لیے ذلت و رسوائی کے سوا اب کچھ نہیں۔

درجات:

توکل کے بے شمار درجات ہیں جس بندے کو جیسا خداے قدیر پر اعتماد ہے، بھروسہ ہے ویسا ہی وہ فیض یاب ہے۔ حدیث قدسی ہے ‘‘انا عند ظن عبدی بی’’ یعنی میں بندے کے ساتھ

..................

۔ کفایۃالاتقیاء ص:۳۰

ویسا معاملہ کرتا ہوں جیسا کہ وہ ہمارے بارے میں گمان کرتا ہے۔

حدیث صحیح تو ہے ہی لیکن تجربہ بھی ہے آپ اپنے رب پر سچا اعتماد کریں وہ رحیم و کریم آپ کے اعتماد کی ضرور لاج رکھے گا۔ آپ دل میں یقین رکھیں کہ ہمارا رحیم و کریم خدا ہمیں گمراہ نہیں کرے گا تو وہ نہیں کرے گا، آپ یقین رکھیں کہ وہ ذلیل نہیں کرے گا تو نہیں کرے گا، آپ کو پورا اعتماد ہو کہ وہ ہمیں اور ہماری اولاد کو بھوکا نہیں رکھے گا تو وہ بالکل انھیں بھوکا نہیں رکھے گا آپ کو یقین ہو کہ وہ بیماری سے شفا دے گا تو ضرور دے گا۔

جن بندوں نے اس پر کامل اعتماد کیا ان کے لیے آسمانوں سے کھانے کی تھال آئے، ایسے ایسے متوکلین ہوئے جنھوں نے کبھی کسی طبیب اور ڈاکٹر سے اپنا حال نہیں بتایا نہ دوا استعمال کی وہ بھی دور ابتلا سے نکل کر صحت یاب ہو ئے، سلطان العارفین حضرت بایزیدبسطامی قدس سرہٗ سے پوچھا گیا ‘‘من این تا کل’’ ؟ آپ کہاں سے کھاتے ہیں؟ فرمایا : ‘‘مولا ئی یطعم الکلب و الخنز یر افتریٰ أن لأ یطعم ابا یزید؟’’ میرا مولی کتے اور خنزیر کو کھلاتا ہے تو تم سمجھتے ہو کہ وہ بایزید کو نہیں کھلائے گا؟ ؂

رسول ﷺ نے فرمایا : جو سب سے کٹ کر اللہ کا ہو رہا ہے اللہ اس کے ہر مؤنت (خرچ یا محنت) کے لیے کافی ہے اور اسے اس جگہ سے روزی دے گا جہاں گمان بھی نہ ہوگا اور جو دنیا کا ہو رہا ہے اللہ تعالیٰ اسے دنیا کے حوالے کر دیگا۔’’ ؂

اکتساب افضل ہے یا توکل:

ذریعہ معاش کو اختیار کرنا اور روزی کمانا جسے اکتساب کہتے ہیں افضل ہے یا توکل؟ یعنی ذرائع معاش نہ اختیار کرنا اور ان سے اعراض کرنا؟ بزرگوں کے اس میں تین قول ہیں:

۱۔ توکل افضل ہے کیوں کہ یہ اللہ تعالیٰ کے رسولﷺاور اہل صفہ کا حال ہے۔

...................

۔ کفایۃالاتقیاء ص:۳۰

۔ ایضاص:۳۰

۲۔ بعض کے نزدیک اکتساب افضل ہے، ان کے نزدیک توکل کے مقابل وہ اکتساب افضل ہے جو جمع مال کے لیے نہ ہو اور نہ یہ اعتقاد ہو کہ اکتساب رزق لائے گا اور نفع پہنچائے گا بلکہ جو ان نوافل سے ہے جن کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ،سورہ جمعہ میں ارشاد خداوندی ہے:

