باب ۶ از ۸صفحات ۶۲–۷۳
درجات
بزرگوں نے اخلاص کے تین درجے بیان فرمائے۔
۱۔ سب سے اعلیٰ یہ ہے کہ طاعت سے مقصود صرف قرب خداوندی کا حصول ہو۔
۲۔ دوسرا درجہ یہ کہ مقصد طاعت و عمل ثواب کا حصول اور جہنم اور عقاب سے دوری ہو۔
۳۔ تیسرا درجہ کہ عمل اس لیے کرتا ہے تاکہ اللہ تعالیٰ اسے دنیا میں لوگوں سے بے نیاز کردے جیسے کوئی سورہ واقعہ اس لیے پڑھتا ہے تاکہ فاقہ نہ ہو یہ مرتبہ دنیا کہلاتا ہے مگر اس
>>>>>>>>>>>>>>>
۔ سلالم الفضلاءبرحاشیہ کفایۃالاتقیاء ص:۳۳
۔ ایضاص:۳۳
مرتبہ کا حامل بھی مخلص شمار ہوتا ہے۔
حضرت امام غزالی قدس سرہٗ کے قول کا خلاصہ یہ ہے کہ کوئی عمل صرف تقرب خداوندی کے لیے نہیں بلکہ اس کے ساتھ کوئی غرض دنیا بھی شامل ہو جیسے کوئی بہ نیت تقرب روزہ رکھے اور ساتھ میں یہ نیت بھی ہو کہ ہمیں اس سے نفع حاصل ہو یا جیسے کوئی شخص غلام آزاد کر رہا ہے اس لیے تاکہ اس کے اخراجات (کھانا پانی وغیرہ) سے چھٹکارا یا اس کی بد خلقی سے نجات حاصل ہو جائے ،اسی طرح کوئی شخص رات کی نماز اس لیے پڑھتا ہے کہ نیند اور اونگھائی نہ آئے تاکہ ہم اہل و عیال اور گھر کی نگرانی کرسکیں یا علم اس لیے حاصل کرتا ہے تاکہ قبیلہ میں اور اعزا و اقرباء اور دیگر لوگوں میں عزت سے دیکھا جائے۔ حضرت سید عبد اللہ حداد قدس سرہٗ نصائح میں فرماتے ہیں کہ جو شخص صرف تقرب الہٰی اور اس کی رضا و ثواب کی طلب کے لیے عمل کرتا ہے وہ مخلص ہے اور جو اللہ تعالیٰ اور لوگوں کو دکھانے کے لیے عمل کرے وہ ریا کار ہے اور اس کا عمل غیر مقبول ہے اور جو صرف لوگوں کو دکھانے کے لیے عمل کرے اگر لوگ نہ ہوں تو بالکل عمل ہی نہ کرے اس کا معاملہ نہایت خطرناک، ہولناک اور اس کی ریا کاری منافقین کی ریا کاری ہے۔
ریا کاری:
اخلاص کو برباد کرنے والی چیز ریا کاری ہے ‘تحفۃ الخواص’ میں فرمایا: زیادہ فعل عبادت جو اس نیت سے کیا جائے تاکہ لوگ ہمارے اس فعل پر مطلع ہوں اور مال، یا جاہ یا مدح حاصل کرے، علماے کرام نے اسے کبیرہ گناہوں سے قرار دیا اور فرمایا: کل عملٍ خالطہ الریا فہو باطل’’ ہر وہ عمل جس میں ریا شامل ہو جائے باطل ہے یہ حکم اس کا ہے جو خالص ریا پر مشتمل ہو
.....................
