مواد پر جائیں

باب ۲ از ۸صفحات ۱۴–۲۶

فوائد و منافع

قرآن مجید نے تقویٰ کے جن فوائد و منافع کی طرف رہنمائی فرمائی اس سے بہ آسانی سمجھا جاسکتا ہے کہ تقویٰ ہر سعادت کی اساس اور بنیاد ہے۔

حضرت سہل بن عبد اللہ قدس سرہٗ فرماتے ہیں: لا معین إلا اللہ و لا دلیل الا رسول اللہ ولا زاد إلا التقوی ولا عمل إلا الصبر علیہ

..............

۔ بیضاوی، جلد:۱، ص:۲۵

ترجمہ: مددگار نہیں مگر اللہ تعالیٰ ،ہادی و رہبر نہیں مگر اللہ تعالیٰ کے رسولﷺ اور (آخرت کا) توشہ نہیں مگر تقویٰ اور عمل نہیں مگر عمل پر صبر۔’’

مزید فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندے کو مرض، عافیت، فقر اورغنا وغیرہ کے ذریعہ آزماتا ہے اگر بندے نے اعمال کی مشقت پر صبر کر لیا تو اسے ثواب دے گا اور اگر نعمتوں پر شکر کیا تو ثواب دے گا خلاصہ یہ کہ دنیا اور آخرت کی کوئی بھلائی نہیں مگر اس کو تقویٰ کے ذریعہ پایا جاسکتا ہے ہے اور دنیا و آخرت اور ظاہر و باطن کا کوئی شر نہیں مگر تقویٰ سے اسے دفع کیا جاسکتا ہے اللہ تعالیٰ کی رحمتیں اولین کے لیے بھی ہیں اور آخرین کے لیے بھی اور مزید چند فوائد و منافع کے لیے مندرجہ ذیل آیات غور سے پڑھیے۔

چند آیات:

۱۔ اللہ رب العزت جل و علا فرماتا ہے:

وَلَقَدْ وَصَّیْنَا الَّذِیْنَ أُوتُواْ الْکِتَابَ مِن قَبْلِکُمْ وَإِیَّاکُمْ أَنِ اتَّقُواْ اللّہَ ؂

ہم نے انھیں وصیت کی جنھیں تم سے پہلے کتاب دی گئی اور تم کو کہ اللہ سے ڈرو یعنی تقویٰ اختیار کرو ۔

قرآن پاک نے تقویٰ کی تاکید کو وصیت سے تعبیر فرمایا اور تمام اگلوں پچھلوں کو وصیت فرمائی، اس تعبیر اور عموم سے اللہ تعالیٰ کے یہاں اس کی قدر و قیمت اور بندوں کی بھلائی کو اچھی طرح سمجھا جا سکتا ہے۔

۲۔ دوزخ سے نجات میسر آتی ہے‘‘ثُمَّ نُنَجِّی الَّذِیۡنَ اتَّقَوۡا’’ پھر ہم ارباب تقویٰ کو نجات دیں گے۔ ؂

۳۔متقی حضرات کو اللہ کی معیت (خاصہ) حاصل ہوتی ہے‘‘مَعَ

...............

۔ 1 سورۃ النساء:۴؍۳۱

۔2 سورۃ مریم: ۱۹؍۷۲

وَ اعْلَمُوۡۤا اَنَّ اللہَ مَعَ الْمُتَّقِیۡنَ؂

۴۔ اہل تقویٰ کو اللہ تعالیٰ مصیبتوں، تکلیفوں اور شدائد سے نکال دیتا ہے اور وہاں سے روزی دیتا ہے جہاں گمان بھی نہیں پہنچتا ہے ارشاد ہے:

وَ مَنۡ یَّـتَّقِ اللہَ یَجْعَل لَّہٗ مَخْرَجًا وَّ یَرْزُقْہُ مِنْ حَیۡثُ لَا یَحْتَسِبُ ؂

جو اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہے اس کے نکلنے کا راستہ بنا دیتا ہے اور اس جگہ سے روزی دیتا ہے جہاں بندے کا گمان بھی نہیں ہوتا۔’’

