باب ۱ از ۸صفحات ۵–۱۴
دیباچہ
اس دور میں اسلام کا قریب قریب وہی حال ہو چکا ہے جس کو حضور داناے غیوبﷺ نے پہلے ہی بیان فرما دیا تھا، فرماتے ہیں:
یاتی علی الناس زمان لا یبقی من الاسلام الا اسمہ، و لا یبقیٰ من القرآن الا اسمہ، مساجد ہم عامرۃ و ھی خراب من الھدیٰ، و علما ھم شر من تحت ادیم السماء منہم تخرج الفتنۃ و فیھم تعود یعنی لوگوں پر ایک ایسا زمانہ آئے گا کہ صرف نام کا اسلام رہ جائے گااور قرآن رسماً پڑھا جائے گا، ان کی مسجدیں آباد ہوں گی، مزین ہوں گی خوبصورت ہوں گی اور حال یہ ہوگا کہ ہدایت سے خالی اور ویران ہوں گی، ان کے علما ان لوگوں میں سب سے بد تر ہوں گے جو آسمان کے نیچے موجود ہوں گے، انھیں علما سے فتنے نکلیں گے اور انھیں میں لوٹیں گے۔
ہر ذی علم، ہوش مند بہ آسانی سمجھ سکتا ہے کہ آج کے علما و مشائخ پر یہ حدیث کس قدرمنطبق ہوتی ہے اور ان کے فتنوں کی وجہ سے آج قوم کا شیرازہ پارہ پارہ ہو رہا ہے، اجتماعیت ختم ہوچکی ہے، بندے ان اوصاف سے خالی عاری ہو چکے ہیں جو حضور صاحب خلق عظیم ﷺ نے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین میں پیدا کیے۔ اورپھرعلما و مشائخ میں سے سرکار ﷺ کے سچے وارث ونائب آپﷺکے اخلاق و اعمال اور اوصاف و ٖفضائل کے حامل پیدا ہوتے رہے اور حسب استطاعت کام کرتے رہے۔ آج مادیت کے غلبہ نے روحانیت کو ختم کر دیا، اوصاف عالیہ کے حامل علما و مشائخ تقریباً ختم سے ہو چکے ہیں یعنی جوجامع اوصاف تھے اب ایسے کچھ ہیں جن میں خال خال کچھ اوصاف ہیں بھی تو انھیں دوسروں کی تربیت کی فکر نہیں اور نہ دوسروں کو ان سے اکتساب کا شوق۔
انسانیت کا چین و سکون، فلاح و صلاح جو کچھ بھی ہے سب صالح بندوں کے وجود سے ہے اور جب تک ایسے لائق اور اعلی اوصاف و کردار کے حامل بندے تیار نہ ہوں گے انسانیت کو اس کی
...................
۔ الفردوس للدیلمی،۲،۳۱۹، بیروت
منزل نہیں مل سکتی ہے۔ حضور سرور عالمﷺ نے اپنے اصحاب میں، انھوں نے تابعین میں پھر بعد میں علما و مشائخ حضرات اپنی اپنی طاقت بھر کرتے تھے، جنہوں نے قرآن و سنت کی کامل پیروی کی اور ایسے صالح افراد کی صحبتوں سے فیضیاب ہوئے یہ بھی خیال رہے کہ صالحین اور مشائخ کی صحبتوں کی تاثیرسے جو تبدیلیِ اوصاف ہوتی ہے وہ کتاب و سنت پڑھ کر نہیں ہوتی ہے۔ انھوں نے اس کے لیے جو حکیمانہ طریقہ وضع کیا اور اس کے نفاذ کے لیے خانقاہیں بنوائیں، افراد تیار کیے۔ ہر ذی علم جانتا ہے کہ قرآن و سنت آج بھی اپنی اصلی شکل و صورت میں موجود ہیں ان کا ترجمہ و تشریح کرنے والے بھی بہت ہیں، تعلیمات کو عام بھی بہت کیا جا رہا ہے مگر پھر بھی بجائے اخلاق و اوصاف عالیہ سے آراستہ ہونے کے بد اخلاق و حیوان ہوتے جا رہے ہیں۔ اس کی وجہ صرف یہی ہے کہ ایسے مربی انسان نہیں رہے۔
