مواد پر جائیں

Allama Afaque Ahmad Mujaddidiالصلاح و الفلاحاہل سلوک کے مختلف طریقے

باب ۳ از ۸صفحات ۲۶–۳۸

اہل سلوک کے مختلف طریقے

تکمیل کے بعد بزرگوں نے مختلف طریقے اختیار کیے بعض نے خود کو مخلوق کی تعلیم و تربیت اور اصلاح و ارشاد کے لیے لوگوں کے بیچ رکھا، ان کے ظاہر کو شریعت سے اور باطن کو طریقت و حقیقت سے آراستہ کیا، ان کے بڑے فضائل ہیں، بزرگوں نے فرمایا کہ ایسے شخص کو

ملکوت سماوات میں عظیم کہہ کر پکارا جاتا ہے اس کی مثال سورج کی طرح ہے جو خود بھی روشن ہے اور دوسروں کو بھی روشن کرتا ہے یا مشک کی طرح ہے جو خود پاکیزہ ہے اور دوسروں کو خوشبو دار کرتا ہے۔

بعض کا طریقہ عبادات نافلہ میں کثرت جیسے نماز، روزہ، تلاوت قرآن، یہ حضرات اوراد و وظائف اور تسبیحات میں خصوصیت سے اشتغال رکھتے تھے۔ یہ ان کے درجات سے شمار ہوتا ہے جنہوں نے عبادت الہٰی کے لیے خود کو فارغ کر لیا اور یہ بھی صالحین کے طریقوں سے ہے۔ بعض صوفیہ نے فقہا و صوفیہ اور اہل دین کی خدمت کو اختیار کیا۔ اس کو افضل نوا فل سے شمارکیا گیا کیوں کہ یہ عبادت بھی ہے اور اعانت مسلمین بھی جیسا کہ حضرت غوث اعظم قدس سرہٗ سے نقل کیا گیا ہے کہ ‘‘میں شب بیداری اور دن کے روزوں کے ذریعہ اللہ تعالیٰ تک نہیں پہنچا بلکہ اس تک پہنچا ہوں کرم، تواضع اور سلامت صدر کے ساتھ’’ بعض بزرگوں نے یہ طریقہ اختیار کیا کہ لکڑیاں پیٹھ پر اٹھا کر لاتے، بازار میں بیچتے اور صدقہ دیتے یہ بھی عبادت نافلہ سے ہے اس کے ذریعہ اہل ایمان کی دعاؤں کی برکات نصیب ہوتی ہیں۔

اکثر نقشبندی بزرگوں نے اتباع سنت کے ساتھ ساتھ تعلیم و تدریس کو خصوصیت سے اختیار فرمایا اور سینے کے سلامتی یعنی قلب کو ماسوائے حق کی محبت سے پاک کرنے کی آغاز ہی سے کوشش فرمائی، اس کے ساتھ ساتھ اشغال طریقہ کو لازم رکھا اور مریدوں سے کثرت عبادات طلب کرنے کے بجائے اپنی توجہات عالیہ سے منازل طے کرائے اور اتباع سنت پر زور دیا گویا مرید پہلے اس شیخ کو اختیار کرے جو متبع سنت ہو اور یہ مرید اس شیخ کی کامل پیروی کر ے اس طرح مرید میں شیخ کی عادتیں پیدا ہوں گی اور یہ چیز افاضہ و استفاضہ کا دروازہ کھولے گی اور شیخ میں فنائیت یعنی فنا فی الشیخ کی منزل کے حصول پر فنا فی الرسول ہونے کا دروازہ کھل جائے گا کیوں کہ شیخ متبع رسول ہے اس طرح ‘‘تخلق باخلاق اللہ’’ کی دولت بے بہا ہاتھ آجائے گی اور اخلاق نبوی اخلاق الہٰی کے تابع ہیں تو مرید کا مل کو رفتہ رفتہ‘‘تخلق باخلاق الرسول’’ کی دولت

بے بہا نصیب ہو جائے گی جو کہ مقاصد سلوک سے اہم مقصد ہے، ابدی و سر مدی زندگی کی تعمیر و ترقی یہی ہے اور اسی پر ابدا لآ باد تک رحمتیں مرتب ہوتی رہیں گی۔