۵۔ آسانی دیتا ہے

‘‘وَ مَنۡ یَّـتَّقِ اللہَ یَجْعَل لَّہٗ مِنْ اَمْرِہٖ یُسْرًا ’’ ؂

جو اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہے اس کے لیے وہ اس کا معاملہ آسان کردیتا ہے۔

۶۔ تقویٰ سے گناہوں کا کفارہ ادا ہوتا ہے اور اجر عظیم نصیب ہوتا ہے ۔‘‘

۔‘‘ وَ مَنۡ یَّـتَّقِ اللہَ یُکَفِّرْ عَنْہُ سَیِّاٰتِہٖ وَ یُعْظِمْ لَہٗۤ اَجْرًا‘‘ ؂

جو تقویٰ اختیار کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کی برائیاں اس سے دور کردیتا ہے۔ (نیکیوں میں بدل دیتا ہے) اور اس کے اجر کو بڑا کرتا ہے۔

۷۔ تقویٰ اختیار کرنے پر جنت کے باغات اور نہروں کا وعدہ ہے ‘‘

‘‘اِنَّ الْمُتَّقِیۡنَ فِیۡ جَنّٰتٍ وَّ نَہَرٍ ؂

بلاشبہ متقی حضرات جنتوں اور نہرمیں ہوں گے۔

۸۔ دنیا اور آخرت میں کرامت دیتا ہے اور جتنا بڑا تقویٰ اتنی بڑی کرامت ‘‘

‘‘اِنَّ اَکْرَمَکُمْ عِنۡدَ اللہِ اَتْقٰکُمْ‘‘ ؂

۔1 سورۃ البقرہ: ۲؍۱۹۴

۔2 سورۃ الطلاق : ۶۵؍۲،۳

۔ 3سورۃ الطلاق : ۶۵؍۴

۔ 4سورۃ الطلاق: ۶۵؍۵

۔5 سورۃ القمر: ۵۴؍۵۴

۔6 سورۃ الحجرات: ۴۹؍۱۳

بیشک تم میں سب سے زیادہ کرامت اور بزرگی والا وہ ہے جو زیادہ تقویٰ والا ہے۔’’

اس میں کرامت کو تقویٰ سے وابستہ کیا ہے اموال و انساب سے نہیں، بد عمل، نسبتوں پر فخر کرنے والے اور خطاؤں پر مطمئن رہنے والے عبرت حاصل کریں نیز غیر اعلیٰ نسب دینداروں کو حقیر سمجھنے والے نصیحت پکڑیں۔

۹۔ ولایت و بزرگی کا اساس تقویٰ ہے، غیر متقی کو ولایت نہیں خواہ وہ اولیا کرام کی اولاد میں ہی گدی نشین یا جبے قبے والا ہو ‘‘

‘‘اِنْ اَوْلِیَآؤُہٗۤ اِلَّا الْمُتَّقُوۡنَ وَلٰکِنَّ اَکْثَرَہُمْ لَا یَعْلَمُوۡنَ‘‘

اللہ تعالیٰ کے ولی صرف متقی حضرات ہیں، مگر اکثر کو پتا نہیں۔ نیز فرماتا ہے:

الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَکَانُوۡا یَتَّقُوۡنَ‘‘

ترجمہ: اللہ تعالیٰ کے اولیا وہ ہیں جو ایمان لائے اور تقویٰ اختیار کیا۔’’

معلوم ہوا نہ کوئی کافر و مشرک ولی ہو سکتا ہے نہ بد عمل۔

۱۰۔ قرآن سے ہدایت متقی حضرات ہی پاتے ہیں ‘‘ہُدًی لِّلْمُتَّقِیۡنَ‘‘ ؂

یعنی کتاب الہٰی متقیوں کے لیے ہدایت ہے۔

معلوم ہو کہ علماے تفسیر نے عام طور پر ‘متقین’ کے معنی الصائرین إلی التقوی، لیے ہیں۔ اس کا سبب یہ ہے کہ متقی وہی ہوگا جو ہدایت یافتہ ہے تو اس کے لیے قرآن کا ہدایت ہونا کوئی معنی نہیں رکھتا ہے۔ لہٰذا یہ مراد لیا جائے کہ جن کی تقدیر میں سعادت تقویٰ لکھ دی گئی ہے اور وہ بالآخر متقی ہونے والے ہیں وہی قرآن سے ہدایت پاتے ہیں یعنی اس پر عمل کرتے ہیں اور رفتہ رفتہ متقی ہو جاتے ہیں تو قرآن کا نفع در حقیقت انھیں لوگوں کو نصیب ہوا اور درحقیقت قرآن انھیں کے لیے ہدایت ہوا فقیر مجددی عفی عنہ کی ناقص رائے میں ایک اور لطیف معن

....................