۔ کفایۃص:۳۳
۔ کفایۃص:۳۳
لیکن وہ عمل جس میں تقرب خداوندی کے علاوہ کوئی اور مقصد بھی شامل ہو جیسے کسی نے حج کیا تجارت کے ساتھ، یا طہارت وضو و غسل کیا لیکن اس سے ٹھنڈک حاصل کرنے کی بھی نیت کر لی وغیرہ وغیرہ جیسا کہ گذر گیا اس میں علما فرماتے ہیں اتنی مقدار میں ثواب ہے جتنا آخرت کا قصد ہے اگرچہ مغلوب صحیح۔
ریا ایک ایسا فعل بدہے جو سارے اعمال میں داخل ہو جاتا ہے حتی کہ درود پڑھنے میں بھی، ریا کاری کی مذمت قرآن و سنت میں کثرت سے بیان فرمائی گئی ہے۔
۱۔ اللہ رب العزت فرماتا ہے
فَمَنۡ کَانَ یَرْجُوۡ لِقَآءَ رَبِّہٖ فَلْیَعْمَلْ عَمَلًا صَالِحًا وَّ لَا یُشْرِکْ بِعِبَادَۃِ رَبِّہٖۤ اَحَدًا ی
یعنی جو اپنے رب سے ملاقات کی امید رکھتا ہے اسے چاہیے کہ نیک عمل کرے اور اپنے رب کی عبادت میں کسی کو شریک نہ کرے۔
۲۔ نیز رب تعالیٰ فرماتا ہے:
مَنۡ کَانَ یُرِیۡدُ حَرْثَ الْاٰخِرَۃِ نَزِدْ لَہٗ فِیۡ حَرْثِہٖ وَ مَنۡ کَانَ یُرِیۡدُ حَرْثَ الدُّنْیَا نُؤتِہٖ مِنْہَا وَمَا لَہٗ فِی الْاٰخِرَۃِ مِنۡ نَّصِیۡبٍ
یعنی جو آخرت کی کھیتی کا ارادہ کرے گا ہم اس کی کھیتی بڑھائیں گے اور جو دنیا کی کھیتی کا ارادہ کرے ہم دنیا سے اسے دیں گے اور اس کے لیے آخرت سے کوئی حصہ نہیں۔
۳۔ خدائے وحدہ لاشریک فرماتا ہے:
: فَوَیۡلٌ لِّلْمُصَلِّیۡنَ الَّذِیۡنَ ہُمْ عَنۡ صَلَاتِہِمْ سَاہُوۡنَ الَّذِیۡنَ ہُمْ یُرَآءُوۡنَ وَ یَمْنَعُوۡنَ الْمَاعُوۡنَ خ
خرابی ہے ان نمازیوں کے لیے جو اپنی نمازوں سے سے بھول کرتے ہیں، جو دکھاوا کرتے ہیں اور برتنے کی چیزیں منع کرتے ہیں۔
......................
۔ سلالم الفضلاء بر حاشیہ کفایۃص:۳۳
۔ سورۃ الکہف: ۱۸؍۱۱۰
۔ سورۃ الشوریٰ:۲۰
۔ سورۃ الماعون: ۱۰۷؍۴۔۷
۔ رسول پاک ﷺ فرماتے ہیں کہ اللہ عزو جل فرماتا ہے: میں شرک سے سب سے زیادہ بے نیاز ہوں تو جس نے میرے لیے عمل کیا اور اس میں میرے غیر کو شریک کر لیا تو میں اس سے بری ہوں اور میرا حصہ میرے شریک کے لیے ہے۔
۲۔ آپ علیہ السلام فرماتے ہیں: جس نے دکھاوے کے لیے روزہ رکھا اس نے شرک کیا اور جس نے دکھاوے کے لیے صدقہ دیا اس نے شرک کیا۔
۳۔ حضور سراپا نور ﷺ فرماتے ہیں: جس نے عمل آخرت کے عوض دنیا طلب کی اللہ تعالیٰ اس کے چہرے کو مسخ کر دے گا اور اس کا ذکر مٹا دے گا اور اس کا نام دوزخ میں لکھدے گا۔
ان سب کی تفصیل کے لیے دیکھئے، احادیث کی کتب مبسوط اور تفصیلی کتب تصوف خاص کر احیاء العلوم شریف۔
ابتلاے عام:
امام محمد غزالی قدس سرہٗ نے ریاکاری کے درجات بڑی تفصیل سے بیان فرمائے ہیں جنھیں پڑھ کر اندزاہ ہوتا ہے کہ آج اس مرض میں ابتلاء عام ہے اور عموماً ہر ایک کسی نہ کسی موقع میں اس میں مبتلا ہے آج اکثر تو وہ ہیں جو کھلے ہوئے ریا کار ہیں، دنیا دار اپنی امداد و اعانت کو اور نیتا و لیڈر اپنی خدمات کے تو جگہ جگہ چرچے کرتے ہی رہتے ہیں لیکن اکثر علماء و مشائخ بھی ایسے ہی محفل میں اتنی خدمات بیان کرنے لگے ہیں کہ سننے والے تھک جاتے ہیں مگر وہ بیان سے نہیں تھکتے، تقریروں میں، تحریروں میں، نجی محا فل میں اور سیٹھوں کے سامنے ہر جگہ اپنی خدمات سے خود آگاہ کرتے رہتے ہیں ، دوسروں سے تعریفوں کے خواہاں رہتے ہیں اور وہ بیان کردیتے ہیں جو کرتے ہیں، اسی طرح دعوتی و تبلیغی تنظیمیں اور تحریکیں جن کا خاص مقصد لوگوں کو اپنی طرف مائل و متوجہ کرنا ہے وہ لوگوں کو دام میں پھانسنے کے لیے ہر حربہ کرتے ہیں اور
................