اب ہم سلوک میں مزیدترقی و استحکام کے لیے بزرگوں کے وصایا تسعہ یعنی نو وصیتیں پیش کر رہے ہیں جو ہر طالب خدا کے لیے ضروری ہیں، عذاب الہٰی سے بچنے کے لیے ان کو عمل میں لانا از حد ضروری ہے اور کوئی شیخ ان پر عمل کیے بغیر کامل و مربی نہیں ہوسکتا ہے۔

وصایا تسعہ:

عام بزرگوں نے طریق اولیا پر چلنے اور درجہ ولایت تک پہنچنے کے لیے نو امور کی وصیت فرمائی ہے جو یہ ہیں: (۱) توبہ (۲) قناعت (۳) زہد (۴) تعلم علم شرعی (۵) محافظت سنن (۶) توکل (۷) اخلاص (۸) عزلت (۹) حفظ الاوقات۔

۱۔ توبہ: مقامات سلوک میں سب سے پہلا مقام توبہ ہے۔

کفایۃ الاتقیاء میں علامہ سید بکری مکی قدس سرہ فرماتے ہیں کہ توبہ سب سے پہلی وصیت اور قواعد دین میں سب سے اہم اور منازل سالکین کی پہلی منزل اور مقام طالبان خدا میں پہلا مقام ہے توبہ کے معنی در اصل رجوع کرنے کے ہیں جو چیزیں از روے شرع مذموم و ناپسندیدہ ہیں ان سے محمود و پسندیدہ کی طرف رجوع کرنے اور لوٹنے کا نام توبہ ہے قرآن و سنت میں توبہ کے بے حد فضائل بیان فرما ئے گئے ہیں جو کتب احادیث و کتب صوفیہ مثلا احیاء العلوم و غیرہ میں بالتفصیل مذکور ہیں یہ فقیر مجددی بھی قدرے کتاب ‘‘تصوف اور اس کے فوائد’’ میں بیان کر چکا ہے لہٰذا وہاں دیکھیں۔ یہاں چند امور ذہن میں رکھیں۔

توبہ کے شرائط یہ ہیں:

(الف) جو گناہ اور معصیت کر چکا ہے اس پر نادم ہو، ندامت اس وقت صحیح ہو گی جب کہ رقت قلب ہو اور کیے ہوئے پر پشیما ں ہو؛ لہٰذا ندامت سب سے بڑی شرط ہے اسی لیے حدیث

میں فرمایا گیا ‘‘الندم توبۃ’’ ؂ جیسے حج کے تعلق سے فرمایا گیا ‘‘الحج عرفۃ’’ ؂

(ب) دوسری شرط یہ ہے کہ اس گناہ کو آئندہ نہ کرنے کا پختہ ارادہ ہو اور تیسری شرط یہ ہے کہ پورے طور پر گناہوں سے خود کو دور کرے اور اہل حقوق کے حقوق سے خلاصی حاصل کرے حدیث شریف میں ہے: جو گناہوں سے توبہ کر لے تو گویا وہ ایسا ہے جس نے گناہ کیا ہی نہیں اور جو گناہ سے استغفار کرے جب کہ وہ گناہ پر قائم ہے تو وہ اس شخص کی طرح ہے جو اپنے رب سے استہزا کرتا ہے’’ ؂

نیز حدیث شریف میں ہے کہ بندہ جب توبہ کر لیتا ہے تو اللہ محافظ فرشتوں کو اس کے گناہ بھلا دیتا ہے اور اس کے جوارح کو بھی بھلا دیتا ہے اور زمین کی ان جگہوں کو بھی جہاں اس نے گناہ کیے حتی کہ وہ اپنے رب جلا و علا سے اس حال میں ملے گا کہ اس پر گناہ کا کوئی گواہ نہ ہوگا۔

۲۔ اگر کسی پر مال یا عزت و آبرو وغیرہ کے تعلق سے ظلم کیا ہو تو اس سے برأت حاصل کر لے یا ارباب حقوق کے حقوق مالیہ ہوں تو واپس کرے یا پھر معافی مانگ کر چھٹکارا حاصل کرے اس میں کافی تفصیل ہے۔

محاسبہ:

توبہ پر دوام اور ہمیشگی حاصل کرنے کے لیے ضروری ہے کہ گناہوں اور شریعت کی مخالفت سے بچے اور اپنے نفس سے محاسبہ کرے، انسان کو چاہیے کہ پہلے اپنی ذات کا محاسبہ کرے اور غور کرے کہ رات اور دن میں جو اس سے افعال و اقوال اور حرکات و سکنات سرزد ہوئی ہیں اور جو سانسیں بر آمد ہوئی ہیں وہ کس قدر شریعت و سنت کے موافق ہیں اور کتنی مخالف ہیں کتنی سانسیں یاد الہٰی اور ذکر اللہ کے ساتھ آئیں اور گئیں اور کتنی غفلت میں؟ جو افعال و اقوال نیک

........................

۔1 ابن ماجہ،کتاب الزہد،باب ذکرالتوبہ،رقم:۴۲۵۲

۔2 الفردوس للدیلمی،ج:۲ص:۱۴۸ رقم:۲۷۵۵

۔3 الفردوس للدیلمی،ج:۲ص:۷۷ رقم:۲۴۳۲

ہوئے ان پر شکر الہٰی بجا لائے اور جو خلاف شرع ہوئے ان سے توبہ کرے اور عزم کر ے کہ آئندہ غفلت نہیں برتوں گا اسی طرح عہد کرے کہ کوئی سانس بغیر ذکر کے نہیں لوں گا۔ حضرت امیر المومنین سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:

‘‘حاسبوا انفسکم قبل أن تحاسبوا و تاہبوا للعرض الأکبر علی اللہ’’ اپنا محاسبہ کرو اس سے قبل کہ تم سے حساب لیا جائے اور اللہ تعالیٰ کے سامنے بڑی پیشی کے لیے تیار ہو جاؤ، ارشاد باری تعالی ہے:

یَوْمَئِذٍ تُعْرَضُوۡنَ لَا تَخْفٰی مِنۡکُمْ خَافِیَۃٌ ؂

اس دن تم سب پیش ہو گےکہ تم میں کوئی چُھپنے والی جان چُھپ نہ سکے گی۔

بزرگوں نے فرمایا کہ ہمیں چاہیے کہ دعا اور استغفار کثرت سے کیا کریں اور یہ دعامانگا کریں:

رَبَّنَاۤ اٰتِنَا فِی الدُّنْیَا حَسَنَۃً وَّ فِی الۡاٰخِرَۃِ حَسَنَۃً وَّ قِنَا عَذَابَ النَّارِ ؂

ترجمہ: اے ہمارے رب! ہمیں دنیا میں بھلائی دے اور ہمیں آخرت میں بھلائی دے اور ہمیں عذاب دوزخ سے بچا۔

حدیث شریف میں اسے استغفار سے شمار کیا گیا اس کے ساتھ ساتھ درد انگیز اشعار عربی، فارسی اور اردو میں مناجات کے پڑھے اس سے قلب میں رقت پیدا ہوتی ہے اور یہ محبت ، الفت اور خوف و خشیت کا سبب بنتے ہیں خاص کر تہجد کے وقت قلبی کیفیات حاصل کرنے کا بڑا ذریعہ ہیں۔ معلوم رہے کہ انسانی کمزوریوں سے ہے کہ وہ ہمیشہ توبہ پر قائم نہیں رہ پاتا، بعد توبہ بھی غلبہ نفس کی وجہ سے پھر اس جرم کا ارتکاب کر بیٹھتا ہے لہٰذا اسے چاہیے کہ جب گناہ ہو جائے تومذکورہ بالا طریق پر توبہ کرے اس کا فائدہ یہ ہوگا کہ اصرار کرنے والوں سے نہیں رہے گا۔

.....................