۔1 سورۃ الانفال: ۸؍۳۴

۔2 سورۃ یونس: ۱۰؍۶۳

۔3 سورۃ البقرہ: ۲؍۲

معنی مراد لیے جاسکتے ہیں وہ یہ کہ تقویٰ کے بھی مدارج ہیں اور ہدایت کے بھی بے شمار مدارج و مقامات ہیں قرآن مجید کا ظاہر و باطن ایک ایسا سمندر ہے جس کا کوئی ساحل نہیں، نیکیاں دوسری اعلیٰ نیکیوں تک لے جاتی ہیں۔ ظاہر ہے کہ ہر عمل صالح باطن کی تعمیر کا سبب بنتا ہے ظاہر اور باطن سے اہل علم جس حد پر پہنچتے ہیں وہاں سے نئے علوم و معارف پر مطلع ہوتے ہیں۔ ولایت کے بے شمار درجات میں یہ حق سبحانہ کا لا متناہی سلسلہ ہے ہر نئی منزل نئی ہدایت ہے اور نیا تقویٰ ہے یہ سب باتیں قرآن و سنت اور ارشادات علماء سے ماخوذ ہیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ بندہ جس قدر اعلیٰ تقویٰ کی طرف جاتا ہے اسی قدر وہ قرآن کے فیض ہدایت سے مستفیض ہوتا جاتا ہے۔

تفیسر بیضاوی وغیرہ میں تقویٰ کے بے شمار درجات و جزئیات کو تین کلیات میں بیان فرمایا گیا :

۱۔ کفر و شرک کی ظلمتوں سے خود کو صاف کر کے نور ایمان سے روشن کرنا۔

۲۔ محرمات اور کبائر حتیٰ کہ بعض کے نزدیک صغائر (شریعت میں یہی متعارف ہے) کے ارتکاب سے کامل اجتناب اختیار کر لینا۔

۳۔ ظاہر و باطن کو اس قدر معمور و پر نور کر لینا کہ غیر حق کی یاد سے اور غفلت سے قلب بالکلیہ پاک وصاف ہو جائے اور سیرالی اللہ پھر سیرفی اللہ کے مدارج طے کرنے لگے۔ قرآن مجید کی مندرجہ ذیل آیات سے بالترتیب یہ مدارج اخذ کیے گئے ہیں۔

(الف) وَأَلْزَمَہُمْ کَلِمَۃَ التَّقْوَی ؂

اس سے درجہ اولیٰ مراد ہے۔

(ب) وَلَوْ اَنَّ اَہۡلَ الْقُرٰۤی اٰمَنُوۡا وَاتَّقَوۡا ؂

۔ 1سورۃ الفتح: ۴۸؍۲۶

۔ 2سورۃ الاعراف: ۷؍۹۶

(ج) یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللہَ حَقَّ تُقٰتِہٖ ؂

اس میں سب سے اعلی درجہ مراد ہے۔

۱۲۔ عمل اس وقت مقبول ہوتا ہے جب کہ تقویٰ کے ساتھ ہو، ارشاد باری تعالیٰ ہے:

اِنَّمَا یَتَقَبَّلُ اللہُ مِنَ الْمُتَّقِیۡنَ ؂

یعنی اللہ تعالیٰ متقین حضرات سے قبول فرماتا ہے۔

لطیفہ:

حضرت مجدد الف ثانی قدس سرہٗ نے صدقہ دیایانیازدلائی پھردل میں خیال آیا کہ پتہ نہیں مقبول ہوا کہ نہیں کیوں کہ متقی حضرات کا قبول ہوتا ہے اور میں متقی ہوں نہیں تو آپ کو الہام ہوا کہ تمھارا صدقہ قبول ہے اور تم متقیوں سے ہو۔