فَاِذَا قُضِیَتِ الصَّلٰوۃُ فَانۡتَشِرُوۡا فِی الْاَرْضِ وَ ابْتَغُوۡا مِنۡ فَضْلِ اللہِ ؂ یعنی جب نمازجمعہ ادا کر لی جائے تو زمین میں پھیل جاؤ اور اللہ تعالیٰ کا فضل تلاش کرو۔’’ اس میں فضل سے مراد رزق ہے۔

تیسرا قول جوکہ مختار ہے جیسا کہ حضرت امام غزالی قدس سرہٗ نے فرمایا کہ اس میں تفصیل ہے جس شخص کی یہ حالت ہو کہ وہ ترک کسب کر کے خود کو ذکر و فکر اور عبادت وغیرہ کے لیے فارغ کرے گا اور کسب اس میں خلل انداز ہوگااور تشویش قلب کا باعث ہوگا تو ایسے شخص کے لیے توکل افضل ہے کیوں کہ توکل میں صبر اور مجاہدۂ نفس ہے اور جو شخص اس حالت اور پوزیشن کا نہیں ہے بلکہ اسے لوگوں سے امیدیں ہوں گی کہ لوگ ہمارے لیے کچھ لائیں اور قلب مضطرب رہتا ہے، تنگی رزق کے وقت غیظ و غضب میں مبتلا ہوگا تو ایسے شخص کے لیے کسب افضل ہے، بعض بزرگوں نے فرمایا کہ توکل رسول اللہ ﷺ کا حال ہے اور کسب آپ کی سنت ہے پس جو آپ ﷺکے حال سے کمزور ہو اسے چاہیے کہ وہ آپ کی سنت پرچلے۔

تنبیہات:

توکل کے عام طور پر معنی ترک کسب کے لیے جاتے ہیں یعنی روزی نہ کمانا اس معنی کر عیالدار آدمی کے لیے توکل جائز نہیں ہے اور بزرگوں کے نزدیک توکل دوسرے معنی میں ہے کہ اسباب اختیار کرے مگر نظر مسبب الاسباب پر ہو، اس معنی کر جو ذریعہ معاش اختیار کیے ہوئے ہے مگر نظر رزاق پر ہے تو وہ بھی متوکل ہے۔ اسی لیے ‘سلالم الفضلاء’ میں امام سیوطی سے نقل کرتے ہوئے فرمایا کہ میرے نزدیک کسب توکل کے خلاف اور منافی نہیں ہے بلکہ بندہ بیک وقت متوکل اور مکتسب دونوں ہو سکتا ہے بایں طور کہ جو اللہ نے اس کے لیے مقرر

........................

۔ سورۃ الجمعۃ: ۶۲؍۱۰

کردیا ہے اس پر راضی رہے اور اس سے زیادہ کی لالچ نہ کرے۔ امیر المؤمنین حضرت فاروق اعظم رضی اللہ عنہ نے اس قوم سے فرمایا جو کماتے نہیں تھے اور توکل کا دعویٰ کرتے تھے کہ ‘‘متوکل تو وہ ہے جو بیج زمین میں بوئے اور خدا پر بھروسہ کرے۔’’ ؂

حضرت سہل بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ توکل سر کار علیہ السلام کا حال ہے اور کسب آپ کی سنت ہے، جس کا حال اچھا ہوگا وہ سنت نہ چھوڑے گا۔ ؂

حضرت مجدد الف ثانی قدس سرہٗ اسباب پر قدرے تفصیل سے بحث کرنے کے بعد فرماتے ہیں: اس بیان سے واضح ہوگیا کہ توسط اسباب توکل کے منافی نہیں جیسا کہ ناقصوں نے گمان کیا ہے بلکہ توسط اسباب میں کمال توسط ہے۔ حضرت یعقوب علی نبینا و علیہ الصلاۃ و السلام نے معاملہ کو حق سبحانہ کے حوالہ کرتے ہوئے رعایت سبب کا توکل نام رکھا ہے یعنی معاملہ کو اللہ تعالیٰ کے سپرد کیا اور سبب کی رعایت بھی فرمائی اور ارشاد فرمایا:

یٰبَنِیَّ لَا تَدْخُلُوۡا مِنۡۢ بَابٍ وَّاحِدٍ وَّادْخُلُوۡا مِنْ اَبْوَابٍ مُّتَفَرِّقَۃٍ ؂

یعنی اے میرے بیٹو! ایک دروازے سے داخل نہ ہونا اور متفرق درازوں سے داخل ہونا۔

مفسرین کرام رحمہم اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ حضرت یعقوب علی نبینا و علیہ الصلاۃ والسلام کا بیٹوں کو یہ حکم اس لیے تھا کہ وہ نظر بد سے محفوظ رہیں، ظاہر ہے کہ اس معاملہ میں انھوں نے سب کو ملحوظ رکھا پھر معاملے کو بارگاہ الہٰی کے حوالے کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

وَمَاۤ اُغْنِیۡ عَنۡکُمۡ مِّنَ اللہِ مِنۡ شَیۡءٍ اِنِ الْحُکْمُ اِلَّا لِلہِ عَلَیۡہِ تَوَکَّلْتُ وَ عَلَیۡہِ فَلْیَتَوَکَّلِ الْمُتَوَکِّلُوۡنَ ؂

میں تم سے اللہ تعالیٰ کا کوئی فیصلہ اور قضا دفع اور دور نہیں کرتا ہوں حکم تو صرف اللہ ہی کے

................

۔ سلالم الفضلابرحاشیہ کفایۃالاتقیاء ص:۳۰

۔ ایضاص:۳۰

۔ سورۃ یوسف: ۱۲؍۶۷

۔ سورۃ یوسف: ۱۲؍۶۷

لیے ہے اسی پر میں نے توکل کیا اور چاہیے بھروسہ کرنے والے اسی پر بھروسہ کریں۔

حضرت یعقوب علیہ السلام کی اس معرفت کی اللہ تعالیٰ نے تحسین فرمائی اور اپنی عطا قرار دیا۔ دیکھئے سورہ مذکور۔

معلوم ہوا کہ توکل کے درجات ہیں اور اللہ والوں کے مختلف احوال ہوتے ہیں وہ مختلف اوقات میں مختلف احوال و کیفیات سے دو چار ہوتے ہیں اسی وجہ سے توکل کے تعلق سے کتب سوانح میں بزرگوں کے مختلف احوال اور درجات پڑھنے کو ملتے ہیں۔ جو سب سے منقطع ہو کر صرف اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ ہیں وہ اسباب سے کوسوں دور ہیں اور اللہ تعالیٰ ان کے ساتھ وہی معاملہ کرتا ہے جیسا کہ وہ اس کے ساتھ گمان رکھتے ہیں جیسا کہ خود حضرت مجدد قدس سرہٗ کے ایک دوسرے مکتوب سے ظاہر ہے، ایسے حضرات کے کام بلاسبب ہوتے ہیں ان کے لیے آسمانوں سے کھانے کے تھال آتے ہیں ایسے حضرات کو اس جماعت میں شمار کیا گیا ہے جو بلا حساب و کتاب جنت میں داخل ہوں گے جیسا کہ امام بخاری وغیرہ نے بیان فرمایا۔

دوسرے وہ حضرات ہیں جن کا نزول کافی کامل ہوتا ہے ایسے حضرات بہت با کمال ہوتے ہیں جو بھروسہ تو صرف مسبب الاسباب جل و علا پر کرتے ہیں، لیکن اس عالم اسباب میں رعایت سبب بھی رکھتے ہیں یہ وہی بڑے لوگ ہیں جن کو آپ نے ابھی حضرت مجدد قدس سرہٗ کے کلام سے پڑھا اس میں اور بھی بڑی پیاری بحثیں ہیں جن کو بزرگوں کے کلام سے جانا جا سکتا ہے۔

اسباب و وسائط:

اللہ تعالیٰ کو چوں کہ اس دنیا کو دار ابتلا و امتحان بنانا تھا، اس نے حکمت بالغہ سے مسببات اور اشیا کے حصول کو عموما اسباب سے مربوط کردیا، کفار و مشرکین نے انھیں اسباب کو مؤثر حقیقی گمان کر لیا، آج ان کفار کی صحبتوں اورعلوم شرعیہ سے دوری کی وجہ سے بہت سے مسلمان بھی اسباب کوموثر سمجھ کر اختیار کرنے لگے جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ اسباب پر اعتماد بڑھ گیا اور اللہ تعالیٰ پر کم بلکہ ختم سا ہو گیا۔ ہم اس مضمون کے آغاز میں قدرے کچھ اس تعلق سے بیان کر چکے ہیں،

ذات خداوندی پر عدم اعتماد سے جو نتائج بر آمد ہو رہے ہیں وہ ضلالت کی طرف لے جانے والے، گمراہ کن اور بندوں کو مشکلات میں مبتلا کرنے والے ہیں، اسباب و وسائط کے اختیار کرنے اور نہ کرنے اور ان میں تاثیر و عدم تاثیر کے تعلق سے صوفیہ کرام و علماے عظام نے کافی طویل ابحاث سپرد قلم فرمائی ہیں حضرت امام محمد غزالی قدس سرہٗ نے اس کو آخر تک پہنچا دیا۔ ہم حضرت مجدد قدس سرہٗ کا مختصر کلام ایک قول فیصل کی حیثیت سے سپرد قلم کرتے ہیں جو حق و ہدایت کا راستہ ہے، اللہ تعالیٰ بندوں کی صحیح رہمنائی فرمائے تاکہ یہ اسے صحیح پہچانیں۔

ایک غلط فہمی:

معلوم ہوکہ بعض متکلمین نے ممکن اور واجب جل و علا کے درمیان وہ نسبت خیال کر لی جو کوزہ اور اس کے بنانے والے کے درمیان ہے، اس کا مطلب یہ ہوا کہ انھوں نے یہ گمان کر لیا کہ ممکن عدم سے وجود میں آنے میں اللہ تعالیٰ کا محتاج ہے، بقا میں محتاج نہیں، جس طرح کوزہ اپنے وجود میں اپنے فاعل (کلال) کا محتاج ہے بقا میں نہیں جب کہ یہ فکر صریح قرآن کے خلاف تھی رب کائنات جل و علا فرماتا ہے:

یٰۤاَیُّہَا النَّاسُ اَنۡتُمُ الْفُقَرَآءُ اِلَی اللہِ وَاللہُ ہُوَ الْغَنِیُّ الْحَمِیۡدُ ؂ اے لوگو! تم اللہ تعالیٰ کے محتاج ہو اور اللہ تعالیٰ بے نیاز محمود و پسندیدہ ہے۔’’

ان اہل علم نے چوں کہ ممکن کو بقا میں محتاج مانا اس لیے تجدد امثال کے قائل ہوئے تاکہ ممکن کا دائمی طور پر محتاج ہونا ثابت ہو جائے تجدد امثال کیا ہے؟ یہ دوسری بحث ہے، اسے اس کے مقام پر سمجھیں غرضیکہ حق یہی ہے جو جمہور متکلمین کا مذہب ہے کہ ممکن جس طرح عدم سے وجود میں آنے میں واجب کا محتاج ہے اسی طرح بقا میں بھی اپنی اسی علت کی محتاج سے جو اسے وجود میں لائی ہے (علت موجدہ) اس کی دلیل یہ ہے کہ بقا نام ہے زمان ثانی میں وجود کا اور ممکن جب وجود کے لیے زمان اول میں مقتضی نہیں تو زبان ثانی میں وجود کا مقتضی کی

....................