۔ کفایۃص:۳۴
۔ کفایۃص:۳۴
کسی بھی ریا کاری سے باز نہیں آتے، اپنی دینی دھونس بٹھانے اور تقویٰ و پر ہیز گاری کا رعب دلوں میں قائم کرنے کے لیے کیا کیا نہیں کر گذرتے؟ کسی کا مقصد جب غیر خدا ہو جاتا ہے تو اسے حاصل کرنے کے لیے پھر وہ سب کچھ کر گذرتا ہے اور اپنے اعمال کو بھی قربان کر دیتا ہے۔ نسأل اللہ العافیہ واللہ المعین۔
ذکر محاسن:
خود اپنے محاسن ذکر کرنے کا حکم کیا ہے؟ حضرت علامہ نووی رحمہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: اپنے محاسن کا ذکر و و قسم پر ہے: (۱) مذموم (۲) محبوب۔
مذموم اور برایہ ہے کہ فخر کے لیے یا اپنے ہم عصر و ہم جنس پر بلندی و رفعت کا اظہار کے لیے یا ان سے امتیاز اور اسی طرح، دیگر نیتوں سے ہو اور دوم یعنی محبوب و پسندیدہ وہ ہے جو کسی دینی مصلحت کی وجہ سے مثلاً نیکی کا حکم دینا، برائی سے منع کرنا یا نصیحت یا کسی مصلحت کا مشورہ دے رہا ہو یا معلم و مؤ دب ہو یا واعظ و مذکر یا دو کے درمیان صلح کرانے والا ہو یا اپنے آپ سے شر دفع کرنا مقصود ہو اور اسی طرح اور دیگر اچھی نیتوں سے ذکر محاسن جائز ہے مگر شرط یہ ہے کہ ریا کاری کی آلودگیوں سے پاک و صاف ہو، معلوم رہے کہ محققین صوفیہ کرام علیہم الرضوان نے بھی اپنی کتابوں اور مکتوبات میں باطنی مشاہدات و مکشوفات اور حقائق و معارف کااظہار فرمایا ہے، اس میں بھی چند مصلحتیں ہوتی تھیں خاص کر ایک تو یہ کہ مریدین و متعلقین پر جو اس طرح کے ادراک کی صلاحیت نہیں رکھتے ہیں سلوک وغیرہ کے منازل و مراحل اور ان کی خصوصیات پتا چل جائیں۔
دوسرے یہ کہ تمام مریدین کو ایک مقرر و متعین راستہ معلوم ہو جائے اور وہ اپنے مکشوفات و مشاہدات کو اسی ترازو پر تولیں جو ان کے امام و پیشوا نے مقرر کی ہے۔
تیسرا مقصد اہل ارادت کی ترغیب ہوتا کہ ان کے اندر تحصیل مقامات کا جذبہ اور طلب
..................