۱۳۔ تقویٰ اور عمل کے درجات ہیں بعض، بعض سے اعلیٰ، ارشاد باری تعالیٰ ہے:

لَیۡسَ عَلَی الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ جُنَاحٌ فِیۡمَا طَعِمُوۡۤا اِذَا مَا اتَّقَوۡا وَّ اٰمَنُوۡا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ ثُمَّ اتَّقَوۡا وَّ اٰمَنُوۡا ثُمَّ اتَّقَوۡا وَّ اَحْسَنُوۡا وَاللہُ یُحِبُّ الْمُحْسِنِیۡنَ ؂

ترجمہ: جو ایمان لائے اور نیک کام کیے ان پر کچھ گناہ نہیں ہےجو کچھ انھوں نے چکھا جب کہ ڈریں اور ایمان رکھیں اور نیکیاں کریں پھر ڈریں اور ایمان رکھیں پھر ڈریں اور نیک رہیں اور اللہ نیکوں کو دوست رکھتا ہے ۔’’

اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے ایمان کو تین درجوں میں ثابت کیا اور چوتھا درجہ احسان قرار دیا، اللہ تعالیٰ کے ارشاد ‘‘لَیۡسَ عَلَی الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا’’ یہ ایمان کا پہلا درجہ ہے کہ ان کو مومن قرار دیا۔ پھر فرمایا: ‘‘اِذَا مَا اتَّقَوۡا وَّ اٰمَنُوۡا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ’’ یہ ایمان کا دوسرا درجہ ہے جو اول سے

.................

۔1 سورۃ آل عمران: ۳؍۱۰۲

۔2 سورۃ المائدہ:۵؍۲۷

۔3 سورۃ المائدہ: ۵؍۹۳

اعلیٰ ہے اس کے ساتھ تقویٰ اور اعمال صالحہ کو ملایا پھر فرمایا: ‘‘ثُمَّ اتَّقَوۡا وَّ اٰمَنُوۡا’’ یہ تیسرا درجہ ہے جس کے ساتھ تقویٰ لازم ہے پھر فرمایا: ‘‘ثُمَّ اتَّقَوۡا وَّ اَحْسَنُوۡا’’

پس پہلا ایمان بلا تقویٰ جو محض کلمہ طیبہ لا إلہ إلا اللہ محمد رسول اللہ کی تصدیق سے حاصل ہوتا ہے قبول شرائط کے ساتھ۔ دوم ایمان شرائع پر عمل کے ساتھ یہ اول سے اعلیٰ ہے کیوں کہ اس میں تقویٰ یعنی محرمات سے اجتناب کے ساتھ جس میں رخصتوں اور تاویلات پر عمل ہو اور تیسرا ایمان تیسرے درجے میں جس کے ساتھ بھی تقویٰ ہے بعض شبہات سے احتراز، عزائم کا اختیار اور رخصتوں اور تاویلات سے بچاؤ کے ساتھ پھر چوتھا درجہ عالم احسان کا ہے جو ایمان بالغیب سے بلند ہے یہ عالم ایقان ہے جو مشاہدات کے واسطہ سے حاصل ہوتا ہے اس درجہ میں بھی تقویٰ کو ثابت کیا ہے یعنی جس میں بندہ ماسوائے حق سبحانہ سے قلب کو پاک کرلے (ماخوذ از رسالہ مکیہ)

کمال تقویٰ کا حصول:

کمال تقویٰ کا حصول اور اس پر مرتب ہونے والے نتائج و ثمرات حقیقتاً بندے کو اس وقت میسر آتے ہیں جب کہ وہ شہوات نفس کی پیروی سے مکمل دست بردار ہو جائے جب کہ تزکیہ کر کے نفس امارہ کو اس کی جبلی و طبعی شرارتوں سے پاک کر لے، ہر قول و عمل صرف اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول اعظم ﷺ کے اتباع کی نیت سے ہوا اسی پر جنت کا دعویٰ ہے، ارشاد باری تعالیٰ ہے:

وَ اَمَّا مَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّہٖ وَ نَہَی النَّفْسَ عَنِ الْہَوٰی ؂ اور وہ جو اپنے رب کے حضور کھڑے ہونے سے ڈرااور نفس کو خواہش سے روکا۔

مطلب یہ ہے کہ بندہ رب کی رضا کے مطابق عمل کرے اپنی خواہش پر نہیں۔ آیت میں ‘ھویٰ’ کا لفظ ہے جو لغت میں محبت کے معنی میں آتا ہے۔ شریعت میں مخالف شرع چیز کی

...................