۔1 سورۃ الحاقۃ: ۶۹؍۱۸

۔2 سورۃ البقرۃ: ۲؍۲۰۱

اصرار علی المعصیۃ بہت خوف کی چیز ہے حدیث شریف میں ہے‘‘ جس نے استغفار کیا اس نے اصرار نہیں کیا یعنی گناہ پر قائم نہیں رہا اگرچہ ستر بار ٹوٹے۔’’ ؂

اعضاے سبعہ کی حفاظت:

توبہ پر دوام اور ہمیشگی حاصل کرنے کے لیے ضروری ہے کہ اعضاےسبعہ یعنی سات اعضا جن سے اکثر گناہ سر زد ہوتے ہیں ان کی حفاظت کرے وہ یہ ہیں:

۱۔ آنکھ کی حفاظت یہ ہے کہ مسلم کو حقارت کی نظر سے نہ دیکھے اور مسلمانوں کے عیوب دیکھنے سے خود کو بچائے، کسی تصویر پر یا صورت کی طرف شہوت سے نہ دیکھے، نہ کسی اجنبی عورت کی طرف نہ کسی اجنبی اور غیر کے اعضا عورت کی طرف نظر کرے اگر اتفاق سے پڑ جائے فوراً نگاہ پھیر لے۔ احیاء العلوم میں ہے کہ بروز قیامت فضول نظر کے بارے میں سوال ہوگا جیسا کہ فضول کلام کے بارے میں۔

۲۔ دوسرا عضو زبان ہے، زبان کی حفاظت یہ ہے کہ اسے جھوٹ، غیبت، چغلی، وعدہ خلافی، مجادلہ، گالی گلوج، اپنی مدح، لعنت، بد دعا، استہزاء و مذاق وغیرہ سے بچایا جائے، زبان کی آفتیں انگنت ہیں، آج جو جس کے بارے میں چاہتا ہے کہہ بیٹھتا ہے عموماً ایذاے قلب مومن میں زبا نیں کھلتی رہتی ہیں، لایعنی، لغو اور فحش باتیں ہوتی رہتی ہیں، حدیث شریف میں ہے کہ لوگ اپنی زبانوں کی باتوں کی وجہ سے جہنم میں داخل ہوں گے۔

۳۔ تیسرا عضو کان ہے اس کی حفاظت یہ ہے کہ اسے بری اور مذکورہ بالا باتوں کے سننے سے بچایا جائے۔

۴۔ چوتھا عضوناک ہے، اس کی حفاظت یہ ہے کہ اجنبی عورت کی بو سونگھنے سے بچائے۔

۵۔ پانچواں عضو شکم ہے، اس کی حفاظت یہ ہے کہ محرمات و شبہات اور ان خواہشات سے بچایا جائے جو مناسب نہیں، پیٹ کی حفاظت آج بہت اہم مسئلہ بن گیاہے اس پر قابو بہت

................

۔ بخاری و مسلم و غیرہ

مشکل ہے روحانیت کے زوال کا بڑا سبب شکم پروری اور حلال و حرام کی پرواہ نہ کرنا ہے۔

۶۔ چھٹا عضو شرمگاہ ہے اس کی حفاظت ہر حرام سے اسے بچانا اور زنا کاری اور لواطت سے دور رہنا ہے۔

۷۔ ساتواں عضو ہاتھ ہے اس کی حفاظت یہ ہے کہ کسی بے گناہ پر نہ اٹھایا جائے، نہ اس سے کسی مال حرام کو پکڑا جائے، نہ مخلوق سے کسی کو اس کے ذریعہ ایذا دی جائے، نہ خیانت کی جائے اور نہ اس کے ذریعہ وہ چیزیں لکھی جائیں جن کے ساتھ گفتگو جائز نہیں۔

۸۔ بعض بزرگوں نے دیگر اعضا بھی شمار فرمائے جیسے کہ پیر کہ حرام کی طرف چلنے سے اسے بچایا جائے، کسی ظالم حاکم، بادشاہ یا وزیر کے دروازہ پراس کے ظلم پر راضی رہتے ہوئے ان سے چل کر نہ جایا جائے ہاں ! اسے ظلم سے باز رکھنے اور نصیحت وغیرہ کے لیے جائے تو کوئی حرج نہیں۔

بزرگوں نے فرمایا :ایسے ظالموں کے پاس بلا ضرورت جانا گناہ ہے۔

۹۔ نواں قلب یعنی دل ہے، حسد، کینہ، بغض، ریا، عجب، حب جاہ و مال، حب مدح وغیرہ سے قلب کو بچانا یہی اس کی حفاظت ہے، معلوم رہے کہ قلب کے امراض بھی بہت سے ہیں جن کو احیاء العلوم وغیرہ میں کافی تفصیل سے بیان کردیا گیا ہے۔ قلب کی حفاظت بھی آج ناپید ہے اکثر لوگ جن کے ہاتھ میں دین کا لگام ہے وہ اس کا خود شکار ہیں دوسروں کو کیا بچا سکیں گے؟ صوفیہ کی اصطلاح میں اس کوتصفیہ قلب کہتے ہیں جو ہزاروں محنتوں اور مجاہدوں کے بعد حاصل ہوتا ہے۔