۔ سلالم الفضلاءبر حاشیہ کفایۃص:۳۵
صادق پیدا ہو، ایک یہ بھی فائدہ ہوتا تھا کہ بعد کے لوگوں کو ان بڑوں کے مقامات و مراتب کی تعیین میں مدد مل جاتی تھی نیز امت کو جدید علوم و معارف کا خزانہ ہاتھ آجاتا تھا، اللہ والے ریا کاریوں سے ہمیشہ دور رہتے ہیں۔ کبھی مقصد تحدیث نعمت بھی ہوتا ہے صحیح بات یہ ہے کہ اس کا حق انھیں حضرات کو تھا جو نفوس زکیہ کے مالک ہوتے تھے اور کثرت مجاہدات یا ‘اجتباء ’ و ‘اصطفاء’ کی بدولت بڑے منازل پر فائز ہوتے اور ان پر انکشاف حقائق ہوتا۔
تنبیہ:
اظہار طاعات کے تعلق سے بزرگوں نے فرمایا ہے کہ یہ دو قسم پر ہے ایک نفس عمل کا اظہار۔ اس ظاہر کرنے والے پر دو وظیفے ہیں ایک یہ کہ ایسی جگہ ظاہر کرے جہاں اسے معلوم ہو کہ لوگ اس کی پیروی کریں گے۔ دوسرا یہ کہ قلب کی نگرانی کرے کہ کسی طرح ریا دل میں داخل نہ ہونے پائے بسا اوقات اس میں ریا خفی ہوتا ہے جو اظہار کی طرف بلاتا ہے اور اس کی خواہش ہوتی ہے عمل خوبصورت کیا جائے۔ اسے پتہ نہیں ہوتا ہے اس لیے ہلاک ہو جاتا ہے۔
اظہار و طاعات کی دوسری صورت یہ ہے کہ کیا ہوا عمل لوگوں سے بیان کرے اس کا حکم پہلے ہی کی طرح ہے مگر اس میں خطرہ زیادہ ہے کیوں کہ زبان سے بیان بڑا آسان ہوتا ہے اور بیان کرنے میں کبھی مبالغہ اور زیادتی ہو جاتی ہے، بزرگوں نے فرمایا کہ دعاوی میں نفس کے لیے عظیم لذت ہوتی ہے۔
آج کا دور:
آج اکثر لوگ علم دین سے دور اور محروم ہیں اس لیے بہتیرے عالم اور پیر کہلانے والے جہالتوں سے فائدے اٹھا کر اپنے محاسن بیان کر کے گرویدہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں، اب نہ تو مشائخ میں روحانیت و طریقت ہے نہ علوم طریقت سے آگاہی نہ اکثر علما کہلانے والوں میں علوم دینیہ۔ بہت سے لوگوں نے تو خوابوں پر فضائل و مناقب کی عمارتیں کھڑی کر رکھی ہیں ہر ایک سے گذارش ہے کہ کسی کی ڈینگوں پر نہ جائے بلکہ عقائد و اعمال میں علماء اہل سنت نے
جو معیار مقرر کیا ہے اسی پر سب کو دیکھے اور صرف ایک دو دن نہیں، نہ صرف جلوتیں اور نہ دوسروں ے سننے پر اکتفا کرے بلکہ خلوت و جلوت دونوں دیکھے، کافی دنوں دیکھے، پڑوسیوں سے خفیہ طور پر معاملات پوچھے، محفلوں میں دیکھے کہ دنیا کا بیان ہے یا ذکر آخرت، سفر و حضر سب کچھ ملاحظہ کرے تب ہی اعتماد کرے اور اللہ تعالیٰ سے تضرع وزاری کے ساتھ دعائیں مانگے کہ صالحین کی صحبت عطا فرمائے صحابہ و تابعین رضوان اللہ علیہم میں بہت سے وہ تھے جو کسی نئی جگہ جاتے تو سب سے پہلے اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے کہ جلیس (ساتھی) صالح اور نیک ہم نشین عطا کرے۔
اخفاے اعمال:
حضرت عبد اللہ حداد رضی اللہ عنہ نے نصائح میں فرمایا کہ جب کسی کو اپنے اعمال میں ریا کاری کا اندیشہ اور خوف ہو تو اسے چاہیے کہ چھپا کر عمل کرے اور ایسی جگہ اس طور پر عمل کرے کہ لوگوں کو اطلاع نہ ہو یہ محتاط اور زیادہ سلامتی کی چیز ہے اور مطلقاً افضل ہے یعنی عمل فی السر ہر حال میں افضل ہے حتی کہ جسے ریا کا اندیشہ نہیں اس کے لیے بھی، ہاں! مخلص کامل جو قوم کا پیشوا ہو کہ جس کے کردار و عمل سے لوگ سبق حاصل کریں گے۔ یہ بھی خیال رہے کہ کچھ اعمال ایسے ہیں کہ بغیر ظاہر کیے نہیں کیے جاسکتے ہیں جیسے علوم و فنون کی تعلیم و تعلم، با جماعت نماز، حج اور جہاد وغیرہ۔ جسے اندیشہ ہوکہ ان کی ادائگی کے وقت ریا شامل ہوسکتا ہے تو انھیں چھوڑے نہیں اور ریا کو دور کرنے کی کوشش کرے۔
حضرت امام غزالی قدس سرہٗ فرماتے ہیں: خوف ریا کی وجہ سے ترک طاعت کی کوئی وجہ نہیں بلکہ مناسب ہے کہ عمل کرے اور اخلاص کا کوشاں رہے۔ مگر جب کہ وہ عمل ہو جس کا تعلق خلق سے ہو جیسے قضاء افتاء، امامت اور وعظ تو جب اسے علم ہو کہ اس میں خوض اور دل چسپی کے بعد قابو نہیں پاسکتا ہے بلکہ خواہشات نفس کا مالک ہوجائے گا۔ تو اس پر اعراض اور اس سے
..................