۔ سورۃ النازعات: ۷۹؍۴۰

طرف نفس کے مائل ہونے کا نام ہے۔ ساری شرارتوں کی جڑ یہی اتباع ہوا ئے نفس ہے جیسا کہ تقویٰ ساری سعادتوں کی بنیاد ہے اسی لیے حدیث شریف میں فرمایا گیا:

مجھے اپنی امت پر سب سے بڑا خوف اتباع ہویٰ اور طول امل کا ہے لیکن اتباع ہویٰ تو وہ حق سے دور رکھتا ہے لیکن طول امل(لمبی امیدیں) تو وہ آخرت کو بھلاتی ہیں(بیہقی) ؂

نیز دوسری چیز یہ کہ جس طرح شہوات آدمی کے خون اور گوشت میں مخلوط و ممتزج ہوتی ہیں اسی طرح شیطان کی سلطنت و غلبہ بھی انسان کے خون و گوشت میں سرایت کیے ہوئے ہوتا ہے اور قلب کو اس کے تمام جوانب سے محیط ہوتا ہے رسول پاک ﷺ نے فرمایا: ‘‘بیشک شیطان ابن آدم میں خون کی طرح جاری ہوتا ہے۔’’ ؂

نیز حدیث شریف میں ہے کہ جب تم دیکھو کہ بخل کی اطاعت کی جاتی ہے اور خواہش نفس کی پیروی (ہوتی ہے) اور دنیا کو دین پر اختیار کیا جارہا ہے اور ہر آدمی اپنی رائے میں مگن ہے تو قیامت کا انتظار دیکھنا۔

ہوائے نفس کی قید سے آزاد کرنے والا تزکیہ نفس جو مشائخ کاملین کی صحبتوں اور ان کے تصرفات و مجاہدات سے حاصل ہوتا تھا اب ایسے کاملین رخصت ہو گئے خانقاہوں نے اپنا اصل کام کرنا چھوڑ دیا تصفیہ قلب اور تزکیہ نفس کا کام بند ہو گیا تو ہر طبقہ میں اہواء نفس غالب آگئیں اور مذکورہ حدیث میں بیان شدہ چاروں علامتیں آج عوام و خواص میں پائی جارہی ہیں آج دین کے نام پر جو کچھ ہو رہا ہے اور آپس میں جو بھی انتشار و اختلاف اور فساد پایا جارہا ہے سب ہوائے نفس کی اتباع کانتیجہ ہے۔

تیسری چیزجو آخرت کے سالک و طالب کے لیے از بس ضروری ہے وہ شریعت، اور حقیقت کو جمع کرناہے۔

....................

۔1 کفایۃ الاتقیاء ،ص:۸

۔2 بخاری،کتاب الاحکام،رقم الحدیث:۷۱۷۱

علما فرماتے ہیں کہ حقیقت بلا شریعت باطل اور شریعت بلا حقیقت عاطل پہلے آدمی کی مثال مثلاً آپ کسی سے کہیں کہ نماز پڑھا کر و جواب میں کہے کہ نماز کی کوئی حاجت نہیں اگر میں ازلی طور پر سعید اور نیک بخت ہوں گا تو جنت میں جاؤں گا اگرچہ نماز نہ پڑھوں ورنہ دوزخ میں اگرچہ نماز پڑھوں۔ دوسرے کی مثال، مثلاً کوئی شخص جنت کے لیے عمل کرتا ہے اور کہتا ہے کہ میرا عمل نہ ہوتا تو میں جنت میں کیونکر داخل ہو سکتا یہی شریعت کے عاطل ہونے سے مراد ہے کہ اس کا وجود عدم کی طرح ہے کیوں کہ دخول جنت اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہے جیسا کہ حدیث شریف میں ہے۔