فائدہ:

انسان کو جب مقام توبہ میں رسوخ حاصل ہو جائے اور استقامت پیدا ہو جائے تو بزرگوں نے فرمایا کہ اسے مجاہدہ اور اپنے اعضا کو طاعات میں استعمال کرنا لازم ہے، بندہ جب مجاہدہ میں دوام حاصل کر لیتا ہے تو حرکات ظاہرہ و حرکات باطنہ پیدا ہوتی ہیں ظاہر کی حرکات باطن کی

حرکات کا سبب ہوتی ہیں۔ حضرت ابو عثمان مغربی قدس سرہٗ فرماتے ہیں کہ جس نے بغیر مجاہدہ کے یہ خیال کیا کہ اس پر اس طریقت کی کوئی چیز مفتوح ہوگی یا کھلے گی وہ غلطی پر ہے۔

حضرت سلطان العارفین با یزید بسطامی قدس سرہٗ فرماتے ہیں کہ میں نے بارہ سال تک نفس کے خلاف مجاہدہ کیا اورپچاس سال تک میں نفس کا آئینہ رہا اور ایک سال میں نے ان کے درمیان غور کیا تو میں نے اپنے اندر زنا ریکھا، پس زنا رکو توڑنے کے لیے میں نے پانچ سال غور کیا کہ میں کس طرح توڑوں تو مجھے مکشوف ہوا ، میں نے مخلوق کو دیکھا تو سب کو مردہ پایا میں نے اس پر چار تکبیریں کہہ دیں۔

بزرگوں نے حضرت بسطامی قدس سرہٗ کے قول کے یہ معنی بیان کیے کہ حضرت شیخ بسطامی قدس سرہٗ مجاہدہ نفس اور اس کی خباثتوں عجب، کبر، حرص، کینہ، حسد وغیرہ کے ازالے کی منزل میں تھے انھوں نے اس کے لیے عمل کیا بایں طور کہ خود کو تخویف کی بھٹی میں ڈال دیا پھر اس کو امرو نہی کے ہتھوڑے سے کوٹا یہاں تک کہ اس کو مشقت میں ڈال دیا اس وقت وہ سمجھے کہ ہم نے نفس کو صاف ستھرا کر لیا پھر قلب کو اخلاص کے آئینے میں دیکھا تو اس میں شرک خفی، ریا کاری ،اپنے اعمال پر نظر، ثواب و عقاب کی یاد اور کرامات و مواہب کا شوق باقی نظر آئے اسی کو زنا ر سے تعبیر فرمایا اور اس کو تو ڑنے کے عمل سے مراد علائق و موانع سے نفس کو جدا کر لینا، خلق سے نگاہ پھیر کر حتی ٰکہ وہ اس منزل پر پہنچ گئے کہ نفس جو زندہ تھا اسے مردہ کردیا اور جو قلب میں مردہ تھا اسے زندہ کردیا یہاں تک کہ شہود قدم میں وہ ثابت قدم ہو گئے اور سب کو بمنزل عدم میں لے آئے اس وقت خلق پر تکبیر کہہ دی اور حق کی طرف پلٹ گئے اور یہ جو انھوں نے فرمایا کہ مخلوق پر چار تکبیریں کہہ دیں کیوں کہ میت پر چار تکبیریں کہی جاتی ہیں نیز حق سے خلق کا حجاب چار چیزیں ہیں (۱) نفس (۲) ھویٰ (خواہش نفسانی) (۳) شیطان (۴) اور دنیا، بس اپنے نفس اور اس کی خواہش کو توڑ دیا اور شیطان و دنیا کو چھوڑ دیا۔

۲۔ قناعت:

دوسری وصیت قناعت ہے، تھوڑی عطا پر راضی ہونا قناعت ہے، بندے کو قناعت مل جانا پروردگار جل و علا کی بڑی رحمت و نعمت ہے دل کی بڑی بیماریوں کا علاج قناعت ہے، حدیث شریف میں ہے ‘‘القناعۃ کنزلا یفنی’’ ؂ قناعت ختم نہ ہونے والا خزانہ ہے ۔جب یہ مل جاتی ہے تو لوگوں کے مال و زر اور جاہ و حشم کی طرف نظر نہیں جاتی ہے نہ انھیں دیکھ کر وہ برائیاں دلوں میں جنم لیتی ہیں جو عام طور پر دنیا والوں کو دیکھ کر پیدا ہوتی ہیں دوسری حدیث میں ہے ‘‘عز من قنع و ذل من طمع’’ جس نے قناعت کی، عزت والا ہوا اور جس نے طمع کی وہ ذلیل ہوا۔

قناعت کی بنیاد در اصل زہد فی الدنیا پر ہے جب تک دنیا سے بے رغبتی اور اعراض نہیں ہوگااس وقت تک قناعت کی توقع عبث ہے جب دنیا کی فنا و نیستی اور اس کا زوال ذہن و دماغ میں بس جاتا ہے اور انسان کو پورے طور پر احساس ہوجاتا ہے کہ جو مال ہمارے پاس ہے وہ یا تو مختلف چیزوں میں خرچ ہوجائے گا یا کسی حادثہ کا شکار ہو جائے گا یا پھر وارث کے ہاتھ لگے گا تو ایسی صورت میں اس کی رغبت بمقابلہ دنیا آخرت کی طرف قوی تر ہوگی اور اس کی طلب بہ نسبت دنیا آخرت سے زیادہ ہوگی۔ اگر آپ چاہیں کہ دنیا میں رہتے ہوئے دنیا سے بے رغبت ہو جائیں اور آپ کا زہد زیادہ ہو تو غور کریں کہ دنیا کس کے پاس ہے اور کس ہاتھ میں ہے باوجودیکہ اگرچہ بطریق حلال ملتی ہے تب بھی اس کا حساب دینا ہوگا اور حرام ذرائع سے ملے گی تو عقاب اور سزا ہے اور جوا سے طلب کرتا ہے اس سے فوت ہوتی ہے اور اس سے بھاگتی ہے اور جو اس کی طرف نظر کرتا ہے اسے اندھا کرتی ہے اور جو اس میں غنا حاصل کرتا ہے وہ فتنے میں مبتلا ہوتا ہے اور جو اس کا محتاج ہوتا ہے وہ غمگین ہوتا ہے۔

کفایۃالاتقیاء میں حضرت امام شافعی رضی اللہ عنہ کے عربی اشعار ذکر فرمائے جن کا حاصل

........................

۔ بیہقی

یہ ہےکہ اے طالب آخرت ! تو ان چیزوں کے ترک پر راضی ہو جا جن کی خواہش تیرا نفس کرتا ہے اور جن کھانوں ، لباسوں اور مکانات کے ذریعہ فخر کرتا ہے ان میں سے تھوڑے پر راضی ہو جا، کھانے میں تھوڑا وہ ہے جو بھوک کو روک دے اور اتنا لباس جو اعضاے عورت کو چھپالے اور اتنامکان جو سردی و گرمی کو دفع کردے۔ ؂

حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا سے حضرت انس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ وہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے روٹی کا ٹکڑا لے کر آئیں آپ ﷺ نے فرمایا کہ یہ ٹکڑا کیا ہے؟ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ روٹی کا ٹکڑا ہے جو میں نے آپ کے لیے پکایا ہے یہ مجھے اچھا نہیں لگا کہ میں کھاؤں اور آپ کو نہ کھلاؤں ، آپ ﷺ نے فرمایا :یہ پہلا کھانا ہے جو تین دن بعد تمھارے باپ کے منہ میں داخل ہوا ہے؂

اے طالب آخرت! اللہ تجھ پر رحم کرے اس سیدہ شریفہ کو دیکھ کہ تھوڑی روٹی پر راضی ہو گئیں اور اس نبی کریم ﷺ کو دیکھ کہ تین دن سے کچھ کھانا نہیں چکھا۔ ؂

حضرت سہل بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ساری بھلائی چار خصلتوں میں ہے جن کی وجہ سے ابدال ابدال ہو گئے:

(۱) پیٹوں کو بھوکا رکھنا (۲) خاموشی (۳) خلوت اور (۴)رات میں جاگنا۔ ؂

حدیث شریف میں ہے ‘‘طوبی لمن ہدی للاسلام وکان رزقہ کفافاً ورضی بہ’’ ؂

اس کے لیے خوش خبری ہے جسے اسلام کی رہنمائی ہوئی اور اس کا رزق بقدر کفایت رہا اور وہ

..........................