۔ کفایۃص:۳۴
بھاگنا ضروری ہے۔ اسلاف کی ایک جماعت نے ایسا ہی کیا۔
طلب جاہ:
آج کل یہ مرض خصوصاً تعلیم یافتہ حضرات میں جنھیں اللہ تعالیٰ نے کچھ جاہ و منزلت دی ہے بہت بڑھتا جا رہا ہے اور ہر آدمی کو جاہ و مال کی طلب بے چین کیے ہوئے ہے اور یہی چیز اس کے انحطاط کا سبب ہے۔ رب کائنات جل و علا فرماتا ہے:
تِلْکَ الدَّارُ الْاٰخِرَۃُ نَجْعَلُہَا لِلَّذِیۡنَ لَا یُرِیۡدُوۡنَ عُلُوًّا فِی الْاَرْضِ وَلَا فَسَادًا یہ دار آخرت ہے جس کو ہم ان کے لیے بناتے ہیں جو زمین میں بلندی اور فساد کا ارادہ نہیں کرتے ہیں۔
حضور سرور کائنات ﷺ کا ارشاد ہے : حب المال والجاہ ینبتان النفاق فی القلب کما ینبت الماء البقل’’ مال و جاہ کی محبت دل میں ایسا نفاق اگاتی ہے جیسے پانی سبزے کو اگاتا ہے۔
نیز آپ ﷺ فرماتے ہیں: دو بھوکے بھیڑئیے جو بکریوں کے ریوڑ پر چھوڑ دئیے جائیں اتنا فساد نہیں کرتے جتنا کہ مال و جاہ کی محبت مسلمان مرد کے دین میں کرتی ہے’’
حضرت سیدنا ابوبکر وراق قدس سرہٗ فرماتے ہیں: ’’اگر تم لوگوں میں منزلت طلب کر رہے ہو تو اللہ تعالیٰ کے پاس منزلت طلب نہ کرو، یعنی دونوں چیزیں جمع نہیں ہوسکتی ہیں، جو لوگوں کے دلوں میں جاہ و منزلت کا طالب ہے اسے اللہ تعالیٰ کے یہاں کوئی جاہ نہیں، معلوم رہے کہ جاہ کی طلب بہت سے اعمال کو فاسد اور تباہ کرتی ہے کیوں کہ طالب جاہ ان کی دوستی کا دلدادہ ہوتا ہے اور اس کی وجہ سے ریا کاری کرتا ہے، اس کی توجہ اپنے اقوال و افعال میں ان امور کی طرف رہتی ہے جو لوگوں کے دلوں میں جاہ پیدا کریں یہ عین نفاق ہے۔ یہ بھی دھیان رہے کہ جب تک
...................