شریعت، طریقت، حقیقت:

علمافرماتے ہیں اللہ تعالیٰ نے جن کو کرنے اور بجالانے کا حکم دیا اور جن سے منع کیا یعنی مامورات و منہیات کا نام شریعت ہے اور ان پر عمل کرنا طریقت اور بواطن امور پر نظر رکھنا اور اپنے افعال کو اللہ کی طرف سے دیکھنا حقیقت ہے۔

الحمد شریف کی ان آیات‘‘اِیَّاکَ نَعْبُدُ وَ اِیَّاکَ نَسْتَعِیۡنُ’’ میں اول میں شریعت کے ظاہر کی اور دوم ‘‘اِیَّاکَ نَسْتَعِیۡنُ’’ میں حقیقت کی رعایت کی گئی ہے؛ کیوں کہ اول میں کسب ظاہر کی طرف نظر ہے جو کہ بندہ کا فعل ہے اور بندے کا اپنی طاقت و قوت سے اظہار برأت اس چیز کا شہود ہے کہ فعل صرف اللہ تعالیٰ کی معونت و مدد سے پورا ہوسکتا ہے غرضیکہ بندہ جملہ مامورات و منہیات پر عمل کرے لیکن یہ نہ سمجھے کہ اس کا عمل ہی اسے نجات دے سکتا ہے اور وہی جنت میں داخل کر سکتا ہے اگر یہ نہ ہوتا تو جنت نہ ملتی بلکہ عمل سے صرف امر الہٰی بجالانا اور سنت کی پیروی مقصود ہو، فرمانِ الہٰی ہے:

فَاعْبُدِ اللہَ مُخْلِصًا لَّہُ الدِّیۡنَ ؂ اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو دین کو اس کے لیے خالص کرتے ہوئے ۔

...................

۔ سورۃ الزمر: ۳۹؍۲

اگر عمل پر ثواب دے تو اس کا فضل محض اگر عذاب دے تو عدل محض دین پرعمل کرنا شریعت اور جملہ اعمال و افعال میں عزیمت اور احوط (زیادہ محتاط) کو اختیار کرنا طریقت ہے (بندے کو چاہیے کہ وہ رخصتوں پر عمل نہ کرے بلکہ ورع اختیار کرے ) اور سالک کا مقصود تک پہنچ جانا یعنی معرفت الہٰی اور نور تجلی کا مشاہدہ کرنا حقیقت ہے بعض نے فرمایا کہ حقائق اشیاء کی فہم اور سمجھ جیسے اسما و صفات کا شہود اسی طرح اسرار قرآن اور اسرار معنی و جواز کی فہم اور ان علوم غیبیہ کی فہم جن کو کسی معلم سے حاصل نہیں کیا جاسکتا ہے، حقیقت ہے۔

حضرت مجدد الف ثانی قدس سرہٗ نے ایک اور لطیف اور جامع فرق شریعت ، طریقت اور حقیقت میں بیان فرمایا ہے وہ یہ کہ مثلاً جھوٹ ممنوع ہے اسے زبان سے نہ بولنا شریعت ہے اور دل سے نفی کرنا اگر بہ تکلف ہو تو طریقت ہے اور بلا تکلف ہو تو حقیقت ہے اس کے جامع ہونے کی وجہ یہ ہے کہ اولیاء کرام دو طرح کے ہوتے ہیں (۱) ارباب کشف و شہود (۲) غیر ارباب کشف۔ پہلی قسم کے حضرات تو غیبی انوار و فتور کا مشاہدہ کر لیتے ہیں اور نور تجلی کو بھی باطنی حس سے دیکھ لیتے ہیں لیکن دوسری قسم کے لوگ باوجودیکہ شریعت و طریقت و حقیقت کے جامع ہوتے ہیں مگر پھر بھی مشاہدہ نہیں کر پاتے ہیں اسی طرح بہت سے لوگ درجہ ولایت پر فائز ہوتے ہیں مگر اسرار قرآن اور اسرار منع وجواز کی فہم انھیں حاصل نہیں ہو تی ہے۔ متقدمین صوفیہ کثرت مجاہدات و ریاضات کی وجہ سے اکثر ارباب کشف ہوتے تھے لہٰذا وہ مذکورہ امور کے حامل ہوتے تھے۔