اچھے اور اعلی اخلاق و اوصاف سے آراستہ ہونے کے لیے ضروری ہے کہ آپ جانیں کہ اوصاف حمیدہ و اخلاق حسنہ کیا ہیں؟ ان کے مقابل رذیلہ کیا ہیں؟ اخلاق رذیلہ سے پاک کس طرح ہوں اور اخلاق حسنہ سے آراستہ کیسے ہوں؟ انھیں مقاصدکی خاطر اس امید کے ساتھ کہ ہم سے وابستہ اہل علم و فضل ہماری تحریر کو غور سے پڑھیں گے اور خود کو آراستہ کر کے دوسروں کو آراستہ کریں گے۔ چوں کہ بحمدہ تعالی ایک جماعت ذکر و فکر کی پابند ہو چکی ہے اور انھیں بزرگوں کے فیوضات و برکات روحانی سے مناسبت ہوچکی ہے اس لیے مزید توقع ہے کہ یہ تحریر ان میں مہمیز کا کام کرے گی۔ اوصاف کو قرآن و سنت اور بعض حکایتوں سے مزید پر اثر بنانے کی کوشش کی گئی ہے اور اس کے ساتھ ساتھ عام سادہ لوح انسان کو جو بری صحبتون سے متاثر ہو جاتے ہیں، بتانے کی کوشش کی گئی ہے کہ تصوف کا خاص مقصد قرآن و سنت کی خدمت خاص ہے اور انسان کن اوصاف سے آراستہ ہوکرصحیح انسان بن سکتا ہے، وہ کون سے اوصاف جو قرآن و سنت کومطلو ب ہیں؟
الحمد للہ الذی ھدانا الصراط المستقیم، و ما کنا لنھتدی لولا ان ھدانا اللہ والصلٰوۃ و السلام علی سیدنا محمد و علی آلہ و اصحابہ الکرام
اللہ رب العزت جل و علا ارشاد فرماتا ہے:
یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا اتَّقُوا اللہَ وَابْتَغُوۡۤا اِلَیۡہِ الْوَسِیۡلَۃَ وَجَاہِدُوۡا فِیۡ سَبِیۡلِہٖ لَعَلَّکُمْ تُفْلِحُوۡنَ
اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو، اس کی جانب وسیلہ ڈھونڈو اور اس کی راہ میں مجاہدہ کرو تاکہ تم فلاح پاؤ۔’’
مذکورہ بالا آیت میں تصوف کے چند بنیادی اصولوں سے آگاہ فرمایا گیا ہے:
۱۔ ایمان: یہ ہر چھوٹے بڑے عمل کی قبولیت کا لازمی شرط ہے۔
۲۔ تقویٰ: یہ اپنے اندر بے پناہ جامعیت رکھتا ہے، جس کی آگے قدرے تفصیل آئے گی۔
۳۔ وسیلہ اختیار کرنا: وسیلہ میں جہاں اور احتمالات ہیں وہیں سب سے قوی احتمال یہ ہے کہ اس سے مرشد کامل مراد ہے؛ کیوں کہ ایمان میں جملہ عقائد حقہ داخل ہیں اور تقویٰ میں جملہ اعمال صالحہ خواہ قالب (ظاہر) سے تعلق رکھتے ہوں یا قلب (باطن) سے۔ نیز اس میں ممنوعات و محظورات شرعیہ بھی داخل ہیں۔ تقویٰ کی اہم شاخ شرعی محظورات سے خود کو بچانا ہے۔ اب ظاہر ہے کہ قرب خداوندی کے حصول کے لیے یہ تیسری چیز جو لازم و ضروری ہے وہ ہے مرشد کامل (مرشد سے بیعت کے بعد)
۴۔ چوتھی چیز اللہ کی راہ میں مجاہدہ: یہ چار وہ امور ہیں جن پر فلاح کا دار و مدار ہے۔
........................