۔ 1کفایۃالاتقیاء،ص:۱۹ المعہد الاسلامی

۔2 المعجم الکبیر للطبرانی،باب الالف رقم:۷۵۰

۔3 کفایۃالاتقیاء،ص:۱۹، المعہد الاسلامی

۔ 4کفایۃالاتقیاء،ص:۱۹

۔ 5الفردوس ج:۲ص:۴۴۷ رقم۳۹۲۹

اس سے خوش رہا۔ نیز حدیث شریف میں ہے ‘‘إن اللہ إذا احب عبدا جعل رزقہ کفافا’’ ؂ جب اللہ تعالیٰ کسی بندے سے محبت کرتا ہے تو اس کی روزی بقدر کفایت کرتا ہے یعنی جو اس کے اخراجات کے لیے کافی ہوتی ہے نہ زیادہ دیتا ہے کہ وہ سرکشی کرے اور نہ کم کہ اسے تکلیف ہو۔

یہ بھی نقل کیا گیا ہے کہ سرکار مدینہﷺ نے فرمایا کہ بروز قیامت میری امت کے کچھ افراد کے لیے اللہ تعالیٰ پر پیدا کرے گا وہ اپنی قبروں سے جنتوں کی طرف اڑ کر جائیں گے اس میں جہاں چاہیں گے آئیں جائیں گے جس طرح چاہیں گے نعمتوں کو استعمال کریں گے ان سے فرشتے کہیں گے: کیا تم نے حساب دیکھا؟ کہیں گے: نہیں، فرشتے کہیں گے: کیا تم نے پل صراط کو طے کیا؟ وہ کہیں گے: ہم نے پل صراط کو نہ دیکھا، فرشتے کہیں گے: کیا تم نے جہنم کو دیکھا ہے؟ کہیں گے ہم نے کچھ نہیں دیکھا ہے، فرشتے کہیں گے: تم کس کی امت ہو؟ وہ کہیں گے محمد ﷺ کی ،فرشتے کہیں گے: تمھیں اللہ تعالیٰ کا واسطہ ہمیں بتاؤ کہ تم دنیا میں کیا اعمال کرتے تھے؟ وہ کہیں گے: ہم میں دو خصلتیں تھیں کہ رحمت الہٰی کے فضل سے اس منزل پر پہنچ گئے، فرشتے پوچھیں گے وہ کیا تھیں؟ تو وہ کہیں گے (۱) جب ہم تنہائی میں ہوتے تھے تو ہمیں اللہ تعالیٰ کی نا فرمانی کرنے سے شرم آتی تھی اور ہم (۲) تھوڑے پر راضی ہو جاتے تھے جو ہماری قسمت میں ہوتا فرشتے کہیں گے کہ تم اس (بلند) منزل کے حقدار ہو۔ ؂

تنبیہ:

قناعت اللہ تعالیٰ کی بڑی نعمت ہے اور بزرگوں کی صفت ہے جس کو یہ نعمت نصیب ہوتی ہے اس کا قلب بے نیاز ہو جاتا ہے، سکون میں رہتا ہے، پراگندگی اور تفرق و انتشار سے محفوظ رہتا ہے وہ قلب کی بیماریوں سے بھی امان میں رہتا ہے ، اس کی زندگی چین سے گزرتی ہے بارگاہ

.......................