۔ سورۃ فاطر:۳۵؍۱۵

کیونکر ہوگا کیوں کہ اقتضاء زمانوں کے اختلاف سے مختلف نہیں ہوتا ہے۔ پس جب تک ممکن پر واجب کی طرف سے افاضہ وجود ہے تب تک وہ موجود اور ہوگا اور جب فیضان منقطع ہو جائے گا تو ممکن کا کوئی اثر نہ رہے گا۔ ؂

حضرت مجدد قدسر سرہٗ فرماتے ہیں سارے ممکنات کیا جواہر، کیا اعراض ،کیا اجسام ،کیا عقول ،کیا نفوس، کیا افلاک اورکیا عناصر؟ سب قادر مختار جل و علا کی ایجاد سے وابستہ ہیں کہ وہ ان کو عدم سے وجود میں لایا ہے اور جس طرح یہ سب (مذکورہ) چیزیں وجود و حادث پیدا ہونے میں اللہ تعالیٰ کی محتاج ہیں تو بقا (پیدائش کے بعد باقی رہنا) میں بھی اس سبحانہ تعالیٰ کی محتاج ہیں۔ اسباب و وسائط کو اس سبحانہ نے اپنے فعل کا نقاب بنا دیا اور حکمت کو وجود قدرت کا وسیلہ فرما دیا کیوں کہ ارباب ذہانت و فطانت جن کی بصیرت (چشم باطن) انبیا علیہم الصلوات والتسلیمات کی متعابعت کے سرمہ سے سرمگیں ہے جانتے ہیں کہ اسباب و وسائل جو کہ وجود و بقا میں باری تعالیٰ کے محتاج ہیں اور اسی سے ثبوت و قیام رکھتے ہیں اور اسی سے وابستہ ہیں اور در حقیقت جماد محض ہیں دوسرے میں جو کہ جماد محض ہونے میں انھیں جیسا ہے وہ کس طرح اثر ڈالیں گے اور دوسرے کا احداث و اختراع (وجود عطا کرنا اور پیدا کرنا )کیسے کریں گے؟ ان کے پس پردہ ایک قادر ہے جو کہ ان کو وجود میں لاتا ہے اور ان کے لائق کمالات عطا کرتا ہے۔ یہ ایسا ہے جیسے اہل عقل و خرد جماد محض سے کوئی فعل دیکھتے ہیں اس جگہ سے اس جماد محض (پتھر) کے فاعل و محرک کا سراغ لگا لیتے ہیں کیوں کہ جانتے ہیں کہ فعل اس جماد کے لائق نہیں اس کے پیچھے کوئی فاعل ہے جو کہ اس فعل کو عدم سے وجود میں لاتا ہے، پس بے جان (جماد محض) کا فعل اہل عقل و خرد کے نزدیک فاعل حقیقی کے فعل کے لیے نقاب و حجاب نہ بن سکا جب کہ وہ فعل اس کی جمادیت کے پیش نظر فاعل حقیقی پر دلیل ہو گیا، پس اسی طرح یہ بھی، ہاں احمق کی سمجھ میں فعلِ جماد فاعلِ حقیقی کے فعل کے لیے نقاب و حجاب ہے کہ کمال درجہ کی کند ذہنی کی

......................

۔ کما فی حاشیۃ المکتوب، ۲۶۶، ناقلاً عن مکاتیب قاضی ثناء اللہ رحمۃ اللہ علیہ

وجہ سے جماد محض کو ہی اس فعل کی وجہ سے صاحب قدرت جان لیا اور فاعل حقیقی کا انکار کردیا۔ ؂

فائدہ:

جو جاہ و مال وغیرہ مخلوق کے پاس ہے اس کے حصول کے لیے خود کو ان کے سامنے ذلیل کرنا اور ان کی طمع کرنا بزرگوں نے کبھی پسند نہ کیا، بلکہ ان کے یہاں یہ نہایت قبیح عادتوں سے ہے، اس طمع سے بچنے کے لیے دو ہی راستے ہیں ایک تو کل دوسرے ذرائع آمدنی اختیار کرے اور اسباب مال کے ذریعہ مال کمائے جب کہ اس کے پاس بھی وہی ہوگا جو دوسروں کے پاس ہے تو یہ اس کی طمع میں خود کو ان کے سامنے ذلیل نہیں کرے گا۔