۔ سورۃ المائدۃ:۵؍۳۵
ایمان سے مراد:
ان تمام امور کی تصدیق ہے جوانسان کو مومن بناتے ہیں۔ اجمالی طور پر کلمہ طیبہ لا الہٰ الا اللہ محمد رسول اللہ (اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، محمدﷺ اللہ کے رسول ہیں) کے معنی کی تصدیق ہی کافی ہے۔تفصیل کے لیے ضروری ہے کہ آپ جانیں کہ اللہ کے لیے کیا کیا واجب ہے ؟ کیا کیا جائز ہے؟ اور کیا کیا محال ہے؟ اسی طرح انبیائے کرام علیہم الصلاۃ و السلام کے بارے میں مذکورہ امور جانیں۔ یوں ہی آخرت کے تعلق سے بالتفصیل علمائے متکلمین نے بیان فرما دیا ہے۔ جس نے ان عقائد کو جان لیا اور مان لیا وہ سنی مسلمان ہے۔ صحیح معرفت خداوندی صرف ان مومنوں کو ہوتی ہے جو جملہ ان عقائد کے پابند ہو ں جو مسلمان کو سنی بناتے ہیں اور ان میں کسی ایک یا بعض کا انکار و تکذیب سنیت سے خارج کرتا ہے۔ پس معلوم ہوا کہ نہ کافر کو معرفت حقہ معلوم ہو سکتی ہے، نہ ضال مضل اور بدعتی کو۔ یہ تو وہ امور ہیں جن پر نجات ابدی منحصر ہے اسی لیے جن کو علماے اہل سنت نے کافر نہیں کہا ؛ بلکہ گمراہ و بدعتی کہا یہ بھی اپنے عقائد کی خرابی کی وجہ سے دوزخ میں ضرور جائیں گے۔ اس خرابی کے ہوتے ہوئے نہ انھیں معرفت برہانیہ حاصل ہے نہ معرفت کشفیہ حاصل ہو سکتی ہے۔
حکیمانہ و مشفقانہ طریقہ:
رسول اکرم ہادی معظم ﷺ نے جو حکیمانہ طریقہ ایمان کے تعلق سے اختیار فرمایا وہ سراسر رحمت و شفقت پر مبنی ہے۔ جو اہل علم ان آیات سے واقف ہیں جو خاص مکہ کے ابتدائی دور میں نازل ہوئیں وہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ تین چیزوں پر زور دیا گیا ہے: (۱)ایمان باللہ وحدہ پر، (۲) ایمان بالرسول پر، (۳) بعث بعد الموت پر یعنی موت کے بعد دوبارہ زندہ کیے جانے پر۔ بعد میں پھر قدرے تفصیل ہوئی اور اس میں ملائکہ ،جملہ انبیاو رسل، کتب الٰہیہ، یوم آخرت یعنی قیامت کو داخل کیا گیا۔ سرکار مدینہﷺ اکثر ان لوگوں کو جو کفر و شرک کے ظلمت کدہ سے نکل کر آتے ایمان اجمالی یعنی الوہیت و رسالت کی تصدیق پر اکتفا فرماتے اور ان سے
اقامت صلاۃ، ایتاء زکوۃ اور النصح لکل مسلم یعنی ہر مسلمان کی بھلائی چاہنے پر بیعت لیتے۔ بعد میں رفتہ رفتہ تفصیلات نازل ہوئیں۔
متقدمین و اسلاف نے قرآن سنت میں وارد کچھ مشتبہات میں کسی تاویل کی طرف توجہ نہیں فرمائی، بس اس پر قناعت کی کہ اللہ و رسول کی جو بھی مراد ہے ہم اس پر ایمان لائے۔ صوفیہ کرام نے عام اہل ایمان سے گناہوں سے توبہ کے تعلق سے مریدوں کو بوقت بیعت بھی یہی طریقہ اپنایا اور اجمالی طور پر قناعت فرمائی ۔ پھر اعمال صالحہ کی طرف انھیں رفتہ رفتہ کھینچا اور تدریجاً انھیں کبائرو صغائر کی تفصیلات سے آگاہ فرمایا اور ہر ایک سے پاک کرنے کی کوشش کی۔