۔ احیاء العلوم ج۵ص:۲۳۶۶

۔ تخریج احادیث احیاء العلوم ج:۵،ص:۳۵۶۶

الہٰی کی طرف توجہ بڑی آسانی سے ہوجا تی ہے اور ایسی حالت میں بندہ بارگاہ قدس سے خوب خوب فیض حاصل کرتا ہے، ایسے بندے یکسوئی کے مالک ہوتے ہیں اور اگر مرشد کامل ہاتھ آجائے تو بڑی منزلوں پر فائز ہوتے ہیں آج قناعت سے محرومی نے انسان کو بے چین کردیا ہے تمام نعمتیں ہو کر بھی اسے چین نہیں ہے۔

اچھا کھا کر، اچھا پہن کر اور اچھے مکانوں میں رہ کر بھی وہ سکون کی دولت سے محروم ہے حرص و طمع اسے ہر وقت دنیا کی طرف متوجہ رکھتی ہے چاہت ہے تو مال و زر کی، عزت کی، اگر نماز بھی پڑھتا ہے تو بھی خدا و رسول ﷺ کی محبت میں نہیں بلکہ خوف کی وجہ سے اور کبھی مال کی چاہت میں، اس کی چاہتوں کی فہرست اتنی لمبی ہے کہ مرتب نہیں کی جاسکتی ہے وہ اس کی وجہ سے دائمی فلاح و کامرانی اور ابدی نعمتوں اور سرمدی جلووں سے محروم ہو گیا، الم و تکلیف میں جیتا ہے اور اسی میں مرتا ہے یہ فراق دنیا اسے قبر میں بھی بے چین رکھتا ہے اس کوتاہی کا احساس اسے آخرت میں بھر پور ہوگا، آج ضرورت ہے کہ لوگوں کو قناعت کی ترغیب دی جائے، قناعت پیدا ہو جائے تو ہزار غموں سے نجات مل جائے۔

مالا یعنی اور ما یعنی:

مالا یعنی میں وہ تمام امور داخل ہیں جن کی حاجت نہ ہو ان کی مختلف انواع و اقسام ہیں مثلاً کھیل کود، ہنسی اور ہر وہ امر جو مروت میں مخل ہو نیز دنیا میں توسع مناصب اور ریاست کی طلب، تعریف و مدح کی طلب وغیرہ وہ امور جن سے کوئی اخروی فائدہ حاصل نہیں اور قیمتی وقت کی اضاعت ہو جس کا کوئی عوض نہیں۔

بعض علما فرماتے ہیں کہ ‘ما یعنیہ’ سے مراد وہ ہے جس سے کوئی دینی منفعت حاصل ہویا ایسا دنیوی نفع جو آخرت تک پہنچائے اور مالا یعنیہ اس کے بر عکس کو کہتے ہیں۔ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: ‘‘من طلب مالا یعنیہ فاتہ ما یعنیہ’’ ؂

..................

۔ کفایۃالاتقیاء،ص: ۲۰ المعہد الاسلامی

جس نے لا یعنی کو طلب کیا اس سے ما یعنی فوت ہو گیا، لا یعنی کی طلب بھی قناعت کے خلاف ہے طالب آخرت کبھی بھی لا یعنی امور میں مشغول نہیں ہوتا اللہ تعالیٰ نے جنھیں عقل و شعور کی نعمت سے نوازا ہے وہ ہمیشہ خدا کو اور اس کے محبوب ﷺ کو طلب کرتے ہیں وہ صرف اسی کی طرف توجہ کرتے ہیں جو انھیں خدا جل و علا کے قریب لائے۔

۳۔زہد:

بزرگوں نے جن نوامورکی وصیت کی ہے ان میں سے ایک زہد ہے لغت میں عدم رغبت کا نام زہد ہے شریعت میں زہد سے کیا مراد ہوتا ہے اس میں علما کا اختلاف ہے شیخ محمد نووی علیہ الرحمہ نے ‘سلالم الفضلا ء’ میں فرمایا کہ راجح یہ ہے کہ ساری دنیا کو حقیر سمجھنا زہد ہے جس کے نزدیک دنیا حقیر و صغیر ہوگی دنیا اسی پر ہلکی ہوگی وہ دنیا کی کسی چیز کے حصول پر خوش نہ ہوگا اور نہ اس کے فوت سے غمگین اور رنجیدہ ہوگا اور دنیا سے اتنا ہی اوروہی لے گا جو طاعت الہٰی میں مددگار اور معاون ہوگا اس کے باوجود وہ ہمیشہ ذاکر و شاغل رہے گا اور اللہ عز و جل کے ذکر اور یاد سے کبھی غافل نہ ہوگا ایسا شخص جسم کے ساتھ دنیا میں اور عقل و روح کے ساتھ آخرت میں رہتا ہے۔ ؂