فقدان کشف کے اسباب:

مگر آج ان ریاضات و مجاہدات کا فقدان ہے، نیز کھانے میں پہلے کی طرح خالص حلال جوشبہ سے بھی پاک ہو وہ آج کل بہت کم میسر ہے؛ اس لیے عام طور پر کشف حاصل نہیں ہوتا ہے نیز ہم خود اپنے مریدوں اور پیر بھائیوں میں دیکھ رہے ہیں کہ بعض کو ابتدائی مرحلوں میں کچھ نہ کچھ کشف ہونے لگتا ہے اور بعض وہ ہیں جو بہت سے مراحل و منازل طے کر چکے ہیں مگر کشف نہیں۔

اسباب کشف:

اس سے پتہ چلتا ہے کہ کشف صلاحیت پر موقوف ہے جن میں استعداد ہوتی ہے انھیں کشف ہو جاتا ہے پھر ذکر و صحبت شیخ کامل، رزق حلال اور کچھ مجاہدات جمع ہو جاتے ہیں تو اس میں مزید ترقی و صفائی میسر آجاتی ہے اور حسب استعداد و محنت و ریاضت ترقی مزید سے مزید تر ہوتی چلی جاتی ہے۔ اولیاے کرام رحمۃ اللہ علیہم خواہ ارباب کشف ہوں یا نہ ہوں شریعت ، طریقت اور حقیقت تینوں کے جامع ہوتے ہیں اگرچہ فرق مراتب ہوتا ہے۔ حضرت مجدد قدس سرہٗ کی تفسیر دونوں کو شامل ہے مقام طریقت و حقیقت اسی طرح دیگر مقامات کے حصول کے لیے کشف ضروری نہیں بلکہ اتصاف ضروری ہے۔

معلوم رہے کہ سالک کو اگر قسمت سے شیخ کامل مل جائے اور یہ پورے طور پر خودکو اس کے حوالے کردے اور شریعت کی پابندی کرے نیز تقویٰ اختیار کرے تو یہ مقامات و احوال حاصل کر کے درجہ و لایت پرفائز ہوسکتا ہے خواہ کشف ہو یا نہ ہو، کشف شرط ولایت سے نہیں ہے ہاں تقویٰ و ورع شرط ہے۔

مجاہدہ فی سبیل اللہ:

بزرگوں نے حدیث قدسی بیان فرمائی ہے کہ تم اپنے نفس سے عداوت کرو کیوں کہ وہ میری عداوت پر قائم ہے نیز مشکوٰۃ وغیرہ میں حدیث شریف ہے جس کا ایک حصہ ہے کہ ‘‘المجاہد من جاہد نفسہ فی طاعۃ اللہ’’ یعنی کامل مجاہد وہ ہے جو اپنے نفس سے اللہ تعالیٰ کی اطاعت میں جہاد کرے۔ ؂

بزرگوں نے مجاہدات کے درجے اور اقسام بیان کیے ہیں۔ مجاہدہ کی حقیقت یہ ہے کہ شریعت کے خلاف جن چیزوں کا نفس حکم دے اس پر عمل نہ کیا جائے اور اس کے خلاف یعنی شریعت پر عمل کیا جائے اس کے لیے ضروری ہے کہ انسان کو شریعت کے مامورات و

.......................