علماے اعلام نے ان اقوال و افعال میں جن میں کفر قطعی کا حتمی فیصلہ نہ کر پائے بس یہ فرمایا کہ ہم نہ مسلمان کہتے ہیں نہ کافر جیسے احناف کا مسلک یزید کے تعلق سے اور امام احمد رضا قدس سرہ کا مسلک اسماعیل دہلوی کے تعلق سے نیز حسام الحرمین میں جن پر کفر کا فتوی رہا ان کو برسہا برس پہلے سمجھایا اور ان کی عبارتوں کی شناعت سے انھیں آ گاہ کیا جب وہ کسی حال میں اقرار و اعتراف پر آمادہ نہ ہوئے تب ارتداد کا فتوی ٰدیا۔
اگر آج ہمارے اہل علم قرآن و سنت کے اس طریقہ پر عمل کریں تو بہت سی الجھنوں اور اخروی بڑے خطرات سے بچ جائیں گے۔ عام لوگوں کی علوم دینیہ سے دوری، علما ے حق کی صحبتوں سے محرومی، خود عام علماکی دعوت و تبلیغ سے دوری، وہابیت و نجدیت کے شیوع و عموم اور اسی طرح دیگر فرق باطلہ کے پھیلاؤ نے عوام کے تعلق ایسے حالات پیدا کر دیے ہیں کہ ان کے سنی یا غیر سنی ہونے کا حتمی فیصلہ مشکل ہے۔ اس تعلق سے چند باتیں ملحوظ رہیں:
۱۔ سیرت: اس تعلق سے سیرت نبوی کا گہرا مطالعہ کیا جائے اور اسی پر عمل کیا جائے۔ حضور رہبر عالم ﷺکی سیرت مبارکہ کا اس تعلق سے ایک خاص پہلو وہ ہے جو ہم نے پڑھا کہ ایمان اجمالی پر اکتفا فرماتے اور پھر اعمال صالحہ کی ترغیب وتاکید فرماتے۔ یوں بندے
دھیرے دھیرے مستحکم ایمان کے حامل ہو جاتے، رفتہ رفتہ تفصیلات سے آگاہ ہو جاتے اور آپ کے فیضان صحبت و خلوص کے ساتھ اعمال صالحہ کی بجا آؤری سے نور ایمان رگ رگ میں سرایت کر جاتا۔ آج اگراسی کو اختیار کر لیا جائے، اور ان بھولے بھالے کلمہ گویوں سے جنھیں فرق باطلہ کی عقائد فاسدہ یا ان کی کفریہ و قبیح عبارتوں کا کچھ پتہ نہیں انھیں نہ چھیڑا جائے، نہ دوسرے کے بارے میں زیادہ پوچھ گچھ کی جائے، بلکہ پہلے ان کے دلوں میں گھسا جائے اور کسی طرح انھیں خود سے جوڑ لیا جائے پھر رفتہ رفتہ ان کی تربیت کی جائے اور قلوب و نفوس کی گندگی دور کی جائے تو مثبت نتائج نکل سکتے ہیں۔ اس تعلق سے کچھ احادیث بھی ملحوظ رکھی جائیں۔
۱۔ حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما دونون باپ بیٹے رسول اللہﷺ کے چہیتے تھے ایک بار کچھ مجاہدین کے ساتھ جہاد پر نکلے، ایک چرواہا ملا اس نے آپ کو دیکھ کر کلمہ پڑھا حضرت اسامہ نے یہ خیال کر کے کہ اس نے دل سے نہیں، بلکہ خوف سے کلمہ پڑھا ہے، قتل کر دیا۔ جب بارگاہ نبوت میں یہ واقعہ عرض کیا گیا تو حضور ﷺ نے اس قدر اظہار ناراضگی فرمایا کہ حضرت اسامہ فرماتے ہیں: کاش میں اس سے پہلے ایمان نہ لایا ہوتا! انھوں نے عرض کیا : یا رسول اللہ ﷺ اس نے ڈر سے کلمہ پڑھ لیا ۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ھلا شققت قلبہ؟تم نے اس کا دل کیوں نہیں چیر لیا؟
۲۔ حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کی سپہ سالاری میں مجاہدین کی ایک جماعت نکلی ایک قوم کے پاس پہنچے۔ ان لوگوں نے جئنا جئنا یعنی ہم دین سے نکلے کہنا شروع کر دیا ۔ حضرت خالد نے قتل کرنا شروع کر دیا اور ساتھیوں سے کہا کہ اپنے اپنے قیدیوں کو قتل کر دو۔ انھوں نے انکار کر دیا۔ جب رسالت مآب ﷺ کی بارگاہ میں یہ واقعہ ذکر کیا گیا ، آپ نے اظہار ناراضگی فرماتے ہوئے ارشاد فرمایا:
..................