کفایہ میں ہے ‘‘

لا تبذلنَّ لأبناء الدنیا عرضک الشریف حال کو نک طا معافی مالہم و جاہہم و حال کونک متذللاً بالترددفی خدمتہم والاعانۃ علی اغراضہم والثناء علیہم والدعاء لہم و اظہار حبہم و تکثیر جمعہم فان ذلک من اثر محبۃ الدنیاوتعظیمہا فی قلبہ و من احبہا و عظمہا فإنہ یعظم من اقبلت الدنیا علیہ و یتمنی أن ینال منہا ما نال وہذہ صفۃ عبید الدنیا و عبید ہواہم’’ ؂

یعنی دنیا داروں کے لیے اپنی شرف والی عزت یا جان نہ خرچ کرو اس حال میں کہ تم ان کے مال و جاہ کی تمنا کر رہے ہو اور دراں حالیکہ تم اظہار ذلت کر رہے ہو ان کی خدمت میں آمد و رفت دیکھ کر اور ان کے اغراض پر اعانت اور ان کی تعریف و ثنا اور ان کے لیے دعا اور ان کی محبت کا اظہار اور ان کی جمعیت کو بڑھانا اور زیادہ کرنا کیوں کہ یہ سب اس کے دل میں دنیا کی محبت اور اس کی تعظیم کا اثر ہے اور جس نے دنیا سے محبت اور اس کی تعظیم کی تویہ اس کی تعظیم کر رہا ہے جس پر دنیا متوجہ ہو چکی ہے اور یہ تمنا کر رہا ہے کہ دنیا سے وہ پالے جو اس نے چاہا، دنیا کے غلاموں اور اپنی خواہشات نفس کی پیروی کرنے والوں کی یہی صفت ہے۔

...............

۔ مکتوب ۲۶۶ دفتر اول

۔ کفایۃالاتقیاء ص:۳۲

معلوم رہے درویش کبھی اپنے لیے بلا عذر صحیح کسی کے سامنے ہاتھ نہیں پھیلاتا حضرت امام غزالی قد سرہٗ فرماتے ہیں کہ حضرت بشر فرمایا کرتے تھے کہ فقراء تین قسم کے ہیں۔

۱۔ ایک وہ فقیر جو مانگتا نہیں اور اگر دیا جائے تو لیتا نہیں یہ روحانیوں کے ساتھ علیین میں ہوگا۔

۲۔ دوم وہ فقیر جو مانگتا نہیں اور اگر دیا جائے تو لیتا ہے ایسا فقیر مقربین کے ساتھ جنات فردوس میں ہوگا۔

۳۔ سوم وہ فقیر جو حاجت کے وقت مانگتا ہے۔ یہ ارباب یمین سے صادقین کے ساتھ ہوگا۔

سارے صوفیہ کرام کا اتفاق ہے کہ مانگنا بری اور مذموم چیز ہے اور فاقہ کے باوجود بھی مانگنا درجات میں گراوٹ کا سبب ہے۔

۷۔ اخلاص:

وصایا تسعہ سے ایک امر اخلاص ہے اس کا تعلق اعمال قلبیہ سے ہے اور یہ ایسارکن اعظم ہے کہ ساری طاعات و عبادات کی قبولیت اسی پر موقوف ہے اسی لیے قرآن نے جگہ جگہ اخلاص کی تاکید فرمائی اور ارباب اخلاص کے مراتب اور اوصاف و کمالات بیان فرمائے۔

چند ارشادات ملاحظہ ہوں۔

۱۔ وَ مَاۤ اُمِرُوۡۤا اِلَّا لِیَعْبُدُوا اللہَ مُخْلِصِیۡنَ لَہُ الدِّیۡنَ ؂

یعنی انھیں نہیں حکم دیا، مگر یہی کہ وہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کریں اسی کے لیے دین کو خالص کرتے ہوئے۔

۲۔ اَلَا لِلہِ الدِّیۡنُ الْخَالِصُ ؂

.................