۔ کفایۃص:۳۶
۔ سورۃ القصص:۸۳
۔ کفایۃص:۳۶
۔ کفایۃص:۳۷
بندے کی طمع لوگوں سے وابستہ رہے گی اس وقت تک طلب جاہ سے خلاصی نصیب نہیں ہو سکتی ہے اور طمع قناعت سے ختم ہوتی ہے لہٰذا بغیر قناعت ترک جاہ مکمل نہیں ہو سکتی ہے۔
۸۔ عزلت:
بزرگوں کے وصایا تسعہ سے ایک عزلت بھی ہے اردو میں اس کی تعبیر گوشہ نشینی سے کر دیتے ہیں، خلق سے جدا ہو کر رہنا عزلت کہلاتا ہے، معلوم رہے کہ عزلت کے تعلق سے ہم تفصیلی کلام کتاب ‘‘تصوف اور اس کے فوائد’’ میں کر چکے ہیں کہ عزلت کے کیا فوائد ہیں؟ کیا نقصانات ہیں؟ اس طرح اختلاط کے کیا فوائد ہیں؟ اور کیا نقصانات ہیں؟ یہ کس کے لیے جائز ہے، کس کے لیے نہیں؟
کامل مشائخ طریقت بہت بڑے نباض ہوتے تھے وہ اچھی طرح جانتے تھے کہ لوگوں کو گناہوں اور غفلتوں سے کس طرح بچایا جاسکتا ہے؟ انسان کی عادات و خصائل کی تبدیلیوں میں صحبتوں کو بہت بلکہ بہت ہی دخل ہے۔ لہٰذا ان غافلین اور اہل معاصی کی صحبتوں سے ان لوگوں کو خاص کر روکتے تھے جود وسروں پر اپنا اثر ڈالنے کے بجائے دوسروں کا اثر قبول کر لیں۔ ایسوں کے لیے بروں کی صحبتیں زہر قاتل ہوتی ہیں اکثر دیکھا جاتا ہے کہ جو بد عقیدوں کی صحبتوں میں بیٹھتا ہے وہ بد عقیدہ ہو جاتا ہے اور جو بد عملوں کی صحبتیں اختیار کرتا ہے وہ بد عمل ہو جاتا ہے۔دنیا کے دیوانوں کے پاس بیٹھنے والا عاشق دنیا ہی بنتا ہے اور نیکوں کے پاس بیٹھنے والا اکثر نیک ہی ہوتا ہے۔ قرآن و سنت میں بروں کی صحبتوں سے دور رہنے پر بہت زور دیا گیا ہے اور نیکوں کی صحبت پر ابھارا گیا ہے، ایمان و عمل بیش قیمت دولتیں ہیں ان کو بچانا ہر حال میں ضروری ہے ان کے بچاؤ کا بہتر طریقہ صالحین کی صحبتیں اور بروں سے دوری ہے۔ بزرگان دین صحبتوں کے اثرات اور ایمان و عمل کی اہمیت و عظمت اور ان کی حفاظت کے طریقوں سے اچھی طرح واقف تھے اس لیے وہ خود اپنی اور اپنی ااولاد کی صحبتوں پر بہت نظر رکھتے تھے آج کل جس قدر
.....................
۔ کفایۃص:۳۷
فرق باطلہ کا شیوع و عموم ہے وہ صرف انھیں بری صحبتوں کی دین ہے، مسلمانوں کی بڑی کوتاہیوں میں سے یہ ہے کہ اب انھیں اچھی بری صحبتوں کی نہ تمیز رہی نہ اچھوں کی قدر و قیمت اور بروں کی قباحت و شناعت ، گذشتہ وہ مبارک ادوار جن میں خیر و اصلاح غالب تھی نہایت کثرت سے اولیا، صوفیہ اور صالح علما تھے قدم قدم پر اچھی صحبتیں میسر تھیں اس وقت طالبان خدا و آخرت (بری) صحبتوں سے بے پناہ بچنے کی کوششیں کرتے کہ مبادا نادانستہ طور پر کہیں بروں کے دام فریب میں پھنس جائیں، ایمان و عمل کی حفاظت کے لیے بہت سے جنگلوں کا راستہ لیتے، بہت سے پہاڑوں پر اقامت اختیار کر لیتے بہت سے گمنام جگہوں پر نکل جاتے جہاں ان پر جمعہ و جماعت وغیرہ فرض و واجب نہ رہتے۔
چند اقوال:
حضرت عیسیٰ علی نبینا و علیہ الصلوٰۃ والسلام سے مروی ہے: انھوں نے فرمایا کہ مردوں کے پاس نہ بیٹھو کہ تمھارے دل مر جائیں، عرض کیا گیا: مردوں سے مراد کون ہیں؟ فرمایا:دنیا سے محبت کرنے والے اور اس کی رغبت رکھنے والے۔
روایت میں ہے کہ سرکار ﷺ نے فرمایا: مجھے اپنی امت پر سب ے زیادہ خوف ضعف یقین کا ہے’’ ضعف یقین غافلوں کو دیکھنے اور اہل بطالت وقساوت کے ساتھ مخالطت اور ربط و ضبط سے پیدا ہوتا ہے۔
بعض ابدال سے جو سب سے منقطع ہو کر اللہ کے ہو رہے، کہا گیا کہ تحقیق اور وصول الی الحق کا کیا راستہ ہے؟ فرمایا: مخلوقات کی طرف نظر نہ کرو، کیوں کہ، ان کی طرف نظر ظلمت ہے، میں نے کہا کہ نظر کے بغیر چارہ نہیں تو فرمایا کہ ان کا کلام نہ سنو کیوں کہ ان کا کلام دل کی قساوت اور سختی ہے، میں نے کہا اس سے چارہ نہیں، فرمایا: ان سے معاملات نہ کرو کیوں کہ ان
...............