۔ صحیح مسلم،کتاب الایمان،جلد:۱،ص:۹۶، احیاء التراث العربی،بیروت
اللہم انی ابرء مما صنع خالد اے اللہ! میں اس سے برأت ظاہر کرتا ہوں جو خالد نے کیا۔
۳۔ حضرت حاطب رضی اللہ عنہ نے رؤسا مکہ کے نام ایک خط لکھا جس میں سرکارﷺ کے جنگی ارادہ سے انھیں واقف کیا تھا، ایک عورت کو خط دے کر روانہ کر دیا ، حضور دانائے غیوب ﷺ کو علم غیبی کے طور پر معلوم ہو گیا ۔ آپﷺ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو کسی کے ساتھ روانہ فرمایا اور ارشاد فرمایا کہ ‘روضہ خاخ’ میں ایک عورت ملے گی جس کے پاس حاطب کا خط ہے اور خط کی تفصیل سے آگاہ فرمایا۔ حضرت علی رضی اللہ نے روضہ خاخ میں پکڑ لیا، بمشکل تمام دھمکی کے بعد اس نے بالوں کے جوڑے سے خط نکال کردیا۔ یہ بظاہر ایک سنگین جرم تھا اور کھلی ہوئی بغاوت تھی۔ مگر مشفق کریم آقا نے حضرت حاطب کو بلایا اور انھیں جرم و بغاوت سے آگاہ فرمایا۔ انھوں نے عرض کیا: یا رسول اللہﷺ! آپ میرے تعلق سے جلدی نہ فرمائیں۔ میں نہ اسلام سے باغی ہوا اور نہ مرتد۔ بات در اصل یہ ہے کہ آپ کے ساتھ جتنے بھی مہاجرین ہیں سب کے مکہ میں قرابت دار موجود ہیں جو قرابت کی حفاظت و حمایت کرتے ہیں، مگرمیرا کوئی نہیں۔ میں نے سوچا یہ احسان ان پر رکھ دوں تاکہ میرے قرابت کے تعلق سے نرم رویہ رکھیں اور حفاظت کریں۔ حضرت فاروق اعظم رضی اللہ عنہ نے اجازت چاہی کہ آپ مجھے اجازت دیں ، میں اس منافق کی گردن مار دوں۔ سرکار علیہ السلام نے منع فرمایا اور ان کا عذر قبول کرتے ہوئے ارشاد فرمایا: انھیں چھوڑ دو یہ بدری صحابی ہیں اللہ تعالی سب کو جانتا ہے پھر اس نے سارے شرکاے جنگ بدر کی مغفرت کا اعلان فرما دیا۔
روایات تو اس تعلق سے متعدد جمع کی جاسکتی ہیں، ہم بخاری شریف کی ان تینوں روایتوں پر اکتفا کرتے ہیں جن سے موجودہ حالات کے عوام بلکہ بہت سے پڑھے لکھے لوگوں کے لیے بہت
...................