۔ سورۃ البینۃ: ۹۸؍۵

۔ سورۃ الزمر: ۳۹؍۳

خبردار! اللہ تعالیٰ کے لیے ، دین خالص ہے۔

حضور سرور عالم ﷺ کا ارشاد ہے:

۱۔ اپنے دین کو خالص کر لو تم کو تھوڑا عمل بھی کافی ہوگا۔ ؂

۲۔ سرکار علیہ الصلوٰۃ والسلام سے ایمان کے بارے میں پوچھا گیا، فرمایا: ہوا لإخلاص للہ تعالی’’ ایمان تو اللہ تعالیٰ کے لیے دین کو خالص کرناہے۔ ؂

۳۔ جان عالم ﷺ فرماتے ہیں: لا یقبل اللہ من الاعمال إلا ما کان خالصا لہ وابتغیٰ بہا وجہہ’’ ؂ یعنی اللہ تعالیٰ صرف وہی اعمال قبول فرماتا ہے جو خالص اس کے لیے ہو اور ان اعمال سے اس کی رضا چاہے۔

۴۔ حضور داناے ما کان و ما یکون ﷺ فرماتے ہیں: جو شخص اللہ تبارک و تعالیٰ کے لیے چالیس دن خالص کر لیتا ہے اللہ تعالیٰ اس کے دل سے اس کی زبان پر حکمت کے چشمے پھوڑ دیتا ہے۔ ؂

۵۔ رحمت عالم ﷺ فرماتے ہیں: جس نے اللہ وحدہ لا شریک لہ کے لیے اخلاص پر دنیا کو چھوڑا اور نماز قائم کی اور زکوٰۃ دی تو وہ دنیا کو اس حال میں چھوڑے گا کہ اللہ تعالیٰ اس سے راضی ہوگا۔ ؂

معنی اخلاص:

جملہ طاعت و اعمال سے مقصود صرف اللہ تعالیٰ کا تقرب اور اسے راضی کرنا اسی کا نام اخلاص ہے اگر کوئی نیک عمل اس لیے کرتا ہے کہ لوگوں کو دکھائے یا نیت یہ ہو کہ لوگ ہماری

................

۔ کفایۃص:۳۲

۔ کفایۃص:۳۲

۔ کفایۃص:۳۲

۔ کفایۃص:۳۲

۔ کفایۃص:۳۲

تعریف کریں یا ان سے طمع مال وغیرہ ہو تو ایسا عمل اخلاص سے نکل کر شرک خفی کے درجہ میں آجاتا ہے اور ایسا کرنے والا سزا کا مستحق قرار دیا جاتا ہے۔بزرگوں سے اخلاص کے متعدد معانی منقول ہیں ایک تو وہی جو مذکور ہوا۔

حضرت سہل بن عبد اللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ اخلاص یہ ہے کہ بندے کا سکون و حرکت صرف اللہ تعالیٰ کے لیے ہو نیز آپ قدس سرہٗ فرماتے ہیں کہ عقلمندوں نے اخلاص کی تفسیر میں نظر کی تو انھوں نے صرف یہی معنی پائے کہ خلوت و جلوت میں بندے کا سکون و حرکت صرف اللہ تعالیٰ کے لیے ہو کوئی دیگر چیز اس میں مخلوط نہ ہو، نہ نفس، نہ خواہشات اور نہ دنیا، حضرت سہل قدس سرہٗ کی اس تفسیر کو بزرگوں نے بہت جامع قرار دیا۔ ؂

سید الطائفہ حضرت جنید بغدادی قدس سرہٗ فرماتے ہیں : الإخلاص تصفیۃ العمل من الکدورات’’ گندگیوں سے عمل کو صاف رکھنا اخلاص ہے۔

بعض بزرگوں نے فرمایا:تصفیۃ العمل من العجب’’ ؂ عجب سے عمل کو پاک و صاف رکھنا اخلاص ہے۔ (اپنے اعمال پر التفات اور نظر کا نام عجب ہے)

نیز فرمایا گیا کہ دوام مراقبہ اور سارے حظوظ کو بھلا دینے کا نام اخلاص ہے۔