۔ مسنداحمد،رقم الحدیث:۲۳۹۵۸

منہیات تفصیل سے معلوم ہوں۔ بزرگوں نے فرمایا کہ حیات کے ہر شعبے میں سنت پر عمل بڑا مجاہدہ ہے۔ ظاہر بھی سنت کے مطابق ہو یعنی کھانا، پینا، سونا، جاگنا، بول چال، لباس، اٹھنا، بیٹھنا وغیرہ سنت کے مطابق ہو اور باطن بھی یعنی محبت و عداوت سب کچھ اللہ تعالیٰ کے لیے ہو، انسان اپنے اندر اخلاق نبوی پیدا کرے، قلب کو تمام گندگیوں مثلاکینہ ، بغض و حسد، حب دنیا، حب جاہ و منصب اور حب مدح وغیرہ سے پاک کرے۔ بزدلی، سستی، بخل، حرص وطمع وغیرہا عیوب سے پاک کرے اور اخلاق حسنہ مثلا توبہ، انابت، توکل، قناعت، صبر و شکر، خوف و رجا، محبت خدا و رسولﷺ، عفو و درگذراورسخاوت و ایثار وغیرہ اوصاف عالیہ سے آراستہ کرے۔ معلوم ہو کہ مجاہدات و ریاضات اور اخلاق وغیرہ کے تعلق سے ہم کتاب ‘‘تصوف اور اس کے فوائد’’ میں کافی گفتگو کر چکے ہیں لہٰذا وہاں مطالعہ کریں۔

جب بندہ ایمان و تقویٰ سے آراستہ ہوجائے اور مرشد کامل نصیب ہو جائے تو سیر و سلوک میں قدم رکھے خیال رہے کہ سلوک میں قدم رکھنے کے لیے تقویٰ کے دو ابتدائی درجات حاصل کر لے باقی تیسرا درجہ عام طور پر کافی حد تک منازل سلوک طے کرنے کے بعد ہی نصیب ہوتا ہے اور فوائد مکیہ کے بیان کے مطابق جو چوتھا درجہ ہے یعنی درجہ احسان یہ مکمل طور پر تزکیہ نفس کے بعد نصیب ہوتا ہے۔

سالک جب مجاہدہ مذکورہ یعنی ہر معاملہ میں مخالفت نفس اختیار کرتا ہے تو نفس کی شرارتوں سے باز آنے لگتا ہے، نفس کی شرار تیں جوں جوں دور ہوتی جاتی ہیں قدم اطمینان کی طرف بڑھتا جاتاہے اس کے ساتھ ساتھ جب مرشد کامل کی توجہات اور ذکر و شغل کی پابندی اور شریعت پر عمل کرتا ہے تو تیزی سے تزکیہ نفس کی طرف قدم بڑھتے ہیں کیوں کہ مرشد کامل اور اتباع سنت کے انوار جوں جوں قلب و نفس کو منور کرتے جاتے ہیں خواہشات نفسانی پر قابو ہوتا چلا جاتا ہے اور نفس مزکیٰ ہو جاتا ہے اس طرح سے پایۂ تکمیل تک پہنچ جاتا ہے۔

یہاں چند امور ذہن میں رکھیں:

۱۔ ابتدا اور توسط میں سالک کے لیے مرشد کامل کی صحبت و اکتساب فیض از حد ضروری ہے۔

۲۔ اشغال و اذکار کی پابندی بھی اشد ضروری ہے۔

۳۔ تقویٰ میں قدم آگے بڑھاتا رہے۔

۴۔ نفس کشی جہاں تک ہو سکے کرے اور بزرگوں کی روش ایک حد تک اختیار کرے تاکہ نفس جلد مغلوب ہو جائے۔

۵۔ بزرگوں خاص کر امام غزالی قدس سرہٗ نے احیاء العلوم وغیرہ میں جو امراض قلب اور ان کا علاج تحریر فرمایا ہے اسے بار بار پڑھے، امراض کی شدت و ضعف کو پرکھنے کی کوشش کرے اور اسی کے مطابق علاج اختیار کرے۔

۶۔ حرام و مشتبہ لقموں اور کاموں سے بچے اور صرف ان غذاؤں کو استعال کرے جن کا حلال ہونا یقینی ہو ورنہ اس دور میں کم سے کم ظن غالب ضرور ہو۔

۷۔ ان آداب کو استعمال کرے جن کو بالتفصیل عوارف المعارف وغیرہ میں بیان فرمایا ہے۔

۸۔ خدمت دین میں کوشاں رہے اور ہر محنت و جفا کشی کو برداشت کرے تاکہ بدن سستی سے محفوظ رہے اور محنت و مشقت جھیلنے کی عادت رہے۔

۹۔ اوقات کو مختلف طاعات و عبادات اور اشغال و اذکار میں منحصر رکھے۔