۔1 بخاری ،کتاب المغازی، باب بعث النبیﷺخالدبن الولید الیٰ بنی جذیمہ رقم:۴۰۸۴
۔ 2از بخاری ملتقطاً، کتاب المغازی،رقم: ۴۰۲۵
۲۔ اس تعلق سے علما کے ساتھ ساتھ صوفیہ کرام کی روش کو بھی خاص طور پر ملحوظ رکھا جائے اور جن بزرگوں کی ولایت و عظمت سب کے نزدیک مسلم ہو چکی ہے انھیں دیکھا جائے کہ انھوں نے کفار و مشرکین اور بد عمل مسلمانوں کی کس طرح اصلاح کی اور کیسی روش اختیار فرمائی۔ علما کے بعد محققین صوفیہ و اولیاے کرام رضی اللہ عنہم کی خدا رسیدگی اور کشف و الہام کے ذریعہ باطنی سرائر کے ادراک پہ دسترس اور ہر کام میں مرضی الہٰی جاننے کے بعد عمل میں لانا تقریباً مسلما ت میں سے ہے۔
۳۔ فرق باطلہ کے افراد و اشخاص بدعت و ضلالت سے مختلف ہوتے ہیں، کچھ وہ ہیں جو نہایت راسخ اور عقائد باطلہ کے حق ہونے پر یقین کامل رکھتے ہیں اور دوسروں کو ان کی دعوت بھی دیتے ہیں ان کے چہروں کی نحوست ان کے باطن کی غماز ہو جاتی ہے ایسے افراد پر محنت لا حاصل اور ان سے دوری ہی مناسب ہے۔ بات صرف ان لوگوں کی ہے جو حق و باطل میں تمیز نہیں رکھتے ان کے عقیدے وہ ہیں جو عام طور پر اہل سنت کے ہیں یعنی سنی ہونے کے لیے جو امور ضروری ہیں اور جنھیں ضروریات اہل سنت سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ وہ دوسروں کے ساتھ صرف اس لیے ہیں کہ وہ کچھ دین سکھاتے ہیں اور ان کی بری صحبت کی وجہ سے وہ معمولات اہل سنت کے عامل نہیں ان کے علاوہ کچھ بلکہ بہت کثیر وہ ہیں جواہل حق کے بہت قریب ہیں اور معمولات کے بھی عامل ہیں لیکن دوسروں سے خلط ملط رکھتے ہیں۔
۴۔ اس طرح کے بگڑے ہوئے لوگوں کوراہ راست پر لانے کے لیے ہماری آج کی تقریریں اور جلسے کافی نہیں ہیں؛ بلکہ پیشہ ور مقرروں کی تقریریں اور نا سمجھ لوگوں کے بیانات اس طبقہ کے لیے زہر ہلاہل ہیں یہ گرتوں کو تھامنے کا کام نہیں کرتے بلکہ اور گراتے ہیں۔ اس کے لیے مناسب بلکہ ضروری ہے کہ مخالفین کے دعوتی طریقہ سے تفصیلی طور پر آگاہ ہوں اور ان کے مقابل ان سے بہتر لائحہ تیار کریں اور میدان عمل میں اتریں اور خود کو متحد کر کے کام کے افراد
منتخب کریں، جو جس محاذ پر کام کر سکتا ہے اسے اس محاذ پر لگائیں، ان کی بھر پور امداد کریں اور معاشی ضروریات سے انھیں فارغ کر دیں۔ یہ چیز کافی تفصیل طلب ہے ہم دوسری جگہوں پر اس تعلق سے تحریر کر چکے ہیں لہٰذا اسی پر بس کرتے ہیں، عقل مند اہل علم اور اصول دعوت سے آگاہ افراد اس سے بھی بہت حد تک کام کے طریقے سمجھ سکتے ہیں بلکہ بعض افراد اس بارے میں بہت کچھ تفصیل سے لکھ رہے ہیں، مگر لکھنے کے ساتھ ساتھ میدان عمل میں اترنے کی ضرورت ہے۔