۔ کفایۃص:۳۸
۔ کفایۃص:۳۸
سے معاملات گھاٹا، وحشت اور حسرت ہے، میں نے کہا ان کے درمیان رہتا ہوں اس سے کیسے بچ سکتا ہوں، فرمایا: تو ان کے پاس ٹھہرو نہیں کیوں کہ یہ ٹھہرنا ہلاکت ہے میں نے کہا ہاں یہ ممکن ہے پھر ان بعض ابدال نے فرمایا: اے شخص! تو لا عبین (کھیل کرنے والے) کو دیکھتا ہے اور جاہلوں کا کلام سنتا ہے اور اہل باطل سے معاملات کرتا ہے اور اہل ہلاکت کے پاس ٹھہرتا ہے اور چاہتا ہے کہ تجھے طاعت کی حلاوت مل جائے جب کہ تیرا دل غیر اللہ کے ساتھ ہے افسوس یہ کبھی نہ ہوگا۔
حضرت ابن عطاء اللہ قدس سرہٗ نے فرمایا : لا تصحب من لا ینھضک حالہ ولا یدلک علی اللہ مقالہ’’ اس کی صحبت نہ اختیار کرو جس کا حال تمھیں ابھارے نہ اور جس کی گفتگو اللہ کی طرف تمھاری رہنمائی نہ کرے۔ اس کے شارح ابن عباد فرماتے ہیں: فانہاض الحال ودلالۃ المقال علی اللہ صحبت کا فائدہ ہے
حال منہضہ(ابھارنے والاحال)کے معنی اس جگہ یہ ہیں کہ اس کی ہمت اور توجہ اللہ تعالیٰ سے متعلق ہو، مخلوقات سے بلند ہو وہ اپنی حاجتوں میں پناہ نہ لے مگر اللہ کی اور اپنے امور میں بھروسہ نہ کرے مگر اللہ تعالیٰ پر، اس کی نگاہوں سے لوگوں کا اعتبار ساقط ہو جائے نہ ان سے ضرر دیکھے نہ نفع خود اس کی جان و نفس اس کی نگاہ سے ساقط ہو لہٰذا اپنے نفس کے لیے نہ کسی فعل کا مشاہدہ کرے نہ کسی نفع کا، اپنے اعمال میں شریعت کے تقاضوں پر افراط و تفریط کے بغیر جاری ہو۔ یہ توحیدی عارفوں کی صفت ہے پس ایسے شخص کی صحبت اگر اس کی عبادت و نوافل کم ہوں، ہر گھاٹے سے محفوظ، انجام کے اعتبار سے محمود ہر فائدہ دینی و دنیوی کو کھنچنے والا۔ پھر حضرت ابن عباد رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا کہ صحبت صوفیہ کرام ہی وہ چیز ہے جس کے ذریعہ صحبت اٹھانے والے کو کمال انتفاع حاصل ہوتا ہے اس لیے یہ حقائق توحید و معرفت میں ایسے خصائل کے ساتھ مخصوص و ممتاز ہیں جن کا کوئی دوسرا سہیم صحیح نہیں اور اس چیز کا صاحب سے
...............................
۔ کفایۃص:۳۸