۵۔ جس علم کا تعلق عمل سے ہے وہ عمل سے ہو سکتا ہے ۔ اس تعلق سے مفید کام کے لیے تصوف و روحانیت کی اشد ضرورت ہے اور اصلاح قلوب و نفوس بڑے پیمانے پر کرنے کی ضرورت ہے۔ دوسرے دعوت و تبلیغ میں نہایت مہارت پیدا کرنے کی ضرورت ہے ۔ اتنی بڑی آبادی پھر مخالفین کا اس میدان میں برسہا برس سے کام کرنا، ان کا پھیلاؤ اور ان کی سازشیں چاہتی ہیں کہ اذہان و طبائع اور صلاحیتوں کے اندازے سے مختلف محاذوں کے لیے مختلف داعیوں کی ضرورت ہے، ہم دیگر تحریروں میں اس تعلق سے کافی کچھ لکھ چکے ہیں۔ خیال رہے کہ قلوب و نفوس کی صحیح اصلاح وہی کر سکتے ہیں جو مدارج سلوک طے کر چکے ہوں اور ارشاد و اصلاح کی صلاحیت رکھتے ہوں ۔ آج کل ایسے بندے نایاب نہیں تو کمیاب ضرور ہیں ۔ ہم یہاں بزرگوں کے چند خاص وصایا سپرد قلم کرتے ہیں جن کو جاننے کے بعد ان پر عمل کر لیا جائے تو کافی حد تک انسان صالح ہو سکتا ہے۔ معلوم رہے کہ اس دور میں جب کہ مشائخ کاملین نا پید سے ہیں اگر کوئی شیخ کامل ہاتھ نہ آئے تو بزرگوں کے روحانی فیوضات و برکات کس طرح حاصل کریں اور تصفیہ قلب و تزکیہ نفس حاصل کرنے کی کیا صورت ہے اس پر ایک رسالہ علیحدہ تحریر کر دیا ہے۔ یہاں جو کچھ ذکر کریں گے اکثر حصہ روحانیت کے حصول کے اساس کی حیثیت رکھے گا۔
تقویٰ:
لغت میں تقویٰ‘وقیٰ، یقی’ کا مصدر ہے اس کے معنی منع کرنے روکنے کے ہیں تقی یعنی صاحب تقویٰ جو خود کو شہوات نفس سے روکتا ہے اس لیے اسے تقی اور متقی کہتے ہیں، بعض علما
فرماتے ہیں باعتبار لغت تقوی ٰخود کو ان تمام چیزوں سے بچانے کا نام ہے جو دین و دنیا کے لیے مضر اور نقصان دہ ہوں، اصطلاح شریعت میں مامورات کو بجالانا اور ممنوعات سے دور رہنا تقویٰ کہلاتا ہے۔
بعض نے ظاہر و باطن کی قید بڑھایا یعنی مامورات کو بجالانا اور ممنوعات کو چھوڑنا ظاہراً میں اور باطناً بھی اس کا خلاصہ یہ کہ مامورات و ممنوعات ایک وہ ہیں جن کا تعلق قالب یعنی ظاہر سے ہے۔ ظاہری مامورات مثلاً نماز ، روزہ وغیرہ طاعات و عبادات، ان کا تعلق بدن کے ذریعہ ادائگی سے ہے، ممنوعات جیسے جھوٹ ، غیبت، چغلی ، زنا، لواطت وغیرہ۔
حضرت قاضی بیضاوی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: شریعت میں خود کو ان تمام چیزوں سے بچانا جو آخرت میں نقصان دہ ہوں تقوی ٰ ہے۔
دوم: وہ ہیں جن کا تعلق قلب یعنی باطن سے ہے باطنی مامورات جیسے حب الہٰی ، حب رسولﷺ، اچھی نیک نیتیں وغیرہ ان سب کو بجالانا اللہ تعالیٰ کی تعظیم اور ہیبت وخشیت کا شعور رکھتے ہوئے اور اس سے ڈرتے ہوئے اور باطنی ممنوعات جیسے حسد، بغض، حب دنیا وغیرہ۔
تقویٰ کے فوائد و منافع آخرت تک محدود نہیں دنیا میں بھی بے شمار حاصل ہوتے ہیں اگر تقویٰ کا اعلیٰ درجہ بندے کو حاصل ہو جائے تو اس کی اخروی برکتوں کا کوئی اندازہ نہیں کرسکتا ہے۔